Blog

  • کراچی؛ عید سے قبل گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

    کراچی؛ عید سے قبل گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

    کراچی:(پاکستان واچ نیوز)محکمہ موسمیات نے شہر میں بدھ اورجمعرات کو گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ چند مقامات پرموسلادھاربارش ہوسکتی ہے اور بارش کے دوران معمول سے تیزہوائیں چل سکتی ہیں۔محکمہ موسمیات ارلی وارننگ کی جانب سے جاری الرٹ کے مطابق بدھ اورجمعرات کو شہر میں مطلع ابرآلود رہنے اور گرج چمک کےساتھ بارش کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات نے بتایا کہ اس دوران کہیں کہیں موسلادھاربارش بھی متوقع ہے، بارش کے دوران بعض علاقوں میں تیز ہوائیں چل سکتی ہیں، جس سے کمزور انفرا اسٹرکچر کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔مزید بتایا گیا کہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 33 سے 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہنے کا امکان ہے جبکہ کم سے کم درجہ حرارت 21 سے 23 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہے گا، ہوا میں نمی کا تناسب 75 سے 85 فیصد تک رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔محکمہ موسمیات نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں اور کسی بھی ہنگامی صورت حال میں متعلقہ اداروں سے رابطہ کریں۔

  • مشرق وسطیٰ میں جنگ: پی آئی اے کی فجیرہ کے لیے پروازیں معطل

    مشرق وسطیٰ میں جنگ: پی آئی اے کی فجیرہ کے لیے پروازیں معطل

    اسلام آباد:(پاکستان واچ نیوز)پی آئی اے نے خطے کی صورت حال کے پیش نظر فجیرہ کے لیے اپنی پروازیں معطل کرنے کا اعلان کردیا۔پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق خلیجی ممالک میں سیکیورٹی کی صورتحال کے پیشِ نظر ایئر لائن نے اگلے 48 گھنٹے کے لیے فجیرہ کے لیے اپنی پروازیں فوری طور پر معطل کر دی ہیں۔ترجمان پی آئی اے کا مزید کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے شہر العین کے لیے ایئر لائن کی پروازیں حسب معمول جاری رہیں گی۔ وضاحت کرتے ہوئے انہوں نےبتایا کہ فی الحال متحدہ عرب امارات کے لیے پروازیں صرف العین کے لیے ہی آپریٹ کی جائیں گی۔

  • ایران ،امریکا ،اسرائیل جنگ،ٹرمپ کو خوش کرنا کیا جرمنی کی مجبوری ہے؟تحریر سرور غزالی

    ایران ،امریکا ،اسرائیل جنگ،ٹرمپ کو خوش کرنا کیا جرمنی کی مجبوری ہے؟تحریر سرور غزالی

    برطانوی وزیر اعظم نے اپنے تعاون کا یقین دلائے بغیر گومگو رویہ اختیار کرتے ہوئے ایرانی حکومت کے غیر جمہوری رویے پر تشویش ظاہر کی
    تیل کی بلند قیمتیں، گیس کی عدم دستیابی یورپ کے لیے ایک بہت سخت امتحان ہے۔ جس سے گزرنے کے لیے برطانیہ فرانس اور جرمنی کسی حد تک بھی جا سکتے ہیں

    جنگ ہمیشہ ہی قتل و غارت گری اور انانیت کی تسکین کے علاوہ کچھ نہیں ہوا کرتی۔ اور جنگ کے بعد کے مقاصد جس پر آج کل یورپ میں بحث چھڑ گئی ہے، میرے نزدیک اور کچھ نہیں ہوتے ما سوائے اس کے کہ لوٹ مار اور انسانوں کی بے حرمتی کی جائے۔ جنگ کیے جانے کا واحد مقصد دشمن کو زیر کر کے اس سے مال غنیمت چھیننا ہوتا ہے۔ یہ جنگ مال غنیمت کے حصول کے لیے ہی کی جاتی ہیں یہ الگ بات ہے کہ اس میں ہر دور میں مال غنیمت کا تعین مختلف ہوا کرتا ہے۔
    جب جنگ دو فرقوں میں چھڑ جائے اور یہ جنگ حق و باطل کی ہو جس میں ایک حملہ آور ہو اور دوسرا اپنا دفاع کرنے والا ہو، تو پھر اس میں غیر جانبدار ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا اور ایسی غیر جانبداری بھی درحقیقت حملہ آور کی پشت پناہی ہوتی ہے کہ جس میں تیسرا فرد زبان سے بھی حملہ آور کو حملہ آور کہنے سے گریز کرے۔
    موجودہ امریکی اسرائیلی جاریت جو ایران کے خلاف جاری ہے اس میں غیر جانبدار نہیں رہا جا سکتا کم از کم غیر جانبدارانہ بیانیہ تو بالکل ہی اختیار نہیں کیا جا سکتا چونکہ یہ صریحا” بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق کے قوانین اور بین الاقوامی سرحدوں کے تحفظ کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ کسی بھی آزادی خودمختار ملک کی خودمختاری پر حملہ ہے، جو اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے کیا گیا ہے۔ یہ بات ایسی صورت میں اور بھی زیادہ واضح اور قابل مذمت ہے کہ ایک ایسے موقع پر جب کہ دونوں فریقین کے مابین مذاکرات چل رہے تھے اور یہ بات بھی خود صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اس سے قبل کے بیان میں کہہ دیا تھا کہ ایران پر پچھلے حملے کے بعد اس کی ایٹمی افزدگی کی صلاحیت ختم ہو چکی ہے۔ ان ساری صورتحال میں ایران پر جنگ مسلط کیا جانا اور اس کی یہ توجیع پیش کرنا کہ ایران کے ایٹم بم سے دنیا کو خطرہ ہے، ایک ایسا جھوٹ ہے جس پر دنیا میں کسی کو بھی یقین نہیں آیا ہے۔ یورپی ممالک کے جو سربراہان اس کھلی جھوٹی کہانی پر یقین کرتے ہوئے ایران کو متنبہ کر رہے ہیں کہ وہ فوری طور پر اپنے جوابی حملے بند کر دے وہ یقینا آئینے میں اپنا منہ نہیں دیکھ رہے ہوں گے۔ ایک دوسرا بہانہ اس جنگ کو شروع کرنے کے سلسلے میں جو گھڑا گیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ ایران کی حکومت اپنے عوام کی آزادانہ رائے دہی کے حقوق سلب کر رہی ہے اور انہیں عوامی احتجاج پر سخت سزائیں دی جا رہی ہیں۔ یعنی ایران میں بہتر جمہوری حکومت کی ضرورت کو پیش نظر رکھ کر ایرانی حکومت کی تبدیلی کی کوشش کو وجہ جنگ بنایا جا رہا ہے تو یہ بات جتنی درست ہے کہ ایران کو یقینی طور پر ایک آئینی جمہوری آزادانہ حقوق پر یقین رکھنے والی حکومت کی ضرورت ہے تو موجودہ صورتحال میں اس کی اس سے بھی زیادہ شدید ضرورت اسرائیل اور امریکہ کے شہریوں کو ہے چونکہ ایرانی معاملات کے اثرات صرف اندرونی ہیں جبکہ اسرائیل اور امریکہ کے اندرونی معاملات کے اثرات ساری دنیا پر پھیلتے نظر آرہے ہیں ان کی ڈکٹیٹرانہ حکومت سے ساری دنیا کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
    اور اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ایرانی عوام پر اس طرح بے تحاشہ بمباری اس ملک کے عوام کو کسی بھی طرح کا فائدہ نہیں پہنچا سکتی بلکہ ان کی زندگی کو مزید اجیرن کیا جا رہا ہے اور اسے جنگ کی وجہ بتانا دراصل انتہا درجے کی غیر ذمہ دارانہ، بہیمانہ عمل ہے۔
    ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جنگی کارروائی کے آغاز سے قبل جس طرح سے دنیا کے بڑے بڑے سیاستدان، سربراہ حکومت اور اہم شخصیات ایپسٹین فائیلز کے اسکینڈلز سے اپنی شہرت گنوا رہے تھے اور جس طرح جنگ چھڑنے کے بعد ساری توجہ جنگ کی طرف مبذول ہوکر ایپسٹین اسکینڈلز سے ہٹ گئی ہے۔ اس سے عوام میں یہ شبہ بھی سر اٹھارہا ہے کہ یہ جنگ دراصل اس اسکینڈلز کے مضر اثرات کو کم کرنے کے لیے ہی شروع ہوئی ہے۔
    اس جنگ کے بارے میں یورپین یونین میں بھی آپس میں اختلافات پیدا ہو گئے۔ جرمنی کے چانسلر میرز مکمل طریقے سے اس جنگ کی حمایت کر رہے ہیں انہوں نے اپنے ایک بیان میں بین الاقوامی ملکی سا لمیت کے حقوق کے بارے میں بھی ایک ایسا متنازعہ بیان دیا ہے کہ جس سے ایران کی سورنٹی، خودمختاری پر ضرب لگی ہے انہوں نے اسرائیلی امریکی جارحیت کا ذکر کیے بغیر ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے دفاع میں کیے جانے والے حملے کو بند کر دیں اس کے علاوہ انہوں نے اس جنگ کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ سے ایک ملاقات میں اپنے اس حتمی تعاون کا یقین دلایا ہے اور یہ کہا ہے کہ وہ اس امریکی جنگ کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ جرمنی کے شہر رمسٹائن بھی موجود امریکی اڈے کو بھرپور طریقے سے استعمال کرنے کی امریکیوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔
    جب سے جنگ کے آغاز پر ہی اسرائیلی کا سرکاری صدارتی ہوائی جہاز برلن کے ایئرپورٹ پر اترا ہے تو اسرائیلی صدر نیتن یاہو کے قیام اور ان کی صحت کے متعلق بھی چہ میگوئیاں ہورہی ہیں۔ اسرائیلی سرکاری پریس کانفرنس اس سلسلے میں مکمل خاموشی اختیار کرنا اور اسرائیلی صدر کا خود پردہ سیمی پر نہ آنا اور ان کے کسی بھی بیان کا سامنے نہ آنا بھی شکوک پیدا کررہے ہیں۔ سرکاری طور پر صرف یہ اعلان کیا گیا کہ طیارے کو جنگ سے محفوظ رکھنے کے اقدامات کے طور پر برلن لایا گیا ہے۔ جوکہ ایک مبہم سی توجیع ہے۔ جرمنی کا اسرائیلی اور امریکی جارحیت کے اقدام کا اس طرح سے مکمل اور بھرپور ساتھ دینا دراصل یہودی قوم کے ساتھ جرمنی کا عالمی جنگ دوم کے دوران ناروا سلوک کی تلافی ایک وجہ ہے جب کہ دوسری وجہ ڈونلڈ ٹرمپ کو خوش کرنے کے سوا کچھ نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تیسری وجہ جرمنی کی بگڑتی معاشی صورتحال میں جرمنی کی اپنی اسلحے کی پیداوار کو بھی بڑھانے کی کو شش ہے۔ امریکی اسرائیلی جنگ سے خود کو الگ کرکے برطانوی وزیراعظم اسٹامر نے کھل کر ٹرمپ سے ناراضگی مول لی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ برطانیہ از خود یہ فیصلہ نہیں کرے گا کہ جنگ میں اس کو بھی کودنا ہے۔ وزیر اعظم نے اپنے تعاون کا یقین دلائے بغیر جنگ کے بارے میں گومگو رویہ اختیار کرتے ہوئے ایرانی حکومت کی غیر جمہوری رویے اور عوامی قید و بند اور آزادی اظہار رائے کی پابندی پر تشویش ظاہر کی ہے۔
    فرانس کا بھی یہی حال ہے ایک طرف جنگ کو غیر ضروری قرار دے کر اس کی ساری ذمہ داری ایران پر تھوپ دی ہے۔ یہ دونوں ممالک کسی وقت بھی اس جنگ میں ایران کے حلیف بن سکتے ہیں خاص کر جب اس مشرق وسطی کے اڈے غیر محفوظ ہونے جارہا ہوں۔
    ناروے نے بھی جنگ کی مخالفت کی ہے۔ سب واضح اور مثبت رویہ جو سامنے آیا ہے وہ ہسپانوی حکومت کا۔ اس کے صدر سانچیز نے دوٹوک لفظوں میں جنگ کی مخالفت کی ہے۔ اور اپنے ملک میں قائم امریکی اڈوں کے استعمال کرنے پر پابندی بھی لگا دی ہے۔ ڈونلڈ
    ٹرمپ نے اس بات پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔
    سوئٹزرلینڈ کا بھی کم و بیش یہ رویہ ہے کہ یہ جنگ غیر انسانی، غیر قانونی اور عالمی سلامتی کونسل سے مشورہ کیے بغیر شروع ہوئی ہے۔
    جرمنی کے چانسلر میئرز کا ڈونلڈ ٹرمپ سے ملنا ہو یا مکرون کا بیان یورپی یونین اور یورپ کی اہمیت ڈونلڈٹرمپ کے یورپی ممالک سے اختلافات اور خاص کر یوکرین کی جنگ کے معاملے پر نا اتفاقی نے یورپ کی اہمیت گلوبل پولیٹکس میں بہت کم کر دی ہے۔ دوسری طرف روس سے جنگ اور اس کے نتیجے میں تجارتی بندش تیل و گیس کی عدم دستیابی کی موجودہ صورتحال میں ایران سے جنگ کی صورت میں آبنائے ہرمز کی بندش اور اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں کا آسمان سے باتیں کرنا۔ گیس کی عدم دستیابی یورپ کے لیے ایک بہت سخت امتحان اور آزمائش ہے۔ جس سے گزرنے کے لیے برطانیہ فرانس اور جرمنی کسی حد تک بھی جا سکتے ہیں۔ ان سب کا نتیجہ مگر بھاری تباہی کی صورت میں ہی ظاہر ہوگا۔ آنے والے وقتوں میں ہی اس بات کا اندازہ ہوگا کہ اس جنگ کا رخ کس طرف مڑتا ہے اور کیا کیا تباہیاں آتی ہیں۔

  • کیا کتاب کی اہمیت کم ہو گئی ہے؟نشید آفاقی

    کیا کتاب کی اہمیت کم ہو گئی ہے؟نشید آفاقی

    آج کا دور رفتار کا دور ہے۔ معلومات کی رفتار، رابطوں کی رفتار اور زندگی کے معمولات کی رفتار پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز ہو چکی ہے۔ موبائل فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے انسان کو ایک ایسی دنیا میں پہنچا دیا ہے جہاں ہر خبر، ہر خیال اور ہر تصویر چند سیکنڈ میں سامنے آ جاتی ہے۔ اس تیز رفتار دور میں ایک سوال بار بار ذہن میں آتا ہے کہ کیا کتاب کی اہمیت کم ہو گئی ہے؟ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کتاب اب انسان کی زندگی میں پہلے جیسی جگہ نہیں رکھتی، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ کتاب آج بھی وہی طاقت رکھتی ہے جو صدیوں پہلے رکھتی تھی، بلکہ ٹیکنالوجی کے اس ہجوم میں اس کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔
    کتاب صرف معلومات کا ذریعہ نہیں ہوتی بلکہ یہ انسان کی سوچ کو تشکیل دیتی ہے۔ ایک اچھی کتاب قاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے، اسے نئے زاویوں سے دنیا کو دیکھنے کا موقع دیتی ہے اور اس کی ذہنی صلاحیتوں کو وسعت دیتی ہے۔ سوشل میڈیا یا مختصر ویڈیوز انسان کو چند لمحوں کی معلومات تو دے سکتی ہیں، لیکن وہ گہرائی نہیں دے سکتیں جو ایک کتاب دیتی ہے۔ کتاب پڑھنے والا انسان زیادہ صبر والا، زیادہ غور و فکر کرنے والا اور زیادہ وسیع النظر ہوتا ہے۔ اسی لیے دنیا کی بڑی شخصیات کی زندگیوں کو دیکھا جائے تو ان میں ایک مشترک بات نظر آتی ہے کہ وہ سب مطالعہ کے شوقین تھے۔
    بدقسمتی سے پاکستان میں کتابوں سے دوری ایک سنجیدہ مسئلہ بنتا جا رہاہے۔ نئی نسل کا زیادہ وقت موبائل فون، ویڈیوز اور سوشل میڈیا پر گزرتا ہے۔ کتاب ہاتھ میں لینا اب بہت سے نوجوانوں کے لیے ایک مشکل اور بورنگ کام بن گیا ہے۔ تعلیمی اداروں میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں۔ اکثر طلبہ صرف امتحان پاس کرنے کے لیے نصابی کتابیں پڑھتے ہیں، جبکہ غیر نصابی مطالعہ کی روایت کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نوجوان معلومات تو حاصل کر لیتے ہیں لیکن گہری سوچ اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت کمزور رہ جاتی ہے۔
    کتابوں سے دوری کا اثر صرف تعلیم تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ معاشرے کی فکری سطح پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ جب ایک معاشرے میں مطالعہ کا رجحان کم ہو جائے تو وہاں تخلیقی سوچ بھی کمزور پڑنے لگتی ہے۔ نئی سوچ، نئے خیالات اور نئی ایجادات کا تعلق براہ راست مطالعہ اور تحقیق سے ہوتا ہے۔ اگر نوجوان نسل کتابوں سے دور ہو جائے تو معاشرہ آہستہ آہستہ فکری جمود کا شکار ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ قومیں آج بھی کتاب اور مطالعہ کو بہت اہمیت دیتی ہیں۔
    یہ بھی حقیقت ہے کہ کتابی شوق خود بخود پیدا نہیں ہوتا بلکہ اسے پیدا کرنا پڑتا ہے۔ اس میں سب سے بڑا کردار گھر اور تعلیمی اداروں کا ہوتا ہے۔ اگر بچوں کو بچپن سے ہی کہانیاں سنائی جائیں، انہیں رنگین اور دلچسپ کتابیں دی جائیں اور گھر میں کتاب پڑھنے کا ماحول ہو تو ان کے اندر مطالعہ کی عادت پیدا ہو سکتی ہے۔ والدین اگر خود کتاب پڑھتے ہوں تو بچے بھی اس عادت کو اپنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی طرح اسکولوں میں لائبریریوں کو فعال بنانا اور طلبہ کو نصابی کتابوں کے علاوہ بھی مطالعہ کی ترغیب دینا ضروری ہے۔
    آج کے دور میں یہ بھی ضروری ہے کہ کتاب کو جدید طریقوں سے نوجوانوں تک پہنچایا جائے۔ اگرچہ روایتی کتاب کی اپنی ایک خوشبو اور کشش ہوتی ہے، لیکن ای بک اور آڈیو بک جیسی سہولیات بھی مطالعہ کے فروغ میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ ٹیکنالوجی کو کتاب کا دشمن بنانے کے بجائے اسے کتاب کا ساتھی بنایا جا سکتا ہے۔ اگر نوجوان موبائل فون پر گھنٹوں وقت گزار سکتے ہیں تو اسی موبائل پر اچھی کتابیں پڑھنے کی عادت بھی پیدا کی جا سکتی ہے۔
    مغربی ممالک کی مثال دیکھیں تو وہاں ٹیکنالوجی ہم سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ ہے، لیکن اس کے باوجود کتاب کا شوق ختم نہیں ہوا۔ یورپ اور امریکہ کے شہروں میں عوامی لائبریریاں آج بھی لوگوں سے بھری رہتی ہیں۔ بچوں کے لیے خصوصی ریڈنگ پروگرام ہوتے ہیں، اسکولوں میں کتاب پڑھنے کے مقابلے منعقد کیے جاتے ہیں اور والدین بچوں کو چھوٹی عمر سے کہانیاں سناتے ہیں۔ وہاں مطالعہ کو صرف تعلیم کا حصہ نہیں بلکہ زندگی کی ایک خوشگوار سرگرمی سمجھا جاتا ہے۔
    مغرب میں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ مصنفین اور کتابوں کو بہت احترام دیا جاتا ہے۔ نئی کتاب شائع ہونے پر تقریبات منعقد ہوتی ہیں، مصنفین کے ساتھ ملاقات کے پروگرام ہوتے ہیں اور لوگ شوق سے کتابیں خریدتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں کتابی صنعت بھی بہت مضبوط ہے اور نوجوان نسل میں مطالعہ کی عادت برقرار ہے۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں لائبریریاں کم ہوتی جا رہی ہیں اور کتاب خریدنے کا رجحان بھی محدود ہوتا جا رہا ہے۔
    اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نئی نسل زیادہ باشعور، تخلیقی اور باصلاحیت ہو تو ہمیں انہیں کتاب سے جوڑنا ہوگا۔ مطالعہ صرف امتحان پاس کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ انسان کی شخصیت بنانے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ کتاب انسان کو وہ بصیرت دیتی ہے جو مختصر معلومات یا سوشل میڈیا فراہم نہیں کر سکتے۔
    حقیقت یہ ہے کہ کتابیں صرف کاغذ پر لکھے ہوئے الفاظ نہیں بلکہ یہ خیالات، تجربات اور دانش کا خزانہ ہوتی ہیں۔ ایک اچھی کتاب انسان کے ذہن میں ایسے سوالات پیدا کرتی ہے جو اسے بہتر انسان بننے کی طرف لے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کہا جاتا ہے کہ کتابیں انسان کی سوچ بدل سکتی ہیں۔
    ٹیکنالوجی کے اس دور میں بھی اگر کوئی چیز انسان کو گہرائی سے سوچنے، سمجھنے اور اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنے کی طاقت دیتی ہے تو وہ کتاب ہی ہے۔ اگر ہم اپنی نئی نسل کو کتاب سے جوڑنے میں کامیاب ہو جائیں تو نہ صرف ان کی سوچ وسیع ہوگی بلکہ ہمارا معاشرہ بھی فکری طور پر زیادہ مضبوط اور روشن ہو سکتا ہے۔ یہی وہ سرمایہ ہے جو کسی بھی قوم کے مستقبل کو سنوار سکتا ہے۔

  • جنگ کے سائے میں عالمی سیاست اور پاکستان کی متوازن پالیسی…شیخ راشد عالم

    جنگ کے سائے میں عالمی سیاست اور پاکستان کی متوازن پالیسی…شیخ راشد عالم

    دنیا اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں عالمی سیاست کی سمت تیزی سے بدل رہی ہے اور طاقت کے توازن میں نئی تبدیلیاں جنم لے رہی ہیں۔ گزشتہ چند برسوں سے بڑی طاقتوں کے درمیان کشمکش بڑھتی جا رہی تھی، مگر اب حالات اس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں صرف کشیدگی نہیں بلکہ حقیقی جنگ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تباہی عالمی نظام کو متاثر کر رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تصادم نے نہ صرف اس خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک نئی بے چینی کو جنم دیا ہے۔ جنگ ہمیشہ کشیدگی کے بعد آتی ہے، لیکن جب جنگ شروع ہو جائے تو اس کے اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے خطے اور عالمی نظام کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔
    مشرقِ وسطیٰ کی سرزمین گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی سیاست کا مرکز رہی ہے، مگر حالیہ جنگی صورتحال نے اس خطے کو ایک بار پھر شدید بحران کی طرف دھکیل دیا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان پرانے تنازعات اب کھلے تصادم کی صورت اختیار کر چکے ہیں جبکہ امریکہ کی براہ راست یا بالواسطہ شمولیت نے اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ جنگ کی آگ جب بھڑکتی ہے تو اس کے شعلے صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ انسانی جانوں، معیشتوں اور پورے معاشروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری حملوں، جوابی کارروائیوں اور عسکری کشیدگی نے لاکھوں لوگوں کو غیر یقینی مستقبل سے دوچار کر دیا ہے اور پورے خطے میں خوف اور بے یقینی کی فضا پیدا کر دی ہے۔
    جنگ کے اثرات کا سب سے بڑا بوجھ عام انسان اٹھاتا ہے۔ جب شہر کھنڈر بن جاتے ہیں، معیشتیں کمزور پڑ جاتی ہیں اور لاکھوں لوگ بے گھر ہو جاتے ہیں تو یہ صرف ایک خطے کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ ایک عالمی انسانی بحران کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ توانائی کی عالمی منڈی بھی اس صورتحال سے متاثر ہوتی ہے کیونکہ مشرقِ وسطیٰ دنیا کے اہم ترین تیل اور گیس کے ذخائر کا مرکز ہے۔ جیسے ہی جنگی صورتحال شدت اختیار کرتی ہے، عالمی منڈیوں میں بے چینی بڑھ جاتی ہے اور اس کے اثرات دور دراز ممالک تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں اس خطے میں ہونے والی ہر پیش رفت کو انتہائی غور سے دیکھ رہی ہیں۔
    امریکہ اور اسرائیل کے درمیان قریبی دفاعی تعاون ایک طویل عرصے سے قائم ہے اور اس کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال ہمیشہ عالمی توجہ کا مرکز رہی ہے۔ دوسری طرف ایران اپنی علاقائی پالیسیوں اور دفاعی صلاحیتوں کے ذریعے خود کو ایک اہم طاقت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ جب ان قوتوں کے درمیان براہ راست تصادم یا جنگی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے مبصرین اس خدشے کا اظہار کرتے ہیں کہ اگر یہ جنگ مزید پھیلتی ہے تو اس کے اثرات عالمی سطح پر بھی گہرے ہو سکتے ہیں۔
    ایسے حالات میں بہت سے ممالک کے لیے خارجہ پالیسی کے فیصلے انتہائی حساس ہو جاتے ہیں۔ کچھ ممالک واضح طور پر کسی ایک فریق کی حمایت کرتے ہیں جبکہ بعض ممالک ایسی حکمت عملی اختیار کرتے ہیں جو توازن اور اعتدال پر مبنی ہوتی ہے۔ پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جو عالمی سیاست کے پیچیدہ ماحول میں ایک متوازن اور ذمہ دارانہ پالیسی پر یقین رکھتے ہیں۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول یہی رہا ہے کہ علاقائی اور عالمی مسائل کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے سفارت کاری اور مکالمے کے ذریعے تلاش کیا جائے۔
    پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع اسے ایک خاص اہمیت فراہم کرتا ہے۔ جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان واقع ہونے کی وجہ سے پاکستان مختلف خطوں کے درمیان رابطے کا قدرتی مرکز بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ اس بات پر زور دیتی رہی ہے کہ خطے میں استحکام اور تعاون کو فروغ دیا جائے۔ جنگ اور تصادم کے ماحول میں بھی پاکستان نے ہمیشہ امن، مکالمے اور سفارت کاری کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔
    پاکستان کے ایران کے ساتھ تاریخی اور جغرافیائی تعلقات موجود ہیں جبکہ خلیجی ممالک کے ساتھ بھی اس کے قریبی روابط ہیں۔ دوسری طرف پاکستان عالمی برادری کے ساتھ اپنے تعلقات کو بھی متوازن انداز میں برقرار رکھتا ہے۔ یہی متوازن پالیسی پاکستان کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ مختلف عالمی اور علاقائی قوتوں کے ساتھ مثبت روابط قائم رکھ سکے۔ اس حکمت عملی کے ذریعے پاکستان نہ صرف اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرتا ہے بلکہ عالمی سطح پر ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر بھی ابھرتا ہے۔
    یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ جنگیں ہمیشہ طاقت کے توازن کو تبدیل کر دیتی ہیں۔ جب بھی کسی خطے میں طویل جنگ ہوتی ہے تو اس کے نتیجے میں سیاسی اتحاد، معاشی ترجیحات اور سفارتی تعلقات بھی بدل جاتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال بھی اسی طرح کے اثرات پیدا کر رہی ہے۔ بعض ممالک اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کر رہے ہیں جبکہ عالمی طاقتیں خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے نئی حکمت عملیاں ترتیب دے رہی ہیں۔
    ان تمام تبدیلیوں کے درمیان پاکستان کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی میں توازن اور دانشمندی کو برقرار رکھے۔ عالمی سیاست کے اس غیر یقینی ماحول میں وہی ممالک کامیاب ہوتے ہیں جو جذبات کے بجائے حکمت اور بصیرت کے ساتھ فیصلے کرتے ہیں۔ پاکستان نے ماضی میں بھی مشکل علاقائی حالات کے باوجود اپنے مفادات کا تحفظ کیا ہے اور عالمی برادری کے ساتھ مثبت تعلقات کو برقرار رکھا ہے۔
    دنیا اس وقت جس جنگی اور سیاسی ہلچل سے گزر رہی ہے اس میں یہ بات پہلے سے زیادہ واضح ہو گئی ہے کہ طاقت کے استعمال کے ذریعے پائیدار امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔ حقیقی استحکام صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب ممالک ایک دوسرے کے ساتھ مکالمہ، تعاون اور سفارت کاری کو فروغ دیں۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی اسی اصول کی عکاسی کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر امن اور استحکام کے لیے اپنی آواز بلند کرتا رہا ہے۔
    مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگی صورتحال نے دنیا کو ایک بار پھر یہ یاد دلایا ہے کہ جنگ کا انجام ہمیشہ تباہی اور عدم استحکام کی صورت میں نکلتا ہے۔ ایسے میں پاکستان جیسے ممالک کا کردار مزید اہم ہو جاتا ہے جو توازن، اعتدال اور امن کے پیغام کو آگے بڑھاتے ہیں۔ اگر عالمی برادری دانشمندی اور دور اندیشی کا مظاہرہ کرے تو موجودہ بحران کو ایک بڑے عالمی تصادم میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔
    یہی وہ لمحہ ہے جب دنیا کو طاقت کے بجائے عقل اور سفارت کاری کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی اسی سوچ کی نمائندگی کرتی ہے اور یہی حکمت عملی مستقبل میں بھی پاکستان کو عالمی سیاست میں ایک ذمہ دار اور مثبت کردار ادا کرنے کے قابل بنا سکتی ہے۔

  • ایران نے اسرائیل اور امریکی اہداف پر بیلسٹک میزائل داغ دیے

    ایران نے اسرائیل اور امریکی اہداف پر بیلسٹک میزائل داغ دیے

    تہران (پاکستان واچ نیوز)ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیلی اور امریکی اہداف پر میزائل حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق یہ کارروائی ’آپریشن وعدہ صادق 4‘ کے تحت کی گئی۔آئی آر جی سی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ حملوں کی یہ 57 ویں لہر ہے، جس میں مختلف قسم کے بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے۔ بیان کے مطابق ان حملوں کو ’یا سید الساجدین علیہ السلام‘ کے نام سے منسوب کیا گیا۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ حملوں میں مقبوضہ علاقوں کے اہم مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں کمانڈ اور کنٹرول سینٹرز، میزائل دفاعی نظام اور مواصلاتی تنصیبات شامل ہیں۔ ان کارروائیوں میں خیبر شکن، عماد اور قدر میزائل استعمال کیے گئے۔بیان کے مطابق ایران نے قطر میں واقع العدید ایئر بیس کو بھی نشانہ بنایا، جہاں امریکی افواج موجود ہیں۔ اس حملے میں ذوالفقار اور قیام درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے ساتھ ڈرونز بھی استعمال کیے گئے۔تاحال ان حملوں کے نقصانات یا جانی نقصان سے متعلق آزاد ذرائع سے کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی، جبکہ متعلقہ ممالک کی جانب سے بھی فوری ردِعمل جاری نہیں کیا گیا۔

  • بغداد میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون اور راکٹ حملوں کی بارش

    بغداد میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون اور راکٹ حملوں کی بارش

    بغداد (پاکستان واچ نیوز)امریکی سفارتخانہ بغداد کو ڈرون اور راکٹ حملوں کی شدید لہر کا نشانہ بنایا گیا ہے، جسے حالیہ عرصے کا سب سے بڑا اور شدید حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔غیر ملکی خبر رساں اداروں اور فرانسیسی پریس ایجنسی کے مطابق عراقی سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ حملہ اتنا شدید تھا کہ اسے حالیہ حملوں کے آغاز کے بعد سب سے بڑا حملہ سمجھا جا رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق حملوں سے چند گھنٹے قبل ہی امریکہ کے سفارتخانے نے عراق میں موجود اپنے شہریوں کے لیے سکیورٹی الرٹ جاری کیا تھا۔الرٹ میں خبردار کیا گیا تھا کہ ایران سے منسلک عسکریت پسند گروہ بار بار انٹرنیشنل زون بغداد کو نشانہ بنا رہے ہیں۔تاحال حملوں میں جانی یا مالی نقصان کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔

  • کراچی میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور ژالہ باری کب ہو گی؟

    کراچی میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور ژالہ باری کب ہو گی؟

    کراچی:(پاکستان واچ نیوز)شہر قائد میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور ژالہ باری کے حوالے سے محمکمہ موسمیات کی اہم پیشگوئی سامنے آ گئی ہے۔محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری الرٹ کے مطابق بدھ کو شہر میں گرج چمک کے ساتھ بارش اورژالہ باری کا امکان ہے۔پیشگوئی کے تحت مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ آج سے ملک کے مغربی علاقوں میں داخل ہوگا،جس کے اثرات سندھ کے مختلف اضلاع میں بھی محسوس کیے جائیں گے۔
    اعلامیے کے مطابق جامشورو، حیدرآباد، ٹھٹھہ، سجاول، بدین، مٹیاری، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہیار، عمرکوٹ، تھرپارکر، سانگھڑ، میرپورخاص، نوشہروفیروز، شہید بینظیرآباد، دادو میں بھی تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش جبکہ بعض مقامات پر ژالہ باری کا بھی امکان ہے۔
    اسی طرح لاڑکانہ، قمبر شہدادکوٹ، شکارپور، جیکب آباد، کشمور، گھوٹکی اور سکھر میں 18 اور 19 مارچ کے دوران وقفے وقفے سے آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔
    محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ اس دوران بعض علاقوں میں آسمانی بجلی گرنے کے واقعات بھی پیش آسکتے ہیں۔
    کسانوں کو موجودہ موسمی صورتحال کے مطابق اپنی فصلوں کے تحفظ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
    محکمہ موسمیات کے مطابق پیر کو شہر میں بلوچستان کی شمال مغربی سمت کی ہوائیں چلنے کے سبب گرم وخشک موسم ریکارڈ ہوا،دوپہر کے وقت گرم ہواوں کے تھپیڑے چلے،جس کے نتیجے میں گرمی محسوس کی گئی۔محکمہ موسمیات کے مطابق زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ ہوا میں نمی کا تناسب 17 فیصد رہا۔

  • آبنائے ہرمز، ٹرمپ کو اتحادیوں سے تعاون نہ کرنے کا شکوہ

    آبنائے ہرمز، ٹرمپ کو اتحادیوں سے تعاون نہ کرنے کا شکوہ

    واشنگٹن (پاکستان واچ نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز پر بارودی سرنگیں بچھانے کے بیان پر یوٹرن لیتے ہوئے آبی گزرگاہ کو کھولنے کیلیے چین، جاپان اور جنوبی کوریا سے مدد مانگ لی۔
    امریکی صدر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ایران میں اب تک 7 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا، حملوں میں زیادہ تر فوجی اور کمرشل اہداف کو نشانہ بنایا گیا اور ان کارروائیوں نے ایران کی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
    انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اتحادی کے علاوہ باقی ممالک ابنائے ہرمز کھلونے میں ہماری مدد کریں کیونکہ امریکا کا ایک فیصد تیل بھی آبنائے ہرمز سے نہیں آتا بلکہ دیگر ممالک آبی گزر گاہ کی بندش سے پریشان ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ امریکی فوج نے ایران کے تمام بارودی سرنگیں بچھانے والے جہاز تباہ کر دیے، ایرانی بحریہ کی مائن بچھانے کی صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا اور ہمیں اب تک کوئی تصدیق نہیں کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھائی گئی ہیں۔
    صدر ٹرمپ نے کہا کہ دیگر ممالک آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے اپنے بحری جہاز بھیجیں، جو ممالک آبنائے ہرمز پر انحصار کرتے ہیں انہیں خود اقدام کرنا ہوگا، آبنائے ہرمز سے فائدہ اٹھانے والے ممالک کو اس کے دفاع میں کردار ادا کرنا چاہیے۔

  • کفایت شعاری مہم سے بچنے والے 23 ارب سے موٹر سائیکل اور رکشا کو سبسڈی دینے کا فیصلہ

    کفایت شعاری مہم سے بچنے والے 23 ارب سے موٹر سائیکل اور رکشا کو سبسڈی دینے کا فیصلہ

    اسلام آباد:(پاکستان واچ نیوز)حکومت نے کفایت شعاری پالیسی کے ذریعے بچنے والے 23 ارب کی رقم سے موٹر سائیکل اور رکشا کو سبسڈی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ بات سیکریٹری پیٹرولیم نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کو بریفنگ میں بتائی۔سیکرٹری پیٹرولیم نے کہا کہ حکومت نے کفایت شعاری پالیسی سے بچنے والی 23 ارب رقم کی سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا جو موٹر سائیکل اور رکشا رکھنے والوں کو فراہم کی جائے گی، یہ سبسڈی بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام ڈیٹا کے مطابق مستحقین کو دی جائے گی، اوگرا اور پیٹرولیم ڈویژن نے سبسڈی کے حوالے سے ورکنگ شروع کردی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کفایت شعاری پالیسی کے تحت جو بچت ہوگی وہ سبسڈی میں دی جائےگی جیسے کورونا میں سبسڈی دی گئی ویسے ہی دی جائے گی۔کمیٹی ارکان نے کہا کہ یہ 23 ارب روپے کہاں سے آئیں گے کون سے اقدامات کیے گئے؟ 23 ارب کا فائدہ کمپنیوں کے بجائے عوام کو دیا جائے، جس پر حکام نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق بچت کے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں۔پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر سے متعلق بریفنگ میں سیکریٹری پیٹرولیم نے بتایا کہ ملک میں خام تیل 11 دن، ڈیزل 21 دن، پٹرول 27 دن، ایل پی جی 9 اور جے پی ون 14 دن کے لیے دستیاب ہے۔

    facebook