Blog

  • اسٹاک مارکیٹ میں ایک لاکھ 35 ہزار نئے سرمایہ کار شامل ہوئے،وفاقی وزیر خزانہ

    اسٹاک مارکیٹ میں ایک لاکھ 35 ہزار نئے سرمایہ کار شامل ہوئے،وفاقی وزیر خزانہ

    اسلام آباد:(خصوسی رپورٹ)وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ سود کی ادائیگی سب سے بڑا خرچہ ہے، سرکاری اداروں میں ایک ہزار ارب روپے سالانہ ضائع ہورہے تھے۔پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ گزشتہ مالی سال ترسیلات زر 38 ارب ڈالر تھیں جب کہ رواں مالی سال کے دوران ترسیلات زر 41 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گی۔انہوں نے بتایا کہ ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور ایف بی آر کی ٹرانسفارمیشن پر عمل جاری ہے ۔ ٹیکس قوانین پر عملدرآمد کے لیے کمپلائنس اور انفورسمنٹ کے ذریعے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی جا رہی ہیں۔
    وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کی نجکاری میں مقامی سرمایہ کاروں نے بھی شرکت کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 24 ادارے نجکاری کمیشن کے حوالے کیے جا چکے ہیں ۔ سرکاری اداروں میں ہر سال تقریباً ایک ہزار ارب روپے ضائع ہو رہے تھے، اسی تناظر میں یوٹیلٹی اسٹورز، پی ڈبلیو ڈی اور پاسکو کو بند کیا گیا کیونکہ ان اداروں کو دی جانے والی سبسڈی میں کرپشن ہو رہی تھی۔
    محمد اورنگزیب نے کہا کہ جتنی ڈیوٹیز بڑھائی جاتی ہیں وہ معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں، اس لیے ڈیوٹیز کو معقول بنانا اور کاروباری لاگت کم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قرضوں پر سود کی ادائیگی حکومت کا سب سے بڑا خرچہ ہے، تاہم گزشتہ سال قرضوں پر سود کی مد میں 850 ارب روپے کی بچت کی گئی جب کہ رواں مالی سال بھی اس مد میں اخراجات میں بچت کی جائے گی۔
    وفاقی وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ حکومت آئندہ 2 ہفتوں میں پانڈا بانڈز لانچ کرے گی۔ ایک سروے کے مطابق 73 فیصد سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کے حق میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تجارتی خسارہ بڑھا ہے تاہم کرنٹ اکاؤنٹ ہدف کے اندر ہے۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بڑی صنعتوں کی کارکردگی مثبت رہی ہے۔ نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی بڑھ کر 1.1 ٹریلین روپے تک پہنچ چکی ہے۔ محمد اورنگزیب کے مطابق پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں ایک لاکھ 35 ہزار نئے سرمایہ کار شامل ہوئے ہیں ۔ گزشتہ 18 ماہ کے دوران اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری میں 41 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
    وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کے پاس دنیا کی تیسری سب سے بڑی فری لانسر فورس موجود ہے ۔ نوجوانوں کو سسٹم اور پلیٹ فارم فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2047 تک 3 ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کے لیے آبادی پر قابو پانا ہوگا کیونکہ آبادی میں سالانہ 2.55 فیصد اضافے کے ساتھ ترقی ممکن نہیں ہے۔
    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ قرضوں کی ادائیگی خود کم نہیں ہوئی بلکہ اس کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں ۔ اس سال قرضوں کی بہتر منصوبہ بندی سے قابلِ ذکر بچت کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بچت کو ملک کے اہم اور ترقیاتی کاموں میں استعمال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
    انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بیرونِ ملک مارکیٹ میں سرمایہ کاری جاری ہے ۔ آئندہ ہفتوں میں پانڈا بانڈ کے بارے میں خبریں آئیں گی۔ اب چین کی مارکیٹ میں بھی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے ۔ کرنسی کی تبدیلی سے 2.5 فیصد فائدہ ہوگا۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ اصلاحات پر بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں نے اعتماد ظاہر کیا ہے ۔ آئی ایف سی نے 3.5 ارب ڈالر کی بڑی سرمایہ کاری مکمل کی ہے۔
    وزیر خزانہ نے ریکوڈک منصوبے کے فوائد بتاتے ہوئے کہا کہ برآمدات 2028 میں شروع ہوں گی اور پہلے سال 2.8 ارب ڈالر کی برآمدات متوقع ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیلی نار کی ٹرانزیکشن میں آئی ایف سی نے 400 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ۔ پاکستان میں سرمایہ کاری کا اعتماد بڑھ رہا ہے، سروے کے مطابق 73 فیصد سرمایہ کار پُرامید ہیں۔
    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مشیر نجکاری محمد علی نے کہا کہ ماضی کی غلط معاشی حکمت عملی نے نجی سرمایہ کاری کو حوصلہ شکنی کی اور قرضوں میں اضافہ کیا۔ نجکاری کوئی نظریاتی منصوبہ نہیں بلکہ مارکیٹ کی خرابیوں کو درست کرنے کا طریقہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مضبوط معیشت وہ ہے جہاں ادارے فعال ہوں ۔ جدید معاشی ری سیٹ کے لیے مائنڈ سیٹ کی تبدیلی ضروری ہے۔
    مصدق ملک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خوشحالی کا واحد راستہ پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور ہر شہری کو یکساں مواقع فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں خوشحالی کا راستہ صرف طاقت اور اثر و رسوخ تک رسائی بن چکا ہے اور مخصوص طبقے کو سستی بجلی، گیس اور ٹیکس چھوٹ دی جاتی ہے۔ حکومت بڑے سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچانے کے بجائے چھوٹے کارخانوں اور نوجوانوں کو وسائل فراہم کرے۔
    مصدق ملک کا کہنا تھا کہ خوشحالی کا سرچشمہ تعلیم، ہنر اور پیداواری صلاحیت ہے ۔ معاشی نظام میں ٹیلنٹ اور قابلیت کے اصول پر لوگوں کو آگے بڑھنے کے مواقع ملنے چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ اگر معاشی پالیسیاں درست ہوتیں تو آج پاکستان بنگلا دیش سے آگے ہوتا۔ معیشت میں ‘بوم اینڈ بسٹ’ سائیکل کی وجہ صرف امپورٹ اور کھپت پر انحصار ہے ۔ اشرافیہ کو نوازنے والی پالیسی نے ملک کی پیداواری صلاحیت کو کمزور کر دیا ہے۔
    وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہونے کے ساتھ دنیا میں جے ایف-17 طیارے بھی فروخت کر رہا ہے۔ ٹریکٹر سازی، آٹوموبائل اور انجینئرنگ سیکٹر میں بھی نمایاں ترقی ہوئی ہے، لیکن عالمی مقابلے میں ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔
    انہوں نے بتایا کہ 1980 میں چین کی فی کس آمدنی ہم سے کم تھی، آج وہ ہم سے آگے نکل چکا ہے جب کہ ویتنام کی ایکسپورٹ 408 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ پاکستان کی ایکسپورٹ اب بھی 40 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ انہوں نے ملک میں یونیورسٹیوں اور شاہراہوں کے جال کو بڑی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ عالمی مقابلے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

  • ہمدرد پبلک و ولیج اسکولز کے زیرِ اہتمام سالانہ فوڈ فئیر 2026 اور شہیدِ پاکستان حکیم محمد سعیدؒ کا 106واں یومِ ولادت

    ہمدرد پبلک و ولیج اسکولز کے زیرِ اہتمام سالانہ فوڈ فئیر 2026 اور شہیدِ پاکستان حکیم محمد سعیدؒ کا 106واں یومِ ولادت

    کراچی (اسٹاف رپورٹر):ہمدرد پبلک اور ولیج اسکولز کی جانب سے حسبِ روایت شہیدِ پاکستان، حکیم محمد سعیدؒ کے106ویں یومِ ولادت کو فاؤنڈرز ڈے کے طور پر 12 جنوری 2026 کو بلاول اسٹیڈیم میں انتہائی جوش و خروش اور عقیدت کے ساتھ منایا گیا۔ اس موقع پر سالانہ فوڈ فئیر 2026 کا انعقاد بھی کیا گیا، جس میں طلبہ و طالبات اور اساتذہ نے مل کر مختلف فوڈ اسٹالز لگائے اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ کیا۔
    تقریب کی مہمانِ خصوصی محترمہ قُدسیہ اکبر، سی ای او لمبلس فاؤنڈیشن پاکستان تھیں۔ جبکہ تقریب میں محترمہ سعدیہ راشد (ہلالِ امتیاز)، صدر ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان، محترمہ فاطمہ الزہراء (وائس پریذیڈنٹ مدینۃ الحکمہ)، فیصل ندیم (چیف فنانشل آفیسر)، پروفیسر ڈاکٹر عمران امین (وائس چانسلر ہمدرد یونیورسٹی)، ایڈمنسٹریٹر خالد نسیم اور دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔
    مہمانِ خصوصی محترمہ قُدسیہ اکبر نے اپنے خطاب میں ہمدرد انتظامیہ کی دعوت اور شاندار انتظامات پر شکریہ ادا کیا اور شہیدِ پاکستان حکیم محمد سعیدؒ کی علمی، تعلیمی اور سماجی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکیم سعیدؒ نے تعلیم کو قوم کی تعمیر کی بنیاد قرار دیا اور بچوں کی تربیت و کردار سازی پر خصوصی توجہ دی۔ انہوں نے محترمہ سعدیہ راشد کی خدمات کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ وہ حکیم محمد سعیدؒ کے مشن کو بھرپور انداز میں آگے بڑھا رہی ہیں۔
    صدر ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان محترمہ سعدیہ راشد نے اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکیم محمد سعیدؒ کو بچوں سے بے حد محبت تھی اور ان کا خواب تھا کہ پاکستان کا ہر بچہ علم کی روشنی سے منور ہو، حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہو اور ملک کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرے۔ ہمدرد اسی وژن کے تحت نسلِ نو کی تعلیم و تربیت میں مصروفِ عمل ہے۔
    تقریب کے دوران معزز مہمانوں نے فوڈ فئیر کے مختلف اسٹالز کا دورہ کیا، طلبہ کی کاوشوں کو سراہا اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔ تقریب کے اختتام پر طلبہ کی محنت، اساتذہ کی رہنمائی اور انتظامیہ کی کاوشوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا، جبکہ شرکاء نے فوڈ فئیر سے بھرپور لطف اٹھایا۔

  • حکومت سندھ کا نافذ کردہ ای چالان سسٹم فیل ہوگیا

    حکومت سندھ کا نافذ کردہ ای چالان سسٹم فیل ہوگیا

    سافٹ ویئر میں موجود نقائص شہریوں کے لئے درد سر بن گیا
    ای چالان کا موجودہ سسٹم صرف کالے یا گہرے رنگ کی سیٹ بیلٹ شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے
    سیٹ بیلٹ لگانے کے باوجود شہریوں کو تواتر سے چالان موصول ہونے لگے،
    ای چالان سسٹم کی موجودہ تکنیکی خرابی پر ڈی آئی جی ٹریفک کامؤقف دینے سے گریز
    کراچی(اسٹاف رپورٹر)حکومت سندھ کا نافذ کردہ جدید ترین ای چالان سسٹم ناکام ہوگیا، سسٹم صرف بلیک یا گہرے رنگ کے سیٹ بیلٹ کو شناخت کرتا ہے۔ جبکہ زیادہ تر معروف کار بنانے والے برانڈز کی گاڑیوں میں لائٹ گرے رنگ کی سیٹ بیلٹ موجود ہوتی ہے اور اگر آپ نے سفید یا ہلکے رنگ کی کوئی قمیض یا شرٹ پہن رکھی ہے تو اس پر یہ سیٹ بیلٹ لگانے کے باوجود ای چالان سسٹم سیٹ بیلٹ کو شناخت کرنے سے قاصر ہے جس پر شہریوں کو سیٹ بیلٹ نہ لگانے کی پاداش میں 10,000 کا چالان بھیج دیا جاتا ہے۔
    ای چالان سسٹم کی موجودہ تکنیکی خرابی پر ڈی آئی جی ٹریفک کامؤقف دینے سے گریز۔ پاکستان واچ کو ہزاروں شکایات موصول۔ تفصیلات کے مطابق ایک سابق بیوروکریٹ کو ٹیوٹا یارس نمبر CBF-215 میں سیٹ بیلٹ نہ لگانے کی پاداش میں ای چالان بھیجا گیا حالانکہ انہوں نے سیٹ بیلٹ لگایا ہوا تھا۔مگر ایش گرے سیٹ بیلٹ ہونے پر ای چالان سسٹم اس کو شناخت نہ کرسکا اور تحقیقات کرنے پر یہ بات واضح ہوئی کہ حکومت سندھ کا سسٹم صرف بلیک اور گرے سیٹ بیلٹ شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ متاثرہ شہری سابق بیوروکریٹ نے جب ڈی آئی جی ٹریفک سے شکایت کی تو انہوں نے کہا کہ آپ چالان معافی کی درخواست کردیں جس پر سابق بیوروکریٹ نے نہ ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں قانون پسند شہری ہوں اور جب میں نے غلطی نہیں کی تو معافی کی درخواست کیوں کروں؟ تاہم اس بات کا ڈی آئی ٹریفک کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ ای چالان کے حوالے سے پاکستان واچ کو ہزاروں شکایات موصول ہوئی ہیں جس میں شہریوں کو چالان کے نام پر لوٹا گیا جس سے متاثرین میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ شاہراہ فیصل، ڈیفنس، کلفٹن اور اطراف کے علاقوں میں ای چالان کیے جارہے ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں کے رہائشی سب سے زیادہ ٹیکس دیتے ہیں اور ای چالان کا عذاب بھی بھگت رہے ہیں۔ جبکہ کراچی اندرونی علاقوں میں سب سے زیادہ ٹریفک قوانین کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں مگر ان پر کوئی کنٹرول نہیں۔ حالانکہ وہاں چوری اور چھینی گئی گاڑیاں دوڑتی نظر آتی ہیں۔ شہریوں نے سندھ حکومت کے حکام سے ای چالان کے حوالے سے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔

  • اپوزیشن لیڈر کی تقرری پر حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق ہوگیا

    اپوزیشن لیڈر کی تقرری پر حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق ہوگیا

    اسلام آباد(خصوصی رپورٹ )اپوزیشن لیڈر کی تقرری پر حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق ہوگیا۔ ذرائع نے کہا کہ محمود خان اچکزئی ہی متحدہ اپوزیشن کے واحد امیدوار ہوں گے، اسپیکر قومی اسمبلی نے محمود خان اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر تقرری کی یقین دہانی کرادی۔
    ذرائع کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی قانونی ضابطے پورے کرکے اپوزیشن لیڈر کا تقرر کردیں گے۔
    چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر ، اسد قیصر، ملک عامر ڈوگر پر مشتمل پاکستان تحریک انصاف کے وفد نے اپوزیشن لیڈر کی تقرری سے متعلق مطلوبہ دستاویزات اسپیکر آفس کو فراہم کی۔
    پی ٹی آئی چیف وہپ ملک عامر ڈوگر نے کہا کہ ہم نے سپریم قومی اسمبلی کی ہدایات کے مطابق تمام تقاضے پورے کرکہ اپڈیٹڈ لسٹ سپیکر قومی اسمبلی کو جمع کروادی ہیں۔

    اسد قیصر نے کہا کہ اسپیکر کی صوابدید ہے وہ جب چاہیں اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن جاری کرسکتے ہیں، میں خود بھی اسپیکر رہا ہوں، ہم نے تمام تقاضے پورے کیے ہیں، امید ہے اس میں اب مزید تاخیر نہیں ہوگی۔

    اسد قیصر کا کہنا تھا کہ ابتک صرف ایک ہی نامزدگی ہوئی ہے، اسپیکر ہی سب کچھ ہے وہ جب چاہے نوٹیفکیشن کرسکتا ہے، جب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا تقرر ہوجائے تو سینیٹ میں بھی ہوجائےگا۔

    بیر سٹرگوہر علی خان کی اسپیکر آفس کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ جمعرات تک اپوزیشن لیڈر کا تقرر ہوجائےگا، ہم نے کاغذات جمع کرائے ہیں کل تک تصدیق ہوجائےگی۔

    ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں ہے، خان صاحب چیئرمین تھے،ہیں اور رہیں گے، خان صاحب کے فیصلے کو کوئی سیاسی یا اپیکس کمیٹی تبدیل نہیں کرسکتی۔

    بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم نے تمام تر اعتراضات دور کر دیے ہیں اور کاغزات پر کوئی اعتراض نہیں ہے، کل تک دستخط کی تصدیق ہو جائے گی اور جمعرات کے دن ہمارا اپوزیشن لیڈر اناونس ہو جائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ جمعہ کے دن سیشن میں ہمارا اپنا اپوزیشن لیڈر ہو گا، ان کے مقابلے میں کسی نے بھی کاغزات جمع نہیں کرائے، ہماری اسپیکر آفس میں مزاکرات کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی۔

    ملک عامر ڈوگر کا اپوزیشن لیڈر کی تقرری سے متعلق اسپیکر سردار کو خط

    قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے چیف وہپ ملک عامر ڈوگر نے اپوزیشن لیڈر کی تقرری سے متعلق اسپیکر سردار ایاز صادق کو خط لکھا۔

    خط میں کہا گیا کہ اپوزیشن کی اکثریت محمود خان اچکزئی کو متفقہ طور پر قائد حزبِ اختلاف نامزد کر چکی ہے، اپوزیشن لیڈر کا عہدہ تاحال خالی ہے، جمہوری روایات کے تحت اپوزیشن کو اپنا قائد منتخب کرنے کا حق حاصل ہے۔

    خط کے متن کے مطابق قومی اسمبلی رولز آف پروسیجر اینڈ کنڈکٹ 2007 کے رول 39 کے تحت فوری نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔

  • ٹرمپ نے ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فی صد ٹیرف نافذ کر دیا

    ٹرمپ نے ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فی صد ٹیرف نافذ کر دیا

    واشنگٹن:(فارن ڈیسک )امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے لین دین رکھنے والے ممالک کے خلاف سخت معاشی قدم اٹھانے کا اعلان کر دیا ہے۔
    امریکی صدر کے مطابق ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے کسی بھی ملک کو امریکا کے ساتھ ہونے والی تمام تجارتی سرگرمیوں پر 25 فیصد اضافی ٹیرف ادا کرنا ہوگا۔
    صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں واضح کیا کہ یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا اور اس میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
    ان کا کہنا تھا کہ جو ممالک ایران کے ساتھ کاروباری تعلقات برقرار رکھیں گے، وہ امریکی منڈی میں اضافی مالی بوجھ کے لیے خود کو تیار رکھیں۔
    ذرائع کے مطابق یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران میں حکومت مخالف مظاہرے شدت اختیار کر چکے ہیں اور سیکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن پر عالمی سطح پر تشویش پائی جا رہی ہے۔
    امریکی انسانی حقوق کی تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں 648 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
    صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی ایرانی حکومت کو خبردار کر چکے ہیں کہ مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
    حالیہ بیان میں انہوں نے یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف مختلف امکانات پر غور کر رہا ہے، جن میں فوجی کارروائی کا آپشن بھی شامل ہے۔

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان

    اسلام آباد:(کامرس ڈیسک)عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث پاکستان میں بھی 16 جنوری سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں امکان ہے۔
    ذرائع کے مطابق 16 جنوری سے پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 4 روپے 59 پیسے فی لیٹر تک کمی کا امکان ہے۔
    پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 59 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 70 پیسے فی لیٹر کمی کا امکان ہے۔
    مٹی کے تیل کی قیمت میں 1 روپے 82 پیسے اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 2 روپے 8 پیسے فی لیٹر کمی کا امکان ہے۔
    اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کے لیے ورکنگ مکمل کرلی۔ اوگرا قیمتوں میں ردوبدل کے لیے 14 جنوری کو پیٹرولیم ڈویژن کو ارسال کرے گا۔
    پیٹرولیم ڈویژن وزارت خزانہ سے مشاورت کے بعد قیمتوں میں ردوبدل کا نوٹیفکیشن جاری کرے گا۔

  • پاکستان اور متحدہ عرب امارات کا ’پری امیگریشن کلیئرنس‘ کے حوالے سے اتفاق

    پاکستان اور متحدہ عرب امارات کا ’پری امیگریشن کلیئرنس‘ کے حوالے سے اتفاق

    اسلام آباد(خصوصی رپورٹ )وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سیکیورٹی احمد بن لاحج الفلاسی کی سربراہی میں متحدہ عرب امارات کے وفد نے ملاقات کی جس میں ں پاک۔ یو اے ای تعلقات، باہمی تعاون اور مسافروں کے لیے امیگریشن عمل مزید آسان بنانے سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
    ملاقات میں اتفاق کیا گیا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان “پری امیگریشن کلیئرنس” کے حوالے سے باضابطہ معاہدہ کیا جائے گا، اس نئے نظام کا آغاز ابتدائی طور پر پائلٹ بنیادوں پر کیا جائے گا، پائلٹ منصوبے کا آغاز کراچی سے پہلے مرحلے میں کیا جائے گا۔
    محسن نقوی نے کہا کہ پری امیگریشن کلیئرنس کے تحت مسافروں کی امیگریشن اور متعلقہ کلیئرنس پاکستان ہی میں مکمل کی جائے گی، اس نظام کے نفاذ کے بعد مسافروں کومتحدہ عرب امارات پہنچنے پر امیگریشن کی طویل کارروائی سے گزرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
    محسن نقوی نے کہا کہ مسافر ڈومیسٹک مسافروں کی طرح سیدھا ایئرپورٹ سے باہر نکل سکیں گے، اس اقدام سے سفر میں سہولت، وقت کی بچت اور مسافروں کے لیے مجموعی تجربہ بہتر ہوگا۔
    یو اے ای وفد نے اس اقدام کو دونوں ممالک کے عوام کے لیے مفید قرار دیتے ہوئے ہر طرح کےتعاون کے عزم کا اظہار کیا، پائلٹ منصوبے کے انتظامی و تکنیکی معاملات کو حتمی شکل دینے کے لیے متعلقہ حکام رابطہ کاری جاری رکھیں گے، کامیاب پائلٹ کے بعد اس نظام کو بتدریج مزید مقامات تک توسیع دی جائے گی۔
    وفد میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن جما عبداللہ القابی، ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایئرپورٹس حماد سیف المشغونی اور دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے، ملاقات میں وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وفاقی سیکرٹری داخلہ خرم آغا بھی موجود تھے۔

  • امریکا نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت جاری کردی

    امریکا نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت جاری کردی

    نیویارک( فارن ڈیسک)امریکا نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت جاری کی ہے، کیونکہ ملک بھر میں جاری احتجاجات دن بدن شدت اختیار کر رہے ہیں اور حالات “پرتشدد” ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔امریکی سفارتخانے کی وارننگ میں کہا گیا ہے کہ ایران میں احتجاجات کے باعث گرفتاریاں، زخمی ہونے، سیکیورٹی اقدامات، سڑکیں بند، ٹرانسپورٹ معطل اور انٹرنیٹ کی بندش جیسے حالات ہیں، جن سے امریکی شہریوں کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔
    سفارتخانہ نے مشورہ دیا کہ امریکی شہری اگر محفوظ ہو سکے تو زمینی راستوں سے آرمینیا یا ترکی کے راستے ایران چھوڑ دیں۔ ساتھ ہی کہا گیا ہے کہ انٹرنیٹ بندش کے پیشِ نظر رابطے کے متبادل انتظامات بنائے جائیں۔
    دوھری شہریت رکھنے والے امریکی ایرانی شہریوں کو بھی خبردار کیا گیا ہے کہ ایران دوہری شہریت تسلیم نہیں کرتا، اس لیے ان کو اپنے ایرانی پاسپورٹ سے ہی ایران چھوڑنا چاہیے۔
    سفارتخانے نے مزید کہا ہے کہ وہ لوگ جو اب بھی ایران میں ہیں، احتجاجات سے دور رہیں، عوامی اجتماعات میں شامل نہ ہوں اور اپنے آپ کو محفوظ مقامات پر رکھیں۔

  • 2025 میں 7 لاکھ 50 ہزار سے زائد پاکستانی روزگار کے لیے بیرونِ ملک روانہ

    2025 میں 7 لاکھ 50 ہزار سے زائد پاکستانی روزگار کے لیے بیرونِ ملک روانہ

    اسلام آباد(خصوصی رپورٹ )پاکستان کو 2025 میں شدید برین ڈرین کے مسئلے کا سامنا رہا، جہاں 7 لاکھ 50 ہزار سے زائد پاکستانی بہتر روزگار اور معاشی مواقع کی تلاش میں ملک چھوڑ کر بیرونِ ملک چلے گئے۔ ماہرین کے مطابق ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، محدود ملازمتوں کے مواقع، سیاسی و معاشی عدم استحکام اور بہتر تنخواہوں کی کشش نوجوانوں اور ہنرمند افراد کو بیرونِ ملک جانے پر مجبور کر رہی ہے۔
    اس رجحان کے باعث پاکستان کو قیمتی انسانی وسائل کے نقصان کا سامنا ہے، جس کا براہِ راست اثر معیشت، صنعت اور ترقی کے عمل پر پڑ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بروقت مؤثر پالیسیاں نہ بنائی گئیں تو برین ڈرین کا یہ سلسلہ مستقبل میں مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔

  • پی ٹی آئی کے پاس گراؤنڈ بھرنے کیلئے بندے نہیں تھے تو ہم سے کہتے : میئر کراچی

    پی ٹی آئی کے پاس گراؤنڈ بھرنے کیلئے بندے نہیں تھے تو ہم سے کہتے : میئر کراچی

    کراچی (اسٹاف رپورٹر)میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے پی ٹی آئی کے جلسے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہےکہ باغ جناح بڑا گراؤنڈ ہے اس کو بھرنا آسان نہیں۔خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے کراچی میں جلسہ کرنے کے حوالے سے مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی کے پاس گراؤنڈ بھرنے کے لیے بندے نہیں تھے تو ہم سے کہتے ہم دے دیتے۔دوسری جانب وزیرمملکت بلال اظہر کیانی کا کہنا ہے کہ پُرامن احتجاج اور پی ٹی آئی دو الگ الگ چیزیں ہیں۔انہوں نے کہا اپنے صوبے میں کام کرنے کے بجائے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی دیگر صوبوں میں پہیہ جام کرنا چاہتے ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے کراچی میں جلسہ کیا۔کراچی میں نمائش چورنگی پر خطاب میں سہیل آفریدی کا کہنا تھاکہ آج ہمارے ساتھ مختلف مقامات پر پولیس گردی کی گئی، پولیس گردی کے بعد بھی ہم یہاں اتنی بڑی تعداد میں جمع ہوئے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں حکومت نےہمارے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا، سندھ میں بھی سندھ حکومت نےاچھا سلوک نہیں کیا، اس کے بعد خیبرپختونخوا میں اگلا پڑاؤ ڈالیں گے اور اسٹریٹ موومنٹ کے ذریعے بانی پی ٹی آئی کا پیغام ملک بھرمیں پہنچائیں گے۔