Blog

  • آئی پی او کی اندھیر نگری  ٭نئے رجسٹرار کے لئے چیلنجز سے نمٹنا اورآئی پی او کی ساکھ کی بحالی ایک مشکل ٹاسک رپورٹ:نشید آفاقی

    آئی پی او کی اندھیر نگری ٭نئے رجسٹرار کے لئے چیلنجز سے نمٹنا اورآئی پی او کی ساکھ کی بحالی ایک مشکل ٹاسک رپورٹ:نشید آفاقی

    ٭ٹریڈ مارک رجسڑی میں نااھلی اور کالابازی اپنے عروج پر
    ٭سائلین پر نذرانے میں اضافے اورکام کے لٹکنے کا خوف طاری،نئے رجسٹرار کے کاندھوں پر بھاری ذمہ داری
    ٭آئی پی او کا ٹریڈ مارک رجسٹری نظام مفلوج، کراچی رجسٹری میں ہزاروں کیسز التوا کا شکار، فائلوں کے انبارلگ گئے
    ٭کراچی میں ٹریڈ مارک فائلنگ میں تاخیر سے کاروباری طبقہ پریشان، سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں پر منفی اثرات
    ٭آئی پی او ایکٹ کے تحت اہم عہدے خالی، ڈپٹی رجسٹرار اور اسسٹنٹ رجسٹرار کی عدم تعیناتی سے ادارہ عملی طور پر مفلوج
    ٭ٹی ڈیپ کی طرز پر چیئرمین اور ڈی جی کے دفاتر کراچی منتقل کیے جائیں تاکہ نظام بہتر ہو،بزنس کمیونٹی کا مطالبہ
    ٭آئی پی او کااسلام آباد ہیڈ ا?فس کسی ملٹی نیشنل کمپنی کی طرح عالیشان مگر کام زیرو،کراچی آفس آثار قدیمہ کا بھیانک نمونہ
    ٭28 ہزار سے زائد اپوزیشن کیسز التوا کا شکار ہیں جن میں سے کافی کیسز کو دس سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔
    ٭آئی پی او نے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے معاشی استحکام اور سرمایہ کار ی وژن کو ایک خواب بنادیا جس کی کوئی تعبیر نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کراچی (رپورٹ:نشید آفاقی) پاکستان کے اہم ترین ادارے انٹلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن (آئی پی او) کا ٹریڈ مارک رجسٹری سیکشن جوتباہی کے دہانے پر ہے اب وہاں نئے رجسڑار محمد فاروق کا تقرر عمل میں آیا ہے ٹریڈ مارک رجسڑی میں نااھلی اور کالابازی اپنے عروج پر ہونے کی وجہ سے نئے رجسڑار کی ذمہ داریاں بہت بڑھ گئی ہیں سائلین کے ذھن میں یہ سوال آرہا ہے کہ نئے رجسڑار کے آنے کے بعد ٹریڈ مارک کا خرچہ وہی ر ہے گا یا بڑھ جائیگا۔ سائلین کا کہنا ہے کہ نئے رجسڑار کو چاہیئے کہ وہ ایس ای سی سی پی کی مثال اپنے سامنے رکھیں
    جو سرکاری ادارہ ہونے کے باوجود نا صرف مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے بلکہ رشوت ستانی سے بھی دور ہے آئی پی او میں مبینہ طور پر اس وقت رائج سرکاری فیس اور نذرانے کی تفصیلات درج زیل ہیں
    کام کی نوعیت۔۔۔سرکاری فیس۔۔۔ نذرانہ
    اسائنمنٹ۔۔۔۔۔6 ہزار۔۔۔20 ہزار
    ایکسپٹنس۔۔۔۔۔کوئی نہیں۔۔۔5 ہزار
    سرٹیفکیٹ۔۔۔۔۔۔9 ہزار۔۔۔۔5 ہزار
    ذرائع کے مطابق ا ٓئی پی اوکے ٹریڈ مارک رجسٹری سیکشن میں معاملات شدید تعطل کا شکارہیں فائلوں کے انبار لگ گئے ، کاروباری طبقے کو سخت مشکلات کا سامنا ہے ذرائع کے مطابق گزشتہ دنوں سات سال تک رجسٹرار کے عہدے پر براجمان رہنے والے رفیق طاہر کو ناگزیر وجوہات کی بنا پر عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا جبکہ ڈائریکٹر انفورسمنٹ سے ایڈیشنل رجسٹرار بننے والے نصیر احمد اسلام آباد چھوڑنے اور کراچی آنے سے گریزاںرہے اس صورتحال میں کیس فائلنگ، ٹریڈ مارک رجسٹری، ایکسپٹنس اور سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے معاملات نہ صرف متاثررہے بلکہ غیر ضروری طوالت کا شکار ہو ئے پہلے ٹریڈ مارک فائلنگ کے لیے دو سے تین دن لگتے تھے مگر بعد میںڈیڑھ ماہ میں بھی فائلنگ نہیں ہو پارہی تھی۔ ذرائع کے مطابق آئی پی او کے عہدوں میں بڑی چمک ہے مبینہ طور پر لاکھوں روپے کی خطیررقم کے معاملات ہوتے ہیں اس لئے کوئی بھی چارج چھوڑنا نہیں چاہتا جو جہاں ہے وہیں رہنا چاہتا ہے ایڈیشنل رجسٹرار نصیر احمد کے اسلام آباد میں ہونے سے نہ صرف کراچی میں ٹریڈ مارک سے متعلق متعدد اہم کیسز اور درخواستیں زیر التوا رہیں بلکہ اس صورتحال میں کاروباری طبقے کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسے حالات میں وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا معاشی استحکام اور سرمایہ کاری کا منصوبہ صرف ایک خواب بن کر رہ گیاان حالات میں آئی پی او جیسے اہم ترین ادارے کی کارکردگی صفر ہوگئی اطلاعات کے مطابق سینئر افسر رفیق طاہر جن کو رجسٹرار کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا وہ قائم مقام افسر کے طور پر صرف ادارے کے روزمرہ کے کام چلا رہے تھے تاہم انہیں مکمل اختیارات حاصل نہیں تھے۔ خاص طور پر ایکسپٹنس اور سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے اختیارات نہ ہونے کے باعث نظام مفلوج ہو کر رہ گیا تھا۔ کراچی ملک کا سب سے بڑا تجارتی مرکز ہے جہاں ٹریڈ مارک کے ہزاروں کیسز اور درخواستیں دائر ہوتی ہیں، تاہم اختیارات کے فقدان اور انتظامی مسائل کے باعث بڑی تعداد میں کیسز تعطل کا شکارہوگئے۔آئی پی او ایکٹ کے تحت ایک رجسٹرار، دو ڈپٹی رجسٹرار اور چار اسسٹنٹ رجسٹرار تعینات ہو سکتے ہیں مگر ڈپٹی رجسٹرار کی دونوں اور اسسٹنٹ رجسٹرار کی تین آسامیاں خالی ہیں۔ آئی پی او میں ہمیشہ ذمہ دار عہدوں پر آسامیاں خالی رہتی ہیں، پہلے چیئرمین تعینات تھے تو ڈی جی کا عہدہ خالی تھا اور اب ڈی جی آ گئے ہیں تو چیئرمین کا عہدہ خالی ہے۔ آئی پی او دنیا بھر میں انتہائی اہم محکمہ سمجھا جاتا ہے مگر پاکستان میں اس کی حیثیت کسی ٹھکرائے ہوئے بلدیاتی محکمے کی لگتی ہے۔28 ہزار سے زائد اپوزیشن کیسز التوا کا شکار ہیں جن میں سے کافی کیسز کو دس سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔ ملک کی مجموعی درخواستوں کا 70 فیصد کراچی میں فائل ہوتا ہے جہاں رجسٹرار کاپی رائٹ، ٹریڈ مارک اور کنٹرولر پیٹنٹ بیٹھتے ہیں مگر یہاں کا دفتر بدحالی کی داستان سنا رہا ہے، چھت تک فائلوں کے انبار لگے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف ہیڈ کوارٹر اسلام آباد جہاں چیئرمین آئی پی او، ڈی جی اور ڈائریکٹرز بیٹھتے ہیں وہ دفتر کسی ملٹی نیشنل آفس سے
    کم نہیں جبکہ کراچی آفس کے مقابلے میں یہاں کا کام نہ ہونے کے برابر ہے۔بزنس ایسوسی ایشنز، بزنس کمیونٹی اور کراچی چیمبر نے وزارت تجارت سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹی ڈیپ کی طرز پر آئی پی او کے چیئرمین اور ڈی جی کے دفاتر کراچی منتقل کیے جائیں۔بزنس کمیونٹی کا کہنا ہے کہ نئے رجسٹرار کے لئے چیلنجز کے انبار لگے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ کس طرح اپنی قابلیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ادارے کو اس بھنور سے نکالتے ہیں۔حیرت انگیز طور پر سابق قائم مقام رجسٹرارسات سال تک کیس لڑتے رہے جب وہ سپریم کورٹ سے کیس ہارگئے تو ان کوعہدے سے ہٹا کر ڈپٹی رجسٹرار بنادیا گیا اس کاجواب کون دے گا؟

  • ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کشیدگی: بدلتے حالات میں ایک مشکل امتحان….شیخ راشدعالم

    ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کشیدگی: بدلتے حالات میں ایک مشکل امتحان….شیخ راشدعالم

    عالمی سیاست کے افق پر بعض اوقات ایسے بحران ابھرتے ہیں جو نہ صرف خطے بلکہ بڑی طاقتوں کی پالیسیوں اور قیادت کے اندازِ حکمرانی کو بھی کڑی آزمائش میں ڈال دیتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی بھی ایک ایسا ہی پیچیدہ مرحلہ بن کر سامنے آئی ہے، جس میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کردار اور ان کی حکمت عملی خاص طور پر زیرِ بحث ہے۔ تاہم یہ بات پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا ابھی ممکن نہیں۔
    ابتدائی دنوں میں یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے معاملے میں ایک جارحانہ مگر تیز رفتار حکمت عملی کے ذریعے مطلوبہ نتائج حاصل کر لیں گے۔ بعض حلقوں میں ایران کو نسبتاً کمزور حریف کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا، اور یہ خیال عام تھا کہ امریکا کی عسکری و معاشی برتری فیصلہ کن ثابت ہوگی۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ اندازے اپنی مکمل صورت میں درست ثابت ہوتے دکھائی نہیں دیے۔
    ایران کی جانب سے سامنے آنے والا ردعمل اور حکمت عملی کئی مبصرین کے لیے غیر متوقع رہی۔ اس نے نہ صرف امریکا بلکہ اسرائیل کی بعض توقعات کو بھی چیلنج کیا۔ بعض تجزیوں کے مطابق ایران نے ایسے اقدامات کیے جنہوں نے مخالفین کے ابتدائی اندازوں کو بدلنے پر مجبور کر دیا، اگرچہ یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ یہ برتری وقتی ہے یا دیرپا۔
    اس کشیدگی کا ایک اہم پہلو مالی اثرات بھی ہیں، جو اکثر جنگی صورتحال میں نمایاں ہو جاتے ہیں۔ امریکا جیسے مضبوط معاشی ڈھانچے کے حامل ملک کے لیے بھی طویل یا پیچیدہ تنازع اخراجات میں اضافے اور اندرونی دباؤ کا باعث بن سکتا ہے۔ کچھ رپورٹس میں یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ اس صورتحال نے امریکی معیشت کے بعض پہلوؤں پر اثر ڈالا ہے اور روزمرہ زندگی کے کچھ شعبوں میں بھی اس کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں، اگرچہ ان اثرات کی شدت اور پائیداری کے بارے میں ابھی واضح تصویر موجود نہیں۔
    سیاسی سطح پر بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت اور فیصلوں پر بحث جاری ہے۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ اس تنازع نے ان کی عوامی مقبولیت کو متاثر کیا ہے اور سیاسی منظرنامے میں ان کے گراف میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔ تاہم سیاست میں عوامی رجحانات اکثر حالات کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں، اس لیے اس پہلو کو بھی حتمی قرار دینا مناسب نہیں ہوگا۔
    جنگ یا کشیدگی کے دوران بیانات اور پالیسی میں تبدیلیاں بھی ایک فطری امر ہوتی ہیں۔ اگر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کسی مرحلے پر کشیدگی کم کرنے یا جنگ کے خاتمے کی بات کی جاتی ہے تو اسے مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔ کچھ ماہرین اسے حکمت عملی کی تبدیلی قرار دیتے ہیں، جبکہ بعض اسے دباؤ کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ حقیقت شاید ان دونوں کے درمیان کہیں موجود ہو، کیونکہ عالمی سیاست میں فیصلے اکثر کئی عوامل کے امتزاج سے وجود میں آتے ہیں۔
    یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی جنگ یا کشیدگی کے اثرات فوری طور پر ختم نہیں ہوتے۔ چاہے میدانِ عمل میں صورتحال کسی بھی سمت جائے، اس کے معاشی، سیاسی اور نفسیاتی اثرات طویل عرصے تک باقی رہ سکتے ہیں۔ بعض مبصرین اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ
    اس تنازع کے اثرات امریکا کے لیے بھی دیرپا ہو سکتے ہیں، لیکن اس بارے میں کوئی حتمی بات کہنا ابھی ممکن نہیں۔
    اس پورے منظرنامے میں ایک اور اہم پہلو معلومات کی نوعیت اور اس تک رسائی کا ہے۔ مختلف ذرائع سے آنے والی خبریں اور تجزیات ایک تصویر ضرور پیش کرتے ہیں، مگر وہ ہمیشہ مکمل نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں اور اس تنازع کے نتائج کے بارے میں مختلف آراء￿ سامنے آ رہی ہیں، جو اس صورتحال کی پیچیدگی کو مزید واضح کرتی ہیں۔
    ایران، امریکا اور خطے کی دیگر قوتوں کے درمیان یہ کشیدگی ایک مسلسل بدلتی ہوئی کہانی ہے۔ ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں حالات میں نرمی آئے، یا کوئی نیا موڑ سامنے آ جائے۔ یہ بھی بعید نہیں کہ فریقین کسی ایسے راستے کی تلاش کریں جو کشیدگی کو کم کر سکے، جیسا کہ عالمی سیاست میں ماضی میں کئی بار دیکھا گیا ہے۔
    فی الحال جو تصویر سامنے آ رہی ہے، اس میں یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ یہ تنازع سادہ نہیں بلکہ کئی جہتوں پر مشتمل ہے، جس میں ہر پیش رفت نئے سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے یہ صورتحال ایک اہم امتحان کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، جہاں فیصلوں کے اثرات نہ صرف فوری بلکہ طویل المدتی بھی ہو سکتے ہیں۔
    ایسے میں ضروری ہے کہ اس تمام صورتحال کو حتمی نتائج کے بجائے ایک جاری عمل کے طور پر دیکھا جائے۔ بدلتے حالات، نئے بیانات اور زمینی حقائق وقت کے ساتھ مزید وضاحت پیدا کریں گے۔ تب تک محتاط تجزیہ اور متوازن نقطہ نظر ہی زیادہ مناسب راستہ ہے، کیونکہ عالمی سیاست میں آج کا یقین کل کی غیر یقینی میں بدل سکتا ہے۔

  • پیٹرول سستا، مگر حکومت کا ادھورا ریلیف ،عوام پھر بھی پریشان….نشید آفاقی

    پیٹرول سستا، مگر حکومت کا ادھورا ریلیف ،عوام پھر بھی پریشان….نشید آفاقی

    حکومت کی جانب سے گزشتہ رات پیٹرول کی قیمت میں 80 روپے کی نمایاں کمی کا اعلان بظاہر ایک بڑا اور خوش آئند قدم محسوس ہوا۔ مہنگائی کے بوجھ تلے دبی عوام کے لیے یہ خبر کسی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے سے کم نہ تھی۔ سوشل میڈیا پر مبارکبادوں کا سلسلہ شروع ہوا، لوگوں نے اسے ایک بڑا ریلیف قرار دیا، اور کئی شہریوں نے طویل عرصے بعد سکون کا سانس لیا۔ مگر یہ خوشی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی، کیونکہ جیسے ہی حقیقت کا دوسرا پہلو سامنے آیا—یعنی ڈیزل کی قیمت میں کوئی کمی نہیں کی گئی—تو یہ ریلیف ادھورا محسوس ہونے لگا۔

    پاکستان جیسے ملک میں، جہاں معیشت کا بڑا حصہ زمینی ٹرانسپورٹ پر انحصار کرتا ہے، ڈیزل کی اہمیت پیٹرول سے کہیں زیادہ ہے۔ ٹرکوں، بسوں، ویگنوں اور مال بردار گاڑیوں کا زیادہ تر دارومدار ڈیزل پر ہوتا ہے۔ یہی وہ نظام ہے جو شہروں سے دیہات اور بندرگاہوں سے منڈیوں تک اشیائے ضروریہ کی ترسیل کو ممکن بناتا ہے۔ ایسے میں اگر پیٹرول سستا ہو جائے مگر ڈیزل اپنی پرانی قیمت پر برقرار رہے، تو مہنگائی کے بنیادی ڈھانچے میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آتی۔

    یہی وجہ ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں کمی کے باوجود عام آدمی کی زندگی میں وہ آسانی پیدا نہیں ہو سکی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ موٹر سائیکل یا کار رکھنے والے افراد کو تو کچھ حد تک ریلیف ملا، مگر وہ شہری جو روزانہ پبلک ٹرانسپورٹ پر انحصار کرتے ہیں، ان کے لیے حالات جوں کے توں ہیں۔ کرایوں میں کوئی واضح کمی دیکھنے میں نہیں آئی، بلکہ بعض علاقوں میں ٹرانسپورٹرز نے احتجاجاً گاڑیاں کم کر دیں، جس سے شہریوں کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

    ٹرانسپورٹرز کا مؤقف بھی قابلِ غور ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک ڈیزل کی قیمت کم نہیں ہوگی، ان کے اخراجات میں کوئی کمی ممکن نہیں۔ ایندھن ان کے کاروبار کا بنیادی جزو ہے، اور اسی کی بنیاد پر وہ کرایوں کا تعین کرتے ہیں۔ اگر ڈیزل مہنگا رہے گا تو وہ نہ صرف کرایوں میں کمی نہیں کر سکتے بلکہ بعض صورتوں میں انہیں سروسز محدود کرنے پر بھی مجبور ہونا پڑتا ہے۔ اس صورتحال میں نقصان براہ راست عوام کو اٹھانا پڑتا ہے۔

    یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت نے واقعی مکمل تصویر کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا؟ یا پھر یہ اقدام محض وقتی ریلیف دینے اور عوامی ردعمل کو کم کرنے کے لیے کیا گیا؟ پالیسی سازی میں توازن نہ ہو تو ایسے اقدامات بظاہر مثبت ہونے کے باوجود مطلوبہ نتائج نہیں دے پاتے۔ پیٹرول کی قیمت میں کمی ایک اچھا قدم ضرور ہے، مگر اگر اس کے ساتھ ڈیزل کی قیمت بھی مناسب سطح پر نہ لائی جائے تو یہ ریلیف محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔

    مہنگائی کا مسئلہ صرف ایندھن تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات پوری معیشت میں پھیل جاتے ہیں۔ جب ٹرانسپورٹ مہنگی ہو تو اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ سبزی، آٹا، چینی، اور دیگر بنیادی اشیاء￿ کی قیمتوں میں استحکام اسی وقت ممکن ہے جب ترسیلی اخراجات کم ہوں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو ڈیزل کی قیمت میں کمی نہ کرنا دراصل مہنگائی کے بڑے مسئلے کو جوں کا توں برقرار رکھنے کے مترادف ہے۔

    عوامی سطح پر بھی اس فیصلے کو ملا جلا ردعمل ملا ہے۔ ایک طرف خوشی ہے کہ پیٹرول سستا ہوا، دوسری طرف مایوسی ہے کہ اس کا اثر روزمرہ زندگی پر مکمل طور پر نہیں پڑ رہا۔ شہریوں کی ایک بڑی تعداد اب بھی ٹرانسپورٹ کے مسائل، مہنگے کرایوں اور اشیائے ضروریہ کی بلند قیمتوں سے پریشان ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جزوی اقدامات سے مسائل کا مکمل حل ممکن نہیں۔

    حکومت کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو محض ایک قیمت کے اتار چڑھاؤ کے طور پر نہ دیکھے بلکہ اسے ایک جامع معاشی چیلنج کے طور پر سمجھے۔ وقتی ریلیف دینے کے بجائے طویل المدتی حکمت عملی اپنانا وقت کی ضرورت ہے۔ اس میں نہ صرف ایندھن کی قیمتوں میں توازن شامل ہونا چاہیے بلکہ متبادل توانائی کے ذرائع، پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کی بہتری، اور ٹیکسوں و لیویز کے بوجھ میں کمی جیسے اقدامات بھی شامل ہونے چاہئیں۔

    مزید برآں، پالیسی سازی میں شفافیت اور تسلسل بھی نہایت اہم ہے۔ عوام کو یہ اعتماد ہونا چاہیے کہ کیے جانے والے فیصلے وقتی دباؤ کے تحت نہیں بلکہ ایک واضح اور مربوط حکمت عملی کے تحت کیے جا رہے ہیں۔ جب عوام کو اعتماد حاصل ہوگا تو وہ مشکل فیصلوں کو بھی بہتر انداز میں قبول کر سکیں گے۔

    یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت مختلف شعبوں کے اسٹیک ہولڈرز، خصوصاً ٹرانسپورٹرز، تاجروں اور عوامی نمائندوں سے مشاورت کرے۔ یکطرفہ فیصلے اکثر زمینی حقائق سے ہم آہنگ نہیں ہوتے، جس کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ مسائل کم ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔

    آخرکار، یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ کسی بھی معاشی پالیسی کی کامیابی کا انحصار اس کے عوامی اثرات پر ہوتا ہے۔ اگر عوام کو حقیقی ریلیف نہ ملے تو اعداد و شمار کی بہتری یا اعلانات کی چمک اپنی اہمیت کھو دیتی ہے۔ پیٹرول کی قیمت میں کمی ایک مثبت پیش رفت ضرور ہے،
    مگر جب تک یہ ریلیف مکمل اور ہمہ جہت نہیں ہوگا، تب تک عوامی پریشانیوں میں خاطر خواہ کمی ممکن نہیں۔

    آج کی صورتحال میں عوام ایک عجیب کشمکش کا شکار ہے۔ خوشی بھی ہے اور تشویش بھی۔ ایک طرف پیٹرول سستا ہونے کا احساس، دوسری طرف مہنگی ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی بلند قیمتیں۔ یہی تضاد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسئلہ ابھی حل نہیں ہوا بلکہ اس کا صرف ایک حصہ چھیڑا گیا ہے۔

    لہٰذا یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ موجودہ اقدام ایک ادھورا ریلیف ہے۔ حکومت اگر واقعی عوام کو سہولت دینا چاہتی ہے تو اسے پالیسیوں میں ہم آہنگی اور توازن پیدا کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر ایسے اقدامات وقتی خوشی تو دے سکتے ہیں، مگر دیرپا سکون فراہم نہیں کر سکتے۔ عوام آج بھی اسی سوال کے ساتھ کھڑی ہے: ریلیف ملا، مگر مکمل کیوں نہیں؟

  • شوبز واچ،،،،،،،،،،،

    شوبز واچ،،،،،،،،،،،

    شوبز واچ،،،،،،،،،،،
    سینئرز کی جانب سے چھوٹی چھوٹی باتوں پر تنقید، علیزے شاہ، عینا کی حمایت میں سامنے آگئیں
    کراچی (ویب ڈیسک )پاکستانی اداکارہ علیزے شاہ نے ساتھی اداکارہ عینا آصف کے بیان کی حمایت کی ہے۔حال ہی میں نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں عینا آصف نے سینئر اداکار کے رویوں سے متعلق گفتگو کی تھی۔اداکارہ کا کہنا تھا کہ بڑے اسٹارز یا سینئر اداکار سیٹ پر نئے یا چھوٹے اداکاروں کو چھوٹی چھوٹی باتوں پر ٹوکتے اور ان میں خامیاں نکالتے ہیں۔عینا آصف کا کہنا تھا کہ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اگر ہم کچھ بول دیں تو وہ ہمیں ایسے دیکھیں گے جیسے ہم نے پتا نہیں کتنی احمقانہ بات کردی لیکن ہمیں پتا ہوتا ہے کہ یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں تھی۔ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ ایسا اس لیے کرتے ہیں تاکہ ہم غیر آرام دہ محسوس کریں، سیٹ پر ایسی چیزیں بھی ہوتی ہیں کہ میں کوئی سین کر رہی ہوں اور میرے لیے اہم سین ہے تو وہ لوگ باتیں شروع کردیں گے یا کچھ ایسا کریں گے کہ دھیان بٹے۔عینا آصف کا یہ بیان سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوا جس پر اداکارہ علیزے شاہ نے بھی کھل کر حمایت کی ہے۔علیزے شاہ نے عینا آصف کے انٹرویو کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام کی اسٹوری پر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ اس دور کی بہترین اور ذہین اداکارہ ہے۔سینئرز کی جانب سے چھوٹی چھوٹی باتوں پر تنقید، علیزے شاہ، عینا کی حمایت میں سامنے آگئیں علیزے شاہ نے مزید لکھا کہ عینا آصف درست ہیں، اور بدقسمتی سے یہ صرف کم عمر اداکاراؤں کے ساتھ ہوتا ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے ساتھ جن کا شوبز کا کوئی بیک گراؤنڈ نہیں ہوتا۔اداکارہ نے مزید لکھا کہ مجھے عینا آصف پر سب کے سامنے یہ بات شیئر کرنے پر فخر ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اداکارہ ریشم منفی چیزیں پیش کرنے میں بہترین ہیں،دیدار
    کراچی (ویب ڈیسک )اداکارہ دیدار نے نامور اداکارہ ریشم پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ریشم لوگوں کی زندگیاں خراب کرتی ہیں۔حال ہی میں اداکارہ دیدار نے ایک نجی ٹی وی سے نشر ہونے والے شو میں شرکت کی جہاں انہوں نے مختلف سوالات کے جواب دیے۔اداکارہ سے میزبان کی جانب سے ساتھی اداکارہ نرگس اور ریشم سے متعلق سوال کیا گیا جس کے جواب میں دیدار نے کہا کہ اداکارہ نرگس ایک بہترین اداکارہ ہیں لیکن منفی انداز میں۔انہوں نے نامور اور سینئر اداکارہ ریشم سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ریشم بہت اچھی اداکار ہیں، وہ منفی چیزوں کو پیش کرنے میں بہترین ہیں، ریشم نے بہت سی زندگیوں کو خراب کیا ہے، وہ حقیقی زندگی میں بہت منفی ہیں۔ریشم کے فلاحی کاموں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے دیدار کا کہنا تھا کہ ان کے کھانا پکانے اور خیراتی کام کے بارے میں جانتی ہوں، مجھے ڈر ہے کہ ایک دن وہ اس کھانے میں نہ گر جائیں جو وہ دوسروں کے لیے بناتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ میرا ریشم کے ساتھ ذاتی تجربہ ہے، وہ سالوں تک میری دوست رہ چکی ہیں اسی لیے میں بتارہی ہوں اور ان کے موجودہ دوستوں کو خبردار کر رہی ہوں کہ وہ اس سے ہوشیار رہیں اور بچ کررہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بشریٰ انصاری نے جاوید شیخ سے تنازع پر خاموشی توڑ دی، اصل کہانی سامنے آگئی
    کراچی (ویب ڈیسک )پاکستانی شوبز انڈسٹری کی سینئر اداکارہ بشریٰ انصاری نے حالیہ دنوں ساتھی اداکار جاوید شیخ کے ساتھ ہونے والے تنازع پر پہلی بار کھل کر بات کرتے ہوئے اصل صورتحال واضح کردی ہے۔بشریٰ انصاری نے اپنے یوٹیوب ولاگ میں بتایا کہ رمضان کے دوران شوبز شخصیات کے درمیان کئی تنازعات سامنے آئے، اور اسی دوران وہ بھی ایک ایسے معاملے میں الجھ گئیں جس نے مداحوں کو حیران کر دیا۔ ان کے مطابق یہ تنازع ایک ایسے دوست کے ساتھ ہوا جن کے ساتھ ان کی برسوں پرانی دوستی اور بہترین تعلق رہا ہے۔اداکارہ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ دراصل ایک معمولی سی بات تھی جو شاید جاوید شیخ کو ناگوار گزری، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ان کے درمیان تعلقات خراب ہوگئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عید کے موقع پر دونوں اکٹھے تھے اور خوشگوار وقت گزارا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ معاملہ اتنا سنگین نہیں تھا جتنا سوشل میڈیا پر دکھایا گیا۔بشریٰ انصاری کا کہنا تھا کہ دوستوں کے درمیان اختلافات ہونا کوئی نئی بات نہیں، لیکن آج کل سوشل میڈیا معمولی معاملات کو بھی بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے اور چھوٹی بات کو بڑا تنازع بنا دیتا ہے۔ ان کے بقول یہی وجہ ہے کہ عوام کو ہر چھوٹی بڑی بات کا علم ہو جاتا ہے، جو پہلے نجی دائرے تک محدود رہتی تھی۔اداکارہ نے مداحوں کو یہ پیغام بھی دیا کہ ہر سنی سنائی بات پر یقین کرنے کے بجائے حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ ہر تنازع اتنا بڑا نہیں ہوتا جتنا دکھائی دیتا ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جویریہ سعود نے اداکارہ یمنیٰ زیدی سے باقاعدہ معذرت کر لی
    کراچی(ویب ڈیسک): پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ و میزبان جویریہ سعود نے اداکارہ یمنیٰ زیدی سے باقاعدہ معذرت کر لی ہے۔ ایک خصوصی شو کے دوران ایک تنازع سامنے آیا جس کے بعد بعد معروف اداکارہ و میزبان جویریہ سعود نے اداکارہ یمنیٰ زیدی سے باقاعدہ معذرت کر لی ہے۔یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب جویریہ کے شو کے ایک حصے میں مشہور شخصیات کے بچپن کی تصاویر پہچاننے کا مقابلہ دکھایا گیا۔ اس دوران یمنیٰ زیدی کے نام پر ایک غلط تصویر دکھائی گئی اور جویریہ سعود نے ان کی عمر کے حوالے سے مذاق اڑایا، جسے مداحوں نے ‘ایج شیمنگ’ قرار دیا۔یمنیٰ زیدی نے اس تمام صورتحال پر انتہائی شائستگی سے ردعمل دیتے ہوئے انسٹاگرام پر وضاحت کی کہ دکھائی گئی تصویر ان کی نہیں ہے اور یہ غلط معلومات پھیلانے کے مترادف ہے۔اداکارہ یمنیٰ کے اس سنجیدہ موقف کو سوشل میڈیا پر بے حد سراہا گیا اور صارفین نے جویریہ سعود کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔عوامی دباؤ اور تنقید کے بعد اب جویریہ سعود نے یمنیٰ زیدی سے معافی مانگ لی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ ان کی ٹیم کی غلطی تھی اور وہ ان تمام لوگوں سے معذرت خواہ ہیں جنہیں ان کی باتوں سے دکھ پہنچا ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ وہ تصویر سوشل میڈیا سے بغیر تصدیق کے لی گئی تھی اور ان کا مقصد کسی کی دل آزاری کرنا یا کسی کی عمر کا مذاق اڑانا نہیں تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے تبصرے کو غلط سمجھا گیا اور وہ یمنیٰ زیدی کے لیے دل سے احترام رکھتی ہیں۔

  • جرمنی جائو۔۔۔۔مستقبل سنوارو…پاکستان واچ رپورٹ

    جرمنی جائو۔۔۔۔مستقبل سنوارو…پاکستان واچ رپورٹ

    یورپی ممالک کو ہنرمند نوجوانوں کی تلاش
    جرمنی جائو۔۔۔۔مستقبل سنوارو
    بھارت نے ملازمتیں ہتھیانے کی تیاری کرلی،پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
    پاکستان واچ رپورٹ
    دنیا اس وقت ایک خاموش مگر انتہائی اہم تبدیلی سے گزر رہی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک، خاص طور پر جرمنی، اپنی معیشت کو چلانے کے لیے ہنر مند افرادی قوت کی شدید کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ فیکٹریاں ہوں، اسپتال ہوں یا آئی ٹی کمپنیاں ہر شعبہ افراد کی تلاش میں ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جسے دنیا کے کئی ممالک نے موقع میں بدل دیا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اس سنہری موقع کو پوری طرح سمجھ کر اس سے فائدہ اٹھا رہا ہے؟
    حقیقت یہ ہے کہ جرمنی میں اس وقت لاکھوں ملازمتیں خالی ہیں۔ بڑھتی عمر کی آبادی اور کم ہوتی لیبر فورس نے جرمن معیشت کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں بیرونی ہنر مند افراد ناگزیر ہو چکے ہیں۔ جرمن حکومت نے امیگریشن قوانین کو نرم کیا ہے، “اسکلڈ ورکرز” کے لیے راستے کھول دیے ہیں، حتیٰ کہ “چانس کارڈ” جیسے پروگرامز متعارف کروائے گئے ہیں تاکہ دنیا بھر سے ہنر مند افراد وہاں آ کر کام کر سکیں۔ یہ کوئی معمولی موقع نہیں بلکہ ایک ایسا تاریخی موقع ہے جو شاید بار بار نہ آئے۔
    دوسری جانب بھارت نے اس موقع کو فوراً بھانپ لیا۔ بھارت نے نہ صرف اپنے نوجوانوں کو جرمن زبان سکھانے پر سرمایہ کاری کی بلکہ اس نے اپنی یونیورسٹیوں، ٹیکنیکل اداروں اور نجی شعبے کو بھی اس مقصد کے لیے متحرک کیا۔ بھارتی حکومت نے جرمنی کے ساتھ باضابطہ معاہدے کیے، اپنی افرادی قوت کو عالمی معیار کے مطابق تیار کیا اور نتیجتاً آج بھارتی نوجوان بڑی تعداد میں جرمنی میں روزگار حاصل کر رہے ہیں۔ یہ صرف روزگار نہیں بلکہ ایک معاشی حکمت عملی ہے جس کے ذریعے بھارت مسلسل زرمبادلہ حاصل کر رہا ہے۔
    اب سوال پھر وہی ہے: پاکستان کیوں پیچھے ہے؟
    کیا ہمارے پاس صلاحیت کی کمی ہے؟ ہرگز نہیں۔
    کیا ہمارے نوجوان عالمی معیار پر پورا نہیں اتر سکتے؟ بالکل اتر سکتے ہیں۔
    اصل مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہم نے ابھی تک اس موقع کو قومی ترجیح نہیں بنایا۔
    پاکستان کے پاس ایک بہت بڑی طاقت موجود ہے نوجوان آبادی۔ اگر اس طاقت کو صحیح سمت دے دی جائے تو یہ نہ صرف ملکی معیشت کو سہارا دے سکتی ہے بلکہ دنیا میں پاکستان کا مثبت تشخص بھی اجاگر کر سکتی ہے۔ جرمنی جیسے ملک میں پاکستانیوں کی موجودگی پہلے سے ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ راستہ موجود ہے، صرف اس راستے کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔
    یہاں ایک اور اہم پہلو سامنے آتا ہے گلوبل کمپیٹیشن۔ آج صرف بھارت ہی نہیں بلکہ بنگلہ دیش، فلپائن اور ویتنام جیسے ممالک بھی اس دوڑ میں شامل ہیں۔ یہ ممالک اپنی افرادی قوت کو منظم انداز میں یورپ بھیج رہے ہیں۔ اگر پاکستان نے اس مقابلے میں حصہ نہ لیا تو ہم
    ایک بار پھر ایک بڑے موقع سے محروم ہو سکتے ہیں۔
    اب وقت ہے کہ پاکستان ایک جامع اور جارحانہ حکمت عملی اپنائے۔
    سب سے پہلے، حکومت کو چاہیے کہ جرمنی کے ساتھ فوری طور پر اسٹریٹجک لیبر پارٹنرشپ قائم کرے۔ اس کے تحت مخصوص شعبوں میں پاکستانیوں کے لیے روزگار کے دروازے کھولے جا سکتے ہیں۔ خاص طور پر ہیلتھ کیئر سیکٹر (نرسز اور پیرامیڈیکل اسٹاف)، آئی ٹی، انجینئرنگ اور ہنر مند مزدوری کے شعبے ایسے ہیں جہاں پاکستانی نوجوان بہترین کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔
    دوسرا، پاکستان کو اپنے تعلیمی اور ٹریننگ نظام میں انقلابی تبدیلیاں لانا ہوں گی۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو صرف تعلیم نہیں بلکہ قابلِ استعمال ہنر (Employable Skills) دینے ہوں گے۔ ٹیکنیکل اور ووکیشنل ٹریننگ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔
    تیسرا، جرمن زبان کو قومی سطح پر فروغ دینا ہوگا۔ اگر چین کے لیے چینی زبان سیکھی جا سکتی ہے اور خلیجی ممالک کے لیے عربی، تو جرمنی کے لیے جرمن زبان کیوں نہیں؟ اس کے لیے سرکاری سطح پر اقدامات ناگزیر ہیں۔
    چوتھا، اوورسیز ایمپلائمنٹ کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل اور شفاف بنانا ہوگا۔ ایک ایسا پورٹل ہونا چاہیے جہاں ہر نوجوان آسانی سے رجسٹر ہو سکے، نوکری تلاش کر سکے اور محفوظ طریقے سے بیرون ملک جا سکے۔
    پانچواں اور نہایت اہم پہلو ہے ڈائسپورا انگیجمنٹ۔ جرمنی میں موجود پاکستانی کمیونٹی کو فعال بنایا جائے تاکہ وہ نئے آنے والوں کی رہنمائی کر سکے۔ یہ کمیونٹی پاکستان کے لیے ایک پل کا کردار ادا کر سکتی ہے۔
    اگر ان اقدامات پر سنجیدگی سے عمل کیا جائے تو پاکستان کے لیے امکانات بے حد روشن ہیں۔ ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، بے روزگاری کم ہو سکتی ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کا امیج بہتر ہو سکتا ہے۔
    یہ صرف معیشت کی بات نہیں، یہ مستقبل کی بات ہے۔
    تصور کریں ایک ایسا پاکستان جہاں نوجوان بے روزگاری سے مایوس نہ ہوں بلکہ عالمی مواقع سے جڑے ہوں، جہاں زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط ہوں، جہاں دنیا پاکستانی ہنر کو تسلیم کرے یہ سب ممکن ہے، اور اس کی کنجی جرمنی جیسے مواقع میں پوشیدہ ہے۔
    آخر میں، یہ وقت فیصلے کا ہے۔
    دنیا آگے بڑھ رہی ہے،
    مواقع دروازے کھٹکھٹا رہے ہیں،
    جرمنی ہاتھ بڑھا رہا ہے
    اور ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ کیا ہم اس ہاتھ کو تھامیں گے یا ایک بار پھر موقع گنوا دیں گے۔
    یہ صرف حکومت کا امتحان نہیں، بلکہ ایک قومی امتحان ہے۔
    اگر ہم نے آج درست فیصلہ کر لیا، تو آنے والی نسلیں ہمیں یاد رکھیں گی کہ ہم نے ایک موقع کو تاریخ میں بدل دیا۔

  • بزم ادب برلن کی جانب سے برمنگھم سے تشریف لائے شاعر فاروق نسیم کے اعزازمیں مشاعرہ اور عصرانہ ..رپورٹ سرور غزالی

    بزم ادب برلن کی جانب سے برمنگھم سے تشریف لائے شاعر فاروق نسیم کے اعزازمیں مشاعرہ اور عصرانہ ..رپورٹ سرور غزالی

    برلن کا موسم پھر سے گلابی رضائی اوڑھے سردی کی جانب گامزن تھا، بزم ادب برلن نے ایک شعری نشست سجاکر ایک بار پھر سے جذبوں کی گرماہٹ کا احساس دیا۔ یہ شعری نشست برمنگھم انگلینڈ سے آئے مشہور شاعر فاروق نسیم کی برلن آمد پر اْن کے اعزازمیں ہی برپا کی گئی تھی۔ برلن کے علاقے ویڈنگ کے خوبصورت ریستوران ‘‘خان بابا’’ میں یہ شعری نشست علی حیدر وفا صدر بزم ادب برلن کی صدارت میں منعقد کی گئی۔ جس میں برلن کے مقامی شعراء کرام نے اپنے خوبصورت کلام سے محفل کو رونق بخشی۔ محفل کے مہمان خصوصی فاروق نسیم تھے۔ پروگرام کی نظامت ناچیز کے سپرد تھی۔
    آداب مشاعرہ کے پیش نظر، نظامت کی ذمہ داری سنبھالتے ہوئے مابدولت سرور غزالی نے اپنی ایک نظم بعنوان خزاں رسیدہ اور ایک غزل پیش کی۔ جس کے بعد عاصم بشیر کو دعوت کلام دیا گیا۔ شومئی قسمت، عاصم بشیر کا موبائل فون فوری طور پر نہیںکھل سکا اور وہ اپنا کلام اپنے موبائل فون سے پڑھ کر نہ سنا سکے۔ موقعے کی نزاکت کو بھانتے ہوئے نظامت کار نے انور ظہیر رہبر کو اسٹیج پر بلالیا۔ انور ظہیر رہبر برلن کے معتبر شاعر ہیں اور انہوں نے اپنے مخصوص خوبصورت انداز اپنا کلام ایک نظم اور ایک غزل کی صورت میں پیش کیا۔ جس کے بعد عاصم بشیر نے اپنا تازہ ترین کلام پیش کیا۔ عاصم بشیر کے بعد باری تھی برلن کی مشہور ومعروف شاعرہ عشرت معین سیما کی۔ جنہوں اپنی خوبصورت آواز میں نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ ایک نعتیہ کلام ترنم سے پیش کیا اور پھر ایک غزل سنائی۔ اب باری تھی مہمان خصوصی فاروق نسیم کی۔ فاروق نسیم پہلے کبھی برلن ہی میں مقیم تھے اور برلن کی ٹیکنکل یونیورسٹی میں ہمارے ساتھ پڑھتے تھے۔ فاروق نسیم ایک صاحب طرز، پختہ کار شاعر ہیں۔ ان کی شاعری کا چرچا ان کی طالب علمی کے زمانے سے ہورہا ہے۔ انہوں نے پہلے دو قطعے سنائے اور ایک نظم پیش کی۔ سب سے آخر میں صدر مشاعرہ علی حیدر وفا نے اپنا کلام پیش کیا۔ مہمانوں کا شکریہ ادا کرنے کے لیے عبدالرزاق صاحب نے مائک سنبھالا۔ شعری نشست کے بعد سرور غزالی نے مہمانوں کو دعوت کام و دہن دی۔ عصرانہ سے قبل برلن کے ایک اہم سماجی شخصیت ظہور احمدنے شہر کی ادبی سرگرمیوں کا مختصر جائزہ پیش کیا بعدازاںلذیذکھانوں سے مہمانوں کی تواضع کی گئی۔ شاعری نے جس طرح روح کو تروتازہ کیا اسی طرح خان بابا کے لذیذ، ذائقے دار کھانے نے بھی لطف کام و دہن بخشا اور یوں یہ محفل ایک بہت ہی کامیابی سے اپنے اختتام کو پہنچی۔
    اس محفل میں جو شخصیات موجود تھیں ان میں مہمان خصوصی فاروق نسیم ، سماجی مذہبی رہنما محمد عبدالرزاق ، سماجی شخصیت ظہور احمد ،
    شاہد صاحب، عاصم بشیر، سرور غزالی،عشرت معین سیما،علی حیدر وفا، عارف سلیمی
    چند شعراء کا کلام جو بے حد سراہے گیا
    برمنگھم سے فاروق نسیم

    بجلی گرا کے سارے نشیمن جلا دیے
    جاؤں کہاں جو سر پہ میرے آسمان نہ ہو
    احباب سارے آج صف دشمناں میں ہیں
    سب کو وہم جیسے میرا پاسبان نہ ہو
    عشرت معین سیما
    جب آنکھ سلامت نہ دامان سلامت
    تب آتش و انگار کے ارمان سلامت
    اس ماہ مکرم نے دکھائے ہیں وہ منظر
    انسان مقید ہیں شیطان سلامت
    انور ظہیر رہبر
    نظم محبت کے یہاں کی کے چند اشعار
    جب جنگ تھک جائے گی
    اور بارود کی بو
    ہوا کے دامن سے اترنے لگی
    تب بچہ ملبے پہ بیٹھا
    پتھر سے سورج بنائے گا
    سرور غزالی کی نظم
    آو جنگ کریں۔ سے اقتباس
    ہم نے بنائے ہیں کھلونے کچھ
    دلچسپ اور مہلک بہت
    بے آواز
    شور مچاتے نہیں
    جسے کوئی دور بیٹھا
    ایک روبوٹ فقط
    ایک بٹن دبا کر
    رات کی تاریکی میں
    سر سبز وادیوں میں
    انسانوں کی بستیوں میں
    شعلے اگانے بھیج دیتا ہے

  • کیا جنگ رکنے والی ہے؟ امریکا اور ایران کے درمیان سیز فائر پر  پیشرفت

    کیا جنگ رکنے والی ہے؟ امریکا اور ایران کے درمیان سیز فائر پر پیشرفت

    واشنگٹن (ویب ڈیسک )امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا، ایران اور علاقائی ثالثوں کے ایک گروپ کے درمیان ممکنہ جنگ بندی سے متعلق اہم بات چیت جاری ہے، جس کے تحت 45 روزہ سیز فائر پر غور کیا جا رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق یہ مجوزہ جنگ بندی دو مرحلوں پر مشتمل ہوگی، پہلے مرحلے میں 45 دن کی عارضی جنگ بندی کی جائے گی، جس کے دوران فریقین کے درمیان جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے مذاکرات جاری رہیں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس عرصے میں اعتماد سازی کے اقدامات بھی زیر غور آئیں گے تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔دوسرے مرحلے میں جنگ کے مکمل خاتمے کے لیے ایک باضابطہ معاہدہ طے پانے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔ اگر مذاکرات کو مزید وقت درکار ہوا تو اس عارضی جنگ بندی میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔ذرائع کے مطابق اگلے 48 گھنٹوں کے اندر کسی بڑے یا حتمی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کم ہیں، تاہم یہ کوشش جنگ میں مزید شدت کو روکنے کا ایک اہم اور ممکنہ طور پر آخری موقع تصور کی جا رہی ہے۔دوسری جانب وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ خارجہ نے اس رپورٹ پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا، جس کے باعث صورتحال میں غیر یقینی برقرار ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ جنگ بندی کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ خطے میں جاری کشیدگی کم کرنے اور بڑے پیمانے پر تصادم کو روکنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

  • ٹارگٹڈ پبلک ٹرانسپورٹ سبسڈی پروگرام کا اعلان

    ٹارگٹڈ پبلک ٹرانسپورٹ سبسڈی پروگرام کا اعلان

    کراچی (ویب ڈیسک )حکومت سندھ نے کرایوں میں استحکام کے لیے ٹارگٹڈ پبلک ٹرانسپورٹ سبسڈی پروگرام کو حتمی شکل دے دی۔ صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن کے مطابق پروگرام کا مقصد عوام کو ریلیف دینا اور پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں کو مستحکم رکھنا ہے۔ان کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ سیکٹر دباؤ کا شکار تھا، اسی لیے “ٹارگٹڈ فیول ڈیفرینشل سبسڈی” متعارف کرائی گئی تاکہ عوام پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔اسکیم کے تحت ٹرانسپورٹرز کو ماہانہ مالی معاونت دی جائے گی، تاہم انہیں کرایوں میں اضافہ نہ کرنے اور حکومتی قواعد کی پابندی کرنا ہوگی۔انٹرا سٹی ٹرانسپورٹ کے لیے بسوں، منی بسوں اور کوچز کو ماہانہ 2 لاکھ 40 ہزار روپے تک، ویگنز کو 2 لاکھ 30 ہزار روپے جبکہ سوزوکی پک اپ کو 60 ہزار روپے تک سبسڈی دی جائے گی۔انٹر سٹی ٹرانسپورٹ میں بسوں کو روٹ کے حساب سے ماہانہ 12 لاکھ روپے تک جبکہ ویگنز کو فاصلے کے مطابق 1 لاکھ 80 ہزار سے 7 لاکھ 50 ہزار روپے تک سبسڈی ملے گی۔پروگرام 9 ہزار سے زائد انٹرا سٹی اور 1100 انٹر سٹی گاڑیوں پر لاگو ہوگا، جس سے ماہانہ تقریباً 5 کروڑ 70 لاکھ مسافروں کو فائدہ پہنچے گا۔ اس مد میں تقریباً 2.2 ارب روپے ماہانہ خرچ ہوں گے اور فی مسافر اوسطاً 38 روپے کا ریلیف ملنے کا امکان ہے۔شفافیت کے لیے مکمل ڈیجیٹل اور ایپ بیسڈ نظام متعارف کرایا گیا ہے، جس کے ذریعے رجسٹریشن، تصدیق اور ادائیگیاں براہ راست سندھ بینک کے ذریعے ہوں گی۔ نظام کو ایکسائز، آر ٹی اے اور پی ٹی اے کے ڈیٹا سے منسلک کیا جائے گا جبکہ انسپیکشن اور مسافروں کی فیڈبیک بھی شامل کی جائے گی۔وزیر اطلاعات کے مطابق رجسٹریشن بڑھانے کے لیے دفاتر کے اوقات کار میں 15 اپریل تک توسیع کر دی گئی ہے، جبکہ ایکسائز میں رجسٹرڈ ہر موٹر سائیکل مالک کو 2 ہزار روپے فیول سبسڈی بھی فراہم کی جائے گی۔

  • ریسکیو مشن مہنگا پڑ گیا، امریکا کے 20 کروڑ ڈالر کے طیارے تباہ

    ریسکیو مشن مہنگا پڑ گیا، امریکا کے 20 کروڑ ڈالر کے طیارے تباہ

    تہران (ویب ڈیسک )ایران میں امریکی پائلٹ کے ریسکیو مشن کے دوران تباہ ہونے والے امریکی طیاروں کے حوالے سے اہم تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس آپریشن میں استعمال ہونے والے دو جدید ایم سی 130 جے ٹرانسپورٹ طیارے ایک متروک (استعمال سے باہر) ایئربیس پر لینڈنگ کے دوران زمین میں دھنس گئے، جس کے بعد امریکی فوج کو انہیں خود ہی تباہ کرنا پڑا۔امریکی فضائیہ کے اسپیشل آپریشنز کمانڈ کے مطابق ان دونوں طیاروں کی مالیت فی طیارہ 100 ملین ڈالر (یعنی 10 کروڑ ڈالر) سے زائد ہے، جس کے باعث اس واقعے کو مالی لحاظ سے بھی ایک بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ طیارے خصوصی طور پر خفیہ فوجی آپریشنز کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ یہ طیارے دشمن کے علاقوں میں فوجی دستوں کی خفیہ نقل و حرکت، دراندازی (انفلٹریشن) اور انخلا جیسے حساس مشنز انجام دیتے ہیں۔ان میں جدید سینسرز اور دفاعی نظام نصب ہوتے ہیں جو انہیں خاص طور پر ہیٹ سیکنگ میزائلوں سے بچاؤ میں مدد فراہم کرتے ہیں۔امریکی فضائیہ کا کہنا ہے کہ یہ طیارے کم بلندی پر پرواز کرنے اور دشمن کی نظروں سے بچ کر کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہیں دورانِ پرواز ایندھن فراہم کیا جا سکتا ہے، جبکہ یہ خود بھی ہیلی کاپٹروں اور دیگر طیاروں کو ایندھن دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔مزید یہ کہ یہ طیارے جدید ڈیجیٹل ایویانکس، نیویگیشن سسٹم اور طاقتور ٹربو پراپ انجنز سے لیس ہوتے ہیں، جو انہیں مشکل ترین حالات میں بھی آپریشن جاری رکھنے کے قابل بناتے ہیں۔ یہ طیارے عموماً رات کے وقت مشنز انجام دیتے ہیں تاکہ دشمن کی نظروں سے بچا جا سکے۔رپورٹس کے مطابق یہ طیارے امریکی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن نے تیار کیے ہیں اور ان کی پرواز کی رینج تقریباً 3 ہزار میل ہے۔ ہر طیارے میں 5 افراد پر مشتمل عملہ ہوتا ہے، جن میں پائلٹس اور اسپیشل مشن کے ماہرین شامل ہوتے ہیں۔

  • سونے کے نرخ پھر بڑھ گئے، چاندی کی قیمت میں کمی

    سونے کے نرخ پھر بڑھ گئے، چاندی کی قیمت میں کمی

    کراچی:(ویب ڈیسک )عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز سونے کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا جبکہ چاندی کی قیمتوں میں کمی ہوگئی۔بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 11ڈالر کے اضافے سے 4ہزار 687ڈالر کی سطح پر آگئی۔عالمی مارکیٹ میں اضافے کے سبب مقامی صرافہ مارکیٹ میں فی تولہ سونے کی قیمت بھی 1ہزار 100روپے کے اضافے سے 4لاکھ 91ہزار 462روپے کی سطح پر آگئی۔اسی طرح، فی دس گرام سونے کی قیمت 943روپے بڑھ کر 4لاکھ 21ہزار 349روپے کی سطح پر آگئی۔سونے کے برعکس، فی تولہ چاندی کی قیمت 50 روپے کی کمی سے 7ہزار 744 روپے اور فی دس گرام چاندی کی قیمت بھی 43روپے کی کمی سے 6ہزار 639روپے کی سطح پر آگئی۔