Blog

  • فوج اندرونی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکی ہے، اسرائیلی آرمی چیف

    فوج اندرونی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکی ہے، اسرائیلی آرمی چیف

    تل ابیب(پاکستان واچ نیوز) اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زمیر نے ایک غیر معمولی اور تشویشناک وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو اسرائیلی فوج اندرونی طور پر ٹوٹ سکتی ہے۔اپنے بیان میں آرمی چیف نے کہا کہ وہ 10 لال جھنڈے اٹھا کر خبردار کر رہے ہیں کہ موجودہ صورتحال انتہائی سنگین ہو چکی ہے۔ان کے مطابق میدان جنگ میں ریزرو فوجی مزید لڑنے کی سکت کھو رہے ہیں، جس سے فوجی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔ایال زمیر نے واضح کیا کہ اگر ریزرو فوجیوں سے متعلق قوانین میں فوری ترمیم اور دیگر ضروری اقدامات نہ کیے گئے تو فوج کے اندرونی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے، جو ملک کی سکیورٹی کے لیے خطرناک ہوگا۔دوسری جانب اسرائیل کے سابق وزیراعظم نفتالی بینٹ نے بھی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو اس وقت تقریباً 20 ہزار فوجیوں کی کمی کا سامنا ہے۔ انہوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جنگ بغیر مکمل حکمت عملی، وسائل اور مناسب افرادی قوت کے شروع کی گئی۔ادھر اپوزیشن رہنما یائر لاپڈ نے بھی اس وارننگ کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ 13 برسوں سے سکیورٹی کابینہ کا حصہ رہے ہیں، لیکن اس نوعیت کی سنگین وارننگ انہوں نے پہلے کبھی نہیں سنی۔ماہرین کے مطابق یہ بیانات اسرائیل کی فوجی اور سیاسی قیادت کے اندر بڑھتے ہوئے دباؤ اور موجودہ جنگی صورتحال کے اثرات کی نشاندہی کرتے ہیں۔

  • وزیراعظم نے صدر کومشرق وسطیٰ کی صورتحال میں پاکستان کے کردار پر اعتماد میں لیا

    وزیراعظم نے صدر کومشرق وسطیٰ کی صورتحال میں پاکستان کے کردار پر اعتماد میں لیا

    اسلام آباد:(پاکستان واچ نیوز) وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مملکت آصف زرداری کے درمیان اہم ملاقات ہوئی ہے۔وزیراعظم اور صدر مملکت کی ملاقات ایوان صدر میں ہوئی جس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔وزیراعظم شہباز شریف اور صدر زرداری کی ملاقات میں ملکی سکیورٹی، معاشی صورتحال اور تونائی بحران پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی جب کہ وزیراعظم نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال میں پاکستان کے کردار پر صدرکو اعتماد میں لیا۔ذرائع کے مطابق صدر مملکت نے خطے کی موجودہ صورتحال پر پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہم اپناکردار اداکرنے کو حاضر ہیں۔صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان نہ صرف پڑوسی ممالک بلکہ دنیا میں کشیدگی ختم کرنے کے لیے اپنا مثبت کردار اداکرنے کے لیے تیار ہے۔

  • ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری جنگ 4 سے 6 ہفتوں کے اندر ختم کرنا چاہتے ہیں، امریکی اخبار

    ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری جنگ 4 سے 6 ہفتوں کے اندر ختم کرنا چاہتے ہیں، امریکی اخبار

    واشنگٹن:(ویب ڈیسک) امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری جنگ کو جلد از جلد ختم کرنے کے خواہش مند ہیں اور وہ اس تنازع کو آئندہ 4 سے 6 ہفتوں کے اندر نمٹانا چاہتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے قریبی مشیروں کو بتایا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ کو طویل نہیں کرنا چاہتے اور ان کے خیال میں یہ تنازع اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اس جنگ کو اپنی دیگر سیاسی ترجیحات، جیسے وسط مدتی انتخابات اور امیگریشن پالیسی سے توجہ ہٹانے کا باعث بھی سمجھتے ہیں۔اخبار کے مطابق وائٹ ہاؤس نے مئی میں چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ایک اہم سربراہی اجلاس کی منصوبہ بندی بھی اسی بنیاد پر کی ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ اس سے پہلے ختم ہو جائے گی۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ صورتحال ابھی غیر یقینی ہے اور حتمی فیصلے کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا ایک طرف مزید مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کر رہا ہے جبکہ دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بھی بڑھا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایرانی تیل تک امریکی رسائی کو ممکنہ شرائط میں شامل کرنے پر غور کیا ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی واضح عملی منصوبہ سامنے نہیں آیا۔دوسری جانب امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکا نے جنگ بندی کے لیے چند تجاویز بھی پیش کی ہیں۔ ان تجاویز میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ افزودہ یورینیم کا ذخیرہ ختم کرے، بیلسٹک میزائل پروگرام محدود کرے اور حزب اللہ، حوثیوں اور حماس جیسے گروہوں کی حمایت بند کرے۔امریکی حکام کے مطابق یہ تجاویز حساس نوعیت کی ہیں، اس لیے ان کی مکمل تفصیلات ظاہر نہیں کی جا رہیں۔ وائٹ ہاؤس نے ان خبروں کی تردید بھی کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ایران نے ان تجاویز کو مسترد کر دیا ہے، اور واضح کیا ہے کہ بات چیت ابھی جاری ہے۔رپورٹس کے مطابق پاکستان کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش بھی سامنے آئی ہے، جبکہ ایران نے تصدیق کی ہے کہ وہ اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے۔ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں سفارتکاری اور فوجی حکمت عملی ساتھ ساتھ چل رہی ہیں، جس کے باعث یہ کہنا مشکل ہے کہ جنگ کا خاتمہ کس شکل میں ہوگا، تاہم آنے والے ہفتے اس حوالے سے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔

  • صدرِ مملکت نے افسران اور جوانوں کو فوجی اعزازات دینے کی منظوری دیدی

    صدرِ مملکت نے افسران اور جوانوں کو فوجی اعزازات دینے کی منظوری دیدی

    راولپنڈی (ویب ڈیسک )آئی ایس پی آر کے مطابق صدرِ مملکت نے پاک فوج، بحریہ اور فضائیہ کے افسران اور جوانوں کو فوجی اعزازات دینے کی منظوری دے دی، 11 ستارۂ بسالت، 475 تمغۂ بسالت، 130 امتیازی اسناد،378 چیف آف آرمی اسٹاف تعریفی کارڈز ، 23 ہلالِ امتیاز (ملٹری)، 100 ستارۂ امتیاز ، 136 تمغۂ امتیاز دیئے جائیں گے

  • کراچی میں آج گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان

    کراچی میں آج گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان

    کراچی:(پاکستان واچ نیوز)شہر قائد کے مختلف علاقوں میں آج دوپہر کے بعد گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے جبکہ بارش کے دوران تندوتیز ہوائیں بھی چل سکتی ہیں۔محکمہ موسمیات کے مطابق ہواؤں کی زیادہ سے زیادہ رفتار 50 کلو میٹر فی گھنٹہ تک تجاوز کر سکتی ہے جبکہ شہر کے کچھ مقامات پر ژالہ باری ہونے کا امکان ہے۔کراچی میں جمعے کو موسم بیشتر وقت صاف اور تیز دھوپ رہ سکتی ہے تاہم ہفتے کو حالیہ مغربی سسٹم کا ایک نیا اسپیل شہر میں بارشوں کا سبب بنے گا۔ڈپٹی ڈائریکٹر و ترجمان محکمہ موسمیات کراچی انجم نذیر ضیغم کے مطابق ملک میں داخل ہونے والے بارش کے نئے مغربی نظام کے اثرات کراچی سمیت دیہی سندھ پر 29 مارچ تک برقرار رہ سکتے ہیں۔محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں آج زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 32 سے 34 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کی توقع ہے، گزشتہ روز زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 32.9 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا۔شہر میں آج کم سے کم درجہ حرارت 24 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا جبک کل کم سے کم درجہ حرارت 23 سے 25 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے۔

  • ذوالقرنین سکندر کے رجب بٹ پر سنگین الزامات، ثبوت بھی سامنے لے آئے

    ذوالقرنین سکندر کے رجب بٹ پر سنگین الزامات، ثبوت بھی سامنے لے آئے

    لاھور(پاکستان واچ نیوز)پاکستانی یوٹیوبر ذوالقرنین سکندر اور رجب بٹ کے درمیان جاری تنازع نے نیا رخ اختیار کرلیا ہے، جہاں ذوالقرنین سکندر نے پہلی بار کھل کر ردعمل دیتے ہوئے رجب بٹ پر متعدد الزامات عائد کیے ہیں۔ذوالقرنین سکندر، جو عموماً تنازعات سے دور رہنے کے لیے جانے جاتے ہیں اور اپنی اہلیہ کنول آفتاب کے ساتھ فیملی اور ایڈونچر ولاگز کے باعث مقبول ہیں، اس بار سخت مؤقف کے ساتھ سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کبھی کسی کے خلاف بات نہیں کرتے، لیکن موجودہ صورتحال نے انہیں بولنے پر مجبور کردیا ہے۔یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کرگیا جب رجب بٹ نے مبینہ طور پر کنول آفتاب کو تنقید کا نشانہ بنایا۔جس کے بعد ذوالقرنین سکندر نے جواب دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ رجب بٹ خود کو ’’سیلف میڈ‘‘ قرار دیتے ہیں، تاہم حقیقت اس کے برعکس ہے۔ذوالقرنین کے مطابق رجب بٹ نے پہلی بار 2021 میں کنول آفتاب سے رابطہ کیا، لیکن اس وقت وہ غیر معروف تھے، جس کے باعث ان کا پیغام بعد میں دیکھا گیا۔ بعد ازاں 2023 میں انہیں ایک پوڈکاسٹ میں مدعو کیا گیا، جہاں سے انہیں نمایاں ہونے کا موقع ملا۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے اور ان کی اہلیہ نے رجب بٹ کو آن لائن پلیٹ فارمز پر متعارف کروانے، شاؤٹ آؤٹس دینے اور ویورشپ بڑھانے میں مدد فراہم کی۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ رجب بٹ کی شادی کے اخراجات میں بھی ان کا کردار رہا، جس میں لباس، میک اپ اور دیگر معاملات شامل تھے۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ مختلف مواقع پر مالی معاونت اور برانڈ کولیبوریشنز میں بھی ان کی مدد کی گئی۔ذوالقرنین سکندر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ان کے پاس اپنے تمام بیانات کے ثبوت موجود ہیں، جن میں پیغامات، آڈیو کلپس اور سی سی ٹی وی فوٹیج شامل ہیں۔ انہوں نے ایک موقع پر اپنی اہلیہ کا وائس نوٹ بھی سنایا تاکہ اپنے مؤقف کو ثابت کیا جا سکے۔یہ تنازع اب سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن چکا ہے، جہاں صارفین دونوں یوٹیوبرز کے مؤقف پر مختلف آرا کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ معاملہ مزید بڑھنے کے امکانات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

  • ایرانی حملوں کیخلاف اقوام متحدہ میں اہم قرارداد پاس، 100 سے زائد ممالک کی حمایت

    ایرانی حملوں کیخلاف اقوام متحدہ میں اہم قرارداد پاس، 100 سے زائد ممالک کی حمایت

    نیو یارک (پاکستان واچ نیوز)اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کے خلاف ایک اہم قرارداد منظور کر لی گئی ہے، جس کی 100 سے زائد ممالک نے حمایت کی۔یہ قرارداد خلیجی ممالک اور اردن کی درخواست پر بلائے گئے ہنگامی اجلاس کے بعد منظور کی گئی، قرارداد میں ایران کے حملوں کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ان کی شدید مذمت کی گئی ہے۔اس موقع پر امارات کی وزارت خارجہ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور توانائی کے مراکز کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے، خاص طور پر ایسے ممالک میں جو اس تنازع کا حصہ نہیں ہیں۔قرارداد میں آبنائے ہرمز اور باب المندب میں جہازرانی میں مداخلت کو عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ موجودہ کشیدگی عالمی تجارت، توانائی کے تحفظ اور سپلائی چین کو متاثر کر رہی ہے۔مزید برآں قرارداد میں متاثرہ ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور آزادی کی حمایت کا اعادہ کیا گیا ہے۔ ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر حملے بند کرے، اشتعال انگیزی سے گریز کرے اور متاثرہ فریقین کو مکمل معاوضہ ادا کرے۔سیاسی مبصرین کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں ممالک کی جانب سے اس قرارداد کی حمایت ایران پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی سفارتی دباؤ کی عکاسی کرتی ہے۔

  • ایران کی فوجی قیادت نے امریکی صدر کے مذاکرات سے متعلق دعوؤں کو  مسترد کر دیا

    ایران کی فوجی قیادت نے امریکی صدر کے مذاکرات سے متعلق دعوؤں کو مسترد کر دیا

    تہران (پاکستان واچ نیوز)ایران کی فوجی قیادت نے امریکی صدر ٹرمپ کے مذاکرات سے متعلق دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ایران کے مرکزی فوجی ہیڈکوارٹر خاتم الانبیاء کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ابراھیم زلفغاری نے ایک بیان میں امریکا کو سخت پیغام دیا۔ایرانی خبر ایجنسی فارس کے مطابق زلفغاری نے امریکی دعوؤں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کیا امریکا کے اندرونی اختلافات اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ وہ خود ہی اپنے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے؟ انہوں نے مزید کہا کہ اپنی ناکامی کو معاہدے کا نام نہ دیا جائے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ جب تک ایران کی مرضی پوری نہیں ہوتی، نہ تو تیل کی قیمتیں سابق سطح پر واپس آئیں گی اور نہ ہی خطے میں پہلے جیسا نظام بحال ہوگا۔انہوں نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کا خیال مکمل طور پر ختم کرنا ہوگا۔زلفغاری نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ایران کا مؤقف شروع سے واضح ہے اور آئندہ بھی رہے گا کہ ایران امریکا کے ساتھ کسی صورت مفاہمت نہیں کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ’ہم جیسے لوگ تم جیسے لوگوں کے ساتھ کبھی نہیں چل سکتے، نہ اب اور نہ ہی آئندہ کبھی۔‘یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے متضاد دعوے گردش کر رہے ہیں اور خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

  • وزیراعظم کا سعودی ولی عہد سے رابطہ، خطے میں امن کیلیے پاکستانی کوششوں  سے آگاہ کیا

    وزیراعظم کا سعودی ولی عہد سے رابطہ، خطے میں امن کیلیے پاکستانی کوششوں سے آگاہ کیا

    اسلام آباد:(پاکستان واچ نیوز)وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز سے رابطہ کیا، جس میں خطے کی صورت حال پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر وزیراعظم نے بتایا کہ انہوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے عید الفطر کی مناسبت سے نیک تمناؤں کا تبادلہ بھی کیا۔شہباز شریف نے گفتگو کے دوران خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، شاہی خاندان اور سعودی عوام کے لیے عیدالفطر کی مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔وزیراعظم نے حالیہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی اور مکمل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ مشکل وقت میں پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔انہوں نے سعودی قیادت کے تحمل کو سراہتے ہوئے کشیدگی میں کمی، فوری جنگ بندی اور امت مسلمہ میں اتحاد کی فوری ضرورت پر زور دیا۔شہباز شریف نے ولی عہد کو خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں سے بھی آگاہ کیا، جبکہ دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

  • جنگ بندی کیلئے امریکا کا ایران کو 15 نکاتی خفیہ پلان بھجوائے جانے کا انکشاف

    جنگ بندی کیلئے امریکا کا ایران کو 15 نکاتی خفیہ پلان بھجوائے جانے کا انکشاف

    واشنگٹن (پاکستان واچ نیوز)امریکی اور اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایک 15 نکاتی منصوبہ (پلان) تیار کر کے تہران کو بھجوا دیا ہے۔ تاہم اس منصوبے کے حوالے سے ابھی تک امریکا یا ایران کی جانب سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔الجزیرہ کے مطابق رپورٹس میں نام ظاہر نہ کرنے والے حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے تین بڑے جوہری مراکز کو ختم کرے اور اپنی سرزمین پر یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر بند کر دے۔اس کے علاوہ ایران سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کو معطل کرے اور خطے میں اپنے حمایت یافتہ گروہوں کی مدد کم کرے۔منصوبے میں یہ بھی شامل ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھول دے تاکہ عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل بحال ہو سکے۔ اس کے بدلے میں امریکا ایران پر عائد جوہری پابندیاں ختم کرنے اور اس کے سویلین جوہری پروگرام میں مدد فراہم کرنے پر آمادہ ہوگا۔اس حوالے سے پاکستان کے اہم کردار کی خبریں سامنے آرہی ہیں لیکن اس کی ابھی تک تصدیق نہیں ہوسکی۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق امریکا اس منصوبے پر بات چیت کے لیے ایک ماہ کی جنگ بندی بھی چاہتا ہے تاکہ دونوں ممالک تفصیلی مذاکرات کر سکیں تاہم ابھی تک دونوں فریقین کی جانب سے اس تجویز پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔