سرگودھا (نمائندہ خصوسی )سرگودھا میں شدید دھند کے باعث ٹرک کو حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں 14 افراد جاں بحق جبکہ کئی زخمی ہوگئے۔ریسکیو ذرائع کے مطابق سرگودھا کی تحصیل کوٹ مومن کے علاقہ گلہ پور بنگلہ کے قریب 23 افراد منی ٹرک میں سوار ہوکر جا رہے تھے تاہم شدید دھند کے باعث حد نگاہ کم ہونے پر منی ٹرک سڑک سے اتر کر خشک نہر میں جاگرا۔ٹرک کے نیچے دب کر 7 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے، ریسکیو اہلکاروں نے لاشوں اور دیگر شدید زخمی ہونے والے افرد کو ٹی ایچ کیو اسپتال منتقل کیا جہاں دوران علاج مزید 7 افراد دم توڑ گئے۔جاں بحق ہونے والوں میں 6 بچے، 5 خواتین اور 3 مرد شامل ہیں۔ حادثے کا شکار افراد جنازے میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔
Blog
-

کراچی پولیس کا 100 سے زائد بچوں سے زیادتی کے ملزمان گرفتار کرنے کا دعویٰ
کراچی (اسٹاف رپورٹر)کراچی پولیس نے رواں سال کی سب سے بڑی کارروائی کرتے ہوئے 100 سے زائد بچوں سے زیادتی میں ملوث ملزم کو ساتھی سمیت گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ایس پی انویسٹی گیشن عثمان سدوزئی نے دعویٰ کیا ہےکہ ہماری ٹیم نے متاثرہ بچےکی نشاندہی پر ٹیپوسلطان میں کارروائی کی، گرفتار ملزمان میں مرکزی ملزم عمران اور وقاص خان شامل ہیں، ملزمان 100 سے زائد بچوں سے زیادتی میں ملوث رہے جب کہ پولیس کو 2020 سے 2025 تک 7 شکایات رپورٹ ہوئی تھی۔انہوں نے بتایا کہ مختلف اضلاع کے کیسز میں ڈی این اے ایک ہی شخص کا ملا تھا اور ہمیں 6 سال سے الگ کیسز میں ایک ہی ڈی این اے ملنے پر تفتیش ہوئی، ان تمام کیسز میں 12 سے 13 سال کے لڑکوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور ایک کیس میں بچے سے 2 سے زائد افراد نے زیادتی کی، درج شدہ تمام 7 مقدمات میں ملزم کا ڈی این اے میچ کر گیا ہے۔عثمان سدوزئی کا کہنا تھاکہ ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے 6 جنوری کو ٹیم تشکیل دی تھی اور یہ ٹیم ڈی آئی جی سی آئی اے مقدس حیدر کی سربراہی میں بنائی گئی تھی، اس ٹیم نے 11 روز کے اندر مطلوب ترین ملزمان کو گرفتار کیا، ملزم عمران منظورکالونی کا رہائشی ہے اور پنکچر کا ٹھیا لگاتا ہے، اس کیس میں گرفتار مرکزی ملزم عمران نے 6 سال میں درجنوں بچوں سے زیادتی کا اعتراف کیا ہے، عمران نے تمام بچوں کو ملیرندی کے قریب لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایا، وہ موٹرسائیکل کا بچوں کو لالچ دے کر ساتھ لے جاتا تھا۔ایس پی کے مطابق تین کیسز میں بچوں نے ملزم عمران کو شناخت کرلیا ہے جب کہ ایک کیس میں بچے نے عمران اور ساتھی وقاص خان کو بھی پہچانا ہے، ملزم ایک بچے کو وقاص کے ساتھ سرجانی بھی لے گیا تھا جہاں بچے نے شور مچایا تو دونوں ملزمان موقع سے فرار ہوگئے۔دوسری جانب آئی جی سندھ کا کہنا ہےکہ تفتیشی ٹیم نے ملزمان کو گرفتار کیا، کیس کی سائٹیفک بنیادوں پر تفتیش کی گئی، متعدد کیسز میں ایک ہی ڈی این اے آنے پر ٹیم بنائی گئی ، کیس کی تفتیشی ٹیم کو ایوارڈ بھی دیا جائے گا۔علاوہ ازیں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ہدایت کی کہ ملزم کے خلاف مضبوط شواہد کی بنیاد پر کیس عدالت میں لے جایا جائے جب کہ ایڈیشنل آئی جی کراچی کو روزانہ کی بنیاد پر کیس کی پیش رفت سے آگاہ کیا جائے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ بچوں سے زیادتی ناقابل قبول ہے، پولیس ملزمان کو سزا دلوانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے۔
-

ہمدرد یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس میں شہید حکیم محمد سعید کی یاد میں “یادیں، باتیں” کے عنوان سے تقریب
اسلام آباد:(نمائندہ خصوصی)ہمدرد یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس کے زیرِ اہتمام بانیٔ ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان، شہید حکیم محمد سعید کی زندگی، وژن اور گراں قدر خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک یادگاری تقریب بعنوان “یادیں، باتیں” منعقد کی گئی۔ اس تقریب میں عوامی صحت کے اہم موضوعات جن میں خون کا عطیہ، ذیابیطس سے بچاؤ، غذائیت اور بچوں کی صحت شامل تھے، کو اجاگر کیا گیا اور معاشرتی فلاح و بہبود کے لیے ہمدرد کے دیرینہ عزم کی تجدید کی گئی۔ تقریب میں ممتاز شخصیات، ماہرینِ صحت، ماہرینِ تعلیم، طلبہ اور قومی و بین الاقوامی اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔
سینیٹر مشاہد حسین سید، مہمانِ خصوصی، نے شہید حکیم محمد سعید کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں پاکستان کی اصل شناخت اور علم، کردار اور خدمت کا حسین امتزاج قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکیم سعید وہ واحد شخصیت تھے جن کی پہلی اردو کتاب سابق سوویت یونین میں شائع ہوئی، جبکہ ان کا مشہور سفرنامہ “سفرنامۂ روس” روس میں نمایاں اعزاز کا حامل رہا۔ سینیٹر مشاہد حسین نے اس بات پر زور دیا کہ شہید حکیم محمد سعید نوجوانوں کو امتِ مسلمہ کا مستقبل سمجھتے تھے اور صحت کے شعبے میں متوازن اور ہمہ گیر نظام کے قائل تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمدرد اُن چند اداروں میں سے ہے جو وقت گزرنے کے باوجود اپنے مشن اور اثر کو کامیابی سے برقرار رکھے ہوئے ہے۔
ہمدرد یونیورسٹی کی چانسلر اور ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کی صدر، محترمہ سعدیہ راشد نے کہا کہ ہمدرد کی بنیاد شہید حکیم محمد سعید کے وژن اور عمر بھر کی خدمات پر رکھی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہمدرد یونیورسٹی محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ تعلیم، صحت، تحقیق اور قومی خدمت پر مبنی ایک مشن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمدرد نہ صرف ایک جامع ادارہ ہے بلکہ طب کے میدان میں ایک ممتاز اور نمایاں مقام رکھتا ہے، اور شہید حکیم محمد سعید کی طبی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکیم سعید کی کاوشوں کو سراہنا اور آگے بڑھانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق حکیم سعید کی محنت کی بدولت آج پاکستانی طلبہ طب کے میدان میں عالمی سطح پر پہچان حاصل کر رہے ہیں، اور ہمدرد یونیورسٹی ان کے مشن کی عملی تصویر ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر، سابق گورنر سندھ، نے شہید حکیم محمد سعید کو ایک غیر متنازعہ قومی ہیرو قرار دیا۔ انہوں نے بین الاقوامی سطح پر قومی ادویات کے فروغ میں حکیم سعید کے کلیدی کردار اور عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے ساتھ ان کی ذاتی وابستگی کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہادت کے بعد بھی ہمدرد نے ترقی کا سفر جاری رکھا اور آج پاکستان کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیش اور بھارت میں بھی فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
پاکستان ایسوسی ایشن آف ایسٹرن میڈیسن (PAEM) کے صدر، حکیم عبدالحنان نے شہید حکیم محمد سعید کو صحت اور تعلیم کے لیے ایک روشن مینار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکیم محمد سعید کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ خدمت، علم اور اخلاق انسانیت کے لیے سب سے بڑی میراث ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ علم اور خدمت ہی انسانیت کو زندہ رکھتے ہیں اور ہر فرد پر لازم ہے کہ وہ اپنی زندگی میں علم، کردار اور خدمت کو ترجیح دے۔ ان کے مطابق حکیم محمد سعید نہ صرف اپنے ادارے بلکہ پوری قوم کے لیے مشعلِ راہ تھے، اور ان کا وژن آج بھی نوجوانوں کی رہنمائی کر رہا ہے۔ ایسی عظیم شخصیات کی خدمات کو یاد رکھنا اور آگے بڑھانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے نمائندے، جناب شہزاد عالم نے صحت کے شعبے میں ہمدرد کی خدمات کو سراہتے ہوئے محترمہ سعدیہ راشد کی جانب سے پاکستان میں WHO پروگرامز، بشمول عالمی یومِ صحت، کے فروغ میں تعاون کو قابلِ تحسین قرار دیا۔
ہمدرد یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس کے ڈائریکٹر جنرل، جناب امتیاز حیدر نے کہا کہ شہید حکیم محمد سعید کا یقین تھا کہ قومیں محض نعروں سے نہیں بلکہ کردار اور خدمت سے بنتی ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہمدرد یونیورسٹی تعلیم کو اخلاقیات، تحقیق اور سماجی ذمہ داری کے ساتھ جوڑنے کے لیے پرعزم ہے۔ تمام معزز مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسی تقریبات صرف یادگاری نہیں ہوتیں بلکہ علم، اخلاقی اقدار اور انسانیت کی خدمت کے عہد کی تجدید کا ذریعہ بنتی ہیں۔
تقریب کا اختتام اتحاد، غور و فکر اور عزم کے پُراثر پیغام کے ساتھ ہوا، جس میں شہید حکیم محمد سعید کی دائمی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے پاکستان کے مستقبل کے لیے اہم صحت کے مسائل پر آگاہی کو فروغ دیا گیا۔ -

کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، ایران
نیویارک:(فارن ڈیسک )اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے مندوب نے امریکا اور اسرائیل پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی یا سیاسی جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، جبکہ پابندیوں اور نام نہاد انسانی حقوق کے نعروں کو عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے مستقل مندوب غلام حسین درزی نے کہا ہے کہ امریکا کا ایران کی داخلی صورتحال پر اجلاس بلانا شرمناک اور سیاسی منافقت کا عکاس ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیمیں درحقیقت اسرائیلی ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہیں اور برسوں سے ایران پر عائد پابندیاں براہِ راست عام شہریوں کو متاثر کر رہی ہیں۔ایرانی مندوب کا کہنا تھا کہ ایران میں مظاہرین پر داعش کے طرز پر حملے کیے گئے، جن سے نمٹنے کے لیے ایرانی سیکیورٹی گارڈز نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر شہریوں کی حفاظت یقینی بنائی۔انہوں نے واضح کیا کہ امریکی حکومت مظاہرین کو بغاوت پر اکسا رہی ہے، جو ایران کی خودمختاری میں مداخلت کے مترادف ہے۔خطاب میں ایرانی مندوب نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ایران پر کسی بھی قسم کی جارحیت عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہوگی، اور ایران کے خلاف کسی فوجی آپریشن کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ نہ صرف ایران بلکہ اقوام متحدہ کی ساکھ اور عالمی نظام کے لیے بھی ایک کڑا امتحان ہے۔ایرانی مندوب غلام حسین درزی نے زور دے کر کہا کہ ایران کی حکومت پرامن مظاہرین کے حقوق کا احترام کرتی ہے، تاہم کسی بھی بیرونی جارحیت یا سازش کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
-

ایران پر دباؤ کے خلاف روس اور چین امریکا پر برس پڑے
نیویارک(فارن ڈیسک )اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں روس اور چین نے امریکا پر سخت تنقید کرتے ہوئے ایران کے معاملے میں طاقت کے استعمال کی مخالفت کی ہے۔سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے روسی مندوب نے اجلاس کو “سرکس” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اجلاس عالمی امن کے لیے ہونا چاہیے تھا، نہ کہ ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے لیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرونی قوتیں ایران میں موجودہ صورتحال کو جان بوجھ کر ہوا دے رہی ہیں۔روسی مندوب نے کہا کہ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی کشیدگی یا تصادم کا خواہاں نہیں، تاہم کسی بھی جارحیت کی صورت میں بھرپور جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی حکومت کے لیے شہریوں اور املاک کا تحفظ اولین ترجیح ہے، جبکہ امریکی بیانات جن میں ایرانی عوام کو اداروں پر قبضے کی ترغیب دی گئی، کسی بھی ملک کی خودمختاری کے خلاف ہیں۔روسی مندوب کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر اور حکومت کی حمایت میں عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکلی ہے، اور امریکی کارروائی کی صورت میں پورا خطہ مزید بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔ روس نے مسائل کے پرامن حل کے لیے تعاون کی پیشکش بھی کی۔
دوسری جانب چینی مندوب نے سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا فوری طور پر ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کی کوشش ترک کرے۔ انہوں نے کہا کہ چین دنیا کو “جنگل کے قانون” کی طرف دھکیلنے کے خلاف ہے اور کسی بھی ملک کی سالمیت کے خلاف طاقت کے استعمال کی مخالفت کرتا ہے۔چینی مندوب نے زور دیا کہ ایران ایک خودمختار ملک ہے اور ایرانی عوام کو اپنے فیصلے خود کرنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو ایران کو درپیش مسائل کے حل میں مدد کرنی چاہیے اور تمام اقدامات اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی قوانین کے مطابق ہونے چاہئیں۔ادھر چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فونک گفتگو بھی کی، جس میں انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ایرانی حکومت اور عوام متحد رہیں گے اور موجودہ مشکلات پر قابو پا لیں گے۔ -

پاکستان کا یو اے ای سے قرض کیلیے طویل مدت کا مطالبہ
اسلام آباد:(فارن ڈیسک)پاکستان نے متحدہ عرب امارات سے 2.5 ارب ڈالر کے قرض کی 2سال کے لیے توسیع اور شرحِ سود تقریباً نصف کرنے کی درخواست کی ہے، جس میں وہ 450 ملین ڈالر کا قرض بھی شامل ہے جو 30 سال قبل ایک سال کے لیے حاصل کیا گیا تھا۔سرکاری ذرائع کے مطابق یہ درخواست اس عرصے میں کی گئی جب یو اے ای کے صدر ذاتی دورے پر پاکستان آئے تھے۔ یو اے ای کے صدر سے ملاقات کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ یو اے ای نے قرض رول اوور کرنے پر اتفاق کیا ہے، تاہم اس کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب عالمی بینک نے بھی جمعرات کو پاکستان کو آگاہ کیا کہ ملک میں سرمایہ کاری کی سطح 20 ارب ڈالر کے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (CPF) کے تحت طے شدہ اہداف سے کم ہے۔اسٹیٹ بینک اور وفاقی حکومت کے ذرائع نے بتایا کہ پاکستان نے یو اے ای سے مجموعی طور پر 2.45 ارب ڈالر کے واجب الادا قرض کی توسیع کی درخواست کی ہے۔ایک ارب ڈالر جمعے کو میچور ہو گیا جبکہ مزید ایک ارب ڈالر آئندہ ہفتے میچور ہو رہا ہے۔ذرائع کے مطابق ادائیگی کا کوئی امکان نہیں تھا کیونکہ یو اے ای کے صدر پہلے ہی توسیع پر رضامند ہو چکے ہیں تاہم یہ واضح نہیں کہ قرض ایک سال کے لیے رول اوور ہوا ہے یا دو سال کے لیے۔مرکزی بینک کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے دو سالہ توسیع کے ساتھ شرحِ سود میں نصف سے زائد کمی کی بھی درخواست کی ہے۔خبر فائل کیے جانے تک اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور وزارتِ خزانہ کی جانب سے جواب موصول نہیں ہوا تھا۔بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ کو آگاہ کیا کہ دو ارب ڈالر کی ادائیگی واجب الادا تھی جسے یو اے ای نے بڑھانے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔یو اے ای نے 2018 میں پاکستان کو ایک سال کے لیے دو ارب ڈالر کا قرض دیا تھا، جو 16 ارب ڈالر کے سرکاری زرمبادلہ ذخائر کا حصہ ہے۔نائب وزیراعظم اسحق ڈار نے بدھ کو کہا کہ پاکستان پر دوست ممالک کا مجموعی قرض 12 ارب ڈالر ہے، جس میں پانچ ارب ڈالر سعودی عرب، تین ارب ڈالر یو اے ای اور چار ارب ڈالر چین کے ذمے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ پاکستان نے 1996-97میں یو اے ای سے 450 ملین ڈالر کا قرض لیا تھا جو اب تک ادا نہیں کیا گیا اور اس پر بھی 6.5 فیصد شرحِ سود ادا کی جا رہی ہے۔دو سالہ توسیع اس لیے طلب کی گئی ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے دوران پاکستان یہ قرض واپس کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوگا۔فنڈ پروگرام آئندہ سال ستمبر میں ختم ہو رہا ہے۔مرکزی بینک کے ترجمان سے بھی رابطہ کیا گیا کہ آیا یو اے ای نے دو سال کے لیے رول اوور اور نئی شرحِ سود پر اتفاق کیا ہے یا نہیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ سال کی 32 ارب ڈالر کی برآمدات کو چار سال میں 63 ارب ڈالر تک بڑھانے کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی ہے، تاہم براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکا۔جمعرات کو عالمی بینک کے وفد نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات کی اور بتایا کہ سرمایہ کاری کی سطح کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے اہداف سے کم ہے۔وزارتِ خزانہ کے مطابق عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازر نے سی پی ایف پر بریفنگ دی۔عالمی بینک نے نتائج پر مبنی حکمتِ عملی، واضح پالیسی اہداف اور تکنیکی معاونت کی بھی تجویز دی۔پاکستان نے گزشتہ ہفتے توانائی کے شعبے کے 36 ارب ڈالر کے قرض کی ری فنانسنگ کے لیے بھی عالمی بینک سے مدد مانگی تھی۔ عالمی بینک نے بتایا کہ وہ مکمل فنڈنگ تو نہیں کر سکتا، تاہم جزوی ضمانتیں فراہم کی جا سکتی ہیں۔
-

بھارت کو پھر ہزیمت کا سامنا، پرندے کی بِیٹ گرنے سے کھیل روکنا پڑا
ممبی (اسپورٹس ڈیسک )سب اچھا ہے کا دعویٰ کرنے والے بھارت کو کھیلوں کے میدان میں پھر ہزیمت کا سامنا کرنا جب پرندے کی بِیٹ گرنے سے کھل روکنا پڑگیا۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اولمپکس 2036 کی میزبانی کے خواہشمند بھارت کو انڈین اوپن بیڈمنٹن میں ناقص انتظامات پر ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ انڈین اوپن بیڈمنٹن کے میچ کے دوران پرندے کی بیٹ گرنے کے باعث رک گیا۔اندرا گاندھی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے بین الاقوامی ٹورنامنٹ کو دو مرتبہ پرندے کی بیٹ گرنے کے سبب روکا گیا۔دو روز قبل ڈنمارک کی خاتون کھلاڑی نے بھی ایونٹ کے دوران گندگی، ناقص انتظامات اور غیر صحتمند ماحول کی نشاندہی کی تھی۔اس کے علاوہ گزشتہ روز ایونٹ کے اسٹیڈیم میں بندر کی موجودگی کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل رہیں تھی۔واضح رہے کہ ڈنمارک کے معروف کھلاڑی آندریس اینٹونسن نے بھی فضائی آلودگی کی وجہ سے ٹورنامنٹ سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا۔
-

بھارتی عدالت نے حریت رہنما آسیہ اندرابی کو مجرم قرار دے دیا
سری نگر (فارن ڈیسک )مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی حکومت کی جانب سے حریت پسند قیادت کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ایک بھارتی عدالت نے معروف حریت پسند خاتون رہنما اور تنظیم دخترانِ ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی کو ایک سیاسی مقدمے میں مجرم قرار دے دیا ہے۔رپورٹس کے مطابق اسی مقدمے میں حریت پسند رہنماؤں فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو بھی قصوروار ٹھہرایا گیا ہے، جبکہ تینوں رہنماؤں کو سزائیں 17 جنوری کو سنائی جائیں گی۔ یہ مقدمہ بھارت کی بدنام زمانہ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کی عدالت میں چلایا گیا۔کشمیر میڈیا سروس کا کہنا ہے کہ آسیہ اندرابی کو اپریل 2018 میں ایک سیاسی اور من گھڑت مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ 1987 میں خواتین کی قیادت میں قائم کی گئی آزادی پسند تنظیم دخترانِ ملت کی بانی رہنما ہیں۔رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ آسیہ اندرابی کے شوہر عاشق حسین بھی گزشتہ تقریباً تین دہائیوں سے بھارت میں من گھڑت مقدمات کے تحت قید ہیں۔ حریت حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے جابرانہ اقدامات کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کو کمزور نہیں کر سکتے۔
-

کراچی، کروڑپتی ماسیوں کا گینگ گرفتار، قیمتی اشیا خریدنے کا اعتراف
کراچی:(اسٹاف رپورٹر)پولیس نے گھروں میں وارداتیں کرنے والی کروڑ پتی ماسیوں کا 5 رکنی گینگ گرفتارکرلیا، یہ ماسیاں 9 سال سے پی ای سی ایچ میں ایک معروف صنعت کار کے بنگلے میں ملازمت کررہی تھیں اور انہوں نے چوری کی رقم سے گھر، گاڑی، موٹرسائیکل اور دیگر قیمتی اشیا خریدنے کا اعتراف کرلیا۔
ایس ایس پی ایسٹ زبیر نذیر شیخ کے مطابق گرفتار ماسیاں پی ای سی ایچ ایس بلاک 6 میں واقع معروف صنعت کار کے گھر میں گزشتہ 9 سال سے کام کر رہی تھیں، گینگ کی سرغنہ عروج نے صنعت کار کے گھر کے لاکر کی چابی چرا کر 3 ہزار میں ڈپلیکیٹ بنوالی تھی، ابتدائی تفتیش میں گرفتار سرغنہ نے صنعت کار کے گھرسے چوری کی رقم سے گھر، گاڑی، موٹرسائیکل اور دیگر قیمتی اشیا خریدنے کا انکشاف کیا ہے۔
گرفتار ماسی نے بتایا کہ اس نے چوری کی رقم سے 39 لاکھ روپے میں گھر، 30 لاکھ روپے میں گاڑی اور دولاکھ 60 ہزار کی موٹر سائیکل خریدی تھی، چوری کی رقم سے خریدی گئی گاڑی رینٹ پردی ہوئی ہے جبکہ موٹر سائیکل گرفتار ماسی عروج کا شوہر چلا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ماسیوں کی شناخت عروج، سویرا، نائلہ، ثنا اور علشبہ کے ناموں سے کی گئی ہے گرفتار ماسیوں کا تعلق وہاڑی، اوکاڑا، فیصل آباد، رحیم یار خان اور کوٹ ادو سے ہے، گرفتار ماسیوں کے خلاف فیروز آباد تھانے میں نامزد مقدمہ درج ہے جس کی تفتیش جاری ہے اور دوران تفتیش مزید انکشافات متوقع ہیں۔
ایس ایس پی نے عوام سے اپیل ہے کہ گھریلو ملازماؤں کو نوکری میں رکھنے سے قبل ان کا شناختی کارڈ، کوائف اور پولیس ویری فکیشن لازمی کروائیں۔پولیس نے بتایا کہ ماسیوں کے خلاف متعلقہ تھانے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ واقعے سے متعلق مزید تفتیش جاری ہے۔ -

پاکستان کا چین کے ساتھ تعلق ہرحال میں غیرمتزلزل رہے گا، وزیراعظم
اسلام آباد:(نمائندہ خصوصی )وزیراعظم شہباز شریف نے چین کی کمونسٹ پارٹی کے بین الاقوامی شعبے کی نائب وزیر سن ہائی یان سے ملاقات میں کہا کہ پاکستان کا چین کے ساتھ تعلق ہر حال میں غیرمتزلزل رہے گا اور پاکستان ایک چین پالیسی پر اپنے غیرمتزلزل عزم پر قائم ہے۔
وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف سے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے بین الاقوامی شعبے کی نائب وزیر سن ہائی یان نے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی اور اس دوران وزیراعظم نے چینی مہمان اور ان کے وفد کو پاکستان میں خوش آمدید کرتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ نہایت اہم موقع پر ہورہا ہے کیونکہ پاکستان اور چین سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کا آغاز پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے کامیاب دورۂ بیجنگ سے ہوا، جس کے بعد وزیر داخلہ نے شنگھائی کا دورہ کیا جبکہ آئندہ دنوں میں اسپیکر قومی اسمبلی کا دورۂ چین بھی توقع ہے۔
وزیراعظم نے صدر شی جن پنگ اور چینی قیادت کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان اور چین کے درمیان فولاد کی طرح مضبوط اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری کی توثیق کی اور کہا کہ پاکستان کا چین کے ساتھ تعلق ہر حال میں غیر متزلزل رہے گا اور پاکستان ایک چین پالیسی پر اپنے غیر متزلزل عزم پر قائم ہے۔
اقتصادی تعاون پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے چین کی جانب سے پاکستان کے لیے فراخ دلانہ معاونت، بالخصوص پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت تعاون کو سراہا اور سی پیک کے اگلے مرحلے کے بروقت اور مؤثر نفاذ کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیراعظم نے صدر شی جن پنگ کو اس سال پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت کا بھی اعادہ کیا اور کہا کہ یہ سال دونوں ممالک کے لیے خصوصی اہمیت اور ایک تاریخی سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
چینی نائب وزیر سن ہائی یان نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ چین پاکستان کے ساتھ اپنے دیرینہ اور آزمودہ تعلقات کو تمام شعبوں میں مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے پاکستان میں اقتصادی اور سیاسی استحکام کے لیے وزیراعظم کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ چینی قوم پاکستان کی سفارتی کامیابیوں پر فخر محسوس کرتی ہے۔
سن ہائی یان نے وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ بہترین تعلقات قائم ہیں۔
چینی نائب وزیر نے جماعتی سطح پر روابط کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا بین الجماعتی طریقہ کار کے ذریعے پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم پر قائم ہیں۔
