پاکستان کی سیاست میں ایک اصطلاح ایسی ہے جو گزشتہ چند برسوں میں غیر معمولی مقبول ہوئی ہے، اور وہ ہے “ڈیڈ لائن”۔ حکومتوں کے قیام کے فورا بعد ان کے خاتمے کی تاریخیں دینا، چند ماہ کے اندر بڑی سیاسی تبدیلیوں کی پیش گوئیاں کرنا، اور پھر ان تاریخوں کے گزر جانے کے بعد نئی ڈیڈ لائن جاری کر دینا، اب ہمارے سیاسی مباحثے کا مستقل حصہ بنتا جا رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ رجحان صرف ایک حکومت یا ایک سیاسی جماعت تک محدود نہیں بلکہ تقریبا ہر دور میں کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا ہے۔
8 فروری 2024 کے عام انتخابات کے بعد قائم ہونے والی اتحادی حکومت بھی اسی طرز کے سیاسی تجزیوں کا مرکز بنی۔ حکومت کے آغاز ہی سے مختلف سیاسی حلقوں، ٹی وی پروگراموں، یوٹیوب چینلز اور سوشل میڈیا پر یہ تاثر دیا جاتا رہاہے کہ موجودہ سیٹ اپ زیادہ عرصہ برقرار نہیں رہ سکے گا۔ کبھی نوے دن، کبھی چھ ماہ اور کبھی کسی مخصوص سیاسی یا معاشی مرحلے کو حکومت کے مستقبل کا فیصلہ کن موڑ قرار دیا گیا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ہر نئی ڈیڈ لائن اپنی مدت پوری کرتی رہی اور اس کی جگہ ایک نئی پیش گوئی سامنے آتی رہی۔
یہاں سوال کسی ایک پیش گوئی کے درست یا غلط ہونے کا نہیں بلکہ اس رجحان کا ہے کہ آخر حکومتوں کے بارے میں مسلسل ایسی تاریخیں کیوں دی جاتی ہیں جن کی بنیاد زیادہ تر قیاس آرائیوں پر ہوتی ہے؟ کیا یہ محض سیاسی تجزیہ ہے یا پھر سنسنی خیزی کے اس ماحول کا نتیجہ جس میں ہر نئی خبر کو غیر معمولی بنا کر پیش کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے؟
پاکستان کی سیاسی تاریخ یقینا غیر معمولی واقعات سے بھری پڑی ہے۔ کئی حکومتیں اپنی آئینی مدت پوری نہیں کر سکیں، سیاسی اتحاد اچانک ٹوٹ گئے اور ایسے فیصلے بھی ہوئے جنہوں نے ملکی سیاست کا رخ بدل دیا۔ یہی تاریخی پس منظر شاید آج بھی بہت سے تجزیہ کاروں کو ہر سیاسی بحران میں حکومت کے خاتمے کے آثار دکھاتا ہے۔ لیکن ہر دور کے حالات ایک جیسے نہیں ہوتے، اس لیے ماضی کے تجربات کو ہر موجودہ صورتحال پر منطبق کرنا درست نہیں۔
گزشتہ دو برس کے دوران جب بھی کوئی اہم معاشی مرحلہ آیا، اس کے ساتھ حکومت کے خاتمے کی پیش گوئی بھی سامنے آ گئی۔ آئی ایم ایف کے جائزے کو فیصلہ کن قرار دیا گیا، پھر بجٹ کو آخری امتحان کہا گیا، اس کے بعد اتحادی جماعتوں کے اختلافات کو حکومت کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔ بعد ازاں بعض حلقوں نے نئے صوبوں کے قیام جیسے آئینی معاملے کو بھی سیاسی ڈیڈ لائن کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی۔ لیکن آئینی ماہرین مسلسل اس بات کی نشاندہی کرتے رہے کہ نئے صوبوں کا قیام ایک انتہائی پیچیدہ آئینی عمل ہے، جس کے لیے صرف سیاسی خواہش کافی نہیں بلکہ پارلیمنٹ اور متعلقہ صوبائی اسمبلیوں میں دو تہائی اکثریت بھی ضروری ہے۔ اس لیے ایسے دعووں کو زمینی حقائق کے تناظر میں دیکھنا زیادہ مناسب ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ اتحادی حکومتوں میں اختلافات کوئی نئی بات نہیں۔ دنیا کی بیشتر پارلیمانی جمہوریتوں میں اتحادی جماعتیں کئی معاملات پر ایک دوسرے سے اختلاف رکھتی ہیں، سخت بیانات بھی دیتی ہیں، لیکن اس کے باوجود حکومتیں چلتی رہتی ہیں۔ پاکستان میں بھی مختلف
سیاسی جماعتوں کے درمیان تنا واور بیانات کو فوری طور پر حکومت کے خاتمے سے جوڑ دینا ہمیشہ درست تجزیہ ثابت نہیں ہوا۔
سوشل میڈیا نے اس رجحان کو مزید تیز کر دیا ہے۔ آج ایک مختصر ویڈیو، ایک غیر مصدقہ اطلاع یا کسی نامعلوم ذریعے سے منسوب دعوی چند گھنٹوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے۔ الگورتھم بھی سنسنی خیز مواد کو زیادہ فروغ دیتے ہیں، اس لیے ایسی خبریں زیادہ توجہ حاصل کرتی ہیں جن میں کسی بڑی تبدیلی، خفیہ منصوبے یا فوری سیاسی ہلچل کا ذکر ہو۔ بعد میں اگر وہ اطلاعات درست ثابت نہ ہوں تو ان پر اتنی بحث نہیں ہوتی جتنی ان کے ابتدائی دعوے پر ہوئی تھی۔
جمہوریت میں حکومت پر تنقید کرنا اپوزیشن، میڈیا اور عوام کا بنیادی حق ہے۔ حکومت کی معاشی کارکردگی، مہنگائی، روزگار، گورننس، امن و امان اور عوامی مسائل پر سخت سوالات بھی اٹھنے چاہییں۔ لیکن تنقید اور پیش گوئی میں فرق ہوتا ہے۔ تنقید حقائق اور شواہد کی بنیاد پر ہوتی ہے، جبکہ پیش گوئی مستقبل کے امکانات پر۔ جب امکانات کو یقینی نتائج کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تو عوام میں غیر ضروری بے یقینی پیدا ہوتی ہے۔
اسی لیے سیاسی تجزیہ نگاروں اور صحافیوں پر بھی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اگر کوئی تجزیہ یا پیش گوئی بار بار غلط ثابت ہو تو اس کا جائزہ لینا بھی صحافتی دیانت کا حصہ ہونا چاہیے۔ معتبر صحافت صرف خبریں دینے کا نام نہیں بلکہ اپنی معلومات اور تجزیوں کا احتساب بھی کرتی ہے۔ یہی رویہ میڈیا پر عوام کے اعتماد کو مضبوط بناتا ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ حکومتیں صرف سیاسی بیانات سے نہیں گرتیں۔ آئینی نظام میں حکومت کے مستقبل کا فیصلہ پارلیمانی اکثریت، آئینی طریقہ کار، عدالتی فیصلوں، عوامی مینڈیٹ اور سیاسی حالات کے مجموعی اثرات سے ہوتا ہے۔ کسی حکومت کے خلاف عوامی بے چینی، معاشی مشکلات یا اتحادی اختلافات یقینا اہم عوامل ہو سکتے ہیں، مگر ان کی بنیاد پر فوری نتیجہ اخذ کرنا ہمیشہ درست نہیں ہوتا۔
دوسری طرف حکومتوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ صرف اس وجہ سے مطمئن نہیں ہو جانا چاہیے کہ پیش گوئیاں غلط ثابت ہو رہی ہیں۔ اصل کامیابی عوامی مسائل کے حل، معیشت کی بہتری، مہنگائی میں کمی، سرمایہ کاری کے فروغ، شفاف طرز حکمرانی اور ادارہ جاتی استحکام سے حاصل ہوتی ہے۔ اگر عوام کی زندگی میں بہتری نہ آئے تو محض سیاسی استحکام بھی دیرپا اعتماد پیدا نہیں کر سکتا۔
پاکستان کی سیاست اس وقت سنجیدہ مکالمے کی متقاضی ہے۔ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کی روزمرہ زندگی کیسے بہتر ہوگی، معاشی مشکلات کب کم ہوں گی، تعلیم، صحت اور روزگار کے شعبوں میں کیا پیش رفت ہوگی۔ اگر قومی بحث کا بڑا حصہ صرف حکومتوں کے خاتمے کی نئی تاریخیں دینے میں صرف ہوتا رہے تو اصل قومی مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔
اسی لیے ضروری ہے کہ سیاسی مباحثے میں سنسنی کے بجائے سنجیدگی کو فروغ دیا جائے۔ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے، لیکن اختلاف کو حقائق، آئین اور زمینی شواہد کی بنیاد پر استوار ہونا چاہیے۔ پیش گوئیوں کی سیاست وقتی توجہ ضرور حاصل کر سکتی ہے، مگر قوموں کی تعمیر حقائق، ذمہ داری اور بالغ نظری سے ہوتی ہے۔
آخرکار حکومتیں آئینی عمل سے بنتی اور اسی عمل کے تحت تبدیل ہوتی ہیں۔ اس لیے شاید اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کے سیاسی مکالمے میں “ڈیڈ لائنوں” سے زیادہ “زمینی حقائق” کو اہمیت دی جائے۔ یہی رویہ نہ صرف جمہوری عمل کو مضبوط کرے گا بلکہ عوام کو بھی افواہوں
اور قیاس آرائیوں کے بجائے حقیقت پر مبنی سیاسی شعور فراہم کرے گا۔
Blog
-

ڈیڈ لائنوں کی سیاست اور زمینی حقائق….تحریر:شیخ راشد عالم
-

ترقی کے لیے کیا ملک میں نئے صوبوں کا قیام ناگزیر ہے؟نشید آفاقی
پاکستان میں جب بھی ترقی، انتظامی اصلاحات یا وسائل کی منصفانہ تقسیم کی بات ہوتی ہے تو نئے صوبوں کے قیام کا موضوع ضرور زیر بحث آ جاتا ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ اگر ملک میں مزید صوبے بن جائیں تو عوام کے مسائل ان کی دہلیز تک حل ہوں گے، جبکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ نئے صوبے مسائل کا حل نہیں بلکہ نئے تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ترقی کے لیے نئے صوبوں کا قیام ناگزیر ہے، یا پھر اصل مسئلہ کہیں اور ہے؟
یہ بحث نئی نہیں۔ قیام پاکستان کے بعد سے ملک کے انتظامی ڈھانچے میں کئی تبدیلیاں آ چکی ہیں۔ کبھی ون یونٹ بنا، کبھی ختم ہوا، پھر صوبائی خودمختاری میں اضافہ کیا گیا۔ اس کے باوجود آج بھی ملک کے مختلف حصوں سے نئے صوبوں کے مطالبات سنائی دیتے ہیں۔ جنوبی پنجاب، ہزارہ، بہاولپور اور دیگر علاقوں میں وقتا فوقتا یہ آوازیں بلند ہوتی رہی ہیں۔
نئے صوبوں کے حامیوں کا سب سے مضبوط موقف یہ ہے کہ آبادی بڑھنے کے ساتھ انتظامی ڈھانچہ بھی تبدیل ہونا چاہیے۔ اگر ایک صوبہ کروڑوں لوگوں پر مشتمل ہو تو حکومت کے لیے ہر علاقے تک یکساں سہولیات پہنچانا آسان نہیں رہتا۔ دور دراز علاقوں کے لوگ اکثر شکایت کرتے ہیں کہ ترقیاتی منصوبے صرف بڑے شہروں تک محدود رہتے ہیں جبکہ چھوٹے شہر اور دیہی علاقے نظر انداز ہو جاتے ہیں۔
یہ دلیل اپنی جگہ وزن رکھتی ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں بہتر انتظامی نظام کے لیے نئے صوبے، ریاستیں یا انتظامی اکائیاں بنائی گئی ہیں تاکہ عوامی خدمات زیادہ مثر انداز میں فراہم کی جا سکیں۔ اگر حکومت عوام کے قریب ہو تو فیصلے بھی نسبتا جلد ہوتے ہیں اور مسائل بھی تیزی سے حل کیے جا سکتے ہیں۔
دوسری جانب مخالفین کا کہنا ہے کہ صرف نئے صوبے بنا دینے سے ترقی خود بخود نہیں آتی۔ اگر گورننس کمزور ہو، ادارے غیر موثر ہوں، کرپشن موجود ہو اور منصوبہ بندی کا فقدان ہو تو چار کی جگہ آٹھ یا دس صوبے بھی بنا دیے جائیں، نتائج مختلف نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق اصل ضرورت نظام کو بہتر بنانے کی ہے، نہ کہ صرف نقشے پر نئی لکیریں کھینچنے کی۔
اس موقف کی بھی اپنی اہمیت ہے۔ اگر کسی علاقے میں ہسپتال، اسکول، سڑکیں اور روزگار کے مواقع موجود نہیں تو اس کی وجہ صرف صوبے کی بڑی آبادی نہیں بلکہ منصوبہ بندی، وسائل کے استعمال اور حکومتی ترجیحات بھی ہیں۔ کئی ایسے ممالک بھی موجود ہیں جہاں بہت بڑے انتظامی یونٹس کے باوجود ترقی کی رفتار قابل رشک ہے۔
ایک اہم پہلو وسائل کی تقسیم کا بھی ہے۔ نئے صوبے بننے کی صورت میں بجٹ، ملازمتوں، سرکاری اداروں، اسمبلیوں، گورنر ہاوسز، سیکریٹریٹ اور دیگر انتظامی ڈھانچوں کے لیے اضافی اخراجات درکار ہوں گے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ملک کی معیشت اس بوجھ کو برداشت کرنے کی پوزیشن میں ہے؟ اگر وسائل محدود ہوں تو نئی عمارتوں سے زیادہ اہمیت تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کو دینی چاہیے۔تاہم اس کے برعکس بعض ماہرین کا خیال ہے کہ ابتدائی اخراجات ضرور ہوں گے لیکن اگر نئے صوبے بہتر انتظامی کارکردگی کا باعث بنیں تو طویل مدت میں یہی سرمایہ کاری فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ موثر انتظام، مقامی منصوبہ بندی اور بہتر نگرانی ترقی کی رفتار کو تیز کر سکتی ہے۔
ایک اور حساس پہلو شناخت کا ہے۔ بعض علاقوں میں نئے صوبے کی خواہش انتظامی ضرورت سے زیادہ ثقافتی یا تاریخی شناخت سے جڑی ہوتی ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ ان کی زبان، ثقافت اور علاقائی شناخت کو زیادہ نمائندگی ملے۔ اگر اس احساس کو مثبت انداز میں سنبھالا جائے تو قومی یکجہتی مضبوط ہو سکتی ہے، لیکن اگر معاملہ سیاسی کشمکش میں بدل جائے تو اختلافات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
یہاں سیاست کا کردار بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ بدقسمتی سے بعض اوقات نئے صوبوں کا مطالبہ عوامی ضرورت سے زیادہ سیاسی نعرہ بن جاتا ہے۔ انتخابات قریب ہوں تو وعدے کیے جاتے ہیں، لیکن بعد میں معاملہ سرد خانے کی نذر ہو جاتا ہے۔ اس رویے نے عوام کے اعتماد کو بھی متاثر کیا ہے۔
اصل سوال شاید یہ نہیں کہ نئے صوبے بننے چاہییں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ان کا معیار کیا ہونا چاہیے؟ کیا فیصلہ آبادی کی بنیاد پر ہوگا؟ جغرافیہ دیکھا جائے گا؟ انتظامی سہولت اہم ہوگی یا تاریخی حیثیت؟ اگر واضح اصول نہ ہوں تو ہر چند سال بعد نئے مطالبات سامنے آتے رہیں گے۔
پاکستان جیسے وفاقی ملک میں یہ بھی ضروری ہے کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات کا توازن برقرار رہے۔ اگر موجودہ صوبوں کو مکمل اختیارات، وسائل اور مضبوط مقامی حکومتیں میسر ہوں تو شاید کئی شکایات خود بخود کم ہو جائیں۔ بعض ماہرین تو یہ رائے دیتے ہیں کہ نئے صوبوں سے پہلے بااختیار بلدیاتی نظام زیادہ ضروری ہے، کیونکہ شہری کو سب سے پہلے اپنے شہر اور ضلع کی سطح پر موثر حکومت کی ضرورت ہوتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ عام شہری کی ترجیح اکثر بہت سادہ ہوتی ہے۔ اسے اس سے زیادہ غرض نہیں کہ صوبے کتنے ہیں، بلکہ وہ یہ چاہتا ہے کہ اس کے بچے کو اچھا اسکول ملے، مریض کو بروقت علاج، کسان کو پانی، نوجوان کو روزگار اور شہری کو صاف سڑکیں اور محفوظ ماحول۔ اگر یہ سہولیات موجود ہوں تو شاید انتظامی تقسیم کا موضوع اتنا اہم محسوس نہ ہو۔
اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ نئے صوبوں کی بحث غیر ضروری ہے۔ اگر کسی علاقے کی آبادی، رقبہ اور انتظامی ضروریات واقعی اس بات کا تقاضا کرتی ہوں کہ وہاں الگ صوبہ بنایا جائے، اور اس سے عوام کو حقیقی فائدہ پہنچنے کی توقع ہو، تو اس پر سنجیدہ، غیر سیاسی اور قومی مفاد میں گفتگو ہونی چاہیے۔ لیکن اگر مقصد صرف سیاسی فائدہ یا وقتی مقبولیت حاصل کرنا ہو تو ایسے فیصلے دیرپا مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ترقی کسی ایک فیصلے کا نام نہیں۔ ترقی اچھی حکمرانی، شفافیت، قانون کی بالادستی، تعلیم، صحت، سرمایہ کاری، امن، مضبوط اداروں اور عوامی اعتماد کے مجموعے سے جنم لیتی ہے۔ نئے صوبے اس عمل کا ایک حصہ ہو سکتے ہیں، لیکن پورا حل نہیں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کے حق اور مخالفت، دونوں کے پاس قابل غور دلائل موجود ہیں۔ اس لیے اس حساس معاملے پر جذبات سے زیادہ اعداد و شمار، انتظامی ضرورت، آئینی تقاضوں اور قومی مفاد کو بنیاد بنایا جانا چاہیے۔ اگر نئے صوبے واقعی عوام کی
زندگی آسان بنا سکتے ہیں تو ان پر ضرور غور ہونا چاہیے، لیکن اگر موجودہ نظام میں اصلاحات ہی وہی نتائج دے سکتی ہیں تو پہلے ان راستوں کو آزمانا زیادہ دانشمندانہ ہوگا۔
ملک کی ترقی کا سفر نقشے پر نئی سرحدیں کھینچنے سے کم اور نظام میں نئی سوچ پیدا کرنے سے زیادہ جڑا ہوا ہے۔ شاید یہی وہ نکتہ ہے جس پر تمام فریق آسانی سے متفق ہو سکتے ہیں۔ -

برداشت کا فقدان: اختلافِ رائے سے دشمنی تک…تحریر: فرحانہ اشرف فرحانہ
برداشت کی حدوں سے مرا دل گزر گیا
آندھی اٹھی تو ریت کا ٹیلہ بکھر گیا
ساجد اثر
کسی بھی مہذب معاشرے کی اصل پہچان اس کی بلند و بالا عمارتیں، جدید شاہراہیں یا معاشی ترقی نہیں ہوتیں بلکہ اس کے شہریوں کا اخلاق، برداشت اور اختلافِ رائے کو قبول کرنے کا ظرف ہوتا ہے۔ جب ایک معاشرے میں لوگ ایک دوسرے کی بات سننے، مختلف سوچ کو سمجھنے اور دلیل کے ساتھ جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں تو وہ معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن رہتا ہے۔ لیکن جب اختلافِ رائے کو جرم، تنقید کو بغاوت اور مختلف سوچ رکھنے والوں کو دشمن سمجھا جانے لگے تو یہ کسی بھی قوم کے لیے ایک خطرناک موڑ ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے آج ہمارا معاشرہ اسی آزمائش سے گزر رہا ہے۔
چند برس پہلے تک اختلاف کے باوجود رشتے برقرار رہتے تھے۔ دوست مختلف سیاسی جماعتوں کے حامی ہوتے تھے مگر ایک دوسرے کی خوشیوں اور غموں میں شریک رہتے تھے۔ خاندانوں میں نظریاتی اختلاف موجود ہوتا تھا مگر محبت اور احترام کی ڈور مضبوط رہتی تھی۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ ایک سوشل میڈیا پوسٹ، ایک تبصرہ یا ایک مختلف رائے برسوں پرانے تعلقات کو ختم کر دیتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے برداشت ہماری سماجی لغت سے آہستہ آہستہ ختم ہوتی جا رہی ہے۔
سوشل میڈیا نے اظہارِ رائے کے بے شمار مواقع فراہم کیے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ عدم برداشت، نفرت اور جلد بازی کو بھی فروغ دیا۔ لوگ کسی خبر کی تصدیق کیے بغیر رائے قائم کر لیتے ہیں، مخالف آواز کو سننے کے بجائے اسے خاموش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور دلیل کے بجائے طنز، تضحیک اور گالم گلوچ کا سہارا لیتے ہیں۔اسے یہ حق ہے کہ وہ مجھ سے اختلاف کرے
مگر وجود کا میرے بھی اعتراف کرے
اسے تو اپنی بھی صورت نظر نہیں آتی
وہ اپنے شیشہء دل کی تو گرد صاف کرےاعجاز رحمانی
یہ رویہ نہ صرف معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ نوجوان نسل کی سوچ اور کردار پر بھی گہرے منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔
یہ مسئلہ صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں۔ گھروں میں والدین بچوں کی بات سننے کے بجائے حکم سناتے ہیں، تعلیمی اداروں میں سوال کرنے والے طالب علم کو نافرمان سمجھا جاتا ہے، دفاتر میں اختلاف رکھنے والے ملازم کو ناپسند کیا جاتا ہے اور سیاسی میدان میں مخالف جماعت کو دشمن تصور کیا جاتا ہے۔ جب معاشرے کے ہر شعبے میں برداشت کم ہونے لگے تو اس کے اثرات قومی وحدت، انصاف اور ترقی پر بھی پڑتے ہیں۔
اسلام نے بھی اختلاف کو اخلاق اور حکمت کے دائرے میں رکھنے کی تعلیم دی ہے۔ قرآنِ کریم میں حکمت اور بہترین انداز سے گفتگو کرنے کی تلقین کی گئی ہے، جبکہ رسولِ اکرم ﷺ کی پوری زندگی برداشت، عفو و درگزر اور حسنِ اخلاق کی روشن مثال ہے۔ آپ ﷺ نے سخت ترین مخالفت کے باوجود مخالفین کے ساتھ عدل، احترام اور رحمت کا رویہ اختیار کیا۔ اگر ہم واقعی اسلامی معاشرہ بننا چاہتے ہیں تو ہمیں صرف نعروں سے نہیں بلکہ اپنے رویوں سے بھی اس تعلیم کو اپنانا ہوگا۔
عدم برداشت کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم اپنی رائے کو حرفِ آخر سمجھنے لگے ہیں۔ ہمیں یہ احساس ہی نہیں رہتا کہ سچائی کا ایک سے زیادہ زاویہ بھی ہو سکتا ہے۔ ہم سننے سے زیادہ بولنے کو اہمیت دیتے ہیں اور سمجھنے سے زیادہ جواب دینے کی تیاری کرتے رہتے ہیں۔ یہی رویہ فاصلے پیدا کرتا ہے اور معاشرے کو تقسیم در تقسیم کی طرف لے جاتا ہے۔
تعلیم، تربیت اور میڈیا اس مسئلے کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اسکولوں اور جامعات میں مکالمے کی روایت کو فروغ دیا جائے، بچوں کو اختلاف کے باوجود احترام کرنا سکھایا جائے، میڈیا سنسنی کے بجائے ذمہ داری کا مظاہرہ کرے اور سوشل میڈیا استعمال کرنے والے افراد اپنی تحریروں اور تبصروں میں شائستگی اختیار کریں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ آزادی اظہار کا مطلب دوسروں کی تذلیل نہیں بلکہ ذمہ داری کے ساتھ اپنی بات پیش کرنا ہے۔
آج پاکستان کو معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ فکری اور اخلاقی استحکام کی بھی اشد ضرورت ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں لوگ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کو عزت دیں، جہاں دلیل کو غصے پر ترجیح دی جائے، جہاں مکالمہ نفرت کی جگہ لے لے اور جہاں تعلقات نظریات کی نذر نہ ہوں، وہی معاشرہ حقیقی معنوں میں ترقی کر سکتا ہے۔
آئیے ہم اپنے رویوں کا جائزہ لیں۔ کیا ہم واقعی دوسروں کی بات سننے کا حوصلہ رکھتے ہیں؟ کیا ہم اختلاف کو سیکھنے کا موقع سمجھتے ہیں یا اپنی انا کی شکست؟ اگر ہر فرد اپنے حصے کی برداشت، شائستگی اور احترام کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لے تو یقینا ہمارے گھروں، اداروں اور پورے معاشرے میں محبت، اعتماد اور یکجہتی کی فضا قائم ہو سکتی ہے۔
اختلافِ رائے کبھی بھی دشمنی کی بنیاد نہیں بننا چاہیے۔ مضبوط قومیں وہی ہوتی ہیں جو مختلف آوازوں کو دبانے کے بجائے سننا جانتی ہیں، دلیل سے جواب دیتی ہیں اور احترام کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو ایک مہذب، پرامن اور مضبوط معاشرہ بنا سکتاہے۔ -

ایک بھی امریکی فوجی نے ایرانی سرزمین پر قدم رکھا تو اسے زندہ نہیں چھوڑیں گے: کمانڈر ایرانی فوج
تہران(ویب ڈیسک)ایران کی بری فوج کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی جہانشاہی نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر کسی بھی امریکی فوجی نے ایرانی سرزمین پر قدم رکھا تو اسے زندہ نہیں چھوڑا جائے گا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق جنرل علی جہانشاہی نے کہا کہ دشمن کی کسی بھی کارروائی کا بھرپور اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔ایرانی بری فوج کے کمانڈر کا کہنا تھا کہ ایرانی زمینی افواج مکمل جنگی تیاری کی حالت میں ہیں اور ملک کی سرحدوں پر مسلسل نگرانی جاری ہے۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے -

پیٹرول اصل قیمت سے 139 اور ڈیزل 116 روپے فی لیٹر مہنگا فروخت
اسلام آباد: (ویب ڈیسک )شہری پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر بڑھتے ٹیکسزکے بوجھ کی زد میں ہیں جب کہ پیٹرول اصل قیمت سے 139روپے 93 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 116 روپے 10 پیسے فی لیٹر مہنگا فروخت ہورہا ہے۔ دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک لیٹرپیٹرول کی بنیادی لاگت 197 روپے 69 پیسے بنتی ہے تاہم اس وقت فی لیٹر قیمت 327 روپے 62 پیسے مقرر ہے تاہم شہری ایک لیٹر پیٹرول پر مجموعی طور پر 130روپے 23 پیسے جب کہ ایک لیٹر ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 116 روپے لیوی، ٹیکس اورمارجنز ادا کرنے پر مجبور ہیں۔پیٹرول پر 80 روپے پیٹرولیم لیوی، 5 روپے کلائمٹ سپورٹ لیوی، 21 روپے 24 پیسے کسٹمز ڈیوٹی، 7 روپے48 پیسے ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن، 7 روپے 87 پیسے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن اور 8 روپے 64 پیسے ڈیلرز مارجن شامل ہے۔
اسی طرح فی لیٹر ہائی اسپیڈ ڈیزل کی بنیادی لاگت 264 روپے 76 پیسے ہے جب کہ اس کی قیمت 380 روپے 86پیسے فی لیٹر مقرر ہے۔ دستاویز کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل پر مجموعی طور پر 116 روپے کی لیوی، ٹیکسز اور مختلف مارجنز وصول کیے جا رہے ہیں،ہائی اسپیڈ ڈیزل کے فی لیٹر پر پیٹرولیم لیوی 74روپے 28 پیسے اور کلائمٹ سپورٹ لیوی 5 روپے کے حساب سے عائد ہے۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل کے فی لیٹر میں 15 روپے 68 پیسے کسٹمز ڈیوٹی، 4 روپے 63 پیسے ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن، 7 روپے 87 پیسے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن اور 8 روپے 64 پیسے ڈیلرز مارجن شامل ہے۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے -

یومِ آزادی: آئی ایس پی آر نے بلوچی زبان میں نغمہ ’پاک اے وطن‘ جاری کردیا
اسلام آباد(ویب ڈیسک )یومِ آزادی کی مناسبت سے آئی ایس پی آر نے بلوچی زبان میں نغمہ ’پاک اے وطن‘ جاری کردیا ۔اس ملی نغمے میں بلوچ گلوکار اخترچنال نے اپنی آواز کا جادو جگایا ہے جب کہ یہ ویڈیو وزیر اعظم پاکستان نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کی۔وزیر اعظم کی جانب سے گلوکاروں اور پروڈیوسرز کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔وزیراعظم نے کہا حب الوطنی کے جذبے سے بھرپور گیت سن کر ان کا دل فخر سے لبریز ہوگیا۔ملی نغمے میں وطن سے محبت کے جذبے اور روح کو خوبصورتی سے اجاگر کیا گیا ہے۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے -

ملک بھرکے بجلی صارفین کیلئے بڑا ریلیف ختم ہونے کے قریب پہنچ گیا
اسلام آ باد: (ویب ڈیسک )کراچی سمیت ملک بھرکے بجلی صارفین کے لیے بڑا ریلیف ختم ہونے کے قریب پہنچ گیا۔بجلی کے ایک روپے 99 پیسے فی یونٹ کمی کے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ ریلیف کی مدت رواں ماہ ختم ہو جائےگی جس کے بعد ملک بھرکے لیےاگلےماہ سے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں بجلی مہنگی ہونےکا خدشہ ہے۔
ذرائع کے مطابق اس وقت ملک بھر کے بجلی صارفین کو جنوری سے مارچ 2026 کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 67 ارب 17کروڑ روپے سے زائد کاریلیف مل رہا ہے تاہم جون 2026 سے جاری اس ایڈجسٹمنٹ کی تین ماہ کی مدت رواں ماہ اگست میں ختم ہوجائے گی،جس کے بعد اپریل تاجون2026کی ایڈجسٹمنٹ اگلے ماہ سے لاگو ہونے کا امکان ہے۔
اس ایڈجسٹمنٹ کے لیے بجلی تقسیم کارکمپنیوں نے نیپرا میں درخواست جمع کرائی ہے کہ بجلی صارفین پر 23 ارب روپے سے زائد کا بوجھ منتقل کیا جائے جو تقریبا ایک روپے فی یونٹ اضافہ بنتا ہے تاہم سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں کتنا اضافہ ہوگا؟یہ فیصلہ نیپرا کرے گا۔Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے -

ہم سب میر رضا کیس کیلئے سڑکوں پر نکلیں گے: ماہرہ خان کا تبصرہ
کراچی (ویب ڈیسک )عالمی شہرت یافتہ پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان نے بھی کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کے قتل کیس میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔
گزشتہ کئی روز سے جبران ناصر کے کچھ بیانات کے کلپس سوشل میڈیا کی زینت بنے ہوئے ہیں تاہم اب ماہرہ نے میر رضا کے وکیل جبران ناصر کے بیان پر تبصرہ کیا ہے۔اداکارہ نے تبصرہ کرتے ہوئے جبران ناصر کو شاباشی دی۔ماہرہ خان نے لکھا ‘جبران ناصر آپ بہترین کام کررہے ہیں، ہم سب اس ناانصافی کے خلاف سڑکوں پر نکلیں گے’۔اداکارہ نے کمنٹ میں مزید کہا ‘یہ سب بکواس اب ختم ہونی چاہیے’۔واضح رہے کہ ہفتے کو میر رضا کی قبرکشائی کے بعد سامنے آنے والی ابتدائی میڈیکل رپورٹ کے مطابق میر رضا کو گولی پیچھے سے لگی تھی اور جسم پر تشدد کے نشانات بھی پائے گئے۔رپورٹ کے مطابق دائیں ران اور جبڑے پر فریکچر کے شواہد بھی ملے جب کہ جسم کے نچلے حصے کے ٹشوز پر خون کے دھبے بھی تھے۔مزیدبرآں کیس کی تحقیقات کے دوران یہ انکشاف ہوا ہےکہ فارنزک لیب بھیجی گئی شرٹ میں معلوم ہوا کہ رضا کے ہاتھ اور چہرے پر تیزاب پھینکا گیا، تیزاب پھینکنے کا مقصد شناخت کو مٹانا تھا تاکہ کوئی اسے پہچان بھی نہ سکے۔Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے -

پرائیویٹ حج کا نیا ڈیجیٹل نظام نافذ کرنے کا فیصلہ، بکنگ وزارت مذہبی امور کے توسط سے ہوگی
اسلام آ باد(ویب ڈسک ) وزارت مذہبی امور نے حج آپریشن 2027 میں سعودی نسک مسار سسٹم کے مطابق پرائیویٹ حج کا نیا ڈیجیٹل نظام نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔آئندہ حج بکنگ پرائیویٹ آپریٹرز کی بجائے وزارت مذہبی امور کے توسط سے ہوگی۔ پہلی بار سرکاری حج کے ساتھ پرائیویٹ حج آپریشن بھی وزارتِ مذہبی امور کی براہِ راست نگرانی میں ہوگا۔ذرائع کے مطا بق پرائیویٹ حج اسکیم وزارتِ مذہبی امور کی سرکاری پاک حج ایپ کے ذریعے چلائی جائے گی۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے -

میررضا کی قبرکشائی مکمل، لاش کے نمونے حاصل کرلیے گئے، والد کا اظہار اطمینان
کراچی(ویب ڈسک ) نوجوان تاجر میر رضا کی موت کا معمہ حل کرنے کے لیے لاش کے پوسٹ مارٹم سے متعلق تمام کارروائی مکمل کر لی گئی۔میر رضا کی قبر کشائی کے دوران میڈیکل بورڈ کے ارکان، میر رضا کے اہلخانہ اور وکیل جبران ناصر بھی سوسائٹی قبرستان میں موجود رہے۔ پولیس سرجن، سربراہ شناخت پروجیکٹ اورمجسٹریٹ بھی قبرستان میں موجود رہے، اس موقع پر سکیورٹی کے بھی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔میڈیکل بورڈ ممبر نے بتایا کہ میر رضا کے پوسٹ مارٹم کی تمام تر کارروائی مکمل کر لی گئی ہے، میر رضا کی لاش سے مختلف نمونے حاصل کیے گئے ہیں، ملنے والے نمونوں کو کیمیائی تجزیہ کے لیے بھیجا جائےگا، اب قانونی کارروائی مکمل کی جا رہی ہے۔ گفتگو کرتے ہوئے میر رضا کے والد میر حسین کا کہنا تھا قبر کشائی کی کارروائی سے مطمئن ہوں، دعا ہے پوسٹ مارٹم میں جو کچھ پہلے ہوا اب نہ ہو، جو بھی رپورٹ آئے گی تسلیم کریں گے۔ان کا کہنا تھا بیٹے کے حوالےسے ایک آڈیو چل رہی ہے وہ بیٹے کی نہیں ہے، کیس کو خراب کرنے کے لیے یہ سب کیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ میر رضا کے اہلخانہ نے 5 رکنی بورڈ مسترد کر دیا تھا جس کے بعد حکومت نے دوبارہ پرانا میڈیکل بورڈ بحال کر دیا تھا۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے