اسلام آباد (ویب ڈیسک )وزیراعظم شہبازشریف سعودی عرب کے سرکاری دورے پر روانہ ہوگئے۔وزیراعظم شہباز شریف سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی دعوت پرسعودی عرب کادورہ کررہے ہیں۔نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار،فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی وزیراعظم کے ہمراہ دور سعودی عرب پر روانہ ہوئے ہیں۔
دورہ سعودی عرب کے دوران وزیرِاعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ ملاقات ہوگی جس میں برادرانہ تعلقات اور شراکت داری مزید مضبوط کرنے اور خطے کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال ہوگا۔وزیرِاعظم محمد شہباز شریف اپنے دورے کے دوران عمرہ بھی ادا کریں گے اور مدینہ منورہ میں روضہ رسولﷺ پرحاضری بھی دیں گے۔دفتر خارجہ کے مطابق علاقائی امن، سفارتی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے فروغ کے لیے دورہ اہم ہے۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے
Blog
-

وزیر اعظم شہباز شریف دورہ سعودی عرب پر روانہ، فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی ہمراہ
-

بھارتی عدالت نے سلمان خان اور ان کی بہن کو طلب کرلیا، وجہ سامنے آگئی
ممبی (ویب ڈیسک )چندی گڑھ کی مقامی عدالت نے اداکار سلمان خان، ان کی بہن الویرا خان اگنی ہوتری اور اسٹائل اینڈ کنٹینٹ جیولری پرائیویٹ لمیٹڈ کے ڈائریکٹرز کو مبینہ دھوکا دہی کے مقدمے میں طلب کر لیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق عدالت نے تمام افراد کو 5 اکتوبر کو پیش ہو کر الزامات پر جواب جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ چندی گڑھ کے تاجر ارون گپتا کی درخواست پر درج کیا گیا ہے جن کا مؤقف ہے کہ انہیں ’بینگ ہیومن‘ جیولری شوروم کھولنے کے لیے جھوٹے وعدوں پر آمادہ کیا گیا جس سے انہیں کئی کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔درخواست کے مطابق ارون گپتا نے شوروم قائم کرنے پر تقریباً 3 کروڑ روپے سرمایہ کاری کی جن میں سے ایک کروڑ روپے صرف شوروم کی تعمیر و تیاری پر خرچ ہوئے۔شکایت میں کہا گیا ہے کہ شوروم کھلنے کے بعد کمپنی نے وعدے کے مطابق کاروباری معاونت فراہم نہیں کی جب کہ فروری 2020 سے جیولری سپلائی کرنے والا اسٹور بند ہونے کے باعث کاروبار شدید متاثر ہوا۔درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ کمپنی سے وابستہ 6 افراد نے غلط معلومات دے کر سرمایہ کاری کروائی۔دوسری جانب کمپنی پہلے ہی ان الزامات کی تردید کر چکی ہے اور کمپنی کا کہنا ہے کہ 2018 کے معاہدے میں سلمان خان کا براہِ راست کوئی کردار نہیں تھا جب کہ سلمان خان فاؤنڈیشن نے 2015 میں صرف ’بینگ ہیومن‘ برانڈ کا لائسنس دیا تھا، جیولری کے کاروبار کی تمام ذمہ داری کمپنی پر تھی۔بھارتی میڈیا کے مطابق کیس کی سماعت 5 اکتوبر کو ہوگی۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے -

بابر اعظم نے عمران خان کا تاریخی ریکارڈ برابر کر دیا
پورٹ آف اسپین (ویب ڈیسک ) پاکستان کے ٹیسٹ کپتان بابر اعظم نے ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سابق کپتان عمران خان کا تاریخی ریکارڈ برابر کر دیا۔ پاکستان نے دوسرے ٹیسٹ میں ویسٹ انڈیز کو 8 وکٹوں سے شکست دے کر سیریز 1-1 سے برابرکردی۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف اس سیریز میں کپتان بابر اعظم نے بیٹنگ میں عمدہ فارم برقرار رکھتے ہوئے 4 اننگز میں 193 رنز بنائے، جہاں ان کی اوسط 96.50 رہی، اور وہ سیریز کے سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹر رہے۔بابر اعظم نے پہلے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 23 رنز بنائے، تاہم دوسری اننگز میں ذمہ دارانہ نصف سنچری اسکور کی۔ دوسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں ان کی 88 رنز کی اننگز نے پاکستان کو 43 رنز کی اہم برتری دلانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔سیریز کی آخری اننگز میں بابر نے 30 گیندوں پر ناقابلِ شکست 24 رنز بنائے، جس میں 2 چھکے اور 2 چوکے شامل تھے، اور پاکستان نے 75 رنز کا ہدف باآسانی حاصل کر لیا۔اس شاندار کارکردگی دکھانے پر بابر اعظم کو ویسٹ انڈیز کے آل راؤنڈر جسٹن گریوز کے ساتھ مشترکہ طور پر پلیئر آف دی سیریز قرار دیا گیا۔ جسٹن گریوز نے 4 اننگز میں 111 رنز بنانے کے علاوہ 7 وکٹیں بھی حاصل کیں۔ اس کے ساتھ ہی بابر اعظم نے پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی کرکٹ میں سب سے زیادہ پلیئر آف دی سیریز ایوارڈز جیتنے کا تاریخی ریکارڈ برابر کر دیا۔یہ بابر اعظم کے ٹیسٹ کیریئر کا پہلا پلیئر آف دی سیریز ایوارڈ تھا، جبکہ مجموعی طور پر یہ ان کا 10واں ایوارڈ ہے۔اس سے قبل وہ 5 مرتبہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل اور 4 مرتبہ ون ڈے انٹرنیشنل میں یہ اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔اس کامیابی کے ساتھ بابر اعظم نے عمران خان اور وسیم اکرم کے ساتھ مشترکہ طور پر پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی کرکٹ میں سب سے زیادہ 10 پلیئر آف دی سیریز ایوارڈز جیتنے کا اعزاز حاصل کر لیا، جبکہ وقار یونس اس فہرست میں 9 ایوارڈز کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہیں۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے -

27 ستمبر کو اسلام آباد کا رخ کریں گے: سہیل آفریدی کا اعلان
پشاور(ویب ڈیسک ) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ 27 ستمبر کو اسلام آباد کا رخ کرینگے۔پشاور میں تحریک انصاف کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے کہا کہ کچھ لوگ نوجوانوں کو کاکروچ کہہ رہے ہیں لیکن میں ان کو اقبال کا شاہین کہتا ہوں۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ نوجوانوں آپ کے لیڈر کو آپ کی ضرورت ہے، 27 ستمبر کو اسلام آباد کو رخ کرینگے۔انہوں نے کہا کہ ملک تباہی کی طرف جا رہا ہے، معیشت تباہ ہوگئی ہے، عمران خان کی بہنوں پر آنسو گیس شیلنگ کی جاتی ہے، اگر سسٹم ناکام ہوگیا ہے تو متبادل کیا ہے؟ ہم کسی متبادل کو نہیں مانتے، تحریک انصاف ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے مگر ہمارا لیڈر اڈیالا جیل میں ہے۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم ریاست کے ساتھ رہے، ریاست ہمارے لیے سوتیلی مان بن کر رہ گئی، ہمارا منیڈیٹ چوری ہوا، ہمارے رہنماوں کو نا اہل قرار دیا گیا۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آج 3 سال کے بعد شہباز شریف اسپیڈ ناکام ہوگئی، کہا جا رہا ہے کہ سسٹم ناکام ہوگیا۔ صدرپی ٹی آئی خیبرپختون خوا جنید اکبر نے کہا کہ ہم سب نے اکھٹے ہو کر مقابلہ کرنا ہے، عمران خان کو جیل سے نکالنا ہے اور عوام انہیں دوبارہ وزیراعظم بنائیں گے۔
-

یومِ استحصال کشمیر: مسلح افواج کا کشمیریوں کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ
اسلام آباد(ویب ڈیسک )بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی قانونی حیثیت کو یکطرفہ تبدیل کرنے کے غیرقانونی عمل کو 7 برس مکمل ہوگئے، آج سرحد کے دونوں اطراف اور دنیا بھر میں رہنے والے کشمیری یومِ استحصال منائیں گے۔
یومِ استحصال کے موقع پر پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ( آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر، پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اور پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف نے یوم استحصال پر مقبوضہ کشمیر کے عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق مسلح افواج نے بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کو دہرایا اورکشمیریوں کی ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کے حصول کی جائز جدوجہد کے لیےغیر متزلزل حمایت کا عزم ظاہر کیا۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی سکیورٹی فورسز کا مسلسل غیر قانونی قبضہ، بھارتی فوجی محاصرہ، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں، آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوششیں شدید تشویش کا باعث ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق بھارت کے اشتعال انگیز بیانات اور جارحانہ طرزِ عمل خطے میں عدم استحکام کو مزید بڑھانے کی وجہ بن رہے ہیں، جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام کا انحصار مسئلہ جموں و کشمیر کے منصفانہ اور پُرامن حل پر ہے،یہ حل کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی عوام،مسلح افواج بھارتی غیرقانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے شہداء کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں،کشمیریوں کی آزادی کی جائز اور برحق جدوجہد میں شانہ بشانہ کھڑے رہنے کے غیر متزلزل عزم کو دہراتے ہیں۔Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے -

خیرپور میں اعلیٰ معیار کے لیتھیم کی دریافت، مقامی صنعت کے قیام کی راہ ہموار
اسلام آباد:(ویب ڈیسک ) خیرپور میں اعلیٰ معیار کے لیتھیم کی دریافت ہونے سے مقامی لیتھیم صنعت کے قیام کی راہ ہموار ہوگئی۔
پاکستان میں پہلی مقامی لیتھیم صنعت کے قیام کی جانب ایک اہم پیشرفت کے طور پر، آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (پنس ٹیک) کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
اس معاہدے کا مقصد سندھ کے ضلع خیرپور میں ایک کنویں سے اعلیٰ معیار کے لیتھیم کی دریافت کے بعد، جیوتھرمل نمکیاتی پانی سے تجارتی پیمانے پر لیتھیم نکالنے کی ٹیکنالوجی تیار کرنا ہے۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے -

چپ مہنگی ہوگئی، پاکستان میں موبائل فون کی قیمتیں بڑھنے کا خدشہ
اسلام آباد(ویب ڈیسک )عالمی سیمی کنڈکٹر اور اسمارٹ فون چپ مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی لاگت کے باعث پاکستان میں بھی موبائل فون کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ صنعتی ذرائع کے مطابق مصنوعی ذہانت (AI) کے لیے استعمال ہونے والے جدید ڈیٹا سینٹرز کی بڑھتی ہوئی طلب، میموری چپس، ویفر مینوفیکچرنگ، پیکجنگ اور دیگر اہم الیکٹرانک پرزہ جات کی قیمتوں میں اضافے نے اسمارٹ فون چپس کی لاگت میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔اس اضافے کے اثرات دنیا بھر کی موبائل صنعت پر مرتب ہو رہے ہیں۔ بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق دنیا کی بڑی موبائل چپ ساز کمپنی Qualcomm نے اپنے صارفین کو آگاہ کیا ہے کہ مختلف چپس کی قیمتوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے -

شہباز حکومت کی الٹی گنتی گننے والے خود اپنی گھڑیاں ری سیٹ کرنے لگے
اسلام آباد (ویب ڈیسک )8 فروری 2024 کے عام انتخابات کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں قائم ہونے والی اتحادی حکومت کے قیام کے بعد سے ہی وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت کے اپنے آخری مہینوں میں داخل ہو نے کا سیاسی بیانیہ بار بار سامنے آتا رہا ہے۔
باوجود اس کے کہ وہ کبھی حقیقت نہ بن سکا گزشتہ ڈھائی برسوں کے دوران ٹی وی ٹاک شوز، یوٹیوب چینلز اور سیاسی مبصرین مسلسل اتحادی حکومت کے قریب الوقوع خاتمے کی پیش گوئیاں کرتے رہے ہیں۔ پیش گوئیوں کی مدت کبھی 90 دن، کبھی چھ ماہ اور پھر دوبارہ کسی نئی مدت میں بدلتی رہی، لیکن نتیجہ ہمیشہ ایک ہی بتایا گیا: حکومت جانے والی ہے۔ جب بھی ایک مقررہ مدت خاموشی سے گزر جاتی، ایک نئی ڈیڈ لائن سامنے آ جاتی، جسے آئی ایم ایف کے جائزے، بجٹ، معاشی چیلنج، اتحادی جماعتوں کے مسائل، اپوزیشن کی تحریک یا ملک کے سیاسی طاقت کے ڈھانچے سے متعلق قیاس آرائیوں سے جوڑ دیا جاتا۔ تازہ ترین کاؤنٹ ڈاؤن ایک ٹی وی اینکر سے یوٹیوبر بننے والے شخص کی جانب سے سامنے آیا، جس نے حال ہی میں دعویٰ کیا کہ اسٹیبلشمنٹ نے حکومت کو نئے صوبے بنانے کے لیے چھ ماہ کی مہلت دی ہے۔تاہم آئینی ماہرین نشاندہی کرتے ہیں کہ نئے صوبوں کا قیام پاکستان کے مشکل ترین آئینی اقدامات میں شمار ہوتا ہے۔ آئین کے مطابق صوبائی حدود میں کسی بھی تبدیلی کے لیے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت سے آئینی ترمیم کی منظوری اور متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت سے رضامندی ضروری ہے۔ موجودہ سیاسی عددی صورتحال اور بین الصوبائی اتفاق رائے کی عدم موجودگی میں ایسا اقدام سیاسی طور پر تقریباً ناممکن سمجھا جاتا ہے، اس لیے مبینہ چھ ماہ کی ڈیڈ لائن کو آئینی حقائق سے ہم آہنگ کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ یہ تازہ دعویٰ بھی ایک مانوس طرز عمل کی پیروی کرتا ہے۔ 2024 کے انتخابات کے فوراً بعد پیش گوئیوں کا مرکز یہ دلیل تھی کہ اتحادی حکومت کے پاس مہنگائی، آئی ایم ایف کی شرائط اور معاشی مشکلات کے طویل دباؤ کو برداشت کرنے کے لیے کافی سیاسی جواز موجود نہیں۔ لیکن جیسے جیسے حکومت ایک کے بعد ایک رکاوٹ عبور کرتی گئی، پرانی ڈیڈ لائنز خاموشی سے ختم ہوتی گئیں اور ان کی جگہ نئی تاریخیں آتی رہیں۔ جب آئی ایم ایف کے جائزے کامیابی سے مکمل ہوئے تو توجہ اگلے جائزے پر منتقل ہو گئی۔ جب بجٹ منظور ہو گیا تو اگلا سیاسی بحران فیصلہ کن موڑ قرار دیا گیا۔ جب اپوزیشن کے احتجاج سیاسی تبدیلی لانے میں ناکام رہے تو قیاس آرائیاں محض کسی نئی تاریخ پر منتقل ہو گئیں۔ یوں یہ چھ ماہ کی مہلت حقیقی کاؤنٹ ڈاؤن کے بجائے ایک ایسے سیاسی کیلنڈر میں تبدیل ہوتی گئی جو خود کو مسلسل ری سیٹ کرتا رہتا ہے۔ ان سیاست دانوں میں جو بار بار ایسی قیاس آرائیوں کو ہوا دیتے رہے، ایک سینیٹر بھی شامل ہیں جو حکومتی بینچوں پر بیٹھتے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے مختلف مواقع پر بڑے سیاسی “زلزلوں” کی پیش گوئی کی، 90 دن کے اندر تبدیلیوں کے اشارے دیے اور کہا کہ اہم پیش رفت ہونے والی ہے۔ اگرچہ ان پیش گوئیوں نے وسیع بحث چھیڑی، لیکن متوقع سیاسی ہلچل پیدا ہوئے بغیر وہ تمام مدتیں گزر گئیں اور پھر نئی پیش گوئیاں سامنے آتی رہیں۔ حال ہی میں پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی وفاقی حکومت پر اپنی تنقید تیز کر دی ہے، خاص طور پر آزاد جموں و کشمیر کے جاری انتخابی مہم کے دوران اپنی اتحادی جماعت مسلم لیگ (ن) کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں۔ اگرچہ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے اتحادی حکومت کے خاتمے کی کوئی مخصوص تاریخ نہیں دی، تاہم ان کے بڑھتے ہوئے سخت لہجے نے کاؤنٹ ڈاؤن کے آغاز کا تاثر ضرور پیدا کیا ہے۔ تاہم سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اتحادی اختلافات اور انتخابی نعرے بازی لازماً وفاقی حکومت کے فوری خاتمے میں تبدیل نہیں ہوتے، خاص طور پر ایسی صورت میں جب دونوں فریق اتحاد توڑنے کے لیے فوری طور پر تیار دکھائی نہ دیں۔ ان قیاس آرائیوں کی ایک اور مستقل خصوصیت سیاسی متبادل کی تلاش رہی ہے۔ چند ماہ قبل ایک سینئر صحافی نے دعویٰ کیا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ وزیر اعظم شہباز شریف کی جگہ لینے کے لیے ایک نئے ونڈر بوائے کو تیار کر رہی ہے۔ اس دعوے نے ٹی وی اور سوشل میڈیا پر وسیع بحث چھیڑ دی اور مبصرین اس پر اسرار سیاسی شخصیت کی شناخت کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ کئی ماہ گزر چکے ہیں لیکن اب تک کوئی ونڈر بوائے سامنے نہیں آیا۔ایک اور سینئر صحافی اور اینکر پرسن نے بھی حکومت کی کارکردگی پر توجہ دیتے ہوئے پیش گوئی کی تھی کہ شہباز حکومت کو معیشت درست کرنے کے لیے چھ ماہ دیے گئے ہیں، ورنہ اسے گھر جانا پڑے گا۔ کچھ لوگوں نے دعویٰ کیا کہ وزیر خزانہ کو برطرف کیا جا رہا ہے۔ تقریباً دس ماہ گزر چکے ہیں، لیکن نہ شہباز حکومت برطرف ہوئی اور نہ ہی وزیر خزانہ اپنے عہدے سے ہٹائے گئے۔ ڈیڈ لائنز آتی اور جاتی رہتی ہیں، لیکن پیش گوئی وہی رہتی ہے۔ جس حکومت کے بارے میں ابتدا میں کہا گیا تھا کہ اس کے پاس زندہ رہنے کے لیے صرف چند ماہ ہیں، وہ ایک کے بعد ایک پیش گوئی کو غلط ثابت کرتے ہوئے اب تک قائم ہے۔ اس رپورٹ میں جن ڈیڈ لائنز اور پیش گوئیوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ عوامی ریکارڈ کا حصہ ہیں، کیونکہ یہ گزشتہ ڈھائی برسوں کے دوران ٹی وی پروگراموں، یوٹیوب چینلز، انٹرویوز اور دیگر عوامی فورمز پر کی گئی تھیں۔زیادہ تر نام اس لیے شامل نہیں کیے گئے کہ مقصد افراد کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ پاکستان کے سیاسی مباحثے میں پائے جانے والے ایک مسلسل رجحان کو نمایاں کرنا ہے۔ یہ رپورٹ یہ بھی نہیں کہتی کہ شہباز شریف حکومت کو سیاسی، معاشی یا اتحادی نوعیت کے بحرانوں کا سامنا نہیں ہو سکتا۔ بلکہ یہ ایک سادہ سا سوال اٹھاتی ہے: جب پہلے سے دی گئی ڈیڈ لائنز پوری نہیں ہوتیں تو حکومت کے قریب الوقوع خاتمے کی پیش گوئیاں نئی نئی تاریخوں کے ساتھ بار بار کیوں واپس آ جاتی ہیں؟Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے -

آبنائے ہرمز پر عبوری معاہدے کا اعلان آج متوقع: امریکی نیوز ویب سائٹ
واشنگٹن (ویب ڈیسک )امریکا، ایران اور عمان آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک عبوری معاہدے کے بالکل قریب پہنچ چکے ہیں۔ امریکی نیوز ویب سائٹ ‘ایگزیوس‘ کی رپورٹ کے مطابق دو علاقائی ذرائع اور ایک امریکی عہدیدار نے بتایا ہے کہ امریکا کی جانب سے آج اس کا باضابطہ اعلان متوقع ہے۔کئی ہفتوں سے جاری مذاکرات کے بعد سامنے آنے والے اس معاہدے کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو بحال کرنا اور جوہری معاہدے پر دوبارہ بات چیت شروع کرنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، یہ ممکنہ معاہدہ آبنائے ہرمز میں ٹریفک پر زیادہ کنٹرول کے حوالے سے ایران کے بعض مطالبات پورے کر دے گا جو کہ جنگ سے پہلے اسے حاصل نہیں تھا۔ دو علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاہدے میں عمان اور ایران کے درمیان 60 روزہ عارضی انتظام طے کیا گیا ہے جس میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔اس انتظام کے تحت، آبنائے ہرمز سے خلیج میں داخل ہونے والے تمام بحری جہازوں کی ٹریفک ایرانی حدود سے گزرنے والی شمالی لین سے گزرے گی جبکہ آبنائے ہرمز سے بحیرہ عرب کی جانب نکلنے والی ٹریفک ایران کی مشاورت سے عمانی حدود سے گزرنے والی جنوبی لین استعمال کرے گی، اس 60 روزہ مدت کے دوران کوئی ٹول یا فیس وصول نہیں کی جائے گی۔ایگزیوس کے مطابق فریقین 30 دنوں کے اندر آبنائے ہرمز کی درمیانی لین سے بحری بارودی سرنگیں صاف کرنے پر بھی کام کریں گے، درمیانی لین صاف ہونے کے بعد اسے عمان اور ایران کے درمیان مستقل انتظامات کے تحت آنے اور جانے والی ٹریفک کے لیے استعمال کیا جائے گا۔علاقائی ذرائع کے مطابق، عمان اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے علاوہ ثالثی کی کوششوں میں قطری، پاکستانی اور سعودی حکام بھی شامل تھے۔ ان مذاکرات میں وائٹ ہاؤس بھی فعال طور پر شریک رہا اور حالیہ دنوں میں ٹرمپ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کے درمیان متعدد ٹیلی فونک رابطے بھی ہوئے ہیں۔دو علاقائی ذرائع نے بتایا کہ عباس عراقچی نے ہفتے کے آخر میں معاہدے پر اصولی طور پر اتفاق کر لیا تھا تاہم انہیں ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی منظوری درکار تھی۔ ایک امریکی عہدیدار اور علاقائی ذریعے کے مطابق ایرانی قیادت نے منگل کے روز معاہدے کی منظوری کا عمل مکمل کر لیا ہے۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے -

اسرائیلی حملوں سے تباہ حال غزہ میں ‘جمپ سٹی’ نے بچوں کی خوشیاں لوٹادیں
غزہ (ویب ڈیسک )غزہ شہر کے شمالی علاقے یاسین اسٹریٹ میں بچوں کے لیے قائم کیا گیا تفریحی مرکز “جمپ سٹی” جنگ کی تباہ کاریوں کے بعد غزہ کے بچوں کے چہروں پر دوبارہ مسکراہٹیں بکھیرنے کی کوشش کر رہا ہے۔تفریحی مرکز میں بچوں کے لیے ٹرامپولین، ورچوئل ریئلٹی گیمز اور فیس پینٹنگ سمیت مختلف سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا ہے۔ جمپ سٹی کے مالک محمود خلیل شاہین نے بتایا کہ جنگ کے بعد ان کے اپنے بچوں سمیت دیگر بچوں کے لیے بھی کوئی تفریحی مقام موجود نہیں تھا، اسی ضرورت کو دیکھتے ہوئے انہوں نے محدود وسائل کے باوجود یہ منصوبہ شروع کیا۔خلیل شاہین کے مطابق غزہ کے علاقوں خان یونس، دیر البلح، المغازی اور النصیرات سمیت مختلف علاقوں سے بھی خاندان اپنے بچوں کو یہاں لاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس تفریحی مقام کی داخلہ فیس صرف 5 شیکل (تقریباً 1.64 امریکی ڈالر) رکھی گئی ہے تاہم جو بچے فیس ادا نہیں کرسکتے ان کا داخلہ مفت ہے۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے