Blog

  • سندھ؛ اضلاع میں رات  8 بجے اورڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں رات 9 بجے  دکانیں بند ہوں گی

    سندھ؛ اضلاع میں رات 8 بجے اورڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں رات 9 بجے دکانیں بند ہوں گی

    کراچی:(ویب ڈیسک)حکومت سندھ نے کفایت شعاری پالیسی کے تحت صوبے میں کاروباری اوقات محدود کرنے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا۔ حکومتِ سندھ نے ایندھن کی بچت اور حکومتی کفایت شعاری پالیسی کے تحت صوبے بھر میں کاروباری اوقات محدود کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کا اطلاق فوری ہوگا۔نوٹیفکیشن کے مطابق تمام دکانیں، مارکیٹس اور شاپنگ مالز ڈویژنل ہیڈکوارٹرز کے علاوہ دیگر اضلاع میں ہفتے کے ساتوں دن شام 8 بجے تک بند کر دیے جائیں گے، جبکہ ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں یہی کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے۔حکومت نے نوٹی فکیشن میں واضح کیا ہے کہ تندور، دودھ و ڈیری شاپس، بیکریز، میڈیکل اسٹورز، لیبارٹریز، اسپتال اور پیٹرول پمپس ان پابندیوں سے مستثنا ہوں گے۔اسی طرح ہوٹلز، ریسٹورنٹس اور فوڈ آؤٹ لیٹس کو رات 7 بجے سے 11 بج کر 30 منٹ تک کھولنے کی اجازت ہوگی، تاہم ہوم ڈیلیوری اور ٹیک اوے سروس پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔علاوہ ازیں شادی ہالز اور بینکوئٹس کے اوقات بھی مقرر کر دیے گئے ہیں، جن کے مطابق یہ رات 8 بجے سے 12 بجے (نصف شب) تک کھلے رہ سکیں گے۔نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز سندھ پولیس کی مدد سے اپنے اپنے علاقوں میں ان احکامات پر عملدرآمد یقینی بنائیں گے۔

    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا۔اے آئی
    یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • اسلام آباد میں ایران امریکا مذاکرات؛ اہم شاہراہیں بند، امتحانات جزوی طور پر ملتوی

    اسلام آباد میں ایران امریکا مذاکرات؛ اہم شاہراہیں بند، امتحانات جزوی طور پر ملتوی

    اسلام آباد:(ویب ڈیسک )وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں امن مذاکرات کے سلسلے میں غیر ملکی وفود کی آمد کے پیش نظر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں جس کے تحت متعدد اہم شاہراہوں کو مختلف اوقات میں بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق 9 اور 10 اپریل کو شہر کے مختلف راستوں پر ٹریفک کی روانی متاثر رہے گی تاہم شہریوں کی سہولت کے لیے متبادل راستوں کا بھی اعلان کر دیا گیا ہے۔حکام کے مطابق جی ٹی روڈ پشاور سے راولپنڈی آنے والے مسافر ٹیکسلا موٹر وے، چکری، چک بیلی روڈ اور روات کا راستہ اختیار کریں جبکہ لاہور سے پشاور جانے والی ٹریفک کو بھی انہی متبادل راستوں پر منتقل کیا جائے گا۔اسی طرح مارگلہ روڈ کے سیکٹرز ایف 6، جی 5، جی 6 اور جی 7 سے راولپنڈی جانے والوں کو نائنتھ ایونیو استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے جبکہ فیصل ایونیو سے زیرو پوائنٹ جانے والی ٹریفک کو بھی نائنتھ ایونیو کی جانب موڑا جائے گا۔بھارہ کہو سے راولپنڈی جانے والے شہری رنگ روڈ، بنی گالہ اور ترلائی روڈ استعمال کریں، جبکہ راولپنڈی سے اسلام آباد آنے والوں کو صدر مری روڈ کے ذریعے نائنتھ ایونیو اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ٹریفک پولیس کے مطابق زیرو پوائنٹ سے فیصل ایونیو تا کورال چوک ایکسپریس وے دونوں اطراف سے بند رہے گی جبکہ کرنل شیر خان روڈ سے فیض آباد آنے والوں کو نائنتھ ایونیو سگنل کے ذریعے اسٹیڈیم روڈ استعمال کرنے کا کہا گیا ہے۔
    مزید برآں، پشاور سے لاہور جانے والی ہیوی ٹریفک کو ٹیکسلا موٹر وے اور ترنول پھاٹک کے راستے فتح جنگ موٹر وے کی طرف موڑا جائے گا، جبکہ لاہور سے اسلام آباد اور راولپنڈی آنے والی بھاری ٹریفک کو چک بیلی روڈ کے ذریعے چکری موٹر وے کی طرف منتقل کیا جائے گا۔
    اسلام آباد اور راولپنڈی میں جمعرات اور جمعہ کو تعطیل کا اعلان
    ترجمان کے مطابق 9 اور 10 اپریل تک اسلام آباد میں ہر قسم کی ہیوی ٹریفک کا داخلہ مکمل طور پر بند رہے گا، جبکہ ریڈ زون میں عام شہریوں کی آمد و رفت پر بھی مکمل پابندی عائد ہوگی۔ٹریفک پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور جاری کردہ متبادل راستوں کا استعمال کر کے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کریں۔
    امتحانات جزوی طور پر ملتوی
    کنٹرولر امتحانات کے مطابق اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع تین امتحانی مراکز میں پیپرز نہیں ہوں گے، جی 6/4 اور پرائم منسٹر اسٹاف کالونی جی 5 کے امتحانی مراکز پر امتحانات ملتوی کر دیے گئے۔فیڈرل بورڈ کے مطابق ان امتحانی مراکز کی نئی تاریخوں کا اعلان جلد کیا جائے گا۔واضح رہے کہ فیڈرل بورڈ نے باقی تمام امتحانی مراکز پر امتحانات شیڈول کے مطابق لینے کا اعلان کر رکھا ہے۔

    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا۔اے آئی
    یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • امریکا کو طے کرنا ہوگا کہ وہ واقعی جنگ بندی چاہتا ہے.ایرانی وزیر خارجہ

    امریکا کو طے کرنا ہوگا کہ وہ واقعی جنگ بندی چاہتا ہے.ایرانی وزیر خارجہ

    تہران (ویب ڈیسک )ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے لبنان میں جاری اسرائیلی حملوں پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی جاری ’قتلِ عام‘ کو دیکھ رہی ہے۔ایک بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ عالمی برادری نہ صرف لبنان کی موجودہ صورتحال کا مشاہدہ کر رہی ہے بلکہ یہ بھی دیکھ رہی ہے کہ آیا امریکا اپنے وعدوں اور اعلانات پر قائم رہتا ہے یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے بعد ایسے حملے اس کی سنجیدگی پر سوالیہ نشان ہیں۔ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز کے جنگ بندی سے متعلق بیان کو بھی سوشل میڈیا پر شیئر کیا اور کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان طے شدہ جنگ بندی کی شرائط واضح اور دو ٹوک ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اب فیصلہ امریکا کے ہاتھ میں ہے، گیند اب امریکا کے کورٹ میں ہے، اسے یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ واقعی جنگ بندی چاہتا ہے یا اسرائیل کے ذریعے جنگ کو جاری رکھنا چاہتا ہے، کیونکہ دونوں چیزیں ایک ساتھ ممکن نہیں۔دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق عباس عراقچی اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے درمیان بھی رابطہ ہوا، جس میں ایرانی وزیر خارجہ نے انہیں اسرائیل کی جانب سے مبینہ جنگ بندی خلاف ورزیوں سے آگاہ کیا۔تجزیہ کاروں کے مطابق اس بیان کے بعد خطے میں سفارتی دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے، جبکہ جنگ بندی کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا۔اے آئی
    یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • پاکستان کی سفارتی کامیابی پر بھارتی اینکر کی لائیو شو میں توڑ پھوڑ

    پاکستان کی سفارتی کامیابی پر بھارتی اینکر کی لائیو شو میں توڑ پھوڑ

    ممبی (ویب ڈیسک )خطے میں بڑھتی کشیدگی اور امریکا ایران جنگ کو کامیابی سے روکنے پر پاکستان کی سفارتی صلاحیتوں کی دنیا معترف ہوگئی ہے لیکن پاکستان کی تعریف بھارتی میڈیا سے برداشت نہیں پارہی۔
    بھارت کے مشہور اینکر ارنب گوسوامی مستقل پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی میں مصروف ہیں لیکن ان کے انداز اور الفاظ کے چناؤ نے انھیں خود مذاق کا نشانہ بنادیا۔ارنب گوسوامی کے علاوہ سوشل میڈیا پر ایک اور ویڈیو وائرل ہے، جس میں ایک بھارتی اینکر پاکستان کی کامیابی کا تذکرہ کرتے ہوئے جذباتی ہوجاتا ہے اور غصے میں نیوز روم کا سیٹ توڑ دیتا ہے۔ویڈیو میں اینکر کو کہتے سنا جاسکتا ہے کہ ’’دوستو یہ جو نیوز آئی ہے، سن لیجئے۔ پاکستان نے امریکا اور ایران کے بیچ چھڑنے والا یودھ روک دیا ہے، دنیا کو ہلا دینے والا قدم، پر کیا یہ ہمارے لیے جیت ہے؟ نہیں! ہمیں سوچنا ہوگا، ہمیں پوچھنا ہوگا، کیوں ہمیں ہمیشہ کنارے پر کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ یہ برداشت نہیں ہوتا‘‘۔وائرل ویڈیو کو سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کروایا جارہا ہے اور صارفین اس ویڈیو کو خوب انجوائے کررہے ہیں۔ کمنٹس سیکشن میں دلچسپ تبصرے میں پڑھنے میں آرہے ہیں۔ لیکن یہ ویڈیو حقیقی نہیں ہے۔بھارتی اینکر کی یہ ویڈیو اے آئی ٹول سے بنائی گئی ہے۔ اگر غور کیا جائے تو ویڈیو کی کوالٹی دھندلی ہے اور نیوز اسٹوڈیو میں بیک گراؤنڈ اسکرین پر چلنے والی عبارت میں اسپیلنگ کی غلطیاں ہیں، جو کہ کسی بھی میڈیا ہاؤس میں نہیں ہوتی۔اے آئی سے بنائی گئی یہ فیک ویڈیو سوشل میڈیا صارفین کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہی اور خوب وائرل ہوئی، لیکن اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا۔اے آئی
    یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • لبنان سیزفائر کا حصہ نہیں، معاہدہ ٹوٹا تو ایران ذمہ دار ہوگا، جے ڈی وینس

    لبنان سیزفائر کا حصہ نہیں، معاہدہ ٹوٹا تو ایران ذمہ دار ہوگا، جے ڈی وینس

    واشنگٹن:(ویب ڈیسک )امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا ہے کہ اگر لبنان کے معاملے پر معاہدہ متاثر ہوتا ہے تو یہ ایران کا اپنا فیصلہ ہوگا کیونکہ لبنان کبھی بھی سیزفائر معاہدے کا حصہ نہیں رہا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی نائب صدر نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اس ہفتے شروع ہو رہے ہیں اور یہ عمل پاکستان کے ذریعے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ زمینی حقیقت یہی ہے کہ دونوں ممالک بات چیت کر رہے ہیں۔جے ڈی وینس کے مطابق ایران کی جانب سے 10 نکاتی تجاویز پیش کی گئی ہیں جو تین مختلف مواقع پر دی گئیں تاہم حالیہ نکات زیادہ واضح ہیں اور انہیں امریکی اور پاکستانی مذاکرات کاروں نے بہتر طور پر سمجھا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا وعدہ کیا ہے اور اس وقت جنگ بندی قائم ہے جبکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔امریکی نائب صدر نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے کسی بھی معاہدے کی خلاف ورزی کی تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکا اپنے فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے اور اب توجہ مذاکرات پر مرکوز ہے۔ے سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے کبھی بھی لبنان کو سیزفائر میں شامل کرنے پر اتفاق نہیں کیا اور اس معاملے پر ایران کو غلط فہمی ہے۔ ان کے مطابق لبنان کا مسئلہ الگ ہے اور اسے جلد حل کر لیا جائے گا۔
    انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی نظام کے اندر کچھ عناصر ایسے ہیں جو مذاکرات کے حق میں نہیں اور اسی لیے پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے تاہم امریکا ایک مضبوط پوزیشن میں ہے اور بات چیت کا عمل جاری رکھے گا۔جے ڈی وینس نے یہ بھی عندیہ دیا کہ ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی کا معاملہ بھی مذاکرات کا حصہ بن سکتا ہے جبکہ حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا۔اے آئی
    یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • چالیس دن کی طویل بندش کے بعد مسجد الاقصیٰ کے دروازے نمازیوں کیلئے کھل گئے

    چالیس دن کی طویل بندش کے بعد مسجد الاقصیٰ کے دروازے نمازیوں کیلئے کھل گئے

    مقبوضہ بیت المقدس(ویب ڈیسک ) اسرائیلی حکام نے 40 روز تک بند رہنے کے بعد مسجد الاقصیٰ کو نمازیوں کے لیے دوبارہ کھول دیا ہے، جس کے بعد بڑی تعداد میں فلسطینی مسلمان عبادت کے لیے مسجد پہنچ گئے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مسجد الاقصیٰ کو صبح سویرے کھولا گیا، جہاں سیکیورٹی پابندیوں میں نرمی کے بعد نمازیوں کو داخلے کی اجازت دی گئی۔ مسجد کھلتے ہی عقیدت مندوں کی بڑی تعداد نے اس مقدس مقام کا رخ کیا اور نماز ادا کی۔اسرائیلی حکام کی جانب سے یہ بھی اعلان کیا گیا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس میں دیگر مقدس مقامات کو بھی دوبارہ کھول دیا گیا ہے، جس سے مذہبی سرگرمیوں کی بحالی شروع ہو گئی ہے۔اسرائیل نے ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے بعد سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر مسجد الاقصیٰ سمیت کئی مقدس مقامات کو بند کر دیا تھا۔ اب 40 دن بعد ان مقامات کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ماہرین کے مطابق اس اقدام سے علاقے میں وقتی طور پر مذہبی سرگرمیوں میں بہتری آئے گی، تاہم مجموعی صورتحال اب بھی حساس ہے۔
    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا۔اے آئی
    یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • اسرائیل نے جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا، لبنان پر فضائی حملے جاری

    اسرائیل نے جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا، لبنان پر فضائی حملے جاری

    اسلام آباد(ویب ڈیسک)امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملے جاری رہنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس سے خطے میں صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔رپورٹس کے مطابق پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکا، ایران اور ان کے اتحادی فوری جنگ بندی پر متفق ہوگئے ہیں، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ تاہم بعد ازاں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر نے واضح کیا کہ اس جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی لبنان کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فضائی حملے جاری رہے۔
    مکابرہ میں فضائی حملہ کیا گیا جبکہ خیام میں شدید گولہ باری کی گئی، جہاں گزشتہ ہفتوں کے دوران حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان شدید جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔اسی طرح جنوبی شہر تائر میں بھی متعدد فضائی حملے کیے گئے، جن میں سے ایک حملہ ایک اسپتال کے قریب ہوا اور یہ حملہ امریکی صدر ٹرمپ کے جنگ بندی اعلان کے فوراً بعد کیا گیا۔تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل کی جانب سے لبنان کو جنگ بندی سے خارج کرنے اور حملوں کے تسلسل سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔اس صورتحال نے جنگ بندی کے مستقبل پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جبکہ عالمی برادری اس تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا۔اے آئی
    یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف کی امریکا اور ایران کو دعوت، مذاکرات 10 اپریل کو اسلام آباد میں ہوں گے

    وزیراعظم شہباز شریف کی امریکا اور ایران کو دعوت، مذاکرات 10 اپریل کو اسلام آباد میں ہوں گے

    اسلام آباد:(ویب ڈیسک )وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ ایران اور امریکا نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر لبنان سمیت مختلف خطوں میں فوری جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔وزیرِ اعظم شہباز شریف کے مطابق یہ جنگ بندی فوری طور پر نافذ العمل ہو چکی ہے جسے خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔انہوں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے دونوں ممالک کی قیادت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ اقدام دانشمندی اور دور اندیشی کا مظہر ہے۔وزیرِ اعظم نے اعلان کیا کہ ایران اور امریکا کے وفود کو جمعہ، 10 اپریل 2026 کو اسلام آباد مدعو کیا گیا ہے تاکہ تمام تنازعات کے حتمی حل کے لیے مزید مذاکرات کیے جا سکیں۔شہباز شریف نے کہا کہ دونوں فریقین نے غیر معمولی فہم و فراست کا مظاہرہ کرتے ہوئے امن و استحکام کے فروغ کے لیے تعمیری کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسلام آباد مذاکرات پائیدار امن کے حصول میں اہم سنگِ میل ثابت ہوں گے اور آنے والے دنوں میں مزید مثبت پیش رفت سامنے آئے گی۔
    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا۔اے آئی
    یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • جنگ بندی کا دنیا بھر میں خیر مقدم، پاکستانی کردار کی تعریف

    جنگ بندی کا دنیا بھر میں خیر مقدم، پاکستانی کردار کی تعریف

    اسلام آباد (ویب ڈیسک )امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد دنیا بھر کے ممالک نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن کے قیام پر زور دیا ہے۔امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ اس جنگ بندی کے تحت ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے گا، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمندری گزرگاہ ہے۔اطلاعات کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مستقل امن معاہدے کے لیے مذاکرات اسلام آباد میں جمعہ سے شروع ہوں گے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوتریس نے جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ اس معاہدے کی مکمل پابندی کریں تاکہ خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکے۔انہوں نے شہریوں کے تحفظ اور انسانی نقصان کو کم کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا اور پاکستان سمیت دیگر ممالک کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔آسٹریلیا، ملائیشیا، جاپان، مصر، عراق اور نیوزی لینڈ سمیت متعدد ممالک نے اس جنگ بندی کو مثبت پیش رفت قرار دیا ہے اور زور دیا ہے کہ تمام فریقین کشیدگی میں کمی کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔مصر کی وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ جنگ بندی مذاکرات اور سفارتکاری کے لیے ایک اہم موقع ہے، جس سے فائدہ اٹھانا ضروری ہے۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے بھی امید ظاہر کی کہ یہ اقدام خطے میں دیرپا استحکام کا باعث بنے گا، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ مستقل امن کے لیے مزید کوششیں درکار ہیں۔عالمی رہنماؤں نے پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کی ثالثی کوششوں کو بھی سراہا، جنہوں نے اس جنگ بندی کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ جنگ بندی ایک مثبت قدم ہے، لیکن خطے میں دیرپا امن کے لیے فریقین کو مکمل سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنا ہوں گے۔
    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا۔اے آئی
    یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • سونا مزید مہنگا، عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمت میں اچانک بڑا اضافہ

    سونا مزید مہنگا، عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمت میں اچانک بڑا اضافہ

    کراچی:(کامرس ڈیسک )سونے کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمت آج اچانک بڑے اضافے کے ساتھ مزید بلند ہو گئی۔بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج بدھ کے روز فی اونس سونے کی قیمت میں 157ڈالر کا بڑا اضافہ ریکارڈ ہوا، جس کے نتیجے میں نئی عالمی قیمت 4ہزار 814ڈالر کی سطح پر آگئی ۔عالمی مارکیٹ کے زیر اثر مقامی صرافہ بازاروں میں بھی 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت میں یکدم 15ہزار 700روپے کا بڑا اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں نئی قیمت 5لاکھ 4ہزار 162روپے کی سطح پر آگئی۔اسی طرح ملک میں فی 10 گرام سونے کی قیمت 13ہزار 460روپے بڑھ کر 4لاکھ 32ہزار 237روپے کی سطح پر آگئی۔سونےکی قیمتوں کے ساتھ ساتھ مقامی مارکیٹ میں فی تولہ چاندی کی قیمت بھی 440 روپے کے اضافے سے 8ہزار 184 روپے کی سطح پر آگئی اور اسی طرح فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 377روپے کے اضافے سے 7ہزار 016روپے کی سطح پر آگئی۔

    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا۔اے آئی
    یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔