Blog

  • اسٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ تیزی: پاکستان کے روشن معاشی مستقبل کی مضبوط علامت   شیخ راشد عالم

    اسٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ تیزی: پاکستان کے روشن معاشی مستقبل کی مضبوط علامت شیخ راشد عالم

    پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ نے حالیہ دنوں میں جو تاریخی تیزی دکھائی ہے، وہ بلاشبہ ملکی معاشی تاریخ کا ایک سنہرا باب بن چکی ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں نئے ریکارڈز کا قیام، سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور کاروباری سرگرمیوں میں غیر معمولی تیزی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ قومی معیشت درست سمت میں گامزن ہے۔ یہ تیزی محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں بلکہ پاکستان کے روشن معاشی مستقبل کی ایک طاقتور علامت ہے۔
    گزشتہ برسوں میں جن مشکلات اور چیلنجز کا سامنا رہا، آج اُن کے بعد اسٹاک مارکیٹ کی یہ شاندار کارکردگی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ پاکستان نے بحالی، استحکام اور ترقی کے ایک نئے دور میں قدم رکھ دیا ہے۔ کے ایس ای-100 انڈیکس کا روزانہ کی بنیاد پر نئی بلندیوں کو چھونا، مارکیٹ کی گہرائی میں اضافہ اور سرمایہ کاری کے بڑھتے مواقع اس مثبت تبدیلی کا عملی اظہار ہیں۔
    اس تیزی کی سب سے بڑی وجہ قومی سطح پر بڑھتا ہوا اعتماد ہے۔ سرمایہ کار مستقبل کو دیکھ کر فیصلے کرتے ہیں، اور جب مستقبل روشن نظر آئے تو سرمایہ خود بخود متحرک ہو جاتا ہے۔ حکومتی معاشی پالیسیوں میں تسلسل، مالیاتی نظم و ضبط، اور اصلاحات کے واضح اشاروں نے سرمایہ کاروں کو یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان اب ایک مستحکم اور قابلِ اعتماد سرمایہ کاری منزل بن چکا ہے۔
    اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کا ایک اہم پہلو کارپوریٹ سیکٹر کی مضبوط کارکردگی ہے۔ بینکنگ، توانائی، سیمنٹ، فرٹیلائزر، ٹیلی کمیونی کیشن اور دیگر بڑے شعبوں کی کمپنیوں نے شاندار مالی نتائج پیش کیے، جس سے مارکیٹ کو نئی توانائی ملی۔ ان کمپنیوں کے منافع میں اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ملکی صنعتیں فعال ہیں، کاروبار پھیل رہا ہے اور روزگار کے مواقع بڑھ رہے ہیں۔
    بینکنگ سیکٹر نے خاص طور پر نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ مضبوط مالی بنیادیں، بہتر منافع اور مستحکم حکمتِ عملی نے بینکنگ شیئرز کو سرمایہ کاروں کی اولین ترجیح بنا دیا۔ اسی طرح توانائی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں ہونے والی پیش رفت نے مارکیٹ کے مجموعی اعتماد کو مزید تقویت دی۔
    اس تاریخی تیزی کا ایک اور خوش آئند پہلو غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں اضافہ ہے۔ عالمی سرمایہ کار پاکستان کو ایک ابھرتی ہوئی اور پُرکشش مارکیٹ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ کم قیمت مگر مضبوط بنیادوں والی کمپنیاں، بہتر ریٹرنز کے امکانات اور مثبت معاشی اشاریے عالمی سرمایہ کاری کو اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں، جو پاکستان کے عالمی تشخص کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔
    یہ تیزی اس بات کی بھی علامت ہے کہ پاکستان میں کیپٹل مارکیٹ کا کردار مضبوط ہو رہا ہے۔ ایک مضبوط اسٹاک مارکیٹ معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے، جو نہ صرف کمپنیوں کو ترقی کے مواقع فراہم کرتی ہے بلکہ حکومت کے لیے بھی سرمایہ کے نئے دروازے کھولتی ہے۔ اس کے نتیجے میں انفراسٹرکچر، صنعت اور سماجی شعبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات بڑھتے ہیں۔
    عام سرمایہ کار کے لیے بھی یہ دور خوشخبری لے کر آیا ہے۔ طویل عرصے بعد مارکیٹ نے چھوٹے اور درمیانے سرمایہ کاروں کو منافع کمانے کے مواقع فراہم کیے ہیں۔ اعتماد کی یہ فضا مالی شمولیت (financial inclusion) کو فروغ دے رہی ہے اور لوگوں کو رسمی معیشت کا حصہ بننے کی ترغیب دے رہی ہے، جو کسی بھی ترقی پذیر ملک کے لیے نہایت اہم ہے۔
    اسٹاک مارکیٹ کی تیزی کا اثر دیگر شعبوں پر بھی واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔ کاروباری اعتماد میں اضافہ ہوا ہے، نئی کمپنیوں کے اندراج (IPOs) کے امکانات روشن ہوئے ہیں، اور سرمایہ کاری کا مجموعی ماحول بہتر ہوا ہے۔ یہ سب عوامل مل کر معاشی سرگرمیوں کو مزید رفتار دے رہے ہیں۔
    یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اسٹاک مارکیٹ میں موجودہ تیزی پاکستان کے لیے ایک نفسیاتی کامیابی بھی ہے۔ برسوں کے خدشات اور مایوسی کے بعد یہ تیزی قوم کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ محنت، درست فیصلے اور قومی یکجہتی کے ساتھ ترقی کا سفر ممکن ہے۔ مارکیٹ کا ہر نیا ریکارڈ اس اجتماعی اعتماد کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔
    مستقبل کی طرف دیکھا جائے تو امکانات روشن ہیں۔ معاشی اصلاحات کا تسلسل، سرمایہ کاری دوست پالیسیاں، اور ادارہ جاتی بہتری اس تیزی کو مزید مضبوط بنیادیں فراہم کر رہی ہیں۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو پاکستان اسٹاک مارکیٹ نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک نمایاں مقام حاصل کر سکتی ہے۔
    آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی موجودہ ریکارڈ تیزی محض ایک مالیاتی خبر نہیں بلکہ قومی معاشی بحالی کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔ یہ تیزی اعتماد، استحکام اور ترقی کے اس سفر کی علامت ہے جس پر پاکستان اب پورے عزم کے ساتھ گامزن ہے۔ یہ کامیابی اس بات کا اعلان ہے کہ پاکستان کے معاشی افق پر اب روشن دن طلوع ہو چکے ہیں۔

  • نیو یارک میں نیو ایئر نائٹ      حمیرا گل تشنہ

    نیو یارک میں نیو ایئر نائٹ حمیرا گل تشنہ

    نیو یارک شہر، جسے “شہر جو کبھی نہیں سوتا” کہا جاتا ہے، سال کی آخری رات کو اپنے عروج پر ہوتا ہے۔ نیو ایئر کی رات نیو یارک میں صرف ایک تقریب نہیں بلکہ ایک عالمی ثقافتی واقعہ ہے جو لاکھوں افراد کو متحرک کر دیتا ہے۔ یہ وہ رات ہے جب ٹائمز اسکوائر کا قلب دھڑکنے لگتا ہے، شہر کی عمارتیں روشنیوں سے نہا جاتی ہیں، اور ہر شخص پر امید اور نئے عہد کے جذبے سے سرشار ہوتا ہے۔
    نیو ایئر کی رات کی تیاریاں ہفتوں پہلے سے شروع ہو جاتی ہیں۔ ٹائمز اسکوائر، جسے “دنیا کا کراس روڈ” کہا جاتا ہے، اس رات دنیا کا مرکزی اسٹیج بن جاتا ہے۔ 31 دسمبر کی صبح سے ہی لوگ وہاں پہنچنا شروع ہو جاتے ہیں، کیونکہ بہترین جگہیں جلدی بھر جاتی ہیں۔ ہزاروں افراد انتظار کے ان لمحات کو بھی یادگار بنانے کے لیے گانوں، ناچوں اور نئے دوست بنانے میں گزارتے ہیں۔
    سردی کی شدید ترین ٹھنڈ بھی ان کے جوش میں فرق نہیں ڈال سکتی۔ گرم کپڑے، خوابوں سے سجی آنکھیں اور نئے سال کی امیدیں، یہ سب یہاں آئے ہوئے لوگوں کو انہیں گرم رکھنے کے لیے کافی ہوتی ہیں۔ پولیس کی سخت سیکیورٹی کے باوجود، ہر چہرے پر مسکراہٹ اور جوش نمایاں ہوتا ہے۔
    نیو یارک کی نیو ایئر رات کا سب سے مشہور روایت “بال ڈراپ” ہے جو 1907 سے جاری ہے۔ یہ 12ہزار پاؤنڈ وزنی، 12 فٹ قطر کا کرسٹل بال ون ٹائمز اسکوائر کے ون ٹائمز اسکوائر بلڈنگ کی چوٹی سے نیچے اترتا ہے۔ بال کے 2688 واٹر فورڈ کرسٹل ٹکڑے روشنیوں کو منعکس کر کے آسمان کو جگمگا دیتے ہیں۔
    آخری سیکنڈز کی گنتی پورا شہر ایک ساتھ کرتا ہے۔”فائیو، فور، تھری، ٹو، ون… ہیپی نیو ایئر!” اور پھر وہ لمحہ آتا ہے جب بال نیچے آتا ہے، کنفیٹی کے 3ہزار پاؤنڈ سے زیادہ کاغذ آسمان سے برستے ہیں، اور پورا اسکوائر ناچنے گانے لگتا ہے۔ یہ منظر اتنا طاقتور ہے کہ ٹیلی ویژن پر دیکھنے والے بھی خود کو وہاں موجود محسوس کرتے ہیں۔
    ٹائمز اسکوائر کے علاوہ بھی نیو یارک میں جشن کے کئی مراکز ہیں۔ سنٹرل پارک میں “پرشیا رن” ہوتا ہے جہاں ہزاروں افراد فینسی ڈریس میں دوڑ لگاتے ہیں۔ بروکلن میں گرینڈ آرمی پلازہ پر آتشبازی کا شاندار مظاہرہ ہوتا ہے۔ برانکس، کوئنز، اور سٹیٹن آئی لینڈ میں بھی اپنے اپنے مقامی جشن منائے جاتے ہیں۔
    نیو یارک کے مشہور میوزیم، جیسے میٹروپولیٹن میوزیم آف آرٹ اور نیچرل ہسٹری میوزیم، خصوصی نیو ایئر ایونٹس کا انعقاد کرتے ہیں۔ ریستورانوں میں خصوصی ڈنر، نائٹ کلبوں میں پارٹیاں، اور ہوٹلوں میں رقص کے پروگرام ہوتے ہیں۔ ہر شخص اپنے انداز میں نئے سال کا استقبال کرتا ہے۔
    نیو یارک کی نیو ایئر رات کی سب سے خاص بات اس کا عالمگیر رنگ ہے۔ یہاں ہر نسل، مذہب، اور قومیت کے لوگ ایک ساتھ جشن مناتے ہیں۔ چینی، ہسپانوی، اطالوی، ہندوستانی، عربی تقریبا ہر زبان میں “نیا سال مبارک” کی آوازیں گونجتی ہیں۔ یہ شہر درحقیقت پوری دنیا کا نمائندہ بن جاتا ہے۔
    کثیر الثقافتی پن کا یہ رنگ کھانوں میں بھی نظر آتا ہے۔ روایتی امریکی ڈنر کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے کھانے دستیاب ہوتے ہیں۔ لوگ نئے سال کی خوشی میں ایک دوسرے کو گلے لگاتے ہیں، چاہے وہ پہلے کبھی نہ ملے ہوں۔
    نیو ایئر صرف جشن کا دن نہیں بلکہ امیدوں اور نئے عہدوں کا دن بھی ہے۔ نیو یارک کے لوگ اس رات اپنے نئے سال کے عزم کا اعلان کرتے ہیں۔ کچھ کاغذ پر اپنے مقاصد لکھتے ہیں، کچھ دوستوں کے سامنے ان کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ عزم اکثر ذاتی ترقی، صحت، کیریئر، یا تعلقات سے متعلق ہوتے ہیں۔
    ٹائمز اسکوائر میں لوگ اپنے عزم کاغذ کے ٹکڑوں پر لکھ کر انہیں ہوا میں اڑا دیتے ہیں، گویا وہ اپنی خواہشات کو کائنات کے حوالے کر رہے ہوں۔ یہ منظر انتہائی جذباتی ہوتا ہے۔
    اس عظیم اجتماع کے ساتھ چیلنجز بھی جڑے ہیں۔ شدید سردی، بھیڑ، اور طویل انتظار کئی لوگوں کے لیے مشکل ہوتا ہے۔ شہر انتظامیہ ہر سال سیکیورٹی کے نئے اقدامات کرتی ہے۔ پولیس کی بڑی تعداد، سیکیورٹی چیک پوائنٹس، اور طبی سہولیات مہیا کی جاتی ہیں۔
    ماحولیاتی تحفظ کے تحت کنفیٹی کے کاغذ اب قابل تحلیل مواد سے بنائے جاتے ہیں۔ شہر صفائی کے لیے ہزاروں کارکن تعینات کرتا ہے تاکہ اگلے دن صبح تک ٹائمز اسکوائر معمول کی صورتحال میں واپس آ جائے۔
    مقامی نیو یارکرز کے لیے یہ رات فخر کا باعث ہوتی ہے۔ کئی خاندان اسے روایت کے طور پر مناتے ہیں۔ جیمز، ایک مقامی رہائشی، کہتے ہیں: “میں 20 سال سے ٹائمز اسکوائر جاتا رہا ہوں۔ ہر سال ایک نئی کہانی بنتی ہے۔”
    سیاحوں کے لیے یہ زندگی بھر یاد رہنے والا تجربہ ہوتا ہے۔ جاپان سے آئے ہوئے یوکو کا کہنا ہے: “میں نے بچپن سے ٹی وی پر نیو یارک کا نیو ایئر دیکھا تھا۔ یہاں حاضر ہو کر میری خواہش پوری ہوئی۔”
    یکم جنوری کی صبح نیو یارک ایک نیے جوش کے ساتھ بیدار ہوتا ہے۔ لوگ ناشتے کے لیے باہر نکلتے ہیں، دوستوں سے ملتے ہیں، اور نیو ایئر ڈے پریڈ میں شرکت کرتے ہیں۔ یہ پریڈ 1904 سے جاری ہے اور اس میں بینڈز، ناچ، اور رنگ برنگی فلاؤٹس شامل ہوتے ہیں۔
    بہت سے لوگ “پولر بیئر پلنج” میں حصہ لیتے ہیں، جس میں وہ برفانی پانی میں تیرتے ہیں۔ یہ نئے سال کا ایک اور دلچسپ روایت ہے جو حوصلہ اور مزاج کو تازہ کرتی ہے۔
    نیو یارک میں نیو ایئر کی رات محض ایک جشن سے زیادہ ہے، یہ انسانی روح کی لچک، امید، اور یکجہتی کا اظہار ہے۔ یہ رات ہمیں یاد دلاتی ہے کہ چیلنجز اور مشکلات کے باوجود، نئے آغاز کی امید ہمیشہ موجود رہتی ہے۔
    ٹائمز اسکوائر کی روشنیاں، لاکھوں لوگوں کی خوشی، اور ایک نئے سال کا استقبال، یہ سب مل کر ایسی یادیں تخلیق کرتے ہیں جو عمر بھر قائم رہتی ہیں۔ نیو یارک کی نیو ایئر رات صرف ایک شہر کا جشن نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے لیے امید اور نئے آغاز کا پیغام ہے۔
    جب بال نیچے آتا ہے اور نئے سال کا آغاز ہوتا ہے، تو ہر شخص محسوس کرتا ہے کہ وہ کسی بڑے واقعے کا حصہ ہے۔ یہ لمحہ ثابت کرتا ہے کہ امید، محبت، اور یکجہتی کی طاقت ہر رکاوٹ کو عبور کر سکتی ہے۔ نیو یارک کی نیو ایئر رات ہمیں یہی سبق دیتی ہے، ماضی کو پیچھے چھوڑ کر، حال کا لطف اٹھاتے ہوئے، مستقبل کی طرف پرامید قدم بڑھانا۔
    نیو یارک کی نیو ایئر رات ایک ایسا تجربہ ہے جو ہر شخص کو کم از کم ایک بار زندگی میں ضرور کرنا چاہیے۔ یہ نہ صرف شہر کی رونق کو دیکھنے کا موقع ہے بلکہ اپنے اندر کی امید کو تازہ کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ جب پورا شہر ایک ساتھ نئے سال کا استقبال کرتا ہے، تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ دنیا واقعی ایک گاؤں ہے، جہاں ہر انسان دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔

  • افریقی ملک کینیا کا سفر نامہ۔۔۔دلچسپ تجربات  تحریرسرور غزالی۔۔۔۔۔۔قسط ( 1 )

    افریقی ملک کینیا کا سفر نامہ۔۔۔دلچسپ تجربات تحریرسرور غزالی۔۔۔۔۔۔قسط ( 1 )

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کینیا کا سفر نامہ۔۔۔۔۔۔۔۔ایڈیٹر نوٹ
    کینیا کا سفر نامہ جرمنی میںمقیم پاکستان واچ کے کالم نگارسرور غزالی کی تحریرہے اس کالم میں انھوں نے کینیا کے سفر کے دوران پیش آنے والے تجربات کو خوبصورتی سے قلمبند کیا ہے۔کالم کی طوالت کے باعث اس کو قسط وار شائع کیا جائے گا اس کالم میںایسٹ افریقن برطانوی کالونی،کینیا کے مختلف قبائل اور مسائی قوم،مسائی قوم کے نیروبی نیشنل سفاری پارک کا سفر،نیروبی سے ممباسا کا سفر، کینیا ریلوے کی کہانی ،رشوت ستانی، ممبا سا کی کہانی ،1570 میں تعمیر ہونے والی مسجد المنذری کامشاہدہ ،کارورا جنگل کے موضوعات کو قلمبند کیا گیا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ایسٹ انڈیا کے طرز پر بنائی گئی ایسٹ افریقن برطانوی کالونی
    کینیا کا سرکاری نام ریپبلک آف کینیا ہے۔ مشرقی افریقہ میں واقع یہ ملک انتہائی خوبصورت، پہاڑ، دریا جنگل، میدانی غیر آباد علاقے جہاں جانور بسیرا کرتے ہیں کے ساتھ ساتھ جنوب میں بحر ہند سے جا ملتا یہ ملک بے مثال خوبصورتی کا حامل ہے۔ اس کی اندازا” آبادی 53 ملین ہے اس کا شمار دنیا کے27 ویں مقبول ترین ملکوں میں ہوتا ہے اور افریقہ کا سب سے مشہور ترین ملک ہے۔ مختلف قبائل جو یہاں آباد ہیں ان میں کیسمو، ناکرو اور ڈوریٹ کافی مشہور ہے اس کے جنوب میں تنزانیہ، شمال میں ایتھوپیا اور سوڈان مشرق میں صومالیہ اور جنوب مشرق میں بحر ہند واقع ہے۔ مشہور زمانہ جھیل وکٹوریا کے کچھ حصے کینیا میں ہیں۔ جو مغرب میں یوگا نڈا سے ملاتی ہے۔ کینیا کے باشندے انسان دوست اور وفادار و مخلص ہیں۔ یہاں 85 فیصد لوگ عیسائی، 10 فیصد لوگ مسلمان، ایک اشاریہ پانچ فیصد لوگ لامذہب اور اشاریہ سات فیصد لوگ روایتی مذہب کے ماننے والے ہیں۔
    کینیا کے بڑے شہروں میں سب سے بڑا شہر اس کا دارالحکومت نیروبی ہے دوسرا بڑا شہر ممبا سا ہے جو بحر ہند کے کنارے واقع ہے یہاں ایک بڑی بندرگاہ بھی ہے اور ممبا سا جزیرہ بھی قریب ہی ہے۔
    _کینیا کے مختلف قبائل اور مسائی قوم، نیروبی نیشنل سفاری پارک کا سفر
    مسائی قوم کے لوگ اپنے لمبے قد اور مخصوص دہہی طرز زندگی کے لیے مشہور ہیں یہ ایک قدیم افریقی باشندے ہیں جو جنوبی کینیا میں آباد ہیں۔ ان کا سرخ رنگ کا لباس ان کی شناخت ہے۔ جبکہ جسم کے حصوں پر مختلف رنگ لگاتے ہیں۔ اور قدیم زمانے سے افریقہ کے میدانی، مگر گھنی جھاڑیوں سے بھرے ہوئے علاقے جن میں مخصوص چھتریوں والے درخت بھی پائے جاتے ہیں اور اسی مناسبت سے اس میدانی علاقے کو مارا، یعنی نقطے دار علاقہ کہتے ہیں اور عرف عام میں یہ قوم بھی مسائی مارا کے نام سے جانی جاتی ہے۔ یہاں پر بہنیایک والا دریا بھی مارا دریا کہلاتا ہے مسائی قبیلے کے لوگ ایک زمانے سے اس علاقے میں موجود ہیں اور یہاں دریائے نیل کے کنارے سے ہجرت کرکے آئے تھے۔ اور یہاں کے قدرتی ماحول اور جانوروں اور پرندوں کے ساتھ قدرتی طرز زندگی گزارنے کے عادی ہیں۔ یہ علاقہ جس کے جنوب میں تنزانیہ واقع ہے یہاں پر بے شمار جانوروں جن میں ہاتھی، زرافہ، زیبرا، نیل گائے، ہرن، بارا سنگا، بھیڑ بکریاں اوربھینسے، گائے وغیرہ شامل ہیں اس میدانی گھاس پھوس جھاڑیوں اور چھتری نما درختوں کی کثرت سے موجودگی کو اپنی چراگاہ کے لیے استعمال کرتے ہیں جبکہ شیر، چیتے بلیک پینتھر وغیرہ جیسے درندے اس علاقے میں ان جانوروں کا شکار کرنے آتے ہیں۔ ساتھ ساتھ دریائے مارا کا پانی تمام چرند، پرند اور درندوں کی پیاس بھی بجھاتا ہے۔ اور یہاں عملا” شیر و بکری ایک گھاٹ سے سیراب ہوتے ہیں۔ مسائی مارا کا یہ علاقہ مسائی قوم اور جانوروں کے جھنڈ، ریوڑ کے ریوڑ جو خوراک کی تلاش میں شمال سے جنوب کی طرف گزرتے ہوئے اس علاقے میں قیام اور پھر آگے بڑھتے ہوئے دریائے مارا کے پانی سے سیراب ہوتے ہیں اس دریا کو عبور کرتے ہوئے مزید چراگاہ کی تلاش میں آگے بڑھتے ہوئے، تاک میں لگے، گھات ڈالے درندوں کا شکار بھی ہوتے ہیں۔ ہر سال قدرت کا ایک انوکھا منظر پیش کرتے ہیں۔ اس علاقے کو یونیسکو نے اسی قدرتی کھیل کی آماجگاہ کی وجہ سے ثقافتی ورثہ کے طور پر مختص کر دیا ہے۔ بلکہ ایک زمانے میں یہاں اس طرح کے ایک پارک کو تشکیل دینے کی وجہ بنا کر یہاں سے مسائی قوم کو بھی ہٹانے کی کوشش کی گئی تھی جس کا نقصان یہ ہوا کہ مسائی قوم معدوم ہونے لگی اور اس کے تھوڑے سے افراد بچ رہے بعد میں اس قوم کو بھی اس علاقے کے ساتھ ساتھ محفوظ رکھنے کے لیے پارک کے لیے مختص کیے گئے علاقے انہیں واپس دیے گئے جس میں وہ اب بھی آباد ہیں تاہم ان کی آبادی دنیا کے دیگر خطوں کے قدیم باشندوں کی طرح یہاں بھی کافی کم ہو گئی ہے۔ جانوروں کے ریوڑوں کی، جھنڈ کے جھنڈ کی صورت میں جو عظیم الشان ہجرت یہاں دیکھنے میں آتی ہے وہ بڑی عجیب و غریب ہے۔ کہتے ہیں کہ سال کے اوائل میں، اور جانوروں میں سب سے پہلے زیبرا کے ریوڑ اس ہجرت کا آغاز کرتے ہیں۔ گھاس پھوس کی کمی کی وجہ سے زیبرے جب خوراک نہیں پاتے تو وہ ایک مخصوص سمت چلنا شروع کر دیتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کے پیچھے دیگر جانور روں کا ریوڑ بھی چل پڑتا ہے۔ ان تمام جانوروں میں سب سے بڑا گروہ نیل گائے کا ہوتا ہے جو یہاں کے مخصوص جانور ہیں اور یہ جانور جس میں ہاتھی اور زرافے سبھی شامل ہوتے ہیں خوراک کی کمی کی وجہ سے ہجرت پر مجبور طویل ہجرت کا منظر پیش کرتے ہوئے ایک ایسا قدرتی منظر سامنے آتا ہے جس کی کوئی دوسری مثال نہیں۔ جسے دیکھنے ساری دنیا سے لاکھوں سیاح یہاں اتے ہیں اور مختلف طریقے سے جن میں چھوٹے ہوائی جہازوں اور غباروں والی ٹوکریوں میں بیٹھ کر لوگ یہاں اس قدرتی عظیم الشان ہجرت کا معائنہ کرتے ہوئے لطف اٹھاتے ہیں۔ اس ہجرت کے دوران عجیب و غریب واقعات پیش آتے ہیں جو اس ہجرت کا اہم حصہ ہیں۔ یہاں مادہ نیل گائے اسی ہجرت کے دوران بچے جنم دیتی ہیں ان کی ممکن حد تک پرورش اور حفاظت کرتی ہیں اور ایسے میں بہت سارے نو مولود بچے جنگلی درندوں شیر اور چیتے کا شکار بھی بن جاتے ہیں۔ گویا قدرت نے انہیں یہاں اس لیے بھیجا ہوتا ہے کہ گھات لگائے ہوئے شیر چیتے بلیک پینتھر لیو پارڈ، پوما اور اس طرح کے درندوں کی غذا کا بندوبست ہو سکے۔ اور صرف یہی نہیں دریا مارا ایک ایسی قدرتی آماجگاہ ہے جس کے کچھ حصے آبی پودوں سے اس حد تک ڈھکے ہوتے ہیں کہ جن کے درمیان مگرمچھ خود کو پوشیدہ رکھ کر یہاں سے گزرنے والے جانوروں کے شکار کی آس لگائے بیٹھے ہوتے ہیں اور ان گزرتے جانوروں میں سے کچھ جانور ان کے ہاتھوں بھی لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ لیکن اس عظیم الشان ہجرت میں اتنی کثیر تعداد میں، اتنے زیادہ جانور ہوتے ہیں کہ ان میں سے چند ایک ان گوشت خور جانوروں کا شکار بن بھی جائیں تو ان کی کمی کا کسی کو احساس نہیں ہوتا اور اس کے باوجود بہت زیادہ تعداد میں جانور یہاں سے گزر کر اپنی چراگاہ کو پہنچ جاتے ہیں۔ اسی آبی پودوں سے ڈھکے دریا کے حصوں پر پرندیجن میں بگلے، سارس، پپیہے، بطخیں کونج وغیرہ اپنی خوراک کی تلاش میں یہاں اترتی ہیں جو از خود ایک عظیم الشان ہجرت کا حصہ ہیں اور عجیب منظر پیش کرتی ہیں۔ ہجرت جو خوراک، افزائش نسل اور موسم سے بچاو کا ذریعہ ہے۔ یہاں اس ہجرت کے دوران مہیا ہونے والی خوراک کا انوکھا بندوبست بھی ہوتا ہے۔ خوراک اور پانی کی جنگ بھی ہوتی ہے۔ نر جانوروں میں مادہ کے حصول کی جدوجہد بھی۔ یہاں بے شمار کیڑے مکوڑے اور چھوٹے جانور جن میں چوہے اور اس نسل کے دیگر جانور پائے جاتے ہیں ان کی بھی بڑی کثرت میں تعداد موجود ہوتی ہے اور یوں دیگر جانوروں کو خوراک کا لالچ دے کر اسی ہجرت میں شامل کر دیتی ہے۔
    بقا کی جنگ، نسل کی افزائش سب کچھ ہجرت میں ہی کیوں پوشیدہ ہے۔ یہ کیسا راز ہے۔کون جانے۔

  • عالمی برادری کشمیر پر بھارت کے جابرانہ قبضے کیخلاف اقدامات کرے: وزیر اعظم

    عالمی برادری کشمیر پر بھارت کے جابرانہ قبضے کیخلاف اقدامات کرے: وزیر اعظم

    اسلام آباد(نمائندہ خصوصی )وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ 5 جنوری اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کو تسلیم کیا گیا۔کشمیر کے یوم حق خور ارادیت کے موقع پر اپنے بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ 5 جنوری 1949 کویو این کمیشن برائے بھارت وپاکستان نے تاریخی قرارداد منظورکی۔شہباز شریف نے کہا کہ قرارداد میں طے پایاکہ ریاست جموں وکشمیرکےمستقبل کا فیصلہ آزادانہ اور غیرجانبدارانہ رائے شماری سے ہوگا، افسوس کہ بھارت کے جموں وکشمیر پر غیرقانونی قبضے کے باعث یہ عہد پورا نہ ہو سکا۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرکے عوام گزشتہ 8 دہائیوں سے بھارتی قابض افواج کے مظالم کا سامنا کر رہے ہیں، مگر بھارتی جبروتشدد کے ہتھکنڈے کشمیری عوام کے عزم کوپست کرنے میں ناکام رہے۔شہباز شریف نے کہا کہ بین الاقوامی برادری بھارت کے جابرانہ اقدامات کے خاتمے کے لیے اقدامات کرے۔خیال رہے کہ آج پاکستان اور خطہ کشمیر سمیت پوری دنیا میں بسنے والے کشمیری یوم حق خود ارادیت منا رہے ہیں۔

  • کشمیری یومِ حقِ  خودارادیت منا رہے ہیں، بھارتی مظالم کیخلاف آواز بلند

    کشمیری یومِ حقِ خودارادیت منا رہے ہیں، بھارتی مظالم کیخلاف آواز بلند

    اسلام آباد (نمائندہ خصوصی )پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم حق خودارادیت منا رہے ہیں۔بین الاقوامی سطح پر یومِ حقِ خودارادیت منانے کا مقصد عالمی برادری کو یاد دلانا ہے کہ بھارتی غاصبیت کی وجہ سے کشمیری عوام کو آج تک اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق نہیں دیا جا سکا۔یوم حق خودارادیت کے موقع پر ملک بھر کے علاوہ کئی ممالک میں مختلف تقریبات، ریلیوں اور احتجاجی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں آزادی چوک پر رات گئے مشعل بردار ریلی نکالی گئی، جس میں بھارتی مظالم کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا۔ شرکا نے کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کیا اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی۔

  • پاکستان میں رمضان کا چاند کب نظر آئیگا اور عید الفطر کب ہوگی؟

    پاکستان میں رمضان کا چاند کب نظر آئیگا اور عید الفطر کب ہوگی؟

    اسلام آباد (خصوصی رپورٹ )پاکستان میں رمضان المبارک کے چاند کے حوالے سے پیشگوئی سامنے آئی ہے۔سیکرٹری جنرل رویتِ ہلال ریسرچ کونسل خالد اعجاز مفتی کی جانب سے پاکستان میں یکم رمضان المبارک، عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کی ممکنہ تاریخوں کے حوالے سے پیشگوئی سامنے آئی ہے۔ خالد اعجاز مفتی کے مطابق رمضان کا چاند 18 فروری کو نظر آ سکتا ہے اور یکم رمضان 19 فروری کو ہونے کا قوی امکان ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ شوال کا چاند 20 مارچ کو نظر آنے کا امکان ہے، اس طرح عیدالفطر 21 مارچ کو ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب انہوں نے عید الاضحیٰ کی پیشگوئی کرتے ہوئے بتایا کہ یکم ذوالحجہ 17 مئی کو ہونے کا امکان ہے، جس کے بعد عیدالاضحیٰ 27 مئی کو منائی جا سکتی ہے۔

  • بھارت کو ایک اور دھچکا، بنگلادیش نے آئی پی ایل کی ٹیلی کاسٹ پر پابندی لگا دی

    بھارت کو ایک اور دھچکا، بنگلادیش نے آئی پی ایل کی ٹیلی کاسٹ پر پابندی لگا دی

    ڈھاکا (اسپورٹس ڈیسک )بنگلادیش نے اپنی ٹیم ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے لیے بھارت نہ بھیجنے کے اعلان کے اگلے ہی روز آئی پی ایل کی ٹیلی کاسٹ پر پابندی عائد کردی۔بنگلادیش کے فاسٹ بولر مستقیض الرحمان کو ہندو انتہا پسندوں کی دھمکیوں کے بعد آئی پی ایل ٹیم کے کے آر سے ریلیز کر دیا گیا، اس معاملے پر بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے ہنگامی اجلاس بلاتے ہوئے اپنی حکومت کو تجویز پیش کی کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے لیے ٹیم کو نہ بھیجا جائے۔بنگلادیش کرکٹ بورڈ کی درخواست پر مشیر کھیل بنگلادیش نے گزشتہ روز اعلان کیا کہ کھلاڑیوں کی سکیورٹی ہماری اولین ترجیح ہے، ہماری ٹیم ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے لیے بھارت نہیں جائے گی۔بنگلادیش کا آئی سی سی کو خط لکھنےکا فیصلہ، بھارت میں ٹی 20 ورلڈکپ کا سکیورٹی پلان پوچھا جائےگابعد ازاں بنگلادیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے اس حوالے سے آئی سی سی کو باقاعدہ درخواست بھی دی گئی کہ ہمارے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے میچز بھارت سے سری لنکا منتقل کیے جائیں۔اب تازہ ترین پیشرفت میں بنگلادیش کی حکومت نے انڈین پریمیئر لیگ کی اپنے ملک میں ٹیلی کاسٹ پر پابندی لگا دی ہے۔حکومت بنگلادیش کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بھارتی لیگ پر پابندی غیرمعینہ مدت کے لیے لگائی گئی ہے۔

  • پاکستان اور چین کا  سکیورٹی تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق

    پاکستان اور چین کا سکیورٹی تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق

    شنگھائی (فارن ڈیسک )پاکستان اور چین نے دہشتگردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اور دو طرفہ سکیورٹی تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
    گزشتہ روز بیجنگ میں چینی وزیر خارجہ وانگ ای اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی مشترکہ صدارت میں ہونے والے ساتویں پاک چین اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے۔
    مشترکہ اعلامیے کے مطابق چین کی دعوت پر وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 3 سے 5 جنوری تک چین کا دورہ کیا، پاک چین وزرائے خارجہ ملاقات میں جنوبی ایشیا میں امن، یکطرفہ اقدامات کی مخالفت اور تنازعات کے حل پر زور دیا گیا ہے اور مسئلہ کشمیرکے پرامن حل کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی اہمیت پر اتفاق کیا گیا۔
    اعلامیے کے مطابق پاکستان نے ون چائنا پالیسی کے تحت، تائیوان، سنکیانگ، تبت، ہانگ کانگ اور جنوبی بحیرۂ چین پر چین کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا جبکہ چین نے پاکستان کی خود مختاری، علاقائی سالمیت اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بھرپور تعاون کا اعلان کیا۔
    مشترکہ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ مذاکرات میں پاک چین تعلقات، دفاعی و سکیورٹی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، دونوں ممالک نے اسٹریٹجک رابطے بڑھانے اور باہمی اعتماد مزید مضبوط کرنے پر اتفاق کیا، اس کے علاوہ چین اور پاکستان نے 2026 میں سفارتی تعلقات کے 75سال مکمل ہونے کی تقریبات شروع کرنےکا اعلان بھی کیا۔
    پاک چین مذاکرات کے مشترکہ اعلامیے کے مطابق پاکستان اور چین کے درمیان دوستی کو نسل در نسل منتقل کرنے اور تعاون کے نئے شعبے تلاش کرنے پر اتفاق کیا گیا اور پاک چین آہنی برادرانہ اور آل ویدر اسٹریٹجک تعلقات کی توثیق کی گئی۔مشترکہ اعلامیے میں پاکستان کی جانب سے چین کی ترقیاتی کامیابیوں اور جدید کاری کے ماڈل کو سراہا گیا اور دہشتگردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اور دوطرفہ سکیورٹی تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ اس کے علاوہ سی پیک 2، زراعت، معدنیات اور گوادر پورٹ پر تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔پاکستان اور چین نے خلائی تعاون میں پیشرفت اور پاکستانی خلابازوں کی چینی خلائی اسٹیشن میں متوقع شمولیت پر بھی اتفاق کیا۔

  • پاکستان نے بھارتی وزیرخارجہ کے غیر ذمہ دارانہ الزامات کو سختی سے مسترد کردیا

    پاکستان نے بھارتی وزیرخارجہ کے غیر ذمہ دارانہ الزامات کو سختی سے مسترد کردیا

    اسلام آباد (نما ئندہ خصو صٰی) دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے بھارتی وزیرخارجہ کے پاکستان بارے دیئے گئے ریمارکس پر اپنے ردعمل میں کہا کہ پاکستان بھارتی وزیرِ خارجہ کے غیر ذمہ دارانہ الزامات کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت ایک بار پھر خطے میں عدم استحکام اور دہشت گردی کے فروغ میں اپنے تشویشناک کردار سے توجہ ہٹانے کی کوشش کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ خطے بالخصوص پاکستان میں دہشت گرد سرگرمیوں کی پشت پناہی اور بھارت کے ملوث ہونے سے متعلق دستاویزی شواہد موجود ہیں۔
    ترجمان نے کہا کہ کلبھوشن یادیو کا معاملہ پاکستان کے خلاف منظم، ریاستی سرپرستی میں کی جانے والی دہشت گردی کی ایک واضح مثال ہے، اس کے علاوہ ماورائے سرحد قتل، پراکسی عناصر کے ذریعے تخریبی کارروائیاں اور دہشت گرد نیٹ ورکس کو خفیہ معاونت فراہم کرنے کے بار بار سامنے آنے والے واقعات نہایت تشویش ناک ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ہندوتوا کی انتہا پسندانہ سوچ اور اس کے پرتشدد حامیوں کے نظریے سے مطابقت رکھتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ بھارت بدستور جموں و کشمیر پر اپنی غیر قانونی اور پرتشدد فوجی قبضہ برقرار رکھے ہوئے ہے، پاکستان کشمیری عوام کی جائز جدوجہد میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت کے حصول کےلئے مکمل سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھنے کے اپنے عزم پر قائم ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جو نیک نیتی اور قابلِ ذکر قربانیوں کے ساتھ طے پایا۔ بھارت کی جانب سے اس معاہدے کی کسی بھی یکطرفہ خلاف ورزی سے علاقائی استحکام کو نقصان پہنچے گا اور بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کے احترام کے اس کے دعوئوں پر سوال اٹھیں گے۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان معاہدے کے تحت اپنے جائز حقوق کے تحفظ کےلئے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔

  • نریندر مودی  کے  لئےوال اسٹریٹ جرنل کی کھلی چارج شیٹ

    نریندر مودی کے لئےوال اسٹریٹ جرنل کی کھلی چارج شیٹ

    ممبی (فارن ڈیسک )نریندر مودی اور ہندوستان کی ہندوتوا شناخت پر وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کھلی چارج شیٹ ہے جب کہ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ عیسائی اقلیت بھی بدترین صورتحال کا شکار ہے اور ہندوستان کا مشن ہندوتوا عالمی سطح پر باعث شرمندگی ہے۔عالمی جریدے وال اسٹریٹ جنرل نے کہا کہ مودی حکومت فاشسٹ ہے، مودی حکومت صرف ہندو اکثریت کی ترجمان ہے، ی جے پی حکومت اقلیتوں سے مذہبی اور نسلی امتیاز برت رہیہے، نریندر مودی کے دور میں بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد میں خطرناک اضافہ ہوا، 2014 کے بعد مودی کے ہندوستان میں مسلمان رہائش، ملازمت، تعلیم اور ووٹ کے حق تک امتیاز کا شکار ہیں۔رپورٹ کے مطابق بھارت کا سیکولر دعویٰ بے نقاب ہو چکا ہے، صرف 2.3 فیصد آبادی ہونے کے باوجود عیسائی بھی ہندوتوا تشدد کی زد میں ہیں، 2025 میں 706 اینٹی کرسچن واقعات ریکارڈ ہوئے، گرجا گھروں پر حملے، عبادات پر تشدد، کرسمس کی علامتوں کی توڑ پھوڑ ہوئی مگر مودی دانستہ خاموش رہا، مودی کا چرچ جانا مگر حملوں کی مذمت نہ کرنا، شدت پسند ہندو عناصر کے لیے واضح سرکاری اشارہ ہے۔وال اسٹریٹ جرنل نے کہا کہ اینٹی کنورژن قوانین، پولیس کی بے عملی اور ریاستی رویہ، اقلیتوں کے خلاف تشدد کو عملی تحفظ فراہم کر رہا ہے، بھارت میں سیکولر ازم اب محض نعرہ، اقلیتیں پورے ملک میں علامتی اور منظم تشدد کا شکار ہیں، مودی کا بھارت فل کلاس جمہوریت نہیں، فل کلاس اکثریتی ریاست بن چکا ہے۔وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق بھارت میں خوف اقلیتوں کی شناخت بن گیا ہے، نریندر مودی کے دور میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد معمول بنتا جا رہا ہے، بھارتی انسانی حقوق تنظیم کے مطابق کرسمس پر حملے منظم اور پر تشدد تھے۔
    یونائیٹڈ کرسچن فورم کے مطابق عیسائیوں پر حملے 2014 میں 139 سے بڑھ کر 2024 میں 834 ہو گئے، 2025 میں نومبر تک بھارت میں عیسائیوں پر 706 حملے ریکارڈ کیے گئے،
    📌 کرسمس 2025 بھارت میں مذہبی انتہاپسندی کا قومی فلیش پوائنٹ بن گیا، یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت نے کرسمس کے دن اسکول کھلے رکھنے کے احکامات دیے۔دی وال اسٹریٹ جرنل نے کہا کہ اترپردیش میں گرجا گھروں کے باہر ہجوم، “عیسائی مشنریوں کو موت” کے نعرے، مدھیہ پردیش میں بی جے پی رہنما کا چرچ پر دھاوا، نابینا خاتون پر تشدد،
    چھتیس گڑھ میں شاپنگ مال میں کرسمس سجاوٹ توڑی گئی، سانتا کلاز کی مورتیاں مسمار کردی گئیں۔امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی نے بھارت کو“Country of Particular Concern” قرار دینے کی سفارش کی، بھارت میں مذہبی تشدد پر ریاستی خاموشی، انتہا پسندوں کو کھلی چھوٹ کا اشارہ ہے، مودی نے ملک بھر میں عیسائیوں پر حملوں کی مذمت نہیں کی، بھارت میں سیکولرازم مودی دور میں عملی طور پر ختم ہو چکا ہے۔مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم مودی نے پر تشدد گروپس کی مزمت کی زحمت بھی نہ کی، بشپ سرفراز پیٹر نے کہا کہ پاکستان میں کرسمس پر پوری قوم مسیحی بھائیوں کی خوشیوں میں شریک ہوئی۔کھیل داس کوہستانی نے کہا کہ بی جے پی حکومت اقلیتوں کیخلاف نفرت کی سیاست کر رہی ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق دنیا کی نظریں بھارتی حکومت کے رویے پر ہیں۔بشپ آزاد مارشل نے کہا کہ بی جے پی حکومت خود کو کرسمس پر ہونے والی تباہی سے بری الزمہ قرار نہیں دے سکتی، سیاسی مبصرین کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت اقلیتوں کیخلاف روئیے سے سفارتی طور پر تنہا ہو رہی ہے۔