ابو ظہبی (پاکستان واچ نیوز)جہاں عام مسافر کمرشل ایئرلائنز کی بڑے پیمانے پر منسوخیوں کے باعث ایئرپورٹس پر پھنسے ہوئے ہیں، وہیں انتہائی امیر افراد مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال سے نکلنے کے لیے بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔ تازہ رپورٹس کے مطابق سپر رچ ایلیٹس اور کارپوریٹ ایگزیکٹوز یورپ منتقل ہونے کے لیے نجی طیاروں پر انخلا کی مد میں 3 لاکھ 50 ہزار ڈالر تک ادا کر رہے ہیں۔
دبئی اور ابوظہبی کے ایئرپورٹس کو فضائی حدود کے شدید خطرات کا سامنا ہے، جس کے بعد پرائیویٹ سیکیورٹی فرمز نے لگژری ایس یو ویز کے پورے فلیٹس کرائے پر لے لیے ہیں۔ وی آئی پیز کو صحرائی راستے سے تقریباً 10 گھنٹے کے طویل اور کٹھن سفر کے ذریعے ریاض، سعودی عرب پہنچایا جا رہا ہے، جہاں نجی جیٹس پہلے سے ٹارمک پر تیار کھڑے ہیں۔
Blog
-

جنگ:امیروں کی محفوظ مقام پر منتقلی کیلئے مہنگی ترین پروازیں چلنے لگیں
-

ٹرمپ نے پاگل پن ترک نہ کیا تو تیسری عالمی جنگ ہوگی: روس
ماسکو (پاکستان واچ نیوز)روس کی سلامتی کونسل کے نائب سربراہ اور سابق صدر دیمتری میدودیف نے کہا ہےکہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں حکومت بدلنے کی کوشش کا پاگل پن والا راستہ ترک نہ کیا تو یقینی طورپر تیسری عالمی جنگ شروع ہو جائے گی۔ایک انٹرویو میں دیمتری میدودیف نے کہا کہ ایران تو امریکا اور اسرائیل کے حملے جھیل لےگا، لیکن حملہ کرکے امریکا نے ایرانی قوم کو متحد کردیا ہے، ایران دگنی توانائی سے کوشش کرےگا کہ وہ نیوکلیئر ہتھیار حاصل کرے۔انہوں نے کہا کہ ایران جنگ سے امریکا اور اسرائیل نے اپنے شہریوں کو زیادہ خطرے سے دوچارکردیا ہے، یہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جنگ ہے تاکہ وہ عالمی طور پر غلبہ قائم رکھ سکیں۔سابق روسی صدر نے مزید کہا کہ اگر ٹرمپ نے ایران میں حکومت بدلنے کی کوشش کا پاگل پن والا راستہ ترک نہ کیا تو یقینی طورپر تیسری عالمی جنگ شروع ہوجائے گی اور کوئی بھی بات اس کا نکتہ آغاز بن سکتی ہے۔مزید براں میدودیف نے یورپی رہنماؤں کو انتہائی احمق قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکاجانتا ہے روس سے نیوکلیئر تنازع کی قیمت کیا ادا کرنا پڑےگی، نیوکلیئرتنازع ہوا تو ہیروشیما اور ناگاساکی پر نیوکلیئر بم حملے بچوں کاکھیل نظرآئیں گے۔
-

امریکا کا پاکستان میں تمام ویزہ سروسز 6 مارچ تک منسوخ کرنے کا اعلان
اسلام آباد:(پاکستان واچ نیوز)اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر تمام ویزہ سروسز 6 مارچ تک منسوخ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔امریکی سفارتخانے کے مطابق یہ فیصلہ اسلام آباد میں قائم سفارت خانے کے ساتھ ساتھ لاہور اور کراچی میں موجود امریکی قونصل خانوں پر بھی لاگو ہوگا۔ اس سے یہ سروسز 2 مارچ تک معطل کی گئی تھیں تاہم اب اس میں مزید توسیع کردی گئی ہے۔یاد رہے کہ اتوار کے روز کراچی میں امریکی قونصل خانے پر ہنگامہ آرائی کے دوران سکیورٹی اہلکاروں کی فائرنگ سے 10 افراد جاں بحق اور 35 زخمی ہوگئے تھے۔اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں مظاہرین نے ایرانی سپریم رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد قونصل خانوں کا گھیراؤ کیا تھا۔
-

ایران کی بیلسٹک میزائل صلاحیت کو تباہ کرنا امریکہ کا مشن ہے،امریکی وزیر خارجہ
واشنگٹن:(پاکستان واچ نیوز)امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے حوالے سے انتہائی سخت اور سنسنی خیز بیانات دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کا واضح مشن ایران کی بیلسٹک میزائل صلاحیت کو تباہ کرنا ہے تاکہ وہ خطے اور دنیا کے لیے خطرہ نہ بن سکے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیرخارجہ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے خلیجی ممالک میں نہ صرف فوجی بلکہ غیر فوجی اہداف کو بھی نشانہ بنایا، ہوٹلوں اور رہائشی عمارتوں پر حملے کیے اور 100 سے زائد میزائل فائر کیے۔ ان کے مطابق ایران کے ابتدائی حملے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا۔مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ پیشگی حملہ نہ کرتا تو کہیں زیادہ جانی نقصان ہو سکتا تھا۔انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے کیونکہ اگر ایران کے پاس میزائلوں کے ساتھ ایٹمی طاقت بھی آ گئی تو وہ دنیا کو یرغمال بنا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف فوجی آپریشن تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور تمام اقدامات بین الاقوامی قوانین کے تحت کیے جا رہے ہیں۔امریکی وزیرخارجہ کے مطابق کانگریس کو مکمل طور پر اعتماد میں لیا جا رہا ہے اور “گینگ آف ایٹ” گروپ کو مسلسل بریفنگ دی جا رہی ہے۔ایک اور سخت بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ موجودہ ایرانی رجیم عوام کی نمائندہ حکومت نہیں ہے اور امریکہ ایک ایسے ایران سے محبت کرتا ہے جس پر موجودہ حکومت مسلط نہ ہو۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایرانی عوام خود اپنی حکومت کا تختہ الٹ دیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ایرانی عوام کو امریکہ کی مدد درکار ہو تو واشنگٹن کے دروازے کھلے ہیں۔
-

اسٹاک ایکسچینجز میں بھونچال، تیل بھی مہنگا ہونے کا خدشہ
کراچی (پاکستان واچ نیوز)مشرق وسطیٰ میں جنگ سے دنیا بھر کی اسٹاک ایکسچینجز میں بھونچال آ گیا۔ ممبئی اسٹاک ایکسچینج کا سینسیکس 1291 پوائنٹس کم ہوکر 79995 ہوگیا اور نفٹی ففٹی 416 پوائنٹس کم ہوکر 24761 ہے۔ دوسری جانب جاپان اسٹاک مارکیٹ 1.9فیصد اور کورین اسٹاک مارکیٹ 2فیصد گر گئی۔مشرق وسطیٰ میں جنگ کے پاکستان اسٹاک پر منفی اثرات، 100 انڈیکس کا 15000 سے زائد پوائنٹس کی کمی سے آغاز،اس صورتحال کے دوران بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل اور سونے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔برینٹ خام تیل کی قیمت میں 5.79 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، اسی طرح خام تیل کی قیمت 4.22 ڈالرز بڑھ کر 77.09ڈالرفی بیرل ہوگئی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمت 100 ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
-

بھارتی چینل ہیک کرلیا گیا،پاکستان ہمیشہ زندہ باد کے نعرے آویزاں
نئی دہلی(پاکستان واچ نیوز) بھارتی چینل اے بی پی نیوز کو ہیک کرلیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی چینل اے بی پی نیوز پر ہیکرز نے ہیک کرنے کے بعد چینل پر ‘پاکستان ہمیشہ زندہ باد’ کے نعرے آویزاں کردیے۔ بھارتی چینل پر پاکستانی فوج کامواد چلنےلگا جب کہ اے بی پی نیوز پر فیلڈمارشل سید عاصم منیر کے خطاب کےاقتباسات بھی نشر ہوئے۔ واضح رہے گزشتہ روز پاکستان کے کچھ چینلز بھی ہیکرز کی جانب سے ہیک کیے گئے تھے۔
-

کویت میں متعدد امریکی فوجی طیارے تباہ، ایران کا ایک F-15 طیارہ گرانے کا دعویٰ
کویت (پاکستان واچ نیوز)کویت کی وزارت دفاع کا کہنا ہے آج صبح امریکا کے متعدد طیارے گر کر تباہ ہوئے۔کویتی وزارت دفاع کے ترجمان کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں متعدد امریکی فوجی طیارے گر کر تباہ ہونے کی تصدیق کی گئی تاہم طیارے گرنے کی وجوہات نہیں بتائی گئیں۔انہوں نے تصدیق کی کہ تمام عملہ مکمل طور پر محفوظ ہے اور متعلقہ حکام نے فوری طور پر تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں شروع کر دی ہیں، عملے کو بحفاظت نکال کر اسپتال منتقل کیا گیا تاکہ ان کی صحت کا معائنہ کیا جا سکے اور ضروری طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
سینٹرل کمانڈ کے اہلکار کی تصدیق
امریکی جریدے کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے ایک عہدیدارنےکویت میں امریکی فوجی طیارہ تباہ ہونےکی تصدیق کی ہے۔امریکی اہلکار نے بتایا کہ امریکی طیارےکا عملہ بروقت ایجیکٹ کرنےمیں کامیاب رہا اور تمام اہلکارمحفوظ ہیں۔واقعے کی نوعیت اور طیارہ گرنےکی وجوہات سے متعلق فوری طورپر مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں تاہم امریکی حکام نے بتایا کہ واقعےکی تحقیقات جاری ہیں جب کہ علاقےمیں سکیورٹی انتظامات مزید سخت کردیےگئے ہیں۔
ایران کا امریکی طیارہ گرانے کا دعویٰ
دوسری جانب ایران کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ ملکی حدودکی خلاف ورزی پر امریکی ایف15لڑاکا طیارہ ایرانی فضائی دفاع نے مارگرایا، امریکی لڑاکاطیارہ کویت میں گرکرتباہ ہوا۔ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ کویت میں امریکا کی علی السلیم بیس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔قبل ازیں روسی میڈیا نے کویت میں امریکی لڑاکا طیارہ ایف 15 گر کر تباہ ہونے کا بتایا تھا، طیارے کا پائلٹ ایجکٹ کرنے میں کامیاب رہا۔سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں گرتے ہوئے ایف 15 طیارے سے آگ کے شعلے نکلتے بھی دیکھے گئے تھے۔روسی میڈیا کا کہنا تھا کہ ایف 15 لڑاکا طیارے کے پائلٹ کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔یاد رہے کہ ہفتے کے روز امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد ایران کی جانب سے کویت سمیت مختلف خلیجی ممالک میں قائم امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔اپنے بیان میں ایرانی فوج نے کہا کہ کویت میں امریکی فوجی اڈے کو مکمل طور پر ناکارہ بنادیا گیا ہے۔ -

آپریشن غضب للحق سلامتی،استقامت اور قومی وقار کی علامت
پاکستان واچ رپورٹ
قومی سلامتی کسی بھی ریاست کی بقا، استحکام اور ترقی کی بنیادی ضمانت ہوتی ہے۔ پاکستان جیسے جغرافیائی اور اسٹریٹیجک لحاظ سے حساس ملک کے لیے یہ اہمیت دوچند ہو جاتی ہے، جہاں اندرونی اور بیرونی چیلنجز ہمیشہ قومی پالیسی کے مرکز میں رہے ہیں۔ ایسے حالات میں پاک فوج، ریاست کی مضبوط ڈھال کے طور پر سامنے آتی ہے۔ آپریشن غضب للحق اسی عزم، حکمت عملی اور دفاعی بصیرت کی ایک نمایاں مثال کے طور پر سامنے آیا، جس نے قومی سلامتی کے تصور کو مزید مستحکم کیا۔
حالیہ عرصے میں سرحد پار سے درپیش خطرات اور افغان جانب سے بعض اشتعال انگیز اقدامات نے خطے کی سیکیورٹی صورتحال کو پیچیدہ بنایا۔ افغان سرزمین سے تخریبی عناصر کی دراندازی اور سرحدی کشیدگی کے واقعات نے پاکستان کی خودمختاری اور شہری سلامتی کے حوالے سے سنجیدہ خدشات کو جنم دیا۔ ایسے ماحول میں ریاست کے لیے ناگزیر ہو گیا کہ وہ واضح اور مؤثر حکمت عملی کے ذریعے یہ پیغام دے کہ کسی بھی قسم کی جارحیت یا مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ آپریشن غضب للحق اسی دفاعی عزم کی علامت کے طور پر سامنے آیا۔
پاکستان کو گزشتہ کئی دہائیوں سے سرحد پار دہشت گردی، غیر روایتی جنگی حکمت عملیوں، پراکسی نیٹ ورکس اور داخلی انتشار جیسے پیچیدہ خطرات کا سامنا رہا ہے۔ ان چیلنجز کا مقابلہ صرف روایتی عسکری قوت سے ممکن نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے مربوط انٹیلی جنس، جدید ٹیکنالوجی، فوری ردعمل کی صلاحیت اور عوامی حمایت درکار ہوتی ہے۔ آپریشن غضب للحق اسی ہمہ جہت حکمت عملی کا مظہر ہے، جس میں دفاعی تیاری کے ساتھ ساتھ قومی وقار اور خودمختاری کے تحفظ کو مرکزی حیثیت دی گئی۔
اس آپریشن کا بنیادی مقصد دشمن عناصر کو واضح پیغام دینا تھا کہ پاکستان اپنی سرحدوں، شہریوں اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کی صلاحیت اور عزم رکھتا ہے۔ پاک فوج نے پیشہ ورانہ مہارت اور بروقت ردعمل کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ ریاستی ادارے کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ جدید دفاعی حکمت عملی، مربوط کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم اور تربیت یافتہ جوانوں کی موجودگی نے اس آپریشن کو ایک مضبوط دفاعی مثال بنا دیا۔
افغان سرحدی صورتحال کے تناظر میں یہ آپریشن خاص اہمیت اختیار کر گیا۔ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن، استحکام اور باہمی احترام کی پالیسی اختیار کی ہے، مگر جب سرحد پار سے اشتعال انگیزی یا دراندازی کے واقعات سامنے آئے تو ریاست نے تحمل کے ساتھ مگر بھرپور انداز میں جواب دیا۔ یہ ردعمل کسی تصادم کی خواہش نہیں بلکہ دفاعِ وطن اور شہریوں کے تحفظ کی ذمہ داری کا تقاضا تھا۔ اس حکمت عملی نے واضح کیا کہ پاکستان امن کا خواہاں ضرور ہے، مگر اپنی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
قومی سلامتی کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایسے اقدامات صرف عسکری کارروائیاں نہیں ہوتے بلکہ یہ ریاستی رٹ کے استحکام کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ جب ریاست اپنے شہریوں کو تحفظ کا یقین دلاتی ہے تو اس سے نہ صرف عوامی اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ملک کا امیج مضبوط ہوتا ہے۔ آپریشن غضب للحق نے یہی پیغام دیا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے دفاع میں یکسو اور پرعزم ہے۔
پاک فوج کا کردار صرف سرحدوں کے دفاع تک محدود نہیں بلکہ داخلی استحکام، قدرتی آفات میں امدادی سرگرمیوں اور قومی ترقیاتی منصوبوں میں معاونت تک پھیلا ہوا ہے۔ قومی سلامتی کا جدید تصور عسکری، معاشی، سماجی اور سفارتی پہلوؤں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس تناظر میں پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور ہمہ وقت تیاری ریاستی مشینری کے لیے ایک مضبوط ستون کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپریشن غضب للحق اسی وسیع تر قومی سلامتی کے فریم ورک کا حصہ سمجھا جا سکتا ہے۔
دہشت گردی اور ہائبرڈ وارفیئر کے اس دور میں دشمن کی حکمت عملی روایتی جنگ سے ہٹ کر اطلاعاتی حملوں، نفسیاتی جنگ اور پراپیگنڈے پر بھی مشتمل ہوتی ہے۔ ایسے میں فوج کی کامیاب کارروائیاں صرف میدانِ عمل میں نہیں بلکہ بیانیے کی سطح پر بھی اہمیت رکھتی ہیں۔ جب ریاستی ادارے مؤثر جواب دیتے ہیں تو اس سے نہ صرف زمینی حقائق مضبوط ہوتے ہیں بلکہ قومی مورال بھی بلند ہوتا ہے۔ آپریشن غضب للحق نے قوم کو یہ احساس دلایا کہ دفاعِ وطن کے لیے ادارے مکمل یکسوئی کے ساتھ سرگرم عمل ہیں۔
قومی سلامتی کی مضبوطی میں عوام اور افواج کا باہمی اعتماد کلیدی عنصر ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی پاکستان کو کسی مشکل مرحلے کا سامنا ہوا، قوم اور فوج ایک صفحے پر نظر آئے۔ ایسے اقدامات اس اعتماد کو مزید گہرا کرتے ہیں کیونکہ یہ شہریوں کو عملی طور پر تحفظ کا احساس فراہم کرتے ہیں۔ ریاست کی عملداری کا قیام اور دشمن عناصر کی حوصلہ شکنی کسی بھی خودمختار ملک کی اولین ترجیح ہوتی ہے، اور اسی ترجیح کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا گیا۔
علاقائی تناظر میں بھی یہ آپریشن اہمیت رکھتا ہے۔ جنوبی ایشیا اور بالخصوص پاک افغان سرحدی خطے میں بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر طاقت کا توازن برقرار رکھنا اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کا بروقت جواب دینا ناگزیر ہے۔ دفاعی تیاری اور پیشہ ورانہ مہارت ہی وہ عناصر ہیں جو کسی بھی ملک کو کمزور ہونے سے بچاتے ہیں۔ پاک فوج نے ہمیشہ اپنی صلاحیتوں کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا ہے، جس کا مظاہرہ مختلف مواقع پر کیا گیا اور یہ سلسلہ جاری ہے۔
مزید برآں، قومی سلامتی صرف سرحدی حفاظت کا نام نہیں بلکہ داخلی استحکام اور امن و امان کی فضا کا قیام بھی اسی کا حصہ ہے۔ جب تخریبی نیٹ ورکس کو مؤثر جواب ملتا ہے تو اس کا براہ راست اثر معاشی سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور سماجی ہم آہنگی پر پڑتا ہے۔ امن کی بحالی ترقی کی راہ ہموار کرتی ہے، اور یہی کسی بھی دفاعی حکمت عملی کا بنیادی مقصد ہوتا ہے۔ اس تناظر میں آپریشن غضب للحق کو استحکامِ پاکستان کی ایک اہم کڑی سمجھا جا سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ قومی سلامتی ایک مسلسل عمل ہے جس کے لیے چوکسی، اتحاد اور مضبوط ادارے ضروری ہیں۔ آپریشن غضب للحق اس عزم کی علامت ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری، سرحدوں اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ افغان سرحدی کشیدگی کے باوجود پاکستان نے ذمہ دارانہ مگر مضبوط طرزِ عمل اختیار کر کے یہ ثابت کیا کہ دفاعِ وطن پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔
قومی سلامتی کی ناقابلِ تسخیر ڈھال کے طور پر افواجِ پاکستان کا کردار نہ صرف دفاعی اعتبار سے اہم ہے بلکہ یہ قومی یکجہتی اور استحکام کی ضمانت بھی ہے۔ یہی وہ اعتماد ہے جو ریاست اور قوم کے رشتے کو مضبوط بناتا ہے اور مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی طاقت فراہم کرتا ہے۔ -

سرحد پار دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کی موثر حکمت عملی…شیخ راشدعالم
پاکستان کو گزشتہ دو دہائیوں سے جس سب سے بڑے چیلنج کا سامنا ہے، وہ سرحد پار دہشت گردی ہے۔ یہ محض چند واقعات یا وقتی حملوں کا سلسلہ نہیں بلکہ ایک منظم، مربوط اور بیرونی سرزمین سے چلنے والی کارروائیوں کا جال ہے جس کا مقصد پاکستان کے امن، ترقی اور استحکام کو متاثر کرنا ہے۔ بالخصوص مغربی سرحد پر پیدا ہونے والی صورتِ حال نے ریاستی اداروں کو مجبور کیا کہ وہ دفاعی حکمتِ عملی کو ازسرِنو مرتب کریں اور دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کے لیے مؤثر اور بروقت اقدامات کریں۔
گزشتہ چند برسوں میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں جو اضافہ دیکھنے میں آیا، اس کے تانے بانے سرحد پار موجود ٹھکانوں سے ملتے رہے۔ ان حملوں میں نہ صرف سکیورٹی فورسز بلکہ معصوم شہری بھی نشانہ بنے۔ پاکستان نے ابتدا میں سفارتی ذرائع کو ترجیح دی، بارہا افغان عبوری حکومت کو قابلِ تصدیق انٹیلی جنس شیئر کی، شواہد فراہم کیے اور مطالبہ کیا کہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دی جائے۔ تاہم جب ان شکایات کا ازالہ نہ ہوا اور دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں بدستور فعال رہیں تو پاکستان کو اپنے دفاع کا حق استعمال کرنا پڑا۔
بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت ہر ریاست کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ جب کسی ملک کی سرزمین دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہو اور وہاں کی حکومت ان عناصر کو روکنے میں ناکام رہے یا عدم دلچسپی کا مظاہرہ کرے، تو متاثرہ ریاست کے پاس محدود اور ہدفی کارروائی کا اختیار موجود ہوتا ہے۔ پاکستان کی جانب سے کی گئی فضائی کارروائیاں اسی اصول کے تحت تھیں، جن کا مقصد کسی ملک کی خودمختاری کو چیلنج کرنا نہیں بلکہ دہشت گرد نیٹ ورکس کو غیر مؤثر بنانا تھا۔
پاکستانی سکیورٹی اداروں نے حالیہ عرصے میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کی تعداد میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ ان کارروائیوں کی کامیابی کا انحصار جدید ٹیکنالوجی، مقامی آبادی کے تعاون اور اداروں کے درمیان مؤثر رابطے پر ہے۔ پاک فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نہ صرف دہشت گردوں کے بڑے نیٹ ورکس کو توڑا بلکہ ان کے مالی وسائل اور سہولت کاروں کو بھی بے نقاب کیا۔ یہ ایک ہمہ جہت حکمتِ عملی ہے جس میں سرحدی نگرانی، باڑ کی تنصیب، جدید نگرانی کے آلات اور فوری ردِعمل کی صلاحیت شامل ہے۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد طویل اور دشوار گزار ہے۔ اس خطے کی جغرافیائی پیچیدگی دہشت گردوں کو نقل و حرکت کے مواقع فراہم کرتی رہی ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان نے سرحدی باڑ کی تکمیل کو ترجیح دی، نئی چیک پوسٹس قائم کیں اور سرحدی گزرگاہوں کو دستاویزی نظام کے تحت لایا۔ ان اقدامات کا مقصد عام شہریوں کی آمدورفت کو منظم کرنا اور غیر قانونی دراندازی کو روکنا ہے۔ اگرچہ بعض حلقوں نے اس پر اعتراضات اٹھائے، لیکن زمینی حقائق نے ثابت کیا کہ مؤثر بارڈر مینجمنٹ دہشت گردی کی روک تھام میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ دہشت گردی محض عسکری مسئلہ نہیں بلکہ ایک نظریاتی اور سماجی چیلنج بھی ہے۔ پاکستان نے نیشنل ایکشن پلان کے تحت شدت پسندی کے بیانیے کا توڑ کرنے، مدارس کی رجسٹریشن، نفرت انگیز تقاریر کے خلاف کارروائی اور کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں پر پابندی جیسے اقدامات کیے۔ تاہم جب بیرونی سرزمین سے منظم حملے جاری رہیں تو داخلی اقدامات کافی نہیں رہتے۔ اسی لیے سرحد پار موجود ٹھکانوں کو نشانہ بنانا ایک ناگزیر آپشن بن گیا۔
افغانستان کی موجودہ صورتِ حال بھی پیچیدہ ہے۔ برسوں کی جنگ نے وہاں کے سکیورٹی ڈھانچے کو کمزور کیا ہے۔ ایسے میں غیر ریاستی عناصر کو جگہ بنانے کا موقع ملا۔ پاکستان نے ہمیشہ ایک پرامن اور مستحکم افغانستان کی حمایت کی ہے کیونکہ دونوں ممالک کا امن ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ لیکن امن کی خواہش کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان اپنی سلامتی پر سمجھوتہ کرے۔ حالیہ فضائی کارروائیاں محدود، مخصوص اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں تک مرکوز تھیں، جن کا مقصد شہری آبادی کو نقصان پہنچانا نہیں تھا بلکہ ان عناصر کو پیغام دینا تھا کہ پاکستان اپنی سرزمین کے دفاع میں کسی تردد کا شکار نہیں ہوگا۔
ان اقدامات کے مثبت نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔ کئی اہم کمانڈرز ہلاک ہوئے، اسلحے کے ذخائر تباہ ہوئے اور دراندازی کے منصوبے ناکام بنائے گئے۔ سب سے اہم بات یہ کہ سکیورٹی فورسز کا مورال بلند ہوا اور عوام کو یہ اعتماد ملا کہ ریاست ان کے جان و مال کے تحفظ کے لیے سنجیدہ ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عوامی اعتماد ایک بنیادی ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب شہری دیکھتے ہیں کہ ریاست بروقت اور مؤثر ردِعمل دے رہی ہے تو وہ بھی تعاون کے لیے آگے آتے ہیں۔
تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ عسکری کارروائی مستقل حل نہیں ہوتی۔ پائیدار امن کے لیے سفارتی روابط، انٹیلی جنس تعاون اور علاقائی ہم آہنگی ضروری ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ عالمی برادری کو بھی اس مسئلے کی سنگینی سے آگاہ رکھے تاکہ افغانستان کی سرزمین دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہ بنے۔ چین، وسطی ایشیائی ریاستیں اور دیگر علاقائی ممالک بھی دہشت گردی سے متاثر ہوتے ہیں، اس لیے مشترکہ حکمتِ عملی وقت کی ضرورت ہے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی نکتہ ہمیشہ امن رہا ہے، مگر امن کمزوری سے نہیں بلکہ طاقت کے توازن سے قائم ہوتا ہے۔ اگر دشمن کو یہ احساس ہو کہ اس کی ہر جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا تو وہ مہم جوئی سے باز رہتا ہے۔ یہی اصول حالیہ اقدامات کی بنیاد ہے۔ یہ کارروائیاں نہ تو جنگ کا اعلان ہیں اور نہ ہی کسی ملک کے خلاف دشمنی کا اظہار، بلکہ ایک واضح پیغام ہیں کہ پاکستان کی سرزمین اور شہریوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔
مستقبل کا راستہ دوہرا ہے: ایک طرف سرحدی نگرانی اور انٹیلی جنس آپریشنز کو مزید مضبوط بنانا، اور دوسری جانب سفارتی سطح پر ایسے اقدامات کو یقینی بنانا جو دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کا خاتمہ کریں۔ اگر افغانستان کی حکومت اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روک دے تو دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے۔ تجارت، راہداری اور عوامی روابط کے بے شمار امکانات موجود ہیں، مگر یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کا مکمل سدباب ہو۔
پاکستان نے بارہا ثابت کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سنجیدہ اور پْرعزم ہے۔ ہزاروں جانوں کی قربانی دے کر اس ملک نے امن کی قیمت ادا کی ہے۔ اب یہ کسی صورت قابلِ قبول نہیں کہ بیرونی سرزمین سے بیٹھ کر عناصر پاکستان کے امن کو یرغمال بنائیں۔ مؤثر عسکری اقدامات، مضبوط سفارتی حکمتِ عملی اور قومی یکجہتی ہی وہ ستون ہیں جن پر ایک محفوظ اور مستحکم پاکستان کی عمارت کھڑی ہو سکتی ہے۔ سرحد پار دہشت گردی کے خلاف حالیہ کارروائیاں اسی عزم کا عملی اظہار ہیں کہ ریاست اپنے دفاع میں ہر ضروری قدم اٹھائے گی اور دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے تک اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔ -

سوشل میڈیا، افواہیں اور قومی بیانیہ…نشید آفاقی
آج کے پاکستان میں سوشل میڈیا صرف رابطے کا ذریعہ نہیں رہا، یہ رائے سازی کا سب سے طاقتور ہتھیار بن چکا ہے۔ چند لمحوں میں کوئی ویڈیو، آڈیو کلپ یا تحریر لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک تاثر، ایک کہانی اور بعض اوقات ایک پورا بیانیہ تشکیل پا جاتا ہے۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب یہ بیانیہ سچ پر نہیں بلکہ افواہوں، آدھی معلومات اور جذباتی ہیجان پر مبنی ہو۔ ایسی صورت میں قومیں کنفیوژن کا شکار ہو جاتی ہیں اور ریاستی و سماجی استحکام متاثر ہوتا ہے۔
پاکستان جیسے ملک میں، جہاں سیاسی درجہ حرارت اکثر بلند رہتا ہے اور معاشی و سیکیورٹی چیلنجز مستقل موجود ہیں، وہاں اطلاعات کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں سوشل میڈیا اکثر تصدیق کے بجائے سنسنی کو ترجیح دیتا ہے۔ کسی واقعے کی مکمل تصویر سامنے آنے سے پہلے ہی اس پر تبصرے، تجزیے اور فیصلے صادر ہو چکے ہوتے ہیں۔ ایک غیر مصدقہ ٹویٹ یا ایڈیٹ کی گئی ویڈیو پورے معاشرے میں بے یقینی پھیلا دیتی ہے۔
افواہ کی نفسیات بہت سادہ ہے، لوگ وہی بات تیزی سے مانتے اور پھیلاتے ہیں جو ان کے پہلے سے موجود تعصبات یا جذبات سے مطابقت رکھتی ہو۔ اگر کوئی خبر ہمارے پسندیدہ سیاسی رہنما کے حق میں ہو تو ہم اسے بغیر تحقیق کے آگے بڑھا دیتے ہیں، اور اگر مخالف کے خلاف ہو تو مزید جوش سے شیئر کرتے ہیں۔ اس عمل میں سچ کہیں پیچھے رہ جاتا ہے اور قوم کا اجتماعی شعور تقسیم در تقسیم ہوتا چلا جاتا ہے۔
قومی بیانیہ دراصل وہ مشترکہ فہم ہے جس پر ایک قوم کھڑی ہوتی ہے۔ یہ بیانیہ محض حکومتی موقف کا نام نہیں بلکہ عوامی سوچ، تاریخی تجربات اور اجتماعی مفادات کا مجموعہ ہوتا ہے۔ جب سوشل میڈیا پر مسلسل متضاد اور غیر ذمہ دارانہ اطلاعات گردش کرتی رہیں تو یہ مشترکہ فہم کمزور پڑنے لگتا ہے۔ ہر گروہ اپنا الگ سچ تراش لیتا ہے اور یوں معاشرہ چھوٹے چھوٹے معلوماتی جزائر میں تقسیم ہو جاتا ہے۔
پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران ہم نے دیکھا کہ کس طرح بعض افواہوں نے فوری طور پر عوامی ردعمل کو بھڑکا دیا۔ کبھی کسی گرفتاری کی غلط خبر، کبھی کسی اہم عہدے دار کے بارے میں بے بنیاد دعویٰ، اور کبھی کسی بین الاقوامی سازش کا مبالغہ آمیز بیانیہ ،یہ سب لمحوں میں وائرل ہوا اور بعد میں یا تو تردید آ گئی یا حقیقت اس سے مختلف نکلی۔ مگر تب تک نقصان ہو چکا ہوتا ہے۔ اعتماد ایک بار مجروح ہو جائے تو اسے بحال کرنا آسان نہیں رہتا۔
یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ سارا قصور عوام کا ہے۔ ہمارے روایتی میڈیا، سیاسی قیادت اور بعض سرکاری اداروں کی غیر شفافیت بھی افواہوں کے پھیلاؤ میں کردار ادا کرتی ہے۔ جب بروقت اور واضح معلومات فراہم نہیں کی جاتیں تو خلا پیدا ہوتا ہے، اور معلومات کا یہ خلا افواہوں کے لیے زرخیز زمین بن جاتا ہے۔ لوگ قیاس آرائیوں سے اس خلا کو پْر کرتے ہیں۔ اس لیے ذمہ داری دو طرفہ ہے معلومات فراہم کرنے والوں کی بھی اور انہیں قبول کرنے والوں کی بھی۔سوشل میڈیا کی ایک اور پیچیدگی اس کا الگورتھم ہے۔ یہ ہمیں وہی مواد دکھاتا ہے جو ہماری پسند اور رجحان سے میل کھاتا ہو۔ یوں ہم ایک ایسے ڈیجیٹل کمرے میں بند ہو جاتے ہیں جہاں صرف ہماری آواز کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ مخالف رائے یا تو نظر نہیں آتی یا دشمنی محسوس ہوتی ہے۔ اس ماحول میں افواہ سچ سے زیادہ کشش رکھتی ہے کیونکہ وہ ہمارے جذبات کو تسکین دیتی ہے۔
قومی بیانیے کے حوالے سے سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ جب ہر خبر کو سازش، ہر اختلاف کو غداری اور ہر تنقید کو دشمنی سمجھا جانے لگے تو معاشرہ مکالمے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے داخلی تقسیم کی قیمت کئی بار چکائی ہے۔ ایسے میں سوشل میڈیا پر غیر ذمہ دارانہ طرزِ گفتگو، کردار کشی اور الزام تراشی نہ صرف سیاسی ماحول کو زہریلا بناتی ہے بلکہ ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کو بھی کمزور کرتی ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ سوشل میڈیا کو خاموش کر دیا جائے یا اختلاف رائے کو دبایا جائے۔ درحقیقت سوشل میڈیا نے عام شہری کو آواز دی ہے، جس کے ذریعے وہ ناانصافی کے خلاف بول سکتا ہے اور اہم معاملات پر بحث کر سکتا ہے۔ مسئلہ آزادی اظہار نہیں بلکہ اس آزادی کے ساتھ جڑی ذمہ داری ہے۔ آزادی اور ذمہ داری کا توازن ہی ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد ہے۔
حل کہاں سے شروع ہو؟ سب سے پہلے ہمیں بطور شہری اپنی عادتیں بدلنی ہوں گی۔ کسی بھی خبر کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کا ذریعہ دیکھنا، تاریخ چیک کرنا اور کم از کم دو مستند ذرائع سے تصدیق کرنا ایک بنیادی اصول ہونا چاہیے۔ اگر خبر جذبات بھڑکا رہی ہو تو مزید احتیاط کی ضرورت ہے۔ اکثر جھوٹی خبریں اسی انداز میں پیش کی جاتی ہیں کہ قاری فوری ردعمل دے۔
دوسری جانب ریاست اور میڈیا اداروں کو شفافیت اور بروقت معلومات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا۔ جب عوام کو صحیح وقت پر درست معلومات ملیں گی تو افواہوں کی گنجائش کم ہو جائے گی۔ پریس بریفنگ، ڈیٹا کی دستیابی اور واضح پالیسی بیانات اعتماد سازی میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
تعلیم کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ ڈیجیٹل لٹریسی کو نصاب کا حصہ بنایا جانا چاہیے تاکہ نوجوان یہ سیکھ سکیں کہ آن لائن مواد کو کیسے پرکھا جاتا ہے، تصویر یا ویڈیو کی اصلیت کیسے جانچی جاتی ہے اور الگورتھمز کیسے کام کرتے ہیں۔ یہ دور محض پڑھنے لکھنے کا نہیں بلکہ معلومات کو سمجھنے اور جانچنے کا ہے۔
سیاسی قیادت کو بھی اپنے کارکنوں اور حامیوں کو ذمہ دارانہ طرزِ عمل کی تلقین کرنی چاہیے۔ اگر قیادت خود اشتعال انگیز زبان استعمال کرے گی تو کارکنان بھی وہی رویہ اپنائیں گے۔ قومی بیانیہ صرف نعروں سے نہیں بنتا، بلکہ برداشت، مکالمے اور سچائی کے احترام سے تشکیل پاتا ہے۔
آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سوشل میڈیا بذاتِ خود نہ دشمن ہے نہ نجات دہندہ۔ یہ ایک طاقتور ذریعہ ہے جس کا استعمال ہماری نیت اور شعور پر منحصر ہے۔ اگر ہم اسے افواہوں، نفرت اور تقسیم کے لیے استعمال کریں گے تو اس کے نتائج بھی ویسے ہی ہوں گے۔ لیکن اگر ہم اسے شعور، مکالمے اور مثبت بیانیے کے لیے بروئے کار لائیں تو یہی پلیٹ فارم قومی یکجہتی کا وسیلہ بن سکتا ہے۔
پاکستان کو اس وقت جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ اعتماد ہے عوام کا اداروں پر، اداروں کا عوام پر اور مختلف طبقات کا ایک
دوسرے پریہ اعتماد سچائی، شفافیت اور ذمہ دارانہ رویے سے ہی قائم ہو سکتا ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں ہر شہری محض صارف نہیں بلکہ ایک طرح کا ناشر بھی ہے۔ جو کچھ ہم لکھتے اور شیئر کرتے ہیں، وہ صرف الفاظ نہیں ہوتے بلکہ وہ قوم کے اجتماعی ذہن میں ایک اینٹ کا اضافہ کرتے ہیں۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا قومی بیانیہ مضبوط، متوازن اور حقیقت پر مبنی ہو تو ہمیں افواہوں کے سیلاب کے آگے بند باندھنا ہوگا۔ یہ بند قانون سے زیادہ شعور سے تعمیر ہوگا۔ اور جب شعور بیدار ہو جائے تو افواہ اپنی کشش کھو دیتی ہے، کیونکہ سچ کی بنیاد مضبوط ہوتی ہے اور قومیں مضبوط بنیادوں پر ہی آگے بڑھتی ہیں۔