Blog

  • جماعت اسلامی کا ملک گیر ہڑتال کا اعلان، مختلف شہروں میں مارکیٹیں بند

    جماعت اسلامی کا ملک گیر ہڑتال کا اعلان، مختلف شہروں میں مارکیٹیں بند

    کراچی: پیٹرولیم پر لیوی اور مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی کی جانب سے ملک گیر ہڑتال کے اعلان پر مختلف شہروں میں بیشتر دکانیں بند ہیں۔کراچی کے علاقے فیڈرل بی ایریا، واٹر پمپ، لیاقت آباد اور تین ہٹی پر اکثر دکانیں بند ہیں جب کہ لاہور مال روڈ پر جماعت اسلامی کے کارکن اور تاجر برادری میں تلخ کلامی اور ہاتھا پائی ہوئی۔دوسری جانب راولپنڈی شہر اور کینٹ کے علاقوں میں تجارتی مراکز کھلے ہیں، راجہ بازار، مری روڈ، کمرشل مارکیٹ، ٹینچ بھاٹہ میں کاروباری سرگرمیاں جاری ہیں۔ادھربدین، شکارپور، ٹنڈومحمدخان، مکلی،گھارو، میرپور ساکرو میں شٹر ڈاؤن ہڑتال ہے، مالاکنڈ کے مختلف علاقوں بٹ خیلہ، درگئی، سخاکوٹ اور تھانہ بائزئی میں چھوٹے بڑے تجارتی مراکزبند ہیں جب کہ چارسدہ کے تحصیل بازار میں بھی جزوی طور پر دکانیں بند ہیں۔اس حوالے سے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ ہڑتال کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے، حکومتی کمیٹی آج منصورہ میں جماعت اسلامی قیادت سے ملاقات کرے گی۔

  • پاکستان کرکٹ ٹیم کی جانب سے برطانوی بادشاہ چارلس کو خصوصی بیٹ کا تحفہ

    پاکستان کرکٹ ٹیم کی جانب سے برطانوی بادشاہ چارلس کو خصوصی بیٹ کا تحفہ

    لندن: پاکستان کرکٹ ٹیم کی جانب سے برطانوی بادشاہ چارلس کو خصوصی بیٹ کا تحفہ پیش کیا گیا۔پاکستان کرکٹ ٹیم کی برطانیہ کے بادشاہ چارلس سے ملاقات ہوئی، یہ ملاقات شاہی خاندان کی تاریخی رہائش گاہ کلیئرنس ہاؤس میں ہوئی۔تقریب میں بادشاہ چارلس نے پاکستانی کھلاڑیوں اور ٹیم آفیشلز سے گفتگو کی، تقریب میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی بھی موجود تھے۔اس موقع پر برطانوی شاہ چارلس کو پاکستان ٹیم کے کھلاڑیوں کے دستخط والا خصوصی بیٹ پیش کیا گیا۔ یہ بیٹ پاکستانی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان بابراعظم نے پیش کیا۔بادشاہ چارلس نے چیئرمین پی سی بی سے پوچھا کہ کیا یہ بیٹ پاکستانی لکڑی سے بنا ہے؟ محسن نقوی نے کہا کہ یہ پاکستانی ٹیم کی جانب سے تحفہ ہے۔

  • اداکاری کیلئ تعلیم چھوڑنے پر افسوس ہے:کرینہ کپور

    اداکاری کیلئ تعلیم چھوڑنے پر افسوس ہے:کرینہ کپور

    بالی وڈ کی سپر ہٹ اداکارہ کرینہ کپور نے اپنی تعلیم مکمل نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق بالی وڈ میں ہٹ فلمیں کرنے کے باوجود کرینہ کپور اپنی زندگی میں کیے گئے ایک فیصلے سے ناخوش ہیں۔ایک انٹرویو دیتے ہوئے اداکارہ نے کہا کہ میں نے اپنی تعلیم کبھی مکمل نہیں کی اور یہ بات کہیں نہ کہیں میرے ساتھ رہی، اگرچہ میرے پاس موقع موجود تھا لیکن میں فلموں کی دنیا میں آ گئی اور گیارہویں جماعت کے بعد مزید تعلیم حاصل نہیں کی۔ان کا کہنا تھا کہ میں جانتی ہوں بہت سے لوگ اس بات کا مذاق اڑا سکتے ہیں یا جو چاہیں کہہ سکتے ہیں لیکن میں بطور اداکارہ خود کو ثابت کرنا چاہتی تھی، یہ وہ کام تھا جو میں دل سے کرنا چاہتی تھی۔اداکارہ نے اعتراف کیا کہ اپنی تعلیم مکمل نہ کر پانے پر انہیں افسوس رہتا ہے۔اپنے دونوں بیٹوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کرینہ کپور کا کہنا تھا کہ میں چاہتی ہوں تیمور اور جے (جہانگیر) اپنے شوق کے مطابق کیرئیر کا انتخاب کریں لیکن پہلے وہ اپنی تعلیم مکمل کریں اور پھر اپنے دل کی بات سنیں۔

  • صدر نے نئے صوبوں کی بحث میں اپنے مؤقف پر قائم رہنے کا پیغام دیدیا

    صدر نے نئے صوبوں کی بحث میں اپنے مؤقف پر قائم رہنے کا پیغام دیدیا

    اسلام آباد: صدر مملکت نے نئے صوبوں کی بحث میں اپنے مؤقف پر قائم رہنے کا پیغام دیدیا۔لندن میں صدرآصف علی زرداری سے وزیر داخلہ محسن نقوی کی اہم ملاقات ہوئی جس میں قومی اور موجودہ سیاسی معاملات زیربحث آئے اور وزیر داخلہ نے صدر کو اہم پیغام بھی پہنچایا۔ذرائع کا کہنا ہےکہ صدر نے مختلف قومی معاملات اور بالخصوص نئے صوبوں کی بحث میں اپنے مؤ قف پر قائم رہنے کا پیغام دیا۔ذرائع کے مطابق صدر مملکت سے محسن نقوی کی ملاقات تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہی جس میں صدرآصف زرداری اور محسن نقوی نے ون آن ون بات چیت کی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں اہم قومی اور موجودہ سیاسی معاملات زیر بحث آئے۔

  • قومی کرکٹ ٹیم کی ناقص پرفارمنس کا مجھے بہت دکھ ہے،محسن نقوی

    قومی کرکٹ ٹیم کی ناقص پرفارمنس کا مجھے بہت دکھ ہے،محسن نقوی

    اسلام آباد (ویب ڈیسک )پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے قومی ٹیم کی ناقص کارکردگی پر افسوس کا اظہار کیا۔پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قومی ٹیم کی ناقص پرفارمنس کا مجھے بہت دکھ ہے۔
    محسن نقوی نے کہا انگلینڈ میں جو کچھ کیا، ضروری تھا، پرفارمنس کےعلاوہ دیگر معاملات ہیں، فی الحال اسے دیکھ رہے ہیں۔محسن نقوی کاکہنا تھا ابھی وقت نہیں کرکٹ کے علاوہ بات کروں، تنقید سے نہ گھبرایا ہوں ناگھبراتاہوں، ان کی تنقید سےکوئی فرق نہیں پڑتا جنہوں نےخود کچھ نہیں کیا۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • وزیر اعظم کا دورہ کرغزستان مکمل، کرغز صدر خود گاڑی چلا کر شہباز شریف کو ائیرپورٹ لائے

    وزیر اعظم کا دورہ کرغزستان مکمل، کرغز صدر خود گاڑی چلا کر شہباز شریف کو ائیرپورٹ لائے

    بشکیک(ویب ڈیسک ) وزیراعظم شہبازشریف دورہ کرغزستان مکمل کرکے پاکستان کیلئے روانہ ہوگئے۔کرغزستان کے صدر خود گاڑی چلا کر شہباز شریف کو ائیرپورٹ لائے اور انہیں الوداع کیا۔اعلامیے کے مطابق صدرکرغزستان کا ائیرپورٹ پر الوداع کرنے آنا مثالی مہمان نوازی اور مضبوط تعلقات کا اظہارہے، صدر ژاپاروف کا شہباز شریف کو ائیرپورٹ پرالوداع کرنابرادرانہ تعلقات میں نئی جہتوں کا اضافہ ہے۔دوسری جانب ائیرپورٹ پر گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور کرغزستان کے درمیان اچھے تعلقات ہیں، کرغزستان میں مثبت ملاقاتیں ہوئیں اور تجارت بڑھانے پر اتفاق ہوا۔وزیرِاعظم نے مزید کہا کہ کرغزستان کے ساتھ تجارت کو 16 ملین ڈالر سے بڑھانے کی تجویز پیش کی ہے، دوطرفہ تجارت کو 2 سال میں 200 ملین ڈالرتک لے جانے کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • اسمبلیاں چاہیں گی تو دو تہائی اکثریت سے صوبے بن جائیں گے: اعظم نذیر

    اسمبلیاں چاہیں گی تو دو تہائی اکثریت سے صوبے بن جائیں گے: اعظم نذیر

    لندن (ویب ڈیسک ) وفاقی وزیرقانون اعظم نذیرتارڑ نے کہا ہےکہ صوبائی اسمبلیاں اورپارلیمنٹ چاہیں گی تو دو تہائی اکثریت سےنئے صوبے بھی بن جائیں گے۔لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعظم نذیرتارڑ نے کہا کہ آزاد کشمیر میں سب سے بڑا مسئلہ انتخابات کرانا تھا، آزادکشمیر میں انتخابات پرامن اورشفاف ہوئے۔صوبوں سے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جب صوبائی اسمبلیاں اورپارلیمنٹ چاہیں گی دو تہائی اکثریت سےنئے صوبے بھی بن جائیں گے۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ وزیراعظم کئی مرتبہ اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دے چکے ہیں، آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کا انتخاب کرنے کا حق نواز شریف کو تھا۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • محققین کا حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کی ممکنہ دریافت کا دعویٰ

    محققین کا حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کی ممکنہ دریافت کا دعویٰ

    استنبول (ویب ڈیسک )سائنسدانوں کی جانب سے ترکیہ کے پہاڑی سلسلے میں ایک کشتی نما ساخت کے حوالے سے تحقیق کی جا رہی ہے اور ان کے خیال میں اس جگہ حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی موجود ہوسکتی ہے۔برطانوی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق ترکیہ کے کوہ ارارات کے قریب دوروپینار نامی مقام میں کشتی نما ساخت کے حوالے سے بین الاقوامی ماہرین کی جانب سے تحقیقی کام کیا جارہا ہے۔ان ماہرین نے وہاں کی مٹی کے اندر کاربن کی موجودگی کو دریافت کیا ہے جبکہ اسی پہاڑی سلسلے میں چند گز کی دوری کے مٹی کے نمونوں میں یہ عنصر دریافت نہیں ہوا۔محققین کے مطابق اس سے ایسے نامیاتی مواد کی موجودگی کا عندیہ ملتا ہے کہ جو کہ قدیم لکڑی کے باقیات کا نتیجہ ہوسکتا ہے مگر فی الحال کسی قسم کی لکڑی کو دریافت نہیں کیا جاسکا۔اس پہاڑی سلسلے کے نئے ریڈار اسکینز میں بھی زیرزمین ایسے اشارے ملے ہیں جو قدرتی پہاڑی اسٹرکچر سے مطابقت نہیں رکھتے۔اس مقام میں حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کی موجودگی کے بارے میں قیاس آرائی 1959 سے کی جا رہی ہے جب وہاں کی فضا سے لی جانے والی تصاویر سامنے آئی تھیں۔مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق مئی 1948 میں شدید بارشوں اور زلزلوں کے نتیجے میں اس خطے کے اردگرد موجود مٹی بہہ گئی تھی جس کے نتیجے میں یہ پراسرار ساخت سامنے آئی، جسے ایک چرواہے نے دریافت کیا۔محققین کی جانب سے اس پہاڑی سلسلے کے مختلف حصوں سے مٹی کے ایک ہزار نمونوں اکٹھے کیے گئے اور ان میں کاربن کی موجودگی کی جانچ پڑتال کی گئی۔ان کی جانب سے ریڈار کو سطح سے 20 فٹ نیچے دیکھنے کے لیے استعمال کیا گیا۔محققین کے مطابق مٹی کے نمونوں میں نارمیاتی مواد اور پوٹاشیم کو دریافت کیا گیا جو کہ کسی قدیم لکڑی کی کشتی کی بوسیدہ لکڑی کے باعث متوقع تھا۔البتہ انہوں نے تسلیم کیا کہ ابھی 100 فیصد یہ کہنا ممکن نہیں کہ یہ واقعی کسی قدیم ترین لکڑی کی کشتی کا نتیجہ ہے کیونکہ 5 فیصد امکان یہ ہے کہ اس کی وجہ کچھ اور ہو۔اسی ٹیم نے اگست 2026 میں اس خطے کے ریڈار سروے کے بارے میں اعلان کیا تھا۔اس ٹیم کی جانب سے ڈیٹا کا ابھی بھی تجزیہ کیا جا رہا ہے اور مخصوص لوکیشنز پر ڈرلنگ کی جا رہی ہے کہ تاکہ معلوم ہوسکے کہ مخصوص ساخت کے نیچے کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا تو یہی ماننا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی اسی جگہ موجود ہے مگر پھر بھی ابھی تمام نتائج ابتدائی ہیں اور ان سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہاں واقعی یہ کشتی موجود ہے۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • قرض کی منڈی سے اعتماد کی منڈی تک  پاکستان کی معیشت کا اگلا امتحان تحریر؛شیخ راشد عالم

    قرض کی منڈی سے اعتماد کی منڈی تک پاکستان کی معیشت کا اگلا امتحان تحریر؛شیخ راشد عالم

    پاکستان کی معیشت کی تاریخ میں قرض کوئی نیا لفظ نہیں۔ یہ ہماری مالیاتی داستان کا ایسا کردار ہے جو کئی دہائیوں سے مختلف ناموں، مختلف اداروں اور مختلف شرائط کے ساتھ ہمارے ساتھ چلتا آیا ہے۔ کبھی بیرونی امداد کے نام پر، کبھی ترقیاتی قرض کے عنوان سے، کبھی بجٹ سپورٹ اور کبھی کسی ہنگامی ضرورت کے تحت۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ پاکستان قرض لیتا ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ قرض لینے کے بعد ملک اس مقام تک پہنچتا ہے یا نہیں جہاں اسے اگلی بار قرض کی ضرورت کم پڑ جائے۔
    اب ایک بار پھر پاکستان عالمی مالیاتی منڈی کا دروازہ کھٹکھٹانے کی تیاری کررہا ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عالمی کیپٹل مارکیٹس میں واپسی کے منصوبے کا عندیہ دیا ہے۔ حکومت رواں مالی سال ایک سے دو ارب ڈالر کے یورو بانڈز جاری کرنے پر غور کررہی ہے، جبکہ سکوک اور یورو بانڈز کے اجرا کے لیے بینکوں کے کنسورشیم بھی مقرر کیے جاچکے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ 75 کروڑ ڈالر کے چینی یوان بانڈز، یعنی پانڈا بانڈز، کے اجرا کی تیاری بھی جاری ہے۔
    بظاہر یہ محض قرض لینے کی ایک اور کوشش ہے، مگر اس فیصلے کو ذرا گہرائی سے دیکھا جائے تو اس میں پاکستان کی مالیاتی حکمت عملی میں ایک اہم تبدیلی کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ حکومت کا موقف ہے کہ پاکستان کو دوطرفہ قرضوں پر انحصار کم کرکے عالمی کیپٹل مارکیٹس، تجارت اور سرمایہ کاری کی طرف بڑھنا چاہیے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر آنے والے برسوں میں پاکستان کی معاشی سمت کا بڑا حصہ منحصر ہوسکتا ہے۔
    عالمی مارکیٹ سے قرض لینا بذاتِ خود کامیابی نہیں۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب پاکستان عالمی سرمایہ کاروں کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہوجائے کہ وہ صرف قرض لینے والا ملک نہیں بلکہ ایک ایسی معیشت ہے جہاں سرمایہ محفوظ بھی ہے، منافع بخش بھی ہے اور طویل مدت کے لیے قابلِ اعتماد بھی۔
    یہاں کریڈٹ ریٹنگ کی اہمیت سامنے آتی ہے۔ پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری اس بات کا اشارہ ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے ملک کی معاشی صورتحال کو ماضی کے مقابلے میں نسبتا بہتر نظر سے دیکھنے لگے ہیں۔ حکومت اب مزید بہتری، بالخصوص بی پلس اور اس کے بعد ڈبل بی کی سطح تک پہنچنے کا ہدف رکھتی ہے۔ لیکن ریٹنگ میں بہتری صرف اعلانات سے نہیں آتی۔ اس کے لیے مالیاتی نظم و ضبط، پالیسیوں کا تسلسل، زرمبادلہ کے ذخائر، برآمدات میں اضافہ، مہنگائی پر قابو، ٹیکس نظام کی اصلاح اور سب سے بڑھ کر سیاسی و معاشی پالیسیوں میں تسلسل ضروری ہوتا ہے۔
    پاکستان کے لیے اصل امتحان بھی یہی ہے۔
    ایک طرف حکومت عالمی مارکیٹ سے قرض لینے کی تیاری کررہی ہے، دوسری طرف ملک کا تجارتی خسارہ بڑھ کر 39.5 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ یہ اعداد ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ قرض لے کر وقتی مالیاتی ضرورت پوری کرنا آسان ہوسکتا ہے، لیکن درآمدات اور برآمدات کے درمیان بنیادی عدم توازن ختم کرنا کہیں زیادہ مشکل کام ہے۔
    اگر ایک ملک مسلسل اپنی ضرورت سے زیادہ درآمد کرتا رہے اور برآمدات اس رفتار سے نہ بڑھیں تو بیرونی قرض خواہ بدلنے سے مسئلہ ختم نہیں ہوتا۔ قرض خواہ چین ہو، عالمی بانڈ مارکیٹ ہو، کوئی مالیاتی ادارہ ہو یا نجی سرمایہ کار، رقم بہرحال واپس کرنا پڑتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ قرض کی شرائط، شرحِ سود، مدت اور ادائیگی کا طریقہ مختلف ہوسکتا ہے۔
    اسی لیے پاکستان کے لیے عالمی کیپٹل مارکیٹ میں واپسی کو محض ایک مالیاتی لین دین کے بجائے ایک بڑے معاشی منصوبے کا حصہ بنانا ضروری ہے۔
    امریکا کے ساتھ ممکنہ 10 ارب ڈالر کی سوئپ لائن کے حوالے سے بھی وزیر خزانہ نے پیش رفت کا ذکر کیا ہے اور اسے نجی سرمایہ کاروں کے لیے اعتماد کا اشارہ قرار دیا ہے۔ پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے پر توجہ بھی اسی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔ امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک اور ڈی ایف سی جیسے ادارے پاکستان میں سرمایہ کاری اور منصوبوں کی فنانسنگ میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔
    یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ہوگا: امداد اور سرمایہ کاری میں فرق۔
    امداد کسی مشکل وقت میں سہارا دے سکتی ہے، لیکن سرمایہ کاری معیشت کو پیداوار، روزگار اور برآمدات کی طرف لے جاسکتی ہے۔ پاکستان اگر واقعی امداد سے تجارت اور سرمایہ کاری کی طرف منتقل ہونا چاہتا ہے تو اسے صرف قرض لینے کی صلاحیت نہیں بلکہ سرمایہ کھینچنے کی صلاحیت بھی پیدا کرنا ہوگی۔
    دنیا کا سرمایہ وہاں جاتا ہے جہاں اسے تین چیزیں نظر آئیں: واضح پالیسی، مناسب منافع اور کم خطرہ۔
    پاکستان کے پاس مواقع کی کمی نہیں۔ زراعت، معدنیات، آئی ٹی، فری لانسنگ، ٹیکسٹائل، انجینئرنگ، توانائی، لاجسٹکس اور صنعتی پیداوار ایسے شعبے ہیں جہاں ملک عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش بن سکتا ہے۔ لیکن مواقع کو سرمایہ کاری میں تبدیل کرنے کے لیے صرف کانفرنسیں، معاہدے اور اعلانات کافی نہیں۔ کاروباری ماحول کو آسان بنانا، بجلی اور گیس کی قیمتوں کو مسابقتی رکھنا، ٹیکس نظام کو قابلِ فہم بنانا اور سرمایہ کار کو پالیسی کے اچانک بدل جانے کے خوف سے آزاد کرنا ہوگا۔
    چین پاکستان کا ایک بڑا قرض خواہ رہا ہے اور پاکستان کے مجموعی غیر ملکی قرض میں چین کا نمایاں حصہ ہے۔ لیکن اب حکومت کا یہ کہنا کہ فی الحال چین سے مزید فنانسنگ حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی جارہی، اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ پاکستان اپنے بیرونی مالیاتی ذرائع میں تنوع پیدا کرنا چاہتا ہے۔
    یہ تنوع بظاہر ایک مثبت حکمت عملی ہے۔ کسی بھی معیشت کے لیے بہتر یہی ہوتا ہے کہ اس کے مالیاتی ذرائع محدود نہ ہوں۔ لیکن اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ عالمی بانڈ مارکیٹ سے حاصل ہونے والا قرض عموما مارکیٹ کی شرائط پر ہوتا ہے۔ اگر عالمی سرمایہ کاروں کو خطرہ زیادہ محسوس ہو تو قرض مہنگا ہوجاتا ہے۔ اگر اعتماد بڑھے تو شرحِ سود کم ہوسکتی ہے۔
    یوں عالمی مارکیٹ میں پاکستان کی اصل کرنسی ڈالر یا یورو نہیں، بلکہ اعتماد ہے۔
    اگر عالمی سرمایہ کار پاکستان کو ایک مستحکم اور ذمہ دار معیشت سمجھیں گے تو پاکستانی بانڈز کی قیمت بہتر ہوگی، شرحِ سود کم ہوسکتی ہے اور آئندہ فنانسنگ نسبتا آسان ہوجائے گی۔ لیکن اگر انہیں خدشہ ہو کہ ملک دوبارہ مالیاتی بحران، زرمبادلہ کی کمی یا پالیسی کے عدم تسلسل کا شکار ہوسکتا ہے تو پاکستان کو زیادہ قیمت ادا کرنا پڑے گی۔
    اسی لیے موجودہ مرحلے کو ایک موقع بھی سمجھنا چاہیے اور وارننگ بھی۔
    موقع اس لیے کہ پاکستان دوبارہ عالمی مالیاتی نظام میں زیادہ فعال کردار حاصل کرسکتا ہے۔ وارننگ اس لیے کہ قرض کے ذریعے حاصل ہونے والی رقم اگر صرف پرانے قرض اتارنے، بجٹ خسارہ پورا کرنے یا درآمدی دبا وبرقرار رکھنے میں خرچ ہوگئی تو چند سال بعد یہی بحث ایک نئے قرض کے ساتھ دوبارہ شروع ہوسکتی ہے۔
    پاکستان کو اب قرض لینے کی معیشت سے پیداوار کرنے کی معیشت کی طرف بڑھنا ہوگا۔
    اس کا مطلب یہ نہیں کہ بیرونی قرض ہمیشہ برا ہے۔ دنیا کی بڑی معیشتیں بھی قرض لیتی ہیں۔ فرق یہ ہے کہ وہ قرض کو ایسی سرمایہ کاری میں استعمال کرتی ہیں جو مستقبل میں آمدنی پیدا کرتی ہے۔ اگر ایک ملک سڑک، بندرگاہ، توانائی، صنعت، ٹیکنالوجی یا برآمدی صلاحیت بڑھانے کے لیے قرض لے اور اس سرمایہ کاری سے مستقبل میں ڈالر کمائے تو قرض معیشت کے لیے بوجھ کے بجائے ذریعہ بن سکتا ہے۔
    لیکن اگر قرض صرف آج کی ضرورت پوری کرنے کے لیے لیا جائے اور کل کی آمدنی بڑھانے کا کوئی منصوبہ نہ ہو تو قرض ایک ایسا دائرہ بن جاتا ہے جس سے نکلنا مشکل ہوتا جاتا ہے۔
    پاکستان کے لیے یورو بانڈز، سکوک اور پانڈا بانڈز کا اجرا اسی بڑے سوال کے گرد گھومتا ہے: ہم قرض کہاں خرچ کریں گے؟
    یہ سوال ہر قرض کے ساتھ پوچھا جانا چاہیے۔
    اگر اس رقم سے برآمدی صنعت کو وسعت ملتی ہے، توانائی کے مسائل حل ہوتے ہیں، آئی ٹی اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں نئی صلاحیت پیدا ہوتی ہے، بندرگاہیں اور لاجسٹکس بہتر ہوتے ہیں اور مقامی پیداوار بڑھتی ہے تو اس قرض کا معاشی جواز مضبوط ہوگا۔
    لیکن اگر یہ رقم صرف مالیاتی خلا پر کرنے میں استعمال ہوتی رہی تو عالمی مارکیٹ میں واپسی بھی پاکستان کے بنیادی مسئلے کا مستقل حل نہیں بن سکے گی۔
    آنے والے وقت میں پاکستان کی کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ملک نے کتنے ارب ڈالر قرض حاصل کرلیا۔ اصل پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ پاکستان نے کتنے ارب ڈالر کمانے کی صلاحیت پیدا کی۔
    یہی وہ مقام ہے جہاں برآمدات، ٹیکس اصلاحات، توانائی، صنعتی پالیسی اور سرمایہ کاری ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔ حکومت اگر ایک طرف عالمی مارکیٹ سے سرمایہ حاصل کرے اور دوسری طرف ملک کے اندر کاروبار، صنعت اور برآمدات کے لیے ماحول بہتر بنائے تو دونوں پہیے ایک ساتھ چل سکتے ہیں۔
    ورنہ ایک ہاتھ سے قرض لینا اور دوسرے ہاتھ سے درآمدی بل بڑھاتے رہنا ایک ایسی دوڑ ہوگی جس کی منزل کہیں دکھائی نہیں دے گی۔
    پاکستان کے پاس آج ایک نادر موقع ہے۔ عالمی سرمایہ کار پاکستان کو دوبارہ دیکھ رہے ہیں، کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کے آثار ہیں، حکومت عالمی کیپٹل مارکیٹ میں واپسی چاہتی ہے اور امریکا، چین سمیت مختلف عالمی شراکت داروں کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو نئے انداز میں آگے بڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
    لیکن یہ موقع صرف اسی وقت کامیابی میں تبدیل ہوگا جب پاکستان مالیاتی استحکام کو حقیقی معاشی ترقی سے جوڑ دے۔
    ہمیں ایسی معیشت نہیں چاہیے جسے ہر چند سال بعد نیا قرض درکار ہو۔ ہمیں ایسی معیشت چاہیے جو قرض کو آخری سہارا اور سرمایہ کاری کو پہلا انتخاب بنائے؛ جو درآمدات کے لیے ڈالر مانگنے کے بجائے برآمدات کے ذریعے ڈالر کمائے؛ جو بیرونی امداد کا انتظار کرنے کے بجائے عالمی سرمایہ کاروں کو اپنے دروازے تک لائے۔
    پاکستان کی اگلی معاشی کہانی شاید کسی ایک بانڈ، کسی ایک سوئپ لائن یا کسی ایک قرض سے نہیں لکھی جائے گی۔ یہ کہانی اس بات سے لکھی جائے گی کہ ہم نے قرض کو کتنا دانش مندی سے استعمال کیا، سرمایہ کار کو کتنا اعتماد دیا اور اپنی معیشت کو کتنا خود کفیل بنایا۔
    عالمی مارکیٹ میں واپسی ایک اچھی خبر ہوسکتی ہے، مگر اصل منزل عالمی مارکیٹ سے قرض لینا نہیں، عالمی مارکیٹ میں اپنی مصنوعات، خدمات اور سرمایہ کاری کے مواقع فروخت کرنا ہے۔
    پاکستان کو اب قرض کی منڈی میں صرف ایک قرض خواہ کے طور پر نہیں، بلکہ ایک قابلِ اعتماد، پیداواری اور سرمایہ کاری کے قابل ملک کے طور پر اپنی شناخت بنانا ہوگی۔ یہی وہ تبدیلی ہے جو آج کے قرض کو کل کی طاقت میں بدل سکتی ہے۔

  • سانحہ پمز کے بعد چند گھنٹوں میں مصطفیٰ کمال نے استعفیٰ دیا، وزیراعظم نے منظور نہیں کیا

    سانحہ پمز کے بعد چند گھنٹوں میں مصطفیٰ کمال نے استعفیٰ دیا، وزیراعظم نے منظور نہیں کیا

    اسلام آباد:(ویب ڈیسک ) انتہائی باخبر ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں ہونے والی جان لیوا آتشزدگی کے چند ہی گھنٹوں میں وزیراعظم شہباز شریف کو تحریری طور پر اپنا استعفیٰ پیش کر دیا تھا، تاہم وزیراعظم نے استعفیٰ قبول کرنے کے بجائے انہیں انکوائری مکمل ہونے تک عہدے پر برقرار رہنے کی ہدایت کی۔
    ذرائع نے بتایا کہ وفاقی وزیر نے 26 اگست کو پیش آنے والے سانحے (جس میں پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں 14 نومولود جاں بحق ہوگئے تھے) کے فوراً بعد وزیراعظم آفس کو اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیا تھا۔
    ذرائع کے مطابق، استعفیٰ تحریری طور پر پیش کیا گیا اور واقعے کے چند گھنٹوں کے اندر وزیراعظم کو اس سے آگاہ کر دیا گیا۔ تاہم، وزیراعظم شہباز شریف نے اسے قبول نہیں کیا اور اس کے بجائے وزیر صحت کو ہدایت کی کہ وہ سانحے کی وجوہات معلوم ہونے اور ذمہ داری کا تعین کرنے کیلئے قائم کی گئی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کا انتظار کریں۔
    ذرائع نے بتایا کہ وزیر صحت کو یہ بھی کہا گیا کہ انکوائری جاری رہنے کے دوران استعفے کو منظر عام پر نہ لایا جائے۔ یہ اطلاع اس لیے اہم ہے کہ حکومت نے سانحے کے فوراً بعد وفاقی سیکریٹری صحت محمد اسلم غوری کیخلاف کارروائی کی، جبکہ مصطفیٰ کمال بدستور اپنے عہدے پر فائز رہے اور بعد ازاں پارلیمنٹ اور میڈیا کے سامنے حکومت کے احتساب کے عزم کا دفاع بھی کیا۔
    رابطہ کرنے پر مصطفیٰ کمال نے اس سوال پر تبصرے کی درخواست کے پیغامات کا جواب نہیں دیا کہ آیا انہوں نے استعفیٰ پیش کیا تھا اور آیا وزیراعظم نے اسے قبول کرنے سے انکار کیا۔
    وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیراعظم سے وابستہ اعلیٰ حکام سے بھی ان کا مؤقف جاننے کیلئے رابطہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ایسے کسی استعفے کے بارے میں معلومات نہیں ہیں۔
    وزیر صحت اس کے بعد سے پمز سانحے کی انکوائری کی عوامی طور پر حمایت کرتے رہے ہیں اور بارہا کہتے رہے ہیں کہ ذمہ دار افراد کو نہیں بخشا جائے گا۔ سینیٹ سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ اس واقعے کو ایسا ’’چند روز کیلئے جاری رہنے والی قسط‘‘ بننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور انہوں نے احتساب کے ساتھ صحت کے شعبے میں وسیع تر اصلاحات کا مطالبہ کیا۔
    یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیراعظم پہلے ہی عبوری انکوائری رپورٹ پیش کیے جانے کے بعد پمز کے اعلیٰ حکام کیخلاف کارروائی کا حکم دے چکے ہیں۔ پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور چلڈرن اسپتال اور مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر کے اعلیٰ حکام سمیت 8؍ افسران کو معطل کرنے کا حکم دیا گیا جبکہ ان کیخلاف فوجداری کارروائی کی بھی ہدایت کی گئی۔
    عبوری رپورٹ میں اسپتال کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاریوں میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی، جن میں نوزائیدہ بچوں کی نرسری کیلئے آگ لگنے اور انخلاء سے متعلق تفصیلی اور مناسب طور پر مشق شدہ طریقۂ کار کا نہ ہونا بھی شامل ہے۔
    رپورٹ میں آگ لگنے کے درست مقام اور وجہ کا تعین کرنے کیلئے مزید تکنیکی اور فرانزک تحقیقات کی بھی سفارش کی گئی۔ وزیر صحت کے مبینہ استعفے نے اس طرح سانحے سے نمٹنے کے حکومتی طریقۂ کار میں ایک اور پہلو کا اضافہ کر دیا ہے۔
    وفاقی وزیر سانحے میں ہلاکتوں کے فوراً بعد عہدہ چھوڑنے کیلئے تیار تھے، تاہم وزیراعظم نے ذمہ داری کا تعین جاری انکوائری کے ذریعے ہونے تک انہیں عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم، سیکریٹری صحت کو مبینہ طور پر معلومات کے بغیر اور قبل از وقت ہٹا دیا گیا۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے