Blog

  • کراچی میں سگ گزیدگی کا ایک اور واقعہ، 24 سالہ نوجوان جاں بحق، تعداد 18 ہوگئی

    کراچی میں سگ گزیدگی کا ایک اور واقعہ، 24 سالہ نوجوان جاں بحق، تعداد 18 ہوگئی

    کراچی(ویب ڈیسک )شہر قائد میں سگ گزیدگی کے بڑھتے واقعات سے متاثر ایک اور شہری آوارہ کتوں کا شکار ہوگیا۔
    قیوم آباد کا 24 سالہ نوجوان شہریار ریبیز کے باعث جناح اسپتال میں انتقال کرگیا۔ شہریار کو 2 ماہ قبل آوارہ کتے نے کاٹا تھا، تاہم کتے کے کاٹنے کے بعد اس نے ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین نہیں لگوائی۔شہریار کو آج صبح 3 بج کر 40 منٹ پر جناح اسپتال کی ایمرجنسی لایا گیا۔ مریض ایک ہفتے سے چڑچڑاپن، بے چینی اور پانی سے خوف کی علامات میں مبتلا تھا۔ اسے ریبیز اینسیفلائٹس کے شبہ میں علاج فراہم کیا گیا۔جناح اسپتال کی نیورومیڈیسن ٹیم نے مریض کا معائنہ کیا۔ شہریار کو سکون آور ادویات بھی دی گئی تھیں، تاہم وہ دوران علاج جانبر نہ ہوسکا اور آج صبح 9 بجے انتقال کرگیا۔واضح رہے کہ رواں سال 18 افراد ریبیز کے باعث انتقال کرگئے ہیں۔ ان میں 11 اموات انڈس اسپتال جبکہ 7 افراد جناح اسپتال میں انتقال کرچکے ہیں رواں سال سے اب تک مجموعی طور پر 30 ہزار سے زائد سگ گزیدگی کے کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔

    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • عمران خان کی نجی اسپتال منتقلی؛ خواجہ آصف کا سخت مؤقف سامنے آ گیا

    عمران خان کی نجی اسپتال منتقلی؛ خواجہ آصف کا سخت مؤقف سامنے آ گیا

    اسلام آباد(ویب ڈیسک )وزیر دفاع خواجہ آصف نے عمران خان کو علاج کے لیے نجی اسپتال منتقل کرنے کے عدالتی اقدام پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ اس طرزِ عمل سے دیگر قیدیوں کے لیے بھی نجی اسپتالوں میں علاج کے دروازے کھل جائیں گے، جو ایک غلط نظیر ہو گی۔انہوں نے زور دیا کہ انصاف کے تقاضے سب کے لیے برابر ہونے چاہییں، کسی ایک فرد کو خصوصی سہولت نہیں ملنی چاہیے۔انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف سمیت مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے ہمیشہ سرکاری اسپتالوں میں ہی علاج کروایا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ نواز شریف کے آپریشن کے دوران پی ٹی آئی کے ایک حامی ڈاکٹر کو موبائل سے ویڈیو بناتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تھا۔خواجہ آصف نے واضح کیا کہ اگر سپریم کورٹ کے فیصلے میں حکومت کا مؤقف شامل کرنے کی قانونی گنجائش ہوئی تو حکومت اسے ہر صورت رجسٹرڈ کروائے گی۔انہوں نے پی ٹی آئی دورِ حکومت کے تلخ رویوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت اپوزیشن کے ساتھ جو زبان استعمال کی گئی وہ سب کے سامنے ہے۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • ٹرمپ کا ایران کے خلاف اقتصادی جنگ کا اعلان

    ٹرمپ کا ایران کے خلاف اقتصادی جنگ کا اعلان

    واشنگٹن(ویب ڈیسک ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اب تک کی سخت ترین معاشی کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے اسے اقتصادی جنگ اور غیر معمولی پیمانے پر تنہائی قرار دیا ہے۔ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران کو معاہدے کے لیے کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ مواقع دیے گئے تاہم تہران نے ان مواقع سے فائدہ نہیں اٹھایا۔امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ اور فضائیہ کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے فوجی تنصیبات تباہ ہو چکی ہیں اور ملکی معیشت انتہائی کمزور حالت میں ہے۔ٹرمپ نے واضح کیا کہ جو بھی ملک ایران کو معاشی سہارا فراہم کرے گا اسے بھی بہت سنگین معاشی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔انہوں نے خاص طور پر ایران کی تیل اسمگلنگ، مالیاتی لین دین، کیش ٹرانسفرز، ایکسچینج ہاؤسز، شپ رجسٹریز اور فرنٹ کمپنیوں کے ذریعے معاونت روکنے کا مطالبہ کیا۔ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ Economic D-Day ہوگا اور امریکا اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایران کو تنہا کرنے اور اس کے خلاف کارروائی کو مؤثر بنانے کے لیے کام کرے گا۔امریکی صدر نے ایک بار پھر دوٹوک مؤقف اختیار کیا کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔

    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • حکومت، اسٹیبلشمنٹ کے درمیان دال میں کچھ کالا ہے، بلاول

    حکومت، اسٹیبلشمنٹ کے درمیان دال میں کچھ کالا ہے، بلاول

    اسلام آباد ( ویب ڈیسک)پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومتی اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان دال میں کچھ کالا ہے جو آج نہیں تو کل سامنے آجائے گا۔ اسلام آباد میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کے دوران نئے صوبوں سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی عوام کے ساتھ اور عوام کی رائے کے ساتھ کھڑی ہوگی اور جو قدم اتفاق رائے سے کیا جائے گا، عوام کے اتفاق رائے سے کیا جائے گا پی پی پی اس کا ساتھ دے گی جیسے دیتی رہی ہے، ہم نے زور زبردستی سے کسی چیز کو پہلے مانا ہے نہ آج مانیں گے اور نہ آئندہ مانیں گے تاہم کافی علاقے ہیں جو طویل عرصے سے کوشش میں ہیں کہ ان کے آئینی حقوق تسلیم کیے جائیں۔
    ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ جہاں تک اسٹیبلشمنٹ اور حکومت ایک پیج پر ہیں تو ہوگا، میں نے بطور سیاست دان اور سیاسی ورکرخیال ہے پیچ ایک ہوسکتا ہے، مگر دال میں کچھ کالا ہے اور مجھے نہیں معلوم وہ ہے کیا لیکن کچھ تو ہے، اگر حکومت کنفیڈنٹ ہے پی پی پی کی ضرورت نہیں ہے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے پھر میں غلط تھا، اگر کچھ ہے تو آج نہیں تو کل سامنے آجائے گا۔
    انہوں نے کہا کہ ہمارا اور پارلیمنٹ کا جوکام ہے وہ ہم کرنا شروع کریں، کم ازکم جو ایک مذاق بن گیا ہے، دھاندلی کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں، نہ صرف اپوزیشن بلکہ حکومتی بینچز سے بھی اٹھائے جاتے ہیں، دھاندلی کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ جیتنے ہیں تو خوشی مناتے ہیں ہارتے ہیں تو روتے ہیں، بنیادی طور پر ہم نے شکایت دور کرنا ہے۔
    ان کا کہنا تھا کہ آج جتنے بھی پیجز ہو جو بھی ہو رہا ہے کل بھی الیکشن ہوں گے وہ الیکشن ہوتو جو اعتراضات ہوتے ہیں اس کو دور کرنے کی کوشش کرتےہیں۔
    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر کیے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ حکومت کے وزرا اور مسلم لیگ (ن) کے اہم سیاست دانوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے لیکن بہتر ہوتا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے پہلے حکومت قدم اٹھاتی اور ہم بیماری کے حوالے سے سیاست نہیں کرنا چاہتے۔
    چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ ان ہاؤس تبدیلی پر فوکس نہیں، میں چاہتا ہوں پارلیمان اپنا کردار ادا کرے، کشمیر جیسا حساس علاقہ تھا یہاں غیر متنازع الیکشن ہونا چاہیے تھا، بھمبر اور میر پور سمیت کئی حلقوں میں شک تھا کہ امن و امان کی صورت حال خراب ہوگی، ہمارے امیدواروں پر وہاں حملے ہوئے اور کارکن کو گولیاں ماری گئیں، اسی طرح پونچھ کے علاقے جو کچھ ہوا وہ بھی سب کے سامنے ہے۔
    انہوں نے کہا کہ ابھی متعدد حلقوں میں انتخابات ہونے ہیں، متنازع الیکشن کے بعد متنازع حکومت چاہیے تو مسلم لیگ (ن) کو مبارک ہو، مجھے وہ موقع نظر نہیں آتا کہ ہم وہاں جمہوری روایات اور کشمیر کے پارلیمان کو مضبوط کریں۔
    حکومتی رویے پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کیا یہ سلوک اتحادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے جو مسلم لیگ (ن) نے ہمارے ساتھ کیا، میری پارٹی کا فیصلہ ہے مسلم لیگ (ن)کے ساتھ کوآرڈینیشن اور قانون سازی میں تعاون نہیں ہوگا جب تک ہمارے تحفظات دور نہیں ہوں گے، اگر ایسا کوئی قانون آئے جو قومی مفاد کا ہوگا اس کا ساتھ دیں گے بصورت دیگر تعاون نہیں ہوگا۔
    ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کوئی موقف نہیں دیا تھا بلکہ فقط ایک سوال کا جواب دیا تھا، صوبوں کے حوالے سے پیپلز پارٹی کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ اتفاق رائے ہو تو صوبہ بنایا جائے، میں نے گلگت بلتستان میں صوبے کا وعدہ کیا ہے چاہے وہ عبوری ہو یا آئینی کسی بھی شکل میں، جنوبی پنجاب میں صوبے کا وعدہ کیا لیکن سب سے اہم یہ بات ہے کہ کیا اس صوبے سے لوگ اتفاق رائے چاہتے ہیں تو ان کی رائے کو عزت دی جائے۔
    بلاول بھٹو نے سوال کیا کہ سندھ سے صوبے بننے کے کتنی قراردادیں منظور ہوئیں، اس کا جواب دینا چاہیے، پنجاب اور دیگر صوبوں میں قراردادیں منظور ہوئی ہیں، جس کا ہم احترام کرتے ہیں اور سندھ اسمبلی کی قرارداد کی کیسے مخالفت کی جائے۔
    انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اگر رابطہ کیا گیا تو ضرور بات چیت کریں گے، مگر جب تک پیپلز پارٹی کو انصاف نہیں ملتا اس وقت تک حکومت کے ساتھ تعاون نہیں ہوگا، آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی اپوزیشن میں بیٹھے گی۔
    چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ ٹرتھ اینڈ ری کنسیلیشن کمیشن کا مطلب یہ ہے کہ معاشرے اور اسٹیک ہولڈرز کو راستا دیتا ہے، کشمیر میں خصوصی طور پر میں کہتا ہوں کہ مجھے دکھ ہے کہ ہمیں اس معاملے پر بات چیت کو راہ دینی چاہیے، ٹروتھ اینڈ ری کنسیلیشن کمیشن کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے بے گناہ کو حق ملے اور گناہ گار کو سزا ملے، جب تک کمیشن نہیں بنتا اس وقت تک احتجاج والے پرامن طور پر گھر جائیں جبکہ حکومت کو بھی یہ یقین دہانی ہونی چاہیے کہ احتجاج والے پرامن اٹھیں گے۔
    ان کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں اگر ایسا ہوتا ہے تو اسی صورت میں معاملات نارمل ہوں گے۔
    بلاول بھٹو نے کہا کہ نظام ناکارہ ہونا کافی بھاری لفظ ہے، محسن نقوی سیاست میں اتنا تجربہ نہیں رکھتے، اگر وہ موجودہ نظام کی بات کررہے ہیں کہ کلیپس تو پھر میرے الٹی گنتی والے بیان کو درست سمجھیں، اگر وہ 1973 کے آئین کو سمجھتے ہیں کہ سسٹم کلیپس کر گیا ہے تو اس نظام کو کب چلنے دیا گیا، آج تک آپ نے اس دستوری نظام کو اس انداز سے آگے نہیں بڑھنے دیا۔
    انہوں نے کہا کہ بی ایل اے، ٹی ٹی پی اور دیگر کی پاکستان کے خلاف سازش ہو رہی ہے، صہیونی رجیم ایران اور پاکستان کے خلاف سازش کررہی ہے اس کو ناکام بنانا ہوگا، بھارت آپریشن سندور میں ناکام ہوا اب وہ سازشیں کررہا ہے، پاکستان نے جس انداز سے کردار ادا کیا ہے اس لیے ہمیں اندرونی سطح پر مستحکم ہونا چاہیے۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • حکومت نے عمران خان کو شفا اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ چیلنج کردیا

    حکومت نے عمران خان کو شفا اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ چیلنج کردیا

    اسلام آباد(ویب ڈیسک)وفاقی حکومت نے بانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے 18 اگست کے عبوری حکم پر نظرثانی کی درخواست دائر کردی۔ درخواست چیف کمشنر اسلام آباد کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کے زریعے سے دائر کی گئی ہے۔
    چیف کمشنر کی جانب سے دائر درخواست میں عدالتی حکم واپس لینے اور نظرثانی کی اجازت دینے کی استدعا کی گئی ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کا 18 اگست کا عبوری حکم اختیارِ سماعت سے تجاوز کرتا ہے اور اس کے ذریعے قیدی کو ہسپتال منتقل کرنے کے مقررہ قانونی طریقہ کار کو نظرانداز کیا گیا۔
    چیف کمشنر نے سپریم کورٹ رولز 2025 کے تحت نظرثانی درخواست دائر کرنے کی اجازت بھی طلب کی ہے۔ درخواست کے مطابق 5 اگست 2023 کو بانی پی ٹی آئی کو ایڈیشنل سیشن جج نے تین سال قید کی سزا سنائی تھی جس کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔
    دوران مقدمہ بانی پی ٹی آئی نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 561-A کے تحت علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کی درخواست کی تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے 12 مارچ 2026 کو درخواست مسترد کردی جس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔ چیف کمشنر کی درخواست میں پاکستان پریزن رولز 1978 کے رول 197 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ قیدی کو جیل سے باہر ہسپتال منتقل کرنے کا باقاعدہ قانونی طریقہ کار موجود ہے۔
    دوسرے اسٹیشن کے ہسپتال منتقلی کے لیے انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات کی پیشگی منظوری ضروری ہے جبکہ منتقلی کی صورت میں حکومت کو فوری رپورٹ دینا بھی لازم ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ جیل سے باہر ہسپتال میں داخل قیدی کی سکیورٹی پولیس کے ذمے ہوتی ہے جبکہ قیدی کے علاج سے متعلق ہسپتال کے اخراجات محکمہ صحت برداشت کرتا ہے۔
    آپریشن کی صورت میں قیدی کو ممکنہ حد تک مقررہ وقت کے قریب ہسپتال منتقل اور آپریشن کے بعد جلد از جلد جیل ہسپتال واپس لایا جانا چاہیے ۔ نظرثانی میں مزید کہا گیا ہے کہ 18 اگست کا حکم ان کے آئینی اور قانونی اختیارات کو براہ راست متاثر کرتا ہے، حالانکہ انہیں مقدمے میں فریق نہیں بنایا گیا تھا۔
    درخواست میں کہا گیا ہے کہ کسی ایسے شخص پر عدالتی حکم کا منفی اثر پڑتا ہو تو وہ فریق نہ ہونے کے باوجود حکم کو چیلنج کرنے کے لیے اجازت طلب کرسکتا ہے جبکہ درخواست گزار کا معاملے میں براہ راست، اہم اور قانونی طور پر محفوظ مفاد موجود ہے۔
    درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ معاملہ پہلی مرتبہ سپریم کورٹ کے سامنے مقرر ہوا تھا اور متعلقہ فریقین کو باقاعدہ نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔ آئین کے آرٹیکل 10-A کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا کہ منصفانہ ٹرائل اور قانونی طریقہ کار کے تحت فریقین کو سماعت کا مناسب موقع دینا ضروری ہے۔
    چیف کمشنر نے عدالت کے سامنے یہ مؤقف بھی پیش کیا کہ بانی پی ٹی آئی کا باقاعدگی سے طبی معائنہ ہوتا رہا ہے اور متعدد مرتبہ میڈیکل بورڈ ان کا علاج کرچکا ہے۔ درخواست کے مطابق عدالت نے منسلک مقدمات میں جمع کرائی گئی ایک رپورٹ کی بنیاد پر بانی پی ٹی آئی کی صحت بگڑنے کا ابتدائی تاثر قائم کیا تاہم مذکورہ رپورٹ میں صحت مزید خراب ہونے کی کوئی واضح نشاندہی موجود نہیں تھی۔
    درخواست میں کہا گیا ہے کہ طبی اور تکنیکی معاملات میں عدالت کو ماہرین کی رائے حاصل کرنی چاہیے تھی۔ عدالت کے لیے مناسب طریقہ یہ تھا کہ کسی طبی ماہر سے رپورٹ پر رائے حاصل کی جاتی اور اس کے بعد یہ طے کیا جاتا کہ آیا بانی پی ٹی آئی کی صحت بگڑنے کے شواہد موجود ہیں یا نہیں۔
    درخواست گزار کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقلی کے علاوہ ذاتی معالجین ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف کو علاج میں شریک کرنے، اہل خانہ کو صحت سے آگاہ کرنے اور علاج کے دوران مناسب ملاقات کی اجازت دینے کی استدعا کی تھی۔
    طبی رپورٹس اور معائنے کی مصدقہ نقول وکیل کو فراہم کرنے کی درخواست بھی کی گئی تھی۔ چیف کمشنر کی درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے عبوری حکم کے ذریعے بانی پی ٹی آئی کی چاروں استدعائیں مکمل طور پر منظور کرلیں جس سے پورا معاملہ عبوری مرحلے پر ہی طے ہوگیا اور حتمی فیصلے کے لیے کچھ باقی نہیں رہا۔
    درخواست میں کہا گیا ہے کہ قابل سماعت ہونے کے اہم سوال کو مؤخر کرکے عبوری حکم جاری کیا گیا جبکہ مذکورہ قانونی شقیں اور قیدی کی منتقلی کا مقررہ طریقہ کار عدالت کی توجہ سے اوجھل رہا۔ چیف کمشنر نے اسے ریکارڈ پر موجود واضح غلطی قرار دیتے ہوئے 18 اگست 2026 کا عبوری حکم واپس لینے اور اس پر نظرثانی کرنے کی استدعا کی ہے۔
    درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ چیف کمشنر اسلام آباد کو نظرثانی درخواست دائر کرنے کی اجازت دی جائے، 18 اگست کا عبوری حکم واپس لیا جائے اور اسے سپریم کورٹ کے طے شدہ قانونی اصولوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے کالعدم کیا جائے۔
    بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اسپتال منتقلی کے کیس میں عظمیٰ خان نے اضافی دستاویزات جمع کروا دیں۔
    اضافی دستاویزات متفرق درخواست کی صورت میں جمع کرائی گئیں، اضافی دستاویزات میں نوازشریف کی بیرون ملک روانگی کی تفصیلات شامل ہیں، اس کے علاوہ مریم نواز کی نوازشریف سے ملاقات کیلئے جاری عدالتی احکامات کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔
    مزید اضافی دستاویزات میں آصف زرداری کو جیل میں فراہم سہولیات کی تفصیلات کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے، سابق انٹرنیشنل کرکٹرز کی عمران خان سے متعلق تشویش پر مبنی خطوط میں درخواست کا حصہ ہے۔
    برطانوی پارلیمنٹ میں بانی پی ٹی آئی سے متعلق ہونے والی کارروائی بھی دستاویزات میں شامل ہیں، ٹرائل کورٹ کا بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالج تک رسائی کے احکامات بھی دستاویزات کا حصہ ہیں۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • کراچی کی چابی مانگنے والے شہر کو لسانی سیاست میں دھکیلنا چاہتے ہیں، ترجمان سندھ حکومت

    کراچی کی چابی مانگنے والے شہر کو لسانی سیاست میں دھکیلنا چاہتے ہیں، ترجمان سندھ حکومت

    کراچی(ویب ڈیسک )رجمان سندھ حکومت نے کہا ہے کہ کراچی کی چابی مانگنے والے شہر کو تقسیم اور لسانی سیاست میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔اپنے بیان میں سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے کہا کہ کراچی کی چابی مانگنے والے یاد رکھیں، شہر کے عوام اب کسی سیاسی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے۔ ٹاؤنز اور ڈویژنز کا راگ الاپنے والے کراچی کو دوبارہ تقسیم اور لسانی سیاست کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ ملک بچانے کے نعرے لگانے والوں کا اصل مقصد اپنی گرتی ہوئی سیاست کو سہارا دینا اور اگلے بلدیاتی انتخابات میں سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہے۔ بلدیاتی نظام پر لیکچر دینے والے پہلے اپنے دورِ میئرشپ اور مالی معاملات سے متعلق اٹھنے والے سوالات کا جواب دیں۔
    سعدیہ جاوید کا کہنا تھا کہ سندھ کو تقسیم کرنے کے خواب دیکھنے والے جان لیں کہ صوبے کی وحدت اور سرحدیں ناقابلِ تقسیم ہیں۔ آرٹیکل 140-اے اور عدالتی فیصلوں کی من پسند تشریح کرنے والے اپنی قانونی معلومات درست کریں، سندھ حکومت آئینی تقاضوں پر عملدرآمد کر رہی ہے۔
    ترجمان نے کہا کہ سندھ حکومت نے کراچی کو کھربوں روپے کے ترقیاتی اور میگا منصوبے دیے ہیں۔ ترقیاتی کاموں پر فوٹو سیشن اور سیاست چمکانے سے حقائق تبدیل نہیں ہوں گے۔ سندھ کے بجٹ پر انگلی اٹھانے والے پہلے بتائیں کہ وفاقی حکومتوں کا حصہ رہتے ہوئے انہوں نے کراچی کے لیے عملی طور پر کیا کیا؟
    انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی شہری اور دیہی سندھ کی یکساں ترقی پر یقین رکھتی ہے اور صوبے کے اضلاع اور بلدیاتی اداروں کو وسائل فراہم کر رہی ہے۔ کراچی کے عوام باشعور ہیں، نفرت، لسانیت اور محرومی کی سیاست کے ذریعے انہیں مزید گمراہ نہیں کیا جاسکتا۔
    سعدیہ جاوید نے کہا کہ فوج اور ریاستی اداروں کا نام سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا پرانا اسکرپٹ اب نہیں چلے گا۔

    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • پاکستان میں پہلی بار گوگل کا دفتر قائم، وزیراعظم نے افتتاح کردیا

    پاکستان میں پہلی بار گوگل کا دفتر قائم، وزیراعظم نے افتتاح کردیا

    اسلام آباد(ویب ڈیسک)اکستان میں پہلی مرتبہ گوگل نے اپنا دفتر قائم کردیا اور وزیراعظم شہباز شریف نے گوگل کے پبلک پالیسی کے نائب صدر ولسٹن وائٹ اور امریکی ناظم الامور کے ہمراہ دفتر کا باقاعدہ افتتاح کردیا۔
    وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف سے گوگل کے 9 رکنی وفد نے ملاقات، جس کی قیادت گورنمنٹ افیئرز اینڈ پبلک پالیسی کے نائب صدر ولسن وائٹ کر رہے تھے اور ان کے ہمراہ اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کی ناظم الامور نٹالی بیکر بھی تھیں۔
    وزیراعظم نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں حکومتی امور اور معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن سمیت بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل تبدیلی کا عمل جاری ہے اور انہوں نے حکومت کے ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے وژن سے آگاہ کیا اور قومی ڈیجیٹل ایکو سسٹم کی تشکیل کے لیے کئی اقدامات پر عمل درآمد کا کام حتمی مراحل میں ہے۔
    وزیراعظم نے آئی ٹی انفرا اسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا اور نوجوانوں کو آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تربیت دینے کے جاری پروگراموں کے بارے میں وفد کو بریفنگ دی۔
    نہوں نے ان مقاصد کے حصول کے لیے گوگل جیسی عالمی ٹیکنالوجی کمپنی کے ساتھ اشتراک عمل کی اہمیت پر زور دیا اور پاکستان میں دفتر کھولنے کے گوگل کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے کمپنی کے ساتھ ملک کی شراکت داری مزید مستحکم ہوگی۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • امریکا کی فوجی مدد خطرناک پڑ سکتی ہے، ایران نے خلیجی ممالک کو خبردار کردیا

    امریکا کی فوجی مدد خطرناک پڑ سکتی ہے، ایران نے خلیجی ممالک کو خبردار کردیا

    تہران: (ویب ڈیسک )ایران کی مسلح افواج نے خلیجی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ امریکا کی فوجی کارروائیوں میں کسی بھی قسم کی مدد یا سہولت فراہم کرنا امریکی فوجی آپریشن میں شرکت کے مترادف ہوگا۔
    فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف علی عبداللہی نے یہ بیان ایرانی خبر رساں ادارے مہر کے حوالے سے دیا۔
    علی عبداللہی نے کہا کہ خلیجی ممالک کی جانب سے امریکی فوج کو کسی بھی قسم کی معاونت یا سہولت فراہم کرنے کو ایران امریکی فوجی کارروائی میں شمولیت تصور کرے گا۔
    ایرانی انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور خطے میں فوجی سرگرمیوں کے باعث خلیجی ممالک پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • کئی مرتبہ  مرد اداکاروں نے دھوکا دیا،سعدیہ امام کا انکشاف

    کئی مرتبہ مرد اداکاروں نے دھوکا دیا،سعدیہ امام کا انکشاف

    کراچی (ویب ڈیسک )ماضی میں کئی ڈراموں میں کام کرنے والی معروف اداکارہ اور میزبان سعدیہ امام نے انکشاف کیا ہے کہ شوبز انڈسٹری میں کیرئیر کے دوران انہیں کئی مرتبہ قریبی مرد ساتھیوں اور دوستوں کی جانب سے دھوکا دینے اور نظر انداز کیے جانے کا سامنا کرنا پڑا۔سعدیہ امام نے یہ انکشاف نجی ٹی وی کے مارننگ شو میں گفتگو کے دوران کیا۔
    اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے سعدیہ امام نے کہا کہ جب میں نے شوبز انڈسٹری میں قدم رکھا تو اس وقت خواتین اداکاراؤں کی تعداد بہت کم تھی، انڈسٹری میں زیادہ تر یا تو بہت سینئر اداکارائیں تھیں یا پھر بالکل نئی اور جونیئر اداکارائیں جب کہ میری ہم عمر اور ہم پلہ خواتین فنکار بہت کم تھیں۔
    سعدیہ امام نے بتایا کہ اس وقت میرے زیادہ تر ساتھی مرد تھے اور مجھے ان ہی میں سے بعض قریبی دوستوں کی جانب سے دھوکا ملا، چند مواقع پر ساتھیوں نے مجھے پیٹھ پیچھے نقصان پہنچایا اور میرے خلاف باتیں کیں۔
    اداکارہ نے مزید بتایا کہ میرے والد مجھے ہمیشہ مشورہ دیتے تھے کہ جعلی دوست رکھنے سے بہتر ہے کہ انسان اکیلا رہے تاہم اس وقت مجھے والد کی بات سمجھ نہیں آتی تھی کیونکہ مجھے لوگوں کی ضرورت محسوس ہوتی تھی مگر وقت کے ساتھ میں نے ان تجربات سے بہت کچھ سیکھا اور اللّٰہ کے فضل سے وہ مشکل وقت گزر گیا۔
    سعدیہ امام نے انکشاف کیا کہ کئی مرتبہ میں نے اپنے مرد ساتھیوں کو مجھ سے متعلق بات کرتے ہوئے خود سنا، بعض لوگ کہتے تھے کہ سعدیہ امام کو کاسٹ نہ کیا جائے کیونکہ وہ ’پارٹی گرل‘ نہیں ہیں اور شوٹنگ کے دوران زیادہ گھلتی ملتی نہیں۔
    اداکارہ کا کہنا تھا کہ اس زمانے میں ڈراموں کی شوٹنگ کے لیے بیرونِ ملک بھی جانا ہوتا تھا اور بعض ساتھیوں کو میرے رویے اور طرزِ زندگی سے مسئلہ تھا، کچھ لوگ ایسی لڑکیوں کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتے تھے جو ان کے ساتھ زیادہ دوستانہ ہوں، اسی وجہ سے مجھے بعض منصوبوں سے نکال دیا جاتا یا پھر دوسرے درجے کے کردار دیے جاتے تھے۔
    سعدیہ امام نے کہا کہ مجھے سب سے زیادہ دکھ ان لوگوں کے رویے سے ہوا جو میرے انتہائی قریبی ساتھی تھے، میرے گھر آتے جاتے، ساتھ کھانا کھاتے اور وقت گزارتے تھے لیکن پسِ پردہ میرے خلاف باتیں کرتے رہے

    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • میرا پر گھریلو ملازمہ پر تشدد کا الزام، ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ملازمہ نے بیان بدل لیا

    میرا پر گھریلو ملازمہ پر تشدد کا الزام، ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ملازمہ نے بیان بدل لیا

    لاہور(ویب ڈیسک )معروف پاکستانی اداکارہ میرا کی اپنی گھریلو ملازمہ کے ساتھ ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں دونوں ایک دوسرے سے لڑرہی ہیں۔سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کررہی ہے جس میں مبینہ طور پر اداکارہ میرا کو اپنی گھریلو ملازمہ کے ساتھ تلخ کلامی کے بعد اسے تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔وائرل ہونے والی ویڈیو میں میرا اپنی گھریلو ملازمہ سے بات کرتی دکھائی دیتی ہیں تاہم کچھ ہی دیر بعد صورتحال کشیدہ ہو جاتی ہے اور ہاتھا پائی شروع ہو جاتی ہے۔اداکارہ میرا کی گھریلو ملازمہ نے ایک انٹرویو میں الزام عائد کیا کہ اداکارہ نے اسے متعدد بار تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ملازمہ نے دعویٰ کیا کہ اس کے چہرے سمیت جسم کے مختلف حصوں پر چوٹیں آئی ہیں۔ملازمہ نے میرا کی ذہنی حالت پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ معمول کے مطابق نہیں ہیں۔بیان میں یوٹرن:دریں اثناء میرا کی گھریلو ملازمہ یاسمین کی ایک اور ویڈیو بھی سامنے آئی ہے۔اس ویڈیو میں یاسمین نے اپنے پہلے بیان سے مختلف مؤقف اختیار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ میری سابقہ ویڈیو مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کی گئی تھی، میرا تو بہت اچھی ہیں اور میں اب بھی ان کے پاس ہی کام کر رہی ہوں۔واضح رہے کہ میرا اس سے قبل بھی مختلف نوعیت کی ویڈیوز و بیانات کے باعث خبروں میں رہی ہیں جب کہ چند سال قبل ایک ٹی وی چینل پر میک اپ آرٹسٹ کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے کے حوالے سے بھی ان کا نام خبروں میں آیا تھا۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے