Blog

  • روایتی جنگ کے بعد سائبر وار، جی پی ایس پر ہزاروں حملے، جہاز راستوں سے بھٹکنے لگے

    روایتی جنگ کے بعد سائبر وار، جی پی ایس پر ہزاروں حملے، جہاز راستوں سے بھٹکنے لگے

    جدہ(ویب ڈیسک)خطے میں روایتی جنگ کے بعد اب جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ’سائبر وار فیئر‘ کا نیا محاذ کھل گیا ہے، جہاں گزشتہ 25 دنوں کے دوران جی پی ایس ڈیٹا پر ہزاروں حملے ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ماہرین کے مطابق ان حملوں میں جیمنگ اور اسپوفنگ جیسی تکنیکیں استعمال کی جا رہی ہیں، جن کے ذریعے جی پی ایس سگنلز کو متاثر کر کے جنگی مقاصد حاصل کیے جا رہے ہیں۔رپورٹس کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران بھی اس نوعیت کی سرگرمیاں دیکھی گئی تھیں، جبکہ اب ایران کے گرد و نواح کے خطے میں بھی اسی طرح کی غیر معمولی صورتحال سامنے آ رہی ہے۔فضائی اور بحری راستے استعمال کرنے والے ادارے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں روزانہ درجنوں پروازیں اور بحری جہاز اپنے راستے سے بھٹک رہے ہیں، جس کی بڑی وجہ جی پی ایس سسٹم پر ہونے والے حملے ہیں۔ اس سے نہ صرف سفری نظام متاثر ہو رہا ہے بلکہ عالمی تجارت اور سلامتی کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق ’’جیمنگ‘ ایک ایسا عمل ہے جس میں طاقتور الیکٹرو میگنیٹک شور کے ذریعے جی پی ایس سگنلز کو کمزور یا معطل کر دیا جاتا ہے، جبکہ ’اسپوفنگ‘ کے ذریعے نیویگیشن سسٹمز کو دھوکہ دے کر غلط لوکیشن ظاہر کروائی جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں طیارے اور جہاز اپنی اصل سمت کھو سکتے ہیں، جو ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس قسم کے سائبر حملوں کو نہ روکا گیا تو مستقبل میں عالمی فضائی اور بحری نظام کو بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

  • کفایت شعاری ،سندھ کابینہ نے 3 ماہ کی تنخواہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے،شرجیل میمن

    کفایت شعاری ،سندھ کابینہ نے 3 ماہ کی تنخواہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے،شرجیل میمن

    کراچی:(پاکستان واچ نیوز)حکومت سندھ نے کفایت شعاری سے متعلق متعدد اہم اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایندھن کی کمی روکنے کے لیے وفاقی حکومت جو بھی فیصلے کرے گی، ان پر لبیک کہا جائے گا۔
    صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ حکومت سندھ وفاقی حکومت کے تمام فیصلوں پر عمل کر رہی ہے اور مزید اہم فیصلے بھی کیے جا رہے ہیں تاکہ موجودہ صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔
    انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر سندھ کابینہ نے 3 ماہ کی تنخواہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ جمعہ کے روز ورک فرام ہوم کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے تاکہ ایندھن کی بچت ممکن بنائی جا سکے۔
    انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے فیصلوں کی ہر سطح پر حمایت جاری رکھی جائے گی ۔ اگر وفاقی حکومت لاک ڈاؤن کا فیصلہ کرتی ہے تو سندھ حکومت اس پر بھی مکمل طور پر عمل کرے گی۔
    انہوں نے کہا کہ عوامی ضروریات اور ایندھن کے ذخائر کو محفوظ بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں ۔ جب تک حالات مکمل طور پر قابو میں نہیں آتے تب تک یہ اقدامات جاری رہیں گے۔
    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ ایسی صورتحال سے بچنا ضروری ہے جس میں ایندھن اور توانائی کی کمی کا سامنا کرنا پڑے، اسی لیے سندھ حکومت کے فیصلے کے تحت سرکاری گاڑیوں کی ایک بڑی تعداد کو گراؤنڈ کر دیا گیا ہے۔
    سینئر صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ حکومت سندھ کی جانب سے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ ایندھن کی بچت اور ممکنہ مہنگائی کو روکا جا سکے۔
    انہوں نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت کو مزید تعاون درکار ہوا تو سندھ حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اگر ممکن ہو تو گھروں سے کام کریں کیونکہ یہ کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ سب کا مشترکہ مسئلہ ہے ۔ عوام کے تعاون سے ہی ایندھن کی بچت اور توانائی کے ذخائر کا تحفظ ممکن ہے۔
    انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر تمام فیصلے کیے جا رہے ہیں ۔ حکومت کی اولین ترجیح قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنا اور ایندھن کی کمی کو ہر صورت روکنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پبلک ٹرانسپورٹ کے حوالے سے بھی اہم فیصلے کیے گئے ہیں تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

  • سندھ حکومت اسمارٹ لاک ڈاؤن لگانے پر غور کر رہی ہے،ناصر حسین شاہ

    سندھ حکومت اسمارٹ لاک ڈاؤن لگانے پر غور کر رہی ہے،ناصر حسین شاہ

    سکھر (ویب ڈیسک): صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت اسمارٹ لاک ڈاؤن لگانے پر غور کر رہی ہے۔
    صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ نے سکھر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال کے باعث سندھ حکومت اسمارٹ لاک ڈاؤن لگانے پر غور کر رہی ہے۔
    صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال کے پیش نظر روزانہ کی بنیاد پر اجلاس کیے جا رہے ہیں۔ سرکاری گاڑیوں کے پٹرول کوٹے میں پہلے ہی 60 فیصد کمی کر دی گئی ہے۔
    انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات عام حالات نہیں ہیں، اگر جنگ لمبی چلی تو مشکل میں سب آئیں گے۔ اس صورتحال میں ایندھن بچانے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

  • جنگ رکوانے کیلیے پاکستانی کوششیں، ٹرمپ اور فیلڈ مارشل کی ٹیلیفونک گفتگو

    جنگ رکوانے کیلیے پاکستانی کوششیں، ٹرمپ اور فیلڈ مارشل کی ٹیلیفونک گفتگو

    اسلام آباد(پاکستان واچ نیوز)امریکا ایران جنگ رکوانے کے لیے پاکستان کی جانب سے کوششیں جاری ہیں، اس سلسلے میں ٹرمپ اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو بھی ہوئی ہےخبر رساں اداروں کے مطابق امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ رکوانے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ دوسری جانب ترجمان وائٹ ہاؤس نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے مابین ٹیلی فونک گفتگو کی تصدیق کردی ہے۔ترجمان وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ حساس سفارتی بات چیت ہے۔ کیرولین لیوٹ نے بتایا کہ امریکا اس معاملے پر میڈیا کے ذریعے مذاکرات نہیں کرے گا۔دوسری جانب عرب ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر نے مذاکرات کی حمایت کردی ہے۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا کے ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد ہی ایک حتمی معاہدہ سامنے آ سکتا ہے۔ٹرمپ کے دعوے کے بعد ایرانی حکام کی جانب سے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار سامنے آیا تھا۔علاوہ ازیں عالمی میڈیا نے بھی اپنی رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے لیے اسلام آباد میں بیٹھک لگے گی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس تنازع میں پاکستان کی سفارتی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔واضح رہے کہ تہران حکومت کی جانب سے مذاکرات یا سپریم لیڈر کی حمایت سے متعلق کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔

  • ای چالان سسٹم  پر پھرسوالیہ نشان، بس کا چالان عدالت میں چیلنج…نشید آفاقی

    ای چالان سسٹم پر پھرسوالیہ نشان، بس کا چالان عدالت میں چیلنج…نشید آفاقی

    شہر میں اربوں روپے کی لاگت سے نصب ہونے والے ای چالان سسٹم کا حالیہ معاملہ نہ صرف عوام کے لیے تشویش کا باعث ہے بلکہ حکومتی ٹیکنالوجی اور نگرانی کے نظام پر بھی سوالیہ نشان لگا رہا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں چلنے والی ایک بس کا چالان عدالت میں چیلنج کیا گیا، جہاں بس کے مالک اور ایسوسی ایشن کے صدر فاروق احمد نے اپنے وکیل منصف جان ایڈووکیٹ کے ذریعے موقف اختیار کیا کہ بس میں حد رفتار میٹر120 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے جبکہ شہر میں نصب کیمروں نے دوران ڈرائیونگ گاڑی کی رفتار160کلومیٹر فی گھنٹہ ظاہر کی۔
    یہ معاملہ بظاہر ٹریفک کی معمولی خلاف ورزی لگتا ہے، لیکن اس کے پیچھے کئی اہم پہلو ہیں جن پر غور کرنا ضروری ہے۔ سب سے پہلے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اربوں روپے کی سرمایہ کاری سے نصب شدہ ای چالان سسٹم کس حد تک درست اور قابل اعتماد ہے۔ اگر سسٹم میں ایسی خامیاں ہیں کہ یہ حقیقی رفتار کو غلط دکھا رہا ہے، تو اس کا استعمال نہ صرف عوامی اعتماد کو متاثر کرے گا بلکہ قانونی تنازعات کو بھی جنم دے گا۔
    ای چالان سسٹم بنیادی طور پر جدید کیمرے اور ٹریکنگ ڈیوائسز پر مبنی ہوتا ہے جو گاڑیوں کی رفتار، نمبر پلیٹ اور دیگر ضروری معلومات ریکارڈ کرتے ہیں۔ تاہم، ہر ٹیکنالوجی کی طرح اس سسٹم میں بھی حدود اور خامیاں موجود ہو سکتی ہیں۔ بس کے مالک کی عدالت میں دعویٰ کہ بس کی حد رفتار120کلومیٹر فی گھنٹہ ہے، ایک فنی حقیقت کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جو واضح کرتا ہے کہ کیمروں یا سسٹم میں کوئی خرابی ہو سکتی ہے جس کے باعث حقیقی رفتار سے زیادہ ظاہر کی گئی۔
    یہ معاملہ صرف ایک بس تک محدود نہیں۔ اگر اربوں روپے کی لاگت سے نصب یہ سسٹم درستگی میں کمی رکھتا ہے تو اس کا اثر پورے شہر کی ٹریفک انتظامیہ اور عوام کے اعتماد پر پڑ سکتا ہے۔ عوامی سطح پر یہ خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ غلط چالانوں کی زد میں آ سکتے ہیں اور یہ نظام صرف آمدنی کا ذریعہ بن کر رہ گیا ہے۔
    عدالت میں چیلنج کیے جانے والے اس کیس نے شہری حقوق اور قانونی انصاف کے پہلو کو بھی اجاگر کیا ہے۔ فاروق احمد کے وکیل نے عدالت میں استدعا کی کہ حکام کی جانب سے نصب کیمروں اور گاڑیوں کی رفتار کو مانیٹر کرنے والے ٹریکنگ سسٹم کی غیر جانب دار ماہرین سے مکمل جانچ پڑتال کی جائے۔ یہ قانونی تقاضا نہ صرف بس مالک کے حق میں بلکہ عام شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے بھی اہم ہے۔ شہریوں کا حق ہے کہ وہ اس نظام کی شفافیت اور درستگی کو یقینی بنانے کے لیے عدالت یا متعلقہ حکام سے رجوع کریں۔
    عوامی اعتماد کسی بھی ٹیکنالوجی یا حکومتی پروگرام کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ جب اربوں روپے کی لاگت سے نصب شدہ ای چالان سسٹم میں خامیاں سامنے آتی ہیں، تو یہ نہ صرف عوام کے اعتماد کو متاثر کرتا ہے بلکہ حکومتی مشینری کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف ٹیکنالوجی کی درستگی کو یقینی بنائے بلکہ شفاف طریقے سے شہریوں کو آگاہ کرے کہ یہ سسٹم کس حد تک قابل اعتماد ہے۔
    یہ کیس ایک موقع فراہم کرتا ہے کہ شہر میں نصب ای چالان سسٹم کا مکمل اور شفاف جائزہ لیا جائے۔ غیر جانب دار ماہرین کی ٹیم سسٹم کی ٹیکنالوجی، کیمروں اور ٹریکنگ ڈیوائسز کی درستگی کی جانچ کرے، اور اگر کوئی خامی پائی جائے تو فوری اصلاحات کی جائیں۔ ساتھ ہی عوام کو اس سسٹم کی حدود اور درستگی کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں تاکہ شہری اپنے قانونی حقوق سے آگاہ رہیں اور کسی بھی غلط چالان کی صورت میں مناسب قانونی کارروائی کر سکیں۔
    یہ معاملہ صرف ٹیکنالوجی یا قانونی پہلو تک محدود نہیں، بلکہ یہ عوامی شعور اور ٹریفک نظم کے لیے بھی اہم ہے۔ عوام کو یہ احساس دلایا جانا چاہیے کہ ٹریفک قوانین کی پابندی سب کے لیے ضروری ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی یقینی بنانا لازمی ہے کہ جو جرمانے لگائے جا رہے ہیں وہ درست اور شفاف ہوں۔ شہری اپنی ذمہ داریوں کے ساتھ اپنے حقوق کے لیے بھی آواز اٹھا سکتے ہیں اور کسی بھی شکایتی معاملے میں عدالت یا متعلقہ حکام سے رجوع کر سکتے ہیں۔
    آخرکار، شہر میں نصب اربوں روپے کے ای چالان سسٹم کا یہ معاملہ واضح کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ شفافیت، درستگی اور شہری حقوق کی حفاظت بھی لازمی ہے۔ عدالت میں چیلنج کیے جانے والے اس کیس نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا اربوں روپے کی لاگت سے نصب شدہ نظام حقیقی اور قابل اعتماد ہے یا اس میں خامیاں موجود ہیں جو شہریوں کے حقوق کو متاثر کر رہی ہیں۔
    یہ وقت ہے کہ حکومتی حکام نہ صرف اس سسٹم کی تکنیکی جانچ کریں بلکہ عوام کو بھی اعتماد میں لیں تاکہ شہری یقین رکھ سکیں کہ ان کے خلاف کوئی غلط چالان نہیں جاری کیا جائے گا۔ شفافیت اور درستگی کے بغیر کوئی بھی ٹیکنالوجی صرف پیچیدہ اور متنازعہ مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ عدالت کی مداخلت ایک مثبت اور ضروری قدم ہے جو شہریوں کے حقوق اور ٹریفک نظام کی شفافیت کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
    آخر میں، اربوں روپے کی لاگت سے نصب یہ سسٹم عوامی خدمت کے لیے ہے، نہ کہ شک اور غلط چالان کے لیے۔ شہری، حکومت، اور عدالت سب کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کو عوامی بھروسے کے قابل بنائیں تاکہ شہریوں کا اعتماد بحال ہو اور ٹریفک نظام موثر اور شفاف طریقے سے کام کر سکے۔

  • امریکا و اسرائیل سے جنگ بندی کیلئے ایران کی 6 سخت شرائط سامنے آگئیں

    امریکا و اسرائیل سے جنگ بندی کیلئے ایران کی 6 سخت شرائط سامنے آگئیں

    تہران(پاکستان واچ نیوز) ایران نے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے 6 اہم اسٹریٹجک شرائط پیش کر دی ہیں، جنہیں ایک نئے قانونی اور سکیورٹی فریم ورک کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مختلف علاقائی ممالک اور ثالثوں نے ایران کو جنگ بندی کے حوالے سے تجاویز دی ہیں، جس کے جواب میں ایران نے اپنی شرائط سامنے رکھ دی ہیں۔اہلکار کے مطابق سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ جنگ دوبارہ شروع نہ ہونے کی واضح اور قابلِ عمل ضمانت دی جائے۔ دوسری شرط خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کی بندش ہے، جبکہ تیسری شرط میں جارح قوتوں کو پیچھے ہٹانے اور ایران کو جنگی نقصانات کا ہرجانہ ادا کرنے کا مطالبہ شامل ہے۔چوتھی شرط کے تحت ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام علاقائی محاذوں پر جنگ کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔ پانچویں شرط آبنائے ہرمز کے لیے ایک نیا قانونی نظام نافذ کرنا ہے، جبکہ چھٹی شرط ایران مخالف میڈیا سرگرمیوں کے خلاف قانونی کارروائی اور ان عناصر کو ملک بدر کرنا ہے۔رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ شرائط کن ممالک یا ثالثوں کے ذریعے امریکا اور اسرائیل تک پہنچائی گئی ہیں۔ تاہم ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ سکیورٹی اور سیاسی حلقے ان شرائط کو سنجیدگی سے لینے پر زور دے رہے ہیں۔ایک اور اہلکار کے مطابق ایران پہلے سے طے شدہ حکمت عملی کے تحت تحمل کے ساتھ مرحلہ وار آگے بڑھ رہا ہے۔ ایران نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس نے دشمن کے فضائی دفاعی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور اب اسے فضائی برتری حاصل ہے۔ایرانی حکام کے مطابق موجودہ صورتحال میں فوری جنگ بندی کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں، تاہم ایران اپنی شرائط کے مطابق کسی بھی ممکنہ حل کے لیے تیار ہے۔

  • ٹرمپ کے مذاکرات کے دعوے، تہران کا دوٹوک انکار

    ٹرمپ کے مذاکرات کے دعوے، تہران کا دوٹوک انکار

    تہران (پاکستان واچ نیوز)امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ 25 ویں دن میں داخل ہو گئی ہے، جبکہ ممکنہ امن مذاکرات کے حوالے سے متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور ایک وسیع معاہدہ ممکن ہو سکتا ہے، تاہم ایرانی حکام نے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں جھوٹ اور گمراہ کن بیانیہ قرار دیا ہے۔رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے ایرانی توانائی کے انفراسٹرکچر پر مجوزہ حملوں کو عارضی طور پر پانچ دن کے لیے مؤخر کر دیا ہے۔اس سے قبل انہوں نے ایران کو 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے، بصورت دیگر ایرانی پاور پلانٹس کو تباہ کرنے کی دھمکی دی گئی تھی۔ بعد ازاں اس ڈیڈ لائن میں توسیع کر دی گئی۔ایران نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے اس کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا، جس کے باعث عالمی سطح پر تیل کی ترسیل شدید متاثر ہو رہی ہے۔ ایشیائی ممالک، خصوصاً جنوبی کوریا اور جاپان، اس صورتحال سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ ان کا زیادہ تر تیل اسی راستے سے آتا ہے۔دوسری جانب خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ ایران نے اسرائیل پر مزید میزائل حملے کیے، جبکہ خلیجی ممالک میں ڈرون اور میزائل حملوں کو متعدد بار ناکام بنایا گیا۔ سعودی عرب نے اپنے مشرقی علاقے کی طرف آنے والے تقریباً 20 ڈرونز کو تباہ کیا، جبکہ کویت اور بحرین میں بھی خطرے کے سائرن بارہا بجائے گئے۔لبنان، عراق اور شام میں بھی جھڑپوں میں شدت آ گئی ہے۔ اسرائیل نے بیروت کے جنوبی مضافات پر حملہ کیا، جبکہ امریکا نے عراق کے صوبہ الانبار میں ایران کے حمایت یافتہ گروپ کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا۔ ماہرین کے مطابق عراق اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان ایک ثانوی میدان جنگ بن چکا ہے۔ادھر ایران کے دارالحکومت تہران اور دیگر شہروں میں بڑی تعداد میں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے، جنہوں نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف احتجاج کیا۔ ایرانی قیادت نے اس موقع پر مزاحمت کی طاقت کا پیغام دیا۔امریکا کے اندر بھی اس جنگ پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی تیل اور ایندھن کی قیمتوں کے باعث امریکی معیشت پر دباؤ ہے اور یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ ممکنہ طور پر جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔اس دوران برطانیہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنے فضائی دفاعی نظام بھیجنے کا اعلان کیا ہے تاکہ ایرانی میزائل حملوں کا مقابلہ کیا جا سکے، جبکہ خطے کے ممالک مسلسل کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی اپیل کر رہے ہیں۔

  • اسرائیلی صدر ہرزوگ ایرانی میزائل حملے میں بال بال بچ گئے

    اسرائیلی صدر ہرزوگ ایرانی میزائل حملے میں بال بال بچ گئے

    تل ابیب (پاکستان واچ نیوز)اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ ایرانی میزائل حملے میں محفوظ رہے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق صدر ہرزوگ شمالی اسرائیل میں موجود تھے جب پہاڑی علاقے میں ایک میزائل گرا، اور اسی دوران صدر شمونہ کریات میں نیوز کانفرنس کر رہے تھے۔ایرانی پاسداران انقلاب نے آپریشن وعدہ صادق کی 78 ویں لہر کا آغاز کر دیا ہے۔ ترجمان کے مطابق اس کارروائی کے دوران تل ابیب، ایلات اور ڈیمونا پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے، جبکہ مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ترجمان نے بتایا کہ ایرانی فورسز نے حملوں میں جدید میزائلز جیسے عماد اور قدر استعمال کیے، اور جدید ڈرونز کے ذریعے دشمن کے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔ یہ حملے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اسرائیل-ایران تنازع کی ایک اور تازہ کڑی ہیں۔

  • ندا یاسر کے بولڈ لباس اور وگ پر صارفین کی شدید تنقید

    ندا یاسر کے بولڈ لباس اور وگ پر صارفین کی شدید تنقید

    کراچی (پاکستان واچ نیوز)معروف پاکستانی اداکارہ وٹی وی میزبان ندا یاسر عید پر اپنے بولڈ لباس اور وگ کی وجہ سے شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ ندا یاسر ایک معروف پاکستانی مارننگ شو ہوسٹ ہیں جن کے انسٹاگرام پر 2.4 ملین سے زائد فالوورز ہیں۔وہ تقریباً گزشتہ 19 برس سے نجی ٹی وی پر ’گڈ مارننگ پاکستان‘ کے نام سے مارننگ شو کی میزبانی کرہی ہیں۔ ندا یاسر اپنے انٹرٹینمنٹ اور ڈسکشن پر مبنی پروگرامز کے لیے جانی جاتی ہیں، تاہم وہ اکثر اپنے انداز، بیانات اور لائیو شوز میں غلطیوں کی وجہ سے سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا بھی کرتی ہیں۔حال ہی میں انہوں نے رمضان اور عید ٹرانسمیشنز کی میزبانی کی، جہاں ان کے مختلف لُکس پر خاصی تنقید کی گئی، خصوصاً ان کے بولڈ لباس اور وِگ کے استعمال پر صارفین نے شدید تنقید کی۔ عید کے ایک پروگرام میں ندا یاسر نے سینئر اداکاراؤں کے ساتھ شو ہوسٹ کیا، جہاں انہوں نے سرخ ریشمی لباس کے ساتھ سنہری جیولری پہنی، اس دوران انہوں نے اپنے بالوں میں وگ کا استعمال بھی کیا اور ساتھ میں ٹِکا اور ہیڈ جیولری بھی پہنی۔ندا یاسر کے اس وِگ اور بولڈ عید لُک پر عوام کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔کئی صارفین نے انہیں عمر کے مطابق فیشن نہ اپنانے پر تنقید کا نشانہ بنایا، جب کہ کچھ مداح ان کے بڑے گلے والے لباس سے بھی ناخوش نظر آئے۔ایک صارف نے لکھا ’مجھے تو ندا یاسر پہچان میں ہی نہیں آئیں، وہ بالکل مختلف لگ رہی ہیں‘۔ ایک اور نے کہا کہ ندا یاسر وِگ پہن کر عجیب لگ رہی ہیں۔ایک مداح نے لباس پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ندا یاسر کا ڈیپ نیک ڈریس ٹی وی شو کے لیے مناسب نہیں لگتا۔کچھ صارفین نے عمومی طور پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بہت سی بڑی عمر کی خواتین خود کو کم عمر دکھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

  • ملک بھر میں آج سے موسلادھار بارش اور پہاڑوں پر برفباری کا امکان

    ملک بھر میں آج سے موسلادھار بارش اور پہاڑوں پر برفباری کا امکان

    اسلام آباد:(پاکستان واچ نیوز)محکمہ موسمیات نے آج سے 30 مارچ تک ملک کے بیشتر علاقوں میں تیز ہواؤں اور آندھی کے ساتھ تیز بارشوں کی پیش گوئی کر دی جبکہ چند مقامات پر ژالہ باری کا ابھی امکان ہے۔محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے مطابق ایک مغربی ہواؤں کا سلسلہ 24 مارچ کی شام یا رات کے دوران بلوچستان کے جنوب مغربی علاقوں میں داخل ہوگا جو کہ 27 مارچ کی رات سے شدت اختیار کر سکتا ہے اور یہ سلسلہ 31 مارچ تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔سسٹم کے زیر اثر بلوچستان، خیبر پختونخوا، پنجاب، اسلام آباد، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور سندھ میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔بلوچستان میں پنجگور، تربت، کیچ، آواران، مکران کا ساحلی علاقے، لسبیلہ، خضدار، چاغی، دالبندین، قلات، سبی، کوہلو، بارکھان، نصیر آباد، کوئٹہ، لورالائی، زیارت، چمن، پشین، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، نوشکی، ہرنائی، ژوب اور مستونگ میں 24 مارچ کی شام سے 25 کی رات اور 27 مارچ کی رات سے 29 کی صبح کے دوران تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ وقفے وقفے سے بارش جبکہ بعض مقامات پر موسلادھار بارش کا امکان ہے جبکہ چند مقامات پر ژالہ باری کی توقع ہے۔اسی طرح خیبر پختونخوا کے علاقے چترال، دیر، سوات، کالام، شانگلہ، کوہستان، مالاکنڈ، بونیر، بٹگرام، مانسہرہ، ایبٹ آباد، بالاکوٹ، ہری پور، مردان، نوشہرہ، پشاور، کرم، صوابی، چارسدہ، کوہاٹ، ہنگو، کرک، بنوں، لکی مروت، ٹانک، باجوڑ، مہمند، خیبر، اورکزئی، ڈیرہ اسماعیل خان اور وزیرستان میں 25 کی شام سے 26 مارچ کی صبح تک تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ وقفے وقفے سے بارش جبکہ پہاڑوں پر برفباری کا امکان ہے۔اس کے بعد، 29 سے 30 مارچ کے دوران اکثر مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش اور چند مقامات پر تیز یا موسلادھار بارش جبکہ پہاڑوں پر برفباری کا امکان ہے۔ اس دوران چند مقامات پر ژالہ باری کا امکان ہے۔اسلام آباد سمیت مری، گلیات، راولپنڈی، اٹک، چکوال، جہلم، سرگودھا، میانوالی، فیصل آباد، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، خوشاب، گجرات، گجرانوالہ، حافظ آباد، منڈی بہاءالدین، سیالکوٹ، نارروال، لاہور، اوکاڑہ، قصور، ڈیرہ غازی خان، راجن پور، بھکر، لیہ، ملتان، کوٹ ادو، بہاولپور، ساہیوال، بہاولنگر، رحیم یار خان میں 25 سے 26 مارچ کی صبح تک اور 28 کی شام سے 30 مارچ تک بارش کا امکان ہے جبکہ چند مقامات پر ژالہ باری بھی ہوسکتی ہے۔گلگلت بلتستان کے علاقوں دیامر، استور، غذر، اسکردو، ہنزہ، گلگت، گانچھے، شگر جبکہ آزاد کشیر میں وادی نیلم، مظفر آباد، پونچھ، ہٹیاں، باغ، حویلی، کوٹلی، بھمبر اور میرپور میں 25 کی شام یا رات سے 26 مارچ اور 28 سے 30 مارچ کے دوران تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ وقفے وقفے سے بارش جبکہ پہاڑوں پر برفباری کی توقع ہے۔اس دوران، کشمیر میں چند مقامات پر ژالہ باری اور موسلادھار بارش کا بھی امکان ہے۔سندھ کے شہر کراچی، ٹھٹھہ، بدین، حیدر آباد، سکھر، دادو، کشمور، جیکب آباد اور لاڑکانہ میں 25 سے 26 اور 28 سے 29 مارچ کے دوران تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے۔اس دوران، صوبے کے چند مقامات پر ژالہ باری کا بھی امکان ہے۔بالائی خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر میں چند مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ ہو سکتی ہے جبکہ شدید بارشوں کے باعث بلوچستان میں 25 سے 28 مارچ کے دوران فلیش فلڈنگ کا خدشہ ہے جبکہ خیبر پختونخوا کے مقامی ندی نالوں میں فلیش فلڈنگ کا خطرہ ہے۔