Blog

  • امریکی  صدر ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ  جنگ کی طرف نہیں جائیں گے،بر طانوی  جریدہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ جنگ کی طرف نہیں جائیں گے،بر طانوی جریدہ

    لندن(ویب ڈیسک)
    برطانوی جریدے دی اکانومسٹ نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف دوبارہ جنگ کی طرف نہیں جائیں گے ، وہ سمجھ چکے ہیں انہیں یہ جنگ شروع ہی نہیں کرنی چاہیے تھی۔

    دی اکنامسٹ کے مطابق ہر جنگ میں کم ازکم کسی ایک کی شکست ہوتی ہے، اگر ایران میں جاری جنگ میں سیز فائر سے جنگ کاخاتمہ ہوا تو سب سے بڑی شکست کھانے والے امریکی صدر ٹرمپ ہوں گے۔

    دی اکنامسٹ کے مطابق ایران کے خلاف اس جنگ نے امریکی طاقت کو چلانے کے نئے طریقے کے لیےصدرٹرمپ کے وژن کی کمزوری کو ظاہر کر دیا ہے۔

    دی اکنامسٹ کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ دوبارہ جنگ کی طرف نہیں جائیں گے ، اب وہ سمجھ چکے ہیں کہ انہیں یہ جنگ شروع ہی نہیں کرنی چاہیے تھی۔

    رپورٹ کےمطابق امریکی صدر ٹرمپ کے ایران کو تباہ کرنے کی دھمکیوں سے بھرپور اشتعال انگیز بیانات اب اس طرح لگتے ہیں جیسے وہ اپنی پسپائی کو مضبوط ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہوں۔

    دی اکنامسٹ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ جانتے ہیں کہ نئی جنگ منڈیوں میں خوف و ہراس پیدا کرے گی اور سنہری دورکے دعوے کے بعد وہ خود کو مضحکہ خیز بنا سکتے ہیں۔ٹرمپ کے تین بڑے مقاصد مشرق وسطیٰ کو زیادہ محفوظ اور خوشحال بنانا، ایرانی حکومت کا خاتمہ، اور ایران کو مستقل طور پر جوہری طاقت بننے سے روکنا بڑی حد تک پورے نہیں ہو سکے۔

    رپورٹ کے مطابق ایران کے پاس بھی پیچھے ہٹنے کی وجوہات ہیں۔ اس کے رہنما مسلسل نشانہ بن رہے ہیں۔ توانائی اور نقل و حمل کے نظام کی وسیع تباہی ملک کو چلانا مشکل بنا دے گی۔ وہ پابندیوں کے خاتمے کے بھی خواہاں ہیں۔

    دی اکنامسٹ کا کہنا ہے کہ ساتھ ہی ایران کو یہ بھی لگتا ہے کہ وقت مذاکرات میں اس کے حق میں ہے، کیونکہ امریکا مستقل طور پر اپنی فوج کو حملے کے لیے تیار نہیں رکھ سکتا۔ ایران کے پاس مؤثر بحری یا فضائی طاقت نہیں اور اس نے اپنے کئی میزائل اور ڈرون کھو دیے یا استعمال کر لیے ہیں۔ مزید بنانے کے لیے اسے اس حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا کہ اس کی معیشت ہزاروں امریکی اور اسرائیلی حملوں سے کئی سال پیچھے جا چکی ہے۔

    رپورٹ کےمطابق یہ جنگ جوہری خطرے کو بھی بڑھا سکتی ہے۔ اگرچہ ایران کی تنصیبات کو نقصان پہنچا، لیکن اعلیٰ درجے کا افزودہ یورینیم اب بھی موجود ہے، جو کئی بم بنانے کے لیے کافی ہے۔ ایران پابندیوں کے خاتمے کا خواہاں ہے، لیکن مستقبل کے حملوں سے بچاؤ کے لیے جوہری ہتھیار بنانے کی ترغیب بھی بڑھ گئی ہے، جو خطے میں جوہری پھیلاؤ کا باعث بن سکتی ہے۔

    دی اکنامسٹ کا کہنا ہے کہ امریکا میں بھی اسرائیل کے بارے میں رائے منفی ہوتی جا رہی ہے، جس سے اس کی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق یہ جنگ ظاہر کرتی ہے کہ صرف طاقت ہی حق نہیں ہوتی۔ اگرچہ امریکا کی فوجی برتری واضح تھی، ایران نے محدود وسائل کے ساتھ غیر متوازن جنگ لڑی۔ بغیر حکمت عملی کے طاقت کے استعمال نےامریکا کی طاقت کو کمزور کیا۔

    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت یافتہ ہنگری حکومت کو شکست ہوگئی۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت یافتہ ہنگری حکومت کو شکست ہوگئی۔

    بڈاپسٹ(ویب ڈیسک )
    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہنگری کی اپوزیشن جماعت “تیسزا پارٹی” نے حیران کن کامیابی حاصل کرتے ہوئے وزیراعظم وکٹر اوربان کی جماعت فیدیز کو واضح شکست دے دی ہے۔
    وزیرِاعظم وکٹر اوربان نے اتوار کو پارلیمانی انتخابات میں اپنے حریف قدامت پسند پیٹر میجیار (Peter Magyar)کے ہاتھوں شکست تسلیم کر لی۔
    پیٹر سابق حکومتی اندرونی شخصیت اور ایک نئے سیاسی رہنما ہیں، جنہوں نے “نظام کی تبدیلی” کا وعدہ کیا ہے۔
    پارلیمانی انتخابات میں پیٹر کی کامیابی کے بعد حامیوں نے جشن نے منایا، لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے ، رات بھر خوشی منا ئی ۔
    وزیرِاعظم وکٹر اوربان نے کہا کہ انتخابی نتائج، اگرچہ ابھی حتمی نہیں، مگر واضح اور قابلِ فہم ہیں، ہمارے لیے یہ تکلیف دہ ہیں لیکن میں جیتنے والی جماعت کو مبارکباد دیتا ہوں۔
    واضح رہے کہ وکٹر اوربان گزشتہ 16 برس سے ہنگری کے وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہے۔
    دوسری جانب یورپی رہنماؤں میں ہنگری میں اپوزیشن کی جیت کو یورپ کی جیت قرار دے دیا۔
    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • پاکستان نے ایرانی وفد کے طیارے کی حفاظت کے لئے غیر معمولی اقدامات کئے

    پاکستان نے ایرانی وفد کے طیارے کی حفاظت کے لئے غیر معمولی اقدامات کئے

    اسلام آباد(ویب ڈیسک ) مذاکرات میں حصہ لینے کیلئے گزشتہ رات پاکستان آنے والے ایرانی وفد کے طیارے کی حفاظت کیلئے انتہائی غیر معمولی اقدامات کیے گئے تھے جو کئی تہوں پر مشتمل تھے۔
    پاکستان کے ایوی ایشن ذرائع کے مطابق ایرانی وفد کو لانے والے طیارے نے دارالحکومت تہران سے سوا 400کلومیٹر دور بحیرہ کیسپین کے کنارے گورگان ائیرپورٹ سے اڑان بھری تھی۔
    شہری ہوا بازی سے متعلق ایک اہم ذریعے نے نمائندہ جیو نیوز کو بتایا کہ پاکستانی ائیر ٹریفک کنٹرولرز کو پہلے ہی آگاہ کردیا گیا تھا کہ ایرانی مہمانوں کے طیارے کا ٹرانسپونڈر بند ہوگا۔
    طیارے کا ٹرانسپونڈر بند کیوں کیا جاتا ہے؟
    جس طیارے کا ٹرانسپونڈر بند ہوتا ہے وہ کمرشل طیاروں کی نگرانی کرنے والے سکینڈری ریڈار پر نظر نہیں آ تا تاہم اس طیارے کو فوجی مقاصد کیلئے استعمال ہونے والے پرائمری ریڈار پر دیکھا جاسکتا ہے لیکن ٹرانسپونڈر بند ہونے کی وجہ سے پرائمری ریڈار پر بھی اس طیارے سے متعلق بنیادی معلومات دستیاب نہیں ہوتیں، یہ طیارہ پرائمری ریڈار پر صرف ایک نقطے کی صورت حرکت کرتا نظر آتا ہے۔
    ایرانی طیارے کی حفاظت کیلئے کیا گیا ایک انتظام یہ تھا کہ ایرانی طیارے کے ساتھ ساتھ ایک پاکستانی ائیر لائن کا طیارہ بھی اڑ رہا تھا ، اس پاکستانی طیارے کا ٹرانسپونڈر کھلا ہوا تھا، دنیا بھر کے ریڈار اس روٹ پر پاکستان کا ائیر بس اے 321 طیارہ دیکھ رہےتھے جب کہ اس کے ساتھ ساتھ ایران کا ائیر بس اے 300 طیارہ ٹرانسپونڈر بند کیے خاموشی سے اڑتا رہا، پاکستان ائیر لائن کا طیارہ ایرانی طیارے کو نور خان ائیربیس پر لینڈ کروا کر واپس اسلام آباد ائیرپورٹ کی جانب چلا گیا۔
    Air mobility deception
    طیاروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے ایک صارف نے سماجی رابطے کی سائٹ پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ وہ Iran 04 کے کال سائن کے ساتھ جس طیارے کو مانیٹر کر رہا تھا وہ ائیر بس اے 321 نکلا جب کہ اصل ایرانی طیارہ ائیربس اے 300 تھا۔
    ایوی ایشن ذرائع کے مطابق ایرانی طیارے کیلئے کیے گئے انتظام کو Air mobility deception کہتے ہیں۔
    ایرانی طیارے کی حفاظت کیلئے پاکستان ائیر فورس کے انتظامات اس کے علاوہ تھے ، بحیرہ کیسپین کے کنارے سے اڑان بھرنے والے ایرانی طیارے نے افغانستان پر طویل پرواز کی اور چمن کے راستے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوا۔
    اس دوران خلیج کے وار زون سے لے کر پورے افغانستان اور اسلام آباد تک اواکس اور لڑاکا طیاروں پر مشتمل فضائی نگرانی اور حفاظت کا مؤثر نظام کام کرتا رہا۔

    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا۔اے آئی
    یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • ایران کا جوہری پروگرام مذاکرات کا مرکزی محور ہوگا

    ایران کا جوہری پروگرام مذاکرات کا مرکزی محور ہوگا

    اسلام آباد:(ویب ڈیسک ) جب امریکا اور ایران کے وفود اہم مذاکرات کیلئے اسلام آباد میں آمنے سامنے بیٹھے ہیں، توقع ہے کہ وسیع لیکن پیچیدہ نوعیت کے مسائل بحث پر حاوی رہیں گے۔
    پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے یہ مذاکرات ایک نازک جنگ بندی پر پیش رفت کو آگے بڑھانے اور ایک وسیع تر معاہدے کی راہیں تلاش کرنے کیلئے منعقد کیے جا رہے ہیں۔
    مذاکرات دو متقابل تجاویز کے گرد ترتیب دیے گئے ہیں۔ ایران نے مطالبات کی مد میں 10 نکاتی فریم ورک تیار کیا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں امریکا نے 15 نکاتی منصوبہ پیش کیا ہے۔ اگرچہ دونوں فریقین نے بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم نمایاں اختلافات بدستور موجود ہیں۔ ان مذاکرات کا مرکز ایران کا جوہری پروگرام ہے۔
    واشنگٹن اس بات کی مضبوط یقین دہانیوں کا مطالبہ کر رہا ہے کہ تہران جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا، اس کے ساتھ سخت اور محدود یورینیم افزودگی اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی جانب سے سخت نگرانی بھی شامل ہے۔
    تاہم، ایران پرامن جوہری سرگرمیوں کے حق کو تسلیم کیے جانے کا خواہاں ہے، جن میں افزودگی بھی شامل ہے، اور اسے وہ اپنی قومی خودمختاری کا معاملہ قرار دیتا ہے۔ اقتصادی پابندیاں ایک اور مرکزی مسئلہ ہیں۔ ایران امریکا اور دیگر عالمی پابندیوں کے فوری اور مکمل خاتمے کے ساتھ بیرونِ ملک منجمد اپنے مالی اثاثوں کی واپسی کا مطالبہ کر رہا ہے۔
    امریکی مؤقف اس سے نمایاں طور پر مختلف ہے، جو ایران کی جانب سے جوہری اور سکیورٹی وعدوں پر قابلِ تصدیق عملدرآمد کے ساتھ منسلک مرحلہ وار پابندیوں میں نرمی کے حق میں ہے۔
    اسٹریٹجک لحاظ سے انتہائی اہمیت کے حامل آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور رسائی بھی ایک بڑا متنازع پوائنٹ ہے۔ ایران اس گزرگاہ پر اپنے ضابطہ جاتی کردار کو باضابطہ طور پر تسلیم کرانے کا خواہاں ہے، جس کیلئے وہ اپنی جغرافیائی اور معاشی اہمیت کا حوالہ دیتا ہے۔
    دوسری جانب، امریکا عالمی توانائی رسد میں آبنائے ہرمز کی اہمیت کے پیشِ نظر کسی پابندی کے بغیر مکمل طور پر کھلی اور محفوظ بین الاقوامی بحری گزرگاہوں پر اصرار کر رہا ہے۔ علاقائی اثر و رسوخ بھی ایک حساس موضوع ہے۔
    واشنگٹن مشرقِ وسطیٰ میں اتحادی مسلح گروہوں کیلئے ایران کی حمایت کے خاتمے پر زور دے رہا ہے، جبکہ ایران ان گروہوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کے خاتمے اور علاقائی تنازعات میں وسیع تر کشیدگی میں کمی کا مطالبہ کر رہا ہے۔
    ایران نے خطے سے امریکی افواج کے انخلاء اور عدم جارحیت کی باضابطہ ضمانت کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ امریکا نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ سکیورٹی وعدوں کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے فوجی کردار میں کمی پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔ ایک اور متنازع مسئلہ ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام ہے۔
    امریکا ایران کی میزائل ڈویلپمنٹ اور وسیع تر دفاعی صلاحیتوں کو محدود کرنے کا خواہاں ہے، جبکہ ایران ایسے مطالبات کو اپنے حقِ دفاع پر قدغن تصور کرتا ہے۔ تہران نے حالیہ جنگ کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کے ازالے کا معاملہ بھی اٹھایا ہے، جبکہ توقع ہے کہ امریکا اپنے مفادات اور اتحادیوں پر حملوں کے حوالے سے احتساب پر زور دے گا۔
    دو ہفتوں کی جنگ بندی کی مدت قریب آنے کے ساتھ، ذرائع تسلیم کرتے ہیں کہ پیش رفت ممکنہ طور پر مرحلہ وار ہوگی، جس کا آغاز دونوں فریقین کی جانب سے اعتماد سازی کے اقدامات سے ہوگا۔ اگرچہ کسی بڑی پیش رفت کی فوری توقع نہیں، تاہم ذرائع کے مطابق مذاکرات جاری رہنے کا امکان ہے، جس کا مطلب جنگ بندی میں توسیع بھی ہو سکتا ہے۔

  • سابق امریکی سفارت کار نے پاکستان سے حسد میں مبتلا بھارتی اینکر کو کھری کھری سُنادی

    سابق امریکی سفارت کار نے پاکستان سے حسد میں مبتلا بھارتی اینکر کو کھری کھری سُنادی

    ممبئی (ویب ڈیسک )سابق امریکی سفارت کار نے پاکستان سے حسد میں مبتلا بھارتی اینکر کولائیو شو میں کھری کھری سُنادی۔سابق امریکی سفارتکار نے ایک بھارتی ٹی وی پروگرام میں پاکستان سے متعلق سوالات پر بھارتی اینکر کو سخت جواب دیتے ہوئے کہا کہ امریکی نائب صدر کی پاکستان میں سکیورٹی پر اٹھائے گئے خدشات بے بنیاد ہیں۔
    ان کا کہنا تھا کہ امریکی نائب صدر پاکستان میں مکمل طور پر محفوظ ہیں اور بھارتی میڈیا کا طرز عمل اسکول کے بچوں جیسا ہے۔
    سابق امریکی سفارتکار نے کہا کہ یہ معاملہ زندگیوں، روزگار اور مہنگے پٹرول جیسے اہم مسائل سے جڑا ہوا ہے، جسے غیر ضروری طور پر بھارت پاکستان تنازع میں تبدیل کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے بھارتی میڈیا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے نازک معاملے پر غیر ذمہ دارانہ رویہ مناسب نہیں۔
    انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی میڈیا کو بے کار بحث میں الجھنے کے بجائے جنگ بندی جیسے مثبت اقدام کو سراہنا چاہیے۔ ان کے مطابق خطے میں امن کے لیے سنجیدہ رویہ اختیار کرنا ضروری ہے۔
    ماہرین کا کہنا ہے کہ امن مذاکرات جیسے حساس معاملے کو متنازع بنانے سے خطے میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے، جبکہ پاکستان کے خلاف پراپیگنڈے کی کوششیں سفارتی ماحول کو متاثر کرتی ہیں۔

    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا۔اے آئی
    یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • سفارتی فتح کے نتیجے میں پاکستان کے پاسپورٹ کی ساکھ میں نمایاں بہتری

    سفارتی فتح کے نتیجے میں پاکستان کے پاسپورٹ کی ساکھ میں نمایاں بہتری

    کراچی (ویب ڈیسک )پاکستان دنیا میں امن کی پہچان اور روشن مثال بن گیا، پاکستانی پاسپورٹ دنیا کے ایک سو ایک بہترین پاسپورٹ میں شامل ہوگیا۔
    تفصیلات کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی رینکنگ میں ایک سو ایک بہترین پاسپورٹس میں شامل ہوگیا ، عالمی میڈیا آؤٹ لیٹس نے اسے پاکستان کی سفارتکاری کی بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔
    پاکستان نے گزشتہ کئی ہفتوں سے دونوں ملکوں کے درمیان پیغام رسانی کا ذریعہ بن کر تناؤ کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، سفارتی فتح کے نتیجے میں پاکستان کی عالمی سطح پر ساکھ میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا۔اے آئی
    یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • ڈونلڈ ٹرمپ  ایران کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے کے حوالے سے پرامید

    ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے کے حوالے سے پرامید

    واشنگٹن:(ویب ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ جلد ہو سکتا ہے اور پیش رفت مثبت سمت میں جاری ہے جبکہ اسرائیل بھی اپنے حملے کم کر دے گا۔
    ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے کے حوالے سے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدہ قریب ہو سکتا ہے اور پیش رفت مثبت سمت میں جاری ہے۔
    امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اسلام آباد میں جاری مذاکرات کے حوالے سے بہت پُرامید ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ سفارتی کوششیں جلد نتائج دیں گی۔
    ان کے مطابق خطے میں کشیدگی میں کمی متوقع ہے اور اسرائیل بھی اپنے حملے کم کرے گا۔
    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت مذاکرات میں معقول رویہ اختیار کیے ہوئے ہے تاہم اگر معاہدہ نہ ہوا تو صورتحال بہت تکلیف دہ ہو سکتی ہے۔
    انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ بینجمن نیتن یاہو نے حالیہ ٹیلیفونک گفتگو میں لبنان پر حملوں میں کمی پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
    صدر ٹرمپ کے مطابق ایران کے ساتھ بات چیت میں پیش رفت ہو رہی ہے اور دونوں جانب سنجیدگی دکھائی جا رہی ہے، جو ممکنہ امن معاہدے کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔
    انہوں نے کہا کہ اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک اہم پیش رفت ہوگی۔

    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا۔اے آئی
    یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • اسرائیلی حملے،بیروت کے اسپتال زخمیوں سے بھر گئے

    اسرائیلی حملے،بیروت کے اسپتال زخمیوں سے بھر گئے

    بیروت:(ویب ڈیسک ) لبنان کے دارالحکومت میں حالیہ اسرائیلی حملوں کے بعد اسپتال زخمیوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ سے نمٹنے میں شدید مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں، جبکہ ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ طبی سہولیات اور ضروری سامان تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔
    رپورٹس کے مطابق بدھ کے روز اسرائیلی فضائی حملوں میں ملک بھر میں 100 سے زائد مقامات کو چند منٹوں میں نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد سینکڑوں زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ بیروت اسپتال میں ایک گھنٹے کے اندر 70 سے زائد زخمی لائے گئے، جن میں سے کئی جانبر نہ ہو سکے۔
    لبنانی وزارت صحت کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق ان حملوں میں 300 سے زائد افراد جاں بحق اور ایک ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے، جن میں بڑی تعداد بچوں، خواتین اور بزرگوں کی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ زیادہ تر اموات عمارتیں گرنے اور دھماکوں کے باعث ہونے والی شدید چوٹوں کی وجہ سے ہوئیں۔
    عملے کے مطابق اسپتالوں میں آنے والے شدید زخمیوں میں کمسن بچے بھی شامل ہیں، جن میں چند ماہ کے شیر خوار بچے بھی انتہائی نگہداشت میں زیر علاج ہیں۔
    امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ کئی خاندان اپنے لاپتہ عزیزوں کو تلاش کرتے ہوئے اسپتالوں کا رخ کر رہے ہیں، جس سے صورتحال مزید دلخراش ہو گئی ہے۔
    لبنانی ریڈ کراس کے حکام نے اس صورتحال کو “خواب ناک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسپتال پہلے ہی محدود وسائل کے ساتھ کام کر رہے تھے، اور اب یہ حملے نظامِ صحت پر اضافی بوجھ ڈال رہے ہیں۔ کئی اسپتالوں میں ادویات اور طبی آلات کی قلت پیدا ہو رہی ہے جبکہ عالمی ادارہ صحت نے بھی خبردار کیا ہے کہ چند دنوں میں اہم طبی کٹس ختم ہو سکتی ہیں۔
    ماہرین کے مطابق لبنان پہلے ہی معاشی بحران کا شکار ہے، اور جنگی حالات کے باعث درآمدات و برآمدات متاثر ہونے سے ادویات کی فراہمی مزید مشکل ہو گئی ہے۔ بجلی کی کمی کے باعث اسپتال جنریٹرز پر چل رہے ہیں، جس سے اخراجات اور مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
    دوسری جانب شہریوں نے مشکل وقت میں یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خون کے عطیات دینا شروع کر دیے ہیں، تاہم ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس بحران کا اصل حل جنگ کا خاتمہ ہے۔

  • اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو مشکل میں پھنس گئے،سیاسی مستقبل تاریک

    اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو مشکل میں پھنس گئے،سیاسی مستقبل تاریک

    تل ابیب(ویب ڈیسک ) اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو جنگ بندی کے معاملے پر اندرونِ ملک اور عالمی سطح پر شدید دباؤ کا سامنا ہے، جس نے ان کی سیاسی پوزیشن کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔اسرائیلی میڈیا میں جاری حالیہ سروے رپورٹس کے مطابق تقریباً 58 فیصد اسرائیلی عوام ایران کے ساتھ جنگ کے نتائج اور موجودہ جنگ بندی پر شکوک و شبہات رکھتے ہیں۔ دوسری جانب 79 فیصد افراد لبنان میں حزب اللہ کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کے حق میں ہیں۔
    سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ متضاد رائے وزیراعظم نیتن یاہو کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، کیونکہ ایک طرف عوام کی بڑی تعداد جنگ جاری رکھنے کی حامی ہے جبکہ دوسری جانب جنگ بندی پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
    بین الاقوامی سطح پر بھی اسرائیل پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ خاص طور پر امریکا کے ساتھ ساتھ کینیڈا، جرمنی اور دیگر ممالک نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کرے اور کشیدگی کو مزید نہ بڑھائے۔
    ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ انتخابات کے تناظر میں نیتن یاہو کے لیے یہ صورتحال نہایت حساس ہے۔ اگر اسرائیلی عوام کی اکثریت جنگ بندی کے خلاف رہی تو انہیں سیاسی طور پر نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے، جبکہ عالمی دباؤ کو نظرانداز کرنا بھی آسان نہیں ہوگا۔
    تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے دنوں میں نیتن یاہو کو ایک مشکل فیصلہ کرنا ہوگا، جس کا اثر نہ صرف اسرائیل کی داخلی سیاست بلکہ پورے خطے کی صورتحال پر بھی پڑ سکتا ہے۔
    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا۔اے آئی
    یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • سونا کی قیمت میں پھر اضافہ،چاندی بھی مہنگی ہوگئی

    سونا کی قیمت میں پھر اضافہ،چاندی بھی مہنگی ہوگئی

    کراچی:(ویب ڈیسک )سونے کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمت ایک دن کمی کے بعد آج پھر بڑھ گئی۔بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج جمعہ کے روز فی اونس سونے کی قیمت میں 30ڈالر کا بڑا اضافہ ریکارڈ ہوا، جس کے نتیجے میں سونے کی نئی عالمی قیمت 4ہزار 753ڈالر کی سطح پر آگئی عالمی مارکیٹ کے زیر اثر مقامی صرافہ بازاروں میں بھی 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت 3ہزار روپے کے اضافے سے 4لاکھ 97ہزار 662روپے کی سطح پر آگئی جب کہ فی 10 گرام سونے کی قیمت 2ہزار 572روپے بڑھ کر 4لاکھ 26ہزار 664روپے ہوگئی۔اسی طرح ملک میں فی تولہ چاندی کی قیمت 130 روپے کے اضافے سے 8ہزار 014 روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 111روپے کے اضافے سے 6ہزار 870روپے کی سطح پر آگئی۔

    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا۔اے آئی
    یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔