Blog

  • بنگلادیش کی درخواست مسترد ،بھارتی خبریں جھوٹ کا پلندہ نکلیں

    بنگلادیش کی درخواست مسترد ،بھارتی خبریں جھوٹ کا پلندہ نکلیں

    ڈھاکا(اسپورٹس ڈیسک )آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے حوالے سے آئی سی سی کی جانب سے بنگلادیش کی درخواست مسترد کرنے کی بھارتی خبریں جھوٹ کا پلندہ نکلیں۔تفصیلات کے مطابق بنگلادیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے ایسی تمام خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی سی سی نے سیکیورٹی خدشات کے بارے میں دریافت کیا ہے۔بورڈ کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا کہ وینیوز بھارت سے منتقل کرنے سے انکار کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔بنگلادیش کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ آئی سی سی نے ورلڈکپ میں بنگلادیشی ٹیم کی مکمل اور بلاتعطل شرکت کو یقینی بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے خدشات دور کرنے کے لیے ساتھ مل کر کام کرنے کی رضامندی ظاہر کی ہے۔آئی سی سی نے بنگلادیشی کرکٹ بورڈ کو یہ یقین بھی دلایا ہے کہ ایونٹ کے لیے تفصیلی حفاظتی منصوبہ بندی پر بھی پر غور کیا جائے گا۔بنگلادیشی کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی کی جانب سے الٹی میٹم جاری کرنے کی خبروں کی واضح طور پر تردید بھی کی ہے۔بنگلادیشی کرکٹ بورڈ نے ایسی بے بنیاد خبروں کا نوٹس لیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس طرح کے دعوے مکمل طور پر جھوٹے اور بے بنیاد ہیں، ایسی جھوٹی خبریں آئی سی سی سے موصول ہونے والی بات چیت کی نوعیت یا مواد کی عکاس نہیں ہیں۔بنگلادیشی کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ وہ آئی سی سی اور متعلقہ ایونٹ حکام کے ساتھ تعاون پر مبنی اور پیشہ ورانہ انداز میں تعمیری مصروفیات جاری رکھے گا تاکہ ایک قابل عمل اور عملی حل تک پہنچ سکے۔بنگلادیش کرکٹ بورڈ کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اپنی قومی کرکٹ ٹیم کی حفاظت، سلامتی اور بہبود کو سب سے زیادہ ترجیح دینے کے لیے پرعزم ہے۔

  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جیل میں ملاقات، دونوں 45 منٹ  اکٹھے رہے

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جیل میں ملاقات، دونوں 45 منٹ اکٹھے رہے

    لاہور(نمائندہ خصوصی )بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی اڈیالہ جیل میں ملاقات کرادی گئی۔جیل ذرائع نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی 45 منٹ تک اکٹھے رہے، دونوں میاں بیوی کی ملاقات گزشتہ روز کانفرنس روم میں کرائی گئی۔جیل ذرائع کے مطابق گزشتہ ہفتے بھی بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی ملاقات کرائی تھی، بشری بی بی اور بانی پی ٹی آئی کی ملاقات جیل قوانین کے مطابق کرائی جاتی ہے۔جیل ذرائع کا کہنا تھا کہ بشری بی بی کے وکیل کی جانب سے کچھ ضروری سامان گزشتہ روز جیل انتظامیہ نے وصول کیا تھا، ضروری سامان میں کمبل، گرم کپڑے، میوجات، کھجوریں اور دیگر سامان تھا۔

  • جامع منصوبے سے کراچی کو دنیا کا بہترین شہر بنائیں گے،وزیراعلیٰ سندھ

    جامع منصوبے سے کراچی کو دنیا کا بہترین شہر بنائیں گے،وزیراعلیٰ سندھ

    کراچی:(اسٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کراچی کو دنیا کے بہترین شہروں میں شامل کرنے کے لیے 84 ارب روپے سے زائد کا پیکیج دینا چاہتا ہوں۔
    فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے وفد نے ڈی جی میجر جنرل عبدالسمیع کی سربراہی میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے ملاقات کی، جس میں وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، کمشنر کراچی حسن نقوی اور سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی شریک ہوئے۔
    ملاقاتکے دوران وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہم کراچی کی ترقی کا جامع منصوبہ نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں کراچی کے لیے 84 ارب 79 کروڑ 60 لاکھ روپے کا پیکیج دینا چاہتا ہوں۔ اس کے علاوہ شہر کے لیے 26 ارب 20 کروڑ روپے کی مزید رقم کی منظوری بھی دی گئی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ایف ڈبلیو او کے ساتھ شراکت داری قائم کر کے ترقیاتی منصوبے شروع کیے جائیں۔
    مراد علی شاہ نے کہا کہ شہر کراچی کے تمام میگا اور اہم منصوبوں کی بہترین ڈیزائننگ ہونی چاہیے۔ کراچی کی ترقی دنیا کے بہترین شہروں سے کم نہیں ہونی چاہیے۔ اہم منصوبوں میں ایم نائن جناح ایونیو تا شاہراہ فیصل تک سڑک کی تعمیر شامل ہے، جو سپر ہائی وے اور شہر کی اہم شاہراہوں سے منسلک ہے۔
    وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق ملیر ہالٹ پرنٹنگ پریس سے شاہراہ فیصل تک دائیں جانب انڈر پاس کی تعمیر کا منصوبہ ہے، کیونکہ ملیر ہالٹ پر ٹریفک کا ایک بڑا بوتل نیک موجود ہے جسے ختم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایئرپورٹ سے اسٹار گیٹ کی جانب فلائی اوور کی تعمیر کی جائے گی جس کے ذریعے ایئرپورٹ تا شاہراہِ فیصل تک براہِ راست رسائی حاصل ہوگی۔
    انہوں نے مزید بتایا کہ وائی جنکشن سے مچھلی چوک(ہاکس بے روڈ) کی تعمیر کی جائے گی۔ اسی طرح مسرور بیس تا ٹرک اسٹینڈ تک سڑک کی تعمیر بھی ساتھ ہوگی۔ یہ منصوبے کمرشل اور ہیوی ٹریفک کے لیے شامل ہیں۔
    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سہراب گوٹھ پر فلائی اوور کی تعمیر کا منصوبہ ہے۔ یہ شہر کا گیٹ وے ہے اور یہاں شدید ٹریفک کا دباؤ رہتا ہے، فلائی اوور بننے سے ٹریفک کا دباؤ ختم ہو جائے گا۔
    مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ مزید 7 منصوبے ایسے ہیں جن کے لیے میں 84.7 ارب روپے فراہم کر رہا ہوں، کراچی شہر کے مختلف علاقوں میں 443 اندرونی سڑکوں کی تعمیر کی جائے گی، ٹریفک مینجمنٹ کے لیے 9 منصوبے بنائے گئے ہیں اور کے ایم سی کی 26 سڑکوں کی تعمیر بھی کی جا رہی ہے۔
    انہوں نے کہا کہ پارکس، سڑکوں اور فلائی اوورز میں بہتری کے کام جاری ہیں جب کہ شہر کے 9 اہم منصوبوں کی تعمیر، 10 مختلف علاقوں میں اہم سڑکوں کی تعمیر اور 7 مختلف سڑکوں کی بیوٹیفکیشن کے منصوبے بھی شامل ہیں۔
    اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایف ڈبلیو او کے انجینئرز، محکمہ بلدیات اور کے ایم سی کے اعلیٰ افسران مشترکہ طور پر منصوبوں کی ڈیزائننگ کا کام فوری شروع کریں گے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت کی کہ ڈیزائن اور یوٹیلٹیز کی منتقلی سے متعلق مسائل فروری میں مکمل ہونے چاہییں اور مارچ 2026ء سے ترقیاتی کام شروع کر دیے جائیں۔

  • اسٹاک ایکسچینج میں شاندار تیزی؛ انڈیکس  بلند ترین سطح پر

    اسٹاک ایکسچینج میں شاندار تیزی؛ انڈیکس بلند ترین سطح پر

    کراچی:(کامرس ڈیسک)پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج ریکارڈ ساز تیزی کا رجحان ہے، جس کے نتیجے میں انڈیکس نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔کاروباری ہفتے کے مسلسل تیسرے دن بازار حصص میں سرمایہ کاروں کی جانب سے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں آج بدھ کے روز بھی پی ایس ایکس میں 1704 پوائنٹس کی بڑی تیزی کے بعد کے ایس ای 100 انڈیکس بڑھ کر ایک لاکھ 87 ہزار 766 پوائنٹس کی نئی بلند ترین سطح کو چھو گیا۔مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ جاری رہا اور انڈیکس ایک بار پھر ایک لاکھ 85 ہزار 671 پوائنٹس کی بلند سطح پر پہنچا اور اس کے بعد 1226 پوائنٹس کی مجموعی تیزی کے ساتھ انڈیکس ایک مرتبہ پھر بڑھ کر ایک لاکھ 86 ہزار 288 پوائنٹس کی بلند سطح پر پہنچ گیا۔واضح رہے کہ رواں کاروباری ہفتے کے پہلے دو دنوں (پیر اور منگل کو) بھی مارکیٹ میں شاندار تیزی دیکھی گئی تھی، جس کے نتیجے میں انڈیکس کی بلندی کے ریکارڈز قائم ہوئے تھے۔

  • خیبرپختونخوا میں دہشتگردوں کو سازگار سیاسی ماحول فراہم کیا جاتا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

    خیبرپختونخوا میں دہشتگردوں کو سازگار سیاسی ماحول فراہم کیا جاتا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

    راولپنڈی (نمائندہ خصوصی )پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے 80 فیصد واقعات خیبر پختونخوا میں ہوئے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں دہشتگردوں کو سازگار سیاسی ماحول فراہم کیا جاتا ہے اور وہاں سیاسی اور دہشت گردانہ گٹھ جوڑ نشونما پا رہا ہے۔
    ڈی جی آئی ایس پی آر اپنی اہم پریس کانفرنس میں سیکیورٹی صورتحال اور دیگر اہم امور کے حوالے سے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ نیوز کانفرنس کا مقصد دہشت گردی کے خلاف اقدامات کا احاطہ کرنا ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاست اور عوام کے درمیان ہم آہنگی ہے۔
    انہوں نے کہا کہ بریفنگ کا مقصد گزشتہ سال انسداد دہشت گردی کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کا جامع جائزہ پیش کرنا ہے، یہ اس پریس کانفرنس کا واحد مقصد ہے، اور میں درخواست کروں گا کہ ہم انسداد دہشت گردی پر توجہ مرکوز رکھیں کیونکہ دہشت گردی سب سے بڑا خطرہ ہے جس کا اس وقت ریاست پاکستان کو سامنا ہے۔
    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 2025 دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ میں ایک تاریخی اور نتیجہ خیز سال تھا، یہ کہتے ہوئے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی ہے اور دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے لڑی جارہی ہے۔
    ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ گزشتہ سال انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں بے مثال شدت دیکھی گئی جب کہ گزشت برس ملک میں 27 خود کش حملے ہوئے۔
    انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں بھارت کا منہ کالا کیا گیا، اسے سبق سکھانا ضروری تھا، ہندوستان کے آپریشن سندور کی کالک ابھی تک اس کے منہ سے نہیں جا رہی۔
    ان کا کہنا تھا کہ افغانستان نے ٹی ٹی پی کو اپنے طور پر منظم کیا، دہشتگردی کے 80 فیصد واقعات خیبر پختونخوا میں ہوئے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں دہشتگردوں کو سازگار سیاسی ماحول فراہم کیا جاتا ہے اور وہاں سیاسی اور دہشت گردانہ گٹھ جوڑ نشونما پا رہا ہے۔
    انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 75 ہزار 175 اٹیلی جینس بیسڈ آپریشن کیے، خیبر پختونخوا میں 14 ہزار 658، بلوچستان میں 58 ہزار 778 آپریشن کیے گئے، ملک کے دیگر علاقوں میں گزشتہ سال میں 1 ہزار 739 آپریشن کیے گئے۔
    گزشتہ برس 27 خود کش حملے ہوئے، کے پی میں 80 فیصد دہشت گردانہ حملے ہوئے، کے پی میں سیاسی طور پر سازگار سیاسی ماحول دہشت گردی کے لیے فراہم کیا جاتا ہے۔
    ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا 2021 میں دہشتگردی نے سر اٹھانا شروع کیا، 2021 میں 193 دہشت گرد جہنم واصل کیے گئے، 2021 میں افغانستان میں تبدیلی آئی، دوحہ معاہدہ ہوا، افغان گروپ نے دوحہ میں 3 وعدے کیے، افغان گروپ نے وعدہ کیاکہ افغان سرزمین سے دہشتگردی کا خاتمہ کیا جائے گا، افغان گروپ نے وعدہ کیا کہ افغانستان میں عورتوں کی تعلیم یقینی بنائی جائے گی۔
    انہوں نے کہا کہ سال 2025 میں 2597 دہشتگرد مارے گئے، گزشتہ سال سب سے زیادہ دہشت گردی واقعات خیبر پختونخوا میں کیوں ہوئے، خیبرپختونخوا میں زیادہ دہشتگردی کی وجہ وہاں دہشتگردوں کو دستیاب موافق ماحول ہے۔
    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ 2 دہائی سے زائدعرصےسےجاری ہے، دہشت گردخوارج اورفتنہ الہندوستان ہیں، دہشت گردوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، افغانستان خطے میں دہشت گردی کا مرکز بن چکا ہے۔
    انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال14ہزار658آپریشن خیبرپختونخوا میں کئے گئے، فوج،پولیس اور اداروں نے75ہزار175انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے، بلوچستان میں58ہزار778انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کئے گئے، دہشت گردی کے5ہزار397واقعات ہوئے۔
    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق 2597دہشت گرد ہلاک کئے گئے، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ہماری1235شہادتیں ہوئیں، گزشتہ سال 27خودکش حملے ہوئے، خودکش حملے خیبرپختونخوا، بلوچستان اور اسلام آباد میں ہوئے، خیبرپختونخوا16 اور بلوچستان میں 10 حملے ہوئے۔
    انہوں نے کہا کہ اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس میں ایک حملہ ہوا، خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے 3 ہزار811 واقعات ہوئے، 2021سے2025تک خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات بڑھے، ریاست دہشت گردی کے خاتمے کیلیے پرعزم ہے۔
    ان کا کہنا تھا کہ ریاست کا فتنہ الہندوستان کے خلاف واضح موقف ہے، 2021کے دوران خیبرپختونخوا میں193دہشت گرد ہلاک ہوئے، گزشتہ سال دہشتگردی کیخلاف تاریخی اورنتیجہ خیز تھا، 2021میں دوحہ معاہدے میں طالبان نے امریکا کیساتھ مذاکرات کیے، افغان سرزمین دہشتگردی کیلیے استعمال نہیں ہوگی۔
    ڈی جی آئی ایس پی نے کہا کہ آر دوحہ معاہدے میں کہاگیا افغانستان میں خواتین کو حقوق ملیں گے، کیا2021کے بعد دوحہ معاہدے کے وعدوں پر عمل ہوا؟ مختلف دہشت گرد تنظیمیں افغانستان سے کارروائیاں کر رہی ہیں۔
    ترجمان پاک افواج نے کہا کہ افغانستان پوری دنیا کے دہشت گردوں کی آماجگاہ ہے، وہ خود کو عبوری افغان حکومت کہلواتے ہیں لیکن وہاں کوئی حکومت نہیں، القاعدہ،داعش،بی ایل اے افغانستان میں موجود ہے، فتنہ الہندوستان اور ٹی ٹی پی کی تربیت گاہیں افغانستان میں موجود ہیں۔
    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ حال ہی میں شام میں ایک عمل داری آرڈرلایا گیا، شام سے2ہزار500دہشت گرد افغانستان منتقل ہوئے، شام سے افغانستان منتقل ہونیوالے دہشتگردوں میں کوئی پاکستانی نہیں،ڈی جی افغان بارڈربندکرنے سے دہشت گردی میں نمایاں کمی آئی۔
    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ افغانستان نے ٹی ٹی پی کو اپنے طرزعمل کے مطابق منظم کیا، فیک بیانیہ بنایا جاتا ہے کہ امریکا کو افغانستان سے بھگادیا، افغانستان خود کو اسلام کا علمبردار بنا کرپیش کرتا ہے، افغانستان دہشت گردوں کو براہ راست اسپورٹ کررہا ہے، افغانستان وار اکانومی کرتا ہے۔
    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ واراکانومی کے لیے دہشتگردی پورے خطے میں پھیلائی جاتی ہے، افغانستان کو واراکانومی کی عادت پڑ چکی ہے، پولیس لائن مسجد پشاور میں خودکش حملہ ہوا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پشاور کا دورہ کیا اور خطاب میں کہا خوارج کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، فیلڈ مارشل نے کہا یہ اللہ کا حکم ہے، خوارج جہاں ملیں انکومادو۔
    ترجمان پاک افواج نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں کرمنل ٹیررگٹھ جوڑ موجود ہے، خیبرپختونخوا کی بنیادپر206انٹیلی جنس آپریشن کئے جا رہے ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ کہاجاتا ہے2026میں افغانستان اوربھارت ملکرپاکستان پر حملہ کرینگے، افغانستان اور بھارت آجائیں ان کا شوق پورا کریں گے، ہندوستان میڈیاپربیٹھا شخص بھی ساتھ ہی آئے چھپ کرنہ بیٹھے، ارنب گوسوامی کو دیکھ کرہنس کیوں رہے ہیں، یہ بھارتی دانشور ہے، مودی کی صورت میں افغانستان کو ایک نیااوتارمل گیا۔
    انہوں نے مزید کہا کہ دہشتگردوں سے جھڑپوں کے دوران طالبان کا نام نہاد وزیر خارجہ کہاں تھا؟ ان کا اسلام کہتا ہے کہ ہندوستانیوں کے پاؤں پڑ جاؤ ، افغانستان میں کوئی حکومت نہیں ہے بلکہ ایک چھوٹا سا گروہ قابض ہے۔
    ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا ہم ایک عرصےسے کہہ رہے تھے کہ افغانستان دہشتگردی کا گڑھ بن گیا ہے، اب دنیا بھی یہی کہ رہی ہے کہ افغانستان دہشتگردی کا گڑھ بن گیا ہے، اب تو ایران، آذربائیجان اور تاجکستان بھی کہہ رہا ہے کہ افغانستان سے ان پر دہشتگرد حملے ہو رہے ہیں، اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 20 بین الاقوامی دہشتگرد تنظیمیں فعال ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ پوری قوم اور سکیورٹی فورسز دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دے رہی ہے اور ایک صوبے کی حکومت کہتی ہے کہ ہم وہاں آپریشنز نہیں ہونے دیں گے تو کیا یہ لوگ چاہتے ہیں کہ جس طرح سوات میں ان دہشتگردوں نے ہزاروں افراد کو شہید کیا یہ دوبارہ سے ایسا ہی دہشتگردی کا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
    ان کا کہنا تھا اس بار ایسے لوگوں کا بیانیہ بھی کھل کر سامنے آ گیا، ان لوگوں کے پاس وہی پرانا سیاسی بیانیہ ہے، اگر ان سے کوئی دو سے تین سوال کر لے تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا، یہ فتنہ الخوارج کا منظور نظر بننا چاہتے ہیں۔
    ترجمان پاک فوج نے کہا کہ وزیر اعلیٰ فرما رہے ہیں کہ افغانستان ہماری مدد کرے ، یہ فرما رہے ہیں کہ کابل ہماری سکیورٹی گارنٹی کرے ، یہ کونسی تسکین کی پالیسی ہے کہ آپ افغانستان سے کہتے ہو ہماری مدد کریں، وزیر اعلیٰ کے پی ایک مضحکہ خیز بات کرتے ہیں، کے پی کے وزیراعلیٰ کا بیانیہ بھی کھل کر سامنے آگیا ہے، اگر ملٹری آپریشن نہیں کرنا تو خوارج کے پیروں میں بیٹھنا ہے، کیا خارجی نور ولی محسوس کو صوبے کا وزیر اعلیٰ لگا دیا جائے، اس کی بیعت کر لی جائے، کیا ہبت اللہ بتائیں گے چارسدہ میں کیا ہوگا۔
    ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں اسد قیصر کا کلپ اور عمران خان کے ٹوئٹس نشر کردیے
    ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں اسد قیصر کا کلپ اور عمران خان کے ٹوئٹس چلا دیے اور کہا کہ آپ غور سے سنیں فوج وفاقی حکومت کا ادارہ ہے. ہمیں پاکستان کی سلامتی کی حفاظت کا آئینی حکم ہے، آپ کو یہ کوئی اجازت نہیں دیتا کہ آپ اپنی سیاست کے لیے اپنے علاقوں کو دہشتگردوں کے حوالے کر دیں۔
    ڈی جی آئی ایس پی آر نے وزیر اعلی کے پی سہیل آفریدی کا مساجد میں کتے باندھنے سے متعلق نشر کیا اور کہا یہ صاحب مضحکہ خیز بات چیت کیوں کرتے ہیں، کیونکہ جب کوئی لاجگ اور آرگیومنٹ نہ ہو تو ایسی ہی بات چیت کرنی ہے جس کا نہ کوئی سر ہے، نہ پیر، نہ آگے، نہ پیچھے۔

  • وزیراعظم کی زرعی برآمدات میں اضافے کا لائحہ عمل بنانے کی ہدایت

    وزیراعظم کی زرعی برآمدات میں اضافے کا لائحہ عمل بنانے کی ہدایت

    اسلام آباد:(نمائندہ خصوصی )وزیراعظم نے کسانوں کی خوشحالی کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے زرعی برآمدات میں اضافے کا لائحہ بنانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ملکی زرعی برآمدات میں اضافے اور زرعی شعبے کو بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے حوالے سے تشکیل کردہ نجی شعبے کے ماہرین پر مبنی ورکنگ گروپ کا اجلاس وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں ہوا، جس میں انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کی اصلاحات اور کسانوں کو عالمی سطح پر رائج جدید اطوار سے متعارف کروانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت زرعی شعبے میں اپنے دائرہ کار میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر زراعت کی ترقی کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے لیے کسانوں کو معیاری بیج، مناسب قیمت پر بروقت کھاد اور فصلوں میں بیماریوں کی روک تھام کے لیے ادویات کی فراہمی کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ زرعی اجناس کی پراسیسنگ کے ذریعے برآمدات کے قابل اشیا کی تیاری کے لیے پالیسی سطح پر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔وزیرِ اعظم نے بتایا کہ حال ہی میں چین میں سرکاری خرچ پر ایک ہزار پاکستانی طلبہ و طالبات کو زراعت کی جدید ٹیکنالوجی کی تربیت کے لیے بھیجا گیا ہے۔ پاکستان میں زرعی شعبے کی ترقی کی بھرپور استعداد موجود ہے اور موجودہ وسائل میں رہتے ہوئے زراعت کی ترقی کے لیے تحقیق پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے تاکہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔شہباز شریف نے ماہی گیری، پھلوں اور ان سے تیار کردہ مصنوعات کی برآمدات میں اضافے کے لیے اقدامات اٹھانے، ساحلی پٹی پر پام آئل کی پیداوار کے لیے پالیسی اقدامات تشکیل دے کر پیش کرنے اور آئندہ 5 برس میں زرعی برآمدات بڑھانے کے حوالے سے جامع لائحہ عمل تشکیل دینے کی ہدایت بھی کی۔
    اجلاس میں چیئرمین ورکنگ گروپ رانا نسیم اور ان کی ٹیم نے ملکی زرعی شعبے پر جامع رپورٹ پیش کی، جس میں شعبے کو درپیش مسائل اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں وفاقی وزرا احسن اقبال، رانا تنویر حسین، ڈاکٹر مصدق ملک، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، معاونِ خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کو تفصیلی طور پر ملک میں ربیع و خریف کی بڑی فصلوں، ان کی فی ایکڑ اوسط پیداوار، ہارٹی کلچر و پھلوں کی پیداوار و برآمدات، گلہ بانی، ڈیری شعبے اور زراعت سے متعلقہ تمام شعبوں کا خطے اور عالمی سطح پر تقابلی جائزہ پیش کیا گیا۔
    اجلاس کو بتایا گیا کہ قلیل مدتی اصلاحاتی فریم ورک کے تحت پاکستان کی موجودہ فی ایکڑ اوسط پیداوار کو موجودہ وسائل میں رہتے ہوئے بڑھایا جائے گا، جس کے لیے وفاقی حکومت معیاری بیج کی فراہمی، پالیسی اقدامات اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ تعاون سے مؤثر ایکسٹینشن سروسز فراہم کرے گی اور کسانوں کو جدید خطوط پر زرعی طریقہ کار سے روشناس کرایا جائے گا۔
    شرکا کو مزید بتایا گیا کہ زرعی اجناس کی پراسیسنگ کے لیے وفاقی حکومت سرٹیفکیشن رجیم پر کام کرے گی، جو زرعی اجناس اور ان سے تیار کردہ مصنوعات کی عالمی منڈیوں میں قدر میں اضافہ یقینی بنا کر کسانوں کے منافع میں اضافے کا باعث بنے گا۔
    اجلاس کو تحقیقاتی اداروں کی اصلاحات پر بھی جامع لائحہ عمل پیش کیا گیا، جس کے تحت نہ صرف موجود فصلوں کی پیداوار میں اضافہ کیا جائے گا بلکہ پاکستان کی آب و ہوا اور زمین کے مطابق نئی اور منافع بخش فصلوں کی کاشت کی حوصلہ افزائی بھی کی جائے گی۔
    وزیرِ اعظم نے ورکنگ گروپ کی جانب سے دی گئی مفصل بریفنگ کو سراہتے ہوئے قابلِ عمل، مؤثر اور جامع روڈ میپ تیار کرکے حکومتی اصلاحات کی سفارشات میں شامل کرنے کی ہدایت کی۔

  • اسلام آباد کو جدید شہر بنانے کا منصوبہ؛ چین سے تعاون حاصل کیا جائے گا

    اسلام آباد کو جدید شہر بنانے کا منصوبہ؛ چین سے تعاون حاصل کیا جائے گا

    شنگھائی (نمائندہ خصوصی )اسلام آباد کو جدید شہر بنانے کے منصوبے کے تحت وزیر داخلہ محسن نقوی نے شنگھائی اربن پلاننگ ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا۔رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ و نارکوٹکس کنٹرول محسن نقوی نے شنگھائی کے شہری منصوبہ بندی کے ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا، جہاں شنگھائی اربن پلاننگ کی سربراہ چن نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر وزیر داخلہ کو شنگھائی شہر کی ماسٹر پلاننگ، ترقیاتی منصوبوں اور شہری سہولتوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔بریفنگ کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی کو شنگھائی میں شہری سہولیات کے ساتھ تیز رفتار ترقی کے مربوط نظام سے آگاہ کیا گیا جب کہ ویڈیوز اور ماڈلز کے ذریعے شنگھائی کے ترقی کے سفر اور ماسٹر پلان کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کی گئی۔ وزیر داخلہ نے شنگھائی کے جدید سہولتوں سے آراستہ اسٹیڈیم کا ماڈل بھی ملاحظہ کیا۔محسن نقوی نے شنگھائی اربن پلاننگ کے تحت تمام معلومات کو جدید طرز پر یکجا کرنے کے نظام میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی اس نظام کی تعریف کی۔ انہوں نے شہر کے نظام کو مربوط اور فول پروف بنانے کے اقدامات کو بھی سراہا۔
    اس موقع پر محسن نقوی نے کہا کہ شنگھائی شہر تیز ترین ترقی میں اپنی مثال آپ ہے اور شنگھائی کی ترقی ہر شہر کے لیے قابل تقلید ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کو بھی شنگھائی کی طرز پر ڈویلپ کرنا چاہتے ہیں۔ شنگھائی کی تیز رفتار ترقی سے استفادہ کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں گے۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دورے کے اختتام پر وزیٹرز بک میں اپنے تاثرات بھی درج کیے۔ اس موقع پر وفاقی سیکرٹری داخلہ محمد خرم آغا، چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا اور آئی جی اسلام آباد پولیس علی ناصر رضوی بھی موجود تھے۔

  • بجلی سستی کرنے کا پلان ، حکومت کی  مزید ریلیف دینے کی تیاری

    بجلی سستی کرنے کا پلان ، حکومت کی مزید ریلیف دینے کی تیاری

    اسلام آ باد:(نمائندہ خصوصی)حکومت نے صارفین کو مزید ریلیف دینے کی تیاریاں شروع کردی ہیں اور اس سلسلے میں بجلی سستی کرنے کا پلان بھی سامنے آگیا ہے۔وفاقی حکومت کی جانب سے بجلی صارفین کو ایک اور ریلیف فراہم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، جس کے تحت آئی ایم ایف کی شرط کے مطابق کیپٹو پاور لیوی عائد کرنے کے بعد اس رقم کو بجلی کے نرخ کم کرنے کے لیے استعمال کرنے کا پلان تیار کیا گیا ہے، جس سے پاور سیکٹر میں ریلیف کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔حکومتی ذرائع کے حوالے سے نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کیپٹو پاور لیوی سے حاصل ہونے والی رقم کو ماہانہ بنیادوں پر بجلی صارفین کو ریلیف دینے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ حکومت کو توقع ہے کہ جیسے جیسے کیپٹو پاور لیوی کی شرح میں اضافہ ہوگا، اسی تناسب سے بجلی کے نرخوں میں زیادہ ریلیف دینا ممکن ہو سکے گا۔واضح رہے کہ وفاقی کابینہ کی جانب سے کیپٹو پاور لیوی سے حاصل ہونے والا فائدہ بجلی صارفین تک منتقل کرنے کی منظوری پہلے ہی دی جا چکی ہے۔ذرائع نے اس حوالے سے مزید بتایا ہے کہ ماہانہ جمع ہونے والی لیوی کا فائدہ براہ راست ہر ماہ دینے کے بجائے 2 ماہ کے وقفے سے بجلی کے نرخوں میں ایڈجسٹ کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے وفاقی حکومت نے کیپٹو پاور پلانٹس پر مرحلہ وار 20 فیصد تک لیوی عائد کرنے کا قانون نافذ کر دیا ہے، جس کا اطلاق مختلف مراحل میں کیا جائے گا۔منصوبے کی تفصیلات کے مطابق کیپٹو پاور پلانٹس پر فوری طور پر 5 فیصد لیوی نافذ کر دی گئی ہے جب کہ دوسرے مرحلے میں یہ شرح 10 فیصد تک بڑھائی جائے گی۔ مزید بتایا گیا ہے کہ فروری 2026 میں لیوی 15 فیصد اور اگست 2026 میں کیپٹو پاور پلانٹس پر لیوی کی شرح 20 فیصد تک پہنچ جائے گی، جس سے حاصل ہونے والی رقم پاور سیکٹر کے تمام کیٹیگریز کے بجلی صارفین کے ٹیرف میں کمی کے لیے استعمال کی جائے گی۔حکومتی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے ک لیوی کی عدم ادائیگی کی صورت میں کیپٹو پاور پلانٹس کے خلاف کارروائی کی جائے گی جب کہ مستقل ڈیفالٹ کی صورت میں متعلقہ کیپٹو پاور پلانٹ کو گیس کی فراہمی منقطع کر دی جائے گی۔ ہر کیپٹو پاور پلانٹ گیس یا ایل این جی کے استعمال پر وفاقی حکومت کو لیوی ادا کرنے کا پابند ہوگا۔

  • ٹی ٹوئنٹی سیریز، پاکستان ٹیم کا سری لنکا پہنچنے پر شاندار روایتی استقبال

    ٹی ٹوئنٹی سیریز، پاکستان ٹیم کا سری لنکا پہنچنے پر شاندار روایتی استقبال

    کولمبو (اسپورٹس ڈیسک )سری لنکا کے خلاف تین ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز کھیلنے کے لیے پاکستان ٹیم کا مکمل اسکواڈ دو گروپس میں کولمبو پہنچ گیا۔گزشتہ روز سری لنکا پہنچنے والے دوسرے گروپ میں کپتان سلمان علی آغا، محمد نواز، صاحبزادہ فرحان ، عثمان خان، صائم ایوب، ابرار احمد، عبدالصمد اور خواجہ نافع کے علاوہ بیٹنگ کوچ محمد حنیف اور سپورٹ اسٹاف کے دیگر ارکان شامل تھے۔پاکستان ٹیم کے سری لنکا پہنچنے پر میزبان ملک کی جانب سے پاکستانی ٹیم کا روایتی انداز میں شاندار استقبال کیا گیا۔واضح رہے کہ دونوں ٹیموں کے مابین تین ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز کا پہلا میچ کل شام ساڑھے 6 بجے دمبولا میں کھیلا جائے گا۔

  • فیلڈ مارشل کا عالمی کردار اور پاکستان کی سفارتی کامیابیاں  خصوصی رپورٹ

    فیلڈ مارشل کا عالمی کردار اور پاکستان کی سفارتی کامیابیاں خصوصی رپورٹ

    عصرِ حاضر میں جنگیں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہیں بلکہ سفارت کاری (Diplomacy) ایک فیصلہ کن محاذ بن چکی ہے۔ عالمی سیاست میں وہی ممالک کامیاب سمجھے جاتے ہیں جو عسکری طاقت کے ساتھ ساتھ مضبوط سفارتی حکمتِ عملی رکھتے ہوں۔ پاکستان کے تناظر میں فیلڈ مارشل کا منصب محض عسکری عہدہ نہیں بلکہ ایک ایسی ڈپلومیٹک کلاس کی نمائندگی کرتا ہے جو عالمی طاقتوں سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
    فیلڈ مارشل: عسکری قوت سے سفارتی بصیرت تک
    فیلڈ مارشل وہ اعلیٰ ترین عسکری عہدہ ہے جو صرف غیر معمولی قیادت، اسٹریٹجک ذہانت اور قومی خدمات کے اعتراف میں دیا جاتا ہے۔ عالمی سطح پر فیلڈ مارشل کو نہ صرف ایک سپاہی بلکہ اسٹریٹجک اسٹیٹس مین سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان میں یہ منصب ریاست کی سلامتی، خطے میں توازن اور عالمی سفارتی اثر و رسوخ کی علامت ہے۔
    فیلڈ مارشل کی شخصیت عسکری نظم و ضبط، فیصلہ سازی اور طویل المدتی وڑن کا حسین امتزاج ہوتی ہے، جو ڈپلومیسی کے میدان میں بھی پاکستان کے مؤقف کو وزن عطا کرتی ہے۔
    عالمی سطح پر فیلڈ مارشل کی پذیرائی
    بین الاقوامی برادری میں فیلڈ مارشل کو ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد قیادت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اقوامِ متحدہ، عالمی طاقتوں اور اسٹریٹجک فورمز پر پاکستان کا مؤقف اس وقت زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے جب اس کے پیچھے ایک مضبوط عسکری و سفارتی سوچ کارفرما ہو۔
    دنیا اس حقیقت کو تسلیم کر چکی ہے کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے، مگر اپنی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔ فیلڈ مارشل کی قیادت میں پاکستان نے یہ پیغام واضح انداز میں دنیا تک پہنچایا کہ طاقت کا استعمال آخری حل ہے، جبکہ ترجیح ہمیشہ سفارت کاری اور مذاکرات کو دی جاتی ہے۔
    بھارت کے خلاف سفارتی محاذ پر کامیابیاں
    بھارت طویل عرصے سے پاکستان کے خلاف جارحانہ سفارتی مہم چلاتا رہا ہے، خصوصاً کشمیر کے مسئلے پر۔ تاہم فیلڈ مارشل کی اسٹریٹجک رہنمائی میں پاکستان نے بھارتی بیانیے کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں چیلنج کیا۔
    کشمیر کو دوبارہ ایک بین الاقوامی تنازع کے طور پر اجاگر کیا گیا
    انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھارت کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنا پڑی
    عالمی میڈیا اور تھنک ٹینکس میں پاکستان کا مؤقف مضبوط ہوا
    یہ کامیابیاں صرف الفاظ کی نہیں بلکہ ایک مربوط عسکری و سفارتی حکمتِ عملی کا نتیجہ ہیں، جس نے بھارت کی یکطرفہ بالادستی کے خواب کو کمزور کیا۔
    ڈونلڈ ٹرمپ سے قربت: پاکستان کی سفارتی فتح
    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی۔ فیلڈ مارشل کی قیادت میں پاکستان نے خود کو ایک ذمہ دار اور اسٹریٹجک پارٹنر کے طور پر منوایا۔
    ٹرمپ کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش، افغانستان میں پاکستان کے کردار کا اعتراف اور سیکیورٹی تعاون میں اضافہ اس قربت کے نمایاں مظاہر ہیں۔ یہ تعلق محض شخصی نہیں بلکہ ریاستی مفادات پر مبنی تھا، جس سے پاکستان کو عالمی سطح پر سیاسی اور معاشی فائدہ پہنچا۔
    پاکستان کی ترقی میں فیلڈ مارشل کا کردار
    امن اور استحکام کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ فیلڈ مارشل کی قیادت میں:
    داخلی سلامتی بہتر ہوئی
    دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا
    پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) جیسے منصوبوں کو تحفظ ملا
    عالمی مالیاتی اداروں سے مذاکرات میں پاکستان کا موقف مضبوط ہوا
    یہ تمام عوامل براہِ راست پاکستان کی معاشی ترقی، روزگار کے مواقع اور بین الاقوامی ساکھ میں اضافے کا باعث بنے۔
    ڈپلومیسی اور ڈیٹرنس کا متوازن ماڈل
    فیلڈ مارشل کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ انہوں نے ڈیٹرنس (Deterrence) اور ڈپلومیسی کے درمیان توازن قائم رکھا۔ پاکستان نے واضح کر دیا کہ وہ نہ تو جارح ہے اور نہ ہی کمزور۔ یہی پیغام عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں اضافے کا سبب بنا۔
    فیلڈ مارشل محض ایک عسکری عہدہ نہیں بلکہ پاکستان کی ڈپلومیٹک کلاس، قومی خودداری اور اسٹریٹجک دانش کی علامت ہے۔ بھارت کے خلاف سفارتی کامیابیاں، امریکہ خصوصاً ڈونلڈ ٹرمپ سے متوازن تعلقات، اور پاکستان کی داخلی و خارجی ترقی اس بات کا ثبوت ہیں کہ مضبوط قیادت قوموں کی تقدیر بدل سکتی ہے۔
    آج پاکستان ایک ذمہ دار، پْرامن مگر باوقار ریاست کے طور پر ابھر رہا ہے، اور اس سفر میں فیلڈ مارشل کا کردار تاریخ کے سنہرے ابواب میں لکھا جائے گا۔