نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کیلئے فنانشل بڈ کھولی گئی۔
فنانشل بڈ کھولنے کی تقریب کراچی میں پاکستان ائیرپورٹ اتھارٹی ہیڈکوارٹر میں ہوئی جس دوران بڈ میں شارٹ لسٹ ہونے والی واحد ترک کمپنی نے حصہ لیا۔
ترجمان پاکستان ائیرپورٹ اتھارٹی کے مطابق کمپنی نے اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی آمدنی کا 47.25 فیصد حصہ دینےکی پیشکش کی ہے۔
پی اےاےذرائع کا بتانا ہے کہ ترک کمپنی کی پیشکش کے جائزےکیلئےٹرانزیکشن ایڈوائزرآئی ایف سی میں بھیجی جائےگی، آئی ایف سی اپنی جائزہ رپورٹ 9 جنوری تک پی اےاے کوپیش کرےگا تاہم ترک کمپنی کی پیش کش کی حتمی منظوری وفاقی کابینہ دے گی۔
Blog
-

اسلام آباد ائیرپورٹ کی نجکاری کیلئے فنانشل بڈ، ترک کمپنی کی بڑی پیشکش
-

کراچی، ایف بی آر کی پوائنٹ آف سیلز کی خلاف ورزیوں پر کارروائیاں شروع
کراچی:
ایف بی آر کی پوائنٹ آف سیلز کی خلاف ورزیوں کے مرتکب بیکریوں، کار شورومز اور پینٹ کی دکانوں کے خلاف تابڑ توڑ کاروائیوں کا آغاز کردیا گیا.
ریجنل ٹیکس آفس ون کی 3 مختلف کاروائیوں میں بیکری، کار شوروم اور پینٹ کی دکانیں سیل کردی گئیں، ریجنل ٹیکس آفس ون کی جانب سے صدر اور کلفٹن کی 2معروف بیکریوں کو پوائنٹ آف سیلز قواعد کی خلاف ورزی پر سیل کیا گیا۔
جبکہ آر ٹی او ون کے زون تھری کے دائرہ کار میں آنے والے خالد بن ولید روڈ میں واقع کار شوروم کو بھی پی او ایس رسید جاری نہ کرنے پر سیل کیا گیا۔
اسی طرح تیسری کاروائی میں معروف پینٹ شاپ کو پی او ایس سے منسلک نہ ہونے پر سیل کیا گیا۔ -

2025 میں کتنے سورج اور چاند گرہن ہوں گے؟
محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ سال 2025 میں دو سورج اوردو چاند گرہن ہوں گے۔ رواں سال پہلا چاند گرہن 14 مارچ کو ہوگا جبکہ پہلا سورج گرہن 29 مارچ کو ہوگا۔
محکمہ موسمیات کے بیان کے مطابق پہلا چاند گرہن پاکستانی وقت کے مطابق صبح8:57 منٹ پر شروع ہوگا۔ پاکستان میں دن ہونے کی وجہ سے چاندگرہن دکھائی نہیں دے۔
رواں سال کا دوسراجزوی چاند گرہن 7 اور 8 ستمبر کی درمیانی شب کو ہوگا۔چاند گرہن رات 8:28 منٹ پرشروع اور 1 بج کر 55 منٹ پراختتام پذیرہوگا۔ یہ چاند گرہن پاکستان سمیت،یورپ،ایشیاء،افریقا میں دکھا جا سکے گا۔
محکمہ موسمیات نے بتایا کہ سال 2025 میں پہلا سورج گرہن 29 مارچ کو ہوگا۔یہ سورج گرہن پاکستان میں دکھائی نہیں دے گا۔
سال 2025 میں دوسرا سورج گرہن 21 سے 22 ستمبرکے درمیان ہوگا۔پاکستان میں رات ہونے کی وجہ سے سورج گرہن پاکستان میں دکھائی نہیں دے گا۔ سورج گرہن پاکستانی وقت کے مطابق رات 11 بجکر 30 منٹ پرشروع اور اختتام رات 2بجکر54منٹ پر ہوگا۔ -

وزیراعظم کا مہنگائی 81 ماہ کی کم ترین شرح پر پہنچنے پر اظہار اطمینان
وزیراعظم شہباز شریف نے مہنگائی 81 ماہ کی کم ترین شرح پر پہنچنے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
اپنے ایک بیان میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دسمبر 2024 میں مہنگائی کی شرح 4.1 فیصد پر آنا خوش آئند ہے، میکرو اکنامک استحکام حاصل کرلیا ہے لیکن یہ صرف آغاز ہے، ہم نے اُڑان پاکستان جیسے منصوبے کا آغاز کیا، یہ منصوبہ پاکستان کو دنیا کے صف اول ممالک کی صف میں کھڑا کر دے گا۔
وزیراعظم نے مہنگائی 81 ماہ کی کم ترین شرح پر پہنچنے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 24 سال بعد کرنٹ اکاﺅنٹ سرپلس ہوا، افراط زر 38 فیصد سے کم ہو کر 4.1 فیصد پر آگیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ دنیا کی دوسری بہترین مارکیٹ بن چکی ہے، پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہو کر 13 فیصد پر آ گیا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ حکومتی معاشی اور مالیاتی ٹیم کی محنت سے معیشت استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے، ان شااللہ عوام کی زندگیوں میں مزید بہتری آئے گی۔ -

گیس لوڈشیڈنگ نے شہریوں کا جینا دوبھر کر دیا
وزیراعلی سندھ کے معاون خصوصی برائے خوراک و سابق ایم پی اے عبدالجبار خان نے کہا ہے کہ سوئی گیس کی لوڈشیڈنگ نے حیدرآباد سمیت سندھ بھر کے شہریوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے، سردی کے آغاز کے ساتھ ہی سوئی گیس کی طویل دورانیہ کی لوڈشیڈنگ کے باعث شہریوں کو روزمرہ کے کاموں کھانا پکانے کے لئے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سارا دن گیس نہیں آتی اور اگر گیس آتی ہے تو اس کا پریشر اتنا کم ہوتا ہے کہ نہ تو اس پر کھانا بن پاتا ہے، اس کے علاوہ بچے بھی صبح گھروں میں ناشتے سے محروم ہوجاتے ہیں، انہوں نے کہا کہ سندھ جوکہ سب سے زیادہ گیس پیدا کرتا ہے لیکن سندھ کے عوام کو گیس کی بنیادی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہے اور خاص طورپر صنعتی علاقوں میں بھی گیس کی شدید بحرانی کیفیت ہے جس کی وجہ سے صنعتیں بھی بحران کا شکار ہیں، کئی صنعتی اداروں میں کام نہ ہونے کے برابر ہے، شفٹیں کم کردی گئی ہیں جس کی وجہ سے بیروزگاری میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہی صورت حال رہی تو پھر مجبورا لوگ لکڑیوں پر کھانا پکانے لگیں گے جو اضافی بوجھ ہو گا، انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طورپر اس طرف توجہ دے اور حیدرآباد سمیت سندھ میں گیس کی قلت کا فوری خاتمہ کیا جائے۔
-

گیس کی قیمتوں میں بھاری اِضافے کی منظوری مسترد
حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے قائم مقام صدر احمد ادریس چوہان نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگراٌکی جانب سے گیس کی قیمتوں میں بھاری اِضافے کی منظوری کو مسترد کرتے ہوئے اسے صنعتوں، خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) کے لیے مہلک قرار دیا ہے، یہ غیرمنصفانہ اِضافہ عوام اور صنعتوں پر اِضافی بوجھ ڈالے گا جو پہلے ہی بلند افراطِ زر اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ایک بیان میں احمد ادریس نے کہا کہ اوگرا کو گیس کی قیمتوں میں اِضافے کی تجویز دینے کے بجائے قیمتوں میں کمی کی تجویز پیش کرنی چاہیئے تھی۔ کیونکہ شرح سود میں کمی اور گیس کے نقصانات (یو ایف جی)میں کمی جیسے عوامل اِس بات کی حمایت کرتے ہیں۔ عام طور پر جب شرح سود میں اِضافہ ہوتا ہے تو گیس کے ٹیرف میں بھی اِضافہ کیا جاتا ہے۔ لیکن حالیہ شرح سود میں کمی کو گیس کے نرخوں کے تعین میں نظرانداز کیا گیا ہے جس سے اوگرا کی قیمتوں میں اِضافے کی تجویز حیران کن نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوگرا کی سفارش پر سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کے صارفین کے لیے گیس کی قیمت میں 25.78 فیصد اور سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کے صارفین کے لیے 8.71 فیصد اِضافہ کیا گیا ہے جو واضح طور پر سندھ اور بلوچستان کے صارفین پر پنجاب، خیبرپختونخوا اور اسلام آباد کے صارفین کو ترجیح دینے کا مظہر ہے۔ ادریس چوہان نے کہا ہے کہ آئین پاکستان کی اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبہ سندھ کو اپنے قدرتی وسائل پر پہلا حق حاصل ہے ۔ لیکن بدقسمتی سے سندھ اپنی ضرورت کے مطابق گیس سے محروم ہے۔ یہ آئین شکنی ہے اور اِس کے باعث سندھ کے صنعتی اور گھریلو صارفین کو اِضافی چارجز ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔ جبکہ اوگرا کے اعداد و شمار کے مطابق سندھ پاکستان کے تقریبا 70 فیصد قدرتی گیس کے ذخائر رکھتا ہے اور قومی پیداوار میں 63 فیصد حصہ بھی ڈالتا ہے۔ ادریس چوہان نے کہا کہ یہ فیصلہ نہ صرف صنعتوں کی پیداواری لاگت میں اِضافے کا باعث بنے گا بلکہ بہت سی صنعتوں اور کارخانوں کی بندش کا سبب بھی بنے گا۔ خاص طور پر ایس ایم ایز جو پہلے ہی مہنگائی اور بلند پیداواری لاگت کا شکار ہیں مزید نقصان اٹھائیں گے۔ اِس کے نتیجے میں بے روزگاری بڑھے گی اور برآمدات متاثر ہوں گی جو معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچائے گی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین دہائیوں سے حکومت نے گیس کے نئے ذخائر کی دریافت پر توجہ نہیں دی جس کے باعث گیس کا بحران بڑھ رہا ہے۔ اگر فوری اِقدامات نہ کیے گئے تو قیمتیں ناقابل برداشت ہو جائیں گی۔ حکومت کو چاہیئے کہ سندھ کو اِس کا حق دے اور ملکی وسائل کی دریافت کے لیے مثر پالیسی بنائے تاکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے۔ قائم مقام صدر چیمبر ادریس چوہان نے اِس بات پر زور دیا کہ حکومت کی جانب سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی ترقی کے لیے کیے گئے اقدامات جیسے کہ رعایتی قرضے اور صنعتی ترقی کے منصوبے اِس فیصلے سے متصادم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گیس کی قیمتوں میں اِضافے سے ایس ایم ایزکی مسابقتی صلاحیت ختم ہو جائے گی جو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم سے درخواست کی کہ اوگرا کو اپنی سفارشات پر نظر ثانی کرنے کی ہدایت دیں اور متبادل حل تلاش کرنے پر توجہ مرکوز کریں۔ انہوں نے حکومت سے یہ بھی کہا کہ وہ اِس بات کو یقینی بنائے کہ صنعتوں پر مزید بوجھ نہ پڑے۔ اگر ٹیرف میں اِضافہ ضروری ہو تو اس کا بوجھ دوسرے شعبوں پر منتقل کیا جائے نہ کہ ان صنعتوں پر جو پہلے ہی بلند گیس کے بلوں کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔ اِس کے ساتھ ایس ایم ایز کی ترقی کے لیے مثر اور عملی اقدامات کئے جائیں تاکہ ملکی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔
-

2024،کیا کھویا کیا پایا؟؟
پاکستان میں سالانہ بنیادوں پر سونے کی قیمت 53 ہزار 200 روپے بڑھ گئی۔

رپورٹ کے مطابق دسمبر 2023 میں ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت 220000روپے اور فی 10 گرام سونے کی قیمت 30779روپے تھی جو دسمبر 2024 تک مہنگا ہوکر ہو کر 2 لاکھ 73 ہزار 200 روپے ہوگئی۔سونے کی مقامی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں ملک کو درپیش زرمبادلہ کے بحران، اسمگلنگ کے بڑھتے ہوئے رحجان اور معیشت کی سنگین صورتحال کی وجہ سے غیریقینی کیفیت شامل رہی۔خیال رہے کہ دو سال کے دوران مجموعی طور پر سونے کی فی تولہ قیمت میں مجموعی طور پر 78 ہزار روپے کا اضافہ ہوا ہے، پاکستان میں سال 2023 کے دوران بھی سالانہ بنیادوں پر سونے کی قیمت 35 ہزار 900 روپے اضافہ ہوا تھا۔واضح رہے کہ سونے کی صنعت میں سب سے زیادہ بااثر تنظیم ورلڈ گولڈ کونسل نے اپنے 2024 کے آوٹ لک رپورٹ میں پہلے ہی واضح کیا تھا کہ 65 فیصد امکان ہے کہ 2024 میں امریکی معیشت سست روی یا سافٹ لینڈنگ کا تجربہ کرے گی۔ اگر ایسا ہوا تو سونے کی مانگ الٹرا پوٹینشل کے ساتھ فلیٹ ہوگی۔ اس کا مطلب ہے کہ سونے کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا٭پاکستانی روپے کی قدرگزشتہ ایک دہائی سے مسلسل گر رہی ہے تاہم سال 2024 میں روپے کی قدر مجموعی طور پر مستحکم رہی۔گزشتہ سال نگران حکومت آنے کے بعد انٹربینک میں ڈالر ریکارڈ 307 روپے اور اوپن مارکیٹ کا بھا 328 روپے تک پہنچ گیا تھا لیکن پھر حکومت اور سرکاری اداروں کی انتطامی کوششوں نے روپے کی گرتی قدر کو بحال کیا۔روں سال کے آغاز میں انٹربینک میں ڈالر 281 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 283 روپے پر تھا جبکہ گزشتہ کاروباری ہفتے کے اختتام تک انٹربینک میں ڈالر کی قدر 278 روپے 47 پیسے رہی۔رواں سال کے دوران مجموعی طور پر ڈالر کی قدر میں 3 روپے کا اضافہ ہوا ہے جبکہ وزارت خزانہ کے اکنامک اپ ڈیٹ آوٹ لک رپورٹ کے مطابق گزشتہ 5 ماہ کے دوران ڈالر کی قدر میں 4 روپے کمی ہوگئی ہے۔معاشی ماہرین کے مطابق عالمی حالات، بیرونی ادائیگیوں کا دبا، ملکی سیاسی صورتحال اور زرمبادلہ کی قلت روپے کو سال کے دوران گرانے کی وجوہات رہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ 15 مہینوں سے پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، اور یہ گزشتہ نو مہینوں سے امریکی ڈالر کے مقابلے میں 277 سے 288 کی سطح پر مستحکم ہے۔ گزشتہ چند مہینوں سے ترسیلات زر بڑھ رہی ہیں، جس کا ثبوت کرنٹ اکانٹ میں مالی سال 25 پانچ ماہ کے دوران 944 ملین ڈالر کی اضافی رقم آنا ہے، اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جون سے اگست 2024 کے دوران انٹربینک مارکیٹ سے 1.9 ارب ڈالر خریدے ہیں۔ اس کے نتیجے میں اسٹیٹ بینک کے ذخائر موجودہ مالی سال میں 9.3 ارب ڈالر سے بڑھ کر 12.1 ارب ڈالر ہو گئے ہیں٭سال 2024 میں وفاقی حکومت کے قرضوں میں مجموعی طور پر 3 ہزار 919 ارب روپے کا اضافہ ہوا جبکہ مرکزی حکومت کے غیر ملکی قرضوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی دستاویز کے مطابق 2024 میں وفاقی حکومت کے مقامی قرضوں میں 4 ہزار 632 ارب روپے کا اضافہ ہوا تاہم مرکزی حکومت کے غیر ملکی قرضوں میں 710 ارب روپے کی کمی بھی ہوئی۔اکتوبر 2024 تک کے دستیاب سرکاری ڈیٹا کے مطابق حکومتی قرضہ 69 ہزار 114 ارب روپے رہا تاہم نومبر او ردسمبر 2024 کے دو مہینوں کیحکومتی قرضوں کا ڈیٹا ابھی آنا باقی ہے۔مرکزی بینک کی رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2024 تک وفاقی حکومت کا مقامی قرضہ47 ہزار 231 ارب روپے اور وفاقی حکومت کا غیرملکی قرضہ 21 ہزار 884 ارب روپے تھا۔اسٹیٹ بینک کے مطابق دسمبر 2023 میں وفاقی حکومت کیقرضوں کاحجم 65 ہزار 195 ارب روپے تھا جس میں وفاقی حکومت کا مقامی قرضہ 42 ہزار 595 ارب روپے اور غیرملکی قرضہ 22 ہزار 600 ارب روپے تھا۔دوسری جانب گزشتہ ہفتے شہباز حکومت کے ابتدائی 8 ماہ میں قرضوں میں اضافے کی تفصیلات سامنے آئی تھی، رپورٹ کے مطابق مارچ سے اکتوبر 2024 تک وفاقی حکومت کے قرضے میں 4 ہزار 304 ارب روپے کا اضافہ ہوا تھا۔دستاویز کے مطابق فروری 2024 یعنی نگران دور کے آخری مہینے میں وفاقی حکومت کا قرضہ 64 ہزار 810 ارب روپے تھا اور اگست 2023 میں وفاقی حکومت کا قرضہ 63 ہزار 970 ارب روپے تھا.ملکی تاریخ میں پہلی بار کسی بھی مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں سب سے زیادہ لیوی کی وصولی کا انکشاف ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق شہری پیٹرولیم لیوی کے بڑھتے بوجھ تلے دب گئے،2024 کے دوران پیٹرولیم لیوی کی مد میں ریکارڈ 808 ارب 14 کروڑ روپے کی وصولیوں کا انکشاف ہوا ہے یہ وصولیاں جنوری سے ستمبر کے دوران کی گئیں۔سال کے اختتام تک پیٹرولیم لیوی کا بوجھ مزید بڑھ جائیگا،سرکاری دستاویزات کے مطابق جنوری سے مارچ کی سہ ماہی میں پیٹرولیم لیوی کی آمدنی246ارب 82کروڑروپے،اپریل سے جون کی سہ ماہی میں 299ارب63کروڑ روپے اورجولائی سے ستمبر کی سہ ماہی میں 261 ارب67کروڑ روپے تھی۔اسوقت پیٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل کے فی لیٹرپر60 روپے کے حساب سے لیوی عائدہے، پیٹرولیم لیوی کی آمدنی نان ٹیکس آمدنی ہے جو خالصتاً وفاقی حکومت کے پاس رہتی ہے جبکہ اسکے مقابلے میں ایف بی آرکی ٹیکس آمدنی میں سے این ایف سی ایوارڈ کے تحت 57 اعشاریہ 5 فیصد حصہ صوبوں کے پاس چلاجاتا ہے۔واضح رہے کہ30جون 2025 کوختم ہونیوالے رواں مالی سال کیلئے وفاقی حکومت نیپیٹرولیم لیوی کی مد میں وصولیوں کا ہدف1281 ارب روپے مقرر کیاہے اورمالی سال 2023۔24 میں وصولی ایک ہزار19 ارب روپے تھی جبکہ مالی سال2022۔23میں پیٹرولیم لیوی کی مد میں580ارب روپے وصول کئے گئے تھے۔2024 میں چھ لاکھ 63 ہزار 186 سے زائد پاکستانیوں نے ملک کو خیرباد کہا

وزارت اوورسیز پاکستانیز سال 2024 میں پاکستانیوں کے لیے بیرون ملک روزگار کے مواقع کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے اور 10 لاکھ کے ہدف کے برعکس 7 لاکھ کے لگ بھگ پاکستانیوں کو قانونی طریقے سے بیرون ملک روزگار ملا۔ یہ نہ صرف ہدف سے کم ہے بلکہ سال 2023 کے مقابلے میں بھی کم و بیش ایک سے ڈیڑھ لاکھ کم ہے۔بیورو آف ایمیگریشن و اوورسیز ایمپلائیمنٹ کے اعداد وشمارکے مطابق 2024 میں چھ لاکھ 63 ہزار 186 سے زائد پاکستانیوں نے قانونی طریقے بیرون ممالک حصول روزگار کے لیے ملک کو خیرباد کہا۔ بیورو کے مطابق2023 میں قانونی طریقے سے بیرون ممالک حصول روزگار کے لیے جانے والے پاکستانیوں کی تعداد آٹھ لاکھ 62 ہزار 625 تھی۔ اگر دسمبر میں متوقع طور پر جانے والوں کو بھی شامل کر لیا جائے تب بھی گذشتہ سال کے مقابلے میں ایک سے ڈیڑھ لاکھ کم ملازمتوں کا امکان ہے۔ایک ایسے وقت میں جب ملک میں معاشی صورت حال قابل رشک نہیں اور پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد بیرون مالک جانے کے لیے تگ و دو کر رہی ہے، اس کے باوجود بیرون ملک ملازمتوں کے حصول کا ہدف حاصل نہ ہونا وزارت اوورسیز کے لیے نہ صرف ایک چیلنج ہے بلکہ اس بھی بڑا چیلنج یہ ہے کہ تمام تر دعوں اور کوششوں کے باوجود خلیجی ممالک کے علاوہ وزارت اوورسیز دنیا کے دیگر ممالک میں اپنا شیئر حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔سال 2024 میں بیرون ملک قانونی طور پر روزگار حاصل کرنے والے کم و بیش سات لاکھ افراد میں سے 90 فیصد سے زائد نے چھ خلیجی ممالک کا رخ کیا جبکہ باقی دس فیصد نے دیگر 48 ممالک میں روزگار حاصل کیا۔ہر سال کی طرح اس بار بھی سعودی عرب سات لاکھ میں سے سوا لاکھ پاکستانیوں کا میزبان بنا اور انھیں ملازمتیں دیں جو بیرون ملک جانے والوں کی کل تعداد کا ساٹھ فیصد بنتا ہے۔ متحدہ عرب امارات 70 ہزار کے قریب، عمان میں 75 ہزار، قطر میں 40 ہزار، بحرین میں 25 ہزار اور کویت میں دو ہزار کے قریب پاکستانیوں کو روزگار ملا۔اس کے علاوہ برطانیہ میں 17 ہزار، ملائیشیا میں چھ ہزار کے قریب، عراق ساڑھے چھ ہزار، رومانیہ ڈیڑھ ہزار اور کچھ دیگر ممالک میں ایک ہزار لوگوں کو ملازمتیں ملیں۔تمام تر کوششوں کے باجود ہدف کا حصول ممکن نہ ہونے اور گذشتہ سال کی نسبت بھی تعداد کم رہنے کی وجہ بیرون مالک تربیت یافتہ ورکرز کی بڑھتی ہوئی ڈیمانڈ ہے۔سیکریٹری وزارت اوورسیز پاکستانیز ڈاکٹر ارشد محمود کے مطابق دنیا بھر کی لیبر مارکیٹ میں مہارت یافتہ ورک فورس کی طلب بڑھ رہی ہے۔ جتنے لوگ بھی مہارت رکھتے ہیں یا پیشہ وارانہ تعلیم حاصل کرتے ہیں انھیں دنیا کے ممالک میں چار سے چھ ہزار ڈالر ماہانہ ملازمت مل رہی ہے، جبکہ غیر تربیت یافتہ مزدور کی تنخواہیں اتنی زیادہ نہیں ہیں۔دوسری جانب ہزاروں پاکستانی تارکین وطن ہر برس غیرقانونی طور پر یورپ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ 2021 سے 2023 تک ایک لاکھ 54 ہزار 205 غیر قانونی پاکستانی تارکین وطن کو ڈی پورٹ کیا گیا۔ سینکڑوں غیر قانونی طور پر یورپ داخل ہونے کی کوشش میں جانوں سے بھی گئے۔پاکستان کے کسی بھی ادارے کو غیرقانونی طور پر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی حتمی تعداد معلوم نہیں، تاہم اس حوالے سے مختلف اندازے لگائے جاتے ہیں جن کی کسی بھی فورم سے تصدیق ممکن نہیں ہے۔2024 پاکستان اسٹاک ایکس چینج کیلئے ایک یاد گار سال رہا

2024 پاکستان اسٹاک ایکس چینج کیلئے ایک یاد گار سال رہا، 2024 میں ریکارڈ نوعیت کی تیزی کے ساتھ اسٹاک مارکیٹ نے نا صرف تاریخی سنگ میل عبور کیے بلکہ سرمایہ کاری کرنے والوں کو بھاری منافع دیتے ہوئے تاریخی کامیابیوں کا ایک سالہ سفر مکمل کیا۔سال 2024 میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے ایسے کئی تاریخی ریکارڈز قائم کیے جو اس سے قبل کبھی قائم نہیں ہوئے تھے۔ زیرتبصرہ سال میں کیپیٹل مارکیٹ کے سرمایہ کاروں کو 80فیصد ریٹرن دینے کا بھی ریکارڈ قائم ہوا اور تاریخ میں پہلی بار ایک لاکھ پوائنٹس کا سنگ میل بھی عبور ہوا لیکن اس سے قبل پی ٹی آئی کے دور حکومت میں اسٹاک مارکیٹ کے سرمایہ کاروں نے کئی سال انتہائی مشکل دور بھی دیکھا۔ ایک سال میں ہنڈریڈ انڈیکس میں مجموعی طور پر52 ہزار807 پوائنٹس کا ریکارڈ اضافہ ہوا، یکم جنوری کو جو ہنڈریڈ انڈیکس 62451 پوائنٹس پر تھا وہ تیزی سے بڑھتے بڑھتے 115258 پوائنٹس کا سنگ میل بھی عبور کرگیا۔ سال 2024 کے دوران حصص کی مالیت میں مجموعی طور پر 54 کھرب 95 ارب روپے سے زائد کا اضافہ ہوا۔سال 2024 میں غیر ملکیوں نے کیپیٹل مارکیٹ سے شیئرز بیچ کر 12 کروڑ ڈالرز کا سرمایہ نکال لیا اور ایسا پہلی بار ہوا کہ غیرملکیوں کی فروخت پر دبا کے باوجود اسٹاک مارکیٹ نہیں گری۔ زیر تبصرہ سال کے دوران غیرمتوقع طور پر مسلسل غیر معمولی تیزی نے مارکیٹ میں خدشات اور گبھراہٹ کو بھی جنم دیا جس کے باعث دسمبر میں اسٹاک مارکیٹ میں معمول سے ہٹ کر اتار چڑھا بھی دیکھا گیا۔دسمبر کے ایسے ہی دو سیشنز میں ایک دن اسٹاک مارکیٹ 4700 پوائنٹس کی تیزی کا تاریخی ریکارڈ بنا تو وہیں ایک دن 4800 پوائنٹس کی تاریخی مندی کا ریکارڈ بھی مارکیٹ نے اپنے نام کیا۔سال 2024 میں مالیات، فارما، فوڈ، ٹیکسٹائل اور ٹرانسپورٹ کے شعبے سے 9 نئی کمپنیوں نے پاکستان اسٹاک ایکسچنج میں لسٹ ہوکر عوام کو شیئرز فروخت کرکے اپنے کاروبار میں حصہ دار بنایا تاہم ایک کمپنی پاک سوزوکی موٹرز اپنے شیئرز واپس خرید کر اسٹاک مارکیٹ سے ڈی لسٹ ہوگئی۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے سی ای او فرخ سبزواری نے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میکرواکنامک استحکام کے باعث 2024 میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج تاریخ ساز بلندیوں پر پہنچی اور کیپیٹل مارکیٹ کے توسط سے سرمایہ کاروں کو 80فیصد ریٹرن حاصل ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ سال 2024 دوران 5 آئی پی اوز ہوئے اور 6 نئی کمپنیوں کی لسٹنگ ہوئی، 5 آئی پی اوز کے ذریعے 8ارب 40کروڑ روپے کی آمدنی ہوئی، ماہوار بنیادوں پر 7 سے ساڑھے 7ہزار نئے انویسٹرز کی کیپیٹل مارکیٹ میں شمولیت بھی ریکارڈ کی گئی۔فرخ سبزواری نے بتایا کہ سال 2025 میں اسٹاک مارکیٹ میں انویسٹرز کی بنیاد کو آگاہی مہم کے ذریعے وسیع کرنا ہے جبکہ فن ٹیک اور اسٹارٹ اپس پر ہماری توجہ مرکوز ہوگی۔ -

TIK TOK نے چینی بزنس مین کو امیر ترین شخص بنادیا
ٹک ٹاک کی بڑھتی ہوئی عالمی مقبولیت نے اس کی پیرنٹ کمپنی بائٹ ڈانس کے شریک بانی کو چین کا سب سے امیر شخص بنا دیا ۔ہورن ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی جانب سے تیار کی گئی امیر ترین افراد کی فہرست کے مطابق ژانگ ییمنگ کی دولت اب 49.3 ارب ڈالر ہے جو 2023 کے مقابلے میں 43 فیصد زیادہ ہے۔41 سالہ ژانگ ییمنگ نے 2021 میں کمپنی کے انچارج کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا لیکن سمجھا جاتا ہے کہ وہ کمپنی کے تقریبا 20 فیصد حصص کے مالک ہیں۔ٹک ٹاک دنیا کی مقبول ترین سوشل میڈیا ایپس میں سے ایک بن چکی ہے اس کے باوجود کہ کچھ ممالک میں چینی ریاست کے ساتھ اس کے تعلقات کے بارے میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔اگرچہ دونوں کمپنیوں کا اصرار ہے کہ وہ چینی حکومت سے آزاد ہیں لیکن امریکہ کا کہنا ہے کہ اگر بائٹ ڈانس اسے فروخت نہیں کرتا تو وہ جنوری 2025 میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد کر دے گا۔امریکہ میں شدید دباؤ کا سامنا کرنے کے باوجود بائٹ ڈانس کے عالمی منافع میں گذشتہ سال 60 فیصد اضافہ ہوا جس سے ژانگ ییمنگ کی ذاتی دولت میں بھی اضافہ ہوا۔ہورن کے سربراہ روپرٹ ہوگی ورف کا کہنا ہے کہ ژانگ ییمنگ صرف 26 سال چین کے ایسے 18ویں فرد ہیں جو نمبر ون بن گئے ہیں۔اس کے مقابلے میں امریکہ میں صرف چار افراد ہیں جو پہلے نمبر پر آئے وہ بل گیٹس، وارن بفیٹ، جیف بیزوس اور ایلون مسک ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ’اس سے پتا چلتا ہے کہ چینی معیشت کتنی متحرک ہے۔‘ژانگ اس فہرست میں چین کے ٹیک سیکٹر کے واحد نمائندے نہیں۔
ٹیکنالوجی گروپ ’ٹینسینٹ‘ کے سربراہ پونی ما 44.4 ارب پاؤنڈ کی ذاتی دولت کے ساتھ اس فہرست میں تیسرے نمبر پر ہیں۔درحقیقت فہرست میں شامل تقریباً 30 فیصد افراد کی مجموعی دولت میں اضافہ ہوا تھا جبکہ باقی میں کمی دیکھی گئی۔ہوگی ورف کا کہنا ہے کہ ’ہورون چائنا رچ لسٹ‘ مسلسل تیسرے سال غیر معمولی طور پر سکڑ گئی کیونکہ چین کی معیشت اورا سٹاک مارکیٹس کے لیے ایک مشکل سال تھا۔انھوں نے کہا کہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ یہ شاؤمی جیسے سمارٹ فون مینوفیکچررز کے لیے اچھا سال رہا ہے جبکہ گرین انرجی مارکیٹ میں گراوٹ دیکھا گیا۔انھوں نے کہا ’سولر پینل، لیتھیم بیٹری اور ای وی بنانے والوں کے لیے مشکل سال رہا کیونکہ مسابقت میں تیزی آئی اور محصولات کے خطرے نے غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کیا۔‘سولر پینل بنانے والوں کی دولت میں 2021 کے مقابلے میں 80 فیصد کمی دیکھی گئی جبکہ بیٹری اور ای وی بنانے والوں کی دولت میں بالترتیب نصف اور ایک چوتھائی کمی آئی۔ژانگ ٹیکنالوجی کی دنیا میں اپنے کریئر کے آغاز پر ناکامیوں کے باوجود ثابت قدم رہے۔ انھوں نے 2005 میں نانکائی یونیورسٹی سے گریجویشن کیا جہاں انھوں نے مائیکرو الیکٹرانکس کی تعلیم شروع کی تاہم بعد میں انھوں نے سافٹ ویئر انجینیئرنگ کو اپنا مضمون بنا لیا۔گریجویشن کے بعد ژانگ نے ایک ا سٹارٹ اپ میں ملازمت حاصل کی جہاں انھوں نے وہ مہارت حاصل کی جس کی مدد سے انھوں نے اپنی کمپنی کی بنیاد رکھی۔
گلوبل لیڈرز نامی ویب سائٹ کے مطابق انھوں نے بتایا کہ ’میں نے کوکسون نامی کمپنی میں شمولیت اختیار کی اور میں اس کے اولین ملازمین میں سے ایک تھا۔ میں شروع میں ایک عام انجینیئر تھا لیکن دوسرے سال میں بیک اینڈ ٹیکنالوجی اور مصنوعات سے متعلق دیگر کاموں کے ذمہ دار تقریبا 40 سے 50 افراد کا انچارج تھا۔‘تیزی سے ترقی اور مہارت حاصل کرنے کی ان کی فطری صلاحیت نے انھیں دہائی کے ابھرتے ہوئے لیڈرز میں شامل کر دیا۔انھوں نے مزید کہا کہ ’آپ میں ذمہ داری کا احساس اور چیزوں کو اچھی طرح سے کرنے کی خواہش، آپ کو مزید چیزیں کرنے اور تجربہ حاصل کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔‘ایک انجینیئر ہوتے ہوئے ژانگ کا مسائل کو حل کرنے کے لیے وقف رویہ اور جوش آخر کار ان کے منصوبوں میں مددگار ثابت ہوا۔ژانگ نے یہی مہارت بعد میں اپنی کمپنی بائٹ ڈانس کو بڑھانے کے لیے استعمال کی۔کوکسون کے بعد ژانگ نے مختصر عرصے کے لیے مائیکروسافٹ میں شمولیت اختیار کی۔ یہ ہ وقت تھا جس نے ان میں مزید آزادی اور تخلیقی صلاحیتں نکھارنے کا جذبہ پیدا کیا اور وہ دوبارہ ا سٹارٹ اپ کی دنیا میں لوٹ گئے۔سنہ 2009 میں ژانگ نے اپنا پہلا کاروبار شروع کیا ایک پراپرٹی سرچ سائٹ شروع کی لیکن انھوں نے تین سال بعد یہ کاروبار چھوڑ دیا لیکن یہ کمپنی بنانے سے ژانگ میں انٹرپرینیورشپ کا جذبہ پیدا ہوا۔سنہ 2012 میں انھوں نے بیجنگ میں واقع ایک کاروبار بائٹ ڈانس کی بنیاد رکھی جو خبریں جمع کرنے کی خدمات فراہم کرتا ہے۔ژانگ کا ارداہ تھا کہ وہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے صارفین کو متعلقہ مواد پہنچانے کے لیے تجاویز دیں اور یہی خیال بالآخر بائٹ ڈانس کی تخلیق کا باعث بنا۔اس کمپنی کا آغاز انھوں نے بیجنگ کے ایک چار بیڈروم والے اپارٹمنٹ سے کیا۔ ان کی ٹیم یہاں رہتی بھی تھیں اور کام بھی کرتی تھی۔انھوں نے گلوبل لیڈز کو بتایا کہ ’ہمارے خیالات بہت بڑے تھے۔ ہم ایک چھوٹے سے اپارٹمنٹ میں گلوبلائزیشن کے بارے میں بات کر سکتے ہیں۔‘انھوں نے کمپنی کے لیے جو مستقبل سوچا وہ چین تک محدود نہیں تھا۔ انھوں نے کمپنی کو دنیا بھر میں پھیلانے کا منصوبہ بنایا تاہم زیادہ تر سرمایہ کار ان کے خیال سے متاثر نہیں تھے۔بہت کوشش کے بعد بھی وہ فنڈز حاصل کرنے میں ناکام رہے لیکن پھر سیسکویہنا انٹرنیشنل گروپ منصوبے کی صلاحیت بھانپتے ہوئے اس سٹارٹ اپ میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار ہو گیا۔ اس کے بعد ترقی کرتے ہوئے وہ موجودہ مقام تک پہنچ گئے۔
-

بے فارم میں بچوں کی انگلیوں کے نشانات اور تصویر شامل کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد: حکومت نے 10سال سے زائد عمر کے بچوں کی انگلیوں کے نشانات اور تصویر کو ب فارم کا لازمی حصہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ترجمان وزارت داخلہ کا بتانا ہے کہ سکیورٹی فیچرزکے تحت 10سال سے زائد عمر کے بچوں کےانگلیوں کےنشانات اور تصویر کو ب فارم کا لازمی حصہ بنا دیاگیا ہے اور خصوصی ب فارم (رجسٹریشن سرٹیفکیٹ)کا اجرا مرحلہ وار 15جنوری سے کیا جائے گا۔
وزارت داخلہ کے مطابق نادرا کامحکمہ پاسپورٹ کے اشتراک سے بچوں کی انگلیوں کے نشانات، تصویر ب فارم میں شامل کرنےکا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ترجمان وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے میں 15جنوری سے 10سال سے زائد اور 18سال سےکم عمربچوں کی انگلیوں کے نشانات اور تصویریں لی جائیں گی، انگلیوں کے نشانات اور تصویریں نادرا سینٹرز پر لی جائیں گی۔
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ اقدامات سے بچوں کی شناختی معلومات کی چوری اور غلط استعمال روکنے میں مدد ملے گی، بچوں کے جعلی شناختی کارڈز، غیر قانونی پاسپورٹ کے حصول اور انسانی اسمگلنگ جیسے جرائم کی روک تھام ہو سکے گی۔ -

نئے سال کے موقع پر مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) سستی کر دی گئی۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے یکم جنوری سے ایل پی جی کی نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق فی کلو ایل پی جی 4 روپے 2 پیسے سستی کی گئی ہے جس کے بعد نئی قیمت 250 روپے 28 پیسے ہوگی۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ایل پی جی کا 11.8 کلوگرام کا گھریلو سلنڈر 47 روپے 43 پیسے سستا ہوگیا اور ایل پی جی کے گھریلو سلنڈر کی قیمت جنوری کےلیے 2953روپے 36 پیسے مقرر کی گئی ہے۔

