Blog

  • عمران خان طبی معائنہ؛ عظمیٰ خان کی موجودگی میں ڈاکٹروں نے صحتمند قرار دیا،جیل منتقل کردیا گیا عطا تارڑ

    عمران خان طبی معائنہ؛ عظمیٰ خان کی موجودگی میں ڈاکٹروں نے صحتمند قرار دیا،جیل منتقل کردیا گیا عطا تارڑ

    اسلام آباد(ویب ڈیسک ) وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ عمران خان کا طبی معائنہ ان کی بہن کی موجودگی میں کیا گیا، جس میں ڈاکٹروں نے انہیں صحتمند قرار دیا۔
    سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں قیدی کو 20 اور 21 اگست 2026 کی درمیانی شب مناسب حفاظتی انتظامات کے تحت اسپتال لے جایا گیا، جہاں ماہر امراض چشم، ماہر امراض قلب اور فزیشن سمیت مستند ڈاکٹروں کی ٹیم نے ان کا تفصیلی طبی معائنہ کیا۔
    وفاقی وزیر نے کہا کہ مستند ڈاکٹروں کی ٹیم نے طبی معائنے کے بعد عمران خان کو طبی طور پر صحت مند قرار دیا۔ ان کی ہمشیرہ محترمہ عظمیٰ خان طبی معائنے اور علاج کے تمام مراحل کے دوران موجود رہیں۔
    انہوں نے کہا کہ تمام طبی مراحل مکمل ہونے کے بعد عمران خان کو 21 اگست 2026 کی صبح تقریباً 5 بجے اڈیالہ جیل واپس منتقل کردیا گیا۔
    بعد ازاں ایک دوسرے ٹوئٹ میں وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کچھ مزید تفصیلات بتاتے ہوئے لکھا کہ ‏ طبی معائنہ پمز اسپتال میں کرایا گیا جس میں الشفا اسپتال کے ڈاکٹرز بھی موجود تھے۔
    پی ٹی آئی کے کارکنوں کی طرف سے جو سیکیورٹی کی صورتحال الشفا اسپتال کے راستے میں اور باہر پیدا کی گئی اس کے پیش نظر ان کو پمز اسپتال لے جایا گیا اور طبی معائنے کے مطابق وہ صحت مند پائے گئے
    انہوں نے کہا کہ عمران خان کو پہلے بھی طبی سہولیات فراہم کی جاتی رہی ہیں اور اب بھی جب ان کو ضرورت پڑے گی طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • عمران خان کی بہن کو اسپتال کے دوسرے کمرے میں بند کیا گیا، محمود اچکزئی

    عمران خان کی بہن کو اسپتال کے دوسرے کمرے میں بند کیا گیا، محمود اچکزئی

    اسلام آباد:(ویب ڈیسک ) بانی پی ٹی آئی کے طبی معائنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ عمران خان کی بہن کو اسپتال کے دوسرے کمرے میں بند کیا گیا۔
    قومی اسمبلی اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی صدارت میں شروع ہوا، جس میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سارے پاکستان میں خوشی منائی جا رہی تھی کہ بانی پی ٹی آئی کو سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت شفا انٹرنیشنل شفٹ کیا جا رہا ہے۔ جغرافیائینقشے اور معلومات حاصل کرناانہوں نے کہا کہ رات پتا چلا کہ اندھیرے میں بانی پی ٹی آئی کو کسی اور اسپتال لے جایا گیا ہے۔ ان کی بہن کو اسپتال کے ایک دوسرے کمرے میں بند کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پرسوں سرانان میں جو کچھ ہوا کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ محمود اچکزئی نے کہا کہ ہماری حکومت میں ایسے عناصر ہیں جو تحریک انصاف اور حکومت کے معاملات کو سبوتاژ کر رہے ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ میں الزام لگا رہا ہوں کہ سرانان میں جو. کچھ ہوا حکومت کے اندر موجود یہ کام کالی بھیڑوں کا ہے۔ ڈائیلاگ کی اچھی فضا بن جاتی ہے ،پتا نہیں کون سی قوتیں اس کو سبوتاژ کر دیتی ہیں۔ سرکاریخدمات اور معلومات تک رسائی

    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • ’’سازشی کسی اور چکر میں اسپتال آیا تھا،  صحت ٹھیک ہے‘‘

    ’’سازشی کسی اور چکر میں اسپتال آیا تھا، صحت ٹھیک ہے‘‘

    اسلام آباد:(ویب ڈیسک ) سینیٹر ناصر بٹ نے بانی پی ٹی آئی کے اسپتال میں طبی معائنے کے حوالے سے کہا ہے کہ سازشی کسی اور چکر میں اسپتال آیا تھا۔میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر ناصر بٹ نے کہا کہ سازشی اسپتال میں کسی اور چکر میں آیا تھا۔ وہ کہتا تھا ناں لیڈر بیمار نہیں ہوتے، ان کو دل کے اٹیک ہوتے ہیں۔ وہ گیا تو اسے کہہ دیا کہ واپس گھر جاؤ، ٹھیک ہو۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر من و عن عملدرآمد کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر زنے کہہ دیا ہے کہ وہ ٹھیک ہیں۔
    دریں اثنا وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے مکمل طبی معائنے اور تشخیصی مراحل کے دوران ہمشیرہ عظمیٰ خان ساتھ موجود رہیں۔ ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ نے معائنے کے بعد عمران خان کی طبی حالت کو مستحکم قرار دیا۔
    انہوں نے کہا کہ شفا انٹرنیشنل اسپتال کے باہر غیر معمولی رش اور سکیورٹی صورتحال کے باعث عمران خان کو پمز منتقل کیا گیا۔ پمز میں ماہرین کی نگرانی میں عمران خان کا تفصیلی طبی معائنہ، تشخیص اور علاج کیا گیا۔ تمام ضروری طبی مراحل مکمل ہو چکے ہیں اور عمران خان کی صحت کی صورتحال بالکل واضح ہے۔
    طارق فضل چوہدری نے کہا کہ صحت جیسے حساس معاملے کو سیاسی تنازع یا غیر ضروری سنسنی کا رنگ نہ دیا جائے۔ معاملے پر حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے تمام فریقین ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔

    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • عمران خان کو رہا کردیا گیا تو وہ فوجی قیادت سے محاذ آرائی نہیں کریں گے، زلفی بخاری

    عمران خان کو رہا کردیا گیا تو وہ فوجی قیادت سے محاذ آرائی نہیں کریں گے، زلفی بخاری

    لندن (ویب ڈیسک )بانی پی ٹی آئی عمران خان کے قریبی ساتھی نے زلفی بخاری نے کہا ہے کہ جیل میں بند سابق پاکستانی وزیر اعظم کو رہا کیا گیا تو وہ فوج یا فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مخالفت میں سامنے نہیں آئیں گے۔
    غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے زلفی بخاری نے کہا کہ ’فرض کریں کہ اگر عمران خان کو کل رہا کیا گیا تو وہ ایسا کچھ نہیں کریں گے جس سے ملک کو نقصان پہنچے، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ، عسکری قیادت کے ساتھ جھگڑا کریں‘۔انہوں نے کہا ’آپ اپنی تکلیف پر قابو رکھتے ہیں۔ آپ اپنے درد کو خود برداشت کرتے ہیں، آپ اسے اپنے ملک کی بہتری کے لیے پی جاتے ہیں‘۔
    زلفی بخاری نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو امید کی نئی کرن قرار دیا اور کہا کہ پی ٹی آئی عدالت کی اس ہدایت کی تعمیل کرے گی کہ اس کے کارکنان اور رہنما اسپتال کے باہر جمع نہ ہوں۔

    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • حکومت نے عمران خان کی اسپتال منتقلی کے کیس میں دوبارہ نظرثانی درخواست دائر کردی

    حکومت نے عمران خان کی اسپتال منتقلی کے کیس میں دوبارہ نظرثانی درخواست دائر کردی

    اسلام آباد(ویب ڈیسک )وفاقی حکومت نے بانی تحریک انصاف عمران خان کی اسپتال منتقلی کے فیصلے کیخلاف دوبارہ نظر ثانی دائر کردی۔ ذرائع نے کہا کہ چیف کمشنر اسلام آباد کی طرف سے متفرق نظر ثانی دائر کی گئی، نئی متفرق نظر ثانی رجسٹرار آفس کے اعتراضات کو دور کرکے دائر کیا گیا۔درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ ہسپتال منتقل کے عدالتی فیصلہ میں سقم ہے، عدالتی فیصلہ میں جیل رولز کو نظر انداز کیا گیا، مرکزی کیس میں ہمیں فریق نہیں بنایا گیا۔درخواست کے مطابق متفرق درخواست منظور کرکے نظر ثانی کی اجازت دی جائے، 18 اگست کے فیصلہ پر نظر ثانی کی جائے۔

    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

    facebook

  • ’’عمران خان کا طبی معائنہ شفا اسپتال نہیں، کہیں اور ہوا‘‘

    ’’عمران خان کا طبی معائنہ شفا اسپتال نہیں، کہیں اور ہوا‘‘

    اسلام آباد:(ویب ڈیسک) بانی پی ٹی آئی عمران خان کا گزشتہ شب طبی معائنہ شفا اسپتال نہیں کہیں اور ہوا ہے۔
    وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ عمران خان کا طبی معائنہ ان کی بہن کی موجودگی میں کیا گیا، جس میں ڈاکٹروں نے انہیں صحتمند قرار دیا۔سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں قیدی کو 20 اور 21 اگست 2026 کی درمیانی شب مناسب حفاظتی انتظامات کے تحت اسپتال لے جایا گیا، جہاں ماہر امراض چشم، ماہر امراض قلب اور فزیشن سمیت مستند ڈاکٹروں کی ٹیم نے ان کا تفصیلی طبی معائنہ کیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ مستند ڈاکٹروں کی ٹیم نے طبی معائنے کے بعد عمران خان کو طبی طور پر صحت مند قرار دیا۔ ان کی ہمشیرہ محترمہ عظمیٰ خان طبی معائنے اور علاج کے تمام مراحل کے دوران موجود رہیں۔انہوں نے کہا کہ تمام طبی مراحل مکمل ہونے کے بعد عمران خان کو 21 اگست 2026 کی صبح تقریباً 5 بجے اڈیالہ جیل واپس منتقل کردیا گیا۔بعد ازاں ایک دوسرے ٹوئٹ میں وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کچھ مزید تفصیلات بتاتے ہوئے لکھا کہ ‏ طبی معائنہ پمز اسپتال میں کرایا گیا جس میں الشفا اسپتال کے ڈاکٹرز بھی موجود تھے۔
    پی ٹی آئی کے کارکنوں کی طرف سے جو سیکیورٹی کی صورتحال الشفا اسپتال کے راستے میں اور باہر پیدا کی گئی اس کے پیش نظر ان کو پمز اسپتال لے جایا گیا اور طبی معائنے کے مطابق وہ صحت مند پائے گئے
    انہوں نے کہا کہ عمران خان کو پہلے بھی طبی سہولیات فراہم کی جاتی رہی ہیں اور اب بھی جب ان کو ضرورت پڑے گی طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • چیف آف ڈیفنس فورسز کے اختیارات سے متعلق پاکستان دفاعی افواج ایکٹ 2026 منظور:اہم نکات کیا ہیں؟

    چیف آف ڈیفنس فورسز کے اختیارات سے متعلق پاکستان دفاعی افواج ایکٹ 2026 منظور:اہم نکات کیا ہیں؟

    اسلام آباد(ویب ڈیسک)قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی پاکستان دفاعی افواج ایکٹ 2026منظور کرلیا، ایکٹ تیرہ نومبر 2025سے نافذالعمل ہوگا۔ ایکٹ کے تحت دفاعی افواج کا ایک ہیڈ کوارٹر قائم کیا جائے گا، دفاعی افواج کا ہیڈ کوارٹر مسلح افواج کا ہیڈ کوارٹر ہوگا، دفاعی افواج کا ہیڈ کوارٹر چیف آف ڈیفنس فورسز کی کمان اور اختیارات کے تحت زمہ داریاں سر انجام دے گا۔ڈیفنس ہیڈ کوارٹر قومی سلامتی دفاع اور مسلح افواج سے متعلق تمام امور میں وزیر اعظم کا اعلی فوجی مشیر ہوگا، چیف آف ڈیفنس فورسز مسلح افواج کی عملی کمانڈ اور کنٹرول کا اختیار حاصل ہوگا، مذکورہ کمانڈ اینڈ کنٹرول کے ضمن میں چیف آف ڈیفنس فورسز وفاقی حکومت کو جوابدہ ہوگا۔
    چیف آف ڈیفنس فورسز ایسے اختیارات استعمال کرے گا جو کثیر الجہتی انضمام عملی ہم آہنگی رابطہ کاری اور تمام امور کو مشترکہ اور نگرانی کے لئے ضروری ہوں، چیف آف ڈیفنس فورسز مسلح افواج سے متعلق قوانین کے مطابق کسی شخص کو آئین کے آرٹیکل 243کے تحت تقرر کردہ اشخاص کے علاؤہ ملازمت سے ریٹائر ،سبکدوش یا برطرف کرسکے گا۔
    چیف آف ڈیفنس فورسز متعلقہ قوانین کے مطابق استعفی کو منظور یا مسترد یا ملازمت کو برقرار رکھ سکے گا، چیف آف ڈیفنس فورسز کسی شخص کی ریٹائرمنٹ کی عمر یا ملازمت کی مدت کی حد میں کمی کرسکے گا۔
    چیف آف ڈیفنس فورسز ایسے دیگر اختیارات استعمال کرسکے گا اور ایسے فرائض منصبی سر انجام دے سکے گا جیسا وفاقی حکومت صراحت کرے گی، وفاقی حکومت ایکٹ کے احکامات کو موثر بنانے کے لئے قواعد و ضوابط وضع کرے گی۔
    چیف آف ڈیفنس فورسز ایکٹ کے احکامات وضع کردہ قواعدو ضوابط کو موثر بنانے کے لئے ہدایات احکامات صادر کرسکیں گے، ایکٹ کے احکامات کو موثر بنانے میں مشکلات درپیش ہوں یا فی الوقت نافذ العمل کسی دوسرے ایکٹ کے درمیان عدم مطابقت پر صدر مملکت ایسے مشکل کا ازالہ کریں گے۔
    قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ اجلاس میں نیشنل کمانڈ اتھارٹی ترمیمی بل 2026 کرنے کی تحریک پیش کی گئی۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے تحاریک پیش کیں۔ ایمل ولی خان نے کہا بل پر بحث کرنے کی اجازت دی جائے، چیئرمین سینیٹ نے کہا رولز معطل ہوئے ہیں، اجازت دی گئی تھی۔
    پی ٹی آئی ارکان نے حکومتی سینیٹرز سے سوال کیا کہ کیا آپ نے بل پڑھا ہے۔ ایمل ولی خان نے کہا میرے چچا جنہوں نے یہ بل پیش کیا، ان سے کہتا ہوں ہم تو مار کھارہے ہیں شروع سے، ان بلوں کی مار بعد میں بھی کھائیں گے۔ ایک شخص کیلئے قانون سازی نہیں ہونی چاہئے، جن کو نشان عبرت بنانا چاہئے ان کو نشان امتیاز دیا گیا۔
    ایمل ولی خان نے کہا اگر یہ اتنا بہترین قانون ہے تو چھپ کر کیوں ہورہا ہے، وزارت کے عہدے ہوں یا آئینی ہوں وہ ذمہ داری والے عہدے ہیں۔ آپ دونوں جماعتیں جمہوریت کے تابوت میں کیل ٹھونک رہے ہو، قوم کو تباہ نہ کریں۔ وہ جو صوبے بنانے کا چیمپئن تھے وہ کہاں گئے، نئے صوبے کے شوشے پر سینیٹ میں بحث ہونی چاہئے، قوموں کو غلام بناکر آپ نہیں رکھ سکتے۔
    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا رولز کہتے ہیں کہ سپلیمنٹری آسکتا ہے، نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں ایک ترمیم کی گئی ہے، چیف آف ڈیفنس فورسز کنکرنٹلی کا لفظ شامل کیا گیا ہے۔ بتایا جائے کون سا ریاضی کا یہ فارمولہ ہے جس پر بیٹھ کر بات کرنی ہے۔
    اعظم نذیر تارڑ نے کہا معرکہ حق میں افواج پاکستان اسی کوآرڈینیشن میں لڑیں اور پاکستان کو اللہ نے فتح دی ہے۔ یہ لکھا گیا ہے کہ تینوں مسلح افواج اسی تعاون کے ساتھ کام کریں گی، یہ قومی اسمبلی میں بھی ایک ایک حرف پڑھ کر لوگوں نے پاس کیا ہے۔ History
    وزیر دفاع خواجہ آصف نے ڈیفنس فورسز آف پاکستان ترمیمی بل 2026 ایوان میں پیش کردیا جسے نیشنل کمانڈ اتھارٹی ترمیمی بل 2026 سینیٹ سے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا، جبکہ ڈیفنس فورسز آف پاکستان ترمیمی بل 2026 بھی سینیٹ سے منظور کرلیا گیا۔
    اعظم نذیر تارڑ نے کہا 27ویں آئینی ترمیم میں چیف آف ڈیفنس فورسز کا دفتر بنایا گیا، اس حوالے سے سیکریٹریٹ کے قیام کے حوالے سے بل متعارف کرایا ہے۔
    سینیٹ اجلاس کل صبح ساڑھے 10 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
    قبل ازیں وفاقی کابینہ نے ڈیفینس فورسز ایکٹ 2026 اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2010 میں ترمیم کی منظوری دے دی۔
    وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا۔
    بیان کے مطابق وفاقی کابینہ نے دفاعی افواج ایکٹ 2026ء (Defence Forces Act 2026) کے مسودے کی منظوری دے دی۔
    یہ مسودہ 27ویں آئینی ترمیم کے زریعے کی گئی ترامیم کے تسلسل میں تیار کیا گیا ہے اور اس کا مقصد چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے اور چیف آف ڈیفنس فورسز ہیڈ کوارٹرز کے حوالے سے متعلقہ انتظامی امور کا تعین کرنا ہے۔
    کابینہ کی منظوری کے بعد دفاعی افواج ایکٹ 2026ء کا مسودہ پارلیمان کے جاری اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
    وفاقی کابینہ نے نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2010ء ( National Command Authority Act 2010) میں ترمیم کی بھی منظوری دے دی۔ جو 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد ایک ضروری عمل تھا۔
    پاکستان دفاعی افواج ایکٹ 2026 کے اہم نکات
    ایکٹ کے تحت دفاعی افواج کا ایک ہیڈ کوارٹر قائم کیا جائے گا، دفاعی افواج کا ہیڈ کوارٹر مسلح افواج کا ہیڈ کوارٹر ہوگا، دفاعی افواج کا ہیڈ کوارٹر چیف آف ڈیفنس فورسز کی کمان اور اختیارات کے تحت زمہ داریاں سر انجام دے گا۔
    ڈیفنس ہیڈ کوارٹر قومی سلامتی دفاع اور مسلح افواج سے متعلق تمام امور میں وزیر اعظم کا اعلی فوجی مشیر ہوگا، چیف آف ڈیفنس فورسز مسلح افواج کی عملی کمانڈ اور کنٹرول کا اختیار حاصل ہوگا، مذکورہ کمانڈ اینڈ کنٹرول کے ضمن میں چیف آف ڈیفنس فورسز وفاقی حکومت کو جوابدہ ہوگا۔
    چیف آف ڈیفنس فورسز ایسے اختیارات استعمال کرے گا جو کثیر الجہتی انضمام عملی ہم آہنگی رابطہ کاری اور تمام امور کو مشترکہ اور نگرانی کے لئے ضروری ہوں، چیف آف ڈیفنس فورسز مسلح افواج سے متعلق قوانین کے مطابق کسی شخص کو آئین کے آرٹیکل 243کے تحت تقرر کردہ اشخاص کے علاؤہ ملازمت سے ریٹائر ،سبکدوش یا برطرف کرسکے گا۔
    چیف آف ڈیفنس فورسز متعلقہ قوانین کے مطابق استعفی کو منظور یا مسترد یا ملازمت کو برقرار رکھ سکے گا، چیف آف ڈیفنس فورسز کسی شخص کی ریٹائرمنٹ کی عمر یا ملازمت کی مدت کی حد میں کمی کرسکے گا۔
    چیف آف ڈیفنس فورسز ایسے دیگر اختیارات استعمال کرسکے گا اور ایسے فرائض منصبی سر انجام دے سکے گا جیسا وفاقی حکومت صراحت کرے گی، وفاقی حکومت ایکٹ کے احکامات کو موثر بنانے کے لئے قواعد و ضوابط وضع کرے گی۔
    چیف آف ڈیفنس فورسز ایکٹ کے احکامات وضع کردہ قواعدو ضوابط کو موثر بنانے کے لئے ہدایات احکامات صادر کرسکیں گے، ایکٹ کے احکامات کو موثر بنانے میں مشکلات درپیش ہوں یا فی الوقت نافذ العمل کسی دوسرے ایکٹ کے درمیان عدم مطابقت پر صدر مملکت ایسے مشکل کا ازالہ کریں گے۔

    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • والد کی وفات کے بعد میسی کا پہلا گول، انٹر میامی کی مسلسل شکستوں کا سلسلہ رک گیا

    والد کی وفات کے بعد میسی کا پہلا گول، انٹر میامی کی مسلسل شکستوں کا سلسلہ رک گیا

    نیویارک (ویب ڈسک )ارجنٹائن کے عالمی شہرت یافتہ فٹبالر لیونل میسی نے والد خورخے میسی کے انتقال کے بعد پہلی مرتبہ گول اسکور کرلیا۔تفصیلات کے مطابق انٹر میامی اور فلاڈیلفیا یونین کے درمیان میجر ساکر لیگ (ایم ایل ایس) کا میچ 2-2 سے برابر ہوگیا۔سبارو پارک میں کھیلے گئے میچ کے 26ویں منٹ میں میسی نے مخالف کھلاڑیوں کو شاندار انداز میں چکمہ دیا اور گیند کو جال میں پہنچا کر انٹر میامی کو 1-2 کی برتری دلائی۔گول کے فوراً بعد ساتھی کھلاڑیوں نے انہیں گلے لگا کر خوشی منائی۔39 سالہ میسی نے اپنی ٹیم کے پہلے گول میں بھی معاونت فراہم کی تھی۔یاد رہے کہ ان کے والد خورخے میسی 8 اگست کو ارجنٹائن کے شہر روزاریو میں 68 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔والد کی موت کے بعد میسی نے گزشتہ ہفتے ایک جذباتی پیغام میں کہا تھا کہ انہیں سمجھ نہیں آرہا کہ ان کے بغیر زندگی کیسے آگے بڑھائیں۔فلاڈیلفیا کے خلاف ڈرا کے نتیجے میں انٹر میامی کی مسلسل تین شکستوں کا سلسلہ بھی ختم ہوگیا۔میسی کا یہ رواں سیزن کا 13واں گول تھا جس کے بعد وہ ایم ایل ایس گولڈن بوٹ کی دوڑ میں پیٹر موسا سے صرف ایک گول پیچھے ہیں۔

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کا عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ

    تہران(ویب ڈیسک ) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا جس میں خطے کی موجودہ صورتحال اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے سیاسی و سفارتی راستے تلاش کرنے سے متعلق امور پر گفتگو کی گئی۔ایرانی میڈیا کے مطابق گزشتہ روز ہونے والی اس گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے حالیہ سفارتی پیش رفت کا جائزہ لیا اور مختلف سفارتی اقدامات سے متعلق اپنے مؤقف اور آرا کا تبادلہ کیا۔ٹیلیفونک رابطے کے دوران علاقائی صورتحال کے مختلف پہلوؤں پر بھی بات ہوئی جبکہ موجودہ حالات کے ممکنہ اثرات اور ان سے نمٹنے کے لیے باہمی مشاورت کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق عباس عراقچی اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دوطرفہ رابطوں اور تعاون کو مزید مؤثر بنانے کے امکانات پر بھی گفتگو کی۔دونوں جانب سے سیاسی اور سفارتی ذرائع سے مسئلے کے حل کے لیے جاری کوششوں کو آگے بڑھانے اور باہمی مشاورت کے عمل کو مضبوط بنانے پر بھی اتفاق رائے کا اظہار کیا گیا۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • سپریم کورٹ نے عمران خان کی اسپتال منتقلی کیخلاف درخواست اعتراض لگاکر واپس کر دی

    سپریم کورٹ نے عمران خان کی اسپتال منتقلی کیخلاف درخواست اعتراض لگاکر واپس کر دی

    اسلام آباد(ویب ڈیسک )بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے معاملے پر چیف کمشنر اسلام آباد کی نظرثانی درخواست سپریم کورٹ نے اعتراض لگا کر واپس کر دی۔
    ذرائع نے کہا کہ نظرثانی درخواست کیساتھ پیپر بُکس مکمل نہ ہونے کا اعتراض عائد کیا گیا، رجسٹرار اعتراضات دور ہونے کے بعد نظرثانی درخواست دوبارہ دائر کی جائے گی۔
    ذرائع کے مطابق نظرثانی میں کچھ ترمیم کی جائے گی، نظرثانی میں ترمیم کرکے واپس دائر کی جائے گی۔
    گزشتہ روز وفاقی حکومت نے بانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے 18 اگست کے عبوری حکم پر نظرثانی کی درخواست دائر کی تھی۔ درخواست چیف کمشنر اسلام آباد کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کے زریعے سے دائر کی گئی۔
    چیف کمشنر کی جانب سے دائر درخواست میں عدالتی حکم واپس لینے اور نظرثانی کی اجازت دینے کی استدعا کی گئی ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کا 18 اگست کا عبوری حکم اختیارِ سماعت سے تجاوز کرتا ہے اور اس کے ذریعے قیدی کو ہسپتال منتقل کرنے کے مقررہ قانونی طریقہ کار کو نظرانداز کیا گیا۔
    چیف کمشنر نے سپریم کورٹ رولز 2025 کے تحت نظرثانی درخواست دائر کرنے کی اجازت بھی طلب کی ہے۔ درخواست کے مطابق 5 اگست 2023 کو بانی پی ٹی آئی کو ایڈیشنل سیشن جج نے تین سال قید کی سزا سنائی تھی جس کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔
    دوران مقدمہ بانی پی ٹی آئی نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 561-A کے تحت علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کی درخواست کی تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے 12 مارچ 2026 کو درخواست مسترد کردی جس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔ چیف کمشنر کی درخواست میں پاکستان پریزن رولز 1978 کے رول 197 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ قیدی کو جیل سے باہر ہسپتال منتقل کرنے کا باقاعدہ قانونی طریقہ کار موجود ہے۔
    دوسرے اسٹیشن کے ہسپتال منتقلی کے لیے انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات کی پیشگی منظوری ضروری ہے جبکہ منتقلی کی صورت میں حکومت کو فوری رپورٹ دینا بھی لازم ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ جیل سے باہر ہسپتال میں داخل قیدی کی سکیورٹی پولیس کے ذمے ہوتی ہے جبکہ قیدی کے علاج سے متعلق ہسپتال کے اخراجات محکمہ صحت برداشت کرتا ہے۔
    آپریشن کی صورت میں قیدی کو ممکنہ حد تک مقررہ وقت کے قریب ہسپتال منتقل اور آپریشن کے بعد جلد از جلد جیل ہسپتال واپس لایا جانا چاہیے ۔ نظرثانی میں مزید کہا گیا ہے کہ 18 اگست کا حکم ان کے آئینی اور قانونی اختیارات کو براہ راست متاثر کرتا ہے، حالانکہ انہیں مقدمے میں فریق نہیں بنایا گیا تھا۔
    درخواست میں کہا گیا ہے کہ کسی ایسے شخص پر عدالتی حکم کا منفی اثر پڑتا ہو تو وہ فریق نہ ہونے کے باوجود حکم کو چیلنج کرنے کے لیے اجازت طلب کرسکتا ہے جبکہ درخواست گزار کا معاملے میں براہ راست، اہم اور قانونی طور پر محفوظ مفاد موجود ہے۔
    درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ معاملہ پہلی مرتبہ سپریم کورٹ کے سامنے مقرر ہوا تھا اور متعلقہ فریقین کو باقاعدہ نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔ آئین کے آرٹیکل 10-A کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا کہ منصفانہ ٹرائل اور قانونی طریقہ کار کے تحت فریقین کو سماعت کا مناسب موقع دینا ضروری ہے۔
    چیف کمشنر نے عدالت کے سامنے یہ مؤقف بھی پیش کیا کہ بانی پی ٹی آئی کا باقاعدگی سے طبی معائنہ ہوتا رہا ہے اور متعدد مرتبہ میڈیکل بورڈ ان کا علاج کرچکا ہے۔ درخواست کے مطابق عدالت نے منسلک مقدمات میں جمع کرائی گئی ایک رپورٹ کی بنیاد پر بانی پی ٹی آئی کی صحت بگڑنے کا ابتدائی تاثر قائم کیا تاہم مذکورہ رپورٹ میں صحت مزید خراب ہونے کی کوئی واضح نشاندہی موجود نہیں تھی۔
    درخواست میں کہا گیا ہے کہ طبی اور تکنیکی معاملات میں عدالت کو ماہرین کی رائے حاصل کرنی چاہیے تھی۔ عدالت کے لیے مناسب طریقہ یہ تھا کہ کسی طبی ماہر سے رپورٹ پر رائے حاصل کی جاتی اور اس کے بعد یہ طے کیا جاتا کہ آیا بانی پی ٹی آئی کی صحت بگڑنے کے شواہد موجود ہیں یا نہیں۔
    درخواست گزار کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقلی کے علاوہ ذاتی معالجین ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف کو علاج میں شریک کرنے، اہل خانہ کو صحت سے آگاہ کرنے اور علاج کے دوران مناسب ملاقات کی اجازت دینے کی استدعا کی تھی۔
    طبی رپورٹس اور معائنے کی مصدقہ نقول وکیل کو فراہم کرنے کی درخواست بھی کی گئی تھی۔ چیف کمشنر کی درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے عبوری حکم کے ذریعے بانی پی ٹی آئی کی چاروں استدعائیں مکمل طور پر منظور کرلیں جس سے پورا معاملہ عبوری مرحلے پر ہی طے ہوگیا اور حتمی فیصلے کے لیے کچھ باقی نہیں رہا۔
    درخواست میں کہا گیا ہے کہ قابل سماعت ہونے کے اہم سوال کو مؤخر کرکے عبوری حکم جاری کیا گیا جبکہ مذکورہ قانونی شقیں اور قیدی کی منتقلی کا مقررہ طریقہ کار عدالت کی توجہ سے اوجھل رہا۔ چیف کمشنر نے اسے ریکارڈ پر موجود واضح غلطی قرار دیتے ہوئے 18 اگست 2026 کا عبوری حکم واپس لینے اور اس پر نظرثانی کرنے کی استدعا کی ہے۔
    درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ چیف کمشنر اسلام آباد کو نظرثانی درخواست دائر کرنے کی اجازت دی جائے، 18 اگست کا عبوری حکم واپس لیا جائے اور اسے سپریم کورٹ کے طے شدہ قانونی اصولوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے کالعدم کیا جائے۔
    اضافی دستاویزات متفرق درخواست کی صورت میں جمع کرائی گئیں، اضافی دستاویزات میں نوازشریف کی بیرون ملک روانگی کی تفصیلات شامل ہیں، اس کے علاوہ مریم نواز کی نوازشریف سے ملاقات کیلئے جاری عدالتی احکامات کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔
    مزید اضافی دستاویزات میں آصف زرداری کو جیل میں فراہم سہولیات کی تفصیلات کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے، سابق انٹرنیشنل کرکٹرز کی عمران خان سے متعلق تشویش پر مبنی خطوط میں درخواست کا حصہ ہے۔
    برطانوی پارلیمنٹ میں بانی پی ٹی آئی سے متعلق ہونے والی کارروائی بھی دستاویزات میں شامل ہیں، ٹرائل کورٹ کا بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالج تک رسائی کے احکامات بھی دستاویزات کا حصہ ہیں۔

    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے