Blog

  • خبر میں خبر …..خبروں کی تہہ میں بنتا نیا عالمی و علاقائی توازن،ماجد علی سید

    خبر میں خبر …..خبروں کی تہہ میں بنتا نیا عالمی و علاقائی توازن،ماجد علی سید

    ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکراتی عمل ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ یہ معاملہ اب محض دوطرفہ سفارت کاری تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک وسیع علاقائی اور بین الاقوامی فریم ورک اختیار کرتا جا رہا ہے جس میں مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ ساتھ جنوبی ایشیا کے اہم ممالک بھی مختلف سطحوں پر شریک دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان، ترکیہ، قطر اور سعودی عرب جیسے ممالک کی بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ خطہ ایک مرتبہ پھر بڑے سیاسی ارتعاش کے دور میں داخل ہو رہا ہے جہاں ہر قدم نہ صرف محتاط حکمتِ عملی کا متقاضی ہے بلکہ توازن اور رابطہ کاری بھی بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔
    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان کہ اگر ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی صورت بنتی ہے تو وہ پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں، یہ بیان عالمی سفارت کاری میں ایک غیر معمولی سیاسی اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ اس بیان کو محض روایتی سیاسی جملہ قرار دینا بھی شاید اس کی مکمل نوعیت کو سمجھنے کے لیے کافی نہ ہو، کیونکہ اس میں ایک ایسے خطے کا ذکر موجود ہے جو طویل عرصے سے عالمی طاقتوں کے درمیان سفارتی رابطوں اور مذاکراتی کوششوں میں ایک اہم مگر غیر رسمی کردار ادا کرتا آیا ہے۔
    پاکستان کا حوالہ اس تناظر میں اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اسلام آباد کو خطے میں ایک ایسے فریق کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو مختلف طاقتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ صورتحال پاکستان کے لیے نہ صرف ایک سفارتی موقع ہے بلکہ ایک ذمہ داری بھی ہے جس میں توازن، تحمل اور حکمت عملی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
    اسی دوران ایک اہم پیش رفت یہ ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان دوسرے مذاکراتی مرحلے کے 21 یا 22 اپریل کو اسلام آباد میں منعقد ہونے کے امکانات ہیں۔
    اگر یہ تاریخیں حتمی شکل اختیار کرتی ہیں تو یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہوگی کہ دونوں ممالک ابتدائی رابطوں اور اعتماد سازی کے مرحلے سے آگے بڑھ کر ایک منظم مذاکراتی فریم ورک کی طرف جا رہے ہیں۔ تاہم اس مرحلے کی کامیابی یا ناکامی اس بات پر منحصر ہوگی کہ آیا
    دونوں فریق بنیادی اختلافات کو وقتی طور پر نرم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں، کیونکہ جوہری پروگرام، پابندیوں کا نظام اور علاقائی سلامتی کے خدشات اب بھی بنیادی رکاوٹیں ہیں۔
    اسی دوران وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ سفارتی دورے بھی اسی بڑے منظرنامے کا حصہ دکھائی دیتے ہیں۔ ترکیہ، قطر اور سعودی عرب کے دوروں کو محض رسمی روابط تک محدود نہیں سمجھا جا رہا بلکہ انہیں ایک وسیع مشاورت اور علاقائی رابطہ کاری کے سلسلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ خطے میں بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال کے پیش نظر یہ بات اہم ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی میں متحرک نظر آ رہا ہے اور مختلف علاقائی طاقتوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
    ترکیہ اور قطر جیسے ممالک پہلے بھی مختلف بین الاقوامی مذاکراتی عمل میں غیر رسمی سہولت کاری کا کردار ادا کر چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب خطے کی بڑی سیاسی اور معاشی طاقت ہونے کے ناطے ہمیشہ سے اہم سفارتی اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ ایسے میں وزیراعظم پاکستان کے ان ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے اس بات کا اظہار ہیں کہ اسلام آباد خطے میں کسی بھی ممکنہ بڑے سفارتی عمل سے خود کو الگ نہیں رکھنا چاہتا۔
    اسی سفارتی سرگرمی کے تسلسل میں پاکستان اور ایران کی عسکری قیادت کے درمیان بھی اہم روابط دیکھنے میں آئے ہیں۔
    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خطے میں مصروفیات اور بالخصوص ایران کے ساتھ اعلیٰ سطحی رابطوں کو خطے کی مجموعی سفارت کاری میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
    تہران میں ایرانی قیادت کے ساتھ ملاقاتیں اس بات کی علامت ہیں کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات محض رسمی سفارت کاری سے آگے بڑھ کر اب علاقائی سلامتی، سرحدی تعاون اور وسیع تر جغرافیائی سیاسی معاملات تک پھیلتے جا رہے ہیں۔
    اگر ان تمام اقدامات کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو ایک واضح تصویر ابھرتی ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات اب صرف واشنگٹن اور تہران کے درمیان محدود نہیں رہے بلکہ ایک کثیر الجہتی سفارتی عمل کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔
    پاکستان کی بڑھتی ہوئی مصروفیات، ترکیہ اور قطر کی مسلسل سفارتی موجودگی اور سعودی عرب کا فعال کردار اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے میں ایک غیر رسمی مگر مؤثر ڈپلومیٹک نیٹ ورک موجود ہے جو مختلف سطحوں پر اس عمل کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
    تاہم اس تمام تر سفارتی سرگرمی کے باوجود یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ کوئی حتمی معاہدہ قریب ہے یا معاملات کسی واضح نتیجے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان بنیادی اختلافات اب بھی اپنی جگہ موجود ہیں جن میں جوہری پروگرام، علاقائی اثر و رسوخ، اور سیکیورٹی خدشات جیسے پیچیدہ مسائل شامل ہیں۔ ان مسائل کا حل محض بیانات یا ابتدائی رابطوں سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے طویل، صبر آزما اور مسلسل مذاکراتی عمل درکار ہوگا۔
    پاکستان کے لیے یہ صورتحال ایک نہایت نازک مگر اہم موڑ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایک طرف اسلام آباد کے لیے یہ امکان موجود ہے کہ وہ خطے میں ایک سہولت کار یا رابطہ کار کے طور پر اپنے سفارتی کردار کو مزید مضبوط کرے، جبکہ دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کردار کے ساتھ کئی چیلنجز بھی جڑے ہوئے ہیں۔ کسی بھی بڑے بین الاقوامی تنازع میں ثالثی یا سہولت کاری کا کردار ادا کرنا صرف بیانات یا وقتی سرگرمیوں سے ممکن نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے مستقل مزاجی، ادارہ جاتی مضبوطی اور واضح سفارتی حکمت عملی ناگزیر ہوتی ہے۔
    اسی تناظر میں وزیراعظم شہباز شریف کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں کو اگر ایک تسلسل کے طور پر دیکھا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی میں فعال کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ خطے کے اہم ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسلام آباد بدلتی ہوئی عالمی صورتحال سے خود کو الگ رکھنے کے بجائے اس میں ایک ذمہ دار فریق کے طور پر شامل رہنا چاہتا ہے۔
    اسی طرح فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ہر سطح پر ہونے والی مصروفیات کو بھی محض عسکری روابط تک محدود نہیں دیکھا جا سکتا بلکہ یہ وسیع تر اسٹریٹجک سوچ کی عکاسی کرتا ہے جہاں سیکیورٹی، سفارت کاری اور علاقائی استحکام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
    امریکی صدر کے بیان کو اگر اسی مجموعی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کو ایک بار پھر اہمیت دی جا رہی ہے۔
    اگرچہ اس بیان کو کسی حتمی سفارتی پیش رفت کا اعلان نہیں کہا جا سکتا، تاہم یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کا نام خطے کے بڑے مذاکراتی عمل میں ایک ممکنہ رابطہ کار کے طور پر زیر بحث آ رہا ہے۔
    مجموعی طور پر دیکھا جائے تو موجودہ صورتحال ایک ایسے سفارتی موڑ کی نشاندہی کرتی ہے جہاں فیصلے ابھی مکمل طور پر واضح نہیں ہوئے لیکن سمت کا تعین ہونا شروع ہو چکا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات اگر 21 یا 22 اپریل کو منعقد ہوتے ہیں تو یہ ایک اہم سنگِ میل ہوگا

  • ایران کا مذاکرات کے دوسرے دور کیلئے پاکستان نہ آنے کا اعلان

    ایران کا مذاکرات کے دوسرے دور کیلئے پاکستان نہ آنے کا اعلان

    تہران (ویب ڈیسک )ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ ایران کا فی الحال امریکا کے ساتھ کسی نئے مذاکراتی دور کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
    ترجمان کے مطابق موجودہ حالات میں تہران کی جانب سے واشنگٹن کے ساتھ براہِ راست بات چیت کے حوالے سے کوئی پیش رفت زیرِ غور نہیں۔
    اسماعیل بقائی کے مطابق امریکا نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ سفارتی عمل کو آگے بڑھانے میں سنجیدہ نہیں ہے،انہوں نے کہا کہ امریکا نے سیز فائر کی خلاف ورزی کی ہے اور ایران نے ثالث پاکستان کو بتا دیا ہے۔
    انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات بدستور موجود ہیں، جس کی وجہ سے فوری طور پر مذاکرات کا امکان نظر نہیں آتا۔
    سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی، بحری ناکہ بندی، اور جوہری پروگرام جیسے معاملات نے مذاکراتی عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس کے علاوہ خطے میں جاری تنازعات اور اعتماد کے فقدان نے بھی دونوں ممالک کے درمیان فاصلے بڑھا دیے ہیں۔
    ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو مستقبل قریب میں مذاکرات کی بحالی مشکل دکھائی دیتی ہے، جبکہ خطے میں امن کے امکانات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا
    اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھ گیا، کاروبار اور تعلیمی سرگرمیاں متاثر

    لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھ گیا، کاروبار اور تعلیمی سرگرمیاں متاثر

    کراچی (ویب ڈیسک )ملک کے مختلف شہروں میں لوڈشیڈنگ سے کاروبار اور تعلیمی سرگرمیاں شدید متاثر ہیں۔کراچی کے مختلف علاقوں میں اعلانی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 12 گھنٹوں سے بڑھ گیا ہے، شہر کے مستثنیٰ علاقوں میں بھی کئی کئی گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔اُدھر پشاور میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 16 گھنٹے تک پہنچ گیا ہے جبکہ کوئٹہ میں 4 سے 6 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ سے عوام پریشان ہے، بلوچستان کے دیگر اضلاع میں 8 سے 10 گھنٹے کی بجلی بندش معمول بن گئی ہے۔ لیسکو ذرائع کے مطابق لاہور میں غیر اعلانی لوڈشیڈنگ نہیں ہو رہی، شارٹ فال 100 میگاواٹ تک رہ گيا ہے۔ پنجاب کے دیہات اور چھوٹے شہروں میں 2 سے 3 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے۔
    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا
    اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • ایران نے امریکا کی جانب سے تجارتی جہاز پر قبضے کی تصدیق  کردی

    ایران نے امریکا کی جانب سے تجارتی جہاز پر قبضے کی تصدیق کردی

    تہران (ایران نے بحیرۂ عمان میں امریکی فوج کی جانب سے ایرانی تجارتی جہاز پر کارروائی اور قبضے میں لینے کی تصدیق کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس کا جلد جواب دیا جائے گا۔
    نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایرانی مسلح افواج کے ہیڈکوارٹر “حضرت خاتم الانبیاء” کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سمندری قزاقی کا ارتکاب کیا۔
    بیان میں کہا گیا کہ امریکی فورسز نے بحیرۂ عمان کے پانیوں میں ایرانی تجارتی جہاز پر فائرنگ کی اور اس کے نیویگیشن سسٹم کو ناکارہ بنا دیا جبکہ متعدد اہلکار جہاز پر سوار ہو گئے اور جہاز کو قبضے میں لے لیا گیا۔
    ایرانی حکام نے اس کارروائی کو جارحیت قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج اس اقدام کا جلد اور مؤثر جواب دیں گی۔
    واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ آج ایک ایرانی مال بردار جہاز ٹوسکا نے امریکی بحری ناکہ بندی عبور کرنے کی کوشش کی مگر یہ ان کے لیے اچھا ثابت نہیں ہوا، ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز ٹوسکا کو امریکی بحریہ نے تحویل میں لے لیا ہے۔
    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا
    اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز تحویل میں لینے کا دعویٰ

    ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز تحویل میں لینے کا دعویٰ

    واشنگٹن (ویب ڈیسک )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز ٹوسکا کو امریکی بحریہ نے تحویل میں لے لیا ہے۔
    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آج ایک ایرانی مال بردار جہاز ٹوسکا جو لمبائی میں تقریباً 900 فٹ اور وزن میں تقریباً ایک طیارہ بردار جہاز کے برابر ہے، نے ہماری بحری ناکہ بندی عبور کرنے کی کوشش کی مگر یہ ان کے لیے اچھا ثابت نہیں ہوا۔
    ٹرمپ نے بتایا کہ امریکی بحریہ کے گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر یو ایس ایس سپروانس نے خلیجِ عمان میں ٹوسکا کو روک لیا اور رکنے کے لیے باقاعدہ انتباہ جاری کیا لیکن ایرانی عملے نے ہدایات ماننے سے انکار کیا۔
    امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ہماری بحریہ کے جہاز نے ان کے انجن روم میں سوراخ کر کے اس کو وہیں روک دیا اور اس وقت وہ جہاز امریکی میرینز کی تحویل میں ہے۔
    ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ٹوسکا ماضی میں غیر قانونی سرگرمیوں کے باعث امریکی محکمہ خزانہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہے اور ہم نے جہاز کو مکمل طور پر اپنی تحویل میں لے لیا ہے اور اس میں موجود سامان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا
    ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • بنوں آپریشن، فتنہ الخوارج کے 2 دہشتگرد ہلاک

    بنوں آپریشن، فتنہ الخوارج کے 2 دہشتگرد ہلاک

    پشاور (ویب ڈیسک )بنوں میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، جہاں شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد بھارتی سرپرستی میں فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 2 دہشتگرد ہلاک کر دیے گئے۔
    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ہلاک دہشتگردوں میں خارجی رنگ کا لیڈر وحید اللہ عرف مکتیار اور ایک خودکش بمبار شامل ہے، جن سے خودکش جیکٹ، اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا۔
    ترجمان کے مطابق ہلاک ہونے والا خارجی رنگ لیڈر حید اللہ سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور معصوم شہریوں پر حملوں سمیت متعدد دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث اور انتہائی مطلوب تھا۔
    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ حید اللہ 21 فروری 2026 کو بنوں میں ہونے والے خودکش حملے کا بھی مرکزی سہولت کار تھا، جس میں لیفٹیننٹ کرنل گل فراز شہید ہوئے تھے۔آئی ایس پی آر کے مطابق اس کامیاب کارروائی سے نہ صرف بڑے دہشتگرد نیٹ ورک کو نقصان پہنچا بلکہ بروقت ایک بڑی تباہی بھی ٹال دی گئی، سیکیورٹی فورسز کی جانب سے علاقے میں مزید دہشتگردوں کے خاتمے کے لیے سینی ٹائزیشن آپریشن جاری ہے۔
    دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کامیاب آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتہائی مطلوب دہشتگردوں کے خاتمے پر بہادر سپوتوں کو سلام پیش کرتے ہیں محسن نقوی کا کہنا تھا کہ قوم کو سیکیورٹی فورسز کے بہادر جوانوں پر فخر ہے اور پوری قوم ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا
    اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور پیر کو پاکستان میں ہوگا؟

    امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور پیر کو پاکستان میں ہوگا؟

    واشنگٹن (ویب ڈیسک )امریکی ٹی وی نے ایرانی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور پیر کو پاکستان میں ہوگا۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق امریکا نے ایران مذاکرات کے شیڈول کی تصدیق نہیں کی۔خیال رہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور اسلام آباد میں ہوا تھا۔امریکی وفد کی قیادت نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے کی تھی جبکہ ان کے ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف بھی شامل تھے۔ایرانی وفد کی قیادت ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے تھے اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی ان کے ہمراہ تھے۔اسلام آباد مذاکرات کے بعد دونوں وفود نے چند معاملات پر اتفاق کرتے ہوئے ایک اور ملاقات پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا
    ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • غزہ میں پینے کا پانی پہچانے والی گاڑیوں پر اسرائیلی حملہ، 2 افراد ہلاک

    غزہ میں پینے کا پانی پہچانے والی گاڑیوں پر اسرائیلی حملہ، 2 افراد ہلاک

    غزہ (ویب ڈیسک )یونیسیف نے ایک پریس ریلیز میں اطلاع دی کہ یونیسیف کے عملے کو لے جانے والی گاڑیوں پر اسرائیلی حملہ کیا گیا ہے جس میں دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
    میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں گاڑیاں غزہ کی پٹی کے رہائشیوں کو پینے کا پانی پہنچانے کے لیے استعمال کی جارہی تھیں۔ حملے میں مزید دو افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
    پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ یونیسیف نے اسرائیلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر واقعے کی تحقیقات کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ذمہ داروں کا احتساب کیا جائے۔
    یونیسیف کے مطابق، یہ گاڑیاں ایک واٹر اسٹیشن سے معمول کی ترسیل کا ذریعہ تھیں جس کا استعمال لاکھوں لوگوں کو صاف پانی فراہم کرنے کے لیے کیا جاتا تھا۔
    یونیسیف نے تمام ذیلی کانٹریکٹرز پر زور دیا ہے کہ وہ اس علاقے میں فی الحال کام کو روک دیں جب تک کہ حفاظت کی ضمانت نہ مل جائے۔
    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا
    ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • ہمارے یہاں لوگوں کو پیار کرنا بھی نہیں آتا ، اداکارہ طوبیٰ انور

    ہمارے یہاں لوگوں کو پیار کرنا بھی نہیں آتا ، اداکارہ طوبیٰ انور

    کراچی (ویب ڈیسک )پاکستانی اداکارہ طوبیٰ انور نے کہا ہےکہ کسی کو پیار کرنے والی بات ختم ہوگئی اور لوگوں کو پیار کرنا بھی نہیں آتا۔حال ہی میں طوبیٰ انور نے ایک انٹرویو دیا جس میں انہوں نے محبت سے متعلق سوال کا جواب دیا۔اداکارہ نے کہا کہ جب کوئی آپ کو توجہ یا پھر دیکھ بھال کرے تو اسی کو ہی محبت کہتے ہیں لیکن مجھے ایسا بھی لگتا ہے کہ ابھی کسی کو پیار ہو نہیں رہا اور لوگوں کو پیار کرنا بھی نہیں آتا۔انہوں نے کہا مجھے لگتا ہے کسی کو پیار کرنے والی بات ختم ہوگئی ہے، جو ہمارے ماں باپ میں پیار تھا رومانس تھا وہ اب ختم ہوگیا ہے۔اداکارہ کا کہنا تھا کہ جن کے پاس محبت ہے اللہ سے دعا ہے وہ خوش رہیں لیکن لوگ اب ویسے خوش نہیں ہے، لوگ اب چیزوں میں مصروف ہوگئے ہیں، مسائل ہیں یا لوگوں کے پاس مختلف آپشنز ہیں۔طوبیٰ انور نے مزید کہا کہ ہمیشہ ساتھ رہیں گے والی بات نہیں ہے، بالی وڈ سے جو سیکھا ہے اور شاہ رخ خان والی محبت نہیں ہورہی یا ہم بہت فلمی ہیں۔

    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا
    اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • عالمی امن کے لیے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں کوسراہتا ہوں،ائیر چیف

    عالمی امن کے لیے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں کوسراہتا ہوں،ائیر چیف

    کاکول (ویب ڈیسک )ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کا کہنا ہے گزشتہ برس مئی میں آپریشن بنیان المرصوص میں دشمن پاکستان کی طاقت اور ہنرمندی دیکھ کر دنگ رہ گیا۔
    پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ پاک فضائیہ ظہیر احمد بابر سدھو کا کہنا تھا عالمی سطح پر امن کے لیے سیاسی و عسکری قیادت کی کاوشیں قابل ستائش ہیں، عالمی امن کے لیے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں کو خصوصی طور پرسراہتا ہوں۔
    ان کا کہنا تھا پاکستان پرامن ملک ہے اور تنازعات کا حل مذاکرات سے کرنے پریقین رکھتا ہے، معرکہ حق اور بنیان المرصوص میں پاک فوج کی حکمت عملی سب نے دیکھی، پاک فضائیہ نے ناصرف دشمن کے طیارے گرائے بلکہ تاریخ رقم کی۔
    ائیر چیف ظہیر احمد بابر سدھو نے کہا کہ مئی میں دشمن پاکستان کی طاقت اور ہنرمندی دیکھ کر دنگ رہ گیا، پاکستان پر کسی بھی قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
    قبل ازیں ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے پریڈ کا معائنہ کیا اور ٹریننگ کے دوران شاندار کارکردگی دکھانے والے کیڈٹس میں انعامات اور شیلڈز تقسیم کیں۔
    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا
    اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔