Blog

  • سانحہ گل پلازہ، اموات کی تعداد         61 ہوگئی

    سانحہ گل پلازہ، اموات کی تعداد 61 ہوگئی

    کراچی:(اسٹاف رپورٹر)ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں ہفتے کو لگنے والی آگ کے سبب دم گھٹنے اور جھلسنے اب تک61افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ 80 سے زائد افراد تاحال لاپتا ہیں، ڈپٹی کمشنر ساؤتھ کا کہنا ہے کہ جب تک ایک بھی لاپتا فرد موجود ہوا اس وقت تک ملبہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔ریسکیو 1122 کے مطابق ملبے سے مزید ایک لاش ملی ہے، جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 61 تک پہنچ گئی جبکہ سرچ آپریشن کے دوران کچھ انسانی باقیات ملیں، جنہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا۔مزید ایک لاپتا شہری کے اہل خانہ نے مسنگ پرسنز ڈیسک سے رابطہ کر لیا، 65 سالہ جہانگیر شاہ کے اہل خانہ نے مسنگ پرسنز ڈیسک پر اندراج کروا دیا جس کے بعد لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی۔گزشتہ روز، 21 ناقابل شناخت میتوں میں سے مزید تین کی شناخت کی گئی تھی، جن میں ایک میت لڑکی 15 سالہ مریم جبکہ دو مردوں 33 سالہ شہروز اور 26 سالہ رضوان کی تھیں۔ریسکیو حکام کے مطابق سی پی ایل سی نے ڈی این اے کے ذریعے شناخت کی جس کے بعد لواحقین میتیں لینے سرد خانے پہنچ گئے ہیں۔ اس سے قبل دن میں 7 افراد کی لاشوں کو شناخت کے بعد ورثا کے حوالے کیا گیا تھا جس کے بعد سرد خانے میں 21 ناقابل شناخت لاشیں موجود تھیں اور ان میں سے مزید تین کی شناخت ہوگئی۔واضح رہے کہ ریسکیو اہلکار 40 گھنٹوں بعد گل پلازہ کی عمارت میں داخل ہوئے اور لاپتا افراد کی تلاش میں آپریشن شروع کیا تاہم کام کے دوران بھی عمارت کے مختلف حصوں سے آگ بھڑک اٹھتی تھی جس سے ریسکیو کا کام متاثر ہوا۔
    ڈی سی ساؤتھ کی گفتگو
    گل پلازہ کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران جاوید نبی کھوسو نے کہا کہ پلازہ کا سالم حصہ بھی سرچ کیا جا رہا ہے لیکن فی الحال عمارت کے گرے ہوئے حصے کی طرف توجہ ہے، عمارت کے درمیان میں جانے کا راستہ بنایا جا رہا ہے، جب سب مکمل ہو جائے گا تب پوری عمارت کو گرا کر ملبہ اٹھا لیا جائے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ پہلے دن سے انفرمیشن ڈیسک قائم کر دی تھی اور تمام سہولیات دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔جاوید نبی کھوسو نے کہا کہ گرے ہوئے حصے میں مشکل پیش آرہی ہے، اندر ابھی بھی دھواں اور گرمائش ہے تاہم کولنگ بھی کی جا رہی ہے، جہاں تک پہنچ سکتے ہیں وہاں سرچ کیا گیا ہے۔ بلڈنگ پر موجود بھاری سامان اتار لیا گیا ہے، اس وقت مشین سے اور مینولی بھی کام کیا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ 28 لاشیں نکالی گئی ہیں جن میں سے 11 شناخت ہو چکی ہیں جبکہ 85 شہری لاپتا افراد کی فہرست میں ہیں، کچھ نام ڈبل ہوگئے ہیں جن کی جانچ کی جا رہی ہے۔ کوشش ہے جلد از جلد لاشوں کی شناخت بھی ممکن ہو۔جاوید نبی کھوسو کا کہنا تھا کہ عارضی طور پر ساتھ والے رمپا پلازہ کو سیل کیا گیا ہے، ایس بی سی اے کی رپورٹ کے بعد کہا جا سکے گا کہ رمپا پلازہ خطرناک ہے یا نہیں۔ کسی قسم کی جلد بازی نہیں کی جا رہی ہے کیونکہ انسانی زندگیوں کا مسئلہ ہے۔ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس تکنیکی ٹیم موجود ہے جو اس حوالے سے مکمل جانچ کر رہی ہے اور تکنیکی معاملات کو مدنظر رکھے ہوئے ریسکیو اینڈ سرچ آپریشن جاری ہے۔ایک سوال کے جوان میں ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ غائب ہونے والے دو ڈمپر کے حوالے سے پولیس تفتیش کر رہی ہے۔لاپتا افراد کے لواحقین کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ اتوار کے دن سے ملبہ اٹھایا جانا شروع کیا گیا، ملبے میں کہیں انسانی باقیات تو نہیں جا رہی، ہمیں شک ہے کہیں ایسا نہ ہو۔

  • اسٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ تیزی؛ انڈیکس نئی بلند ترین سطح پر

    اسٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ تیزی؛ انڈیکس نئی بلند ترین سطح پر

    کراچی:(کامرس ڈیسک )پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج ریکارڈ تیزی دیکھی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں انڈیکس نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔کاروباری ہفتے کے تیسرے روز بازار حصص میں 726 پوائنٹس کی تیزی کے ساتھ مارکیٹ کا آغاز ہوا جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس بڑھ کر ایک لاکھ 89 ہزار 347 پوائنٹس کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔بعد ازاں پی ایس ایکس میں تیزی کا رجحان غالب رہا اور مجموعی طور پر 802 پوائنٹس کی تیزی کے ساتھ انڈیکس ایک لاکھ 89 ہزار 423 پوائنٹس کی بلند ترین سطح کو چھو گیا۔بعد ازاں اسٹاک ایکسچینج میں 220 پوائنٹس کی مندی کے ساتھ 100 انڈیکس گھٹ کر ایک لاکھ 88 ہزار 401 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا۔واضح رہے کہ گزشتہ ہفتوں سے اسٹاک مارکیٹ میں مجموعی طور پر تیزی کا رجحان غالب ہے اور اس دوران انڈیکس کی بلندی کے کئی نئے ریکارڈز بھی قائم ہوئے ہیں۔

  • مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے، فیلڈ مارشل

    مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے، فیلڈ مارشل

    راولپنڈی (نمائندہ خصوصی )فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس داخلی سلامتی اور قانون کی حکمرانی کے لیے ناگزیر ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر ) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ کیا، فیلڈ مارشل نے پولیس سروس آف پاکستان کے افسران سے ملاقات اور تبادلۂ خیال کیا، اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ اور وزیرِ مملکت برائے داخلہ بھی موجود تھے۔بیان کے مطابق نیشنل پولیس اکیڈمی پہنچنے پر فیلڈ مارشل کا کمانڈنٹ نیشنل پولیس اکیڈمی نے پرتپاک استقبال کیا جبکہ ایک چاق و چوبند پولیس دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ فیلڈ مارشل نے پولیس شہداء کی یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی اور امن و امان کے قیام، قانون کی بالادستی اور عوام کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے پولیس شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔فیلڈ مارشل نے دہشت گردی، جرائم اور داخلی سلامتی کے چیلنجز کے مقابلے میں پولیس اہلکاروں کی عظیم قربانیوں کو سراہا۔دورے کے دوران فیلڈ مارشل کو اسکول فار ہائی امپیکٹ ایلیٹ لا انفورسمنٹ ڈیولپمنٹ (SHIELD) سمیت پولیس کی تربیتی سرگرمیوں، استعداد کار میں اضافے اور جدیدیت سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔فیلڈ مارشل نے کیڈٹ اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹس آف پولیس (ASPs) سے بھی ملاقات کی۔فیلڈ مارشل نے کہا کہ پولیس شہریوں کی جان، مال اور عزت کے تحفظ میں پہلی دفاعی لائن کی حیثیت رکھتی ہے، فیلڈ مارشل نے ادارہ جاتی تعاون، جدید پولیسنگ طریقۂ کار اور عوامی اعتماد کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا۔فیلڈ مارشل نے کہا کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس فورس داخلی سلامتی اور قانون کی حکمرانی کے لیے ناگزیر ہے، امن و امان کا قیام ایک مقدس ذمہ داری ہے اور مسلح افواج پاکستان کے بہادر پولیس اہلکاروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں۔بیان کے مطابق سینئر پولیس قیادت نے پولیسنگ کے معیار کو مزید بہتر بنانے، پیشہ ورانہ صلاحیت میں اضافے اور موجودہ سلامتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ضروری ادارہ جاتی اصلاحات کے عزم کا اعادہ کیا۔

  • سانحہ گل پلازہ؛ انتظامی ناکامیوں پر مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب نے سوالات اٹھا دیے

    سانحہ گل پلازہ؛ انتظامی ناکامیوں پر مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب نے سوالات اٹھا دیے

    کراچی:(اسٹاف رپورٹر)سانحہ گل پلازہ پر سنگین انتظامی ناکامیاں سامنے آنے پر مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمن نے سوالات اٹھا دیے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق گل پلازہ میں پیش آنے والے آتشزدگی کے سانحے پر ممتاز عالم دین مفتی تقی عثمانی نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں آگ پر قابو پانے میں ناکامی افسوسناک اور شرمناک ہے۔مفتی تقی عثمانی نے اپنے بیان میں سوال اٹھایا کہ گل پلازہ میں آگ لگنے کے بعد بروقت امدادی کارروائیاں کیوں نہ ہو سکیں اور مدد تاخیر سے کیوں پہنچی۔ انہوں نے کہا کہ چند ہی گھنٹوں میں قیمتی انسانی جانیں بے بسی کے عالم میں ضائع ہو گئیں ، متعدد متوسط درجے کے تاجر اربوں روپے کے نقصان سے قلاش ہو گئے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس سانحے کی غیر جانبدار اور بے لاگ تحقیق ناگزیر ہے تاکہ اصل وجوہات سامنے آ سکیں۔ مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ حفاظتی انتظامات کو مضبوط اور مؤثر بنانا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے، البتہ جن افراد نے مشکل حالات میں انسانی جانیں بچانے کی کوشش کی وہ قابلِ تحسین ہیں۔انہوں نے واقعے میں جاں بحق ہونے والے افراد اور ان کے لواحقین کے لیے دعا بھی کی۔دریں اثنا ممتاز عالم دین مفتی منیب الرحمان نے بھی گل پلازہ سانحے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو نے ایوان صدر میں سندھ حکومت کی کارکردگی بیان کی، مگر گل پلازہ کی آگ نے ان کے تمام دعووں پر پانی پھیر دیا۔مفتی منیب الرحمان نے کہا کہ تاجر تنظیموں کے مطابق گل پلازہ سانحے میں کم از کم 3 ارب روپے کا نقصان ہوا، جو ایک بہت بڑا معاشی دھچکا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ 3 کروڑ آبادی کے شہر میں آگ بجھانے کا مؤثر نظام کیوں موجود نہیں ؟
    اپنے بیان میں مفتی منیب الرحمان نے جاں بحق افراد کی مغفرت، لواحقین کے لیے صبر جمیل اور متاثرین کے لیے بہتر نعم البدل کی دعا کی۔

  • کراچی ؛ نیو سبزی منڈی میں آگ لگ گئی

    کراچی ؛ نیو سبزی منڈی میں آگ لگ گئی

    کراچی (اسٹاف رپورٹر)کراچی میں سپر ہائی وے پر واقع نیو سبزی منڈی میں آگ لگ گئی، جس کی اطلاع ملتے ہی کے ایم سی کی فائر بریگیڈ ٹیم روانہ کردی گئی ہے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ شیڈز میں لگی تھی۔ فائر بریگیڈز حکام کے مطابق بعد ازاں آگ پر قابو پا لیا گیا۔ واقعے میں خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

  • پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ راجا ناصر عباس سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر مقرر

    پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ راجا ناصر عباس سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر مقرر

    اسلام آباد(نمائندہ خصوصی )مجلس وحدت المسلمین کے سربراہ اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ سینیٹر راجہ ناصر عباس کو سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر مقرر کردیا گیا۔یکرٹری سینیٹ حفیظ اللہ شیخ نے قائد حزب اختلاف کا نوٹیفیکشن جاری کردیا۔چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے بتایا کہ راجہ ناصر عباس کو 32 میں سے 22 ارکان اپوزیشن سینیٹ کی حمایت حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ قائد حزب اختلاف کو ڈکلیئر کرنے کا اختیار چیئرمین سینیٹ کو ہے، سینیٹر ناصر عباس کو لیڈر آف اپوزیشن ڈکلیئر کرتا ہوں۔چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ قائد حزب اختلاف کے نوٹیفیکشن کا معاملہ سینیٹ سیکریٹریٹ میں رہا، تاخیر عدالتی پروسیجر کے باعث تھی، اب میں رولز کے مطابق عمل کروں گا۔سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ آرمی چیف آج اپنی ڈومین میں چلے جائیں تو میں ان کے ہاتھ چوموں گا۔سینیٹ میں بطور اپوزیشن لیڈر اپنی پہلی تقریر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سیاسی بحران کے خاتمہ کا واحد حل عمران خان کی رہائی ہے، اللہ نے تمام پیغمر عدل کےلئے بھیجے۔علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ملک میں عدل و انصاف قائم کیا جائے، ہم لاہور گئے ہماری گاڑیوں کے شیشے توڑے گئے، کیا ہم دہشتگرد تھے۔انہوں نے کہا کہ کیا ایسے لوگوں کو حراساں کرکے آپ نظام چلا لیں گے؟ لوگوں کو بولنے دیں،اس سے ملک مضبوط ہوتے ہیں، بانی پی ٹی آئی کو آزاد کیا جائے، سیاسی بحران کے خاتمہ کا واحد حل عمران خان کی رہائی ہے، بانی پی ٹی آئی کے کیسز نہیں چل رہے۔علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ہم اپنی فوج کو سیلوٹ ماریں گے، آرمی چیف آج اپنی ڈومین میں چلے جائیں تو میں ان کے ہاتھ چوموں گا، میرے خاندان نے جنگیں لڑی ہیں اور ساتھ دیا ہے۔

  • مریم اورنگزیب کا نیا انداز سوشل میڈیا پر چھا گیا

    مریم اورنگزیب کا نیا انداز سوشل میڈیا پر چھا گیا

    کراچی:(انٹر ٹینمنٹ ڈیسک )پاکستان شوبز کی سینئر اداکارہ بشریٰ انصاری اور اداکارہ زارا نور عباس نے پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب کی ’ٹرانسفارمیشن‘ کی تعریف کردی۔حال ہی میں مریم اورنگزیب کی مریم نواز کے بیٹے جنید صفدر کی شادی کی تقریبات میں شرکت کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں جن میں ان کا نیا انداز صارفین کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ سادہ مگر باوقار اسٹائل اور پراعتماد شخصیت پر سوشل میڈیا پر مختلف حلقوں کی جانب سے مثبت ردِعمل سامنے آیا۔بشریٰ انصاری نے سوشل میڈیا پر اپنے تبصرے میں لکھا کہ میں مریم اورنگزیب کو قریب سے جانتی ہوں، انکا وزن کم کرنے کا سفر کمٹمنٹ اور مستقل مزاجی کا ثبوت ہے۔ مریم آپ بہت خوبصورت لگ رہی ہیں، ماشا اللہ۔دوسری جانب زارا نور عباس نے بھی مریم اورنگزیب کی پہلی اور موجودہ تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’اگر عورت اپنا خیال رکھنا شروع کردے تو کوئی بھی مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے‘‘۔تبدیلی کو خوبصورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ خود اعتمادی اور سادگی کسی بھی شخصیت کو نکھار دیتی ہے، اور مریم اورنگزیب اس کی بہترین مثال ہیں۔ اور اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ عورت کی یہ چیز مجھے بہت خوبصورت لگتی ہے۔سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے بھی ان آراء سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ مریم اورنگزیب کا نیا انداز نہ صرف متاثر کن ہے بلکہ ایک مثبت پیغام بھی دیتا ہے کہ سیاست میں خواتین وقار اور اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ سکتی ہیں۔واضح رہے کہ مریم اورنگزیب پاکستان کی نمایاں سیاسی شخصیات میں شمار ہوتی ہیں اور وہ اکثر اپنے بیانات کے ساتھ ساتھ اپنے انداز کی وجہ سے بھی خبروں میں رہتی ہیں۔

  • ای  چالان سسٹم  کے  فیل  ہونے  پر بلاول بھٹو زرداری سے کراچی والوں کے سوال

    ای چالان سسٹم کے فیل ہونے پر بلاول بھٹو زرداری سے کراچی والوں کے سوال

    ٭اندرونِ سندھ اور دیگر شہروں کی نمبر پلیٹوں والی گاڑیوں کے ای چالان آخر کس کھاتے میں جاتے ہیں؟ کیا یہ رقم سرکاری خزانے میں جمع ہوتی ہے؟
    ٭سرکاری نمبر پلیٹ والی گاڑیوں کے ای چالان اگر ہوتے ہیں تو کہاں جمع ہوتے ہیں؟ یا یہ قانون سے بالاتر ہیں؟
    ٭کیا وجہ ہے کہ تنخواہ دار طبقہ اور چھوٹا کاروباری باقاعدہ ٹیکس دیتا ہے، مگر پھر بھی اسے چوکیاں، کاغذی کارروائیاں اور تذلیل جھیلنا پڑتی ہے؟
    ٭اگر حقیقت یہ ہے کہ صرف دس فیصد شہری قانون کی پاسداری کر رہے ہیں، تو باقی نوے فیصد کے خلاف ریاست کی رِٹ کہاں ہے؟
    ٭رکشے اور چنچی بغیر لائسنس، بغیر فٹنس، بغیر نمبر پلیٹ آزاد کیوں ہیں؟ کیا ان پر قانون لاگو نہیں ہوتا؟
    ٭کراچی کے شہریوں کو تھیلوں میں بھر بھر کر چالان دیے جاتے ہیں، مگر ہوٹر لگانے والے، کالے شیشوں والی گاڑیاں اور پروٹوکول کلچر کیوں آزاد ہیں؟
    ٭کیا قانون صرف عام شہری کے لیے ہے اور طاقتور کے لیے نہیں؟
    ٭اسلحے کی کھلے عام نمائش کرنے والوں کوکوئی پوچھنے والا نہیں لگتا ہے کراچی کوئی شہر نہیں بلکہ علاقہ غیر ہے
    ٭اگر شہریوں پر اتنی سختی ہے تو کیا حکومت ٹریفک، ٹرانسپورٹ اور پولیس اصلاحات کا کوئی قابلِ عمل منصوبہ رکھتی ہے؟
    ٭آخر عام آدمی کس سے سوال کرے جب قانون بھی طاقتور کے ساتھ کھڑا نظر آئے؟

    پاکستان واچ رپورٹ
    ریاست کی رِٹ یا شہریوں کی آزمائش؟
    پاکستان میں عام شہری آج خود کو ایک ایسے دائرے میں گھرا ہوا محسوس کرتا ہے جہاں قانون کی موجودگی تو ہر جگہ دکھائی دیتی ہے، مگر انصاف کی جھلک کم کم نظر آتی ہے۔ خاص طور پر شہری مراکز میں، ٹریفک قوانین، ٹیکس نظام اور انتظامی رکاوٹیں ایک عام آدمی کی روزمرہ زندگی کو مشکل بنائے ہوئے ہیں۔ ایسے میں بلاول بھٹو زرداری جیسے قومی سطح کے رہنما سے عوام کے سوالات محض شکایات نہیں بلکہ ایک اجتماعی پکار ہیں کہ ریاست اپنی ترجیحات واضح کرے۔
    تنخواہ دار اور کاروباری طبقے پر ہی بوجھ کیوں ؟
    تنخواہ دار طبقہ اور چھوٹا کاروباری طبقہ ملک کی معیشت کا وہ ستون ہے جو باقاعدگی سے انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر بالواسطہ ٹیکس ادا کرتا ہے۔ مگر اس کے باوجود یہی طبقہ چوکیاں، چالان، فائلوں اور دفتری چکروں میں سب سے زیادہ رْلتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو طبقہ پہلے ہی نظام کو سہارا دے رہا ہے، اسے مزید کیوں آزمائش میں ڈالا جاتا ہے؟ کیا ٹیکس دینا جرم بن چکا ہے؟
    چوکیاں اور تذلیل: قانون کا نفاذ یا طاقت کا مظاہرہ؟
    شہروں کے داخلی و خارجی راستوں پر قائم چوکیاں شہریوں کے لیے سہولت کے بجائے اذیت بن چکی ہیں۔ بار بار روکا جانا، کاغذات کی جانچ کے نام پر بدتمیزی اور غیر ضروری تاخیر عام ہے۔ اگر مقصد سکیورٹی ہے تو اس کا معیار سب کے لیے یکساں کیوں نہیں؟ اور اگر مقصد محض وصولی ہے تو اس کی قانونی حیثیت کیا ہے؟
    اندرونِ سندھ و دیگر شہروں کی نمبر پلیٹیں: چالان کہاں جاتے ہیں؟
    ایک بڑا سوال یہ ہے کہ اندرونِ سندھ یا ملک کے دیگر شہروں کی نمبر پلیٹوں والی گاڑیوں کے چالان آخر کس کھاتے میں جمع ہوتے ہیں؟ شہریوں کو شفافیت نظر نہیں آتی۔ اگر یہ رقوم سرکاری خزانے میں جمع ہوتی ہیں تو اس کی عوامی رپورٹ کیوں نہیں؟ اور اگر نہیں، تو ذمہ دار کون ہے؟
    سرکاری نمبر پلیٹ: قانون سے بالاتر یا بااختیار؟
    سرکاری نمبر پلیٹ والی گاڑیاں اکثر قوانین کی خلاف ورزی کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان کے چالان ہوتے بھی ہیں یا نہیں؟ اگر ہوتے ہیں تو کہاں جمع ہوتے ہیں؟ اور اگر نہیں ہوتے تو کیا سرکاری عہدہ قانون سے بالاتر ہونے کا لائسنس ہے؟ ریاست کی ساکھ اسی سوال کے جواب میں مضمر ہے۔
    صرف دس فیصد قانون پر عمل کیوں؟
    عام تاثر یہ ہے کہ صرف دس فیصد شہری قانون کی پاسداری کر رہے ہیں۔ اگر یہ درست ہے تو باقی نوے فیصد کے لیے قانون کہاں ہے؟ کیا قانون پر عمل درآمد شہری کی مرضی پر چھوڑ دیا گیا ہے؟ ریاست کا بنیادی فریضہ یکساں نفاذِ قانون ہے، ورنہ معاشرہ انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔
    رکشے اور چنچی: مکمل آزادی، مکمل بے قاعدگی
    بغیر لائسنس، بغیر فٹنس اور بغیر نمبر پلیٹ رکشے اور چنچی سڑکوں پر آزادانہ چلتی ہیں۔ حادثات، ٹریفک جام اور آلودگی میں ان کا حصہ سب کے سامنے ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان پر قانون لاگو نہیں ہوتا؟ یا یہ طبقہ محض اس لیے نظرانداز ہے کہ اس سے باقاعدہ وصولی مشکل ہے؟
    کراچی کے شہری: تھیلوں میں بھرے چالان
    کراچی کے شہریوں کو آئے دن بھاری چالانوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ معمولی غلطی پر جرمانے، گاڑیوں کی ضبطی اور طویل قانونی کارروائیاں عام ہیں۔ دوسری طرف ہوٹر لگانے والی گاڑیاں، کالے شیشے اور غیر قانونی پروٹوکول بے روک ٹوک جاری ہے۔ یہ دوہرا معیار شہریوں کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔
    پروٹوکول کلچر: قانون کس کے لیے؟
    ہوٹر، اسکارٹ اور وی آئی پی رویہ اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ طاقتور کے لیے قانون نرم اور عام شہری کے لیے سخت ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا آئین سب کو برابر نہیں کہتا؟ اگر کہتا ہے تو یہ امتیاز کیوں؟

    کراچی یا علاقہ غیر
    اسلحے کی کھلے عام نمائش کرنے والوں کوکوئی پوچھنے والا نہیں لگتا ہے کراچی کوئی شہر نہیں بلکہ علاقہ غیر ہے کہیں سختی، کہیں نرمی۔ یہ صورتحال ریاستی رِٹ کے لیے خطرناک ہے۔ قانون اگر ہر جگہ یکساں نہ ہو تو شہریوں میں بغاوت نہیں تو بددلی ضرور جنم لیتی ہے۔

    اصلاحات کا سوال: محض وعدے یا عملی منصوبہ؟

    عوام جاننا چاہتے ہیں کہ کیا حکومت کے پاس ٹریفک، ٹرانسپورٹ اور پولیس اصلاحات کا کوئی واضح اور قابلِ عمل منصوبہ ہے؟ یا ہر مسئلہ کی طرح یہ بھی محض تقاریر اور وعدوں کی نذر ہو جائے گا؟ اصلاحات کے بغیر نفاذِ قانون محض دباؤ بن کر رہ جاتا ہے۔

    عام آدمی کس سے سوال کرے؟

    جب قانون طاقتور کے ساتھ کھڑا نظر آئے تو عام آدمی کے پاس سوال کرنے کے لیے کون سا دروازہ رہ جاتا ہے؟ عدالتیں مہنگی، دفاتر سست اور نمائندے خاموش یہ خلا خطرناک ہے۔ جمہوریت میں سوال کرنا حق ہے، اور اسی حق کے تحت یہ سوالات بلاول بھٹو زرداری سمیت تمام قیادت کے سامنے رکھے گئے ہیں
    یہ مضمون الزام نہیں بلکہ احتساب کا مطالبہ ہے۔ عوام قانون سے بھاگنا نہیں چاہتے، وہ صرف برابری چاہتے ہیں۔ اگربلاول بھٹو ان سوالات کا سنجیدگی سے جواب دیں اور یکساں نفاذِ قانون یقینی بنائیں تو اعتماد بحال ہو سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر، یہ خلیج مزید گہری ہوتی جائے گی اور اس کا نقصان صرف عوام نہیں، ریاست کو بھی ہوگا۔

  • افریقی ملک کینیا کا سفر نامہ۔۔۔دلچسپ تجربات      سرور غزالی۔۔۔۔۔۔آخری قسط

    افریقی ملک کینیا کا سفر نامہ۔۔۔دلچسپ تجربات سرور غزالی۔۔۔۔۔۔آخری قسط

    نیروبی سے ممباسا کا سفر
    ممبا سا کی کہانی
    کینیا کا دوسرا بڑا شہر ممباسا ہے۔ ہم لوگ 25 دسمبر کو ممباسا کی طرف چل پڑیتھے۔ بحر ہند کے کنارے واقع ہونے کی وجہ سے ممباسا قدیم زمانے سے ہی ایک تجارتی مرکز رہا ہے۔ تاریخ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں سن 1300 سے 1513 تک کلوا سلطنت قائم تھی جسے ترکیوں نے 1586 میں فتح کرلیا۔ اور سن 1589 تک یہاں عثمانیہ سلطنت قائم رہی، پھر 1593 میں یہاں پرتگالی سلطنت قائم ہوئی جو 1698 تک قائم رہی 1698 میں عمانیوں نے پرتگالی افواج کو شکست دے کر ممباسا میں واقع قلعہ ء￿ عیسائی کو فتح کر لیا اور یوں ان کی یہاں حکومت قائم ہو گئی۔ جو 1698 سے 1728 تک جاری رہی مگر 1728 میں پرتگالی ایک بار پھر یہاں پر قابض ہو گئے اور انہوں نے عمانیوں کو نکال باہر کیا مگر اگلے سال ہی عمانی اس پر پھر قابض ہو گئے۔ ان کی حکومت 1729 سے 1824 تک قائم رہی بالآخر 1824 میں انگریز یہاں قابض ہو گئے اور 1826 تک ان کی حکومت قائم رہی جبکہ 1826 میں زنزیبار سلطنت نے ممبا سا کو اپنے قبضے میں لے لیا اور 1887 تک ان کی یہاں حکومت قائم رہی 1887 میں برطانوی راج دوبارہ واپس آگیا اور برطانوی مشرق افریقہ کینیا کے نام سے ان کی حکومت 1963 تک قائم رہی اور 1963 میں کینیا کو آزادی ملی۔ ممباسا میں دو حکمراں موانہ مکسی اور صحیح مویتا نے قدیم زمانے میں حکومت قائم تھی اور روایت کے مطابق یہ دونوں قدیم ممباسا کے والی ہیں۔ ان کی ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ یہ بادشاہ یہاں پر 12 خاندان کے اس سلسلے سے تھے جنہیں تینشارہ طائفہ کہتے ہیں جو کے اس شہر کے اصلی باشندے ہیں۔ اور اسلامی سلطنت قائم ہونے سے پہلے انہی کی یہاں حکومت تھی۔ مشہور مراکشی سیاح ابن بطوطہ نے ممباسا کاذکر سواہلی ساحل کا ذکر کے ساتھ اپنی سفرنامے میں یوں کیا ہے کہ یہاں شافعی مسلم آباد ہیں جو قابل بھروسہ اور سیدھے سادھے لوگ ہیں۔اور یہ کہ یہاں اس نے لکڑی سے بنی ایک مسجد دیکھی ہے۔ گو کہ وہ صرف ایک رات ہی ممباسہ میں رکا تھا۔
    کینیا کے اسکولوں میں بچوں کو تاریخ کی کتابوں کے مطابق یہ بتایا جاتا ہے کہ ممباسا سن 900 سے قائم ہے۔ ممباسا میں ایک قدیم پتھر کی بنی مسجد بھی ہے۔ جس کا نام منارہ ہے۔ ممباسا کے ساحل پر قدیم زمانے میں تجارتی جہاز لنگر انداز ہوتے تھے اور یہاں سے ہاتھی دانت، ناریل اور تل برآمد کی جاتی تھی۔ ممباسا سے سلطنت چھولا، جنوبی ہندوستان کی تامل سلطنت سے بھی تجارتی روابط کے شواہد ملے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک فارس سے بھی تجارتی تعلقات استوار تھے۔
    جب واسکو ڈی گاما ممباسا آیا اور جب اس نے واپس جاکر یہاں کی دولت اور شان وشوکت کا ذکرکیا تو پرتگالی بادشاہ نے اس کے اگلے ہی سال ممباسا پر چڑھائی کردی اور اسیاپنی سلطنت میں شامل کرلیا۔ یقینا” اس نے خوب یہاں کی دولت پر لوٹ مار بھی کی ہوگی۔
    کینیا ریلوے کی کہانی
    برطانوی یوگینڈا ریلوے کی تعمیر سن 1896 تا سن 1901 کے مابین مشہور زمانہ “لاونیٹک ایکسپریس” جو کے درحقیقت وکٹوریا نامی جھیل کو ممباسہ سے ملانے کا، زمانہ کالونیت کا ایک بڑا پروجیکٹ تھا، یہ ایک مشکل ترین معرکہ تھا جس کو سر کرنے کے لیے خودسر انگریز اپنی اس وقت
    کی دوسری برطانوی کالونی ہندوستان، سے لائے گئے مزدوروں کی مدد لی۔ ہندوستان سے لائے گئے مزدوروں کی نیروبی میں تعیناتی کا یہ ایک بہت اہم واقعہ تھا جس کے دور رس اثرات آنے والے وقتوں میں سامنے آیا۔ اور اسے اس وقت کینیا اور یوگنڈا ریلوے یا مشرقی افریقہ ریلوے اور شاید کینیا ریلوے کا نام دیا گیا جس کا مقصد تجارت اور برطانوی کالونی کی حفاظت تھا تاہم موجودہ جدید دور میں چائنا کی مدد سے سن 2017 میں ایک نئی ریلوے کی بنیاد ڈالی گئی جس سے برطانوی دور کے میٹر گیج کے برعکس سٹینڈرڈ گیج ایس جی ار کے لاحقے کے ساتھ اسے نئی ریلوے ایس جی آر کینیا ریلوے کا نام دیا گیا ہے۔
    ریلوے لائن کی بنیاد دور کالونیت میں رکھی گئی اور اسے نیروبی تک تعمیر کیا گیا یہ واقعہ سن 1899 کا تھا جب کہ ایک بڑی تعداد میں ہندوستانی افرادی قوت مزدوروں کو یہاں اس کام کے لیے استعمال میں لایا گیا۔ ریلوے لائن کی تعمیر کا کام کچھ آسان نہ تھا اور یہاں کے موسم کی شدت بیماریوں کے حملے کے ساتھ ساتھ آدم خور شیر، ساو کے حملوں میں تقریبا 25 ہزار افراد موت کے گھاٹ اتر گئے۔ یہ ایک عظیم الشان پروجیکٹ ضرور تھا مگر بے شمار انسانی جانوں
    کی قربانی کے بعد۔
    1891 میں ریل کے انتظامات چلانے کے سلسلے میں ہی ہزاروں کی تعداد میں ہندوستان سے پنجابی سکھ افراد یہاں لائے گئے جنہیں پلیٹ فارموں پر بحیثیت قلی ملازمت کرنی تھی۔ یہ تمام لوگ اپنے بال بچے ملک میں چھوڑ کر یہاں تنہا ائے تھے۔ آنے والے وقت میں یہی اقلیت گروپ بے شمار افریقی ملکوں میں پھلتا پھولتا بھی رہا اور مقامی تعصب اور نفرت کا شکار بھی ہوا۔ ملک بدری اور فسادات جیسے سنگین جرائم کا شکار ہوا۔ اور یوگانڈا میں اس وقت کے صدر ایدی امین نے اسی ہندوستانی اقلیتی گروپس کی جائیدادیں ضبط کرنے کی کوشش کی۔
    1924 تا 1948 کے دوران اسے کینیا اور یوگانڈا ریلوے کاے نام دیا گیا۔ جبکہ سن 1948 سے 1978 کے مابین اس سے ایسٹ افریقن ریلوے کا نام دیا گیا۔ برطانوی قدیم زمانے کی میٹر گیج کو خیر باد کہہ کر 2017 میں اسٹینڈر گیج ریلوے کی بنیاد ڈالی گئی جو چین کی مدد سے تیار کی گئی ایک عظیم الشان ریلوے لائن ہے۔ اس وقت ممبا سا اور نیروبی کے مابین چلنے والی مدراکار ایکسپریس 609 کلومیٹر کا فاصلہ ساڑھے پانچ گھنٹے میں طے کرتی ہے اور بیشتر اوقات اپنی انتہائی رفتار 110 کلومیٹر فی گھنٹے تک چلتی ہے اور یہ ایک خوبصورت آرام دہ ریل ہے جو دوران سفر مکمل ایئر کنڈیشن بھی ہے اور اس میں موجود ڈائننگ کار مسافروں کو خورد و نوش کی سہولیات مہیا کرتی ہے نہ صرف ڈائننگ کار کے اندر بلکہ لوگوں کی نشستوں تک عملہ تندہی سے سنیک و چائے پہنچاتا رہتا ہے۔ ممباسا سے نیروبی کے مابین یہ ٹرین صرف ایک سٹاپ پر رکتی ہے۔ تمام ریلوے اسٹیشن جن پر یہ ٹرین نہیں رکتی وہ بھی جدید سہولیات سے مرصع ہیں۔ نیروبی اور ممباسا کا اسٹیشن وسیع و عریض اور جدید سہولیات اور سیکیورٹی انتظامات سے کسی ایئرپورٹ کا نقشہ پیش کرتا نظر آتا ہے جو نہ صرف بہت جدید سہولیات سے مرصع ہے بلکہ دیکھنے میں بھی ایک عظیم الشان خوبصورت عمارت ہے سیکیورٹی کے سخت انتظامات ہیں سامان کی تین دفعہ سکریننگ کی جاتی ہے ایک مقام پر کتے، سونگھنے کے لیے سامنے لائے جاتے ہیں اور بالکل ایئرپورٹ کی طرح جسمانی تلاشی بھی لی جاتی ہے۔ ٹرین مقررہ وقت سے گو
    کہ 20 منٹ بعد کھلی مگر راستے میں اس نے اپنے ہدف کو مکمل کیا اور بالکل وقت پر پانچ گھنٹے 30 منٹ میں منزل مقصود پر پہنچا دیا۔
    ڈیزل سے چلنے والا سبک رفتار انجن منزل تک پر لے آیا۔
    نیروبی سے ممباسا تک چلنے والی مدراکار ٹرین ایک نسبتا” تیز رفتار ریل تھی اور ہم لوگ اس سے پانچ گھنٹے دس منٹ میں ہی ممبا سا پہنچ گئے تھے۔ ہم نے فرسٹ کلاس کا ٹکٹ لیا تھا اور یہ سفر کافی آرامدہ تھا برلن میں ہی جب میں واپسی کا ٹکٹ بک کرنے کی کوشش کر رہا تھا تو مجھے اول تو کوئی ٹرین نہیں مل رہی تھی بعد میں جب میں نے اکنامی کلاس کی بکنگ تلاش کی تو پھر مجھے ایک ٹرین صبح آٹھ بجے والی مل گئی۔ میرے ذہن میں کچھ شکوک و شبہات تو تھے۔ اپنے پہلے سفر میں ہم نے اکنامی کلاس میں جا کر دیکھا بھی نہیں تھا کہ اکنامی کلاس کیسا ہے۔ سنا یہی تھا کہ دونوں کی سہولیات تقریبا” ایک جیسی ہیں لہذا میں بے فکر ہو کر نیرو بی کی ٹرین پکڑنے اسٹیشن پہنچ گیا۔ اسٹیشن پر پھر وہی تلاشی، کتوں کے سونگھنے کا چکر، مشین میں سکریننگ اور جامع تلاشی کے مراحل سے گزر کر ہم اوپر ویٹنگ روم میں پہنچ گئے۔ نیروبی ممبا سا کے سفر کے دوران اپنے تجربے سے مجھے یہ پتہ چلا کہ، گو کہ یہ ایک طویل و عریض اسٹیشن، بہت بڑا سا پلیٹ فارم وغیرہ بنا دیا گیا ہے لیکن ریلوے کی سہولیات کو بہت زیادہ جدید نہیں کہا جا سکتا کیونکہ موجودہ دور میں بے شمار ملکوں میں ٹرینیں 250 تا 200 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے دوڑ رہی ہیں۔ ان کے انجن برقی ہیں۔ ایسا میں نے ازبکستان، ترکی جرمنی، مشرقی یورپ جہاں نسبتا” کمزور معاشی نظام کے تحت کم ترقی ہوئی تھی وہاں بھی اس وقت برقی سہولیات سے مرصع انجن موجود ہیں اور رفتار لگ بھگ 200 کلومیٹر فی گھنٹے عام سی بات ہے۔ پولینڈ، چیک ریپبلک وغیرہ میں ایسا ہی ہے۔ اس تناظر میں کینیا کی ریلوے کو، گرچہ کہ انہوں نے بہت عظیم الشان ریلوے اسٹیشن اور پلیٹ فارم بنا لیے ہیں، اتنا زیادہ ترقی یافتہ نہیں کہا جاسکتا ہے۔  ایک سو دس کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار کچھ زیادہ متاثر کن نہیں۔ ایک اور چیز جو مجھے زیادہ کھٹکی وہ یہ کہ یہ سارا گھڑاک انسانوں کو زیادہ سے زیادہ کنٹرول کرنے کے لیے ہی پھیلایا گیا ہے۔ عظیم الشان ریلوے اسٹیشن ویٹنگ روم بنا ہے ضرور، لیکن اس سے تک پہنچنے اور اس سے نکلنے تک آپ کو جن مراحل سے گزارا جاتا ہے اسے میں صرف انسانوں کو کنٹرول کرنا، انہیں قابو کرنا ہی کہوں گا۔ جس میں چین کی مدد بھی شامل رہی ہے۔ 
     جیسا کہ میں نے اوپر لکھا باوجود کوشش کے مجھے فرسٹ کلاس کا ٹکٹ نہیں ملا تھا اور میں اکنامی کلاس میں جا کر بیٹھ گیا تھا اور شروع میں میں خوش بھی ہوا کہ وہاں پر کافی جگہ تھی لوگ بیٹھ سکتے تھے لیکن ہوا یہ کہ ٹرین چلنے سے قبل رفتہ رفتہ یہ بوگی اس طرح بھر گئی کہ تل دھرنے کو جگہ نہ تھی اور یہاں بھی وہی پاکستان کی ریلوے کیکسی زمانے میں، تھرڈ کلاس کا منظر سامنے آنے لگا۔ میرے ذہن میں پہلے سے یہ بات تھی کہ چلو ٹکٹ جو بھی مل رہا ہے وہ میں خرید لوں واپس ہونا ضروری تھا ہماری آگے کی فلائٹ تھی۔ تو میں شاید ٹرین میں ٹی ٹی سے یہ بات کروں گا کہ وہ مجھے اگر کوئی سیٹ فرسٹ کلاس میں دے دے اور اضافی قیمت لے لے۔ لیکن صورتحال یہ تھی کہ پوری ٹرین میں 14 بوگی تھی۔ ٹرین فرسٹ کلاس میں فی بوگی 72 افراد اور سیکنڈ کلاس میں شاید 144 افراد گائے بکریوں کی طرح ٹھوس دیے گئے تھے۔ خیر جب یہ اعلان ہوا کہ ڈائننگ کار فرسٹ کلاس مسافروں کے لیے کھول دیا گیا ہے تو میں نے سوچا کہ اب یہ کمپارٹمنٹ چھوڑنے کا وقت آچکا ہے۔ میں ایک ریلوے انجینئر کا بیٹا ہوں جس کی ساری زندگی ریل کے ڈبوں میں کھیلتے کودتے گزری ہے بھلا میں کیوں کر ایسے بھیڑ بھاڑ سے ڈبے میں خاموش بیٹھ جاتا۔ میں نے بیگم سے کہا کہ چلو ہم لوگ ڈائننگ کار کی طرف چلتے ہیں۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ ڈائننگ کار میں صرف فرسٹ کلاس کے مسافروں کو اجازت ہے کہ وہ وہاں بیٹھ سکتے ہیں اور سیکنڈ کلاس والوں کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ لیکن نزدیک ایسی پابندیاں نہ صرف غیر انسانی ہیں بلکہ استحصالی اور ایسی کسی قد غن و پابندی کو میں ماننے کے لیے ہرگز تیار نہیں۔ چنانچہ میں اور بیگم ایک ڈبے سے دوسرے ڈبے تک اور دوسرے سے تیسرے یعنی بوگی نمبر 14 سے بوگی نمبر ایک تک، راستے میں حائل تمام دشواریاں جن میں وہ ٹرالیاں جو مسافروں کو کھانے پہنچا رہی تھیں، عبور کرتے، پھلانگتے آگے بڑھتے رہے،  راستے میں مجھے کیٹرنگ کے لوگوں نے روکا انہیں میں نے کہا کہ میں ٹی ٹی سے بات کرنے جا رہا ہوں پھر ایک ٹی ٹی نے روکا میں نے اس کو کہا کہ مجھے فرسٹ کلاس کا ٹکٹ نہیں ملا مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میں ڈائننگ کار کے استعمال کے حق سے بھی محروم کر دیا جاؤں میں صرف ڈائننگ کار میں جانا چاہتا ہوں کھانا کھا کر واپس آجاؤں گا پہلے ٹی ٹی نے مجھ سے کہا کہ آپ میرے ساتھ ایک ڈیل کر لیں مجھے اس ڈیل کا مطلب خوب اچھی طرح پتہ ہے چونکہ ایسی ڈیلنگ پاکستان ریلوے میں بھی بہت ہوا کرتی تھی ۔

  • ای  چالان سسٹم  کے  فیل  ہونے  پر بلاول بھٹو زرداری سے کراچی والوں کے سوال…پاکستان واچ رپورٹ

    ای چالان سسٹم کے فیل ہونے پر بلاول بھٹو زرداری سے کراچی والوں کے سوال…پاکستان واچ رپورٹ

    ٭اندرونِ سندھ اور دیگر شہروں کی نمبر پلیٹوں والی گاڑیوں کے ای چالان آخر کس کھاتے میں جاتے ہیں؟ کیا یہ رقم سرکاری خزانے میں جمع ہوتی ہے؟
    ٭سرکاری نمبر پلیٹ والی گاڑیوں کے ای چالان اگر ہوتے ہیں تو کہاں جمع ہوتے ہیں؟ یا یہ قانون سے بالاتر ہیں؟
    ٭کیا وجہ ہے کہ تنخواہ دار طبقہ اور چھوٹا کاروباری باقاعدہ ٹیکس دیتا ہے، مگر پھر بھی اسے چوکیاں، کاغذی کارروائیاں اور تذلیل جھیلنا پڑتی ہے؟
    ٭اگر حقیقت یہ ہے کہ صرف دس فیصد شہری قانون کی پاسداری کر رہے ہیں، تو باقی نوے فیصد کے خلاف ریاست کی رِٹ کہاں ہے؟
    ٭رکشے اور چنچی بغیر لائسنس، بغیر فٹنس، بغیر نمبر پلیٹ آزاد کیوں ہیں؟ کیا ان پر قانون لاگو نہیں ہوتا؟
    ٭کراچی کے شہریوں کو تھیلوں میں بھر بھر کر چالان دیے جاتے ہیں، مگر ہوٹر لگانے والے، کالے شیشوں والی گاڑیاں اور پروٹوکول کلچر کیوں آزاد ہیں؟
    ٭کیا قانون صرف عام شہری کے لیے ہے اور طاقتور کے لیے نہیں؟
    ٭اسلحے کی کھلے عام نمائش کرنے والوں کوکوئی پوچھنے والا نہیں لگتا ہے کراچی کوئی شہر نہیں بلکہ علاقہ غیر ہے
    ٭اگر شہریوں پر اتنی سختی ہے تو کیا حکومت ٹریفک، ٹرانسپورٹ اور پولیس اصلاحات کا کوئی قابلِ عمل منصوبہ رکھتی ہے؟
    ٭آخر عام آدمی کس سے سوال کرے جب قانون بھی طاقتور کے ساتھ کھڑا نظر آئے؟

    ریاست کی رِٹ یا شہریوں کی آزمائش؟
    پاکستان میں عام شہری آج خود کو ایک ایسے دائرے میں گھرا ہوا محسوس کرتا ہے جہاں قانون کی موجودگی تو ہر جگہ دکھائی دیتی ہے، مگر انصاف کی جھلک کم کم نظر آتی ہے۔ خاص طور پر شہری مراکز میں، ٹریفک قوانین، ٹیکس نظام اور انتظامی رکاوٹیں ایک عام آدمی کی روزمرہ زندگی کو مشکل بنائے ہوئے ہیں۔ ایسے میں بلاول بھٹو زرداری جیسے قومی سطح کے رہنما سے عوام کے سوالات محض شکایات نہیں بلکہ ایک اجتماعی پکار ہیں کہ ریاست اپنی ترجیحات واضح کرے۔
    تنخواہ دار اور کاروباری طبقے پر ہی بوجھ کیوں ؟
    تنخواہ دار طبقہ اور چھوٹا کاروباری طبقہ ملک کی معیشت کا وہ ستون ہے جو باقاعدگی سے انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر بالواسطہ ٹیکس ادا کرتا ہے۔ مگر اس کے باوجود یہی طبقہ چوکیاں، چالان، فائلوں اور دفتری چکروں میں سب سے زیادہ رْلتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو طبقہ پہلے ہی نظام کو سہارا دے رہا ہے، اسے مزید کیوں آزمائش میں ڈالا جاتا ہے؟ کیا ٹیکس دینا جرم بن چکا ہے؟
    چوکیاں اور تذلیل: قانون کا نفاذ یا طاقت کا مظاہرہ؟
    شہروں کے داخلی و خارجی راستوں پر قائم چوکیاں شہریوں کے لیے سہولت کے بجائے اذیت بن چکی ہیں۔ بار بار روکا جانا، کاغذات کی جانچ کے نام پر بدتمیزی اور غیر ضروری تاخیر عام ہے۔ اگر مقصد سکیورٹی ہے تو اس کا معیار سب کے لیے یکساں کیوں نہیں؟ اور اگر مقصد محض وصولی ہے تو اس کی قانونی حیثیت کیا ہے؟
    اندرونِ سندھ و دیگر شہروں کی نمبر پلیٹیں: چالان کہاں جاتے ہیں؟
    ایک بڑا سوال یہ ہے کہ اندرونِ سندھ یا ملک کے دیگر شہروں کی نمبر پلیٹوں والی گاڑیوں کے چالان آخر کس کھاتے میں جمع ہوتے ہیں؟ شہریوں کو شفافیت نظر نہیں آتی۔ اگر یہ رقوم سرکاری خزانے میں جمع ہوتی ہیں تو اس کی عوامی رپورٹ کیوں نہیں؟ اور اگر نہیں، تو ذمہ دار کون ہے؟
    سرکاری نمبر پلیٹ: قانون سے بالاتر یا بااختیار؟
    سرکاری نمبر پلیٹ والی گاڑیاں اکثر قوانین کی خلاف ورزی کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان کے چالان ہوتے بھی ہیں یا نہیں؟ اگر ہوتے ہیں تو کہاں جمع ہوتے ہیں؟ اور اگر نہیں ہوتے تو کیا سرکاری عہدہ قانون سے بالاتر ہونے کا لائسنس ہے؟ ریاست کی ساکھ اسی سوال کے جواب میں مضمر ہے۔
    صرف دس فیصد قانون پر عمل کیوں؟
    عام تاثر یہ ہے کہ صرف دس فیصد شہری قانون کی پاسداری کر رہے ہیں۔ اگر یہ درست ہے تو باقی نوے فیصد کے لیے قانون کہاں ہے؟ کیا قانون پر عمل درآمد شہری کی مرضی پر چھوڑ دیا گیا ہے؟ ریاست کا بنیادی فریضہ یکساں نفاذِ قانون ہے، ورنہ معاشرہ انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔
    رکشے اور چنچی: مکمل آزادی، مکمل بے قاعدگی
    بغیر لائسنس، بغیر فٹنس اور بغیر نمبر پلیٹ رکشے اور چنچی سڑکوں پر آزادانہ چلتی ہیں۔ حادثات، ٹریفک جام اور آلودگی میں ان کا حصہ سب کے سامنے ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان پر قانون لاگو نہیں ہوتا؟ یا یہ طبقہ محض اس لیے نظرانداز ہے کہ اس سے باقاعدہ وصولی مشکل ہے؟
    کراچی کے شہری: تھیلوں میں بھرے چالان
    کراچی کے شہریوں کو آئے دن بھاری چالانوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ معمولی غلطی پر جرمانے، گاڑیوں کی ضبطی اور طویل قانونی کارروائیاں عام ہیں۔ دوسری طرف ہوٹر لگانے والی گاڑیاں، کالے شیشے اور غیر قانونی پروٹوکول بے روک ٹوک جاری ہے۔ یہ دوہرا معیار شہریوں کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔
    پروٹوکول کلچر: قانون کس کے لیے؟
    ہوٹر، اسکارٹ اور وی آئی پی رویہ اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ طاقتور کے لیے قانون نرم اور عام شہری کے لیے سخت ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا آئین سب کو برابر نہیں کہتا؟ اگر کہتا ہے تو یہ امتیاز کیوں؟

    کراچی یا علاقہ غیر
    اسلحے کی کھلے عام نمائش کرنے والوں کوکوئی پوچھنے والا نہیں لگتا ہے کراچی کوئی شہر نہیں بلکہ علاقہ غیر ہے کہیں سختی، کہیں نرمی۔ یہ صورتحال ریاستی رِٹ کے لیے خطرناک ہے۔ قانون اگر ہر جگہ یکساں نہ ہو تو شہریوں میں بغاوت نہیں تو بددلی ضرور جنم لیتی ہے۔

    اصلاحات کا سوال: محض وعدے یا عملی منصوبہ؟

    عوام جاننا چاہتے ہیں کہ کیا حکومت کے پاس ٹریفک، ٹرانسپورٹ اور پولیس اصلاحات کا کوئی واضح اور قابلِ عمل منصوبہ ہے؟ یا ہر مسئلہ کی طرح یہ بھی محض تقاریر اور وعدوں کی نذر ہو جائے گا؟ اصلاحات کے بغیر نفاذِ قانون محض دباؤ بن کر رہ جاتا ہے۔

    عام آدمی کس سے سوال کرے؟

    جب قانون طاقتور کے ساتھ کھڑا نظر آئے تو عام آدمی کے پاس سوال کرنے کے لیے کون سا دروازہ رہ جاتا ہے؟ عدالتیں مہنگی، دفاتر سست اور نمائندے خاموش یہ خلا خطرناک ہے۔ جمہوریت میں سوال کرنا حق ہے، اور اسی حق کے تحت یہ سوالات بلاول بھٹو زرداری سمیت تمام قیادت کے سامنے رکھے گئے ہیں
    یہ مضمون الزام نہیں بلکہ احتساب کا مطالبہ ہے۔ عوام قانون سے بھاگنا نہیں چاہتے، وہ صرف برابری چاہتے ہیں۔ اگربلاول بھٹو ان سوالات کا سنجیدگی سے جواب دیں اور یکساں نفاذِ قانون یقینی بنائیں تو اعتماد بحال ہو سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر، یہ خلیج مزید گہری ہوتی جائے گی اور اس کا نقصان صرف عوام نہیں، ریاست کو بھی ہوگا۔