Blog

  • آبنائے ہرمز کا بحران: ٹرمپ کی جنگی جہاز بھیجنے کی اپیل، دوست ممالک کا انکار

    آبنائے ہرمز کا بحران: ٹرمپ کی جنگی جہاز بھیجنے کی اپیل، دوست ممالک کا انکار

    واشنگٹن ( پاکستان واچ نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کے مختلف ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی بحریہ کے جنگی جہاز امریکا کے ساتھ بھیجیں تاکہ اہم عالمی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو محفوظ اور کھلا رکھا جا سکے۔ تاہم اب تک کسی بھی ملک نے اس تجویز پر واضح طور پر رضامندی ظاہر نہیں کی۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا کہ جنوبی کوریا، جاپان، فرانس، چین اور برطانیہ جیسے ممالک کو اس اقدام میں حصہ لینا چاہیے کیونکہ ان کی معیشتیں بھی خلیج کی تیل کی سپلائی پر انحصار کرتی ہیں۔یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد تہران نے ہرمز کے راستے کو محدود کر دیا ہے، جس کے باعث عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔برطانوی اخبار کے مطابق برطانیہ نے آبنائے ہرمز کے لیے بحری جنگی جہاز بھیجنے سے انکار کردیا اور برطانوی وزیراعظم اسٹارمر نے ٹرمپ کو انکار کردیا ہے۔ جاپان، آسٹریلیا اور فرانس بھی بحری جہاز بھیجنے سے انکار کرچکے ہیں۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ کئی ممالک نے اپنے جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کے لیے ایران سے رابطہ کیا ہے، تاہم اس بارے میں حتمی فیصلہ ایرانی فوج کرے گی۔ادھر بھارت کے وزیر خارجہ جے شنکر نے بتایا کہ نئی دہلی اور تہران کے درمیان مذاکرات کے بعد بھارتی پرچم بردار دو گیس ٹینکرز کو ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی گئی ہے۔عالمی سطح پر اس منصوبے پر ردعمل محتاط رہا ہے۔ جرمنی کے وزیر خارجہ جوہان ویڈپل نے اس منصوبے پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جرمنی کسی نئی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔ادھر ایران کی فوجی تنظیم پاسداران انقلاب کے ترجمان علی محمد نے امریکی صدر کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا کو لگتا ہے کہ ایران کی بحریہ تباہ ہو چکی ہے تو وہ اپنے جہاز خلیج فارس میں بھیج کر دیکھ لے۔رپورٹس کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد کم از کم دس آئل ٹینکرز پر حملے یا حملوں کی کوششیں ہو چکی ہیں جبکہ تقریباً ایک ہزار جہاز ہرمز کے راستے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اس صورتحال نے عالمی توانائی کی منڈی اور سمندری تجارت کے لیے بڑے خطرات پیدا کر دیے ہیں۔

  • ایران کے ساتھ جنگ چند ہفتوں میں ختم ہونے کا امکان ہے،امریکی وزیر

    ایران کے ساتھ جنگ چند ہفتوں میں ختم ہونے کا امکان ہے،امریکی وزیر

    واشنگٹن (پاکستان واچ نیوز)امریکا وزیر توانائی کرس رائٹ نے ایران کے ساتھ جنگ اگلے چند ہفتوں میں ختم ہونے کا امکان ظاہر کردیا ہے جبکہ ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے جنگ بندی کی درخواست یا مذاکرات کے تاثر کو رد کردیا ہے۔غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے کہا کہ توقع ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ اگلے چند ہفتوں میں ختم ہوجائے گی۔انہوں نے کہا کہ تیل کی سپلائی دوبارہ معمول پر آئے گی اور توانائی کی قیمتیں بھی اس کے بعد گر جائیں گی۔خبرایجنسی کے مطابق تین باخبر ذرائع نے بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے مشرق وسطیٰ کے اتحادیوں کی جانب سے سفارتی مذاکرات شروع کرنے کی کوششوں کو مسترد کر دیا اور ایران نے بھی واضح کر دیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملے بند ہونے تک کسی بھی جنگ بندی کے امکان کو قبول نہیں کرے گا، جس سے اس تنازع کے جلد خاتمے کی امیدیں مزید کمزور ہو گئی ہیں۔دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ تہران نے جنگ بندی کی درخواست کبھی نہیں کی اور یہاں تک ہم نے مذاکرات کے لیے بھی نہیں کہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں امریکیوں کے ساتھ بات کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آرہی ہے کیونکہ ہم اس وقت ان کے ساتھ بات کر رہے تھے جب انہوں نے ہم پر حملہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکا کی خواہش کی جنگ ہے اور ہم اپنا دفاع جاری رکھیں گے۔قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن وہ خود اس کے خواہاں نہیں ہیں کیونکہ شرائط ناکافی ہیں۔

  • ایران کے خلاف جنگ میں امریکا کتنے ارب ڈالر پھونک چکا؟

    ایران کے خلاف جنگ میں امریکا کتنے ارب ڈالر پھونک چکا؟

    واشنگٹن:(پاکستان واچ نیوز)ایران کے خلاف جاری جنگ امریکا کے لیے مہنگی پڑنے لگی ہے اور اب تک اس جنگ پر 12 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں جبکہ امریکی حکام نے حملوں میں مزید شدت لانے کا عندیہ دے دیا ہے۔وائٹ ہاؤس کی نیشنل اکنامک کونسل کے ڈائریکٹر کیون ہیسیٹ نے امریکی ٹی وی پروگرام فیس دی نیشن میں انکشاف کیا کہ امریکا نے 28 فروری سے ایران کے خلاف شروع ہونے والی جنگ میں اب تک تقریباً 12 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں۔پروگرام کی میزبان مارگریٹ برینن نے نشاندہی کی کہ جنگ کے پہلے ہی ہفتے میں صرف ہتھیاروں پر 5 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ ہو چکے تھے تاہم کیون ہیسٹ اس سوال کا واضح جواب نہ دے سکے۔دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر بمباری میں جلد ہی ڈرامائی اضافہ ہونے والا ہے، جس سے جنگ کے اخراجات مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ادھر ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی کے بعد عالمی منڈیاں بھی شدید بے چینی کا شکار ہیں، کیونکہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی اسی اہم آبی گزرگاہ سے گزرتی ہے۔تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں امریکا خود بھی بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے، اس لیے ایران کی کارروائیوں سے امریکی معیشت کو ماضی کی طرح شدید نقصان نہیں پہنچے گا۔دوسری طرف جنگ کے مقاصد پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ابتدا میں ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کی بات کر رہی تھی، بعد میں میزائل صلاحیت کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا گیا، جبکہ اب ایران کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

  • چیئرمین سینیٹ کیلیے 9 کروڑ روپے کی  گاڑی خریدنے کا انکشاف

    چیئرمین سینیٹ کیلیے 9 کروڑ روپے کی گاڑی خریدنے کا انکشاف

    اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )سرکاری خزانے سے چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کے لیے تقریباً 9 کروڑ روپے مالیت کی نئی گاڑی خریدے جانے کا انکشاف ہوا ہے، خریدی گئی 9کروڑ روپے کی مہنگی گاڑی سینٹ سیکرٹریٹ کے پاس پہنچ گئی۔ایکسپریس نیوز سے گفتگو میں جب چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی سے سوال کیا گیا کہ کیا سرکاری خزانے سے اتنی مہنگی گاڑی خریدی گئی ہے تو اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جی بالکل ہم نے سینٹ کے بجٹ سے گاڑی لی ہے۔ایکسپریس نیوز کے مطابق چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے مہنگی گاڑی کی خریداری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ گاڑی سینیٹ کے بجٹ سے خریدی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس گاڑی کا آرڈر گزشتہ سال مئی میں دیا گیا تھا اور پچھلے برس سینٹ کے بجٹ میں سے جو بچت ہوئی تھی ان پیسوں سے یہ گاڑی آرڈرکی گئی تھی۔چیئرمین سینیٹ نے مزید کہا کہ ملک کی موجودہ معاشی صورتحال کے پیش نظر گاڑی واپس کرنے کی کوشش کی تھی لیکن کہا گیا اب گاڑی آچکی ہے لہٰذا واپس کرنا ممکن نہیں رہا۔

  • افغانستان سے مذاکرات، پاکستان کا چین کو انکار

    افغانستان سے مذاکرات، پاکستان کا چین کو انکار

    اسلام آباد:(پاکستان واچ نیوز)پاکستان نے چین سے کہا ہے کہ وہ طالبان حکومت کے ساتھ عدم رابطہ کی اپنی موجودہ پالیسی جاری رکھے گا کیونکہ کابل حکومت کالعدم ٹی ٹی پی اور افغان سرزمین سے کام کرنے والے دیگر دہشت گرد گروپوں کی موجودگی پر اپنا موقف تبدیل کرنے میں ناکام ہے۔
    اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کیلیے پاکستان نے اپنے قریبی اتحادی بیجنگ کی تازہ ترین سفارتی کوششوں کو مسترد کر دیا ہے۔
    چین نے حال ہی میں دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان بڑھتی کشیدگی کم کرنے کیلیے افغانستان کے لیے اپنے خصوصی ایلچی کو کابل اور اسلام آباد بھیج کر سفارتی کوششیں تیز کی ہیں۔
    خصوصی ایلچی اس وقت افغانستان اور پاکستان کے درمیان ثالثی کی کوشش میں مصروف ہے۔چین کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر خارجہ وانگ ژی نے افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی سے بھی ٹیلی فون پر بات چیت کی اور صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
    چین کو امید ہے کہ دونوں فریق صبرو تحمل کا مظاہرہ کریں گے اور جلد از جلد براہ راست ملاقات اورجنگ بندی کر کے تنازعات اور اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کریں گے۔
    بیجنگ نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مفاہمت اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے فعال کوششیں جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔
    باخبر ذرائع نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ پاکستان نے بحران کو کم کرنے کے لیے چین کی مخلصانہ کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے واضح کیا کہ کابل کے ساتھ معمول کی سفارتی کوششوں کی واپسی زمینی تبدیلیوں کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
    ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام نے چین کو آگاہ کیا کہ اسلام آباد طالبان حکومت کے حوالے سے اپنی موجودہ پالیسی اپنانے سے پہلے ہی تمام سفارتی راستے ختم کر چکا ہے۔
    پاکستان نے دو طرفہ چینلز کے ساتھ ساتھ دوست ممالک کے ذریعے ٹی ٹی پی اور دیگر عسکریت پسند گروپوں کو پناہ دینے والی طالبان حکومت پر تحفظات کا اظہار کیا ۔
    تاہم ذرائع نے بتایا کہ چینی ایلچی اور پاکستانی حکام کے درمیان ملاقاتوں کے نتیجے میں اسلام آباد اس نتیجے پر پہنچا کہ طالبان قیادت نے اپنی پوزیشن تبدیل نہیں کی ۔
    باخبرذرائع نے بتایا کہ طالبان حکام نے چینی سفیر کے سامنے اپنا دیرینہ مؤقف کو دہرایا کہ ٹی ٹی پی کا مسئلہ پاکستان کا اندرونی ایشو ہے، افغان سرزمین ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی تاہم پاکستانی حکام نے طالبان حکومت کے اس دعوے کو مسترد کر دیاجس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹس کو بھی بطور ثبوت شامل کیاگیا تھا۔
    پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی دہشت گردوں کی موجودگی اور سرگرمیوں کے حوالے سے اسلام آباد کے موقف کی تصدیق ہوتی ہے۔
    ان حالات میں پاکستان نے چین کو آگاہ کیا کہ جب تک کابل اسلام آباد کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کرتا، بامعنی سفارتی کوششوں کی بہت کم گنجائش ہے۔
    ہفتہ وار پریس بریفنگ میں دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے تصدیق کی کہ کچھ دوست ممالک کی جانب سے طالبان حکام کے ساتھ بات چیت کے مطالبات کے باوجود پاکستان افغانستان کے حوالے سے اپنی موجودہ پالیسی کو برقرار رکھے گا۔
    ان کا کہناتھا کہ جہاں تک افغانستان کی صورتحال کا تعلق ہے، صورت حال جوں کی توں ہے۔ ثالثی کی کوششوں کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے افغانستان اور اپنے مذاکرات کاروں پر زور دیا ہے کہ ہمیں افغانستان کی جانب سے قابل تصدیق یقین دہانی کی ضرورت ہے کہ ان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی چونکہ یقین دہانیاں نہیں کرائی گئیں اس لیے افغانستان کے حوالے سے موجودہ پالیسی کو جاری رکھا جائیگا۔
    اس بات کا امکان ہے کہ جب کہ پاکستان اپنے موقف پر قائم ہے، عید کے دوران دشمنی میں عارضی وقفہ کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
    دریں اثنا ترجمان طاہراندرابی کا کہنا ہے کہ افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور ان کی معاونت کرنے والے مراکز پرپاکستان کی جائز کارروائیوں کے بارے بھارتی موقف مضحکہ خیز ہے۔
    افغانستان کے اندر دہشتگردوں کے ٹھکانوں کیخلاف اہداف جائز ہیں،افغان سر زمین سے فتنہ الخوارج اورفتنہ الہندوستان پاکستان میں دہشت گرد کارروائیاں کر رہے ہیں، بھارت افغانستان سمیت خطے میں تخریبی کردار ادا کر رہا ہے۔
    بھارت پاکستان کیخلاف دہشتگردی کرنے سے باز آ جائے، ہندوتوا کی انتہا پسندانہ سوچ کے زیر اثر بھارت اپنے ملک میں اقلیتوں کو منظم انداز میں انکے حقوق سے محروم کر رہا ہے، اسلاموفوبیا کو فروغ دے رہا ہے۔
    بھارت اقوام متحدہ کے منشور اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر پر غیرقانونی قبضہ جمائے ہوئے ہے اور اس علاقے میں ریاستی دہشت گردی کا مرتکب رہا ہے۔

  • افغان حکومت نے پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنا کر سرخ لکیر پار کردی ہے، صدر مملکت

    افغان حکومت نے پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنا کر سرخ لکیر پار کردی ہے، صدر مملکت

    اسلام آباد:(پاکستان واچ نیوز)صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ افغان حکومت نے پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنا کر سرخ لکیر پار کردی ہے۔پاکستان کے شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کے لیے افغان طالبان کے ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے صدر آصف زرداری نے کہا کہ دہشت کے ذریعے افغانستان میں قائم غیر قانونی حکومت مسلسل اپنی ذمہ داریوں سے فرار ہورہی ہے۔انہوں نےکہا کہ افغان حکومت دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ کرنے کی یقین دہانیوں کو نظر انداز کر رہی ہے۔ اب اس حکومت میں اسلامی دنیا کی ایک بڑی فوجی طاقت کو چیلنج کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔صدر مملکت کا کہنا تھا کہ افغان حکومت ایک طرف دوست ممالک سے مذاکرات کی کوشش کر رہی ہے اور دوسری طرف اس نے پاکستان کے شہریوں کو نشانہ بنا کر سرخ لکیر پار کر دی ہے۔آصف زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے مصروف عمل ہے۔صدر نے کوئٹہ، کوہاٹ اور راولپنڈی میں ڈرون حملوں سے زخمی ہونے والے بچوں اور دیگر شہریوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا بھی کی۔ انہوں نے اس بات کو دہرایا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور سیکیورٹی ادارے ملک کے دفاع اور عوام کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

  • کفایت شعاری سے ہونے والی بچت عوامی ریلیف پر خرچ ہوگی، وزیراعظم

    کفایت شعاری سے ہونے والی بچت عوامی ریلیف پر خرچ ہوگی، وزیراعظم

    اسلام آباد:(پاکستان واچ نیوز)وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کفایت شعاری سے ہونے والی بچت عوامی ریلیف پر خرچ ہوگی۔خطے کی صورتحال کے پیش نظر پیٹرولیم قیمتوں کے استحکام اور حکومتی بچت اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے وزیراعظم کی زیرصدارت اہم اجلاس ہوا، جس میں طے پایا کہ کفایت شعاری سے حاصل شدہ رقم عوامی ریلیف پر خرچ ہوگی۔
    اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سرکاری اور خودمختار اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں میں 5 سے 30 فیصد کٹوتی ہوگی۔ کارپوریشنز کے بورڈز میں شامل حکومتی نمائندے اب شرکت فیس نہیں لیں گے، جبکہ تمام سفارتخانوں کو 23 مارچ کی تقریبات سادگی سے منانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
    وزیراعظم نے ہدایات جاری کیں کہ ایف بی آر اور قانون نافذ کرنے والے ادارے معمول کے مطابق کام جاری رکھیں گے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ 2 ماہ سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں 50 فیصد کمی اور 60 فیصد گاڑیاں گراؤنڈ کرنے کے فیصلے کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے گا اور نئی خریداری پر پابندی رہے گی۔
    اسی طرح کابینہ ارکان، وزرا، مشیران اور معاونین خصوصی کی تنخواہیں عوامی فلاح کے لیے مختص کی گئی ہیں۔ ان کے غیر ملکی دوروں پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے اور اب آن لائن میٹنگز کو ترجیح دی جائے گی تاکہ اخراجات میں کمی لائی جا سکے۔
    وزیرِ اعظم نے متعلقہ سیکریٹریز کو ان کفایت شعاری کے احکامات کی نگرانی اور روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں وفاقی وزرا عطاء اللہ تارڑ، محمد اورنگزیب، علی پرویز ملک، بلال اظہر کیانی اور ایف بی آر چیئرمین شریک ہوئے۔

  • آپریشن غضب للحق؛ پاک فوج کی کارروائی میں قندھار ایئر فیلڈ آئل اسٹوریج سائٹس تباہ

    آپریشن غضب للحق؛ پاک فوج کی کارروائی میں قندھار ایئر فیلڈ آئل اسٹوریج سائٹس تباہ

    راولپنڈی (پاکستان واچ نیوز)آپریشن غضب للحق کے تحت پاک فوج کی کارروائی میں قندھار ایئر فیلڈ آئل اسٹوریج سائٹس تباہ کردی گئیں۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے آپریشن غضب للحق کے تحت 12 اور 13 مارچ کی شب قندھار ایئر فیلڈ کی آئل سٹوریج سائٹس کو مؤثر حملوں کے ذریعے تباہ کر دیا ہے۔اس حوالے سے دستیاب ویڈیو میں حملوں سے پہلے اور بعد کے مناظر واضح طور پر دکھائے گئے ہیں، جن سے کارروائی کی شدت اور مؤثر نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ آئل اسٹوریج سائٹس افغان طالبان اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں اپنی مذموم کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہی تھیں۔پاک فوج مؤثر اور طاقتور کارروائیوں کے ذریعے افغان طالبان اور فتنۃ الخوارج کے دہشت گرد ٹھکانوں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا رہی ہے۔سیکیورٹی ذرائع کا کہناہے کہ آپریشن غضب للحق کے تحت کارروائیاں اہداف کے حصول تک جاری رہیں گی۔ فوج اپنی تمام تر استعداد کے ساتھ دہشتگردی کے خلاف اقدامات کو عملی جامہ پہنا رہی ہے۔

  • امریکا ایران میں اپنی فتح کا اعلان کرے اور وہاں سے نکل جائے، ٹرمپ کے مشیر کا مشورہ

    امریکا ایران میں اپنی فتح کا اعلان کرے اور وہاں سے نکل جائے، ٹرمپ کے مشیر کا مشورہ

    واشنگٹن(ویب ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ امریکا ایران میں اپنی فتح کا اعلان کرے اور وہاں سے نکل جائے۔دوسری جانب امریکا نے ایران کے خارگ جریزے پر شدید بمباری کی اور اس حوالے سے امریکی صدر نے کہا کہ آج امریکی افواج نے ایران کے جزیرے اور فوجی اہداف پر مشرق وسطیٰ کی تاریخ کے طاقتور ترین حملے کیے۔

  • کراچی کے مختلف علاقوں میں زلزلےکے جھٹکے

    کراچی کے مختلف علاقوں میں زلزلےکے جھٹکے

    کراچی (پاکستان واچ نیوز)کراچی کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔کراچی کے علاقے لانڈھی خرم آباد ، ملیر اور کورنگی میں زلزلے کے جھٹکےمحسوس کیے گئے، زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 4 اور گہرائی 10کلو میٹر ریکارڈ کی گئی، زلزلے کا مرکز کراچی کے جنوب میں 100 کلو میٹر دور تھا۔زلزلے کے باعث ابتدائی طور پر کسی جانی و مالی نقصان کی اطلاع نہیں۔