Blog

  • پاکستان اس وقت امت مسلمہ کا لیڈر بن چکا ہے: فلسطینی صحافی

    پاکستان اس وقت امت مسلمہ کا لیڈر بن چکا ہے: فلسطینی صحافی

    اسلام آ باد(ویب ڈیسک )فلسطینی صحافی جلال محمود الفرا کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت امت مسلمہ کا لیڈر بن چکا ہے۔جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین مشاہد حسین سید نے کہا کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان کوئی معاہدہ ہو جائے تو اس سے اسرائیل کمزور ہوگا اس کا فائدہ فلسطین اور کشمیر کو ہوگا۔دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبد القیوم نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں سب بڑا مسئلہ فلسطینیوں کے حق خودارادیت کا ہے، مسجد اقصیٰ کی آزادی کا ہے، مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔پروگرام میں شریک فلسطینی صحافی جلال محمود الفرا کا کہنا تھا کہ جب تک مشرق وسطیٰ میں آزاد خود مختار ریاست فلسطین قائم نہیں ہوتی اس وقت تک مسئلہ حل نہیں ہوگا، پاکستان اس وقت امت مسلمہ کا لیڈر بن چکا ہے۔

    : Disclaimer

    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا
    ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • پاکستان کی نئی جیو اکنامک پالیسی : امن کی راہداری جی ایچ کیو سے گزرتی ہے۔شیخ راشد عالم

    پاکستان کی نئی جیو اکنامک پالیسی : امن کی راہداری جی ایچ کیو سے گزرتی ہے۔شیخ راشد عالم

    جب عالمی طاقتیں کسی چوراہے پر کھڑی ہوں، فریقین کے درمیان الفاظ کی گنجائش ختم ہو چکی ہو اور عالمی ادارے اپنی ذات میں گم ہوں، تو تاریخ ایک بار پھر ثابت کرتی ہے کہ اعتماد کی آخری سیڑھی کسی فوجی ہیڈکوارٹر کے صحن میں جا اُترتی ہے۔ آج یہ صحن اسلام آباد کے جی ایچ کیو کا ہے، اور یہ جملہ اب محض جذباتی نعرہ نہیں رہا بلکہ سفارتی جغرافیے کی ایک حقیقت بنتا جا رہا ہے: “امن کی راہداری جی ایچ کیو سے گزرتی ہے”۔
    یہ کوئی افسانہ نہیں، بلکہ اُس خاموش انقلاب کا منطقی انجام ہے جسے پاکستانی عسکری سفارت کاری کے نام سے جانا جا رہا ہے۔ اس انقلاب نے راتوں رات جنم نہیں لیا؛ یہ دہائیوں کے اسٹریٹجک منصوبہ بندی، پیشہ ورانہ تربیت اور غیر معمولی جغرافیائی قسمت کا مرکب ہے۔ لیکن اپریل 2026 میں اس نے جو مرکزیت حاصل کی، وہ عالمی سفارت کاری کے نصاب میں بلاشبہ ایک نئے باب کا اضافہ ہے۔
    ​اکیسویں صدی کی تیسری دہائی میں جب عالمی نظم و ضبط (Global Order) شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور روایتی سفارت کاری کے ایوان خاموش تماشائی دکھائی دیتے ہیں، وہاں جنوبی ایشیا سے ابھرنے والی ایک نئی حقیقت نے دنیا کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ یہ حقیقت پاکستان کی “عسکری سفارت کاری” (Military Diplomacy) ہے، جو اب محض سرحدوں کی حفاظت تک محدود نہیں رہی بلکہ عالمی تنازعات کے حل کے لیے ایک ناگزیر قوت بن کر ابھری ہے۔
    ​سب سے پہلے، اس امر کو تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستان کی عسکری سفارت کاری محض خیالی نہیں بلکہ ایک حقیقی ارتقا کا نام ہے۔ گزشتہ برسوں میں پاک فوج نے سعودی عرب، قطر، ترکیہ اور چین کے ساتھ دفاعی تعلقات کو محض اسلحے کی خرید و فروخت سے نکال کر اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کیا ہے۔ خاص طور پر مارچ 2023 میں بیجنگ کی ثالثی میں سعودی ایران تعلقات کی بحالی کے بعد اسلام آباد نے تہران اور ریاض کے مابین فوجی اعتماد سازی کے لیے جو کوششیں کیں، وہ قابلِ ذکر ہیں۔ یہی پس منظر اس دعوے کو تقویت دیتا ہے کہ پاکستان کے پاس ایران اور امریکہ دونوں سے بات کرنے کی گنجائش موجود ہے۔
    دوسری طرف، یہ بات بھی تسلیم کرنی پڑے گی کہ پاکستانی عسکری قیادت نے “غیر جانبدار مگر متحرک” پالیسی کے ذریعے جو ساکھ بنائی ہے وہ قابلِ رشک ہے۔ نہ تو وہ کسی بلاک کا حصہ بنی اور نہ ہی غیر فعال رہی۔ یہ وہ اثاثہ ہے جس کی بدولت آج اسلام آباد سے یہ پیغام جا سکتا ہے کہ وہ “صرف جنگوں کا سپاہی نہیں بلکہ امن کا پیامبر بھی ہے”۔

    ​تاریخ گواہ ہے کہ جب اقوامِ متحدہ جیسے ادارے بے بس ہو جائیں اور بڑی طاقتوں کے درمیان براہِ راست رابطے منقطع ہو جائیں، تو دنیا کو ایک ایسے ثالث کی تلاش ہوتی ہے جس کی بات میں وزن بھی ہو اور جس کے پاس اسٹریٹجک ساکھ بھی۔ پاکستان کی موجودہ عسکری قیادت، بالخصوص فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بصیرت نے اس سفارتی خلا کو پُر کرنے میں تاریخی سنگِ میل عبور کیے ہیں۔
    ​پاکستان اب علاقائی سیاست کے حاشیے پر کھڑا کوئی تماشائی نہیں، بلکہ مشرقِ وسطیٰ جیسے حساس خطے میں امن کا ضامن بن چکا ہے۔ حالیہ مہینوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں اسلام آباد کا کردار اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ پاکستان کے پاس وہ ‘خاموش رسائی’ موجود ہے جو واشنگٹن اور تہران کے پاس بھی نہیں۔
    ​12 اور 13 اپریل کے وہ دو دن عالمی سفارت کاری کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جائیں گے جب اسلام آباد عالمی امن کا مرکز بنا۔ امریکہ اور ایران کے اعلیٰ حکام کی براہِ راست موجودگی اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ثالثی نے ثابت کر دیا کہ پاکستان کی عسکری قیادت پر فریقین کا اعتماد غیر متزلزل ہے۔
    اور محض گیارہ دن بعد ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے چوبیس گھنٹوں میں دو مرتبہ جی ایچ کیو کا رخ کیا اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے طویل مشاورت کی۔ یہ غیر معمولی سفارتی نقل و حرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان امن کی راہداری اب اسلام آباد کے جی ایچ کیو سے گزرتی ہے۔
    ​​پاکستان کی اس سفارتی کامیابی کے پیچھے دہائیوں پر محیط وہ دفاعی تعلقات ہیں جو اس نے چین، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور اردن جیسے ممالک کے ساتھ استوار کیے ہیں۔ ستمبر 2025 میں ہونے والا “پاک-سعودی دفاعی معاہدہ” اس سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس نے پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ کے سکیورٹی ڈھانچے کا ایک ناگزیر حصہ بنا دیا ہے۔
    ​پاکستان کی یہ ‘عسکری سفارت کاری’ روایتی بیوروکریٹک سست روی سے پاک، نظم و ضبط کی حامل اور نتائج پر مبنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غزہ میں جنگ بندی ہو یا کسی ممکنہ عالمی امن مشن کی تشکیل، دنیا اب پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہے۔
    ​​آج جب دنیا بلاک پولیٹکس اور نظریاتی تقسیم کا شکار ہے، پاکستان کی عسکری قیادت نے ایک ‘غیر جانبدار مگر متحرک’ (Neutral yet Proactive) پالیسی اپنائی ہے۔ یہ محض ایک دفاعی ادارے کی کامیابی نہیں بلکہ اس اسٹریٹجک اہمیت کا اعتراف ہے جو پاکستان کو اس کی جغرافیائی حیثیت اور پیشہ ورانہ مہارت کی وجہ سے حاصل ہے۔
    ​پاکستان اب دنیا کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ وہ صرف جنگوں کا سپاہی نہیں بلکہ امن کا پیامبر بھی ہے۔ عالمی ثالثی کے گرتے ہوئے معیار اور اقوامِ متحدہ کی محدود ہوتی صلاحیت کے اس دور میں، پاکستان کی عسکری قیادت کا بطور “ڈپلومیٹک کور” ابھرنا عالمی امن کے لیے ایک نیک شگون ہے۔
    ​خلاصہِ کلام یہ ہے کہ پاکستان اب دفاعی حصار سے نکل کر عالمی امن کی بساط پر ایک ایسا ‘گیم چینجر’ بن چکا ہے جس کے بغیر استحکام کی کوئی بھی کوشش ادھوری رہے گی۔

  • پہلگام کا بیانیہ  ،حقیقت، سیاست اور سوالات…شیخ  راشد عالم

    پہلگام کا بیانیہ ،حقیقت، سیاست اور سوالات…شیخ راشد عالم

    جنوبی ایشیا میں بیانیے کی جنگ اب محض الفاظ کی حد تک نہیں رہی بلکہ یہ سفارت کاری، میڈیا اور عوامی رائے کے میدان میں ایک مستقل محاذ بن چکی ہے۔ ایسے میں بعض واقعات کو اس انداز سے پیش کیا جاتا ہے کہ وہ محض ایک سکیورٹی معاملہ نہیں رہتے بلکہ ایک مکمل سیاسی حکمت عملی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ پہلگام واقعہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جسے ایک سال گزرنے کے باوجود مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔
    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ کی حالیہ پریس کانفرنس نے اس معاملے کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت آج تک اس واقعے کے حوالے سے اپنے مؤقف کے حق میں قابلِ اعتبار شواہد پیش نہیں کر سکا، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاملہ محض ایک سادہ سکیورٹی واقعہ نہیں بلکہ اس کے پسِ منظر میں کچھ اور عوامل بھی کارفرما ہو سکتے ہیں۔
    یہاں اصل سوال صرف ایک واقعے کا نہیں بلکہ اس کے بعد تشکیل پانے والے بیانیے کا ہے۔ جدید دور میں کسی بھی واقعے کی اہمیت اس بات سے بڑھ جاتی ہے کہ اسے کس طرح پیش کیا جاتا ہے۔ میڈیا، ریاستی بیانات اور سفارتی سرگرمیاں مل کر ایک ایسا تاثر پیدا کرتی ہیں جو عالمی رائے عامہ کو متاثر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پہلگام واقعہ بھی جلد ہی ایک بڑے بیانیاتی تنازعے میں تبدیل ہو گیا۔
    بھارت کی جانب سے فوری طور پر الزام تراشی اور اس کے بعد میڈیا میں اس بیانیے کو تقویت دینا ایک ایسی حکمت عملی کا حصہ محسوس ہوتا ہے جس کا مقصد عالمی سطح پر ہمدردی حاصل کرنا تھا۔ تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس بیانیے میں موجود خلا نمایاں ہونے لگے۔ جب سوالات اٹھے تو ان کے تسلی بخش جوابات سامنے نہیں آ سکے، جس نے خود بھارتی مؤقف کو کمزور کیا۔
    دوسری جانب پاکستان نے اس صورتحال میں نسبتاً محتاط اور ذمہ دارانہ مؤقف اختیار کیا۔ بارہا یہ مطالبہ کیا گیا کہ اس واقعے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔ یہی وہ نقطہ تھا جس نے عالمی حلقوں میں توجہ حاصل کی، کیونکہ یکطرفہ الزامات کے بجائے شواہد پر مبنی مؤقف ہمیشہ زیادہ وزن رکھتا ہے۔
    پہلگام واقعے کے بعد خطے میں کشیدگی میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا۔ سفارتی بیانات تیز ہوئے، میڈیا میں ایک دوسرے کے خلاف مہمات چلیں اور عسکری سطح پر بھی تناؤ محسوس کیا گیا۔
    غالباً اسی واقعے کو بنیاد بنا کر بھارت نے ایک جارحانہ بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کی، تاہم اسے عالمی سطح پر وہ پذیرائی نہ مل سکی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ اس کے برعکس پاکستان نے سفارتی محاذ پر اپنے مؤقف کو مؤثر انداز میں پیش کیا، جس سے اس کا وقار عالمی سطح پر مزید مضبوط ہوا، جبکہ بھارت کو اپنے دعوؤں کے حق میں ٹھوس شواہد نہ ہونے کے باعث دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
    یہ تمام صورتحال اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ آج کی دنیا میں جنگ صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتی بلکہ بیانیوں، اطلاعات اور سفارت کاری کے میدان میں بھی اس کا فیصلہ ہوتا ہے۔ جس فریق کا مؤقف زیادہ مضبوط، شواہد پر مبنی اور متوازن ہو، وہی عالمی سطح پر پذیرائی حاصل
    کرتا ہے۔
    اس تناظر میں کشمیر کا مسئلہ بھی ایک اہم پس منظر فراہم کرتا ہے۔ پاکستان اسے ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی تنازعہ قرار دیتا ہے جبکہ بھارت اسے داخلی معاملہ کہتا ہے یہی بنیادی اختلاف ہر ایسے واقعے کو مزید حساس بنا دیتا ہے اور دونوں ممالک کے بیانیوں کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کرتا ہے۔
    عطا تارڑ نے اپنی گفتگو میں بھارتی میڈیا کے کردار پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اسے ایک پروپیگنڈا ٹول کے طور پر استعمال کیا گیا۔ یہ الزام اپنی جگہ، لیکن اس سے ایک بڑی حقیقت سامنے آتی ہے کہ میڈیا اب صرف خبر دینے والا ادارہ نہیں رہا بلکہ ریاستی بیانیے کی تشکیل میں ایک فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
    مزید برآں، اقلیتوں کے حقوق، ہندوتوا نظریے اور خطے میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت جیسے موضوعات بھی اس بیانیے کا حصہ بن چکے ہیں۔ جب کسی ملک کے اندرونی حالات پر سوالات اٹھتے ہیں تو اس کا اثر اس کی خارجی پالیسی اور عالمی ساکھ پر بھی پڑتا ہے۔
    پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی قربانیوں اور عزم کو بھی اجاگر کیا جا رہا ہے، جو ایک حقیقت ہے کہ ملک نے اس حوالے سے بھاری قیمت ادا کی ہے۔ یہی پس منظر پاکستان کے مؤقف کو تقویت دیتا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ ہے اور کسی بھی الزام کو شواہد کی بنیاد پر پرکھنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

    واضح رہے کہ پہلگام واقعہ گزشتہ برس مقبوضہ کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں پیش آیا تھا، جہاں ایک حملے کے بعد جانی نقصان کی اطلاعات سامنے آئیں۔ بھارت نے فوری طور پر اس کا الزام پاکستان پر عائد کیا، جبکہ پاکستان نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایک منظم فالس فلیگ آپریشن قرار دیا۔
    یہی وہ نقطہ ہے جہاں سے ایک واقعہ بیانیے میں ڈھلتا ہے اور پھر بیانیہ سفارت کاری، سیاست اور عالمی رائے عامہ کو متاثر کرتا ہے۔ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ ایسے واقعات کو جذباتی نعروں کے بجائے حقائق، شواہد اور سنجیدہ مکالمے کے ذریعے حل کیا جائے کیونکہ بالآخر سچائی ہی وہ بنیاد ہے جس پر دیرپا استحکام قائم ہو سکتا ہے۔

  • سندھ میں ہیٹ ویو کا الرٹ جاری، کراچی کا موسم کیسا رہے گا؟

    سندھ میں ہیٹ ویو کا الرٹ جاری، کراچی کا موسم کیسا رہے گا؟

    کراچی:(ویب ڈیسک )سندھ بھر میں ہیٹ ویو سے متعلق الرٹ جاری کر دیا گیا، اس دوران دن کے وقت درجہ حرارت معمول سے 4 تا 6 ڈگری زیادہ رہنے کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق سندھ کے بالائی اور وسطی اضلاع میں آج سے 3 مئی کے دوران ہیٹ ویو کا امکان ہے۔ صوبے کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم، شدید گرم اور خشک رہنے کا امکان ہے۔جامشورو، دادو، بے نظیر آباد، کشمور، گھوٹکی، سانگھڑ، خیرپور، نوشہرو فیروز، جیکب آباد، لاڑکانہ اور سکھر میں دن کے وقت درجہ حرارت معمول سے 4 تا 6 ڈگری زیادہ رہنے کا امکان ہے۔کراچی میں بھی جمعرات تک گرم دن ریکارڈ ہو سکتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 36 ڈگری تک تجاوز کر سکتا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق ہوا میں نمی کا تناسب 60 فیصد تک بڑھنے کے سبب گرمی کی شدت اصل درجہ حرارت سے زیادہ محسوس کی جا سکتی ہے۔واضح رہے کہ کراچی ہیٹ ویو والے علاقوں میں شامل نہیں کیونکہ کراچی زیریں سندھ میں واقع ہے، ہیٹ ویو وسطی اور بالائی سندھ پر اثرانداز ہوگا۔ماہرین نے گرمی کی لہر کے دوران خواتین، بچوں اور بزرگوں کو احتیاط کا مشورہ دیا ہے۔ دن کے وقت سورج کی براہ راست تپش کے دوران گھروں سے کم نکلا جائے اور پانی کا استعمال زیادہ رکھیں۔
    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا
    ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • ایران کی تجاویز پر واشنگٹن کا ٹھنڈا ردعمل، ٹرمپ غیر مطمئن قرار، برطانوی میڈیا

    ایران کی تجاویز پر واشنگٹن کا ٹھنڈا ردعمل، ٹرمپ غیر مطمئن قرار، برطانوی میڈیا

    واشنگٹن (ویب ڈیسک) اطلاعات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی جانب سے پیش کی گئی نئی تجاویز سے مطمئن نہیں ہیں۔
    ایک امریکی عہدیدار نے برطانوی خبر ایجنسی کو بتایا کہ ان تجاویز میں ایرانی جوہری پروگرام کے مستقبل سے متعلق کوئی واضح اور ٹھوس مؤقف شامل نہیں جس کے باعث امریکی قیادت میں تشویش پائی جاتی ہے۔رپورٹس کے مطابق ایران نے اپنی تجاویز پاکستان کے ذریعے امریکہ تک پہنچائی ہیں جن میں ابتدائی طور پر جنگ بندی اور بعد ازاں مستقل سیز فائر کی یقین دہانی شامل ہے۔ ساتھ ہی تہران نے آبنائے ہُرمز کھولنے کو امریکی پابندیوں کے خاتمے سے مشروط کر دیا ہے۔ایرانی مؤقف کے مطابق اگر یہ شرائط پوری ہو جائیں تو پھر جوہری پروگرام پر بات چیت ممکن ہو سکتی ہے تاہم اس کے لیے امریکہ کو پُرامن مقاصد کے تحت یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کرنا ہوگا۔دوسری جانب صدر ٹرمپ نے واضح انداز میں کہا ہے کہ جب تک ایران ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق اپنے عزائم ترک نہیں کرتا اس وقت تک مذاکرات بے معنی ہیں۔انہوں نے طنزیہ انداز میں یہ بھی کہا کہ ایران چاہے تو براہ راست رابطہ کر سکتا ہے کیونکہ ہماری فون لائنز محفوظ ہیں۔
    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا
    ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • آر ایل این جی کے ذخائر میں کمی، گیس بحران شدت اختیار کرگیا

    آر ایل این جی کے ذخائر میں کمی، گیس بحران شدت اختیار کرگیا

    لاہور: (ویب ڈیسک )گیس کا بحران آر ایل این جی نہ آنے کی وجہ سے شدت اختیار کر گیا۔ذرائع سوئی ناردرن کے مطابق آر ایل این جی کے موجودہ ذخائر میں تیزی سے کمی ہو رہی ہے، پاور اور کھاد سیکٹر کو گیس کی فراہمی کم ترین سطح پر آگئی ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ گھریلو صارفین کو بھی سپلائی میں کمی کر دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق گیس کی سپلائی صرف 700 ملین کیوبک فٹ پرآگئی جو ایران امریکا جنگ سے پہلے روزانہ 1200 ملین کیوبک فٹ تھی۔ذرائع سوئی ناردرن کا کہنا ہے گیس کا شارٹ فال600 ملین کیوبک فٹ سے تجاوز کر گیا ہے۔دوسری جانب سوئی گیس حکام کا کہنا ہے کہ کھانے کے تینوں اوقات میں پوری گیس فراہم کی جا رہی ہے۔

    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا
    اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • کراچی کےرایان حبیب نے ٹیکساس میں آئرن مین چیلنج مکمل کرکے تاریخ رقم کردی

    کراچی کےرایان حبیب نے ٹیکساس میں آئرن مین چیلنج مکمل کرکے تاریخ رقم کردی

    ٹیکساس: (ویب ڈیسک )کراچی کے 19 سالہ رایان حبیب نے آئرن مین چیلنج مکمل کرکے تاریخ رقم کردی۔کراچی کے 19 سالہ رایان حبیب احمد نے ٹیکساس کے شہر دی ووڈ لینڈز میں 226.3 کلومیٹر کا آئرن مین ٹرائیتھلون 15 گھنٹے، 20 منٹ اور 6 سیکنڈز میں مکمل کرکے آئرن مین چیلنج مکمل کرنے والے کم عمر ترین پاکستانی ہونے کا اعزاز حاصل کرلیا۔آئرن مین دنیا کے سخت ترین مقابلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔اس میں ایتھلیٹس کو بغیر کسی وقفے کے تین مقابلوں کو یکے بعد دیگرے مکمل کرنا ہوتا ہے جس میں 3.8 کلومیٹر کا کھلے پانی میں تیراکی، 180 کلومیٹر کی سائیکلنگ، اور 42.2 کلومیٹر کی مکمل میراتھون دوڑ شامل ہے۔ٹیکساس میں ہونیوالا یہ ایونٹ نارتھ شور پارک سے شروع ہوا جہاں جھیل ووڈ لینڈز میں تیراکی کا مرحلہ تھا۔ جھیل کا درجہ حرارت 24 ڈگری سینٹی گریڈ رہا، رایان نے تیراکی کا مرحلہ 1 گھنٹہ، 45 منٹ اور 36 سیکنڈز میں مکمل کیا۔سائیکلنگ کے مرحلے میں ایتھلیٹس دی ووڈلینڈز کے کچھ حصے سے گزرے اور پھر شمالی ہیرس کاؤنٹی میں داخل ہوئے، جہاں انہوں نے ہارڈی ٹول روڈ پر دو چکر لگائے۔ رایان نے 180 کلومیٹر کی سائیکلنگ 7 گھنٹے، 27 منٹ اور 49 سیکنڈز میں مکمل کی۔میراتھون دوڑ جھیل ووڈ لینڈز کے گرد3 چکروں پر مشتمل تھی، جو علاقے ہپی ہالو سے گزرتی ہے ۔رایان نے دوڑ کا مرحلہ 5 گھنٹے، 38 منٹ اور 57 سیکنڈز میں مکمل کیا۔واٹر وے ایونیو پر فنش لائن عبور کرنے کے بعد اس نے پاکستان کا جھنڈا لہرایا اور جشن منایا۔انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں رایان نے لکھا کہ وہ پاکستان کی تاریخ میں آئرن مین مکمل کرنے والے سب سے کم عمر کھلاڑی ہیں، اور اسے اپنی زندگی کا مشکل ترین تجربہ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی کھلاڑیوں کی نئی نسل کو متاثر کرنا چاہتے ہیں، اور یہ کہ سب کچھ ممکن ہے، خوابوں کا پیچھا کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔واضح رہے کہ 2026 کے آئرن مین ٹیکساس کا کٹ آف ٹائم 17 گھنٹے تھا۔

    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا
    اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • گدھے کا گوشت اور کھالیں چین برآمد کرنے کی منظوری

    گدھے کا گوشت اور کھالیں چین برآمد کرنے کی منظوری

    اسلام آباد :(ویب ڈیسک ) وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کی جانب سے گدھے کا گوشت اور کھالیں چین برآمد کرنے کی منظوری دے دی گئی۔گزشتہ روز وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی)کا اجلاس منعقد ہوا۔دوران اجلاس اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ملک میں مہنگائی کی شرح میں کمی اور قیمتوں میں استحکام پر اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے گاڑیوں اور آٹو پارٹس کی عارضی درآمد کی اجازت دے دی۔اجلاس میں کمیٹی نے جبری مشقت سے تیار اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کی اور گدھے کا گوشت اور کھالیں چین برآمد کرنے کی منظوری دے دی۔کمیٹی نے بلوچستان میں تعینات افسران کیلئے خصوصی مراعاتی پیکیج بھی متعارف کروایا مزید برآں ہاکی ٹیم کیلئے 3 کروڑ روپے انعام جبکہ نیب میں ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کیلئے 37 کروڑ 20 لاکھ روپے رکھنے کی منظوری دی گئی۔
    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا
    اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • صومالیہ کے قریب آئل ٹینکر پر قبضہ، پاکستانی مغوی کی کرب میں ڈوبی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

    صومالیہ کے قریب آئل ٹینکر پر قبضہ، پاکستانی مغوی کی کرب میں ڈوبی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

    موگادیشو(ویب ڈیسک )بحری جہاز Honour 25 پر صومالی قزاقوں کے قبضے کے بعد سے 10 سے زائد پاکستانی عملہ یرغمال ہے جن میں کراچی سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں۔ان ہی میں سے ایک مغوی امین بن شمس کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جس میں وہ اپنے والد کو صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے۔آڈیو میں امین بن شمس نے کہا کہ’ابو ہم لوگوں کو بحری قزاقوں نے پکڑ لیا ہے، یہ میرا آخری وائس میسج ہے، کیا پتا اب میں آپ سے بات نہ کر پاؤں کیونکہ یہ ہمیں مارنے کے لیے لے کر جارہے ہیں’۔ امین بن شمس نے روتے ہوئے کہا ‘مجھ سے جو بھی غلطی ہوئی ہو مجھے معاف کردیے گا، عائشہ (اہلیہ) اور بچوں کا خیال رکھیے گا، آپ دل مضبوط کرلیے گا، خدا حافظ’۔امین بن شمس کے والد نے نجی نیوز چینل سے گفتگو میں کہا کہ’ہمارا ایک ہی بچہ ہے اور روزگار کے لیے ہم نے اسے بھیجا تھا، وہ ہمارا اکلوتا بیٹا ہے، پہلی بار گیا ہے اور اس کے ساتھ یہ ہوگیا، حکومتِ پاکستان سے اپیل ہے کہ کسی طرح ہمارے بچے کو صحیح سلامت واپس لادیں’۔مغوی کی اہلیہ عائشہ نے کہا ‘میرے شوہر نے یہی بتایا کہ ہوائی فائرنگ کرکے ہمیں ڈرایا جارہا ہے اور ہمیں مارنے کے لیے لے جایا جارہا ہے، جس بچے سے میں ابھی تک ملا نہیں، مجھے نہیں لگتا اب اس سے کبھی مل پاؤں گا’۔صومالیہ کے قریب بحری قزاقوں کا آئل ٹینکر پر حملہ، 11 پاکستانی کریو بھی یرغمالیوں میں شامل شپنگ ذرائع کا کہنا ہے کہ اونر 25 نامی جہاز پر بحری قزاقوں نے 21 اپریل کو حملہ کیا اور اسے قبضے میں لے لیا، جہاز پر 11 پاکستانی کریو بھی موجود ہیں۔ذرائع کے مطابق وزارت بحری امور کے ڈائریکٹوریٹ آف پورٹ کا پاکستانی کریو سے رابطہ نہیں ہوسکا جب کہ جہاز پر بھیجنے والی ایجنسی بھی خاموش ہے۔ کریوکے خاندان نے بتایا کہ انڈونیشین کیپٹن کی رہائی کے لیے انڈونیشیا قذاقوں سے بات چیت کر رہا ہے، حکومت سے مطالبہ ہے کہ پاکستانی عملے کی بحفاظت واپسی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا
    ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • ایرانی ڈرونز نے سپر پاور کے چھکے چھڑا دئیے…نشید آفاقی

    ایرانی ڈرونز نے سپر پاور کے چھکے چھڑا دئیے…نشید آفاقی

    جدید جنگی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ایک بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ طاقت کا معیار بدل چکا ہے۔ اب صرف ایٹمی ہتھیار، ٹینکوں کی قطاریں یا جدید لڑاکا طیارے ہی برتری کی ضمانت نہیں رہے، بلکہ ذہانت، حکمت عملی اور ٹیکنالوجی کا درست استعمال فیصلہ کن حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اسی بدلتی دنیا کو معروف دفاعی تجزیہ کارخریف اکرم نے اپنی کتاب In The Shadow Of The Shahedنہایت گہرائی سے بیان کیا ہے، جہاں ایران کی ڈرون صنعت کو ایک نئے عالمی رجحان کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

    ایران کی مثال اس حوالے سے غیر معمولی ہے۔ ایک ایسا ملک جو دہائیوں سے معاشی پابندیوں، سفارتی دباؤ اور عسکری تنہائی کا شکار رہا، اس نے محدود وسائل کے باوجود اپنی کمزوری کو طاقت میں بدل دیا۔ روایتی فضائی قوت میں کمی کو ایران نے ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے پورا کیا اور آج وہ اس میدان میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔

    اکرم خریف کے مطابق، ایران نے ڈرونز کو محض ایک ہتھیار کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ ایک مکمل حکمت عملی کے طور پر اپنایا۔ اس حکمت عملی کی بنیاد کم لاگت، زیادہ اثر اور مسلسل اپ گریڈیشن پر رکھی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کے ڈرونز نہ صرف نگرانی بلکہ حملے، انٹیلی جنس اور نفسیاتی دباؤ کے لیے بھی استعمال ہو رہے ہیں۔

    یہ حقیقت اب کسی سے پوشیدہ نہیں رہی کہ ایران کے ڈرونز نے عالمی طاقتوں کو بھی حیران کر دیا ہے۔ وہ ممالک جو اربوں ڈالر خرچ کر کے جدید جنگی نظام تیار کرتے ہیں، انہیں کم لاگت ایرانی ڈرونز سے نمٹنے کے لیے نئی حکمت عملیاں بنانا پڑ رہی ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں ‘‘سپر پاور’’ کا روایتی تصور چیلنج ہوتا دکھائی دیتا ہے۔

    ایران کی اس کامیابی کے پیچھے ایک واضح فلسفہ کارفرما ہے
    ‘‘جنگ وسائل سے نہیں، سوچ سے جیتی جاتی ہے۔’’

    ایران نے اس سوچ کو عملی شکل دیتے ہوئے اپنی دفاعی پالیسی کو تبدیل کیا۔ اس نے مہنگے لڑاکا طیاروں کے بجائے ایسے ڈرونز تیار کیے جو کم خرچ، آسانی سے تیار ہونے والے اور بیک وقت بڑی تعداد میں استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ اس حکمت عملی نے اسے ایک نئی قسم کی عسکری
    طاقت فراہم کی جسے ‘‘اسیمٹرک وارفیئر’’ کہا جاتا ہے۔
    اکرم خریف اپنی کتاب میں ایک اہم پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ایران نے ڈرونز کو صرف اپنے دفاع تک محدود نہیں رکھا بلکہ انہیں اپنی خارجہ پالیسی کا حصہ بھی بنا لیا۔ مختلف خطوں میں اس ٹیکنالوجی کا اثر دکھائی دیتا ہے، جہاں ڈرونز کے ذریعے نہ صرف عسکری برتری حاصل کی جا رہی ہے بلکہ سیاسی اثر و رسوخ بھی بڑھایا جا رہا ہے۔
    یہاں ایک اور اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایران اس میدان میں اتنی تیزی سے کیسے آگے بڑھا؟ اس کا جواب پابندیوں میں چھپا ہے۔ جب کسی ملک پر ٹیکنالوجی کی رسائی محدود کر دی جائے تو وہ مجبوراً خود انحصاری کی طرف جاتا ہے۔ ایران نے بھی یہی کیا۔ اس نے مقامی انجینئرز، یونیورسٹیوں اور ریسرچ اداروں کو استعمال کرتے ہوئے ایک ایسا نظام بنایا جو مکمل طور پر داخلی صلاحیتوں پر مبنی ہے۔
    یہی خود انحصاری آج اس کی سب سے بڑی طاقت بن چکی ہے۔ ایران نہ صرف اپنے لیے ڈرون بنا رہا ہے بلکہ دیگر ممالک کے لیے بھی ایک ماڈل بن چکا ہے کہ کس طرح کم وسائل میں جدید ٹیکنالوجی حاصل کی جا سکتی ہے۔
    ایران کے ڈرون پروگرام کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی لچک ہے۔ روایتی ہتھیاروں کے برعکس، ڈرونز کو آسانی سے اپ گریڈ کیا جا سکتا ہے۔ نئی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور خودکار نظام کو شامل کر کے انہیں مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران مسلسل اس میدان میں ترقی کر رہا ہے اور پیچھے نہیں ہٹ رہا۔
    اکرم خریف کے تجزیے کے مطابق، مستقبل کی جنگیں مکمل طور پر بدل جائیں گی۔ میدان جنگ میں انسانوں کی جگہ مشینیں لیں گی، اور فیصلہ کن عنصر رفتار اور ڈیٹا ہوگا۔ ایران نے اس تبدیلی کو وقت سے پہلے سمجھ لیا اور اسی لیے آج وہ اس دوڑ میں شامل ہی نہیں بلکہ کئی حوالوں سے آگے دکھائی دیتا ہے۔
    تاہم، یہ کہنا بھی درست ہوگا کہ اس میدان میں چیلنجز موجود ہیں۔ جدید اینٹی ڈرون سسٹمز، الیکٹرانک وارفیئر اور سائبر ٹیکنالوجی ایران کے لیے رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ لیکن ایران کی حکمت عملی ہمیشہ سے یہی رہی ہے کہ وہ ہر چیلنج کو ایک نئے موقع میں بدل دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی پیش رفت رکنے کے بجائے مزید تیز ہوتی جا رہی ہے۔
    دلچسپ بات یہ ہے کہ ایران نے ڈرون ٹیکنالوجی کو صرف جنگ تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے سول مقاصد کے لیے بھی استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ زراعت، ریسکیو آپریشنز، سرحدی نگرانی اور قدرتی آفات میں مدد کے لیے بھی ڈرونز کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ یہ پہلو اس صنعت کو مزید پائیدار اور مفید بناتا ہے۔
    اگر وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو ایران کی ڈرون صنعت ایک سبق بھی دیتی ہے۔ یہ سبق ہے خود انحصاری کا، جدت کا اور حالات سے فائدہ اٹھانے کا۔ ایک ایسا ملک جسے کمزور سمجھا جاتا تھا، اس نے اپنی حکمت عملی سے عالمی طاقتوں کو حیران کر دیا۔
    آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ایران کی ڈرون ٹیکنالوجی صرف ایک عسکری کامیابی نہیں بلکہ ایک فکری کامیابی بھی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر مقصد واضح ہو اور حکمت عملی درست ہو تو محدود وسائل بھی بڑی کامیابی میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔
    ایرانی ڈرونز نے واقعی سپر پاور کے ‘‘چھکے چھڑا دیے’’ ہیںاور یہ سلسلہ ابھی رکا نہیں، بلکہ مزید تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔