Blog

  • کشمیری آج بھارتی یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور پر منارہے ہیں

    کشمیری آج بھارتی یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور پر منارہے ہیں

    اسلام آباد (نمائندہ خصوصی )کشمیر اور دنیا کے مختلف حصّوں میں موجود کشمیری آج 26 جنوری کو بھارتی یومِ جمہوریہ کے موقع پر یومِ سیاہ منارہے ہیں۔
    کشمیر میں اور دنیا کے مختلف حصّوں میں موجود بہت سے کشمیری 26 جنوری کو بھارتی یومِ جمہوریہ کے موقع پر یومِ سیاہ کے طور پر مناتے ہیں۔
    بھارتی یومِ جمہوریہ کمشیریوں کیلئے احتجاج اور سوگ کی علامت ہے کیونکہ کشمیریوں پر بھارت کی بربریت اور شب خون کی داستانیں تاریخ کا ایک سیاہ حصہ ہیں جو اب تک جاری ہے۔
    بھارت یومیہ جمہوریہ منا کر کشمیریوں کے سیاسی، آئینی اور انسانی حقوق سلب کیے جانے کے اپنے ناپاک اقدام کو دنیا کی نظروں سے نہیں چھپا سکتا۔
    یومِ سیاہ منانے کا مقصد بھارتی حکمرانی کے خلاف احتجاج کا اظہار ہے اور کشمیر کے تشخص کی یاد دہانی ہے۔
    آج کا دن عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ کشمیریوں کے حقِ آزادی کو سنجیدگی سے لے۔یہ نقطۂ نظر کشمیریوں کے ایک بڑے طبقے کی نمائندگی کرتا ہے۔
    ان کے نزدیک یہ دن خوشی کے بجائے احتجاج اور سوگ کی علامت ہے، کیونکہ وہ اسے کشمیر میں جاری سیاسی، آئینی اور انسانی حقوق سے جڑے مسائل سے جوڑتے ہیں۔
    یومِ سیاہ منانے کا مقصد بھارتی حکمرانی کے خلاف احتجاج کا اظہار اور کشمیر کے تشخص کی یاد دہانی ہے جبکہ آج کا دن عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ کشمیریوں کے حقِ آزادی کو سنجیدگی سے لے۔ یہ نقطۂ نظر کشمیریوں کے ایک بڑے طبقے کی نمائندگی کرتا ہے۔
    حریت رنما عبدالحمید لون کا بیان
    اس موقع پر حریت رہنما عبدالحمید لون کا کہنا تھا کہ بھارت کے یوم جمہوریہ کو آج لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری یوم سیاہ کے طور پر منا رہے ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ 26 جنوری کو یوم سیاہ منایا کشمیری عوام کے حق آزادی ، خودارادیت ، اور انسانی حقوق کی جدوجھد کا اظہار ہے۔ یوم سیاہ منانے کا بنیادی مقصد عالمی برادری کو پیغام دینا ہے کہ کشمیری اپنے مادر وطن پر بھارت کے جبری قبضے کو مسترد کرتے ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ اپنے حق کیلئے آواز بلند کرنے والے ہزاروں بیگناہ کشمیری آج بھی مختلف بھارتی جیلوں میں قید ہیں۔ بین الاقوامی برادری بھارت کی ریاستی دہشت گردی کو رکوانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
    مشعال ملک کا بیان
    مشعال ملک کا اس موقع پر کہنا تھا کہ 26 جنوری کشمیریوں کے لیے یومِ جمہوریہ نہیں، یومِ سیاہ ہے۔ جہاں انصاف ہونا چاہیے وہاں زنجیریں ہیں، یہ جمہوریت نہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیری عوام کا حقِ خود ارادیت مسلسل پامال کر رہا ہے۔ عالمی امن کی ہر کوشش میں کشمیر کو مرکزی ایجنڈا بنایا جائے اور کشمیر پر خصوصی بورڈ آف پیس کا قیام ناگزیر ہے۔
    سردار عتیق احمد خان کا بیان
    سردار عتیق احمد خان کا کہنا تھا کہ بھارت کا 80 سالہ ریکارڈ کسی صورت سیکولر جمہوریت کی عکاسی نہیں کرتا۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر صرف علاقائی نہیں بلکہ ایشیا کے مستقبل اور دو کروڑ انسانوں کی زندگیوں سے جڑا ہوا ہے۔ اگست 1947 کے ایگریمنٹ کو بھارت نے مسترد جبکہ پاکستان نے قبول کیا تھا۔
    حریت رہنما فاروق رحمانی کا بیان
    حریت رہنما فاروق رحمانی کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ کشمیر ایک بین الاقوامی تنازع ہے جس کا فیصلہ آج تک نہیں ہو سکا۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کا حتمی فیصلہ صرف کشمیری عوام کو حق خودارادیت کے ذریعے کرنا ہے۔ بھارت خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتا ہے مگر کشمیر میں جمہوری اصول پامال کیے جا رہے ہیں۔فاروق رحمانی کا کہنا تھا کہ کشمیر کا تنازع اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے تحت حل طلب ہے۔

  • ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: بھارت میں  خطرناک وائرس ، ایونٹ کا انعقاد خطرے میں

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: بھارت میں خطرناک وائرس ، ایونٹ کا انعقاد خطرے میں

    ممبی (اسپورٹس ڈیسک )بھارت میں پھیلنے والے خطرناک وائرس نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا انعقاد خطرے میں ڈال دیا۔تفصیلات کے مطابق ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 کو بھارت میں نئے نیپا وائرس کے پھیلنے کے باعث خطرات کا سامنا ہے، جس نے اس میگا ایونٹ کے انعقاد پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔بھارت کے مغربی بنگال میں دو نرسز اور ایک ڈاکٹر سمیت پانچ افراد میں نیپا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، جن کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔حکام نے کم از کم 100 افراد کو قرنطینہ میں بھیج دیا ہے اور حفاظتی تدابیر مزید سخت کردی ہیں۔یہ خطرناک وائرس 7 فروری کو شروع ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے انعقاد سے چند ہفتے پہلے ہی پھیلنا شروع ہوا ہے۔اگر وائرس کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے تو اس سے ایونٹ کی تیاریوں، لاجسٹکس اور سیکیورٹی انتظامات پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔نیپا وائرس چمگادڑوں سے انسانوں میں منتقل ہونے والا ایک مہلک زہر ہے، جس کی شرح اموات 75 فیصد تک ہو سکتی ہے جبکہ دنیا بھر میں فی الحال اس کا کوئی مؤثر علاج موجود نہیں ہے۔واضح رہے کہ ورلڈکپ پہلے ہی تنازعہ کا شکار ہوچکا ہے جب بنگلادیش نے سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر بھارت میں کھیلنے سے انکار کردیا تھا۔آئی سی سی نے بنگلادیش کے موقف کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور بنگلادیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کرلیا۔پی سی بی نے بھی بنگلادیش کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ورلڈکپ میں شرکت سے متعلق حکومت پاکستان کی منظوری سے مشروط ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان ٹیم کا بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا بھی امکان ہے۔

  • سپریم کورٹ کا سرکاری  ملازمین کے پروموشن سے متعلق بڑا فیصلہ

    سپریم کورٹ کا سرکاری ملازمین کے پروموشن سے متعلق بڑا فیصلہ

    اسلام آباد:(نمائندہ خصوصی )سپریم کورٹ نے سرکاری ملازمین کے پروموشن سے متعلق کیس میں بڑا فیصلہ سنا دیا۔عدالت عظمیٰ نے سرکاری ملازمین کی پروموشن میں تاخیر کے حوالے سے فیصلہ سناتے ہوئے اہل افسر کا پہلی محکمہ جاتی پروموشن کمیٹی کے دن سے پروموشن کا حق بحال کر دیا ہے۔ عدالت نے پنجاب سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے سرکاری ملازم فخر مجید کی پروموشن 21 جنوری 2012 سے مؤثر قرار دے دی۔فیصلے کے مطابق پنجاب سروس ٹربیونل نے فخر مجید کی پروموشن سے متعلق اپیل مسترد کی تھی اور یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ ملازم کو خالی عہدے کے دن سے پروموشن کا حق حاصل نہیں ہوتا۔ سپریم کورٹ نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ اہل سرکاری ملازم کو پہلی محکمہ جاتی پروموشن کمیٹی کے انعقاد کے دن سے پروموشن کا حق حاصل ہے۔7 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جسٹس عائشہ ملک نے جاری کیا جب کہ کیس کی سماعت جسٹس عائشہ ملک، جسٹس محمد ہاشم کاکڑ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل بینچ نے کی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں بتایا کہ ملازم فخر مجید کی استدعا تھی کہ اس کی پروموشن پہلی محکمہ جاتی پروموشن کمیٹی کے دن سے بحال کی جائے۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ سرکاری ملازمین کا پروموشن بنیادی حق ہے ۔ انتظامی غفلت یا تاخیر کا نتیجہ کسی بھی صورت ملازم پر نہیں آنا چاہیے۔ عدالت نے کہا کہ اہل سرکاری ملازم کو بروقت پروموشن کے لیے محکمہ جاتی پروموشن کمیٹی میں شامل کیا جانا لازم ہے ۔ انتظامی غفلت یا تاخیر کی سزا ملازم کو نہیں دی جا سکتی۔عدالت عظمیٰ نے مزید قرار دیا کہ پروموشن میں تاخیر یا لاپروائی ملازم کے حق کو متاثر نہیں کرے گی ۔ سپریم کورٹ نے سرکاری اداروں کو ہدایت کی کہ وہ بروقت پروموشن کے عمل کو یقینی بنائیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملازمین کو انتظامی ناکامی کی سزا نہیں دی جا سکتی۔

  • اسٹاک ایکسچینج انڈیکس تاریخ کی بلند ترین سطح پر

    اسٹاک ایکسچینج انڈیکس تاریخ کی بلند ترین سطح پر

    کراچی:(کامرس ڈیسک)پاکستان اسٹاک ایکسچینج آج ریکارڈ ساز تیزی دیکھی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں انڈیکس تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔بازار حصص میں کاروباری ہفتے کا آغاز آج 1288 پوائنٹس کی شان دار تیزی کے ساتھ ہوا، جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس بڑھ کر ایک لاکھ 90 ہزار 455 پوائنٹس کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔بعد ازاں مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی اور اعتماد کے نتیجے میں 1355 پوائنٹس کی مجموعی تیزی کے ساتھ پی ایس ایکس کا کے ایس ای 100 انڈیکس بڑھ کر ایک لاکھ 90 ہزار 522 پوائنٹس کی بلند ترین سطح کو چھو چکا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے بھی اسٹاک ایکسچینج میں جزوی مندی کے ساتھ ساتھ مجموعی طور پر تیزی کا رجحان رہا تھا۔

  • پاکستان ٹیم ورلڈکپ کھیلنے جائیگی یا نہیں، فیصلہ حکومت کریگی: محسن نقوی

    پاکستان ٹیم ورلڈکپ کھیلنے جائیگی یا نہیں، فیصلہ حکومت کریگی: محسن نقوی

    لاہور (خصوصی رپورٹ )پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی کا کہنا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شرکت سے متعلق فیصلہ حکومت پاکستان کرے گی۔
    لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی کا کہنا تھا کہ آئی سی سی سے زیادہ حکومت پاکستان کے تابع ہیں اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شرک سے متعلق فیصلہ حکومت پاکستان کرے گی۔
    ان کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ میں شرکت کے حوالے سے حتمی فیصلے کے لیے وزیراعظم کی آمد کے منتظرہیں، اس وقت وزیر اعظم پاکستان ملک میں نہیں ہیں، پہلے حکومت فیصلہ بتادے پھر پلان اے بی سی تیار ہے۔
    چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ بنگلادیش کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے، اس کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ہونا چاہیے، بنگلا دیش آئی سی سی میں برابر کی حیثیت کا ملک ہے، اگر پاکستان کے ساتھ معاملے میں انڈیا کو فیور دیا گیا تو بنگلا دیش کو بھی ملنا چاہیے۔
    ان کا کہنا تھاکہ یہ دہرا معیار ہے، ایک ملک کسی کو ڈکٹیٹ نہیں کرسکتا، ڈکٹیشن ہوئی تو پھر پاکستان کا بھی ایک مؤقف ہے اور پاکستان اپنے مؤقف پر قائم رہے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ابھی تفصیل میں نہیں جا سکتا ،جب ضرورت ہوئی تو تفصیل بتاؤں گا۔ ایک سوال پر محسن نقوی کا کہناکہ 10 مئی کو بھی ایک فیصلہ کیا تھا پھر اس کے بعد نہیں دیکھا کہ آگے کیا ہوگا۔

  • ملک کے بالائی علاقوں میں شدید برفباری سے نظام زندگی جم گیا، راستے بند، پاک فوج کا ریسکیو آپریشن جاری

    ملک کے بالائی علاقوں میں شدید برفباری سے نظام زندگی جم گیا، راستے بند، پاک فوج کا ریسکیو آپریشن جاری

    اسلام آباد (خصوصی رپورٹ )ملک کے بالائی علاقوں میں مسلسل برفباری اور شدید سرد موسم کے باعث نظامِ زندگی بری طرح متاثر ہو گیا ہے۔
    آزاد کشمیر، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کے بیشتر اضلاع میں کئی کئی فٹ برف پڑ چکی ہے، جس کے نتیجے میں رابطہ سڑکیں بند، بجلی کا نظام درہم برہم اور سیکڑوں افراد محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔
    متعدد مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ پاک فوج اور سول انتظامیہ کی جانب سے بڑے پیمانے پر ریسکیو اور امدادی آپریشن جاری ہیں۔
    آزاد کشمیر میں شدید برفباری، درجنوں گاڑیاں پھنس گئیں
    آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں گزشتہ رات سے جاری شدید برفباری نے معمولاتِ زندگی مفلوج کر دیے ہیں۔ وادی نیلم، اپر نیلم، اٹھ مقام، سدھنوتی، باغ اور ہٹیاں بالا سمیت متعدد بالائی علاقوں میں مسلسل برفباری کے باعث سڑکیں مکمل طور پر بند ہو چکی ہیں۔
    دریں اثنا ضلع حویلی کی حدود میں شدید برفباری کے دوران ایمبولینس سمیت 25 کے قریب گاڑیاں برف میں پھنس گئیں، جن میں خواتین اور بچوں سمیت تقریباً 100 افراد سوار تھے۔
    پاک فوج کا بروقت ریسکیو آپریشن، مسافر محفوظ مقام پر منتقل
    برف میں پھنسے مسافروں کی اطلاع ملتے ہی پاک فوج نے فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کیا۔ فوجی دستوں نے انتہائی دشوار موسمی حالات میں کارروائی کرتے ہوئے 32 مسافروں کو بحفاظت نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔
    ریسکیو آپریشن کے دوران ایک ایمبولینس میں موجود دو میتوں کو بھی نکال لیا گیا، جس پر لواحقین نے پاک فوج کی بروقت کارروائی کو سراہا۔
    مظفرآباد میں کئی سال بعد برفباری، وادی نیلم میں مکانات منہدم
    مظفرآباد میں کئی سالوں بعد برفباری ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے سردی کی شدت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ وادی نیلم میں شدید برفباری کے باعث 2 مکانات منہدم ہو گئے، تاہم خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
    برفباری اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث اہم شاہراہیں بند ہو گئیں، جس سے مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
    بجلی کا نظام درہم برہم، متعدد علاقوں میں تاریں اور پولز گر گئے
    شدید برفباری اور تیز ہواؤں کے باعث آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں بجلی کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ کئی مقامات پر بجلی کے پولز گر گئے جب کہ تاریں ٹوٹنے کے باعث گزشتہ 24 گھنٹوں سے بجلی کی فراہمی معطل ہے۔
    حکام کے مطابق موسم بہتر ہوتے ہی بحالی کا کام شروع کیا جائے گا، تاہم فی الحال دشوار حالات کے باعث مرمتی کام میں مشکلات درپیش ہیں۔
    خیبرپختونخوا میں وقفے وقفے سے برفباری، سیاحوں کا داخلہ بند
    اُدھر خیبرپختونخوا کے بالائی علاقوں میں بھی وقفے وقفے سے برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔ وادی کاغان میں برفباری کے باعث رابطہ سڑکیں بند ہو گئیں، جس کے بعد ضلعی انتظامیہ نے سیاحوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی۔ اس دوران آنے والے سیاحوں کو بالاکوٹ میں روک لیا گیا ہے تاکہ کسی بڑے حادثے سے بچا جا سکے۔
    دیربالا، کمراٹ اور لواری ٹنل میں راستے بند
    دیربالا، کمراٹ اور لواری ٹنل میں شدید برفباری کے باعث آمدورفت معطل ہو گئی ہے۔ برف جمنے اور پھسلن کے باعث گاڑیوں کی نقل و حرکت ممکن نہیں رہی، جس سے مقامی آبادی کے ساتھ ساتھ مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
    بعض علاقوں میں اشیائے خورونوش کی قلت کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
    ملاکنڈ میں کئی سال بعد برفباری، درخت سڑکوں پر گر گئے
    ملاکنڈ میں کئی سالوں بعد برفباری دیکھنے میں آئی، جس کے باعث سردی کی شدت میں نمایاں اضافہ ہوا۔ بعض مقامات پر برف کے وزن اور تیز ہواؤں کے باعث درخت سڑکوں پر گر گئے، جس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔
    انتظامیہ نے فوری طور پر درخت ہٹانے اور سڑکیں کھولنے کا کام شروع کر دیا ہے۔
    ضلع خیبر اور شانگلہ میں ریسکیو کارروائیاں
    ضلع خیبر میں برفباری کے باعث پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ ڈپٹی کمشنر خیبر کے مطابق پھنسے ہوئے افراد کو پائندہ چینہ اسکول اور ہاسٹل منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں انہیں عارضی رہائش اور ضروری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
    علاوہ ازیں شانگلہ ٹاپ میں 22 گھنٹوں سے برف میں پھنسے 4 سیاحوں کو بھی کامیاب ریسکیو آپریشن کے بعد محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
    گلگت بلتستان میں شدید برفباری، شاہراہ قراقرم بند
    گلگت بلتستان میں شدید برفباری کے باعث صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ چلاس اور اپر کوہستان میں برفباری اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث شاہراہ قراقرم مختلف مقامات پر بند کر دی گئی ہے۔ شاہراہ بند ہونے سے سیکڑوں مسافر اور مال بردار گاڑیاں پھنس گئیں، جس کے باعث اشیائے ضروریہ کی ترسیل بھی متاثر ہو رہی ہے۔
    استور میں نظامِ زندگی مفلوج، کئی فٹ برف جمع
    ضلع استور میں شدید برفباری کے باعث نظامِ زندگی مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔ استور کا ملک بھر سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے جب کہ راما میڈوز، دیوسائی، نانگا پربت اور برزل ٹاپ میں 5 سے 6 فٹ تک برف پڑ چکی ہے۔ مشرف چوک میں برفانی تودہ گرنے سے سڑک بند ہو گئی، جسے کھولنے کے لیے بھاری مشینری طلب کر لی گئی ہے۔
    ہنزہ، نگر اور چیپورسن میں مشکلات میں اضافہ
    ہنزہ اور نگر میں برفباری کے باعث رابطہ سڑکیں بند ہیں، جس سے مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ وادی چیپورسن میں خیموں میں مقیم زلزلہ متاثرین کو شدید سردی اور مسلسل برفباری کے باعث سخت حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
    امدادی ادارے متاثرین تک ضروری سامان پہنچانے کے لیے متبادل راستوں اور فضائی ذرائع پر غور کر رہے ہیں۔
    انتظامیہ اور امدادی ادارے متحرک، شہریوں کو احتیاط کی ہدایت
    ملک کے مختلف حصوں میں شدید برفباری کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ، ریسکیو ادارے اور پاک فوج ہائی الرٹ ہیں۔ شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز، موسمی صورتحال سے باخبر رہنے اور انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔
    محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند روز تک بالائی علاقوں میں سردی اور برفباری کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

  • شہیدِ پاکستان حکیم محمد سعید عظیم طبیب ،ممتاز   محقق اور قوم کے مخلص رہنما تھے،سعدیہ راشد،سسلمان احمد صدیقی  ودیگر کا خطاب

    شہیدِ پاکستان حکیم محمد سعید عظیم طبیب ،ممتاز محقق اور قوم کے مخلص رہنما تھے،سعدیہ راشد،سسلمان احمد صدیقی ودیگر کا خطاب

    کراچی:(اسٹاف رپورٹر )ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کی صدر محترمہ سعدیہ راشد نے کہا ہے کہ اگر پاکستان کی تاریخ میں کسی ایسی شخصیت کی تلاش کی جائے جو علم، تحقیق، خدمتِ خلق اور اعلیٰ کردار کا روشن نمونہ ہو تو شہیدِ پاکستان حکیم محمد سعیدؒ کا نام نمایاں نظر آتا ہے۔ وہ ایک عظیم طبیب، ممتاز محقق، کامیاب منتظم اور قوم کے مخلص رہنما تھے، مگر ان تمام خوبیوں سے بڑھ کر وہ نہایت سادہ، بااخلاق اور نرم دل انسان تھے۔انہوں نے یہ بات 22 جنوری 2026 کو ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کے زیرِ اہتمام منعقدہ ہمدرد نونہال اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس کا انعقاد بیت الحکمہ آڈیٹوریم، مدینۃ الحکمہ میں ہوا، جس کا موضوع تھا:
    “سادگی، قناعت اور کفایت شعاری — شہید حکیم محمد سعیدؒ کی زندگی سے سبق”۔
    محترمہ سعدیہ راشد نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے حکیم محمد سعیدؒ کو عزت، شہرت اور وسائل عطا کیے۔ وہ وفاقی وزیرِ صحت اور گورنر سندھ جیسے اعلیٰ عہدوں پر بھی فائز رہے، مگر اس کے باوجود انہوں نے کبھی نمود و نمائش یا دکھاوے کی زندگی اختیار نہیں کی۔ ان کا لباس، خوراک اور طرزِ زندگی انتہائی سادہ تھا۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ “سادگی انسان کو بڑا بناتی ہے اور دکھاوا انسان کو چھوٹا کر دیتا ہے۔”
    انہوں نے نونہالوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دور غیر ضروری اخراجات، مہنگے کپڑوں اور دکھاوے کی دوڑ کا دور ہے، جس کا نتیجہ خوشی کے بجائے ذہنی دباؤ اور بے چینی کی صورت میں نکلتا ہے۔ قناعت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان محنت ترک کر دے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ محنت کے ساتھ دل کا سکون بھی حاصل کیا جائے، جو ملے اس پر شکر اور جو نہ ملے اس پر صبر کیا جائے۔
    انہوں نے کہا کہ سادگی، قناعت اور کفایت شعاری کی بہترین مثال ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کی سیرتِ مبارکہ ہے، جنہوں نے سادہ زندگی اختیار فرمائی اور ہمیں یہ درس دیا کہ سادگی ایمان کی خوبصورتی ہے۔ انہی اصولوں پر حکیم محمد سعیدؒ نے خود بھی عمل کیا اور نونہالوں کو بھی ان اقدار کی تلقین کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صرف بچوں کو نصیحت کافی نہیں، بلکہ والدین اور اساتذہ کو بھی عملی طور پر سادہ زندگی اپنا کر مثال بننا ہوگا۔
    تقریب کے مہمانِ خصوصی سوئی سدرن گیس کمپنی کے ترجمان سلمان احمد صدیقی نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکیم محمد سعیدؒ ایک آفاقی شخصیت تھے، جن کا تعلق صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پورے برصغیر سے تھا۔ وہ طب، علم، تحقیق اور خدمتِ انسانیت کا حسین امتزاج تھے اور تقریباً 200 کتابوں کے مصنف تھے۔ ان کی زندگی سنتِ رسول ﷺ کا عملی نمونہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیاوی مال بھی عطا کیا، مگر انہوں نے اسے اپنی ذات پر خرچ کرنے کے بجائے انسانیت کی فلاح کے لیے استعمال کیا۔ ہمدرد فاؤنڈیشن اور ہمدرد یونیورسٹی جیسے ادارے ان کی روشن مثال ہیں، جن سے آج ہزاروں طلبہ مستفید ہو رہے ہیں۔
    انہوں نے محترمہ سعدیہ راشد اور ان کی ٹیم کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ حکیم محمد سعیدؒ کے مشن کو قابلِ تقلید انداز میں آگے بڑھا رہے ہیں۔
    تقریب میں نونہال مقررین مریم فاطمہ، عائشہ فواد، جائشہ احمر اور دیگر طلبہ نے موضوع پر پُراثر تقاریر کیں۔ اجلاس کا آغاز محمد معاذ علی کی تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا جبکہ نعتِ رسولِ مقبول ﷺ محمد ہادی نے پیش کی۔ اختتام پر طلبہ نے ٹیبلوز، خاکے اور ملی نغمے پیش کیے جبکہ ہمدرد پبلک اسکول کے طلبہ نے دعائے سعید پیش کی۔ تقریب میں طلبہ، اساتذہ، والدین اور معزز مہمانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی

  • کراچی میں  یخ بستہ ہواؤں سے پارہ سنگل ڈیجیٹ میں ریکارڈ

    کراچی میں یخ بستہ ہواؤں سے پارہ سنگل ڈیجیٹ میں ریکارڈ

    کراچی:(نمائندہ خصوصی)شہر قائد میں گزشتہ روز کی موسلادھار بارش کے بعد یخ بستہ ہواؤں سے موسم انتہائی سرد ہوگیا جس کے سبب جمعہ کی صبح پارہ سنگل ڈیجیٹ میں ریکارڈ کیا گیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق بلوچستان کی شمال مغربی سمت کی ہوائیں مزید شدت کے ساتھ اثرانداز ہوگئیں، کوئٹہ کی جانب سے چلنے والی ہواؤں کی رفتار 20 کلو میٹر فی گھنٹہ ریکارڈ ہو رہی ہے۔کراچی میں آج صبح کم سے کم درجہ حرارت گزشتہ روز کے مقابلے میں 3 ڈگری گر گیا، سرکاری سطح پر کم سے کم پارہ 10.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا۔شہر کے دیگر ویدر اسٹیشز پر سب سے کم درجہ حرارت بن قاسم میں 7.4 ڈگری ریکارڈ ہوا۔محکمہ موسمیات کے مطابق سردی کی نئی لہر اتوار تک برقرار رہ سکتی ہے اور اس دوران کم سے کم درجہ حرارت 7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہو سکتا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز کراچی کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش ہوئی اور سب سے زیادہ بارش سرجانی ٹاؤن میں 26.3 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔نارتھ کراچی میں 20،​ گلشنِ معمار میں 17.6، بحریہ ٹاؤن فیز 5 میں 14.2 ،سعدی ٹاؤن میں 10 ملی میٹر بارش ہوئی۔

  • اہلِ پنجاب کے لیے بڑا انقلابی منصوبہ؛ اپنی چھت اپنا گھر پروگرام مزید وسیع

    اہلِ پنجاب کے لیے بڑا انقلابی منصوبہ؛ اپنی چھت اپنا گھر پروگرام مزید وسیع

    لاہور:(نمائندہ خصوصی)اہل پنجاب کے لیے خوش خبری ہے کہ صوبائی حکومت نے اپنے انقلابی منصوبے اپنی چھت اپنا گھر کو مزید توسیع دینے کا فیصلہ کرلیا۔وزیر اعلیٰ مریم نواز نے پنجاب کو ایک سنہرا تحفہ دیتے ہوئے صدیوں پرانی روایت جوائنٹ فیملی سسٹم کو برقرار رکھنے اور سماجی ترقی و ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ایک انقلابی پیکیج تیار کیا ہے۔ سانجھے چُلھے، سانجھے ویہڑے اور اپنی چھت بھی سانجھی کے تصور کے تحت حکومت پنجاب نے جوائنٹ فیملیز کو خصوصی سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق مریم نواز نے انقلابی پروگرام ’’اپنی چھت، اپنا گھر‘‘ کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے اسے جوائنٹ فیملیز تک بڑھا دیا ہے، جس کے تحت پنجاب کی جوائنٹ فیملیز کو اپنے گھروں کی توسیع کے لیے بلاسود اور بالکل آسان اقساط پر قرض فراہم کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے گھروں کی توسیع کے لیے بلاسود قرضوں کے اجرا کی منظوری بھی دے دی ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے جون 2026ء تک ایک لاکھ 60 ہزار گھر بنانے کا بڑا ہدف مقرر کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پنجاب میں جن شہریوں کے پاس اپنی زمین نہیں، انہیں زمین بھی فراہم کی جائے گی اور گھر بنانے کے لیے بلاسود اور آسان قرض بھی دیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے ’’اپنی زمین، اپنا گھر‘‘ کے تحت 1534 پلاٹوں کی الاٹمنٹ کی منظوری دے دی ہے۔پہلے مرحلے میں جہلم میں 194، قصور میں 129، فیصل آباد میں 84 اور لودھراں میں 59 پلاٹس بذریعہ قرعہ اندازی دیے جائیں گے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اپنی زمین، اپنا گھر کے پلاٹس کی جلد از جلد قرعہ اندازی کے لیے اقدامات کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔ انہوں نے اپنی چھت، اپنا گھر پراجیکٹ کے فنڈز بڑھانے کے لیے بھی اقدامات کا حکم دیا۔ اس حوالے سے وزیراعلیٰ کی زیر صدارت خصوصی اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیکرٹری ہاؤسنگ اور ڈی جی پھاٹا نے تفصیلی بریفنگ دی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ اپنی چھت، اپنا گھر کے رجسٹرڈ یوزرز کی تعداد 18 لاکھ 80 ہزار 81 ہے جب کہ درخواست گزاروں کی تعداد 10 لاکھ 66 ہزار 559 ہے۔ اپنی چھت، اپنا گھر پراجیکٹ کے تحت پنجاب بھر میں 67 ہزار 197 گھر آباد ہو چکے ہیں جب کہ 53 ہزار 843 مکانات زیر تعمیر ہیں۔بریفنگ کے مطابق اپنی چھت، اپنا گھر کے تحت 164 ارب 66 کروڑ روپے کے تاریخی قرضے جاری کیے جا چکے ہیں اور اس پروگرام کے تحت ریکوری کی شرح 99 فیصد ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اپنی چھت، اپنا گھر کے تحت دوسری قسط بھی جلد از جلد ادا کرنے کی ہدایت دی۔مزید برآں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اپنی چھت، اپنا گھر کے صارفین کے انتقال کی صورت میں پالیسی مرتب کرنے کی بھی ہدایت جاری کی ہے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔

  • محکمہ خوراک سندھ میں بدانتظامیاں؛  متعدد افسران معطل

    محکمہ خوراک سندھ میں بدانتظامیاں؛ متعدد افسران معطل

    کراچی:(اسٹاف رپورٹر)صوبائی وزیر خوراک مخدوم محبوب الزمان نے محکمہ خوراک میں بدانتظامی پر بڑا ایکشن لیتے ہوئے متعدد افسران کو معطل کر دیا ہے۔صوبائی محکمہ خوراک میں نظم و ضبط کی بحالی کے لیے سخت کارروائی کرتے ہوئے اسسٹنٹ ڈائریکٹرز، ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولرز اور دیگر افسران کے خلاف اقدامات کیے گئے ہیں۔کارروائی کے تحت اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر لاڑکانہ عبدالوسیم جمالی، اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر سکھر قریب اللہ سومرو اور اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر عمرکوٹ وشن داس کو معطل کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح شکارپور اور مدیجی کے فوڈ سپروائزرز کو بھی معطل کرتے ہوئے فوری طور پر عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔اس کے علاوہ ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر جامشورو زاہد حسین عمرانی اور ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر گھوٹکی حاکم علی مہر کا تبادلہ کر دیا گیا ہے۔صوبائی وزیر خوراک مخدوم محبوب الزمان نے کہا ہے کہ محکمہ خوراک میں نظم و ضبط کی بحالی کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ خوراک میں احتساب کے عمل کو تیز کیا جا رہا ہے اور غیر ذمہ دار افسران کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں کی جائیں گی۔