Blog

  • آپریشن غضب للحق؛ پاک فوج کی طورخم کے نزدیک کارروائی، افغان طالبان کا اہم سرغنہ ہلاک

    آپریشن غضب للحق؛ پاک فوج کی طورخم کے نزدیک کارروائی، افغان طالبان کا اہم سرغنہ ہلاک

    راولپنڈی(پاکستان واچ نیوز)آپریشن غضب للحق کے تحت پاک افغان سرحد پر افغان طالبان، فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان کے خلاف پاک فوج کی مؤثر کارروائیاں جاری ہیں۔پاک فوج نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے طورخم کے نزدیک افغان طالبان اور فتنۃ الخوارج کی دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی، دراندازی کی کوشش کرنے والا افغان طالبان سرغنہ قہرمان ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگیا۔ہلاک ہونے والے افغان طالبان کمانڈر کا تعلق جلال آباد سے تھا۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کی جارحیت کیخلاف پاک فوج کے مؤثر اور طاقتور جواب میں افغان طالبان کو بھاری نقصان کا سامنا ہے۔اسی طرح، چمن سیکٹر میں پاک فوج کی خفیہ اطلاعات پر افغان طالبان کی مسلح تشکیل کے خلاف کامیاب کارروائی کی گئی۔ پاک فوج کی کامیاب کارروائی سے ایک افغان طالبان دہشت گرد ہلاک جبکہ 3 کو زخمی حالت میں زندہ پکڑ لیا گیا۔پاک فوج نے اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے علاقے کو گھیرے میں لیکر کلیئرنس آپریشن مکمل کیا، علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ فتنۃ الخوارج کے گرفتار دہشت گردوں سے تفتیش جاری ہے۔پاک فوج خطے میں قیام امن کے لیے پرعزم ہیں اور دہشتگرد عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے 50 مختلف مقامات پر افغان طالبان، فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان کے ٹھکانوں کو نشانہ بناکر تباہ کر دیا۔پاک فوج کی جانب سے 3 اور 4 مارچ کی درمیانی شب بھاری ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے کارروائیاں کی گئیں۔پاک فوج نے قلعہ سیف اللہ سمیت چمن، سمبازہ، گھڈوانہ، جانی اور غزنالی سیکٹر پر مؤثر کارروائیاں کیں۔ ان مقامات کو سرحد پار سے دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ ان کارروائیوں کے دوران افغان طالبان، فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان کو بھاری جانی و مالی نقصان کی اطلاعات ہیں۔پاک فوج افغان طالبان کی جارحیت کے خلاف ملکی خود مختاری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔ آپریشن غضب للحق کے تحت کارروائیاں طے شدہ اہداف کے مکمل حصول تک جاری رہیں گی۔

  • افغانستان میں سول آبادی کو نشانہ بنانے کا گمراہ کن پروپیگنڈا، ڈی جی آئی ایس پی آر کی وضاحت

    افغانستان میں سول آبادی کو نشانہ بنانے کا گمراہ کن پروپیگنڈا، ڈی جی آئی ایس پی آر کی وضاحت

    راولپنڈی (پاکستان واچ نیوز)افغانستان میں سول آبادی کو نشانہ بنانے کا گمراہ کن پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے جبکہ افغان طالبان رجیم کے جھوٹے دعوؤں کی بنیاد پر اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان (UNAMA) نے حقائق کے برعکس رپورٹ جاری کی۔اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان کی رپورٹ کو بنیاد بنا کر افغان اور بھارتی میڈیا کا بے بنیاد پروپیگنڈا جاری ہے جبکہ پاک فوج نے افغان طالبان رجیم اور فتنۃ الخوارج کی بلااشتعال جارحیت کے ردعمل کے طور پر صرف عسکری تنصیات کو نشانہ بنایا ہے۔آپریشن غضب للحق کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر بھی اپنی پریس بریفنگ میں واضح کر چکے ہیں کہ پاک فوج نے مستند انٹیلی جنس کی بنیاد پر ملٹری اور دہشتگرد اہداف کو نشانہ بنایا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا تھا کہ پاک فوج نے افغان طالبان کے بریگیڈ ہیڈکوارٹر، بٹالین ہیڈکوارٹر، ایمونیشن ڈپو اور لاجسٹک بیسز سمیت چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا۔ افواج پاکستان نے پیشہ وارانہ انداز میں دشمن کے صرف عسکری اہداف کو نشانہ بنایا۔ماہرین کے مطابق عالمی ذرائع ابلاغ بھی پاکستان کے عسکری اہداف کو نشانہ بنانے کے موقف کی تائید بذریعہ تصاویر اور ویڈیوز کر چکے ہیں۔ پاک فوج ایک پیشہ وارانہ فوج ہے جو شفافیت پر یقین رکھتے ہوئے کسی بھی سویلین آبادی کو نشانہ نہیں بناتی۔ماہرین کا کہنا تھا کہ افغان طالبان اور فتنۃ الخوارج کے درمیان فرق ختم ہو چکا ہے۔ شلوار قمیض میں ملبوس سویلین، افغان طالب اور خارجی میں تمیز کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ ایسے میں کس طرح کوئی بھی بین الاقوامی ادارہ اپنی رپورٹ شائع کر سکتا ہے؟ احتمال ہے کہ وہ افغان طالبان کا دعویٰ ہی سچ مان رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق افغان طالبان اس سے پہلے کئی مواقع پر جھوٹا بیانیہ بنانے کے لیے غلط خبریں بھی دے چکے ہیں اس لیے ان کا اعتبار نہیں کیا جا سکتا، افغان طالبان کے پاس اپنی عوام کو جواب دینے کے لیے کچھ بھی نہیں اس لیے وہ ہمدردی حاصل کرنے کے لیے سویلین نقصان کا بیانیہ بنا رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق افغان طالبان رجیم اور فتنۃ الخوارج کا ظاہری حلیہ ایک طرح ہونے کی وجہ سے کوئی بھی من گھڑت دعویٰ کیا جا سکتا ہے۔

  • بگرام ایئر بیس پر حملہ، نیویارک ٹائمز نے بھی پاکستان کی بڑی کامیابی کی تصدیق کردی

    بگرام ایئر بیس پر حملہ، نیویارک ٹائمز نے بھی پاکستان کی بڑی کامیابی کی تصدیق کردی

    اسلام آباد:(پاکتان واچ نیوز) پاکستان نے افغان طالبان کی مبینہ جارحیت کے جواب میں زمینی اور فضائی کارروائیاں تیز کر دی ہیں، جبکہ بگرام ایئربیس پر بڑے فضائی حملے کیے ہیں۔رپورٹس کے مطابق پاکستان نے افغانستان کے اہم فوجی مرکز بگرام ایئر بیس کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک ایئرکرافٹ ہینگر اور دو ویئر ہاؤسز تباہ ہو گئے۔ اس حوالے سے سیٹلائٹ تصاویر بھی سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔امریکی جریدے نیویارک ٹائمز نے بھی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان نے بگرام ایئربیس کو کامیابی سے نشانہ بنایا اور افغانستان کی وزارت دفاع نے پاکستانی فضائی حملے کی تصدیق کی ہے۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران پاکستان نے افغانستان میں 50 سے زائد فضائی حملے کیے ہیں۔دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بگرام ایئربیس کو نشانہ بنانا افغان طالبان حکومت کے لیے بڑا دھچکا ہے اور اس سے واضح پیغام دیا گیا ہے کہ پاکستان ضرورت پڑنے پر افغانستان کے کسی بھی حصے میں کارروائی کر سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق پاکستان کی جانب سے بارہا خبردار کرنے کے باوجود افغانستان کی سرزمین سے دہشت گردی کے واقعات جاری رہے، جن میں مبینہ طور پر امریکی چھوڑا گیا اسلحہ بھی استعمال ہوتا رہا ہے۔

  • علاقائی صوتحال: وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں سیاسی جماعتوں اور ارکان پارلیمان کو بریفنگ

    علاقائی صوتحال: وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں سیاسی جماعتوں اور ارکان پارلیمان کو بریفنگ

    اسلام آباد:(پاکستان واچ نیوز)وزیراعظم محمد شہبازشریف کی زیر صدارت پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں و نمائندگان کا اہم اجلاس ہوا۔
    اجلاس کے شرکا کو پاکستان افغانستان صورتحال، ایران، مشرق و سطی و خلیج میں کشیدگی اور پاکستان کی سفارتی کوششوں کے حوالے سے ان-کیمرہ بریفنگ دی گئی جب کہ اجلاس میں شریک سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں نے اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا۔
    شرکا نے موجودہ حالات میں ملی اتحاد، اتفاق و یگانگت کی ضرورت پر زور دیا اور خطے میں امن کے لیے پاکستان کی جانب سے سفارتی کوششوں کو سراہا۔ا س موقع پر یہی کوششیں مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا اورآئندہ کے لائحہ عمل پر تجاویز پیش کی گئیں۔
    اجلاس کے شرکا نے ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مضبوط عزم کا اعادہ کیا اور پاکستان کے وسیع تر مفاد میں تمام سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینے کے وزیرِ اعظم کے اقدام کو سراہا اور ان کا شکریہ ادا کیا۔
    اجلاس میں چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی غلام مصطفی شاہ، نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، صدر جمیعت علماء اسلام مولانا فضل شریک تھے۔
    علاوہ ازیں اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، اعظم نذیر تارڑ، عطاء اللہ تارڑ، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، عبدالعلیم خان (استحکام پاکستان پارٹی)، خالد حسین مگسی (بلوچستان عوامی پارٹی)، خالد مقبول صدیقی (متحدہ قومی موومنٹ)، چوہدری سالک حسین (پی ایم ایل ق)، سید مصطفی کمال (متحدہ قومی موومنٹ) بھی موجود تھے۔
    ان کے علاوہ رانا مبشر اقبال، مشیر وزیرِ اعظم رانا ثناء اللہ خان، معاون خصوصی طلحہ برکی، سینیٹرز شیری رحمن (پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرئینز)، انوار الحق کاکڑ، منظور احمد کاکڑ (بلوچستان عوامی پارٹی)، پرویز رشید (پاکستان مسلم لیگ ن)، حافظ عبدالکریم، فیصل سبزواری (متحدہ قومی موومنٹ)، جان محمد (نیشنل پارٹی)، ارکان قومی اسمبلی سید نوید قمر(پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرئینز)، ڈاکٹر فاروق ستار (متحدہ قومی موومنٹ)، امین الحق (متحدہ قومی موومنٹ)، پولین بلوچ (نیشنل پارٹی) شریک تھے

  • پاسداران انقلاب کا 160 امریکیوں کی ہلاکت کا دعویٰ

    پاسداران انقلاب کا 160 امریکیوں کی ہلاکت کا دعویٰ

    ریاض/ تہران/ تل ابیب:(پاکستان واچ نیوز)امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد تہران کے جوابی حملوں کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی شدت اختیار کر گئی، ایرانی فوج کی جانب سے بحرین میں امریکی بحریہ کے ہیڈکوارڑ اور فوجی اڈوں پر حملوں کے نتیجے میں 160 امریکیوں کے ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں میں جاں بحق افراد کی تعدادا 787 ہوگئی جب کہ ایران کے اسرائیل سمیت عرب ممالک میں قائم امریکی بیسز اور سفارت خاںوں پر حملے جارہی ہیں۔ایرانی میڈیا کے مطابق چار روز سے جاری اسرائیلی و امریکی حملوں میں اس کے 787 شہری جاں بحق ہوچکے ہیں اور سیکڑوں زخمی ہیں۔ یہ اعداد و شمار ایرانی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی پیش کیے ہیں۔انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک امریکی بیسڈ تنظیم کے مطابق حالیہ حملوں میں ایران میں 742 شہری ہلاک ہوچکے ہیں جن میں 176 بچے ہیں۔

  • ایران میں آئندہ حکومت کس کی ہوگی؟ ٹرمپ کا حیران کن جواب

    ایران میں آئندہ حکومت کس کی ہوگی؟ ٹرمپ کا حیران کن جواب

    تہران (پاکستان واچ نیوز)ایران میں روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد وہاں نئی حکومت کے قیام کے بارے میں پہلی بار صدر ٹرمپ نے بھی کھل کر گفتگو کی۔واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے حوالے سے بدترین صورتحال یہ ہو سکتی ہے کہ موجودہ قیادت کے بعد بھی ایسا شخص اقتدار میں آ جائے جو پہلے والوں سے بھی زیادہ سخت گیر ہو۔ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں جرمن چانسلر فریڈرک مرز سے ملاقات کے دوران صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر موجودہ کارروائیوں کے بعد ایران میں کوئی ایسا رہنما آ گیا جو سابق قیادت جیسا ہی ہو تو یہ بدترین نتیجہ ہوگا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا چاہتا ہے کہ ایران میں ایسی قیادت سامنے آئے جو ملک کو عوام کے مفاد میں آگے لے جائے اور جہاں آزادی اظہار رائے ہو، آمریت و جبر نہ ہو۔امریکی صدر نے ایرانی عوام کو خبردار کیا کہ تاحال بمباری کا سلسلہ جاری ہے اس دوران سڑکوں پر احتجاج کے لیے نہ نکلیں۔انھوں نے مزید کہا کہ ایسے حالات میں عوام کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اور یہ وقت احتیاط کا ہے۔جب صدر ٹرمپ سے ایران کے سابق شاہ کے بیٹے رضا پہلوی کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ ایک اچھے انسان معلوم ہوتے ہیں۔تاہم صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ان کے خیال میں قومی قیادت کے لیے ایران میں مقیم کوئی شخصیت ہی زیادہ موزوں ہو سکتی ہے۔خیال رہے کہ رضا پہلوی 1971 سے جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں اور ان دنوں امریکا و برطانیہ میں لابنگ میں بھی مصروف ہیں۔قبل ازیں وہ ایران میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کی حمایت بھی کرچکے ہیں اور ایران میں اقتدار ملنے کی صورت میں بادشاہت کے بجائے جمہوری طرز ہر ملک چلانے کا وعدہ بھی کیا تھا۔رضا پہلوی کی والدہ اور سابق شاہِ ایران کی اہلیہ فرح پہلوی نے بھی آج میڈیا کو انٹرویو میں کہا کہ ایران کو جس جمہوری اور عدل پر مبنی نطام کی ضرورت ہے اس کے لیے ان کے بیٹے کام کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ برطانیہ نے ٹرمپ کے ایران پر حملوں کو رجیم چینج کا حربہ قرار دیتے ہوئے پہلے ہی اس آپریشن سے خود کو الگ کرلیا تھا اور دیگر یورپی ممالک کا بھی یہی موقف رہا ہے۔

  • ایران کا اسرائیل پر نیا وار، وعدہ صادق 4 کی 16 ویں لہر شروع

    ایران کا اسرائیل پر نیا وار، وعدہ صادق 4 کی 16 ویں لہر شروع

    تہران:(پاکستان واچ نیوز)ایران نے اسرائیل کے خلاف میزائلوں اور ڈرونز سے تازہ حملہ کر دیا ہے جبکہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آپریشن وعدہ صادق 4 کی 16ویں لہر شروع کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔پاسداران انقلاب اسلامی کے مطابق اسرائیل کی جانب بڑی تعداد میں بیلسٹک میزائل داغے گئے ہیں، جن کا ہدف مخصوص عسکری اور اسٹریٹیجک مقامات بتائے جا رہے ہیں۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ میزائل حملوں کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں ڈرونز بھی اسرائیل کی سمت روانہ کیے گئے ہیں۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی حالیہ کشیدگی کے تناظر میں کی جا رہی ہے، جبکہ اسرائیلی ذرائع نے متعدد شہروں میں سائرن بجنے اور فضائی دفاعی نظام کے متحرک ہونے کی اطلاعات دی ہیں۔تاحال نقصانات یا جانی صورتحال سے متعلق کوئی مصدقہ تفصیلات سامنے نہیں آئیں.

  • تیسری عالمی جنگ چھڑ چکی ہے، سابق نیٹو کمانڈر

    تیسری عالمی جنگ چھڑ چکی ہے، سابق نیٹو کمانڈر

    لندن (پاکستان واچ نیوز)برطانیہ کے سابق سینئر نیٹو کمانڈر سر رچرڈ شیریف کا کہنا ہے کہ دنیا میں تیسری عالمی جنگ چھڑ چکی ہے۔ رچرڈ شیریف SHIRREFF نے ایران پر امریکا و اسرائیل کے حملے اور پھر ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر جوابی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔برطانوی اخبار کوانٹرویو میں انہوں نے کہا کہ سابق فوجی کی حیثیت سے وہ یہ بات بنا سوچے سمجھے نہیں کہہ رہے، حقیقت میں انہیں یہ خدشہ ہے کہ اس وقت دنیا جنگ عظیم سوم دیکھ رہی ہے۔ برطانوی اخبار کے مطابق انہوں نے کہا کہ جنگ شروع تو ایک مقام پر ہوتی ہے مگر اکثر یہ کسی دوسرے مقام پر ختم ہوتی ہے۔

  • آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے سپریم لیڈر منتخب،اسرائیلی میڈیا

    آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے سپریم لیڈر منتخب،اسرائیلی میڈیا

    تل ابیب (پاکستان واچ نیوز)اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا سپریم لیڈرمنتخب کرلیا گیا۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کا انتخاب اسمبلی آف ایکسپرٹس کی جانب سے کیا گیا ہے تاہم ایران کے سرکاری حکام کی جانب سے تاحال اس دعوے کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔اس سے پہلے اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ اٹھاسی رکنی مجلس خبرگان رھبری نئے سپریم لیڈرکا انتخاب آن لائن کررہی ہے اور یہ معاملہ حتمی مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔مجلس خبرگان رھبری کی قم میں واقع عمارت کو امریکا اور اسرائیل نے حملے کرکے تباہ کردیا تھا تاہم عمارت پہلے ہی خالی کرالی گئی تھی، اس لیے جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔ ایران کے آئین کے مطابق سپریم لیڈر کے انتخاب کا عمل مکمل طور پر ‘مجلسِ خبرگان’ یعنی ‘اسمبلی آف ایکسپرٹس’ کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔یہ مجلس 88 جید علمائے دین اور فقہا پر مشتمل ہوتی ہے، جن کا انتخاب ہر 8 سال بعد براہِ راست عوامی ووٹوں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔دوسری جانب ایرانی میڈیا نے کہا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین تہران میں بڑے تعزیتی اجتماع کے بعد مشہد میں ہوگی۔ تعزیتی اجتماع آج سے جمعے تک امام خمینی ہال تہران میں ہوں گے تاہم آیت اللہ خامنہ ای کی مشہد میں تدفین کےدن کا تعین نہیں کیا گیا۔

  • ریاض میں امریکی سفارتخانے پر ایرانی ڈرون حملہ، تہران اور تل ابیب میں شدید بمباری

    ریاض میں امریکی سفارتخانے پر ایرانی ڈرون حملہ، تہران اور تل ابیب میں شدید بمباری

    تہران / ریاض / تل ابیب: ایران اور امریکا و اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی شدت اختیار کر گئی ہے۔ سعودی حکام کے مطابق ریاض میں قائم امریکی سفارتخانے پر دو ڈرون حملے کیے گئے، جس کے نتیجے میں محدود آگ لگی اور معمولی نقصان ہوا۔ادھر ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو بند کر دیا گیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔اسرائیلی افواج نے تہران اور بیروت پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جن میں ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ایران اور لبنان میں مجموعی اموات کی تعداد 600 سے تجاوز کر چکی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی مہم تقریباً چار ہفتے جاری رہ سکتی ہے اور واشنگٹن تہران کے میزائل اور جوہری پروگرام کو تباہ کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ایران نے خلیجی ممالک میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا ہے، جس کے بعد عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ قطر کی سرکاری پیٹرولیم کمپنی قطر انرجی نے اپنی دو تنصیبات پر حملوں کے بعد ایل این جی کی پیداوار عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔ایران کی جانب سے اسرائیل کے مختلف علاقوں پر بھی حملے جاری ہیں۔ اسرائیلی فوج کے مطابق مغربی یروشلم، تل ابیب اور ایلات کے اوپر میزائل روک لیے گئے، تاہم ہفتے سے اب تک اسرائیل میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔خطے میں بگڑتی صورتحال کے باعث عالمی سطح پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے اور سفارتی کوششیں تیز کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔
    امریکا کی ہنگامی ایڈوائزری، شہریوں کو مشرق وسطیٰ کے 14 ممالک فوراً چھوڑنے کا حکم
    امریکا نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر مشرق وسطیٰ کے 14 ممالک چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ بحرین، مصر، ایران، عراق، اسرائیل (بشمول مغربی کنارے اور غزہ)، اردن، کویت، لبنان، عمان، قطر، سعودی عرب، شام، متحدہ عرب امارات اور یمن میں موجود امریکی شہری حفاظتی خدشات کے باعث فوری طور پر اپنے طور پر ان ممالک سے نکل جائیں۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں سکیورٹی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور کسی بھی وقت میزائل یا ڈرون حملے کا خطرہ موجود ہے۔ شہریوں کو فوجی تنصیبات اور حساس مقامات سے دور رہنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔دوسری جانب کینیڈین حکومت نے بھی اپنے شہریوں کو دبئی فوری چھوڑنے کی ہدایت دی ہے۔ کینیڈین حکام نے کہا ہے کہ خصوصی پروازوں کا انتظار نہ کیا جائے بلکہ زمینی راستے سے سعودی عرب یا سلطنت عمان پہنچنے کی کوشش کی جائے۔عالمی سطح پر بڑھتی کشیدگی کے باعث مختلف ممالک اپنے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کر رہے ہیں۔
    امریکا سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، ایران نے ٹرمپ کی پیشکش مسترد کردی
    ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران واشنگٹن سے کوئی بات چیت نہیں کرے گا۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں علی لاریجانی نے کہا، ’ہم امریکا کے ساتھ مذاکرات نہیں کریں گے۔‘ان کا بیان امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد لاریجانی نے عمانی ثالثوں کے ذریعے امریکا سے جوہری مذاکرات بحال کرنے کی کوشش کی۔علی لاریجانی نے امریکی صدر ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے اپنی ’خیالی تصورات‘ کے باعث مشرقِ وسطیٰ کو افراتفری میں دھکیل دیا ہے اور اب مزید امریکی ہلاکتوں سے خوفزدہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے اپنے ’امریکا فرسٹ‘ کے نعرے کو ’اسرائیل فرسٹ‘ میں بدل دیا اور امریکی فوجیوں کو اسرائیل کے مفادات کی خاطر قربان کیا۔ان کا کہنا تھا کہ اس کی قیمت امریکی فوجیوں اور ان کے خاندانوں کو چکانا پڑے گی جبکہ ایران اپنے دفاع کا حق برقرار رکھے گا۔ادھر اردن نے میزائل حملوں پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ایرانی سفیر کو طلب کر لیا ہے۔ اردن کی جانب سے علاقائی کشیدگی میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ حملوں میں اب تک 560 امریکی فوجی ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ ایرانی فوج نے امریکا کے طیارہ بردار جہاز ابراہام لنکن کو چار میزائلوں سے نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔پاسدارانِ انقلاب کے مطابق تین امریکی اور برطانوی آئل ٹینکروں کو میزائلوں سے ہدف بنایا گیا، جو اب خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں جل رہے ہیں۔خبر ایجنسیوں کے مطابق بحرین میں بھی امریکی فوجی اڈے پر حملے کیے گئے ہیں تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔