Blog

  • پاک بحریہ کا مقامی ساختہ اینٹی شپ میزائل کا کامیاب تجربہ

    پاک بحریہ کا مقامی ساختہ اینٹی شپ میزائل کا کامیاب تجربہ

    راولپنڈی(ویب ڈیسک ) پاک بحریہ نے مقامی ساختہ اینٹی شپ میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے مطابق مقامی ساختہ اینٹی شپ میزائل نے دور فاصلے پر ہدف کو انتہائی درستگی اور تیز رفتاری سے نشانہ بنایا۔آئی ایس پی آر نے بتایا کہ چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے میزائل فائرنگ کا مشاہدہ کیا جب کہ سائنسدانوں اور انجینئرز کی ٹیم بھی تجربے کے دوران موقع پر موجود تھی۔آئی ایس پی آر کے مطابق میزائل جدید گائیڈنس سسٹم اور اعلیٰ صلاحیت کی حامل ٹیکنالوجی سے لیس ہے، میزائل خطرات سے بچنے اور بدلتی صورتحال میں مؤثر انداز سے ہدف حاصل کرتا ہے۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہےکہ مقامی سطح پر تیار میزائل پاکستان کی تکنیکی مہارت کا واضح ثبوت ہے،کامیاب تجربہ آپریشنل مہارت اور جدید ٹیکنالوجی کے امتزاج کی عکاسی کرتا ہے جب کہ کامیاب تجربے پر صدر، وزیراعظم اور عسکری قیادت نے ٹیم کو سراہا۔آئی ایس پی آر نےکہا ہےکہ پاکستان نیوی سمندری دفاع کو مضبوط اور مؤثر بنانے کیلئے پرعزم ہے، یہ تجربہ سمندر میں مؤثر دفاعی صلاحیت برقرار رکھنے کے عزم کا مظہر ہے جب کہ علاقائی سمندری سکیورٹی اور استحکام یقینی بنانے کیلئے اقدامات جاری ہیں۔

    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا
    اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • ٹرمپ  کی  مثال  ایسی  ہے جیسےایک نااہل، وہمی بوڑھا  شور مچا رہا ہے، امریکی پروفیسر

    ٹرمپ کی مثال ایسی ہے جیسےایک نااہل، وہمی بوڑھا شور مچا رہا ہے، امریکی پروفیسر

    نیو یارک (ویب ڈیسک )کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر اور معروف ماہرِ معاشیات پروفیسر جیفری سکس نے ایران کشیدگی، ناکام مذاکرات اور موجودہ امریکی پالیسی سازی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے ے مطابق جیفری سکس نے اس صورتحال کو غیر منظم، غیر شفاف اور افراتفری پر مبنی قرار دیا اور صدر ٹرمپ کی ذات، رویے اور ذہنی کیفیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں یہ سب کچھ کسی گہری یا انتہائی ذہین حکمت عملی کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ اس میں ایک طرح کی افراتفری شامل ہے۔پروفیسر جیفری سکس کے مطابق درحقیقت ‘امریکا’ کہنا بھی عجیب لگتا ہے کیونکہ یہ امریکا نہیں بلکہ ایک شخص ہے، وہ سمجھتا ہے کہ وہ دھمکی، دباؤ اور شور شرابے کے ذریعے اپنا مقصد حاصل کر سکتا ہے، یہ جزوی طور پر ایک فریب ہے، وہ شروع سے یہی سوچتا آیا ہے کہ وہ مطالبات کرے، دھمکیاں دے، بمباری کرے اور اس کے نتیجے میں اسے کامیابی مل جائے گی۔انہوں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے وہ واقعی اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ وہ دھوکے یا طاقت کے ذریعے کامیاب ہو سکتا ہے، یہ دراصل ایک فرد کا شو ہے، میرے خیال میں ایک وہمی اور نااہل ایک شخص، یہ سب کچھ ایک شخص ڈونلڈ ٹرمپ کے گرد گھوم رہا ہے، میں اس میں کوئی گہری حقیقت نہیں دیکھتا سوائے اس کے کہ ایک نااہل، وہمی بوڑھا آدمی شور مچا رہا ہے، دھمکیاں دے رہا ہے، بمباری کر رہا ہے اور قتل کر رہا ہے تاکہ اپنی مرضی منوا سکے۔ ٹرمپ کی ذہنی کیفیت پر جیفری سکس نے مزید کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے ٹرمپ کا توازن بگڑ چکا ہو، وہ ایسے بیانات اور پوسٹس کر رہا ہے جو معمول سے بہت زیادہ ہٹ کر ہیں، ایسے جملے جو امریکی تاریخ میں کسی صدر نے نہیں کہے۔
    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا
    اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • سوئی ناردرن اور سدرن نے گیس کی قیمتوں میں اضافے کی تیار کرلی، درخواستیں جمع

    سوئی ناردرن اور سدرن نے گیس کی قیمتوں میں اضافے کی تیار کرلی، درخواستیں جمع

    اسلام آباد(ویب ڈیسک )سوئی ناردرن اور سدرن نے نئے مالی سال سے گیس کی قیمتوں میں اضافے کے لیے درخواستیں اوگرا میں جمع کرا دیں۔ سوئی سدرن نے گیس کی اوسط قیمت میں 5306 روپے اور سوئی ناردرن نے 29 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو اضافہ مانگا ہے۔ سوئی ناردرن اور سدرن کی درخواستوں میں آئندہ مالی سال سمیت سابقہ شارٹ فال کی مد میں مجموعی طور پر 1650 ارب روپے کا تخمینہ پیش کیا گیا ہے۔
    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا
    اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • کوئٹہ کو شکست،  پشاور زلمی  کی6 کامیابیوں کیساتھ پہلی پوزیشن برقرار

    کوئٹہ کو شکست، پشاور زلمی کی6 کامیابیوں کیساتھ پہلی پوزیشن برقرار

    کراچی(ویب ڈیسک ) پاکستان سپر لیگ(پی ایس ایل) 11 میں پشاور زلمی نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو با آسانی 8 وکٹوں سے شکست دے کر ایونٹ میں چھٹی فتح حاصل کرلی۔کراچی میں کھیلے گئے میچ میں پشاور زلمی نے ٹاس جیت کر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی پوری ٹیم 20 اوورز میں 154 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔حسن نواز 37 اور رائلی روسو 26 رنز بناکر نمایاں رہے۔اس کے علاوہ خواجہ نافع نے 20 اور کپتان سعود شکیل نے 16 رنز بنائے۔پشاور زلمی کی جانب سے سفیان مقیم اور محمد باسط نے 3،3 وکٹیں حاصل کیں۔جواب میں پشاور زلمی نے بابر اعظم کی شاندار اننگز کی بدولت 155 رنز کا ہدف با آسانی 9 گیندوں قبل ہی پورا کرلیا۔بابر اعظم 71 رنز بناکر ناقابل شکست رہے۔ محمد حارث نے 35، کوشل مینڈس نے 21 اورایرون ہارڈی نے 18 رنز بنائے۔یوں پشاور زلمی نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 8 وکٹوں سے شکست دے کر ایونٹ میں 6 کامیابی حاصل کرلی۔پوائنٹس ٹیبل کی بات کی جائے تو پشاور زلمی ایونٹ میں ناقابل شکست ہے۔ زلمی7 میں سے6 میچز جیت کر 13 پوائنٹس کے ساتھ پہلی پوزیشن پر برقرار ہے۔ اس کا ایک میچ بارش کی نذر ہوگیا تھا۔دوسری جانب کوئٹہ گلیڈی ایٹرز 2 کامیابیوں کے ساتھ پانچویں پوزیشن پر ہے۔

    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا
    اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • مذاکرات کامیاب ہوگئے تو صدر ٹرمپ خود دستخط کرنےاسلام آباد آئیں گے؟

    مذاکرات کامیاب ہوگئے تو صدر ٹرمپ خود دستخط کرنےاسلام آباد آئیں گے؟

    اسلام آباد (ویب ڈیسک )پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین مشاہد حسین سید اور سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ نتیجہ خیز ہونے کی امید ظاہر کردی۔ ٹی وی پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین مشاہد حسین سید نے کہا کہ اگر مذاکرات کامیاب ہوگئے تو صدر ٹرمپ نائب صدر جے ڈی وینس کو دستخط نہیں کرنے دیں گے اور وہ خود دستخط کرنے کے لیے اسلام آباد آئیں گے۔مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان بھی پاکستان آئیں گے۔پروگرام میں بات کرتے ہوئے سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے کہا کہ ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ نتیجہ خیز ہوگا۔یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ آئندہ مذاکرات کے لیے پاکستان کو ترجیحی مقام قرار دیتے ہوئے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی کارکردگی کو سراہا ہے۔امریکی اخبار نیو یارک پوسٹ کے رپورٹر سے گفتگو میں ٹرمپ نے کا کہ آپ وہیں رہیں کیونکہ آئندہ دو دن میں کچھ ہو سکتا ہے اور ہم پاکستان جانے پر زیادہ مائل ہیں۔انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے لیے پاکستان کا انتخاب زیادہ ممکن ہے کیونکہ ’فیلڈ مارشل بہترین کام کر رہے ہیں‘۔
    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف اہم دورے پر سعودی عرب روانہ

    وزیراعظم شہباز شریف اہم دورے پر سعودی عرب روانہ

    اسلام آباد (ویب ڈیسک )وزیراعظم شہباز شریف اہم سرکاری دورے پر سعودی عرب کے لیے روانہ ہو گئے۔وزیراعظم شہباز شریف 15 سے 18 اپریل تک سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کا دورہ کریں گے، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات عطا تارڑ اورمعاون خصوصی طارق فاطمی بھی وزیر اعظم شہباز شریف کے ہمراہ روانہ ہوئے ہیں۔وزیراعظم سعودی عرب اور قطر کے دوروں کے دوران دونوں ممالک کی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے جس میں دوطرفہ تعاون کے ساتھ ساتھ علاقائی امن و سلامتی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔اس کے علاوہ وزیراعظم شہباز شریف پانچویں انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شرکت کے لیے ترکیے کا بھی دورہ کریں گے، جہاں شہباز شریف کی ترک صدر رجب طیب اردوان اور دیگر عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔
    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • غزہ: اسرائیلی حملےمیں 2 بچوں سمیت 11 فلسطینی شہید

    غزہ: اسرائیلی حملےمیں 2 بچوں سمیت 11 فلسطینی شہید

    غزہ: (ویب ڈیسک )حماس کے ساتھ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری ہیں جس میں اسرائیل کے غزہ پٹی میں تازہ حملے کے نتیجےمیں 11 فلسطینی شہید ہوگئے۔غزہ کی سول ڈیفنس اتھارٹی اور خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق شمالی غزہ میں ہونے والے حملوں میں 3 اور 14 سال کے دو بچے شہید ہوگئے۔غزہ کی سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بصل کے مطابق غزہ سٹی میں ایک پولیس گاڑی کو نشانہ بنانے والے حملے میں 4 افراد شہید ہوئے جن میں ایک 3 سالہ بچہ بھی شامل تھا۔غزہ کی وزارت داخلہ نے بھی تصدیق کی کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے شہر کے مرکز میں پولیس گاڑی پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں متعدد افراد شہید اور زخمی ہوئے جب کہ پولیس اہلکار کے بھی شہید ہونے کی اطلاع ملی ہے۔اس کے علاوہ شمالی علاقے بیت لاہیا میں اسرائیلی فورس کی فائرنگ سے ایک اور شہری شہید ہوا، بعد ازاں شام کے وقت غزہ سٹی کے شاطی پناہ گزین کیمپ کے قریب ایک چوک پر اسرائیلی ڈرون حملے میں کئی افراد نشانہ بنے۔غزہ کے الشفاء اسپتال کے مطابق شاطی کیمپ میں ڈرون حملے کے نتیجے میں 5لاشیں اسپتال منتقل کی گئیں۔واضح رہے کہ غزہ میں اکتوبر 2025 سے جاری جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے مسلسل جاری ہیں، اور اب تک تقریباً 760 فلسطینی اس دوران شہید ہوچکے ہیں۔غزہ کی وزارت صحت نے بتایا کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری جنگ میں مجموعی طور پر 72 ہزار 336 فلسطینی شہید اور 2 ہزار 111 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔

  • ٹریفک حادثے میں 2 بہنوں کی ہلاکت ، انتظامیہ نے راتوں رات گڑھا بند کرکے سڑک تعمیر کردی

    ٹریفک حادثے میں 2 بہنوں کی ہلاکت ، انتظامیہ نے راتوں رات گڑھا بند کرکے سڑک تعمیر کردی

    کراچی:(ویب ڈیسک ) ناظم آباد نمبر 1 میں گزشتہ رات ٹریفک حادثے میں 2 بہنوں کی ہلاکت کے بعد انتظامیہ نے راتوں رات گڑھا بند کرکے سڑک بھی تعمیر کردی۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ علاقے کے گھروں میں گیس نہیں آرہی تھی اور کھانا نہ پکنے کی وجہ سے بہن بھائی کھانا کھانے باہر گئے تھے۔ علاقہ مکینوں نے بتایا کہ ناظم آباد سے سائٹ جانے والے روڈ پر سیوریج کی وجہ سے سڑک پر گڑھا پڑگیا تھا ، واپس آتے ہوئے رات کو اندھیرے کی وجہ سے بچوں کی موٹر سائیکل بے قابو ہوکر گڑھے میں جاگری۔ حادثے کے نتیجے میں موٹر سائیکل اور اس پر سوار نوجوان اُلٹے ہاتھ پر جبکہ موٹر سائیکل پر سوار دونوں بہنیں سیدھے ہاتھ پر گریں اور ہیوی وہیکل کے پچھلے پہیوں کے نیچے آکر موقع پر ہی جاں بحق ہو گئیں۔ لوگوں نے بتایا کہ حادثے کے بعد انتظامیہ کے لوگ آئے جنہوں نے پہلے گڑھا بند کیا اس کے بعد راتوں رات سڑک بھی بنا دی تاہم سیوریج کا پانی ہونے کی وجہ سے نئی بنی سڑک پھر خراب ہورہی تھی۔ علاقہ مکینوں نے مزید بتایا کہ پورے علاقے میں شاہراہوں، سروس روڈز اور گلیوں میں گڑھے پڑ چکے ہیں اور انتظامیہ غائب ہے جب کہ آئے دن اس طرح کے حادثات سامنے آرہے ہیں۔
    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • ایران نے چینی جاسوس سیٹلائٹ کے ذریعے امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

    ایران نے چینی جاسوس سیٹلائٹ کے ذریعے امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

    لندن(ویب ڈیسک )برطانوی اخبار فنانشنل ٹائمز کے مطابق ایران نے چینی جاسوس سیٹلائٹ کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
    برطانوی جریدے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2024 کے اواخر میں یہ چینی سیٹلائٹ “TEE-01B” پاسداران انقلاب گارڈز کی ایرو اسپیس فورس نے حاصل کی تھی، سیٹلائٹ چین سے خلا میں بھیجے جانے کے بعد ایران کے حوالے کی گئی۔
    رپورٹ کے مطابق ایرانی فوجی کمانڈرز نے اس سیٹلائٹ کو اہم امریکی فوجی تنصیبات کی نگرانی کے لیے استعمال کیا، سیٹلائٹ تصاویر مارچ میں ان مقامات پر ڈرون اور میزائل حملوں سے قبل اور بعد میں حاصل کی گئیں۔
    فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیٹلائٹ نے سعودی عرب کے پرنس سلطان ائیر بیس کی 13، 14 اور 15 مارچ کو تصاویر لیں، 14 مارچ کو امریکی صدر ٹرمپ نے تصدیق کی تھی کہ اس اڈے پر امریکی طیاروں کو نشانہ بنایا گیا
    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیٹلائٹ نے اردن کے موافق السالتی ائیر بیس، بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ کے قریب مقامات، عراق کے اربیل ائیرپورٹ، کویت کے کیمپ بیوہرنگ اور علی السالم ائیر بیس، جبوتی میں کیمپ لیمونئیر اور عمان کے دقم ائیرپورٹ سمیت کئی دیگر تنصیبات کی نگرانی کی۔
    خلیجی ممالک کے سویلین انفرا اسٹرکچر جیسے متحدہ عرب امارات کی خورفکن بندرگاہ، قیدفہ پاور اور ڈی سیلینیشن پلانٹ اور بحرین کی البا ایلومینیم فیکٹری کو بھی مانیٹر کیا گیا۔
    برطانوی جریدے کے مطابق سیٹلائٹ کی ہائی ریزولوشن تقریباً نصف میٹر صلاحیت ایران کو اہداف کی درست شناخت اور حملوں کی مؤثر منصوبہ بندی میں مدد دیتی ہے۔
    ایران کا پہلے کا سیٹلائٹ نور-3تقریباً 5 میٹر ریزولوشن تک محدود تھا جو اتنی تفصیل فراہم نہیں کر سکتا تھا، ایران نے اس سیٹلائٹ سسٹم کے کنٹرول کے لیے 36.6 ملین ڈالر ادا کیے، معاہدے میں سیٹلائٹ، لانچنگ، تکنیکی معاونت اور ڈیٹا انفرا اسٹرکچر کی تفصیلات شامل ہیں۔
    چینی کمپنیوں Earth Eye Co اور Emposat نے سیٹلائٹ اور گراؤنڈ نیٹ ورک فراہم کیا جس سے عالمی سطح پر کنٹرول ممکن ہوا۔
    چین نے ایران کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ غیر مصدقہ معلومات پھیلانے کی مخالفت کرتی ہے اور ہمیشہ امن کے فروغ کے لیے کام کرتی ہے۔

    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • پاکستان کی کامیاب سفارتکاری: بدلتی دنیا میں ایک ابھرتا کردار… شیخ راشد عالم

    پاکستان کی کامیاب سفارتکاری: بدلتی دنیا میں ایک ابھرتا کردار… شیخ راشد عالم

    عالمی سیاست میں بعض لمحات ایسے آتے ہیں جب کسی ایک پیش رفت سے پورا منظرنامہ بدل جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے بعد جو جنگ بندی ہوئی، اس میں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ یہ محض ایک سفارتی کامیابی نہیں بلکہ ایک ایسا موڑ ہے جس نے عالمی سطح پر پاکستان کے بارے میں رائے کو مثبت انداز میں تبدیل کیا ہے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے جس حکمت عملی کے ساتھ سفارتی محاذ پر پیش رفت کی، اس نے نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مدد دی بلکہ عالمی برادری کو یہ پیغام بھی دیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار اور امن پسند ریاست ہے۔ اس پیش رفت کو دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے اور پاکستان کو ایک مؤثر ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان نے اس موقع پر ایک متوازن اور دانشمندانہ پالیسی اپنائی۔ ایک طرف اس نے چین کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو برقرار رکھا، تو دوسری جانب امریکا اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کے ساتھ بھی رابطے مضبوط کیے۔ یہی توازن اسے ایک قابل اعتماد پل بناتا ہے جو مختلف عالمی طاقتوں کو ایک میز پر لا سکتا ہے۔

    عالمی میڈیا میں بھی اس پیش رفت کو نمایاں جگہ ملی ہے۔ متعدد تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے نہایت خاموشی مگر مؤثر انداز میں وہ کام کر دکھایا ہے جو بڑی طاقتیں بھی نہ کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کا نام ایک ایسے ملک کے طور پر لیا جا رہا ہے جو تنازعات کو ہوا دینے کے بجائے انہیں حل کرنے میں کردار ادا کرتا ہے۔

    اس نئی صورتحال کا ایک اہم پہلو بھارت میں پیدا ہونے والا ردعمل بھی ہے۔ وہاں کے میڈیا اور تجزیہ کاروں میں ایک بے چینی دیکھی جا رہی ہے، اور وزیر اعظم نریندر مودی کی خارجہ پالیسی پر تنقید کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ بھارتی حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ جب خطے کے اہم معاملات طے ہو رہے تھے تو بھارت اس عمل سے باہر کیوں رہا؟

    بھارتی تجزیہ کار سوشانت سنگھ جیسے افراد پہلے ہی اس بات کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ بھارت کی سفارتی حکمت عملی مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہی ہے۔ اب جبکہ پاکستان کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے، بھارت میں اس صورتحال کو ایک سفارتی دھچکے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی جو کوششیں کی گئیں، وہ اب دم توڑتی نظر آ رہی ہیں۔ آج کی دنیا میں کوئی بھی ملک، خصوصاً وہ جو جغرافیائی لحاظ سے اہم ہو، مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت، اس کی سفارتی مہارت اور اس کا متوازن رویہ اسے ایک ناگزیر فریق بنا رہے ہیں۔

    یہ بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان نے اس پورے عمل میں جذباتی بیانات کے بجائے عملی اقدامات پر زور دیا۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری نے اس کی کوششوں کو سنجیدگی سے لیا۔ سفارتکاری میں الفاظ سے زیادہ عمل کی اہمیت ہوتی ہے، اور پاکستان نے اس اصول کو بخوبی اپنایا ہے۔

    اگر اس صورتحال کو تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ پاکستان کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ ماضی میں بھی پاکستان نے عالمی سطح پر اہم کردار ادا کیے، مگر حالیہ پیش رفت نے اسے ایک بار پھر عالمی سفارتکاری کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔

    یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ پاکستان کی قیادت نے داخلی استحکام اور خارجی پالیسی کے درمیان ایک توازن قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ کیونکہ کسی بھی ملک کی مضبوط خارجہ پالیسی اسی وقت مؤثر ہوتی ہے جب اس کے اندرونی حالات مستحکم ہوں۔

    دنیا بھر میں پاکستان کی تعریف اس بات کا ثبوت ہے کہ مثبت اور متوازن سفارتکاری ہمیشہ اپنا اثر دکھاتی ہے۔ یہ کامیابی وقتی نہیں بلکہ ایک طویل المدتی حکمت عملی کا نتیجہ ہے، جس میں صبر، تدبر اور درست فیصلوں کا عمل دخل ہے۔

    تاہم، اس کامیابی کے ساتھ ذمہ داریاں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ پاکستان کو اب اس اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے مزید محنت کرنا ہوگی اور اپنی سفارتی پالیسی کو اسی سمت میں جاری رکھنا ہوگا۔

    یہ کالم کسی جذباتی ردعمل کا اظہار نہیں بلکہ ایک حقیقت پسندانہ تجزیہ ہے کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور اس بدلتی دنیا میں پاکستان نے ایک مثبت اور مؤثر کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو پاکستان نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک اہم اور بااثر ملک کے طور پر اپنی جگہ مستحکم کر سکتا ہے۔

    آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ حالیہ پیش رفت نے جنوبی ایشیا کی سیاست میں ایک نئی جہت پیدا کر دی ہے۔ جہاں ایک طرف پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کو سراہا جا رہا ہے، وہیں دوسری جانب بھارت کے لیے یہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ دونوں ممالک اپنی اپنی پالیسیوں کو کس طرح آگے بڑھاتے ہیں، لیکن فی الحال منظرنامہ واضح طور پر پاکستان کے حق میں جاتا دکھائی دے رہا ہے۔