Blog

  • لوکل باڈیز رپورٹرز ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام جرنلسٹ کنونشن….رپورٹ:نشیدآفاقی

    لوکل باڈیز رپورٹرز ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام جرنلسٹ کنونشن….رپورٹ:نشیدآفاقی

    وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے یوتھ افئیرز سندھ ڈاکٹر فہد شفیق ،امتیاز فاران،عارف ہاشمی،خالد آرائیں،کامران زہری مزدور رہنما عبدالمتین، مشتاق بلوچ ودیگر کا خطاب
    لبرا کے سرپرست شہزاد چغتائی، چئیرمین ندیم صدیقی ،صدر تنویر سید ، جنرل سکریڑی عمران علی شاہ ،سکریڑی اطلاعات رضوان جلالی ودیگر ممبران کنونشن کے دوران مسلسل متحرک رہے
    وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے یوتھ افئیرز سندھ ڈاکٹر فہد شفیق نے کہا ہے کہ صحافی ملک و قوم کی نظریں اور کان ہیں، ان کے مسائل کے حل کے بغیر شفاف اور ذمہ دارانہ صحافت کا فروغ ممکن نہیں۔” انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کے تحفظ اور ان کے پیشہ ورانہ معیار کو بہتر بنانے کے لیے مربوط پالیسی پر فوری عملدرآمد ضروری ہے ہم صحافیوں کو ہر ممکن سہولتیں دلوائیں گے انہوں نے کہا کہ پرائم منسٹر ڈیجیٹل یوتھ ہب ہے یہ ایپلیکیشن اے آئی بیسڈ ہے آئی او ایس اور اینڈرائڈ دونوں پر یہ ایپلیکیشن موجود ہے اس کو ڈاؤن لوڈ کریں اور اپنے لیے سہولتوں کو تلاش کریں ان خیالات کا اظہار انہوں نے لوکل باڈیز رپورٹرز ایسوسی ایشن کے جرنلسٹ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیاانہوں نے کہا کہ اس ایپلیکیشن کے ذریعے آپ اپنے لیے سہولتوں کو تلاش کریں ہم لیپ ٹاپ بھی دے رہے ہیں 75 لاکھ روپے تک کا قرضہ دیا جا رہا ہے اور انٹرن شپ کی سہولت بھی فراہم کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ایمپلائمنٹ کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے جس کے ذریعے نیشنلی اور انٹرنیشنلی ایمپلائمنٹ جنریٹ ہوگی انہوں نے کہا کہ ہم یوتھ ٹریننگ بھی کراتے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ اتنی ساری سہولت کی چیزیں ہیں کہ آپ وہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے انہوں نے کہا کہ میں کہتا ہوں کہ لبرا کی پوری ٹیم ہمارے پاس آئے ہم ان کو پریزنٹیشن دیں گے میں چاہتا ہوں کہ اس اچھے پروگرام کو تیزی کے ساتھ آگے بڑھایا جائے قبل ازیں لبرا کے صدر تنویر سید نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لوکل باڈیز رپورٹرز ایسوسی ایشن کے تحت اب تک متعدد کامیاب پروگرام منعقد ہو چکے ہیں سب سے اہم پروگرام مزار قائد پر حاضری کا تھا جس میں 30 سے زائد ممبران نے شرکت کی انہوں نے کہا کہ ہم نے بڑی کوششوں کے بعد وہاں حاضری کی اجازت لی تھی ہمارے پلیٹ فارم پر سینیئر صحافی موجود ہیں مگر جب بڑی تعداد میں ہمارے ممبران ہو جائیں گے تو ہم ان کی اسکروٹنی بھی کریں گے ہم نے ان سب سے فارم بھی بھروائے ہیں لہذا اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ ہمارے پلیٹ فارم پر کوئی غیر صحافی موجود ہو انہوں نے کہا کہ صحافت کی آڑ میں کرائم کرنے والوں کی ہم ہمیشہ سے مذمت کرتے آئے ہیں صاف ستھری صحافت کا فروغ ہمارا عزم ہے اسی لیے جوق در جوق صحافی ہمارے ممبر بن رہے ہیں اس پلیٹ فارم کا مقصد صحافیوں کی فلاح و بہبود ہے انشاء اللہ اس حوالے سے مختلف منصوبوں پر عمل درآمد کیا جائے گا ، لبرا کے سرپرست اعلیٰ شہزاد چغتائی نے کہا کہ یہ اجتماع صرف تقریریں کرنے کے لیے نہیں بلکہ عملی اقدامات کا نقطہ آغاز ہے۔ سینئر صحافی فیصل راجپوت نے اپنے خطاب میں بتایا کہ جب میں دل کے عارضے میں مبتلا اسپتال میں داخل ہوا تو میرے دل کے آپریشن کے وقت میرے ساتھ ہمدردی اور میری ڈھارس کے لیے (LBRA) اسپتال میں موجود رہی، اس میں کوئی شک نہیں کہ لوکل باڈیز رپورٹرز ایسوسی ایشن واقعی صحافیوں کی ہمدرد اور نمائندہ جماعت ہے۔ کنونشن کے شرکاء نے مطالبہ کیا کہ صحافیوں کے لیے جامع تحفظ کا قانون فوری طور پر نافذ کیا جائے، پیشہ ورانہ تربیت کے مواقع بڑھائے جائیں، اور میڈیا مالکان کو صحافیوں کے معاشی حقوق دینے پر آمادہ کیا جائے۔ کراچی کے بلدیاتی مسائل پر خصوصی مکالمے میں شہر کی ٹرانسپورٹ، پانی، صفائی اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی میں میڈیا کے کردار پر تبادلہ خیال کیا گیاکنونشن میں بڑی تعداد میں صحافیوں اور الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ ا افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی کنونشن کا نظم و ضبط مثالی رہا اور بنیادی طور پر لبرا کے کنونشن کو کامیاب ترین کنونشن قرار دیا جا سکتا ہے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سینیئر صحافی امتیاز خان فاران نے کہا کہ ہمیں چاہیے کہ ہم جہاں کراچی پر تنقید کرتے ہیں کراچی کے اداروں پر تنقید کرتے ہیں وہیں کراچی کا اچھا چہرہ بھی ہمیں دکھانا چاہیے انہوں نے کہا کہ کراچی میں ملک کی اہم ترین شخصیات رہتی ہیں جیسے ٓاپ ڈاکٹر ادیب رضوی کو ہائی لائٹ کریں آپ انڈس ہاسپٹل کو ہائی لائٹ کریں ایس آئی یو ٹی کو ہائی لائٹ کریں جاوید میاداد کو ہائی لائٹ کر یں کراچی کا اچھا چہرہ دکھائیں یہی نہیں ہے کہ کراچی میں صرف سڑکوں پر گڑھے پڑے ہوئے ہیں سڑکیں تباہ ہیں بلکہ یہاں اچھے لوگ بھی موجود ہیں جو اچھا کام کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ صحافی کا بھی احتساب ہونا چاہیے اور یہ بہت ضروری ہے انہوں نے کہا کہ صحافیوں کا فرض ہے کہ وہ ایک دوسرے کو سپورٹ کریں اور جب بھی آپ کا کوئی ساتھی صحافی مشکل کا شکار ہو تو اس کے ساتھ کھڑے ہوں اس کی بھرپور حمایت کریں اسی طریقے سے جس طرح سے ہم اسلم شاہ کے ساتھ کھڑے ہوئے اور آج اللہ تعالی کے فضل و کرم سے ان کی ضمانت ہو گئی ہے اور یہ ہمارے لیے ایک ٹیسٹ کیس کی حیثیت رکھتا ہے انشاء اللہ تعالی آئندہ اس قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے صحافی پوری طرح سے تیار ہیں اور جو افسران بدعنوانی میں ملوث ہیں اور وہ صحافیوں کو خبر لگانے سے روکنا چاہتے ہیں ہم ان کے خلاف گھیرا تنگ کریں گے اور مثبت صحافت کو فروغ دیں گے انہوں نے کہا کہ ہم مالکان کی حمایت میں بھی مظاہرے کرتے ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان اداروں میں ہزاروں لوگ کام کرتے ہیں اسی وجہ سے ہم صحافیوں کے روزگار کو تحفظ دینے کے لیے مالکان کا ساتھ دیتے ہیں اور ان کے لیے ا مظاہرے کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ مادر پدرآزاد صحافت کی ہرگز بھی اجازت نہیں ہونی چاہیے انہوں نے کہا کہ جب بھی مجھے موقع ملتا ہے تو میں ہر یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کرتا ہوں میں سمجھتا ہوں کہ یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے ساتھیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے جو بھی یوٹیوب پر کام کر رہے ہیں ان چینلز کو سبسکرائب کریں تاکہ وہ جلد از جلد مونو ٹائز ہوں اور ان کے لیے آمدنی کے ذرائع پیدا ہوں انہوں نے کہا کہ بنیادی طور پر حالات و واقعات کی روشنی میں اب ضرورت اس بات کی ہے کہ صحافی خود ہی اپنے لیے روزگار کے اسباب پیدا کریں اور اس کے لیے سوشل میڈیا سے بہتر اور کوئی ذریعہ نہیں ہو سکتا اور یہ اسی وقت ہو سکتا ہے کہ جب ہم ایک دوسرے کا ساتھ دیں ایک دوسرے کے کام کو آگے بڑھائیں جب تک ہم ایک دوسرے کو سپورٹ نہیں کریں گے اسوقت تک یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا ہے
    چینل 5 کے سی ای او خالد آرائیں نے کہا کہ رکاوٹیں تو ہر کام میں آتی ہیں اسی طرح صحافت کے میدان میں بھی رکاوٹیں آ رہی ہیں لیکن ہم اپنے اتحاد کے ذریعے ان رکاوٹوں کو دور کریں گے اور تمام معاملات کو حل کریں گے انہوں نے کہا کہ میٹرو ون چینل نے نرسری کا کردار ادا کیا وہاں سے صحافیوں نے بہت ساری چیزیں سیکھ کر بڑے اداروں میں کام کرنا شروع کیا اور آج وہ مشہور صحافی بن چکے ہیں انہوں نے کہا کہ ٹی وی چینل میں فرعون بیٹھے ہیں مگر اس کے باوجود لوگوں کا کام بولتا ہے جو لوگ کام اچھا کرتے ہیں ان کو کام کرنے سے کوئی روک نہیں سکتا انہوں نے کہا کہ لوکل باڈیز کی رپورٹنگ کرنے والے بنیادی کام کر رہے ہیں یہ سب سے اہم صحافت ہے انہوں نے کہا گلی محلے کی خبریں بنانا دراصل صحافت کی شہہ رگ ہے انہوں نے صحافیوں سے کہا کہ وہ اپنا کام جاری رکھیں اپنا اتحاد برقرار رکھیں اور مثبت صحافت کو فروخت دیں اس موقع پر چینل فائیو کے بیورو چیف کامران زہری نے بھی خطاب کیا کنونشن میں لبرا کے صدرتنویر سید کے ساتھ ساتھ سرپرست اعلی سینیئر صحا فی شہزاد چغتائی اور سینیئر صحافی اور لبرا کے چیئرمین ندیم صدیقی جنرل سیکرٹری عمران علی شاہ بھی بھرپور انداز میں سرگم نظر آئے اسی کے ساتھ سیکرٹری اطلاعات رضوان جلالی بھی متحرک رہے۔ اس موقع پر سابق ڈی جی کے ڈی نوید انور،کے ڈی اے لیبر یونین یونٹ کے چیف سید عمران جعفری،محمد عبدالمعروف،پیپلزلیبر بیوروکے جنرل سیکریٹری محمد اشرف، سمیت دیگر مزدور رہنما عمر شاہ، عبدالمتین بھی موجود تھے، کنونشن میں سینئر صحافی و ملک کے معروف دستاویزی فلم ساز ادارے “دی امیجز پاکستان پروڈکشن” کے سی ای او شہزاد علی شاہ، چینل فائیو کے کامران زہری، سندھ اسمبلی رپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر عارف ہاشمی، سینئر صحافی جہانگیر سید، سانول شیخ، میٹرو نیوز چینل کے امیر حیدر چانڈیو، تحسین عباسی،عدنان غوری،اسلم خان، محمود الحسن، اسد اللہ صدیقی،تحسین کمال، اعجاز لودھی، فاضل، محمداشتیاق، عدیل احمد، محمد نعیم بیگ،ملک منور،فرحان ہاشمی، اسد ملک، محمد ناصر، فوٹو جرنلسٹ ابوالحسن،محمد جنید، وقار چوہان، جبکہ لوکل باڈیز رپورٹرز ایسوسی ایشن کے تمام اراکین و عہدیداران نے بھی کنونشن کے اجتماع میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

  • ادبی تنظیم   ’’ادب دوست  ‘‘ کے زیر اہتمام عبداللہ گرلز کالج  میں مشاعرہ  رپورٹ :بشیر سدوزئی

    ادبی تنظیم ’’ادب دوست ‘‘ کے زیر اہتمام عبداللہ گرلز کالج میں مشاعرہ رپورٹ :بشیر سدوزئی

    کراچی کو اگر محض عمارتوں کا جنگل اور آبادی کا سیلاب سمجھ لیا جائے تو یہ اس شہر کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ یہ شہر روزِ اول سے زبان و ادب، فہم و فکر اور تخلیق کا وہ زندہ استعارہ رہا ہے جہاں سیاست کی گرد کے ساتھ ساتھ لفظوں کے چراغ بھی جلتے ہیں۔ یہاں آرٹس کونسل آف پاکستان جیسے معتبر ادارے ہیں، فنونِ لطیفہ کی جامعات موجود ہیں، اور سب سے بڑھ کر وہ خاموش مگر مسلسل کوششیں ہیں جو ادب کو زندگی سے جوڑے رکھتی ہیں۔ انہی کوششوں میں ایک معتبر نام گل افشاں اور شاہ فہد کی ادبی تنظیم ‘‘ادب دوست’’ کا ہے۔
    ادب دوست برسوں سے کراچی میں ادب، شعور اور فکری تربیت کی روایت کو بغیر کسی شور شرابے کے روشن رکھے ہوئے ہے۔ بالخصوص تعلیمی اداروں میں نوجوانوں کو حرف کی حرمت، شاعری کے ذوق اور اظہار کی ذمہ داری سے آشنا کرنا اس تنظیم کا نمایاں وصف ہے۔ یہ سہل گراں قدر دبستان کراچی کی ادبی فضا میں ایک منفرد مثال بن چکا ہے، جہاں ادب محض مشغلہ نہیں بلکہ تربیتِ ذہن کا وسیلہ بنتا ہے۔
    اسی سلسلے کی ایک اہم اور بامعنی کڑی عبداللہ گرلز کالج میں منعقد ہونے والا مشاعرہ تھا، جو محض ایک ادبی تقریب نہیں بلکہ نسلِ نو اور شعر کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم کرنے کی کوشش تھی۔ اس مشاعرے کی صدارت پاکستان کے معروف مزاحیہ شاعر خالد عرفان اور نامور استاد و کراچی کی منفرد شاعرہ پروفیسر رضیہ سبحان نے کی، جب کہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر فیاض احمد شاہین نے نہایت سلیقے سے انجام دیے، جو خود بھی ترنم کے بہترین شاعر ہیں۔
    مشاعرے کا آغاز کالج کی سالِ اوّل کی طالبہ دعا کی پرسوز نعتِ مقبول سے ہوا، جس نے فضا کو روحانی وقار عطا کیا۔ اس کے بعد سامیہ ناز کو پہلی شاعرہ کے طور پر مدعو کیا گیا۔ پھر ہما عظمیٰ نے اپنا کلام پیش کیا۔ پروفیسر شائستہ سحر کو جب دعوتِ سخن دی گئی تو انہوں نے دھیمے لہجے میں یہ احتجاج ریکارڈ کرایا کہ شاعری کی دنیا میں ان کی پہچان میں کچھ کوتاہی ہوئی ہے، کیوں کہ وہ اس رتبے سے سینئر شاعرہ ہیں۔ تاہم اس احتجاج کے باوجود انہوں نے کلام سنایا اور بھرپور داد سمیٹی۔
    ہدایت ساحر نئے طرزِ تکلم کے ساتھ کراچی کے ادبی منچ پر نمودار ہو رہے ہیں۔ ان کے ایک شعر پر خالد معین نے برجستہ ایک جملہ کہا ہدایت
    ساحر نے پلٹ کر پیچھے دیکھا تو ‘‘اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی’’ کے مصداق، دوستوں کے طنزیہ نشتر سامنے تھے۔ خالد معین نے صورتِ حال سنبھالتے ہوئے کہا:
    ‘‘جاری رکھو، نوجوانوں کی ضرورت ہے۔’’
    ہدایت ساحر نے اپنا طرز جاری رکھا اور ترنم سے کلام پڑھا اور حاضرین سے داد وصول کی۔
    پروفیسر رضوانہ زائد صدیقی کے بعد مشاعرے کی آرگنائزر اور نسائی لب و لہجے کی منفرد شاعرہ گل افشاں نے کلام سنایا۔ گل افشاں اپنی منفرد اور عوامی شاعری کے باعث نوجوانوں میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔ آج بھی طالبات نے انہیں توجہ سے سنا اور ایک ایک شعر پر داد
    دی۔ ڈاکٹر افتخار ملک نے بھی اپنا کلام پیش کیا۔ طالبات کی جانب سے شعر کو سمجھ کر دی جانے والی داد اس بات کا واضح ثبوت تھی کہ ادب دوست کی محنت رنگ لا رہی ہے۔
    مہمانِ خصوصی ڈاکٹر افتخار ملک ایڈووکیٹ نے کلام پیش کرنے سے قبل نہایت معنی خیز بات کہی کہ:
    ‘‘ہم مشاعرے کی روایت لے کر کالج کالج جا رہے ہیں، اسی باعث آج بچوں اور شاعری کے درمیان رشتہ قائم ہو چکا ہے۔’’
    مختلف کالجوں میں مشاعروں کا انعقاد اور نوجوانوں کی باخبر داد اس بات کا اعلان ہے کہ شعر اب محض اسٹیج تک محدود نہیں رہا بلکہ طالب علموں کے دلوں میں اتر رہا ہے۔
    ‘‘ہم آپ کے لیے آئے ہیں، اور آپ ہمارے لیے’’ افتخار ملک کا یہ جملہ دراصل اسی ادبی رشتے کا اعتراف تھا جو شعراء اور کراچی کے نونہالوں کے درمیان قائم ہو چکا ہے۔
    شہر کے سینئر شاعر و ادیب اور مشاعرے کے مہمان خصوصی خالد معین نے طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اچھے شعر پر داد دینا اور جوش کا اظہار آپ کا حق ہے، مگر تالیاں بجانا مشاعرے کی روایتی صورت نہیں رہی۔ تاہم آپ نئے وقت کی نمائندہ ہیں، اس لیے یہ شوق بھی پورا کریں، مگر ساتھ ساتھ مشاعرے کی روایت اور آداب کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔
    خالد معین نے موقع کی مناسبت سے اپنا معروف کلام پیش کر کے بھرپور داد وصول کی۔ اس موقع پر ہمیں جوانی کے وہ دن یاد آ گئے جب 1989ء میں، ایم اے سالِ دوم ابلاغیات کے امتحانات کی تیاری کے دوران، مسلم لیگ کوارٹرز ناظم آباد میں ایس ایم شجاع عباس کے گھر قیام کے دوران، خالد معین نے پہلی بار یہ کلام سنایا تھا۔ آج جب انہوں نے وہی نظم طالبات کے سامنے پڑھی تو کہا:
    ‘‘میری بچیوں اور اساتذہ کے لیے یہ دعا ہے’’
    رات آنکھوں میں کاٹنے والو، شاد رہو آباد رہو
    بارِ ہجر اٹھانے والو، شاد رہو آباد رہو
    کچی عمر میں کل کے دکھوں سے آج الجھنا ٹھیک نہیں
    پہلا ساون بھیگنے والو، شاد رہو آباد رہو
    اب آئے ہو سارے دیے جب ایک ایک کر کے بجھ بھی گئے
    لیکن لوٹ کے آنے والو، شاد رہو آباد رہو
    خانہ بدوشی ایک ہنر ہے، رفتہ رفتہ آئے گا
    رنجِ مسافت کھینچنے والو، شاد رہو آباد رہو
    ایک دریچے سے دو آنکھیں روز صدائیں دیتی ہیں
    رات گئے گھر لوٹنے والو، شاد رہو آباد رہو
    ہجر زدوں پر خود نہیں کھلتا کس عالم میں رہتے ہیں
    حال ہمارا پوچھنے والو، شاد رہو آباد رہو
    پروفیسر رضیہ سبحان قریشی، جو اسی کالج کی سابق پرنسپل رہ چکی ہیں، کلام پیش کرنے سے قبل یادوں کے دریچوں میں کھو گئیں۔ جذبات کے بہاؤ میں طویل گفتگو کے بعد جب گل افشاں نے مسکراتے ہوئے یاد دہانی کرائی کہ
    ‘‘میڈم، کلاس نہیں، مشاعرہ چل رہا ہے’’
    تو انہوں نے کہا:
    ‘‘میں جذباتی ہو گئی تھی’’
    اور پھر یہ شعر پڑھا:
    ‘‘یہ تو وہی جگہ ہے، گزرے تھے ہم جہاں سے’’
    چند لمحے توقف کے بعد بولیں:
    ‘‘یہ میرا مہکا ہے، آدھی سے زیادہ عمر یہاں گزاری ہے۔’’
    طالبات نے تالیوں کی گونج میں اپنی سابق پرنسپل کو خوش آمدید کہا۔
    صدرِ مشاعرہ خالد عرفان نے بھی ماضی کی ایک جھلک دکھاتے ہوئے کہا کہ اس کالج کی دیواریں ان کے لیے اجنبی نہیں، گرلز کالج بننے سے پہلے یہ بوائز کالج تھا اور وہ خود یہاں طالب علم رہ چکے ہیں۔ یوں یاد، لفظ اور لمحہ ایک ہی اسٹیج پر ہم کلام ہو گئے۔ خالد عرفان کی شاعری نے ہال میں گویا طوفان برپا کر دیا۔ راہداریوں میں کھڑی طالبات بھی ہال میں امڈ آئیں اور ہر مصرع پر داد و شور کا ایسا عالم تھا کہ فضا گونج اٹھی۔ طنز و مزاح کے اس بے تاج بادشاہ نے ایسی یادیں چھوڑیں کہ سامعین مدتوں مسکراتے رہیں گے۔
    تقریب کے اختتام پر پرنسپل پروفیسر نصرت شمس ملکانی نے مہمانوں اور منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کالج اور شعراء کے درمیان یہ خوشگوار تعلق برقرار رکھنے کے لیے سالانہ مشاعرہ منعقد کیا جاتا ہے۔ طالبات کی دلچسپی اس بات کی گواہی تھی کہ اگر خلوص، تسلسل اور مقصد
    واضح ہو تو ادب آج بھی نئی نسل کے دلوں میں اپنی جگہ بنا سکتا ہے۔
    کراچی کی ادبی فضا میں ایسے چراغ کم ہی ہیں، مگر جب جلتے ہیں تو دور تک روشنی دیتے ہیں۔ ادب دوست، گل افشاں، شاہ فہد اور ان کی ٹیم کی یہ کاوش اسی روشن روایت کا تسلسل ہے،خاموش، مگر دیرپا۔ شاعر خورشید احمد جو تاخیر سے پہنچے مشاعرے کا حصہ نہیں بن سکے کہ جب مجلس صدور مشاعرہ پڑھ رہی تھی تو وہ ہال میں داخل ہوئے انتظامیہ اس شیش و پنچ میں پھنس گئی کہ اب کیا کیا جائے تاہم مجلس صدور سے فیصلہ آیا کہ مشاعرے کی یہ روایت نہیں کہ اب نئے آنے والے کو مشاعرہ پڑھنے کی اجازت دی جائے۔ پروفیسر انیس زیدی، پروفیسر رخسانہ ناز عنبرین سمیت بڑی تعداد میں معززین شہر اور اساتذہ نے اس مشاعرے میں خصوصی شرکت کی۔

  • گل پلازہ آتشزدگی؛ جاں بحق افراد کی تعداد 14 ہوگئی، 73 افراد تاحال لاپتا

    گل پلازہ آتشزدگی؛ جاں بحق افراد کی تعداد 14 ہوگئی، 73 افراد تاحال لاپتا

    کراچی:(اسٹاف رپورٹر)ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ مال میں ہفتے کی رات لگنے والی آگ پر بالآخر 36 گھنٹے گزرنے کے بعد قابو پا لیا گیا ہے،آتشزدگی کے باعث عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے۔
    فائر فائٹرز کو متاثرہ عمارت سے گزشتہ رات سے اب تک مزید ایک بچے سمیت 5 افراد کے اعضاء ملے ہیں، جس کے بعد ایک فائر فائٹر سمیت ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 15 ہوگئی ہے جبکہ 54 افراد تاحال لاپتا ہیں۔
    ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق اب تک مرنے والوں میں ایک خاتون اور دیگر تمام مرد ہیں، آپریشن کے دوران لاشیں نکلنے کا سلسلہ بھی جاری ہے جبکہ ناقابل شناخت لاشوں کو امانتاً ایدھی سرد خانے میں رکھوا دیا گیا ہے۔
    چیف فائر آفیسر ہمایوں احمد نے میڈیا سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گل پلازہ میں مرکزی آگ کو مکمل طور پر بجھا دیا گیا ہے، اور اس وقت کولنگ کا عمل چل رہا ہے۔
    اس سے قبل آج صبح بروز پیر کے مطابق گل پلازہ میں لگنے والی اگ پر 36 گھنٹے گزرنے کے باوجود تاحال مکمل طور پر قابو نہیں پایا جا سکا تھا، عقبی حصے کی طرف سیکنڈ فلور اور گراؤنڈ فلور میں اب بھی آگ لگی ہوئی ہے۔
    گل پلازہ کی عقبی سائیڈ پر فائر بریگیڈ کی تمام گاڑیوں نے کام بند کر دیا، کیونکہ آگ بجھانے کے عمل کے دوران عمارت سے آوازیں آنا شروع ہو گئی ہیں۔
    فائر بریگیڈ کے مطابق عمارت مکمل طور پر خستہ حال ہو چکی ہے اور اس کے گرنے کا خدشہ ہے اسی لیے فائر فائٹنگ روک دی گئی ہے، صرف ملبے کو ہٹایا جا رہا ہے۔
    تفصیلات کے مطابق گل پلازہ کے قریب عمارت میں آتشزدگی کے باعث ملبے تلے سے رات گئے ایک شخص کی لاش کو چھیپا حکام نے نکال لیا ہے جس کی شناخت تاحال نہ ہو سکی ہے، جبکہ دوسری لاش ٹکڑوں کی صورت میں برآمد ہوئی جسے ضابطے کی کارروائی مکمل کرنے کے بعد سول اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
    کراچی ایم اے جناح روڈ پر واقع معروف شاپنگ سینٹر گل پلازہ میں ہفتے کی رات سوا دس بجے آگ بھڑک اٹھی جو بڑھتی ہی چلی گئی، فائربریگیڈ کی گاڑیاں بڑی تعداد میں پہنچیں مگر آگ بڑھتی ہی رہی، آتشزدگی سے عمارت کے دو حصے گر گئے۔

    چیف فائر افسر ہمایوں نے بتایا تھا کہ گل پلازہ میں لگنے والی آگ پر 80 فیصد قابو پا لیا گیا ہے اور کئی مقامات پر اگ کے شعلے تھم گئے، فائر اینڈ ریسکیو رضاکاروں کو اندر بھیجنا شروع کر دیا گیا ہے۔
    ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے گل پلازہ میں لگنے والی آگ کے حوالے سے بتایا کہ پولیس نے 59 افراد کی مسنگ پر مختلف لوگوں سے رابطہ کیا اور تمام افراد کے ان کی فیملیز سے موبائل نمبر حاصل کیے گئے ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ اب تک 26 افراد کی لوکیشن گل پلازہ کے پاس ملی، مزید افراد کی لوکیشن کی اسکرونٹی کررہے ہیں اور پولیس موبائل نمبرز پر مزید کام کر رہی ہے۔
    اسپتالوں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق دھوئیں سے حالت غیر ہونے والے افراد کو ابتدائی طبی امداد کے بعد گھر بھیج دیا گیا، دو فائر فائٹرز ارشاد اور بلال زخمی ہوئے جو پی این ایس شفا میں زیر علاج ہیں، مجوعی طور پر تیس افراد زخمی ہوئے جن میں سے 13 برنس سیںٹر، پندرہ اس کے ٹراما سینٹر میں اور دو جناح اسپتال لائے گئے۔
    ریسکیو حکام کی جانب سے جاں بحق اور زخمی افراد کی فہرست جاری
    ریسکیو حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں کاشف ولد یونس (40 سال)، فراز ولد ابرار (55 سال)، محمد عامر ولد نامعلوم (30 سال)، فرقان ولد شوکت علی (25 سال) سمیت 5 دیگر افراد شامل ہیں جن کی لاشوں کی تاحال شناخت نہیں ہو سکی۔
    زخمی اور متاثرہ افراد میں حسیب ولد وسیم (25 سال)، وسیم ولد سلیم (20 سال)، دانیال ولد سراج (20 سال)، صادق ولد نامعلوم (35 سال)، حمزہ ولد محمد علی (22 سال)، رحیم ولد گل محمد (25 سال)، فہد ولد محمد ایوب (20 سال)، جواد ولد جاوید (18 سال)، ایان ولد نامعلوم (25 سال)، عبداللہ ولد ظہیر (20 سال)، عثمان ولد اصغر علی (20 سال)، فہد ولد حنیف (47 سال)، زین ولد عبداللہ (23 سال)، نادر ولد نامعلوم (50 سال) اور دیگر شامل ہیں۔
    تاحال 59 افراد لاپتا، ناموں کی فہرست سامنے آگئی
    قبل ازیں ڈپٹی کمشنر کو لوگوں نے شکایات درج کرائی تھیں کہ 56 افراد لاپتا ہیں جبکہ صدر گل پلازا تاجر ایسوسی ایشن کے مطابق 80 سے 100 افراد عمارت میں موجود ہوسکتے ہیں تاہم ڈی آئی جی ساؤتھ نے بتایا کہ 59 افراد لاپتا ہیں جن کی تفصیلات حاصل کرلی گئی ہیں۔
    55 سے زائد افراد کیلئے لوگوں نے ہم سے رابطہ کیا ہے، فیصل ایدھی
    ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے کہا ہے کہ عمارت میں 55 سے زائد افراد لاپتا ہیں جن کے ورثاء نے ہم سے رابطہ کیا ہے، فائرفائٹر اپنی جانوں کی قربانی دیکر آگ بجھانے اور لوگوں کو بچانے کی کوشیش کررہے ہیں، عوام سے گزارش ہے پولیس اور انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں عمارت سے دور ہیں۔
    تاجروں کے نقصانات کا ازالہ کریں گے، وزیراعلیٰ سندھ کا دورہ
    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گل پلازا کا دورہ کیا۔ میڈیا سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ لوگ یہاں خریداری کرنے آتے ہیں، آج کل شادیوں کا سیزن ہے، کل رات 10بجے کے بعد یہاں آگی لگنے کی اطلاع ملی، ہماری میونسپل اتھارٹیز نے فوری ریسپانس کیا اور مجھے اطلاع دی، 10 بج کر 27 منٹ پر یہاں پہلا فائر ٹینڈر پہنچا، آگ بجھانے کی کارروائی شروع ہوئی، تقریباً 26 فائر ٹینڈرز، چار اسنارکل اور 10 باؤزر نے حصہ لیا، کے ایم سی کے علاوہ پاکستان نیوی نے بھی اپنا ایک اسنارکل دیا؛ سول ایوی ایشن اتھارٹی سے بھی 3 آگ بجھانے کی مشینیں آئیں لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہ ابھی تک کی معلومات کے مطابق 6 لوگوں کی جانیں گئی ہیں جس میں ایک کے ایم سی کا فائرفائٹر بھی ہے۔
    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 22 لوگ زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد دی گئی، افسوس کی بات یہ ہے کہ 58 یا 60 سے بھی زائد افراد لاپتا ہیں، اللہ تعالیٰ اُن کو زندگی دے، یہ بیسمنٹ گراؤنڈ اور تین منزلہ عمارت تھی، یہاں تقریباً ایک ہزار سے زائد دکانیں تھیں، جس طریقے سے آگ لگی ہے ابھی حتمی طورپر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، کچھ کہتے ہیں کہ کسی ایک دکان میں شارٹ سرکٹ کے بعد یہ آگ لگی اور وہاں ایسا میٹریل موجود تھا کہ جس کی وجہ سے آگ فوری پھیل گئی، فائر فائٹرز کو اندر جانے کی جگہ نہیں مل رہی تھی جس کی وجہ سے نقصانات میں اضافہ ہوا۔
    ایک سوال پر انہوں ںے کہا کہ وزیراعظم صاحب نے مجھ سے ذاتی طور پر رابطہ نہیں کیا، ہوسکتا ہے حکومت سے کیا ہو، مجھے جلدی آنا چاہیے تھا مگر افسوس کہ میں یہاں موجود نہیں تھا، میں تقریباً 5 بجے کے قریب شہر آیا ہوں، میں تمام تر حالات کا جائزہ لے کر یہاں آیا ہوں، جو لوگ انتشار پھیلاتے ہیں میں اُن پر دھیان نہیں دیتا۔
    ان کا کہنا تھا کہ کوشش کریں گے کہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیں، تاجروں کے نقصان کا ازالہ کریں گے، ہمارے کے ایم سی اور 1122 کے فائر فائٹرز والوں کے پاس مہارت موجود ہے، اگر کسی اور کی ضرورت پڑی تو ضرور اپروچ کریں گے، کسی سے مدد طلب کرنا کوئی مضحکہ عمل نہیں ہوگا، یہ بلڈنگ بھی 80 کی دہائی میں تعمیر ہوئی ہے، اُس وقت یا اُس سے پہلے ایسا نظام لایا گیا جس کو ہم بھی نہ سنبھال سکے۔
    گل پلازا میں 1200 دکانیں موجود تھیں، ڈی آئی جی ساؤتھ
    ڈی آئی جی ساؤتھ نے بتایا ہے کہ گل پلازا میں تیسرے درجے کی آتشزدگی کا واقعہ ہوا، پولیس، سیکیورٹی ادارے اور ریسکیو ٹیمیں ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ریسکیو آپریشن میں مصروف عمل ہیں، آگ پر کافی حد تک قابو پالیا ہے، سندھ حکومت کی ہدایت پر ساؤتھ زون پولیس نے ہیلپ لائن قائم کر دی ہے۔
    انہوں ںے بتایا کہ لاپتا افراد سے متعلق معلومات جمع کی جارہی ہیں، حادثے میں رات سے اب تک 6 لاشیں نکال لی گئی ہیں جو کہ شناخت کے بعد ورثا کے حوالے کردی ہیں،ریسکیو اہلکار فرقان بھی شہدا میں شامل ہے، 22 زخمی سول اسپتال میں زیرِ علاج ہیں، گل پلازا میں 1200 دکانیں موجود تھیں۔
    ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق گل پلازا کے اطراف پولیس کی اضافی نفری تعینات ہے، ریسکیو ٹیموں کے لیے راستے کلیئر رکھے جا رہے ہیں، آگ لگنے کی اصل وجہ کولنگ کے بعد تحقیقات میں سامنے آئے گی۔
    فائر بریگیڈ کی 20 سے زائد گاڑیوں نے آپریشن میں حصہ لیا
    فائر بریگیڈ حکام کے مطابق عمارت میں آگ رات گئے لگی، آگ کو تیسرے درجے کی قرار دیا گیا، گل پلازا کے قریب عقبی حصہ گرنے سے ایک فائر فائٹر دب کر جاں بحق ہوا، شہر بھر سے 20 سے زائد فائر بریگیڈ کی گاڑیاں آپریشن میں مصروف ہیں، عمارت کے باہر دو اسنارکل بھی آگ پر قابو پانے میں مصروف ہیں۔
    فائر بریگیڈ حکام نے بتایا کہ عمارت کی صورتحال مخدوش ہے اس لیے عمارت کے اندر داخل نہیں ہوا جاسکتا، عمارت سے ملبہ ہٹانے کے بعد صورتحال واضح ہوسکے گی۔
    چیف فائر آفیسر نے بتایا کہ گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں اور گودام آگ کی لپیٹ میں ہیں، آگ کو تیسرے درجے کی قرار دے کر شہر بھر سے فائر ٹینڈرز طلب کرلیے گئے ہیں، پھنسے ہوئے افراد کو اسنارکل کی مدد سے نکالا جا رہا ہے۔
    حکام کے مطابق شاپنگ پلازا پر لگی آگ تیسری منزل تک پہنچ گئی جبکہ گل پلازا میں بیسمنٹ مارکیٹ بھی موجود ہے۔ آگ کے باعث عمارت خستہ حال ہو چکی اور کسی بھی وقت گر سکتی ہے۔
    سی پی ایل سی ہیلپ ڈیسک قائم، لاشوں کی شناخت ڈی این اے سے ہوگی، 40 افراد نے رابطہ کرلیا
    سی پی ایل سی شناخت پروگرام کی ٹیم نے سول اسپتال ٹراما سینٹر کے باہر کیمپ لگادیا۔ انچارج عامر حسن کے مطابق متاثرین اپنے لاپتا پیاروں سے متعلق تفصیلات سی پی ایل سی ہیلپ ڈیسک پر فراہم کرسکتے ہیں، شناخت ٹیم سانحات میں جاں بحق افراد کی درست شناخت اور ورثاء کا سراغ لگانے کا کام انجام دیتی ہے
    انچارج کے مطابق ملبے اور عمارت میں اب بھی کئی افراد کی موجودگی کا خدشہ ہے، اب تک 6 لاپتا افراد کے لواحقین نے رابطہ کرکے ان کی تفصیلات جمع کرائی ہیں، سی پی ایل سی پروگرام ناقابل شناخت لاشوں کی ڈی این اے کی مدد سے شناخت کو ممکن بناتا ہے، ماضی میں پی آئی اے طیارہ حادثہ، سانحہ بیلا، نوری آباد اور دیگر میں جاں بحق افراد کی لاشوں کی شناخت اس ہی ٹیم نے ممکن بنائی تھی۔
    انچارج نے مزید بتایا کہ اب تک 40 افراد ہمارے پاس رجسٹریشن کروا چکے پیں۔
    ترجمان ریسکیو 1122 حسان الحسیب خان نے بتایا کہ گل پلازا کے قریب دکانوں میں آتشزدگی کی اطلاع ملی جس کے بعد فائر اینڈ ریسکیو ٹیم مع ایمبولینس اور فائر بریگیڈ ٹرک جائے وقوعہ پر روانہ کی گئی۔
    رپورٹ کے مطابق رات 10:15 بجے سے لگنے والی آگ پر قابو پانے کی فائر بریگیڈ کو کوششیں جاری ہیں لیکن ریسکیو حکام کی کوششوں کے باوجود آگ دوبارہ بھڑک جاتی ہے۔
    رپورٹر کے مطابق فائر فائٹرز اور ریسکیو حکام دوران آتشزدگی عمارت کے اندر داخل نہیں ہوسکے جس سے آگ کی شدت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے جبکہ عمارت کے ستون وغیرہ ٹوٹ کر گرگئے۔
    ترجمان واٹر بورڈ نے بیان میں بتایا کہ گل پلازا میں آتشزدگی کے واقعے پر فائر بریگیڈ اور ریسکیو 1122 نے واٹر کارپوریشن سے فوری مدد طلب کی اور سی ای او احمد علی صدیقی کی ہدایت پر نیپا اور صفورہ ہائیڈرنٹس پر ایمرجنسی نافذ کردی۔
    انہوں نے کہا کہ واٹر کارپوریشن کی جانب سے فوری طور پر واٹر ٹینکرز جائے وقوع پر روانہ کردیے گئے، انچارج ہائیڈرنٹس سیل محمد صدیق تنیو فائر بریگیڈ اور ریسکیو حکام سے مسلسل رابطے میں رہے۔
    ترجمان نے بتایا کہ فوکل پرسن سی ای او برائے ہائیڈرنٹس سیل شہباز بشیر آپریشن کی خود نگرانی کر رہے ہیں، آگ بجھانے کے عمل میں فائر بریگیڈ کو بلا تعطل پانی کی فراہمی یقینی بنائی گئی اور واٹر کارپوریشن فائر بریگیڈ اور ریسکیو اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون رہا۔
    میئر کراچی کی ہدایت پر کے ایم سی کی ہیوی مشینری گل پلازا پہنچیں
    میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی ہدایت پر میونسپل کمشنر اور دیگر افسران کی سربراہی میں بلدیہ عظمیٰ کراچی کی ہیوی مشینری جائے وقوع پر پہنچی۔
    ترجمان کے مطابق میونسپل کمشنر سید محمد افضل زیدی نے ریسکیو آپریشن کی براہِ راست نگرانی کی۔ میونسپل سروسز اور فائر بریگیڈ کی مشینری موقع پر موجود رہی ضرورت پڑنے پر مزید مشینری بھی الرٹ رہی۔
    سندھ رینجرز کے جوان بھی ریسکیو آپریشن میں شامل
    واقعے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈی جی رینجرز سندھ کی خصوصی ہدایت پر سندھ رینجرز کے چاق و چوبند دستے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور امدادی کاموں میں حصہ لیا۔
    گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کا دورہ
    گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری گل پلازا پہنچے اور متاثرہ تاجروں سے ملاقات کی۔ انہوں نے آگ لگنے کے واقعے پر بریفنگ لی جبکہ ریسکیو و امدادی کارروائیوں کا جائزہ بھی کیا۔
    گورنر سندھ نے متاثرین کے نقصانات اور بحالی کے اقدامات پر فوری ہدایات بھی جاری کیں۔
    بلاول بھٹو کا جانی و بھاری مالی نقصان پر اظہار افسوس
    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ہولناک آگ کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور بھاری مالی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
    چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آتشزدگی کے واقعے میں جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مشکل گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
    بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعلیٰ سندھ اور میئر کراچی کو ہدایت کی کہ آگ بجھانے اور ریسکیو آپریشن کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں اور متاثرین کو ہر ممکن امداد فراہم کی جائے۔
    میئر کراچی کا اظہار افسوس
    میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے گل پلازا میں آتشزدگی کے باعث جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جانی نقصان پر شدید افسوس ہے، غمزدہ لواحقین کے اس مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔میئر کراچی نے کہا کہ فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر موجود ہیں جبکہ ریسکیو اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔میئر کراچی نے بلدیہ عظمیٰ کے تمام محکموں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ متاثرین کو ہر ممکن امداد اور فوری ریسکیو فراہم کیا جائے تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
    وفاقی سطح پر سندھ حکومت کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کیلئے تیار ہیں، مصطفیٰ کمال
    وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کراچی ایم اے جناح روڈ پر گل پلازا میں آتشزدگی کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جاں بحق افراد کے لواحقین کے غم میں برابر کا شریک ہوں۔انہوں نے کہا کہ آگ کے واقعے میں زخمی ہونے والے افراد کی جلد صحتیابی کے لیے دعاگو ہوں۔ وزیر صحت نے ہدایت کی کہ زخمیوں کو فوری اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔مصطفیٰ کمال نے پیش کش کی کہ وفاقی سطح پر سندھ حکومت کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کیلئے تیار ہیں، ریسکیو ادارے متاثرہ عمارت میں پھنسے افراد کو بحفاظت نکالنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں، آگ پر جلد از جلد قابو پانا اور مزید جانی نقصان سے بچاؤ اولین ترجیح ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی و شہری حکومتیں فائر بریگیڈ اور ریسکیو آپریشن کو مزید مؤثر بنائیں۔
    اسپیکر سندھ اسمبلی کا اظہار تعزیت
    اسپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ نے گل شاپنگ پلازہ میں آتشزدگی کے افسوسناک واقعے اور قیمتی جانوں کے ضیاع و مالی نقصان پر افسوس کرتے ہوئے لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔اسپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعا اور متعلقہ اداروں کو ہر ممکن معاونت کی ہدایت بھی کی ہے۔
    اپوزیشن لیڈر کا اظہار افسوس
    اپوزیشن لیڈر سندھ علی خورشیدی نے گل پلازہ میں آتشزدگی کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کو سانحہ قرار دے دیا۔علی خورشیدی نے کہا کہ گل پلازہ سانحہ دلخراش ہے، جاں بحق افراد کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں، آتشزدگی کے واقعات پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات نہ ہونا تشویشناک ہے۔اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی نے کہا کہ مزید جانی نقصان سے بچاؤ کے لیے ریسکیو اور امدادی کارروائیوں میں تیزی لائی جائے، متاثرین کو ہر ممکن امداد اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔علی خورشیدی نے جاں بحق فائر فائٹر کی نماز جنازہ میں بھی شرکت کی۔

  • گل پلازہ  آتشزدگی میں تخریب کاری کے شواہد نہیں ملے: کراچی پولیس چیف

    گل پلازہ آتشزدگی میں تخریب کاری کے شواہد نہیں ملے: کراچی پولیس چیف

    کراچی (اسٹاف رپورٹر)کراچی پولیس چیف آزاد خان نے سانحہ گل پلازہ کی ابتدائی تحقیقات میں تخریب کاری کے امکان کو مسترد کردیا۔گل پلازہ کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے کہا کہ گل پلازہ واقعے کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق تخریب کاری کے کوئی شواہد نہیں ملے۔
    14 لاشیں نکالی جاچکیں، مزید لاشیں نکل سکتی ہیں: کراچی پولیس چیف
    انہوں نے کہا کہ ریسکیو آپریشن کے دوران اب تک 14 افراد کی لاشیں نکالی جاچکی ہیں اور مزید لاشیں نکلنے کا خدشہ ہے جب کہ اسپتال میں اب کوئی زخمی زیر علاج نہیں۔
    سانحہ گل پلازہ
    ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں آگ ہفتے کی رات سوا 10 بجے کے قریب لگی، گراؤنڈ فلور پر لگنے والی آگ دیکھتے ہی دیکھتے تیسری منزل تک پہنچی جس کے نتیجے میں خوفناک آتشزدگی سے عمارت کے کئی حصے گرگئے۔
    فائر فائٹرز نے 33 گھنٹے بعد آگ پر مکمل طور پر قابو پالیا جس کے بعد اب کولنگ کا عمل جاری ہے۔
    چیف فائر آفیسر کا بیان
    چیف فائر آفیسر کے مطابق گل پلازہ میں آرٹیفیشل گملوں اور پھولوں کی دکان میں ہفتے کی شب 10 بج کر14 منٹ پرآگ لگی تھی جب کہ 10 بج کر 38 منٹ پرریسکیو 1122 کو آگ کی اطلاع دی گئی۔
    ہجوم اور ٹریفک مینجمنٹ نہ ہونےسے بھی پانی کی کمی فوری دور نہ ہوسکی: حکام
    چیف فائر آفیسر نے بتایا کہ 10 بج کر 57 منٹ پر 1122 کے 2 فائر ٹینڈر موقع پر پہنچے، گل پلازہ میں تقریباً سے 14 سے 16 داخلی اور خارجی راستے ہیں مگر تنگ داخلی اور خارجی راستوں کی وجہ سے آگ بجھانے میں شکلات کا سامنا رہا۔
    چیف فائر آفیسر کے مطابق عمارت کے تمام داخلی اورخارجی راستوں میں دھواں بھر گیا تھا، آگ بجھانے کے 2 سے 3 گھنٹوں کے دوران پانی کی قلت ہوگئی تھی اور پھر پانی کے لیے آنے والے ٹینکر گرومندر کے قریب تعمیراتی کام میں پھنس گئے۔چیف فائر آفیسر کا کہنا ہے کہ ہجوم اور ٹریفک مینجمنٹ نہ ہونےسے بھی پانی کی کمی فوری دور نہ ہوسکی جب کہ آگ بجھانے کے لیے فوم کا استعمال پہلے ہی دن کیا گیا۔چیف فائر آفیسر نے مزید بتایا کہ 3 مختلف مقامات سے عمارت کے حصے گرچکے ہیں اور عمارت مخدوش ہوچکی ہے، اب بھی 12 فائر ٹینڈرز، 6 واٹرباوزر اور 2 اسنارکل موقع پر موجود ہیں، گل پلازہ کی آگ 90 فیصد بجھادی گئی ہے اور عمارت کے اندر موجود سامان میں 10 فیصد آگ لگی ہوئی ہے، رات گئے تک گراؤنڈ کی تمام دکانوں کو آگ بجھادی گئی تھی۔

  • گل پلازہ میں آگ سے نمٹنےکے انتظامات نہیں تھے: رپورٹ

    گل پلازہ میں آگ سے نمٹنےکے انتظامات نہیں تھے: رپورٹ

    کراچی (اسٹاف رپورٹر)کراچی کے گل پلازہ میں لگنے والی آگ سے متعلق حکام کی رپورٹ سامنے آگئی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ گل پلازہ میں ہنگامی اخراج کی جگہ نہیں تھی، عمارت میں آگ سے نمٹنے کے لیےانتظامات بھی نہیں تھے جبکہ تنگ داخلی وخارجی راستوں کے باعث فائر فائٹنگ میں تکنیکی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ 1995 میں تعمیر ہونے والی عمارت ابتدائی طور پر بیسمنٹ،گراؤنڈ اور پہلی منزل تک تھی۔رپورٹ کے مطابق 2003 تک مختلف اوقات میں 3 فلورز تعمیرکیےگئے، عمارت میں 500 دکانوں کی گنجائش تھی لیکن دکانوں کی تعداد 500 سے بڑھ کر 1200 ہوگئی تھی۔کراچی کی ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں تیسرے درجے کی آگ لگنے کے نتیجے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، آگ کی شدت سے عمارت کے کئی حصے گرگئے۔آگ ہفتے کی رات سوا 10 بجے کے قریب گل پلازہ کے گراؤنڈ فلور پر لگی جو دیکھتے ہی دیکھتے تیسری منزل تک پہنچ گئی

  • سانحہ گل پلازہ سندھ حکومت کی نااہلی کھل کر سامنےآ گئی: صدر انجمن تاجران سندھ

    سانحہ گل پلازہ سندھ حکومت کی نااہلی کھل کر سامنےآ گئی: صدر انجمن تاجران سندھ

    کراچی:(نمائندہ خصوصی) انجمن تاجران سندھ کے صدر جاوید قریشی نے کہا ہےکہ حکومت کی نااہلی ہے وہ لوگوں کو ریسکیو نہیں کرسکی۔نجی ٹی وی کے پروگرام ’جیو پاکستان‘ میں گفتگو کرتے ہوئے جاوید قریشی نے کہا کہ گل پلازہ کے واقعے میں مالی اور جانی نقصان تاجروں کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے اور الزامات بھی ہم پر ہی لگائے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی نااہلی ہے کہ وہ لوگوں کو ریسکیو نہیں کرسکی، 34 گھنٹے میں بھی ریسکیو کا کام مکمل نہیں ہوا، حکومت کو ناکامی کا اعتراف کرنا چاہیے۔صدر انجمن تاجران سندھ کا کہنا تھاکہ دیکھ بھال ( مینٹیننس) کی رقم چوکیداری سسٹم، مینٹیننس اور جنریٹر کے ڈیزل پر خرچ ہوتی ہے، گل پلازہ کے بیسمنٹ میں پارکنگ تھی جس میں دکانیں بنا دی گئیں، وہاں بیسمنٹ سمیت گراؤنڈ پلس ون کی اجازت تھی جس میں توسیع ہوتی گئی۔جاوید قریشی نے مزید کہا کہ گل پلازہ میں تمام توسیع قانونی طریقے سے کی گئی۔

  • ٹرمپ ، خامنہ ای کو قتل کرنے کی کوشش کرینگے: سابق امریکی سفیر

    ٹرمپ ، خامنہ ای کو قتل کرنے کی کوشش کرینگے: سابق امریکی سفیر

    نیویارک (فارن ڈیسک )اسرائیل کے لیے سابق امریکی سفیر نے دعویٰ کیا ہےکہ صدر ٹرمپ ایرانی سپریم لیڈر کو قتل کرنے کی کوشش کریں گے۔
    سابق امریکی سفیر ڈان شپیرو سابق امریکی صدر بارک اوبامہ کے دور صدارت میں اسرائیل میں امریکی سفیر تعینات تھے۔
    اسرائیلی خبر رساں ادارے کے مطابق ایک انٹرویو میں سابق امریکی سفیر ڈان شپیرو نے کہا کہ صدر ٹرمپ آنے والے ہفتوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو قتل کرنے کی کوشش کریں گے۔
    سابق امریکی سفیر کا دعویٰ اس وقت سامنے آیا ہے جب ایرانی سپریم لیڈر نے یہ الزام عائد کیا کہ ایران میں تشدد، مظاہروں اور قتل میں امریکی صدر ملوث ہیں۔
    ڈان شپیرو نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سے متعلق کہا کہ اب وہ 86 برس کے ہوچکے ہیں اور بیمار آدمی ہیں لہٰذا ایران کو اس وقت ایک نئی قیادت کی ضرورت ہے۔
    اس کے علاوہ سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری بیان میں سابق امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ جلد امریکا کا ایک بڑا بیڑا مشرق وسطیٰ میں موجود ہوگا جو ایران پر حملے کو نہ صرف آسان بنائے گا بلکہ ایران کے جواب کی صورت میں دفاعی تیاریوں میں بھی مدد دے گا۔
    انہوں نے کہا کہ امریکا ایرانی فورسز پر مزید حملے کرسکتا ہے۔

  • وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا ایرانی ہم منصب سے رابطہ، خطے کی صورتحال پر گفتگو

    وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا ایرانی ہم منصب سے رابطہ، خطے کی صورتحال پر گفتگو

    اسلام آباد: (نمائندہ خصو صی )پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اس رابطے میں دونوں رہنماؤں نے ایران اور خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے خطے میں امن و استحکام کے لیے عباس عراقچی سے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔اس کے علاوہ دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور پر دوطرفہ مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

  • جنید صفدر کی مہندی کی تقریب، تصاویر جاری

    جنید صفدر کی مہندی کی تقریب، تصاویر جاری

    لاہور:(نمائندہ خصوصی)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر کی مہندی کی تقریب جاتی امرا میں ہوئی جہاں دولھا اور دلہن کے خاندانوں اور دیگر مہمانوں نے شرکت کی۔جنید صفدر نے مہندی کی تقریب میں گہرے نیوی بلیو رنگ کا روایتی کرتا زیب تن کیا، کرتے پر سنہری بٹن اور سادہ کٹ نے شاہانہ تاثر دیا اور لباس کے ساتھ سنہری، براؤن شال کو روایتی انداز میں کندھے پر ڈالا گیا۔جنید صفدر کی شال کا ریشمی تاثر مہندی کی تقریب کے رنگوں سے ہم آہنگ نظر آیا، نیوی بلیو اور سنہری امتزاج نے کلاسک ویڈنگ پیلیٹ کو اجاگر کیا۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے نواسے اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر اور شانزے علی روحیل کی مہندی کی تقریب جاتی عمرہ میں جاری ہیں، یامہندی کی تقریب میں شریف فیملی اور شیخ روحیل اصغر فیملی کے افراد و عزیز و اقارب شریک ہیں۔جنید صفدر کی مہندی کی تقریب میں 350مہمانوں کی ضیافت کا اہتمام کیا گیا، شریف فیملی کی جانب سے روایتی و دیسی پکوان بھی تیار کیے گئے، مہمانوں کی تواضع سوپ، چکن ڈمپورہ، دال گوشت، آلو گوشت، وائٹ رائس، باربی کیو، گاجر کا حلوہ اور دال کا حلوہ سمیت مختلف ڈشز سے کی گئی۔جنید صفدر کی بارات آج 17 جنوری کو دوپہر ایک بجے لیک سٹی جائے گی، بارات میں شریف فیملی و عزیز و اقارب کو مدعو کیا گیا ہے اور بارات کے لیے 400 مہمانوں کی ضیافت کا اہتمام کیاگیا۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر کے ولیمے کی تقریب 18 جنوری کو جاتی امرا فارمز میں منعقد ہوگی، ولیمہ کی تقریب میں 800 مہمانوں کو مدعو کیا گیا ہے۔

  • ایران پر حملہ نہ کرنے کیلئے میں نے اپنے آپ کو قائل کیا: ٹرمپ

    ایران پر حملہ نہ کرنے کیلئے میں نے اپنے آپ کو قائل کیا: ٹرمپ

    واشنگٹن (فارن ڈیسک )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملہ نہ کرنے کے فیصلے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی نے انہیں ایران پر حملہ نہ کرنے کے لیے قائل نہیں کیا۔وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران ایک صحافی نے ٹرمپ سے سوال کیا کہ کیا عرب اور اسرائیلی حکام نے آپ کو ایران پر حملہ نہ کرنے کے لیے قائل کیا؟اس کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ کسی نے مجھے قائل نہیں کیا، میں نے خود اپنے آپ کو قائل کیا۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ گزشتہ روز ایران میں 800 افراد کو پھانسی دی جانی تھی لیکن کسی کو پھانسی نہیں دی گئی، اس کا بہت بڑا اثر پڑا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں ایران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کی قدر کرتے ہیں کہ کل جن افراد کو پھانسیاں دی جانی تھیں اب ایرانی قیادت انہیں پھانسی نہیں دے گی۔گزشتہ روز امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے دعویٰ کیا تھا اسرائیل کے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران پر ممکنہ امریکی فوجی حملہ مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی۔رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے بدھ کے روز صدر ٹرمپ سے بات کی، اسی روز امریکی صدر نے یہ بیان دیا کہ انہیں ’دوسری جانب سے انتہائی اہم ذرائع‘ سے معلومات ملی ہیں جن کے مطابق ایران میں مظاہرین کی ہلاکتیں رک گئی ہیں اور مظاہرین کی سزائے موت پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا۔ اس سے قبل برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کا فیصلہ آخری لمحوں میں تبدیل کیا۔دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق یہ تبدیلی خلیجی ملکوں کی سفارتی کوششوں کے باعث عمل میں آئی۔ سعودی عرب، قطر اور عمان نے واشنگٹن سے ہنگامی مذاکرات کیے اور ٹرمپ کو فوجی کارروائی مؤخر کرنے پر یہ کہہ کر آمادہ کیا کہ تہران کو اپنے ‘اچھے عمل’ کا مظاہرہ کرنےکا موقع دینا چاہیے۔