Blog

  • خوش لباسی کی طرح خوش خوراکی نے بھی فیشن کی شکل اختیار کر لی ہے … صبیحہ خان صبیحہ

    خوش لباسی کی طرح خوش خوراکی نے بھی فیشن کی شکل اختیار کر لی ہے … صبیحہ خان صبیحہ

    سیانے کہتے ہیں کہ کھانا حیات کو برقرار رکھنے کے لئے کھایا جاتا ہے ،کم کھاؤ اور زیادہ جیو مگر بہت لوگوں کا خیال ہے کہ جان ہے تو جہان ہے۔دیکھا جائے تو خوش لباسی کی طرح خوش خوراکی نے بھی فیشن کی شکل اختیار کر لی ہے ، جہاں ملک میں مہنگائی اور دیگر مسائل کی بھر مار ہے وہیں مختلف پکوانوں کی یلغار نے لوگوں کو بسیار خوری پر مجبور کر دیا ہے، ہوٹلز ، فوڈ کورٹس ،باربی کیو نائٹ ، غیر ملکی کھانوں کی مقبولیت نے لوگوں کو کریزی بنا دیا ہے ہزاروں روپوں کا کھانا منٹوں میں چٹ کر جاتے ہیں ، شادیوں اور دیگر تقریبات میں کھانوں کی ڈھیروں مختلف اقسام دیکھ کر کہیں سے بھی اندازہ نہیں ہوتا کہ ہم ترقی پذیر ملک کے باشندے ہیں۔ بلکہ لگتا ہے کہ بحیثیت مجموعی ہم ایک پیٹو قوم ہیں جن کی سوچ کھانے سے شروع ہوتی ہے اور کھانے پر ختم ، ’’ہوٹلوں، شادی ہالز اور سیاسی جلسوں میں ایسے ہی دیگر مقامات پر ’’کھانے کے دشمن‘‘ با کثرت پائے جاتے ہیں ، کھانا انسان کی کمزوری ماناجاتاہے،اور یہ سچ ہے کہ انسان دنیا میں زیادہ تر جدوجہد کھانے کے لئے کرتا ہے ،ایک طرف لوگ مہنگائی کا رونا روتے ہیں اور دوسری طرف شادیوں اور دیگر تقریبات میں کھانوں کی بے تحاشہ اقسام مہنگائی کا منہ چڑا رہی ہوتی ہیں ،ایک زمانہ تھا کہ زیادہ تر لوگ گھر کے پکے غذائیت سے بھر پور اور متوازن کھانوں کو بہت اہمیت دیتے تھے بلکہ ایسے افراد کو رحم بھری نظر سے دیکھتے تھے جو اپنی فیملی سے دورہونے کے سبب ہوٹلوں میں کھانا کھانے پر مجبور ہوتے تھے،مگر اب لوگ گھر کے کھانوں سے زیادہ ہوٹلنگ کرنا پسندکرتے ہیں ملک میں مہنگائی اس رفتار سے بڑھ رہی ہے کہ عام آدمی کی سانس بھی قسطوں پر چلتی محسوس ہوتی ہے۔آٹا، چینی، بجلی، گیس ہر چیز کی قیمت آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ ہر گفتگو کا آغاز اور اختتام مہنگائی کے شکوے سے ہوتا ہے۔ مگر اسی ملک میں جب شام ڈھلتی ہے تو ریسٹورنٹس، ہوٹلز اور فوڈ کورٹس کا منظر کچھ اور ہی کہانی سناتا ہے رش ایسا کہ جیسے آج ‘‘کھانا مفت’’ کا عالمی دن منایا جا رہا ہو۔یہ تضاد محض اتفاق نہیں، ہمارے بدلتے ہوئے سماجی رویوں کا آئینہ ہیکبھی کھاناضرورت تھا، اب مشغلہ ہیکبھی دسترخوان گھر کی پہچان ہوتا تھااب لوکیشن اہم ہو گئی ہے آج کا نوجوان یہ کم پوچھتا ہے کہ کھانے میں کیا ہے، زیادہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ کھانا کہاں سے آیا ہے۔ ذائقہ ثانوی ہو چکا ہے، برانڈ اور ماحول بنیادی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔سوشل میڈیا نے اس رجحان کو مزید ہوا دی ہے۔ اب کھانا کھانے سے پہلے کیمرہ ‘‘کھاتا’’ ہے۔ ہر پلیٹ ایک پوسٹ ہے، ہر نوالہ ایک اسٹوری گویا ہم اپنے معدے سے زیادہ اپنے فالوورز کو سیر کرنے میں مصروف ہیں۔ ایک عام سی کافی بھی تب تک ادھوری ہے جب تک اس کے ساتھ ایک ‘‘پرفیکٹ تصویر’’ نہ لی جائیدلچسپ بات یہ ہے کہ مہنگائی کا رونا بھی وہی لوگ سب سے زیادہ روتے ہیں جو ہفتے میں کئی بار باہر کھانا کھانے کو اپنا حق سمجھتے ہیں گویا شکایت بھی برقرار اور شوق بھی زندہ یہ ایک ایسا معاشی اور نفسیاتی تضاد ہے جسے ہم نے معمول بنا لیا ہے۔یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ہم ضرورت’’ اور ‘‘نمائش’’ کے درمیان فرق کھو چکے ہیں سادگی اب کمزوری لگتی ہے اور فضول خرچی کو ہم لائف اسٹائل’’ کا نام دے کر مطمئن ہو جاتے ہیں قرضیلے کرتقریبات کرنا، مہنگے کھانوں کی تصاویر سے اپنی حیثیت بڑھانا یہ سب اس بات کی علامت ہے کہ ہم حقیقت سے زیادہ تاثر کے اسیر ہو چکے ہیں۔یقیناً مشکل حالات میں انسان خوشی تلاش کرتا ہے، اور کھانا ایک آسان خوشی ہے مگر جب یہی خوشی مقابلہ بن جائے تو پھر یہ بوجھ بن جاتی ہے۔
    ہم وقتی لطف کے لییمستقل مسائل کو دعوت دے رہے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی ترجیحات پر نظر سانی کریں کھانا دکھاوے کے لیے نہیں، جینے کے لیے ہونا چاہیے سادہ دسترخوان میں جو سکون اور برکت ہے، وہ مہنگے ریسٹورنٹس کی چکاچوند میں کہاں؟کھانے کے دشمن، اپنی صحت کے دشمن بن گئے ہیں دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض افراد اپنی غیر ضروری خوراک کی عادت سے خود اپنے دشمن بن چکے ہیں وہ ہر وقت کھانے کے بارے میں سوچتے ہیں، اور بھی دکھ ہیں زمانے میں کھانے کے سوا،نئے کھانے آزمانے کے شوق میں رہتے ہیں اور پھر مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس صورتِ حال نے ماہرینِ صحت کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہیلیکن سوال یہ ہے کہ اس جنون کی قیمت کیا ہے؟ فاسٹ فوڈ اور جنک فوڈ نے نوجوان نسل کی صحت چھین لی ہے۔ موٹاپا، شوگر، بلڈ پریشر اور دل کے امراض عام ہو گئے ہیں۔ہم جسمانی توانائی سے زیادہ کیلوریز کے قیدی بن چکے ہیں ان افراد کی مرغوب غذائیں زیادہ ترمختلف دعوتوں میں ہی پائی جاتی ہیں جہاں یہ لوگ شرطیں باندھ کر کھاتے ہیں اور پھر کھانا پلیٹوں سے اس طرح غائب ہوتا ہے جیسے سرکاری اسپتالوں سے دوائیں اور سرکاری خزانے سے اس کا خزانہ !

  • تصویر کا دوسرا رخ:  فرحا نہ اشرف فرحانہ

    تصویر کا دوسرا رخ: فرحا نہ اشرف فرحانہ

    اے کہ دل تیرا ہے فکر بادہء گلفام میں
    زہر بھی ہوتا ہے اکثر خوبصورت جام میں
    ظفراحمد صدیقی

    ہماری زندگی بھی تصویر ہی کی مانند ہے جو دکھائی دیتا ہے وہ مکمل نہیں ہوتا۔ جیسے تصویر میں ایڈیٹنگ ہوتی ہے فلٹر ہوتا ہے ہماری مصنوعی مسکراہٹ شامل ہوتی ہے جسے دیکھنے والا حقیقت سمجھتا ہے۔ جبکہ حقیقی شخص و منظر اس کے برعکس ہوتا ہے۔
    ہم ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں ہر چیز خوبصورت فریم میں قیددکھائی دیتی ہے اگر سوشل میڈیا کی بات کی جائے تو سوشل میڈیا کی چمکتی اسکرینوں پر مسکراتے چہرے جگمگاتی روشنیاں اور کامیابیوں کی لمبی فہرستیں یہ سب مل کر ایک ایسی تصویر بناتے ہیں جو بظاہر تو مکمل اور دلکش لگتی ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی حقیقت بھی اتنی ہی روشن ہے اس تصویر کا کوئی دوسرا رخ بھی ہے ؟
    ہمارے معاشرے میں بھی یہی تضاد اور نمایاں ہے ایک طرف ترقی جدیدیت اور خوشحالی کے دعوے ہیں تو دوسری طرف مہنگائی بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے مسائل ہیں
    ہم بلند و بانگ دعوے تو سنتے ہیں مگر عام آدمی کی زندگی میں حقیقی تبدیلی کم ہی نظر آتی ہے
    یہ وہ دوسرا رخ ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

    بالکل اسی طرح ہمارے رویوں میں بھی دہرا پن بڑھتا جا رہا ہے ہم بظاہر اخلاقیات اور اصولوں کی بات کرتے ہیں مگر عملی زندگی میں اکثر ان سے انحراف کرتے نظر آتے ہیں سچ بولنے کا درس دینے والے خود مصلحت کا شکار ہو جاتے ہیں۔انصاف کی بات کرنے والے ذاتی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں۔
    یو ں معاشرہ ایک ایسی تصویر بن جاتا ہے جس کا ایک رخ خوبصورت اور دوسرا دھندلا اور پیچیدہ ہوتا ہے۔
    زندگی کی روز مرہ ہنگامہ خیزی میں انسان جو کچھ دیکھتا سنتا اور سمجھتا ہے وہ اکثر مکمل حقیقت نہیں ہوتا بلکہ اس کا ایک دوسرا رخ بھی ہوتا ہے جو بظاہر نگاہوں سے اوجھل رہتا ہے۔

    اشفاق احمد کہتے ہیں کہ

    بانو قدسیہ ایک یونیورسٹی میں پڑھاتی تھیں۔میں ہر روز انہیں گاڑی میں یونیورسٹی چھوڑنے جاتا۔یونیورسٹی پہنچ کر میں گاڑی سے اتر کر دوسری طرف سے آتا اور دروازہ کھولتا میری( بیوی) بانو قدسیہ گاڑی سے اترتی
    اور سہیلیوں کے ساتھ یونیورسٹی کے گیٹ کے اندر داخل ہو جاتی پھر چھٹی کے وقت دوبارہ بانو قدسیہ (بیوی) کو لینے جاتا اور اسے گاڑی میں بٹھا کر واپس گھر لے آتا۔
    میری بیوی بانو قدسیہ کی سہیلیاں یہ منظر دیکھتیں اور رشک کرتیں اور کہتیں کہ ہمیں بھی ایسا شوہر ملے۔ان کے درمیان کتنی محبت اور چاہت ہے۔
    اشفاق احمد مزید کہتے ہیں کہ ہمارے درمیان کوئی ایسی محبت نہ تھی اصل میں گاڑی کا دروازہ خراب تھا جو کہ اندر سے نہیں کھلتا تھا اس لیے مجھے باہر نکل کر دروازہ کھولنا پڑتا تھا۔

    بقول شاعر

    ظاہری حالت پر کرنہ باطن کا قیاس
    خوبیء تن پر دلالت کر نہیں سکتا لباس

    ظفراحمد صدیقی

    آج کا انسان دکھاوے کہ اس ہجوم میں اپنی اصل پہچان کھوتا جا رہا ہے ہم دوسروں کی زندگیوں کے چند خوشگوار لمحات دیکھ کر اپنے حالات کا موازنہ کرتے ہیں اور خود کو کمتر اور محروم محسوس کرنے لگتے ہیں۔
    بیشمار گھروں میں دوسروں کی ظاہری نمودو نمائش یا رہن سہن دیکھ کر لوگ اپنا ہنستا بستا گھر اجاڑدیتے ہیں۔ گھروں میں مسائل اور جھگڑے پیدا ہوجاتے ہیں۔

    حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر مسکراہٹ کے پیچھے ایک اداسی اور کہانی ہوتی ہے ہر کامیابی کے پیچھے کہیں ناکامیاں چھپی ہوتی ہیں اور ہر روشن چہرے کے پیچھے تھکن پریشانی اور جدوجہد کا ایک طویل سفر ہوتا ہے۔
    لیکن ہم تصویر کا دوسرا رخ دیکھتے ہی نہیں ہیں۔
    تصویر کا دوسرا رخ یہی ہے کہ ہر چمک کے پیچھے اندھیرابھی ہوتا ہے۔ہر قہقہے کے پیچھے کوئی خاموشی بھی چھپی ہوتی ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس چمک کو حقیقت نہ سمجھیں۔بلکہ حقیقت کے پیچھے بھی ایک حقیقت موجود ہوتی ہے۔اگر ہم صرف دیکھنے پر اکتفا کریں گے تو ہم ادھورا سچ ہی سمجھیں گے مگر ہم سوچنے اور سمجھنے کی کوشش کریں گے تو حقیقت کے قریب پہنچ سکیں گے۔
    تصویر کا دوسرا رخ دیکھنا محض ایک فکری مشق نہیں
    بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری ہے۔
    تصویر کا دوسرا رخ دراصل شعور کی بیداری کا نام ہے یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ دنیا کو یک رخی انداز میں نہ دیکھیں بلکہ ہر مظہر کے متعدد پہلوؤں کو سمجھنے کی کوشش کریں یہی رویہ نہ صرف علمی پختگی کو جنم دیتا ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی اور فکری و سعت کا باعث بنتا ہے۔

    اس موضوع پرلیکچرار فیصل عشرت صاحب سے گفتگو ہوئی انکے خیالات اب ہی کی زبا نی جانتے ہیں

    محمد فیصل عشرت
    (لیکچرار گورنمنٹ کالج ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ، گورنمنٹ آف سندھ۔
    میں آپ کو ایک سادہ سی مثال سے سمجھاتا ہوں
    فرض کیجیے کہ ایک بھرا ہوا جہاز بادلوں کے درمیان پرواز کر رہا ہے۔ ایک مسافر کھڑکی سے باہر دیکھتا ہے تو اسے روئی کے گالوں جیسے سفید بادل اور ڈھلتے سورج کی خوبصورت سنہری کرنیں نظر آتی ہیں۔ وہ اس منظر کی سحر انگیزی میں کھو کر اسے ‘جنت نظیر’ قرار دیتا ہے۔ لیکن ٹھیک اسی لمحے، نیچے زمین پر کھڑا ایک کسان کالی گھٹاؤں کو دیکھ کر پریشان ہے کہ اگر آج شدید بارش ہو گئی تو اس کی تیار فصل تباہ ہو جائے گی۔
    منظر ایک ہی ہے، لیکن دیکھنے والوں کے حالات اور زاویوں نے اسے دو بالکل مختلف حقیقتوں میں بدل دیا ہے۔ یہی تصویر کا دوسرا رخ ہے

    انسانی فطرت ہے کہ وہ معاملات کو اپنی پسند، ناپسند اور محدود مشاہدے کی عینک سے دیکھتا ہے۔ ہم اکثر کسی واقعے، شخصیت یا فیصلے کو دیکھ کر فوری طور پر ایک رائے قائم کر لیتے ہیں، جبکہ حقیقت کی تہیں پیاز کے چھلکوں کی طرح ایک کے نیچے ایک چھپی ہوتی ہیں۔ اردو کی مشہور مثال ہے کہ “ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی”، لیکن اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ “ہر کالی نظر آنے والی چیز کوئلہ نہیں ہوتی”۔

    ہماری زندگی میں اکثر تنازعات اور غلط فہمیاں صرف اس لیے جنم لیتی ہیں کہ ہم تصویر کا صرف ایک رخ دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں تو یہ وباء مزید پھیل چکی ہے۔ کسی کی پندرہ سیکنڈ کی ویڈیو دیکھ کر ہم اس کے کردار کا فیصلہ کر دیتے ہیں، جبکہ ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس ویڈیو سے پہلے کیا ہوا تھا اور اس کے بعد کیا ہوا۔

    “سچائی اکثر وہ نہیں ہوتی جو نظر آتی ہے، بلکہ وہ ہوتی ہے جسے دیکھنے کے لیے زاویہ بدلنا پڑتا ہے۔”

    کسی بھی معاملے کے دوسرے رخ کو سمجھنے کے لیے ظرف اور صبر کی ضرورت ہوتی ہے۔

    اسی طرح ایک باپ اپنے بیٹے پر غصہ کر رہا ہے۔ ہم کو ظلم نظر آتا ہے،
    دوسرا رخ یہ ہے کہ بیٹا کسی ایسی راہ پر چل پڑا تھا جو اس کی زندگی تباہ کر سکتی تھی محبت اور فکر نظر آتی ہے۔
    اسی طرح، جب ہم کسی کی کامیابی کو دیکھتے ہیں، تو ہمیں صرف اس کی چمک دمک، پروٹوکول اور دولت نظر آتی ہے۔ یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔ اس کا دوسرا رخ وہ کالی راتیں، مسلسل ناکامیاں، اپنوں کی تنقید اور وہ تھکن ہے جو اس مقام تک پہنچنے کے لیے اس نے برداشت کی۔
    بقول شاعر،
    یہ نہیں دیکھتے کتنی ہے ریاضت کس کی،
    لوگ آسان سمجھ لیتے ہیں آسانی کو۔۔

    ایک متوازن معاشرے کی تشکیل تب ہی ممکن ہے جب ہم “اختلافِ رائے” کو دشمنی نہ سمجھیں۔ جب کوئی شخص آپ سے مختلف بات کر رہا ہو، تو ضروری نہیں کہ وہ غلط ہو۔ ہو سکتا ہے کہ آپ تصویر کے دائیں جانب کھڑے ہوں اور وہ بائیں جانب۔
    خلاصہ کلام یہ کہ کائنات کا کوئی بھی رخ حتمی نہیں ہے۔ سورج جہاں ایک طرف زندگی اور روشنی دیتا ہے، وہیں اس کی تپش صحراؤں میں پیاس کا سبب بھی بنتی ہے۔ رات جہاں اندھیرا لاتی ہے، وہیں سکون اور نیند کی نعمت بھی ساتھ لاتی ہے۔
    اگر ہم اپنی زندگیوں میں تھوڑا سا ٹھہراؤ لے آئیں اور کسی بھی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے خود سے یہ سوال کریں کہ “کیا میں نے تصویر کا دوسرا رخ دیکھا ہے؟” تو یقین جانیے، ہماری آدھی سے زیادہ پریشانیاں اور تلخیاں خود بخود ختم ہو سکتی ہیں۔ زندگی صرف “سیاہ” یا “سفید” نہیں ہے، بلکہ ان کے درمیان “گرے” (Gray) رنگ کے بے شمار شیڈز موجود ہیں، جنہیں دیکھنے کے لیے بصارت نہیں، بصیرت کی ضرورت ہے۔
    یہ تھے فیصل عشرت کے خیالات
    آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ
    تصویر کا دوسرا رخ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ کسی بھی چیز کو صرف ظاہری شکل سے نہ پرکھا جائے ہر منظر کے پیچھے ایک اور منظر اور ہر حقیقت کے پیچھے ایک اور حقیقت موجود ہوتی ہے۔

    ظفراحمد صدیقی کا شعر ہے کہ

    ہو نہ جائے معتقد دل ظاہری تنویر کا
    دیکھ لینا دوسرا رخ بھی ذرا تصویر کا

  • اسپرل کے زیرِ اہتمام رشین سینٹرمیں  انٹرنیشنل سیمینار… رپورٹ؛ربیعہ علی فریدی

    اسپرل کے زیرِ اہتمام رشین سینٹرمیں انٹرنیشنل سیمینار… رپورٹ؛ربیعہ علی فریدی

    دنیا بھر میں 23 اپریل کا دن کتابوں اور کاپی رائٹ کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے ، پاکستان میں بھی اس دن کی مناسبت سے پروگرام منعقد ہوتے ہیں ، سوسائٹی فار دی پروموشن آف ریڈنگ اینڈ امپروومنٹ آف لائبریریز (اسپرل) کے زیرِ اہتمام رشین سینٹر کراچی پاکستان کے تعاون سے ایک انٹرنیشنل سیمینار بعنوان ‘ خودی، نالج اور کتاب: اقبال اور کتابوں کا عالمی دن گزشتہ روز رشین ہاؤس کراچی میں منعقد ہوا, اس سیمینار کو اسپرل اور رشین ہاؤس نے 21 اپریل علامہ محمد اقبال رح کے فلسفے اور کتابوں کے عالمی دن کو ساتھ منایا۔سیمینار کی مہمانِ خصوصی پروفیسر ڈاکٹر تنویر انجم تھیں مہمانِ اعزازی میں رشین سینٹر کے ڈائریکٹر مسٹر رسلان اور کراچی کی نمایاں شخصیت اخلاق احمد تھے ، سیمینار میں ندیم ظفر صدیقی نے بھی شرکت کی۔کراچی کے نمائندہ اداروں اور جامعات کے لائبریرینز نے اس پروگرام میں بڑی تعداد میں شرکت کی(یہ مختصر اور مخصوص نشست کا سیمینار تھا جس میں 40 کے قریب سامعین کو شامل کیا گیا)جن میں ڈاکٹر آمنہ خاتون پاکستان لائبریری پروموشن بیورو سینئر لائبریرین ،فرحین محمود گورنمنٹ کالج ناظم آباد ،افشاں خان نیول لائبریری ، نصرت جبیں آئی بی اے کراچی، شمع شہزاد سید زولفقار علی بھٹو لاء لائبریری ، ادیبہ نازحبیب یونیورسٹی ، ثناء افشین سٹی اسکول ، ام حبیبہ ڈاؤ یونیورسٹی کراچی، شہزاد ترین گورنمنٹ اسلامیہ کالج سے، اویس منور علی گورنمنٹ کالج ، عامر سبحانی گورنمنٹ اسلامیہ کالج ، علی احمد درس گورنمنٹ کالج ، صمیم کاردار این ای ڈی یونیورسٹی ، سلمان عابد اسٹیٹ بینک آف پاکستان ،نزیحہ اسفرین جامعہ کراچی آء سی سی بی ایس ،ثنا رحیم بحریہ یونیورسٹی،جواہر علیم کیٹ یونیورسٹی ، سیدہ عائشہ نقوی سندھ مدرستہ الاسلام ، ڈاکٹر خرم شفیع این ای ڈی یونیورسٹی نے شرکت کی۔ تقریب کی میزبانی اسپرل ٹیم جن میں صمیم کاردار ، جواہر علیم اور ربیعہ علی فریدی نے کی ،شرکاء گفتگو میں ڈاکٹر سعد بن عبد العزیز ، ڈاکٹر آمنہ خاتون ، ندیم ظفر صدیقی ، فرحین محمود ، عامر سبحانی، ثناء افشین، نزیحہ اسفرین اور دیگر شامل تھے، کم عمر عبداللہ خان نے اقبال کی شاعری نہایت خوبصورتی سے پڑھ کر سنائی ، تلاوت قرآن کی سعادت صمیم کاردار نے حاصل کی ، ربیعہ علی فریدی نے اسپرل کی ٹیم کی طرف سے رشین ہاؤس کراچی کا شکریہ ادا کیا اور تمام قومی و بین الاقوامی مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اپنی گفتگو میں ربیعہ نے کتابوں کے عالمی دن کی اہمیت پر روشنی ڈالی ، ڈائریکٹر مسٹر رسلان پروخروف نے اپنی تقریر میں مہمانوں کو روسی ہاؤس میں خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کے میں خوشی محسوس کر رہا ہوں اور ملاقات کے اس موقع پر آپ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہمارے لیے یہ بہت بڑے اعزاز کی بات ہے کہ ہم کراچی کی لائبریری برادری کے نمائندوں کی میزبانی کر رہے ہیں وہ لوگ جو روزانہ ثقافتی اور فکری ورثے کو محفوظ رکھتے اور آئندہ نسلوں تک منتقل کرتے ہیں۔
    روس اور پاکستان کے درمیان ادبی تعاون کی گہری اور روشن بنیادیں موجود ہیں۔ ہمارے دونوں ممالک کے پاس ادب کی زرخیز روایات ہیں، اور کتابوں، تراجم اور مطالعے کے فروغ کے ذریعے ہم ایک دوسرے کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں اور ایک دوسرے سے سیکھ سکتے ہیں۔
    آج کل اکثر یہ خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی ترقی نوجوانوں کو مطالعے سے دور کر دے گی۔ لیکن تجربہ اس کے برعکس ثابت کرتا ہے: معلومات اور ویڈیو مواد کی کثرت کے باوجود مطالعے میں دلچسپی ختم نہیں ہوئی۔ بلکہ بہت سے نوجوان، تیز رفتار
    ڈیجیٹل مواد سے تھک کر، معنی، گہرائی اور اندرونی سکون کی تلاش میں دوبارہ کتابوں کی طرف لوٹ رہے ہیں۔
    یہی وجہ ہے کہ آج لائبریرین کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ مجھے پوری امید ہے کہ ہم مل کر اور آپ کی فعال شرکت سے کراچی کے روسی ہاؤس کو نوجوانوں کے لیے ایک مرکزِ کشش اور ایک ایسا “ہب” بنا سکیں گے جہاں وہ اپنی ذات کی تلاش میں ہوں۔
    اخبار جہاں اور اسٹار مارکیٹنگ سے تعلق رکھنے والے مشہور رائٹر و جرنلسٹ اخلاق احمد نے اپنی تقریر میں لائبریری کے ارتقاء پر بات کی اور بتایا کے کیسے آنا لائبریری سے لائبریری کی ابتدا ہوئی ، انہوں نے بتایا کے ایک وقت میں استاد کے علاوہ اضافی مدد لائبریرین سے ملتی تھی لوگ ٹیوشن جانے میں قباحت محسوس کرتے تھے کتراتے تھے ، لائبریری صرف علم کا مرکز نہیں بلکہ ایک کمیونٹی حب تھا قومی ورثہ کی حفاظت صرف لائبریریز کرتی تھیں ،لائبریریز ویران ہوئیں تو لائبریرین کی دلچسپی بھی ختم ہو گئی کے کا کے لیے کام کریں ،آج ٹیکنالوجی کے آ جانے سے لائبریری کلچر ختم نہیں ہو رہا ہے بلکہ اس سے بہت پہلے ہی یہ المیہ ہو چکا ہے۔پروفیسر ڈاکٹر تنویر انجم نے اپنے خطاب میں اقبال کے خودی کے فلسفے پر گفتگو کی ، لائبریریز کے وجود کتب بینی پر سیر حاصل گفتگو کی اپنی شاعری شرکاء کو سنائی اور ماضی کے جھروکوں سے یادوں کا تذکرہ کیا ٹیم اسپرل کا شکریہ ادا کیا پروگرام کے اختتام پر صدر اسپرل اکرام الحق نے اپنا آن لائن خطاب کیا تمام سامعین کو شکریہ اداکیا، کتب بینی پر گفتگو کی رشین سینٹر کے اقدام کو سراہا ڈائریکٹر رشین ہاؤس اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا، سعد بن عبدالعزیز نے جو ولڈایکسپو کے چیف آرگنائزر ہونے کے ساتھ ساتھ تدریس کے شعبے سے بھی وابستہ ہیں مئی میں ہونے والے ایجوکیشن وٹیکنالوجی فیر پر بات کی اور مفید مشوروں سے ٹیم اسپرل کو نوازہ۔ پروگرام میں بین الاقوامی لائبریری ماہرین لویڈا گریشیا فیبو اور ڈاکٹر کولنس چیشیتا نے آن لائن خطاب کیا۔ ڈاکٹر آمنہ خاتون نے شرکاء میں لائبریری پروموشن بیورو کی جانب سے کتابیں تقسیم کیں۔ ٹیم اسپرل نے شیلڈز پیش کیں جب کے ڈاکٹر آمنہ خاتون نے شرکاء میں کتب تقسیم کیں ، رشین ہاؤس کی نمائندہ فریحہ عاقب نے تمام سامعین کا شکریہ ادا کیا۔

  • ایران کی امریکا کو نئی پیشکش، آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے بڑا فارمولا سامنے آگیا

    ایران کی امریکا کو نئی پیشکش، آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے بڑا فارمولا سامنے آگیا

    اسلام آباد (ویب ڈیسک )ایران کی امریکا کو نئی پیشکش، آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے بڑا فارمولا سامنے آگیاایران نے آبنائے ہرمز کھولنے اور جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کو نئی شرائط پیش کر دی ہیں۔امریکی خبر رساں ادارے ایکزیوس کی رپورٹ کے مطابق یہ پیشکش ایک امریکی عہدیدار اور معاملے سے واقف دیگر ذرائع کے حوالے سے سامنے آئی ہے۔رپورٹ کے مطابق ایران نے تجویز دی ہے کہ پہلے مرحلے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے اور جنگ بندی کی طرف پیش رفت کی جائے، جبکہ جوہری مذاکرات کو بعد کے مرحلے تک مؤخر رکھا جائے۔ذرائع کے مطابق ایران نے یہ پیغام پاکستان کے ذریعے ثالثی کے طور پر امریکا تک پہنچایا جو اس وقت دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔تاہم رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کھولنے اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کا معاہدہ طے پا جاتا ہے تو امریکی صدر ٹرمپ کے پاس ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے محدود آپشنز رہ جائیں گے، خاص طور پر یورینیم افزودگی کے پروگرام کے حوالے سے پیش رفت نہیں ہوسکے گی۔ماہرین کے مطابق امریکا چاہتا ہے کہ ایران کم از کم ایک دہائی کے لیے یورینیم افزودگی معطل کرے، لیکن ایران کی نئی تجویز میں اس معاملے کو فوری طور پر شامل نہیں کیا گیا، جس سے مذاکرات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خلیجی خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور عالمی معیشت پر اس کے اثرات بڑھتے جا رہے ہیں۔

  • پاکستان کا دورہ مفید رہا،  ایران امریکا مذاکرات جاری رہ سکتے ہیں: عباس عراقچی

    پاکستان کا دورہ مفید رہا، ایران امریکا مذاکرات جاری رہ سکتے ہیں: عباس عراقچی

    اسلام آباد ٰ(ویب ڈیسک)ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات میں کچھ پیشرفت ہوئی ہے تاہم امریکا کے حد سے زیادہ مطالبات کی وجہ سے مقاصد حاصل نہ ہو سکے۔
    عباس عراقچی کا کہنا ہے روسی دوستوں کیساتھ جنگ سے متعلق پیشرفت اورموجودہ صورتحال پر مشاورت اور جائزے کا مناسب موقع ہے، پاکستان ایران اورامریکا کے درمیان مذاکرات میں اہم ثالثی کردار ادا کر رہا ہے۔
    انہوں نے کہا کہ بہرحال مذاکرات میں کچھ پیشرفت ہوئی ہے لیکن امریکی مؤقف کےباعث گزشتہ دورکےمقاصد حاصل نہیں ہوسکے، امریکاکے حد سے زیادہ مطالبات اور غلط طرزِعمل پیشرفت کے باوجود مقاصد حاصل نہ ہونےکی وجہ بنے، ضروری تھا کہ پاکستانی دوستوں کے ساتھ مشاورت کریں تاکہ موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا جاسکے۔
    قبل ازیں ماسکو پہنچنے پر ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی کا کہنا تھا ایران اور ماسکوکے درمیان علاقائی اور عالمی امور پر قریبی مشاورت جاری رکھنے کے مقصد سے روس آیا ہوں، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے آج ملاقات ہوگی۔
    ان کا کہنا تھا روسی صدرسے ملاقات جنگ کی پیشرفت اور موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کا اچھا موقع ہوگا، یقین ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مشاورت اور ہم آہنگی خاص اہمیت کی حامل ہوگی۔
    ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا پاکستان کا دورہ بہت مفید رہا، دورہ اسلام آباد میں حکام کے ساتھ مثبت مشاورت ہوئی، دورہ اسلام آباد میں حکام نے ماضی کے واقعات اور ان مخصوص حالات کا جائزہ لیا جن کے تحت ایران امریکا مذاکرات جاری رہ سکتے ہیں۔
    عباس عراقچی نے بتایا کہ دورہ عمان کے دوران دونوں ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز پر بات چیت ہوئی، ایران اور عمان آبنائے ہرمز کے ساحلی ممالک ہیں اس لیے باہمی مشاورت ناگزیر ہے، خاص طور پر اس وقت جب اس گزرگاہ سے محفوظ آمد و رفت ایک اہم عالمی مسئلہ بن چکی ہے۔
    انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے ساحلی ممالک ہونے کے ناطےباہمی مفادات کے تحفظ کے لیے بات چیت کرنا فطری ہے، دو ساحلی ممالک کے ناطے ہمیں ہرممکن اقدام میں ہم آہنگی برقرار رکھنی چاہیے، دونوں کے مفادات اسی میں ہیں۔
    ان کا کہنا تھا ایران اور عمان کے درمیان اعلیٰ سطح کا اتفاق پایا جاتا ہے، دونوں ممالک متفق ہیں کہ ماہرین کی سطح پر بھی مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

  • لبنان میں حزب اللہ کا ڈرون حملہ، اسرائیلی فوجیوں کی دوڑیں لگ گئیں

    لبنان میں حزب اللہ کا ڈرون حملہ، اسرائیلی فوجیوں کی دوڑیں لگ گئیں

    بیروت (ویب ڈیسک )لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے ڈرون کی مدد سے اسرائیلی فوجیوں کے قریب حملہ کیا جس کی ویڈیو بھی منظر عام پر آگئی ہے۔سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جنوبی لبنان کے علاقے طیبہ Taybeh میں حزب اللہ نے ڈرون سے اسرائیلی فوجیوں کے قریب حملہ کیا۔وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حملہ اُس وقت کیا گیا جب اسرائیلی فوج زخمی اہلکاروں کو منتقل کر رہی تھی، اس دوران فوجیوں کو ڈرون پر فائرنگ کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ڈرون زمین پر گرنے کے بعد زور دار دھماکے سے پھٹ گیا، جبکہ اسرائیلی فوجیوں کو ڈرون قریب آتے وقت بھاگتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔

  • اسرائیلی وزیراعظم کو بڑا دھچکا، سابق وزرائے اعظم کا نیا انتخابی اتحاد بنانے کا اعلان

    اسرائیلی وزیراعظم کو بڑا دھچکا، سابق وزرائے اعظم کا نیا انتخابی اتحاد بنانے کا اعلان

    تل ابیب (ویب ڈیسک )اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو بڑا دھچکا لگ گیا۔اسرائیل کے دو سابق وزرائے اعظم، نفتالی بینیٹ اور یائیر لیپڈ نے اپنی سیاسی جماعتوں کو ضم کر کے نیا انتخابی اتحاد بنانے کا اعلان کر دیا۔اتحاد کا بنیادی مقصد اکتوبر 2026 میں ہونے والے عام انتخابات میں نیتن یاہو کی مخلوط حکومت کو شکست دینا ہے۔سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے کہا کہ نئی پارٹی کو ٹوگیدر (Together) کہا جائے گا اور وہ اس کے لیڈر ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ 30 سال کے بعد اب وقت آگیا ہے کہ نیتن یاہو سے علیحدگی اختیار کی جائے، اسرائیل کو اپنا رخ بدلنا ہوگا۔

    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا
    اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • وزیرستان: فتنہ الخوارج کی اشتعال انگیزی ناکام ، پاک فوج کا افغان طالبان کو بھی بھرپور جواب

    وزیرستان: فتنہ الخوارج کی اشتعال انگیزی ناکام ، پاک فوج کا افغان طالبان کو بھی بھرپور جواب

    پشاور(ویب ڈیسک )پاک فوج نے جنوبی وزیرستان میں فتنۃ الخوارج کی اشتعال انگیزی کی کوشش ناکام بنا دی اور سکیورٹی فورسز نے افغان طالبان کی جانب سے سول آبادی کو نشانہ بنانے پر بھرپور جوابی کارروائی میں کئی افغان چیک پوسٹیں تباہ کر دیں۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق جنوبی وزیرستان کے علاقے انگور اڈہ میں پاک فوج نے فتنہ الخوارج کی دراندازی کی کوششیں ناکام بنائیں۔ذرائع کا بتانا ہے کہ فتنہ الخوارج کی دراندازی میں ناکامی پر افغان طالبان نے انگوراڈہ زلول خیل سول آبادی کونشانہ بنایا، فائرنگ کے نتیجے میں 2 خواتین سمیت 3 شہری زخمی ہوئے جنہیں وانا اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔سکیورٹی ذرائع کا بتانا ہے کہ افغان طالبان شکست کی بوکھلاہٹ میں سول آبادی کو نشانہ بنارہے ہیں، پاک فوج نے جوابی کارروائی کرکے متعدد افغان پوسٹیں تباہ کردیں۔
    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا
    اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • فیلڈمارشل عاصم منیر سے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی ملاقات

    فیلڈمارشل عاصم منیر سے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی ملاقات

    اسلام آباد(ویب ڈیسک )پاکستان کے دورے پر آئے ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی۔ایرانی سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پہلی باضابطہ ملاقات فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی۔سفارتی ذرائع کے مطابق ملاقات میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے علاوہ مشیر برائے قومی سلامتی جنرل عاصم ملک اور ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس بھی شریک تھے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ ایران کے نائب وزیرخارجہ غریب آبادی، اسلام آباد میں ایران کے سفیر امیری مقدم اور ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی بھی ملاقات میں موجود تھے۔یاد رہے کہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی گزشتہ روز مختصر وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچے تھے۔ ایرانی وزیر خارجہ آج وزیراعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کریں گے۔

    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا
    اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • کل مذاکرات کا امکان، پاکستان امریکا کو ایران سے ہوئی مشاورت سے آگاہ کرنے کیلئے تیار

    کل مذاکرات کا امکان، پاکستان امریکا کو ایران سے ہوئی مشاورت سے آگاہ کرنے کیلئے تیار

    اسلام آباد: (ویب ڈیسک )ذرائع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور کل یعنی اتوار کو منعقد ہو سکتا ہے جبکہ پاکستان، اسلام آباد کے دورے پر آئے ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ اپنی مشاورت کے نتائج سے واشنگٹن کو آگاہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ ایک اہم سفارتی پیش رفت میں ایران کے وزیرِ خارجہ پاکستان پہنچ گئے ہیں، جہاں تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور سے متعلق توقعات بڑھ گئی ہیں۔ یہ دورہ پہلے مرحلے کے مذاکرات کے بعد ہونے والی پسِ پردہ بات چیت کے تناظر میں ہو رہا ہے۔ پہلے دور میں دونوں فریقین کے درمیان مزید رابطوں کی بنیاد رکھی، گئی تھی۔ اس صورتحال سے واقف حکام کے مطابق، اسلام آباد میں ایرانی وزیرِ خارجہ کی ملاقاتوں میں حالیہ پیش رفت اور مذاکرات کے اگلے مرحلے کی جانب بڑھنے کے امکانات پر توجہ دی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق اگر اسلام آباد میں مشاورت کے مثبت اشارے سامنے آئے تو پاکستان ممکنہ طور پر اس کے نتائج سے باضابطہ طور پر امریکا کو آگاہ کرے گا۔ نتیجتاً، دوسرے دور کے مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، جو ابتدائی طور پر اتوار تک متوقع ہیں۔ دریں اثنا، وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ امریکی وفد کے ارکان ہفتہ کی صبح (امریکی وقت کے مطابق) یعنی پاکستان کے وقت کے مطابق ہفتہ کی رات پاکستان کیلئے روانہ ہوں گے۔
    مجوزہ شیڈول کے مطابق جب یہ پیشرفت عملی شکل اختیار کرے گی تو مذاکرات کے وقت اور ایجنڈے کے حوالے سے مزید وضاحت سامنے آنے کی توقع ہے۔ اس پیش رفت کو عالمی سطح پر قریب سے دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اس کے اثرات پوری دنیا کیلئے اہمیت کے حامل ہو سکتے ہیں۔

    Disclaimer:
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا
    اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔