اسلام آباد:(پاکستان واچ نیوز)نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی دعوت پر سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود، ترکیہ کے وزیر خارجہ حقان فیدان اور مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی 29 سے 30 مارچ 2026 تک اسلام آباد کا دورہ کریں گے۔
ترجمان وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان میں اہم سفارتی سرگرمیوں کا آغاز ہونے جا رہا ہے، دورے کے دوران تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ اہم علاقائی اور عالمی امور پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی جس میں خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں سرفہرست ہوں گی۔ مہمان وزرائے خارجہ وزیر اعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کریں گے جہاں باہمی دلچسپی کے امور اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ترجمان کے مطابق پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو بے حد اہمیت دیتا ہے۔ اس دورے سے مختلف شعبوں میں تعاون اور ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے کو درپیش چیلنجز کے پیش نظر سفارتی روابط اور مشاورت کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں 30 مارچ کو چار فریقی اجلاس منعقد ہوگا، اجلاس میں ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ شرکت کریں گے، اجلاس کی صدارت پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کریں گے، اجلاس خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں منعقد کیا جا رہا ہے، اجلاس کا مقصد ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں کرنا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اس عمل میں ایک اہم ثالث و سہولتکار کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے، ان مذاکرات کا مقصد خطے میں امن، استحکام اور جنگ کے خدشات کو کم کرنا ہے۔
Blog
-

سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ پاکستان کا دورہ کریں گے، وزارت خارجہ
-

محسن نقوی کی زیر صدارت اجلاس، کرپشن کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم
اسلام آباد (پاکستان واچ نیوز)وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے جاری انفراسٹرکچر کی بہتری کے پراجیکٹ کا معائنہ کیا اور پیش رفت کا جائزہ لیا۔
وزیر داخلہ نے جاری تعمیراتی سرگرمیوں کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے وژن کے مطابق سرکاری اداروں میں کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی جائے۔
محسن نقوی کی زیر صدارت اہم اجلاس میں سرکاری اداروں میں کرپشن کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کا حکم بھی دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے میں اصلاحات کا عمل اسی سال دسمبر تک مکمل کیا جائے گا۔
ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث افراد اور ان کے سہولت کاروں کا جامع ڈیٹا مرتب کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ممالک ملازمت کے تمام اشتہارات کی آن لائن نگرانی کی جا رہی ہے جبکہ گمراہ کن اشتہارات سے متعلق عوامی آگاہی بھی یقینی بنائی جائے گی۔
محسن نقوی نے ہدایت کی کہ ایف آئی اے کو ہر قسم کے منظم جرائم کے خلاف ہراول دستے کے طور پر منظم کیا جائے اور ادارے کو ہر سطح پر مکمل سپورٹ فراہم کی جائے گی۔
ڈی جی ایف آئی اے نے مزید بتایا کہ ادارے میں احتساب کو یقینی بنانے کے لیے شفاف اور مؤثر نظام وضع کیا گیا ہے جبکہ دیگر ایجنسیز کے ساتھ ورکنگ گروپس اور کوآرڈینیشن کمیٹیز بھی قائم کی جا رہی ہیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ امیگریشن، اینٹی ہیومن اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔ -

عینا آصف کے ساتھ سیٹ پر کیا ہوتا رہا؟ انڈسٹری کے تلخ حقائق بے نقاب کردیے
کراچی (پاکستان واچ نیوز)پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کی ابھرتی ہوئی اداکارہ عینا آصف نے حالیہ گفتگو میں شوبز کی اندرونی فضا سے متعلق کچھ ایسے پہلو بیان کیے ہیں جو عام طور پر منظرِ عام پر نہیں آتے۔انہوں نے خاص طور پر شوٹنگ کے دوران سینئر اداکاروں کے رویوں اور جونیئر فنکاروں کو درپیش مشکلات پر کھل کر بات کی۔ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے عینا آصف کا کہنا تھا کہ بظاہر سینیئر اداکاروں کو احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، لیکن عملی طور پر کئی مواقع پر وہ جونیئرز کے لیے غیر آرام دہ صورتحال پیدا کر دیتے ہیں۔ان کے مطابق بعض تجربہ کار فنکار چھوٹی چھوٹی باتوں پر ٹوکنے یا مذاق اڑانے کے ذریعے نئے اداکاروں کا اعتماد متاثر کرتے ہیں۔اداکارہ نے بتایا کہ خاص طور پر جذباتی مناظر کے دوران ایسی مداخلت زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ کسی سنجیدہ سین کی تیاری کر رہی ہوتی ہیں تو بعض افراد اچانک سیٹ چھوڑ دیتے ہیں یا قریب کھڑے ہو کر اونچی آواز میں گفتگو شروع کر دیتے ہیں، حتیٰ کہ ڈائریکٹر کے ساتھ غیر سنجیدہ انداز میں بات چیت بھی شروع ہو جاتی ہے، جس سے پورا ماحول متاثر ہوتا ہے۔عینا آصف کے مطابق بعض اوقات عین ان کے سین کے دوران کوئی اداکار اپنا ڈائیلاگ پوچھ کر یا درمیان میں بات کرکے ان کی توجہ ہٹا دیتا ہے، جس سے ان کا فلو ٹوٹ جاتا ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ رونے یا غصے جیسے مناظر کے لیے خود کو ذہنی طور پر تیار کرنے میں وقت لگتا ہے، اور ایسی رکاوٹیں پورے تاثر کو متاثر کر دیتی ہیں۔عینا آصف کا کہنا تھا کہ ابتدا میں انہیں ان رویوں پر شدید غصہ آتا تھا، تاہم وقت کے ساتھ انہوں نے خاموشی سے ان حالات کا سامنا کرنا سیکھ لیا ہے۔
-

اسرائیل مسلم ممالک کو طویل المدتی جنگ میں الجھانا چاہتا ہے، ترک وزیرخارجہ
استنبول(فارن ڈیسک ) ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا کہ اسرائیل مسلم ممالک کو طویل المدتی جنگ میں الجھانے کی کوشش کر رہا ہے اور اس پس منظر میں خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ترک میڈیا کے سوال پر انہوں نے کہا کہ جنگ کے حوالے سے ٹیلی فونک ڈپلومیسی جاری ہے اور ترکیہ ایران اور پڑوسی ممالک کے درمیان بڑھتی بداعتمادی کو روکنے کے لیے کام کر رہا ہے۔واضح رہے کہ اسلام آباد میں 30 مارچ کو اہم سفارتی اجلاس منعقد ہونے جا رہا ہے جس میں ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ شرکت کریں گے اور خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی حل نکالنے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
-

پاکستان اور خطے کے امن کے خلاف بھارت کی سازش بے نقاب
اسلام آباد:(فارن ڈیسک )پاکستان کی عالمی اہمیت سے خائف بھارت دنیا کے امن کا دشمن بن گیا، پاکستان اور خطے کے امن کے خلاف بھارت کی سازش بے نقاب ہوگئی۔تفصیلات کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں امن کی پاکستانی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کا خطرناک بھارتی منصوبہ سامنے آگیا، بھارت نے افغانستان کے ساتھ مل کر خفیہ ڈس انفارمیشن نیٹ ورک کے ذریعے ایران کے نام پر پاکستان کے خلاف منظم اور اسٹریٹجک پروپیگنڈا آپریشن لانچ کردیا۔جعلی ایرانی شناختوں کے ذریعے پاکستان میں نفرت پھیلانے کا بیانیہ گھڑنے کا انکشاف ہوا ہے، ڈس انفارمیشن مہم کا آغاز INN Iran News اور Iran TV جیسے گھوسٹ ایکس اکاؤنٹس سے کیا گیا۔
پاکستان پر امریکہ کے لیے تیل ترسیل کا جھوٹا الزام لگا کر نفرت انگیز پراپیگنڈے کو بنیاد فراہم کی گئی، ایرانی شناخت رکھنے والے درجنوں اکاؤنٹس بھارت اور افغانستان سے آپریٹ کیئے جا رہے ہیں۔ بیانیہ تشکیل دینے والے اکاؤنٹس بھارت جب کہ پراپیگنڈے کے پھیلاؤ والے اکاؤنٹس افغانستان سے آپریٹ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔پاکستان کے خلاف مصنوعی ایرانی ردعمل افغانستان سے آپریٹ اکاؤنٹس کے ذریعے پھیلایا گیا، افغان نیٹ ورک کو بطور proliferators استعمال کرنے کا ثبوت بھی سامنے آگیا ہے، بھارتی ڈس انفارمیشن حملے کا مقصد امن کوششوں کے کلیدی کردار پاکستان کو متنازعہ بنانا تھا۔اس پورے آپریشن کے ماسٹر مائنڈ اکاؤنٹس بھارتی نکلے ہیں، بیانیہ سازی، کنٹرول اور اسٹریٹجک ڈائریکشن بھارتی اکاؤنٹس کے ذریعے کی گئی، سازش میں Times of Iran News مرکزی پروپیگنڈا ہب کی صورت میں سامنے آیا، بھارت سے آپریٹ ہونے والا پلیٹ فارم عالمی سطح پر جھوٹ پھیلاتا رہا۔ماہرین کی تحقیقات میں Initiator → Proliferator → Amplifier ماڈل کے تحت مکمل انفارمیشن وار بے نقاب ہو گئی، مربوط و مرحلہ وار حکمت عملی سے جھوٹ کو سچ کا رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی تھی، پاکستان کو ایران مخالف اور مغربی ایجنڈے کا حصہ دکھانے کا بیانیہ بنایا جا رہا تھا جس کا مقصد عالمِ اسلام میں بداعتمادی اور تقسیم پیدا کرنا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ڈس انفارمیشن حملہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے ممکنہ پھیلاؤ کو ہوا دینے کی کوشش ہے، بھارت صرف پاکستان نہیں امریکہ، ایران اور پورے خطے کے خلاف سرگرم ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت افغانستان مربوط انفارمیشن وار فیئر خطے کے امن، سفارتکاری اور استحکام پر براہ راست حملہ ہے، بھارتی سازش بے نقاب کرکے پاکستان کا عالمی کردار ایک بار پھر نمایاں ہوگیا۔ماہرین کے مطابق ثابت ہو گیا مذاکرات کے ہر دشمن کے خلاف پاکستان اور ادارے پوری طرح چوکنا ہیں، پاکستان کے عوام کو بھی اپنی حکومت اور اداروں سے بداعتمادی پیدا کرنے کی ہر سازش سے چوکنا رہنا ہوگا۔ -

عالمی مالیاتی بساط پر پوتن کا ‘چیک میٹ’: ڈالر کے زوال اور نئے ‘گولڈ سٹینڈرڈ’ کا آغاز…تحریر: شیخ راشد عالم
ایک نئی معاشی سرد جنگ کا آغاز ، جب دنیا کی نظریں واشنگٹن میں ہونے والی سیاسی تبدیلیوں اور صدر ٹرمپ کے فاتحانہ بیانات پر جمی تھیں، کرملین میں ایک ایسی دستاویز پر دستخط کیے گئے جس نے خاموشی سے عالمی مالیاتی نظام کی بنیادیں ہلا دیں۔ صدر ولادیمیر پوتن نے یکم مئی 2026 سے روس سے ‘ریفائنڈ گولڈ بارز’ کی برآمد پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ محض ایک تجارتی فیصلہ نہیں، بلکہ ‘ڈی-ڈالرائزیشن’ (De-dollarization) کے تابوت میں وہ آخری کیل ہے جس کا انتظار عرصہ دراز سے کیا جا رہا تھا۔
روسی معیشت کا فولادی قلعہ (The Gold Fortress)
روس، جو دنیا کا دوسرا بڑا سونا پیدا کرنے والا ملک ہے، اب اپنی سالانہ 310 ٹن سے زائد پیداوار کو عالمی منڈی میں جھونکنے کے بجائے اپنے ہی ‘خودمختار اثاثوں’ (Sovereign Assets) میں محفوظ کر رہا ہے۔
روسی سینٹرل بینک نے حکمت عملی کے تحت سال کے آغاز میں بلند ترین قیمتوں پر سونا فروخت کر کے اربوں ڈالر کمائے اور اب سپلائی روک کر عالمی قیمتوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
اعداد و شمار کا جائزہ لیں تو معلوم پڑتا ہے کہ 74.3 ملین اونس سونے کے ذخائر کے ساتھ، روس اب اس پوزیشن میں ہے کہ وہ اپنی کرنسی ‘روبل’ کو ٹھوس اثاثوں کی پشت پناہی دے کر مغربی پابندیوں کو ہمیشہ کے لیے بے اثر کر دے۔
برکس (BRICS) اور ‘یونٹ’ کرنسی کا ظہور
اس فیصلے کا سب سے اہم پہلو اکتوبر 2025 میں لانچ ہونے والا BRICS Unit نظام ہے۔ یہ نیا مالیاتی بلاک ایک ایسی کرنسی پر کام کر رہا ہے جو امریکی ڈالر کی طرح صرف ‘اعتبار’ پر نہیں، بلکہ 40 فیصد سونے اور 60 فیصد برکس ممالک کی مقامی کرنسیوں پر مبنی ہے۔
پوتن کا سونے کو سرحدوں کے اندر ‘لاک’ کرنا دراصل برکس کے تجارتی نظام کے لیے ایک ‘کولیٹرل’ (ضمانت) فراہم کرنا ہے۔ جب تجارت سونے کی بنیاد پر ہوگی، تو ڈالر کی مصنوعی طلب خود بخود ختم ہو جائے گی۔
ہرمز سے ماسکو تک: ایک نیا تجارتی سرکٹ
مشرقِ وسطیٰ میں ایران کی مزاحمت اور آبنائے ہرمز میں چینی یوآن میں ٹول کی وصولی نے اس سرکٹ کو مکمل کر دیا ہے۔
انرجی کنٹرول پالیسی کے تحت ایران نے تیل کی ادائیگیوں کو غیر-ڈالر چینلز پر منتقل کیا۔
جبکہ روس نے اس تجارتی سرکٹ کو سونے کی مضبوطی اور ضمانت فراہم کی۔
جس کے نتیجے میں بظاہر ‘پیٹرو ڈالر’ (Petrodollar) کا وہ دور ختم ہو رہا ہے جس نے نصف صدی تک امریکہ کو عالمی معیشت کا بے تاج بادشاہ بنائے رکھا۔
عالمی منظر نامے میں تیزی سے رونما ہونے والی ان تبدیلیوں سے ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مستقبل کی ‘نیشن برانڈنگ’ صرف اشتہارات سے نہیں، بلکہ ‘اکنامک ریزیلینس’ (Economic Resilience) سے وابستہ ہے۔
پاکستان جیسے ممالک جو اس وقت ڈالر کے بوجھ تلے دبے ہیں، ان کے لیے یہ ایک تزویراتی (Strategic) اشارہ ہے کہ دنیا ‘کاغذی معیشت’ سے نکل کر ‘حقیقی اثاثوں’ (Real Assets) کی طرف لوٹ رہی ہے۔ ہمیں بھی اپنی معاشی پالیسیوں میں تنوع لانے اور ابھرتے ہوئے برکس بلاک کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم عالمی غلامی کے طوق سے آزاد ہو سکیں۔
صدر ٹرمپ کی ‘فتح’ کے غلغلے میں پوتن کا یہ خاموش حملہ ثابت کرتا ہے کہ اصل طاقت اب اسلحے کے انبار میں نہیں، بلکہ انبار شدہ سونے اور توانائی کے کنٹرول میں ہے۔ عالمی معیشت کا نیا سورج مشرق سے طلوع ہو رہا ہے، اور جو قومیں اس تبدیلی کو بروقت بھانپ لیں گی، وہی مستقبل کے نقشے پر پائیدار معاشی استحکام حاصل کر پائیں گی۔ـــ -

امریکا اور ایران کے نمائندے بہت جلد پاکستان میں ملاقات کریں گے، جرمن وزیر خارجہ
اسلام آباد / برلن(ویب ڈیسک ) جرمن وزیر خارجہ یوہان واڈے فیہول نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے نمائندے بہت جلد پاکستان میں ملاقات کرنے جا رہے ہیں، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنا اور ممکنہ مذاکرات کو آگے بڑھانا ہے۔جرمن ریڈیو کو دیے گئے انٹرویو میں وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان اب تک بالواسطہ رابطے جاری رہے ہیں، تاہم اب براہ راست ملاقات کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور یہ اہم ملاقات پاکستان میں متوقع ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف بھی تصدیق کر چکے ہیں کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان مثبت پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے۔دوسری جانب پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر اطلاعات عطا تارڑ بھی اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سرگرم سفارتی کوششیں کر رہا ہے اور امریکا و ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے راہ ہموار کر رہا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر یہ ملاقات کامیاب ہوتی ہے تو یہ نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے سفارتی کردار کو بھی مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔
-

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب بمباری، سفیر اور عملہ محفوظ
تہران (ویب ڈیسک )ایران کے دارالحکومت تہران میں پاکستانی سفارتخانے اور سفیر کی رہائشگاہ کے قریب شدید بمباری کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم تمام پاکستانی سفارتی عملہ محفوظ رہا ہے۔سفارتی ذرائع کے مطابق بمباری کا سلسلہ رات تقریباً 8 بجے شروع ہوا، جس کے دوران سفارتخانے کے اطراف میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی سفارتخانے کے سامنے ایرانی فوج کا مرکز ’ارتش‘ واقع ہے، جو ممکنہ طور پر حملے کا ہدف تھا۔مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو تہران میں پاسداران کے زیر انتظام علاقے میں مقیم ہیں، جہاں بھی بمباری کی گئی۔ تاہم خوش قسمتی سے سفارتخانے یا سفیر کی رہائشگاہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ذرائع کے مطابق سفیر مدثر ٹیپو تقریباً بیس رکنی سفارتی عملے کے ہمراہ معمول کے مطابق اپنی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔ایک سینئر سفارتکار نے بتایا کہ دھماکوں کی آوازیں انتہائی شدید تھیں جس سے عملہ پریشان ضرور ہوا، لیکن تمام اہلکار محفوظ ہیں۔سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ کشیدہ صورتحال کے باوجود پاکستانی سفارتی عملہ اپنی ذمہ داریاں نبھا رہا ہے اور حالات پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
-

موٹر سائیکلز کیلیے پیٹرول کا کوٹہ مقرر کرنے سے متعلق تجویز سامنے آگئی
اسلام آباد:(ویب ڈیسک )وفاقی حکومت نے کم آمدن والے افراد کو پیٹرول سبسڈی کے لیے ایپ تیار کر لی جس کے ذریعے پیٹرول کم قیمت مل سکے گا۔ذرائع کے مطابق وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے تیار کی گئی ایپ فی الحال ٹیسٹنگ کے مراحل میں ہے جس کے بعد ایپ کو عوام کے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔پیٹرول پر سبسڈی ٹو تھری ویلرز گاڑیوں پر دی جائے گی جبکہ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافہ دیگر صارفین تک منتقل کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق موٹر سائیکلز کے لیے ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول کا کوٹہ مختص کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے تاہم 800 سی سی گاڑیاں رکھنے والے صارفین کے لیے سبسڈی کا فیصلہ نہیں ہو سکا۔اس حوالے سے ملک کے 12 ہزار پیٹرول پمپس پر سبسڈی نوزلز مختص کی جائیں گی اور ہر پیٹرول پمپ پر 2 موبائل فونز بھی فراہم کیے جائیں گے۔اس طرح ہر پیٹرول پمپ پر موبائل فونز ایپ کے ذریعے پیٹرول دیا جائے گا۔
-

ٹرمپ کا جنگ بندی منصوبہ، ایران نے امریکی تجاویز کو غیر منصفانہ قرار دے دیا
تہران(ویب ڈیسک) ایران نے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی 15 نکاتی تجاویز پر باضابطہ جواب دے دیا ہے اور اب واشنگٹن کے ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ مجوزہ جنگ بندی منصوبہ یک طرفہ اور غیر منصفانہ ہے، جو زیادہ تر امریکی اور اسرائیلی مفادات کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے۔ایرانی عہدیدار کے مطابق یہ تجاویز پاکستان کے ذریعے تہران تک پہنچائی گئیں، جن کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ایران نے اپنا مؤقف بھی پاکستان کے ذریعے ہی امریکا تک پہنچا دیا۔ایران نے واضح کیا ہے کہ ان تجاویز میں بنیادی تقاضوں کی کمی ہے اور موجودہ صورتحال میں باضابطہ مذاکرات کے لیے کوئی واضح فریم ورک موجود نہیں۔حکام کے مطابق اس مرحلے پر براہ راست بات چیت کا کوئی عملی منصوبہ سامنے نہیں آیا، تاہم سفارتکاری کا عمل مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکا حقیقت پسندانہ رویہ اپنائے تو تنازع کے حل کی راہ نکالی جا سکتی ہے۔ایرانی ذرائع کے مطابق پاکستان اور ترکیہ دونوں ممالک امریکا اور ایران کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ادھر ایرانی خبر رساں ایجنسی نے بھی تصدیق کی ہے کہ تہران اب واشنگٹن کے باضابطہ جواب کا منتظر ہے۔