Blog

  • عالمی طاقتوں کا کھیل اور پاکستان…شیخ راشدعالم

    عالمی طاقتوں کا کھیل اور پاکستان…شیخ راشدعالم

    دنیا اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں عالمی طاقتوں کے مفادات کا ٹکراؤ کھل کر سامنے آ چکا ہے۔ طاقت، اثر و رسوخ اور وسائل کی اس کشمکش نے بین الاقوامی سیاست کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ اسی تناظر میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ یہ جنگ محض دو ممالک کے درمیان تصادم نہیں بلکہ ایک وسیع تر عالمی کھیل کا حصہ ہے، جس میں ہر بڑی طاقت اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے سرگرم ہے۔
    اس جنگ کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، تجارت اور معیشت پر واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ خلیج کا خطہ، جو دنیا کی توانائی کا ایک بڑا مرکز ہے، غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ تیل کی سپلائی میں رکاوٹ اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے کئی ممالک کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ تاہم، ایسے نازک حالات میں کچھ ممالک نے محض تماشائی بننے کے بجائے مثبت کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اور پاکستان ان میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔
    پاکستان نے ہمیشہ اپنی خارجہ پالیسی میں توازن، خودمختاری اور امن کو ترجیح دی ہے۔ امریکہ اور ایران کی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے یہی اصول اپناتے ہوئے کسی فریق کا حصہ بننے کے بجائے ثالثی اور مفاہمت کا راستہ اختیار کیا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف دانشمندانہ ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت تشخص کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
    پاکستان کی ثالثی کی کوششیں محض بیانات تک محدود نہیں رہیں بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے بھی اس کا اظہار کیا گیا ہے۔ مختلف سفارتی ذرائع سے رابطے، عالمی فورمز پر امن کی اپیل، اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سنجیدہ کاوشیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ ایسے وقت میں جب دنیا کے کئی ممالک کسی نہ کسی بلاک کا حصہ بن رہے ہیں، پاکستان کا غیر جانبدار اور امن پسند رویہ اسے ایک منفرد مقام عطا کرتا ہے۔
    جغرافیائی اعتبار سے پاکستان کی اہمیت اس صورتحال میں مزید بڑھ جاتی ہے۔ ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے سنگم پر واقع پاکستان نہ صرف ایک اسٹریٹیجک راہداری ہے بلکہ مختلف خطوں کے درمیان رابطے کا ایک مؤثر ذریعہ بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو اس بحران میں ایک پل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو تنازعات کو کم کرنے اور مکالمے کو فروغ دینے میں مدد دے سکتا ہے۔
    پاکستان کی سفارتی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اس نے ہمیشہ مشکل حالات میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔ چاہے علاقائی تنازعات ہوں یا عالمی سطح کے مسائل، پاکستان نے ہمیشہ بات چیت اور مفاہمت کو ترجیح دی ہے۔ موجودہ صورتحال میں بھی پاکستان اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے امن کے فروغ کے لیے سرگرم ہے۔
    معاشی میدان میں بھی پاکستان نے چیلنجز کے باوجود استحکام کی جانب پیش رفت کی ہے۔ عالمی جنگی ماحول کے باوجود پاکستان نے اپنی معیشت کو سنبھالنے، سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور تجارتی روابط کو مضبوط بنانے کی کوشش کی ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری جیسے منصوبے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے ترقی کے نئے دروازے کھول رہے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان مستقبل کی معیشت میں ایک اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
    ٹیکنالوجی اور نوجوان آبادی پاکستان کا ایک اور مضبوط پہلو ہیں۔ ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھتے ہوئے دنیا میں پاکستان کی نوجوان نسل ایک قیمتی اثاثہ ہے، جو نہ صرف ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتی ہے۔ ایسے میں اگر خطے میں امن قائم ہوتا ہے تو پاکستان اس سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
    اہم بات یہ ہے کہ پاکستان نے اس پورے بحران میں اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کو مقدم رکھا ہے۔ کسی دباؤ میں آئے بغیر امن کی بات کرنا اور عملی اقدامات کرنا ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے۔ یہ وہ رویہ ہے جو پاکستان کو ایک ذمہ دار اور باوقار ریاست کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔
    عالمی طاقتوں کے اس کھیل میں جہاں اکثر ممالک دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں، پاکستان نے دانشمندی، توازن اور بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی راہ متعین کی ہے۔ امریکہ اور ایران کی جنگ جیسے پیچیدہ بحران میں پاکستان کا کردار اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ نہ صرف حالات کو سمجھتا ہے بلکہ ان میں بہتری لانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
    آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ دنیا کے اس بدلتے ہوئے منظرنامے میں پاکستان ایک امید کی علامت بن کر ابھر رہا ہے۔ جہاں ایک طرف جنگ اور تصادم کا ماحول ہے، وہیں پاکستان امن، مکالمے اور ثالثی کا پیغام دے رہا ہے۔ اگر یہی پالیسی مستقل مزاجی کے ساتھ جاری رکھی جائے تو پاکستان نہ صرف اس مشکل وقت میں اپنا وقار بلند رکھے گا بلکہ عالمی سطح پر ایک مؤثر، بااعتماد اور امن پسند ملک کے طور پر اپنی پہچان کو مزید مضبوط کرے گا۔

  • خاموش جنگیں اور بولتی دنیا    ….نشید آفاقی

    خاموش جنگیں اور بولتی دنیا ….نشید آفاقی

    دنیا بظاہر پہلے سے کہیں زیادہ شور میں ڈوبی ہوئی ہے۔ ہر لمحہ خبریں، بیانات، تجزیے اور تبصرے ہماری سماعتوں پر دستک دیتے رہتے ہیں۔ سوشل میڈیا کی گھن گرج، ٹی وی اسکرینوں کی چمک اور عالمی رہنماؤں کے بیانات ایک ایسا منظر پیش کرتے ہیں جیسے ہر طرف کھلا مکالمہ جاری ہو۔ مگر اس شور کے پیچھے ایک اور دنیا بھی موجود ہے خاموش جنگوں کی دنیا، جہاں فیصلے بند کمروں میں ہوتے ہیں اور ان کے اثرات پوری انسانیت کو بھگتنا پڑتے ہیں۔
    یہ خاموش جنگیں روایتی جنگوں کی طرح ٹینکوں، توپوں اور میزائلوں سے نہیں لڑی جاتیں، بلکہ یہ معیشت، اطلاعات، سفارتکاری اور ٹیکنالوجی کے میدانوں میں جاری رہتی ہیں۔ ان جنگوں میں نہ کوئی واضح محاذ ہوتا ہے اور نہ ہی فوری طور پر کوئی فاتح یا شکست خوردہ دکھائی دیتا ہے۔ مگر ان کے اثرات کہیں زیادہ گہرے اور دیرپا ہوتے ہیں۔
    معاشی محاذ پر جاری خاموش جنگیں آج کی دنیا کا سب سے بڑا ہتھیار بن چکی ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، تجارتی پابندیاں، کرنسی کی قدر میں کمی یا اضافہ یہ سب ایسے ہتھکنڈے ہیں جن کے ذریعے طاقتور ممالک کمزور معیشتوں کو دباؤ میں رکھتے ہیں۔ بظاہر یہ سب کچھ مارکیٹ کی قوتوں کا کھیل لگتا ہے، مگر حقیقت میں اس کے پیچھے طاقت کی سیاست کارفرما ہوتی ہے۔ جب کسی ملک کی معیشت کمزور ہوتی ہے تو اس کے عوام کی زندگی براہِ راست متاثر ہوتی ہے، مہنگائی بڑھتی ہے، روزگار کے مواقع کم ہوتے ہیں اور سماجی بے چینی جنم لیتی ہے۔
    اطلاعات کی دنیا میں بھی ایک خاموش جنگ جاری ہے۔ میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے بیانیے تشکیل دیے جاتے ہیں، رائے عامہ کو متاثر کیا جاتا ہے اور بعض اوقات حقیقت کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ وہ جنگ ہے جہاں الفاظ ہتھیار بن جاتے ہیں اور خبریں گولیاں۔ ایک خبر کا زاویہ بدل کر پوری قوم کی سوچ کو بدلا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج معلومات کی جنگ کو جدید دور کی سب سے خطرناک جنگ قرار دیا جا رہا ہے۔
    ٹیکنالوجی نے ان خاموش جنگوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ سائبر حملے، ڈیٹا چوری، اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے فیصلوں پر اثر انداز ہونایہ سب ایسے ہتھکنڈے ہیں جو بغیر کسی آواز کے دشمن کو کمزور کر سکتے ہیں۔ ایک سائبر حملہ کسی ملک کے بینکاری نظام کو مفلوج کر سکتا ہے، بجلی کے نظام کو متاثر کر سکتا ہے اور عوام میں خوف و ہراس پیدا کر سکتا ہے۔ مگر چونکہ یہ سب کچھ نظر نہیں آتا، اس لیے اس کا احساس بھی دیر سے ہوتا ہے۔
    سفارتی محاذ پر بھی خاموش جنگیں جاری رہتی ہیں۔ بظاہر دوستانہ تعلقات کے پیچھے سخت مذاکرات، خفیہ معاہدے اور مفادات کی کشمکش چھپی ہوتی ہے۔ ایک طرف ممالک امن کی بات کرتے ہیں، دوسری طرف اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھاتے ہیں۔ یہ وہ کھیل ہے جہاں الفاظ نرم ہوتے ہیں مگر ارادے سخت۔
    دلچسپ بات یہ ہے کہ ان خاموش جنگوں کے دوران دنیا بولتی رہتی ہے۔ بیانات، قراردادیں، کانفرنسیں اور مذاکرات یہ سب ایک ایسا تاثر دیتے ہیں جیسے مسائل کا حل تلاش کیا جا رہا ہو۔ مگر اکثر اوقات یہ سب کچھ محض وقت حاصل کرنے یا عالمی رائے عامہ کو مطمئن کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ اصل فیصلے کہیں اور ہو رہے ہوتے ہیں، اور عام عوام ان سے بے خبر رہتے ہیں۔
    پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ صورتحال مزید چیلنجنگ ہے۔ ایک طرف انہیں عالمی طاقتوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہوتا ہے، دوسری طرف اپنی معیشت اور داخلی استحکام کو بھی مضبوط بنانا ہوتا ہے۔ ایسے میں ہر فیصلہ نہایت احتیاط سے کرنا پڑتا ہے، کیونکہ ایک غلط قدم ملک کو بڑی مشکلات میں ڈال سکتا ہے۔ تاہم، یہ بھی حقیقت ہے کہ چیلنجز کے ساتھ مواقع بھی موجود ہوتے ہیں۔ اگر درست حکمت عملی اپنائی جائے تو انہی حالات میں ترقی کے راستے بھی نکالے جا سکتے ہیں۔
    عوام کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ شور اور حقیقت میں فرق کر سکیں۔ ہر خبر پر یقین کرنے کے بجائے اس کا تجزیہ کریں، مختلف ذرائع سے معلومات حاصل کریں اور اپنی رائے خود قائم کریں۔ کیونکہ آج کے دور میں سب سے بڑی طاقت شعور ہے۔ جس قوم کے عوام باشعور ہوں، اسے کسی بھی خاموش جنگ میں آسانی سے شکست نہیں دی جا سکتی۔
    آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ دنیا واقعی بول رہی ہے، مگر اس کی آواز میں سچ کم اور حکمت عملی زیادہ شامل ہے۔ اصل کھیل ان خاموش جنگوں کا ہے جو ہماری نظروں سے اوجھل ہیں مگر ہماری زندگیوں پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم نہ صرف اس شور کو سمجھیں بلکہ اس خاموشی کو بھی سننے کی صلاحیت پیدا کریں، کیونکہ اصل حقیقت اکثر وہیں چھپی ہوتی ہے جہاں آواز نہیں ہوتی۔
    یہی شعور ہمیں ایک مضبوط قوم بنا سکتا ہے اور یہی بصیرت ہمیں اس پیچیدہ عالمی نظام میں اپنا مقام حاصل کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

  • وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان کا وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت بڑھانے کیلیے بڑا فیصلہ..پاکستان واچ رپورٹ

    وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان کا وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت بڑھانے کیلیے بڑا فیصلہ..پاکستان واچ رپورٹ

    وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان کی جانب سے ایران کے راستے وسطی ایشیائی ممالک اور آذربائیجان کو برآمدات کے لیے بینک گارنٹی اور لیٹر آف کریڈٹ کی شرط سے عارضی استثنیٰ دینے کا فیصلہ پاکستان کی تجارتی پالیسی میں ایک اہم اور دور رس اثرات کا حامل اقدام ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف برآمدکنندگان کے لیے سہولت پیدا کرتا ہے بلکہ پاکستان کے علاقائی تجارتی کردار کو بھی مضبوط بناتا ہے، جو موجودہ عالمی معاشی حالات میں ایک مثبت پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔
    اس اقدام کے تحت زمینی راستے کے ذریعے ایران، آذربائیجان اور وسطی ایشیائی ریاستوں تک پاکستانی مصنوعات کی رسائی کو آسان بنا دیا گیا ہے۔ ماضی میں برآمدکنندگان کو بینک گارنٹی اور لیٹر آف کریڈٹ جیسی پیچیدہ مالی شرائط کا سامنا کرنا پڑتا تھا، جس کے باعث نہ صرف اخراجات میں اضافہ ہوتا تھا بلکہ کاروباری عمل بھی سست روی کا شکار رہتا تھا۔ اب ان شرائط میں عارضی نرمی سے کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آئے گی اور چھوٹے و درمیانے درجے کے برآمدکنندگان کو بھی بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل ہوگی۔
    وزارت تجارت کے نوٹیفکیشن کے مطابق تین ماہ کے لیے دی جانے والی یہ خصوصی رعایت 24 مارچ سے 21 جون 2026 تک نافذ العمل رہے گی۔ اس مدت کے دوران برآمدکنندگان کو ایران اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت میں غیر معمولی سہولت میسر آئے گی۔ اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ضوابط سے جزوی استثنیٰ دیا گیا ہے، تاہم برآمدی آمدن کو مقررہ مدت میں واپس لانے کی شرط برقرار رکھی گئی ہے، جو مالیاتی نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے ایک متوازن حکمت عملی ہے۔
    ایران کو برآمد کی جانے والی اشیاء کی فہرست خاصی وسیع ہے، جس میں چاول، سمندری خوراک، آلو، گوشت، پیاز، مکئی اور مختلف اقسام کے پھل شامل ہیں۔ یہ تمام اشیاء پاکستان کی زرعی پیداوار کا اہم حصہ ہیں، اور ان کی برآمد سے نہ صرف کسانوں کو فائدہ ہوگا بلکہ زرعی شعبے میں بھی بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ فارماسیوٹیکل مصنوعات اور ٹینٹس کی برآمد کو بھی اس رعایت میں شامل کیا گیا ہے، جو پاکستان کی صنعتی صلاحیتوں کا مظہر ہے۔
    یہ اقدام اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ وسطی ایشیائی ریاستیں ایک ابھرتی ہوئی منڈی ہیں، جہاں پاکستانی مصنوعات کے لیے وسیع مواقع
    موجود ہیں۔ ان ممالک تک براہ راست رسائی نہ ہونے کے باعث پاکستان کو ماضی میں مشکلات کا سامنا رہا، تاہم ایران کے راستے زمینی تجارت کی اجازت ملنے سے یہ رکاوٹ بڑی حد تک دور ہو گئی ہے۔ اس سے نہ صرف تجارتی حجم میں اضافہ ہوگا بلکہ پاکستان کی برآمدی منڈیوں میں تنوع بھی آئے گا۔
    وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان کا یہ کہنا بجا ہے کہ ایران کے راستے تجارت سے برآمدکنندگان کے اخراجات اور وقت میں نمایاں کمی آئے گی۔ سمندری راستوں کے مقابلے میں زمینی راستہ تیز اور نسبتاً کم خرچ ہوتا ہے، جس سے پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں زیادہ مسابقتی بن سکتی ہیں۔ خاص طور پر چاول اور ادویات جیسے شعبوں میں یہ سہولت پاکستان کو ایک مضبوط برآمد کنندہ کے طور پر سامنے لا سکتی ہے۔
    ادویات کی برآمدات کے حوالے سے حکومت کی ترجیح بھی قابلِ ذکر ہے۔ پاکستانی فارماسیوٹیکل صنعت نہ صرف معیار کے لحاظ سے بہتر ہے بلکہ قیمت کے اعتبار سے بھی مسابقتی ہے۔ اگر اس شعبے کو مزید سہولتیں فراہم کی جائیں تو پاکستان خطے میں ایک اہم فارماسیوٹیکل حب بن سکتا ہے۔ اس رعایت کے ذریعے ادویات کی برآمد میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ایک مثبت قدم ہے جو مستقبل میں مزید مواقع پیدا کرے گا۔
    مزید برآں، یہ فیصلہ علاقائی روابط کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اسے جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان ایک پل بناتی ہے۔ اگر اس موقع سے مؤثر انداز میں فائدہ اٹھایا جائے تو پاکستان نہ صرف اپنی برآمدات میں اضافہ کر سکتا ہے بلکہ ایک علاقائی تجارتی راہداری کے طور پر بھی اپنی حیثیت مستحکم کر سکتا ہے۔
    یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ عالمی سطح پر تجارت کے رجحانات تیزی سے بدل رہے ہیں اور ممالک علاقائی تعاون کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کا یہ قدم اسے ایک فعال اور متحرک معیشت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ یہ اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت برآمدات کے فروغ اور معیشت کے استحکام کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔
    تاہم اس پالیسی کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ برآمدکنندگان اس موقع سے کس حد تک فائدہ اٹھاتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ معیار، پیکجنگ اور بروقت ترسیل پر خصوصی توجہ دیں تاکہ عالمی منڈی میں پاکستان کی ساکھ مزید بہتر ہو۔ اسی طرح حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اس رعایت کے نتائج کا بغور جائزہ لے اور کامیابی کی صورت میں اسے مزید توسیع دینے پر غور کرے۔
    مزید یہ کہ اس پالیسی کے تحت سرحدی انفراسٹرکچر، کسٹمز سہولیات اور ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کو بھی بہتر بنانا ناگزیر ہے تاکہ بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیوں کو مؤثر انداز میں سنبھالا جا سکے۔ اگر سرحدی راستوں پر تیز تر کلیئرنس، ڈیجیٹل ڈاکیومنٹیشن اور جدید لاجسٹکس نظام متعارف کرایا جائے تو برآمدات کے حجم میں کئی گنا اضافہ ممکن ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کی شمولیت اور سرمایہ کاری کو بھی فروغ دینا ہوگا تاکہ یہ اقدام محض عارضی سہولت نہ رہے بلکہ ایک پائیدار معاشی حکمت عملی میں تبدیل ہو سکے۔
    آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران کے راستے وسطی ایشیا اور آذربائیجان تک برآمدات کے لیے مالیاتی شرائط میں نرمی ایک دانشمندانہ اور بروقت فیصلہ ہے۔ یہ نہ صرف برآمدکنندگان کے لیے آسانیاں پیدا کرے گا بلکہ پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ اگر اس پالیسی کو مستقل بنیادوں پر موثر حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو پاکستان خطے میں ایک مضبوط تجارتی طاقت کے طور پر ابھر سکتا ہے۔

  • صدر نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر  اجلاس طلب کرلیا، وزیراعظم،  وزرا، عسکری قیادت شریک ہوگی

    صدر نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر اجلاس طلب کرلیا، وزیراعظم، وزرا، عسکری قیادت شریک ہوگی

    اسلام آباد (ویب ڈیسک )صدر مملکت آصف علی زرداری کی زیرِ صدارت ایوانِ صدر میں اہم اجلاس آج متوقع ہے جس میں وزیر اعظم شہباز شریف اور اہم وفاقی وزرا شرکت کریں گے۔
    ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں اعلیٰ عسکری قیادت اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کی شرکت بھی متوقع ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔
    اجلاس میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور اب تک کی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا، ساتھ ہی خلیجی ممالک پر حملوں سے پیدا ہونے والی صورتحال بھی زیرِ بحث آئے گی۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار شرکا کو چار ملکی وزرائے خارجہ اجلاس پر اعتماد میں لیں گے۔
    ذرائع کے مطابق اجلاس میں ملک میں موجود پٹرولیم ذخائر اور ترسیل کے نظام کا جائزہ لیا جائے گا، جبکہ کفایت شعاری پالیسی اور اس پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
    شرکا کو ممکنہ اسمارٹ لاک ڈاؤن اور دیگر ہنگامی اقدامات پر بریفنگ دی جائے گی، جبکہ اسمارٹ لاک ڈاؤن سے متعلق صوبوں کی تجاویز پر بھی غور ہوگا۔ ذرائع کے مطابق موٹر سائیکل اور رکشہ ڈرائیورز کو سبسڈی دینے سے متعلق بھی اہم فیصلے متوقع ہیں۔

  • مشکل کی گھڑی میں کمزور طبقے کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے، وزیر اعظم

    مشکل کی گھڑی میں کمزور طبقے کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے، وزیر اعظم

    اسلام آباد (پاکستان واچ نیوز)وزیراعظم کی زیر صدارت خلیجی بحران کے پیٹرولیم مصنوعات پر اثر، پاکستان میں موجودہ ذخائر اور عوامی ریلیف کے اقدامات ہر جائزہ اجلاس ہوا۔
    اجلاس میں وزیر اعظم نے کہا کہ کمزور اور متوسط طبقے کے لوگوں کو مزید ریلیف فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہیں، مشکل کی اس گھڑی میں معاشی طور پر کمزور طبقے کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔
    اجلاس کو ایندھن کی بچت کیلئے حکومتی اقدامات پر عملدرآمد، آئندہ کے لائحہ عمل پر تجاویز اور موجودہ اسٹاک پر تفصیلی بریفنگ دی گئی.
    بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر ممکنہ ریلیف سے استفادے کیلئے موٹرسائیکل اور رکشوں کے حامل افراد کی ملکیتی رجسٹریشن کو جلد از جلد مکمل کرنے کیلئے روابط مربوط کئے جار ہے ہیں۔
    اجلاس کو وزیرِ اعظم کے ایندھن کی بچت کے اقدامات پر عملدرآمد اور سادگی مہم پر پیش رفت پر انٹیلیجینس بیورو کی آڈٹ رپورٹ بھی پیش کی گئی۔
    اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیرِ اعظم کی بچت و سادگی مہم پر عملدرآمد یقینی بنایا جارہا ہے، ملکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ایندھن کے مناسب ذخائر موجود اور آئندہ کیلئے بھی انتظامات کئے جا رہے ہیں، اشرافیہ کی بڑی گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ہائی آکٹین ایندھن پر لیوی میں اضافے سے جیٹ فیول کی قیمتوں میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئی۔
    بتایا گیا کہ وزیرِ اعظم کی بچت مہم کے اقدامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے، ملکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ادویات کا وافر ذخیرہ موجود ہے، اجلاس کو آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے تجاویز بھی پیش کی گئیں۔
    وزیرِ اعظم نے کہا کہ سرکاری اخراجات میں کمی، ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی اور 60 فیصد سرکاری گاڑیوں کو فی الفور بند کیا، موجودہ حالات میں قربانی کا سلسلہ حکومتی اخراجات میں کٹوتی سے شروع کیا، تیل کی قیمتوں میں اضافے کی تجاویز کو بارہا مسترد کرکے، بچت کے اقدمات سے حاصل شدہ رقم عوامی ریلیف کیلئے بروئے کار لائی گئی، ڈیجیٹل نظام کو بروئے کار لاتے ہوئے عوامی ریلیف کے اقدامات عام آدمی تک پہنچائیں گے۔
    شہباز شریف نے کہا کہ عالمی سطح پر بحران کے باوجود بروقت فیصلوں کی بدولت اللہ کے فضل و کرم سے ایندھن کی فراہمی میں کسی قسم کا تعطل نہیں آنے دیا گیا، پاکستان خطے میں امن کے حوالے سے سفارتی محاذ پر بھرپور کوششیں کر رہا ہے۔
    اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزراء محمد آصف، احسن اقبال، ڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ، سید مصطفی کمال، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، شزہ فاطمہ خواجہ، رانا مبشر اقبال، سردار اویس خان لغاری، مشیر وزیرِ اعظم رانا ثناء اللہ، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، معاونین خصوصی طارق فاطمی، طلحہ برکی، ارکان قومی اسمبلی انجینئیر قمر الاسلام، ریاض الحق، حافظ محمد نعمان اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.

  • ٹرمپ ایران سے یورینیم نکالنے کیلئے فوجی آپریشن پر غور کررہے ہیں، امریکی اخبار کا دعویٰ

    ٹرمپ ایران سے یورینیم نکالنے کیلئے فوجی آپریشن پر غور کررہے ہیں، امریکی اخبار کا دعویٰ

    واشنگٹن (فارن ڈیسک )امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران سے افزودہ یورینیم نکالنے کے لیے ممکنہ فوجی آپریشن پر غور کر رہے ہیں۔
    رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران سے تقریباً ایک ہزار پاؤنڈ یورینیم نکالنے کا یہ مشن نہایت پیچیدہ اور خطرناک ہو سکتا ہے، جس کے لیے امریکی فوج کو کئی دن تک ایران کے اندر موجود رہنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ نے ابھی تک اس آپریشن کا حتمی فیصلہ نہیں کیا، لیکن اسے ایک ممکنہ آپشن کے طور پر زیر غور رکھا گیا ہے۔
    رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے قریبی مشیروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایران پر دباؤ بڑھائیں تاکہ وہ جنگ کے خاتمے کی شرط کے طور پر یورینیم حوالے کرے۔
    امریکی حکام کے مطابق اگر ایران مذاکرات کے دوران یورینیم حوالے کرنے پر آمادہ نہ ہوا تو طاقت کے استعمال کا امکان بھی موجود ہے۔
    اخبار کے مطابق یورینیم پر قبضہ حاصل کرنے کے لیے محدود اور ہدفی فوجی کارروائی جنگ کے دورانیے کو زیادہ طویل نہیں کرے گی، تاہم اس کے خطرات اور نتائج انتہائی حساس ہو سکتے ہیں۔
    دوسری جانب وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ پینٹاگون کا کام صدر کو مختلف آپشنز فراہم کرنا ہے اور مختلف آپشنز کی موجودگی کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ اس معاملے پر پینٹاگون اور سینٹرل کمانڈ کے ترجمانوں نے فی الحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
    رپورٹ میں یہ بھی یاد دلایا گیا ہے کہ امریکا ماضی میں بھی ایسے حساس مشنز کر چکا ہے، جن میں 1994 میں قزاقستان اور 1998 میں جارجیا سے یورینیم منتقل کرنے کے آپریشنز شامل ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اس نوعیت کا کوئی آپریشن کیا گیا تو اس کے خطے کی سکیورٹی صورتحال اور عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

  • گیس کی کمی؛  بجلی کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ

    گیس کی کمی؛ بجلی کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ

    اسلام آباد (پاکستان واچ نیوز)گیس کی کمی کے باعث ملک میں سی این جی سیکٹر کو فراہمی بند اور بجلی کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ذرائع کے مطابق آئندہ ماہ (اپریل) سے ملک بھر کے پاور پلانٹس کو صرف 80 ایم ایم سی ایف ڈی گیس دستیاب ہوگی، جس کے باعث بجلی کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ مارچ میں ملنے والی 150 ایم ایم سی ایف ڈی گیس اور ایل این جی کی فراہمی بند ہو جائے گی۔ سی این جی سیکٹر کے لیے بھی گیس مکمل طور پر بند کیے جانے کا امکان ہے۔پاور سیکٹر کو 25 سے 30 ایم ایم سی ایف ڈی گیس منتقل کی جائے گی اور فرٹیلائزر سیکٹر کی گیس بھی ممکنہ طور پر بجلی کی پیداوار کے لیے مختص کی جا سکتی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کوئلے سے پیدا ہونے والی 1500 سے 1800 میگاواٹ بجلی کی پیداوار بھی خطرے میں پڑ گئی ہے، جس کے نتیجے میں 10 سے 15 فیصد بجلی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ساہیوال اور جامشورو کے پلانٹس کوئلے کی قلت کا شکار ہیں ۔ کوئلے کا موجودہ ذخیرہ صرف 3 سے 7 دن کے لیے کافی ہے، جس کے باعث مزید 2 سے 3 گھنٹے لوڈشیڈنگ کا امکان ہے۔دوسری جانب ایس ایس جی سی کو بھی گیس کی کمی کا سامنا ہے۔ ترجمان کے مطابق 2 گیس فیلڈز میں ٹیکنیکل وجوہات کی وجہ سے گیس کی فراہمی میں کمی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور اس غیر متوقع قلت کو جلد از جلد حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

  • سونے کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، عالمی اور مقامی سطح پر مزید مہنگا ہوگیا

    سونے کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، عالمی اور مقامی سطح پر مزید مہنگا ہوگیا

    کراچی:(پاکستان واچ نیوز)سونے کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمت میں مزید اضافہ ہوگیا۔بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج پیر کے روز فی اونس سونے کی قیمت میں 39 ڈالر کا اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں نئی عالمی قیمت 4 ہزار 532 ڈالر فی اونس کی سطح پر پہنچ گئی۔عالمی مارکیٹ کے زیرِ اثر مقامی صرافہ بازاروں میں بھی آج کاروباری ہفتے کے پہلے ہی دن فی تولہ سونے کی قیمت میں 3 ہزار 900 روپے کا بڑا اضافہ ریکارڈ ہوا، جس کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 75 ہزار 962 روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔اسی طرح مقامی سطح پر فی 10 گرام سونا بھی 3 ہزار 343 روپے مہنگا ہونے سے 4 لاکھ 8 ہزار 60 روپے کا ہوگیا۔دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا اور نئی قیمت 70.40 ڈالر فی اونس ہوگئی جب کہ مقامی مارکیٹوں میں فی تولہ چاندی 70 روپے مہنگی ہوکر 7 ہزار 524 روپے اور فی 10 گرام چاندی 60 روپے بڑھ کر 6 ہزار 450 روپے کی سطح پر آ گئی۔

  • وزیراعظم کا  ایرانی صدر سے دوسرا رابطہ،  امن کی کوششوں پر تبادلہ خیال

    وزیراعظم کا ایرانی صدر سے دوسرا رابطہ، امن کی کوششوں پر تبادلہ خیال

    اسلام آباد (پاکستان واچ نیوز)وزیراعظم شہبازشریف اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ایک ہفتے کے دوران دوسرا ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں جاری حالیہ کشیدگی کو کم کرنے سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر کے درمیان گفتگو ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی، دونوں رہنماؤں کا خطے میں کشیدگی میں کمی اور امن کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے ایران پر اسرائیل کے مسلسل حملوں، بالخصوص گزشتہ روز شہری تنصیبات پر ہونے والے تازہ حملوں کی شدید مذمت کی۔

  • امریکی صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں بڑی کمی، امریکی نیوز چینل نے سروے جاری کردیا

    امریکی صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں بڑی کمی، امریکی نیوز چینل نے سروے جاری کردیا

    واشنگٹن (فارن ڈیسک )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بطور صدر مقبولیت میں بڑی کمی آگئی۔ امریکی نیوز چینل نے ٹرمپ کی کارکردگی کا سروے جاری کیا جس کے مطابق صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں بڑی کمی دیکھی گئی ہے۔سروے کے مطابق ٹرمپ کی کارکردگی کو اکثریت نے مسترد کردیا جبکہ 59 فیصد ٹرمپ کی کارکردگی سے غیر مطمئن رہے۔اس کے علاوہ مہنگائی پر ٹرمپ کی کارکردگی کو 71 فیصد عوام نے مسترد کیا جبکہ معیشت پر بھی ٹرمپ کو دھچکا لگا ، 66 فیصد عوام نے ناپسندیدگی ظاہر کی۔مزید براں خارجہ پالیسی پر ٹرمپ کو 62 فیصد عوام کی مخالفت کا سامنا رہا جبکہ ایران پالیسی پر بھی عوام ٹرمپ سے مطمئن نہیں ہیں اور 64 فیصد نے ایران جنگ کے حوالے سے ٹرمپ کی کارکردگی مسترد کر دی۔یاد رہے سروے 20 سے 23 مارچ 2026 کے دوران کیا گیا۔