Blog

  • فلاور شاپ میں لگی آگ تیزی سے پھیلی، سانحہ گل پلازہ کی حتحقیقاتی رپورٹ

    فلاور شاپ میں لگی آگ تیزی سے پھیلی، سانحہ گل پلازہ کی حتحقیقاتی رپورٹ

    کراچی (اسٹاف رپورٹر)کمشنر کراچی نے سانحہ گل پلازہ کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ تیار کرلی۔رپورٹ کے مطابق کمشنر کراچی گل پلازہ میں لگنے والی آگ کی رپورٹ وزیر اعلیُ سندھ کو پیش کریں گے۔ذرائع کے مطابق سانحہ گل پلازہ کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ کمشنر کراچی اور ایڈیشنل آئی جی پر مشتمل کمیٹی نے تیار کی ہے، کمشنر کراچی گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے کی رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو پیش کریں گے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ رپورٹ میں آگ لگنے کی وجوہات اور آگ بجھانے سمیت ریسکیو سے متعلق تفصیلات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ رپورٹ میں متاثرین، عینی شاہدین اور ریسکیو حکام سے حاصل معلومات درج ہیں۔ذرائع کے مطابق رپورٹ میں لکھا ہے کہ گراؤنڈ فلور پر موجود بچے کے ہاتھوں فلاور شاپ میں آگ لگی، آگ تیزی سے پھیلی اور ایئرکنڈیشن کے ڈکٹس کی طرف سے پھیلی۔ذرائع کا کہنا ہے تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آگ لگنے سے 79 اموات ہوئیں، زیادہ تر اموات گل پلازا کے میزنائن فلور پر ہوئیں۔ذرائع کے مطابق رپوٹ میں کہا گیا کہ گل پلازہ میں آگ رات دس بج کر پندرہ منٹ پر لگی،پہلا فائر ٹینڈر 10:37 منٹ پر گل پلازہ پہنچا، ڈپٹی کمشنر جنوبی 10:30 پر گل پلازہ پہنچے۔رپورٹ کے مطابق زیادہ تر اموات گل پلازہ کے میزنائن فلور پر ہوئیں۔

  • وزیراعلیٰ سندھ، وزیر اطلاعات اور مئیر کراچی مستعفی ہوں، فاروق ستار

    وزیراعلیٰ سندھ، وزیر اطلاعات اور مئیر کراچی مستعفی ہوں، فاروق ستار

    کراچی:(اسٹاف رپورٹر)متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ، وزیراطلاعات اور میئر کراچی تینوں کو مستعفی ہونا چاہیے۔ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما فاروق ستار نے بہادر آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ سے گل پلازہ کے حوالے سے سوالات کیے جارہے ہیں، سوالات پر وزیراعلیٰ، مئیر کراچی اور شرجیل میمن جھنجھلاہٹ کا شکار ہورہے ہیں، 18 سال سے اقتدار نشے میں ہیں، ضد اور انا کے نئے ریکارڈ قائم کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ ، وزیر اطلاعات اور مئیر کراچی کو گل پلازہ سانحے سے توجہ ہٹا نے نہیں دیں گے، ہمارا مطالبہ ہے کہ جوڈیشل کمیشن قائم ہونا چاہیے، ہم اس مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، آپ ہماری سیکیورٹی واپس لیں اور آپ مقدمات بنائیں لیکن اب ہم پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔رہنما ایم کیو ایم نے کہا کہ گل پلازہ کے شہدا کو انصاف دلا کر رہیں گے، شرجیل میمن کہہ رہے ہیں کہ کسی کے کہنے پر جوڈیشل کمیشن نہیں بنائیں گے، تو آپ خود بنالیں، 18 سال سے آپ کا تمام اداروں پر قبضہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کمشنر کراچی سے تحقیقات کرائیں گے تو کس طرح قبول کریں گے، خالد مقبول صدیقی سمیت ایم کیو ایم کے تمام لوگوں کی سیکیورٹی واپس لے لی جبکہ سیکیورٹی اداروں نے بتایا کہ ایم کیو ایم کے رہنماؤں کی جان کو خطرہ ہے، ہماری سیکیورٹی کی ذمہ داری نہیں لے رہے ہیں تو کیا اسلام آباد کی پولیس ہمیں سیکیورٹی دے گی۔فاروق ستار نے کہا کہ کراچی کے لوگ ڈمپر اور ٹرالر سے مار جا رہے ہیں، اسٹریٹ کرائم اور گٹر میں گر کر بچے جان سے جا رہے ہیں، جب آپ شہریوں کو تحفظ ہی فراہم نہیں کررہے تو آرٹیکل 141 کے تحت کراچی کو وفاق کے حوالے کردیں۔انہوں نے کہا کہ صدر آصف زرداری نے کہا کہ کراچی 4 کروڑ کی آبادی کا شہر ہے، گنتی کے حساب سے حکومت سندھ ذمہ داریاں پوری کر رہی، تو آپ کراچی کو وفاق کے حوالے کردیں۔ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں گورنر راج کی ضرورت نہیں ہے، کراچی کے حوالے سے تو کوئی فیصلہ کریں، بلاول بھٹو سے ڈیڑھ ال سے وقت مانگ رہا ہوں لیکن وہ وقت ہی نہیں دے رہے ہیں۔ایم کیو ایم کے رہنما نے مطالبہ کیا کہ وزیراعلیٰ سندھ ، وزیر اطلاعات اور مئیر کراچی مستعفی ہوں اور حکومت سندھ خود دستبردار ہو کیونکہ آپ کے عمل سے لگتا ہے آپ کراچی کو ڈس اون کررہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ کراچی کا مینڈیٹ ہمارے پاس موجود ہے، گل پلازہ آپ کو نہیں چھوڑے گا، آپ کراچی سے خود دستبردار ہو رہے ہیں اور یہ آپ اپنے عمل سے بتا رہے ہیں، آپ کراچی کو ڈس اون کر رہے ہیں،ہمیں ڈس اون کررہے ہیں تو ہمیں پھر کوئی تو اون کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم ان تینوں سے استعفی نہیں مانگ رہے ہیں بلکہ بلاول بھٹو سے کہہ رہے ہیں کہ آپ ان سے استعفیٰ لیں، وزیراطلاعات اپنی مرضی سے جوڈیشل کمیشن بنالو لیکن بنا تو لو کچھ لوگوں کی سیکیورٹی واپس کردی لیکن جنہیں نہیں کی انہیں بھی واپس کریں ورنہ ہم اسلام آباد سے کہیں گے۔فاروق ستار نے کہا کہ ہم بلاول بھٹو سے کئی امور اور سندھ کے عوام کے حق کے لیے ملنا چاہتے ہیں، اگر ہم قومی اور صوبائی اسمبلی کے ایوان میں موجود ہیں اور آپ ہمیں نہیں مان رہے تو ہمیں وفاق سے بولنا پڑے گا۔
    انہوں نے کہا کہ شرافت سے جوڈیشل کمیشن بنائیں، یہ نہیں کیا تو تمہارا گھمنڈ پارا پارا ہوگا اور اس کا وقت آگیا ہے، 72 گھنٹے ہم نے کوئی سوال نہیں کیا، لوگوں اور میڈیا نے سوال کیا۔ان کا کہنا تھا کہ کراچی فرانزک لیب کی صرف عمارت ہے جو اربوں کا منصوبہ ہے، عمارت کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے، عمارت کے لیے 8 ارب خرچ کردیے گئے جامعہ کراچی میں اساتذہ نے اپنی چھوٹی موٹی لیب بنا لی ان سے ہی کچھ سیکھ لو۔ فاروق ستار نے کہا کہ 2029 کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) فارغ ہے۔

  • خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال سمیت ایم کیو ایم رہنماؤں کو سکیورٹی واپس دیدی گئی

    خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال سمیت ایم کیو ایم رہنماؤں کو سکیورٹی واپس دیدی گئی

    کراچی(اسٹاف رپورٹر) ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں کو سکیورٹی واپس دے دی گئی۔ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول، وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال، فاروق ستار اور انیس قائم خانی کو سکیورٹی واپس دے دی گئی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی سے بھی پیپلزپارٹی کے رہنما کا رابطہ ہوا ہے اور انہیں بھی سکیورٹی واپس ملنے کا امکان ہے۔ایم کیو ایم پاکستان کے اہم وزرا اور اراکین اسمبلی کی سکیورٹی واپس لے لی گئی دوسری جانب سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن نے کہا کہ ایم کیو ایم سکیورٹی واپس لینے کے ٹول کو پروپیگینڈا کے طورپر لے رہی ہے، لوگ پیاروں کی ڈیڈ باڈی ڈھونڈ رہے تھے، آپ سیاست کررہے تھے، وزیرداخلہ نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے وزرا سے سکیورٹی واپس نہیں لی گئی۔انہوں نے کہا کہ مصطفیٰ کمال اور خالد مقبول اسلام آباد میں ہیں، کیا وہ سکیورٹی اسلام آباد لے کر جائیں گے، خالد مقبول کو 10 سپاہی اور مصطفیٰ کمال کو اس سے زیادہ سپاہی دیے ہیں۔واضح رہے کہ وزیر داخلہ سندھ ضیاء لنجار نے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں سے پولیس سکیورٹی واپس لینے کی خبروں کی تردید کی تھی۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں سے سکیورٹی واپس نہیں لی گئی، جن افراد کو قانون اور سکیورٹی کے پیش نظر سکیورٹی دی گئی ہے وہ فراہم کی جا رہی ہے، مصطفیٰ کمال اور خالد مقبول صدیقی اسلام آباد میں ہیں، کسی بھی شخص کو دی گئی سکیورٹی واپس نہیں لی گئی۔علاوہ ازیں مصطفیٰ کمال نے الزام عائد کیا تھا کہ سانحہ گل پلازہ پر تنقید کرنے پر سکیورٹی واپس لی گئی ہے جب کہ انہوں نے ایک بار پھر وفاق سے کراچی کو کنٹرول میں لینے کا مطالبہ کیا۔وزیر داخلہ سندھ نے ایم کیو ایم رہنماؤں سے سکیورٹی واپس لینے کی تردید کر دی

  • انڈر 19 ورلڈکپ : پاکستان نے نیوزی لینڈ کو 8 وکٹوں سے شکست دے دی

    انڈر 19 ورلڈکپ : پاکستان نے نیوزی لینڈ کو 8 وکٹوں سے شکست دے دی

    کراچی(اسپورٹس ڈیسک )انڈر 19 ورلڈکپ سپر سکس مرحلے کے اہم میچ میں پاکستان نے نیوزی لینڈ کو یکطرفہ مقابلے میں 8 وکٹوں سے شکست دے دی۔ہرارے میں کھیلے گئے میچ میں پاکستان نے نیوزی لینڈ کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا۔پاکستان کی شاندار بولنگ کی بدولت نیوزی لینڈ انڈر 19 کی ٹیم صرف 110 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔کیویز کی جانب سے بوگو 39 رنز بناکر نمایاں بیٹر رہے۔گرین شرٹس کی جانب سے عبدالسبحان نے 4 اور علی رضا نے 3 وکٹیں حاصل کیں۔پاکستان انڈر 19 ٹیم نے کیویز کا 111 رنز کا ہدف با آسانی 18 ویں اوور میں 2 وکٹوں کے نقصان پر پورا کرلیا۔ سمیر منہاس 76 رنز بناکر ناقابل شکست رہے۔یوں پاکستان انڈر 19ٹیم نے سپر سکس مرحلے کے اہم میچ میں نیوزی لینڈ کے خلاف 8 وکٹوں سے کامیابی حاصل کی۔واضح رہے کہ گرین شرٹس کو سیمی فائنل میں پہنچنے کے لیے نہ صرف آج کا میچ جیتنا تھا بلکہ یکم فروری کو بھارت کے خلاف ہونے والے میچ میں بھی کامیابی حاصل کرنی ہے۔

  • سانحہ گل پلازہ:  شہدا کے اہلخانہ کو ایک کروڑ روپے فی کس دینے کی منظوری

    سانحہ گل پلازہ: شہدا کے اہلخانہ کو ایک کروڑ روپے فی کس دینے کی منظوری

    کراچی: (اسٹاف رپورٹر)سندھ کابینہ نے سانحہ گل پلازہ میں شہید ہونے والوں کے اہلخانہ کو ایک کروڑ روپے فی کس دینے کی منظوری دیدی۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں بتایا گیا کہ سانحہ گل پلازہ میں متاثر ہونے والے دکانداروں کو 5-5 لاکھ روپے کچن اور یوٹیلیٹی اخراجات کے لیے کمشنر کے ذریعے ادا کیے جا رہے ہیں۔سندھ کابینہ نے متاثرہ دکانداروں کو ایک ایک کروڑ روپے بلاسود قرض فراہم کرنے کی منظوری دی اور اس موقع پر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کا کہنا تھا ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ متاثرین کو ہر ممکن ریلیف فراہم کریں۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ قرض دکانداروں کو دوبارہ کاروبار شروع کرنے کے لیے دیا جا رہا ہے، ایک کروڑ روپے پر واجب الادا سود حکومت سندھ ادا کرے گی۔مراد علی شاہ کا کہنا تھا تمام متاثرہ دکانداروں کو دو ماہ کے اندر کاروبار شروع کرنے کے لیے دکان کی سہولت فراہم کی جائے گی، ہم دکانداروں کے تحفظ اور سہولت کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔

  • اسٹامپ پیپرز کی فیسوں میں ہوشربا اضافہ کردیا گیا

    اسٹامپ پیپرز کی فیسوں میں ہوشربا اضافہ کردیا گیا

    کراچی (نیوز ڈیسک )اسٹامپ پیپرز کی فیسوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا گیا ہے جس سے سائلین کی چیخیں نکل گئی ہیں۔کم سے کم ای اسٹامپ پیپر کی مالیت100روپے سے بڑھا کر 300روپے ،طلاق اسٹامپ پیپرکی قیمت100روپے سے بڑھا کر 1000روپے جبکہ بچوں کے نئے اسکولز میں داخلوں اور جاب کیلئے ڈومیسائل اسٹامپ پیپر فیس100روپے سے بڑھا کر 500روپے کر دی گئی ہے۔اسی طرح بجلی، سوئی گیس اورپانی کے نئے کنکشن اسٹامپ فیس بھی 100روپے کی بجائے اب1000 روپے ہوگی۔ پراپرٹی سیلز ایگریمنٹ ای اسٹامپ پیپر کی فیس1200روپے سے بڑھا کر 3ہزار روپے کردی گئی ہے۔پراپرٹی کے علاوہ کسی بھی معاہدے کیلئے استعمال ہونے والے ای اسٹامپ پیپرکی فیس100روپے سے بڑھا کر 500روپے کردی گئی ہے۔5 لاکھ روپے تک معاہدے کیلئے ای اسٹامپ پیپرکی فیس1200 سے بڑھا کر 3ہزار جبکہ 5لاکھ روپے سے 10لاکھ روپے تک معاہدے کی فیس 6 ہزار،ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد مالیت کیلئے استعمال ہونے والے اسٹامپ پیپرکی فیس میں20ہزار روپے اضافہ کیا گیا۔پاور آف اٹارنی کے ای اسٹامپ پیپر فیس 1500سے 1800روپے کردی گئی۔ اشٹام پیپرزکے لئے سائل کے نام پر موبائل فون کی سم بھی لازمی قرار دی

  • پنجاب میں بسنت سے قبل دفعہ 144 کے تحت سخت پابندیاں عائد

    پنجاب میں بسنت سے قبل دفعہ 144 کے تحت سخت پابندیاں عائد

    لاہور(نمائندہ خصوصی): پنجاب حکومت نے بسنت پر اشتعال انگیزی روکنے کیلئے دفعہ 144 کے تحت مختلف پابندیاں عائد کردیں۔حکومت پنجاب کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق بسنت کے دوران مذہبی ہم آہنگی اور امنِ عامہ برقرار رکھنے کیلئے پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ پتنگوں پر مقدس کتب، مذہبی مقامات یا کسی شخصیت کی تصویر لگانے، کسی ملک یا سیاسی جماعت کے جھنڈے کی تصویر والی پتنگوں سمیت 30 روز کیلئے مذہبی و سیاسی نقش و نگار والی پتنگوں کی تیاری و خرید و فروخت اور استعمال پر پابندی عائد کی گئی ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق بسنت کے دوران بغیر تصویر والی یک رنگی یا کثیر رنگی گُڈّا اور پتنگ استعمال کرنے کی اجازت ہوگی، خلاف قانون پتنگوں کی تیاری، نقل و حمل، ذخیرہ، فروخت اور استعمال قابلِ تعزیر جرم قرار دیا گیا ہے۔
    حکومت پنجاب کے نوٹیفکیشن میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اشتعال انگیز عناصر کی جانب سے بسنت کے دوران مذہبی یا سیاسی علامات استعمال کرنے کا اندیشہ تھا، دفعہ 144 کے تحت احکامات فوری نافذ العمل اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سخت کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے۔دوسری جانب ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کا کہنا ہے کہ حکومت نے لاہور میں 6 تا 8 فروری محفوظ بسنت کی مشروط اجازت دی ہے، حکومت پنجاب نے محفوظ بسنت کی اجازت ایک تفریحی تہوار کے طور پر دی ہے، بسنت کے موقع پر کسی قسم کی قانون شکنی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ترجمان محکمہ داخلہ نے بتایا کہ امنِ عامہ کو برقرار رکھنے اور عوام کے مذہبی جذبات کے احترام کیلئے پابندیاں عائد کی ہیں، دھاتی تار، نائلون یا شیشے سے لیپ شدہ ڈور کے استعمال پر مکمل پابندی ہے جبکہ خطرناک ڈور اور پتنگوں کی تیاری، نقل و حمل، ذخیرہ، فروخت اور استعمال ممنوع ہے۔ترجمان محکمہ داخلہ کے مطابق مقررہ تاریخ سے قبل پتنگ بازی پر 5 سال قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے، ممنوعہ مواد کی تیاری یا فروخت میں ملوث افراد کو 7 سال قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

  • پولیس کم ہے اسی لیے ایم کیو ایم رہنماؤں سے سکیورٹی واپس لی گئی ہوگی: ترجمان سندھ حکومت

    پولیس کم ہے اسی لیے ایم کیو ایم رہنماؤں سے سکیورٹی واپس لی گئی ہوگی: ترجمان سندھ حکومت

    کراچی (نیوز ڈیسک )سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید کا کہنا ہے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں سے سکیورٹی واپس لینے کی یقیناً کچھ وجوہات ہوں گی۔جیو پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید کا کہنا تھا شہر میں پولیس کم ہے، ہوسکتا ہے اس وجہ سے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں سے پولیس سکیورٹی واپس لی گئی ہو۔ان کا کہنا تھا میرے پاس کوئی پولیس سکیورٹی نہیں ہے، سندھ کے حکومتی ایم پی ایز کے پاس بھی کوئی سکیورٹی نہیں ہے، ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں سے سکیورٹی واپس لینے کی یقیناً کوئی وجوہات ہوں گی۔سعدیہ جاوید کا کہنا تھا سندھ میں فارنزک لیب کا قائم نہ ہونا حکومت کی کوتاہی ہے، اس سال کے آخر میں سندھ کی فارنزک لیب فعال ہو جائے گی۔گل پلازہ کے متاثرین کی منتقلی سے متعلق سوال پر ترجمان سندھ حکومت کا کہنا تھا گل پلازہ کے سامنے دو پلازے ہیں جہاں دکانداروں کو شفٹ کیا جائے گا، حکومت پلازہ کے مالکان سے بات کررہی ہے، ایک پلازہ میں 500 اور دوسرے میں 350 دکانیں ہیں۔ترجمان سندھ حکومت کا کہنا تھا کمیٹی گل پلازہ کے نقصان کا تخمینہ لگائے گی، اس کا ازالہ بھی حکومت کرے گی، کمیٹی تین ہفتے میں گل پلازہ کے نقصان کی رپورٹ حکومت کو پیش کرے گی۔

  • سکیورٹی واپس لیکر ہمیں ڈرایا نہیں جاسکتا، مصطفیٰ کمال

    سکیورٹی واپس لیکر ہمیں ڈرایا نہیں جاسکتا، مصطفیٰ کمال

    کراچی (نیوز ڈیسک )ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر برائے صحت مصطفیٰ کمال نے ایک بار پھر کراچی کو فوری طور پر وفاق کے کنٹرول میں لینے کا مطالبہ کر دیا۔ مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کراچی جیسا اہم شہر سندھ حکومت جیسی نااہل صوبائی حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہونا چاہیے، کراچی کو فی الفور وفاق کا حصہ بنایا جائے، وفاق ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے کراچی کو کنٹرول کرسکتا ہے، وفاق کو آرٹیکل 148 کے تحت کراچی کو کنٹرول میں لینا چاہیے۔ان کا کہنا تھا گل پلازا کا سانحہ ہوا، لوگ شہید ہوگئے، گل پلازہ کی غفلت اور کارکردگی پر ہم نے اسے ظلم کہا، ظلم کوظلم کہنے پر یہ رویہ ہے تو دوبارہ کہتا ہوں کراچی کو ان کے چنگل سے آزاد کرایا جائے، سندھ حکومت کے اس اقدام سے ایم کیو ایم کے موقف کی تائید ہوئی۔ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں سے سکیورٹی واپس لینے سے متعلق سوال پر مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا مجھ سے بھی سکیورٹی واپس لے لی گئی ہے، سکیورٹی واپس ہمیں سیکیورٹی ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، وہ سمجھتے ہیں سیکیورٹی واپس لے کر ہمیں ڈرا لیں گے، انہیں حق نہیں کہ وہ کراچی کے حکمران رہیں، سندھ حکومت ایسے اقدامات کرکے ہماری آواز دبا نہیں سکتی۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا جئے سندھ والے شاہراہ پر کھڑے ہو کر پاکستان توڑنے کا نعرہ لگاتے ہیں، سندھ حکومت انہیں سکیورٹی دیتی ہے، یہ پاکستان کو اپنے اقدامات سے تباہ وبرباد کررہے ہیں۔ان کا کہنا تھا وفاقی حکومت کو خط بھی لکھا گیا ہے اور کابینہ میٹنگ میں بھی یہ بات کررہے ہیں، ساری وفاقی حکومت اور ریاست ہمارے موقف کو سن رہی ہے، دنیا چاند پر جاتی ہے اور ہمارے بچے گٹر میں گر رہے ہیں، کوئی غیر جمہوری ، غیر آئینی بات نہیں کررہا، پیپلزپارٹی سے بھی بات کریں گےکہ وہ ہمارے ساتھ یہ کرکے اپنے ساتھ دشمنی کر رہے ہیں۔

  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری کا سلسلہ مزید بڑھنے کا امکان

    ملک کے مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری کا سلسلہ مزید بڑھنے کا امکان

    اسلام آباد (خصوصی رپورٹ )بلوچستان اور خیبر پختونخوا سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری کا سلسلہ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بارشوں اور برفباری کا ایک اور اسپیل داخل ہوگیا۔ کوئٹہ، قلات، مستونگ، کان مہترزئی، مسلم باغ اور چمن سمیت دیگر اضلاع میں برفباری کا سلسلہ رات گئے شروع ہوا جس کے باعث موسم مزید سرد ہوگیا۔
    محکمہ موسمیات کے مطابق بارش اور برفباری کا دوسرا اسپیل آئندہ دو روز تک جاری رہنے کا امکان ہے جبکہ بارشوں کے باعث پہاڑوں علاقوں کے ندی نالوں میں طغیانی کی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
    محکمہ پی ڈی ایم اے نے متعلقہ اضلاع کو الرٹ جاری کر دیا ہے۔ پی ڈی ایم اے اور این ایچ اے کی ہیوی مشینری عملے کے ہمراہ قومی شاہراہوں پر موجود ہے۔
    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق کان مہترزئی، کوڑک، لکپاس، زیارت روڈ سمیت مختلف مقامات پر برف ہٹانے والی مشینری اور عملہ موجود ہے، عوام قومی شاہراہوں پر غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
    پی ڈی ایم اے اور این ایچ اے کا عملہ قومی شاہراہوں سے برف اٹھانے میں مصروف ہے۔

    خیبر پختونخوا
    پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں موسم آج ابر آلود ہونے سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا، آج پشاور سمیت خیبر پختون خوا کے میدانی علاقوں میں بارش جبکہ بالائی علاقوں میں پہاڑوں پر برفباری کا امکان ہے۔
    چترال لوئر میں برفباری کے باعث گلیشیئر گرنے سے کئی سڑکیں چوتھے روز بھی بند ہیں۔ چترال سے گرم چشمہ تک جانے والی سڑک بند ہونے کے باعث 60 سے 70 کی آبادی پر مشتمل لوگ مشکلات کا شکار ہیں۔
    گرم چشمہ روڈ چار مختلف مقامات پر گلیشیئر گرنے سے بلاک ہونے کے بعد لوگ پُرخطر راستوں سے پیدل سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ گرم چشمہ روڈ بند ہونے سے شدید سردی میں کئی مریض پھنس کر رہ گئے۔
    لوئر چترال تحصیل لٹکوہ کی کئی علاقوں کی رابطہ سڑکیں بھی بند ہیں۔ لوئر چترال کی وادی ارکاری، کریم آباد اور پرسان جانے والی تمام رابطہ سڑکیں بھی بند ہیں۔ چترال میں سڑکوں کی بندش کے باعث لوگ لاشیں اٹھا کر کئی کلو میٹر پیدل سفر کرکے لے جانے پر مجبور ہیں۔