Blog

  • معاہدے پر دستخط کے قریب ہیں،ایران کیساتھ مذاکرات میں افزودہ یورینیم امریکا کے حوالے کرنے پر بات جاری ہے: ٹرمپ

    معاہدے پر دستخط کے قریب ہیں،ایران کیساتھ مذاکرات میں افزودہ یورینیم امریکا کے حوالے کرنے پر بات جاری ہے: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اچھے جارہے ہیں، ممکن ہے کہ ہفتے کے آخرتک کوئی پیشرفت ہو، ایران کے ساتھ معاہدے پر دستخط کے قریب ہیں۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات دنوں میں طے پاسکتے ہیں، ایران کی افزودہ یورینیم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

    امریکی صدر نے کہا کہ معاہدہ ہوتے ہیں آبنائے ہرمز مکمل کھل جائے گی، آبنائے ہرمز اور لبنان کے معاملے کو الگ رکھنے کی کوشش کررہے ہیں، حزب اللہ نے بھی یقین دہانی کرائی کہ وہ اسرائیل پرحملہ نہیں کرے گا۔

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں افزودہ یورینیم امریکا کے حوالے کرنے پر بات جاری ہے، ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرسکتا۔

  • تصویر میں دکھائی دینے والا منہ کس گھوڑے کا ہے؟کیا بتا سکتے ہیں

    تصویر میں دکھائی دینے والا منہ کس گھوڑے کا ہے؟کیا بتا سکتے ہیں

    اگر ہاں تو یہ تصویر درحقیقت کافی چیلنجنگ ثابت ہوگی اور سر کھجانے پر مجبور کر دے گی۔
    نظروں کو دھوکا دینے والی تصاویر پہیلیوں کے شوقین افراد میں بہت زیادہ مقبول ہوتی ہیں۔
    تو کیا آپ اپنی مشاہدہ کرنے کی صلاحیت کو آزمانا پسند کریں گے؟
    جیسا آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس میں دائیں اور بائیں 2 گھوڑوں کے جسم نظر آرہے ہیں جبکہ درمیان میں ایک گھوڑے کا منہ ہے۔گھوڑے کا منہ کیمرے کی جانب دیکھ رہا ہے اور آپ کو بس یہ بتانا ہے کہ یہ دائیں یا بائیں یا 1 یا 2 نمبر میں سے کس گھوڑے کا منہ ہے۔یہ دونوں گھوڑے اس طرح کھڑے ہیں کہ یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ سر بائیں جانب کھڑے گھوڑے کا ہے یا دائیں جانب والے گھوڑے۔دونوں گھوڑوں کی ایک جیسی رنگت بھی کسی قسم کی مدد کرنے کی بجائے دماغ کو مزید چکرا دیتی ہے۔تو کیا آپ اس کا درست جواب دے سکتے ہیں؟ ذرا غور سے تصویر کو دیکھیں اور پھر اپنا جواب دیں۔
    تو کیا آپ جواب دینے کے لیے تیار ہیں ؟
    ویسے ہم اس کا جواب بتا دیتے ہیں اور ہے دائیں جانب کھڑا گھوڑا۔
    دائیں جانب کھڑے گھوڑے کے ایال یا گردن کے بالوں کی رنگت سیاہ رنگ کی ہے جو چہرے کے اوپر بھی نظر آرہے ہیں جبکہ بائیں جانب کے گھوڑے کے ایال ہلکے رنگ کے ہیں۔

  • پاکستان  کی نصف آبادی غربت  کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، محمد زبیر عمر،ہمدرد شوری سے خطاب

    پاکستان کی نصف آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، محمد زبیر عمر،ہمدرد شوری سے خطاب

    ماہانہ اجلاس سے جنرل(ر )معین الدین حیدر ودیگر کا خطاب ، محترمہ سعدیہ راشدبھی موجود تھیں

    کراچی (پاکستان واچ نیوز)سابق گورنر سندھ محمد زبیر عمر نے کہا معاشی ترقی کے تین مراحل ہیں پہلے ڈیفالٹ سے بچائو، جس کے بعد استحکام اور پھر اقتصادی نمو۔ پاکستان کا مسئلہ یہ رہا کہ استحکام کا مرحلہ غیر معمولی طور پر طویل ہوگیا۔ استحکام کے دور میں سب سے زیادہ بوجھ عام شہری، متوسط طبقے اور غریب عوام پر پڑتا ہے۔کیوں کہ اس دوران معاشی ترقی محدود رہتی ہے، روزگار کے مواقع کم پیدا ہوتے ہیں اور غربت میں اضافہ ہوتا ہے۔وہ گزشتہ روز ہمدرد فائونڈیشن پاکستان کے زیر اہتمام ہمدرد کارپوریٹ ہیڈ آفس میں منعقدہ ہمدرد شوریٰ کراچی کے ماہانہ اجلاس بہ عنوان ’’پر ی بجٹ 2026ء معاشی چیلنجز اور ممکنہ حل‘‘ پر بہ طور مہمان خصوصی اپنے خیالات کا اظہار کررہے تھے۔ اجلاس کی صدارت اسپیکر جنرل (ر) معین الدین حیدر نے انجام دی۔ ہمدرد فائونڈیشن پاکستان کی صدر محترمہ سعدیہ راشد نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔
     محمد زبیر نے کہا مسئلہ صرف آمدنی بڑھانے کا نہیں بلکہ اخراجات کو قابو میں لانے، وسائل کے بہتر استعمال اور پائیدار معاشی اصلاحات کا بھی ہے۔پاکستان کی آبادی میں سالانہ اضافہ تقریباً 2.6 فیصد ہے، جبکہ گزشتہ چار برسوں میں اوسط معاشی ترقی تقریباً 2.2 فیصد رہی۔ جب معیشت کی ترقی آبادی کے اضافے سے کم ہو تو نتیجہ بے روزگاری، غربت اور قوتِ خرید میں کمی کی صورت میں نکلتا ہے۔اس وقت پاکستان میں تقریباً نصف آبادی غربت کی لکیر کے قریب یا اس سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔اگر موجودہ ٹیکس بوجھ کے باوجود عوام، صنعت اور کاروباری طبقہ شدید دباؤ کا شکار ہیں تو مزید بوجھ کس حد تک قابلِ برداشت ہوگا؟لوگوں کے مسائل کا حل یہ ہوتا ہے کہ اُن کے لیے روزگار کے متعدد مواقع میسر ہوں۔ یہ کام کارپوریٹ سیکٹر کرتا ہےلیکن پڑوسی ممالک کے مقابلے میں پاکستان کے کاروباری ماحول کو زیادہ چیلنجز درپیش ہیں۔ ایسے حالات میں مقامی صنعت اور برآمد کنندگان کے لیے بین الاقوامی منڈیوں میں مقابلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔اس کا اثر برآمدات پر بھی پڑتا ہے۔ برآمدات کسی بھی معیشت کی ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں،کیوں کہ یہی شعبہ ملک میں زرمبادلہ لاتا ہے، روزگار پیدا کرتا ہے اور صنعتی ترقی کو فروغ دیتا ہے۔ اگر برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہو تو معاشی نمو کا حصول مشکل ہو جاتا ہے۔مزید برأں ٹیکسوں کی شرح پہلے ہی خطے کے کئی ممالک کے مقابلے میں زیادہ سمجھی جاتی ہے۔ اسی طرح شرحِ سودبھی کاروباری سرگرمیوں پر اثر انداز ہوتی ہےجو پہلے ہی زیادہ ہے۔ جب کاروبار کے لیے قرض لینا مہنگا ہو، بجلی مہنگی ہو اور ٹیکسوں کا بوجھ زیادہ ہو تو سرمایہ کاری اور صنعتی پیداوار متاثر ہوتی ہے۔
    جنرل (ر) معین الدین حیدر نے کہاپاکستان کا بنیادی معاشی مسئلہ یہ ہے کہ اس کے اخراجات آمدنی سے کہیں زیادہ ہیں۔ حکومتی اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں جبکہ ٹیکس وصولیاں اور دیگر آمدنی ان کے مقابلے میں کم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بجٹ منظور ہوتے ہی ملک کو پہلے ہی دن بڑے مالی خسارے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ہر سال یہ تجاویز سامنے آتی ہیں کہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے، مزید شعبوں پر ٹیکس لگایا جائے، برآمدات میں اضافہ کیا جائے اور آمدنی بڑھائی جائے، لیکن سرکاری اخراجات میں کمی اور سادگی اختیار کرنے پر نسبتاً کم توجہ دی جاتی ہے۔پاکستان کے ابتدائی دور میں چین ہم سے کہیں زیادہ غریب ملک تھا۔ اس وقت چین کی فی کس آمدنی بھی پاکستان سے کم تھی اور غربت کی شرح بہت زیادہ تھی۔ ایک موقع پر شدید زلزلے کے بعد دنیا بھر نے چین کو امداد، خوراک اور ادویات فراہم کرنے کی پیشکش کی، لیکن چینی قیادت نے خود انحصاری کو ترجیح دی اور قومی وسائل کے اندر رہتے ہوئے ترقی کا راستہ اختیار کیا۔چین نے سادگی، محنت اور طویل المدتی منصوبہ بندی کو اپنایا۔چین نے کفایت شعاری اور بچت کی پالیسی اختیار کی۔ انہی بچتوں کو صنعتوں کے قیام، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور معاشی ترقی پر خرچ کیا گیا۔ نتیجتاً چین ایک مضبوط معاشی قوت بن کر ابھرا۔
    کموڈور(ر)سدید انور ملک نے کہا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ معاشی استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے بتدریج ترقی کی طرف بڑھا جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی آمدنی اور اخراجات کے درمیان توازن پیدا کریں اور دستیاب وسائل کے اندر رہ کر فیصلے کریں۔اگر ہم برآمدات میں اضافہ کریں، ترسیلاتِ زر کو بہتر انداز میں استعمال کریں اور درآمدات کو مؤثر طریقے سے منظم کریں تو کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا دباؤ کم کیا جا سکتا ہے۔ طویل المدت حل بیرونی امداد نہیں بلکہ خود کفالت اور مضبوط معیشت ہے۔ معاشی پالیسیوں میں بار بار تبدیلی اور غیر یقینی صورتحال سرمایہ کاری کے ماحول کو متاثر کرتی ہے۔ بدعنوانی اور غیر مؤثر انتظامی ڈھانچے کسی بھی معیشت کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔ اگر شفافیت، احتساب اور بہتر گورننس کو یقینی بنایا جائے تو معاشی کارکردگی میں واضح بہتری آ سکتی ہے۔
    انجینئر پرویز صادق نے کہا بعض اوقات مالی مجبوریوں اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کی وجہ سے آئی ایم ایف کی طرف جانا پڑتا ہے۔ لیکن یہ ماننا پڑے گا کہ آمدنی اور اخراجات کے درمیان مسلسل بڑھتا ہوا فرق ہمیں قرض لینے پر مجبور کرتا ہے۔ اگر اخراجات کو بہتر طریقے سے منظم کیا جائے اور وسائل کا شفاف استعمال یقینی بنایا جائے تو مالی دباؤ میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں ٹیکس کا نظام محدود طبقے تک مرکوز ہے۔ ایک چھوٹا سا رجسٹرڈ طبقہ ٹیکس ادا کرتا ہے، جبکہ معیشت کا بڑا حصہ ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹیکس کا بوجھ نسبتاً کمزور اور باقاعدہ ٹیکس دہندگان پر زیادہ پڑتا ہے، جس سے عدم توازن پیدا ہوتا ہے۔اس کے ساتھ ہماری انتظامی صلاحیت اور ٹیکنالوجی کے استعمال میں بھی خلا موجود ہے۔
    اجلاس سے ڈپٹی اسپیکر شوریٰ کرنل (ر)مختار احمد بٹ،سینئر صحافی مظفر اعجاز،ہمدرد یونی ورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عمران جاوید امین، ڈائریکٹر ہمدرد فائونڈیشن پاکستان سید محمد ارسلان، ظفر اقبال، مبشر میر، انجینئر ابن الحسن، پروفیسر ڈاکٹر تنویر خالد، ہما بیگ، بریگیڈیئر (ر) طارق خلیل ، پروفیسر ڈاکٹر عامر طاسین، شہلا احمد، سلطان چاولہ، جسٹس (ر) ضیا پرویز، پروفیسر ڈاکٹر امجد جعفری اور دیگر نے بھی اظہار خیال کیا۔

  • آئندہ ایک ہفتے میں ایران کیساتھ معاہدہ ہوجائے گا، جنگ بندی میں توسیع کی جائے گی: ٹرمپ پر امید

    آئندہ ایک ہفتے میں ایران کیساتھ معاہدہ ہوجائے گا، جنگ بندی میں توسیع کی جائے گی: ٹرمپ پر امید

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں آئندہ ایک ہفتے کے دوران ایران کے ساتھ معاہدہ طے پا جائے گا۔امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران سے معاہدے کے تحت جنگ بندی میں توسیع کی جائےگی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ بحری آمدورفت کے لیے کھول دیا جائے گا۔اس سے پہلے ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران سے امریکا کے مذاکرات تیزی سے جاری ہیں۔
    ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہیں پیغامات میں تعطل کے ایرانی فیصلے سے کوئی مسئلہ نہیں، تاہم پیغامات کی معطلی کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ امریکا پھر سے فوجی کارروائیاں شروع کردے ۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا ایران کی بحری ناکا بندی جاری رکھے گا اور اس وقت کا انتظار کرے گا جب ایران امریکا کو منظور شرائط پر ڈیل کرنے پر تیار ہو، ناکا بندی آہنی ہے۔

  • جامعہ ہمدرد کی فیکلٹی آف انجینئرنگ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کے تحت  فوڈ پروڈکٹس ڈسپلے ایکٹیویٹی” کا انعقاد

    جامعہ ہمدرد کی فیکلٹی آف انجینئرنگ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کے تحت فوڈ پروڈکٹس ڈسپلے ایکٹیویٹی” کا انعقاد

    کراچی(پاکستان واچ نیوز)جامعہ ہمدرد کی فیکلٹی آف انجینئرنگ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کے تحت شعبہ اپلائیڈ سائنسز کے فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پروگرام کی جانب سے ایک شاندار اور معلوماتی “فوڈ پروڈکٹس ڈسپلے ایکٹیویٹی” کا انعقاد کیا گیا، جس میں طلبہ و طالبات نے جدید، غذائیت سے بھرپور اور تحقیقی بنیادوں پر تیار کردہ فنکشنل فوڈ مصنوعات پیش کرکے حاضرین کو بے حد متاثر کیا۔ تقریب میں 50 سے زائد طلبہ نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں اور سائنسی مہارت کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے زرعی ضمنی مصنوعات اور مقامی خام مال سے تیار کردہ منفرد غذائی اشیاء نمائش کے لیے پیش کیں۔
    تقریب کا مقصد نوجوان فوڈ سائنٹسٹس کو عملی میدان میں اپنی صلاحیتیں اجاگر کرنے کے مواقع فراہم کرنا، غذائی تحقیق کو فروغ دینا، اور زرعی فضلے کو کارآمد و صحت بخش غذائی مصنوعات میں تبدیل کرنے کے جدید تصورات متعارف کروانا تھا۔
    نمائش میں فنکشنل ڈرنکس، بیکری مصنوعات، کنفیکشنری آئٹمز، جام، اسکواش، صحت بخش اسنیکس، گلوٹن فری مصنوعات، پھلوں پر مبنی غذائی اشیاء اور دیگر غذائیت سے بھرپور مصنوعات شامل تھیں۔ ان مصنوعات کا بنیادی مقصد صحت مند خوراک کے فروغ، غذائی قلت میں کمی اور پائیدار فوڈ سسٹم کے قیام میں اپنا کردار ادا کرنا تھا۔
    تقریب میں مختلف جامعات، تحقیقی اداروں اور فوڈ انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے ماہرین تعلیم، معزز اساتذہ اور دیگر مہمانانِ گرامی نے شرکت کی۔ مہمانوں نے طلبہ کے اسٹالز کا تفصیلی دورہ کیا اور ان کی تخلیقی سوچ، تحقیقی مہارت، مصنوعات کی تیاری کے معیار اور پیشہ ورانہ انداز کو بے حد سراہا۔ اس موقع پر ماہرین نے مصنوعات کی پیکیجنگ، ذائقے، معیار، مارکیٹنگ حکمتِ عملی اور تجارتی امکانات کے حوالے سے قیمتی تجاویز بھی پیش کیں۔
    نمائش میں پیش کیے گئے متعدد منصوبوں نے مستقبل میں فوڈ اسٹارٹ اپس اور انٹرپرینیورشپ کے روشن امکانات کو اجاگر کیا۔ طلبہ کی جانب سے تیار کردہ کئی مصنوعات ایسی تھیں جنہوں نے زرعی فضلے اور ضمنی اجزاء کو نہایت مؤثر انداز میں قابلِ قدر، غذائیت سے بھرپور اور ماحول دوست مصنوعات میں تبدیل کیا، جو مستقبل میں پاکستان کے فوڈ سیکٹر کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہوسکتی ہیں۔
    اساتذہ نے اس موقع پر اس امر پر زور دیا کہ تعلیمی اداروں، فوڈ انڈسٹری، تحقیقی مراکز اور فنڈنگ آرگنائزیشنز کے درمیان مضبوط روابط وقت کی اہم ضرورت ہیں تاکہ طلبہ کی تحقیق، اختراعی خیالات اور سائنسی منصوبوں کو عملی اور تجارتی سطح پر متعارف کروایا جاسکے۔
    تقریب کے اختتام پر طلبہ اور منتظمین نے شعبہ اپلائیڈ سائنسز کے چیئرمین اور فیکلٹی آف انجینئرنگ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کے ڈین کا خصوصی شکریہ ادا کیا، جن کی مسلسل رہنمائی، تعاون اور حوصلہ افزائی کے باعث یہ کامیاب علمی و تحقیقی سرگرمی ممکن ہوئی۔

  • امریکی میڈیا کا ایرانی صدر کے مستعفی ہونے کا دعویٰ، پاسداران انقلاب نے تردید کردی

    امریکی میڈیا کا ایرانی صدر کے مستعفی ہونے کا دعویٰ، پاسداران انقلاب نے تردید کردی

    تہران(ویب ڈیسک ) امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے مبینہ طور پر اپنے اختیارات محدود ہونے کے باعث استعفیٰ دینے کی درخواست کی ہے۔
    رپورٹس کے مطابق مسعود پزشکیان نے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے دفتر کو بتایا کہ انہیں اہم فیصلوں کے عمل سے باہر رکھا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنی آئینی ذمہ داریاں مؤثر طریقے سے ادا نہیں کر پا رہے۔
    بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کی طاقتور پاسداران انقلاب گارڈز اور دیگر سخت گیر حلقوں کا اثر و رسوخ بڑھنے سے منتخب حکومت کا کردار کمزور ہوگیا ہے، جس کے باعث صدر اور ان کی کابینہ بڑے فیصلوں سے الگ ہوگئے ہیں۔
    تاہم ایرانی حکام نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے، صدارتی دفتر کے عہدیداروں اور پاسداران انقلاب گارڈز سے وابستہ ذرائع نے کہا ہے کہ صدر نے ناتو استعفیٰ دیا ہے اور نا ہی انہوں نے ایسی کوئی درخواست کی ہے، صدر مسعود پزشکیان بدستور اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
    یہ خبریں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور ایران کے اندر مختلف سیاسی دھڑوں کے درمیان اختلافات کی اطلاعات بھی زیر گردش ہیں۔
    تاہم ایرانی حکومت کی جانب سے صدر مسعود پزشکیان کے استعفے کی سرکاری سطح پر تاحال تصدیق نہیں کی گئی
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • آئندہ مالی سال برآمدات ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پرپہنچنےکاامکان

    آئندہ مالی سال برآمدات ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پرپہنچنےکاامکان

    اسلام آ باد(ویب ڈیسک )پاکستان کی برآمدات یکم جولائی سےشروع ہونے والے آئندہ مالی سال 27-2026 کے دوران ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پرپہنچنےکا امکان ہے۔ آئی ایم ایف نےآئندہ مالی سال پاکستان کی برآمدات، تجارتی خسارے اوردرآمدات میں اضافےکا تخمینہ لگایا ہے۔ آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال پاکستان کی برآمدات بڑھ کر ریکارڈ 35 ارب63 کروڑڈالرپر پہنچنےکا تخمینہ لگایا ہے۔آئی ایم ایف کے تخمینہ جات کے مطابق 20 جون کو ختم کو ہونے والے رواں مالی سال 26-2025 کے دوران پاکستان کی برآمدات31 ارب 93 کروڑ ڈالرز رہنے کا امکان ہے جو آئندہ مالی سال 27-2026 کے دوران بڑھ کر 35 ارب 63 کروڑ ڈالرز پر پہنچ جائیں گی۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • ایران سے مسلح کشیدگی ختم ہوگئی، تنازع مکمل حل نہیں ہوا؛ صدر ٹرمپ کا دعویٰ

    ایران سے مسلح کشیدگی ختم ہوگئی، تنازع مکمل حل نہیں ہوا؛ صدر ٹرمپ کا دعویٰ

    واشنگٹن (ویب ڈیسک )امریکی صدر ٹرمپ نے امریکی کانگریس کو ایک خط لکھ کر دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری مسلح کشیدگی اب ختم ہو چکی ہے تاہم تنازع مکمل طور پر حل نہیں ہوا۔صدر ٹرمپ نے یہ خط کانگریس کے اسپیکر مائیک جونسن اور سینیٹ کے صدر چک گراسلی کے نام ارسال کیا، جس میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ 28 فروری سے شروع ہونے والی کشیدگی کا مرحلہ اب اختتام کو پہنچ گیا ہے۔خط میں ٹرمپ نے لکھا کہ ان کی حکومت خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے کوشاں ہے، تاہم اس کے باوجود جنگ جاری رہنے کا امکان بھی موجود ہے۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ایران کے ساتھ تنازع مکمل طور پر حل نہیں ہوا اور صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کا مؤقف اختیار کر کے ٹرمپ انتظامیہ ممکنہ طور پر کانگریس سے باقاعدہ جنگی منظوری لینے کی آئینی ضرورت سے بچنا چاہتی ہے حالانکہ خطے میں امریکی افواج کی موجودگی برقرار ہے۔

    : Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا
    ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • ’’آنکھیں بند کرو، رقم ڈبل‘‘  شہری نے ایک لاکھ روپے دیدیے، پھر کیا ہوا؟

    ’’آنکھیں بند کرو، رقم ڈبل‘‘ شہری نے ایک لاکھ روپے دیدیے، پھر کیا ہوا؟

    لاہور:(ویب ڈیسک )آنکھیں بند کرو اور رقم ڈبل کے لالچ نے شہری کو بڑی رقم سے محروم کردیا۔ٹبی سٹی کے علاقے میں پولیس نے معصوم شہریوں کے ساتھ نوسربازی کرنے والے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا۔ ملزم شہریوں کا پیچھا کرتا اور موقع ملنے پر انہیں جھانسا دے کر رقم ہتھیا کر فرار ہو جاتا تھا۔ملزم شہری کو اسٹاپ پر کھڑا دیکھ کر اس کے قریب آیا اور باتوں باتوں میں اعتماد بحال کیا۔ ملزم نے شہری کو کہا کہ اگر رقم ڈبل کرنی ہے تو وہ اسے رقم دے اور 100 قدم آنکھیں بند کر کے چلے، جس پر شہری اس کے جھانسے میں آ گیا۔پولیس کے مطابق شہری نے ملزم کو ایک لاکھ روپے نقد دیے، تاہم جب شہری نے آنکھیں کھولیں تو ملزم رقم لے کر موقع سے فرار ہو چکا تھا۔ متاثرہ شہری نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی جس پر کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
    ٹبی سٹی پولیس نے اطلاع ملنے پر فوری ریسپانس کرتے ہوئے ملزم عرفان کو گرفتار کر لیا۔ ایس پی سٹی عاطف امیر کا کہنا ہے کہ شہر میں جرائم کے انسداد کے لیے کڑی نگرانی کی جا رہی ہے ۔ شہریوں کو لوٹنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔
    : Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا
    ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • پیٹرول پر 153 اور ڈیزل پر 116 روپے کے بھاری ٹیکسز اور مارجنز لیے جانے کا انکشاف

    پیٹرول پر 153 اور ڈیزل پر 116 روپے کے بھاری ٹیکسز اور مارجنز لیے جانے کا انکشاف

    اسلام آباد(ویب ڈیسک )ملک میں پیٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسوں اور مارجنز کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔نجی ٹی وی کی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا گیا ہے کہ ایک لیٹر پیٹرول پر 153 روپے 55 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 116 روپے 46 پیسے وصول کیے جا رہے ہیں۔پیٹرول کی ڈیوٹی سے قبل ایکس ریفائنری قیمت 246 روپے 31 پیسے ہے، تاہم مختلف ٹیکسز اور مارجنز کی شمولیت کے بعد عوام کے لیے پیٹرول کی حتمی قیمت 399 روپے 86 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں 23 روپے 72 پیسے کسٹم ڈیوٹی، 7 روپے 32 پیسے ان لینڈ فریٹ مارجن، 7 روپے 87 پیسے مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن اور 8 روپے 64 پیسے پمپ ڈیلرز کا کمیشن شامل ہے۔مزید برآں ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت میں 103 روپے 50 پیسے کی پیٹرولیم لیوی اور 2 روپے 50 پیسے کی کلائمیٹ سپورٹ لیوی بھی شامل ہے، جو حتمی قیمت کا ایک بڑا حصہ بنتی ہے۔اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی اصل ایکس ریفائنری قیمت 283 روپے 12 پیسے ہے، جس پر تمام تر ٹیکسز اور منافع جات شامل کرنے کے بعد شہریوں کے لیے قیمت 399 روپے 58 پیسے ہو جاتی ہے۔

    : Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا
    ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔