اسلام آباد ( کنزیومر واچ نیوز)ملکی گیس کی پیداوار میں کمی سے ملکی اقتصادیات کو 4ماہ میں 194ملین ڈالرز کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے جو پاکستانی کرنسی میں 53 ارب37کروڑ 40لاکھ روپے بنتے ہیں۔مقامی گیس کی پیداوار میں 374ایم ایم سی ڈی ایف کمی واقع ہوئی ہے، اس طرح ملکی اقتصادیات کو 13ارب 34کروڑ 40لاکھ روپے (48ملین ڈالرز)ماہانہ نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔329ایم سی سی ایف ڈی کی آر ایل این جی کی لاگت سے مقابلے میں دیکھی جائے تو 50کروڑ ڈالرز 139ارب روپے بنتی ہے۔اہم بات یہ ہے کہ اس کا اثر خام تیل کی پیداوار پر پڑتا ہے گیس کی کمی سے 5ارب روپے نقصان اور قومی خزانے کو 20ارب روپے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔اس بات کا انکشاف حالیہ دستیاب اعدادوشمار میں کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکام نے ایل این جی کی درا?مد کو جواز دینے کے گیس کے مقامی کنویں بند کیے اور اسپاٹ ایل این جی کارکردگی کی درآمد منصفانہ ثابت کیا لیکن اس وقت دانشمندای کا مظاہرہ کیا گیا جب گزشتہ دنوں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت اجلاس میں اسپاٹ ایل این جی کارگو نہ خریدنے کا فیصلہ کیا گیا
Blog
-

ٹیکس ریٹرن جمع نہ کرانے والوں کے خلاف کارروائی ہو گی ،چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال
اسلام آباد ( کنزیو مر واچ نیوز)چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے دو ٹوک اعلان کیا ہے کہ ٹیکس ریٹرن جمع نہ کرانے والوں کے خلاف کارروائی ہو گی۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر مملکت علی پرویز ملک اور چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی۔ 38ہزارافراد نے 37کروڑ 70 لاکھ ٹیکس ریٹرن جمع کرایا، جنہوں نے ریٹرن جمع نہیں کرایا ٹیکس نہیں دیا ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔چئیرمین ایف بی آر نے کہا کہ پاکستان کا ٹیکس گیپ 7100 ارب روپے اور انکم ٹیکس گیپ 2400 ارب روپے ہے، انواسئنگ کا عمل ڈیجیٹائز کر رہے ہیں، فوکس ٹاپ 5 فیصد لوگ ہیں، براہ راست شوگر ملوں کو دیکھ رہے ہیں، پنجاب میں فیک یا فلائنگ انوائس پر کئی ملیں پکڑی گئیں۔پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ہم نے ٹیکس سسٹم کو مستقل بنیادوں پر ٹھیک کرنا ہے ، مجموعی طور پر 71 ارب روپے کا مزید ٹیکس کا پوٹینشل ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس وصولی میں ٹیکنالوجی بہت اہم ہے، ٹیکس چوری روکنے کے لیے نظام میں شفافیت لانا ہوگی، ایف بی آر کی ٹیکس وصولی میں انسانی مداخلت کم کی جا رہی ہے۔وزیر مملکت برائے خزانہ علی پرویز ملک نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ہمیں آئی ایم ایف کے ساتھ شراکت داری بھی رکھنی ہے، بانی پی ٹی آئی والی نہیں معیاری معاشی گروتھ چاہیے۔
-

بجلی 63 پیسے فی یونٹ سستی ہونے کا امکان، سی سی پی اے کی نیپرا کو درخواست
اسلام آباد (کنزیومر واچ نیوز) سرکاری ڈسکوز کے صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں 63 پیسے فی یونٹ کمی کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔ سینٹرل پرچیزنگ پاور ایجنسی (سی سی پی اے) نے نیپرا کو بجلی کی قیمتوں میں کمی کی درخواست جمع کروا دی ہے۔
سی سی پی اے نے یہ درخواست ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت نومبر کے مہینے کے لیے جمع کرائی ہے۔ نیپرا کل اس درخواست پر سماعت کرے گا جس کے بعد حتمی فیصلہ متوقع ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ نومبر کے مہینے میں 7 ارب 71 کروڑ یونٹس بجلی پیدا کی گئی، جس پر مجموعی طور پر 55 ارب 76 کروڑ روپے کی لاگت آئی۔ سی سی پی اے کے مطابق، فیول کی قیمت میں یہ کمی صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کا اہم موقع فراہم کرے گی۔
نیپرا کی سماعت کے نتائج کے بعد صارفین کو بجلی کے بلوں میں کمی کی امید ہے۔ اس حوالے سے حتمی فیصلہ جلد متوقع ہے۔
-

پاکستان کے کنزیومر کانفیڈنس انڈیکس میں تین سال کی بلند ترین سطح پر اضافہ
(کنزیومر واچ نیوز) دسمبر 2024 کی عالمی کنزیومر کانفیڈنس رپورٹ کے مطابق، پاکستان کا کنزیومر کانفیڈنس انڈیکس (CCI) 0.8 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ گزشتہ تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ معیشت کو “مضبوط” قرار دینے والے افراد کا تناسب 4 فیصد سے بڑھ کر 16 فیصد ہو گیا ہے، جبکہ بڑی خریداریوں جیسے کاروں اور گھروں کی خریداری میں چار گنا اضافہ دیکھا گیا ہے۔
مہنگائی کے خدشات گزشتہ تین سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں، ملازمت کے تحفظ کے اعتماد میں 3 فیصد اضافہ ہوا ہے، اور بچت کے حوالے سے رجحان میں مسلسل بہتری آ رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، پائیدار اشیاء کی خریداری میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ گھریلو مالی حالات میں طویل مدتی بہتری صارفین کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔
یہ رپورٹ پاکستان کی اقتصادی استحکام اور چیلنجز کے باوجود اس کی لچک کو اجاگر کرتی ہے، جو صارفین کے جذبات میں مثبت رجحان کی نشاندہی کرتی ہے۔
-

آئی ایم ایف پروگرام کا غیر معمولی مہنگائی میں اہم کردار ہے،حکومت کا اعتراف
حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کے تحت گیس کی قیمتوں میں ریکارڈ 840 فیصد اور بجلی کے نرخوں میں 110 فیصد سے زائد اضافے جبکہ روپے کی قدر میں 43 فیصد کمی نے غیر معمولی مہنگائی میں اہم کردار ادا کیا ہے جس نے بہت سے پاکستانیوں کی قوت خرید اور معیار زندگی کو متاثر کیا ہے ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی میں ایک تحریری بیان میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ’آئی ایم ایف اسٹیبلائزیشن پروگرام کے تحت حکومت نے طویل عرصے سے واجب الادا یوٹیلیٹی قیمتوں (بجلی اور گیس) میں اضافہ کیا ہے۔‘حکومتی رکن پارلیمنٹ طاہرہ اورنگزیب کے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ نومبر 2023 سے فروری 2024 تک گیس اور بجلی کی قیمتوں میں بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے۔گیس کی قیمتوں میں نومبر 2023 میں 520 فیصد (انڈیکس 217 سے بڑھ کر 1344 تک پہنچ گیا) اور فروری 2024 میں مزید 319 فیصد (انڈیکس 353 سے 1479 تک) اضافہ ہوا۔ اسی طرح نومبر 2023 میں بجلی کی قیمتوں میں 35 فیصد اور فروری 2024 میں مزید 75 فیصد اضافہ ہوا۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ ان اشیا کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے بالآخر مالی سال 2024 میں مجموعی مہنگائی میں اضافہ کیا۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مالی سال 2021 اور مالی سال 2022 میں کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کے مطابق افراط زر بالترتیب 8.9 فیصد اور 12.2 فیصد رہی۔
محمد اورنگزیب نے یہ بھی تسلیم کیا کہ مالی سال 2023 میں سی پی آئی دو گنا سے زیادہ بڑھ کر 29.2 فیصد ہوگیا جبکہ مالی سال 24 میں یہ 23.4 فیصد تک گر گیا، انہوں نے کہا کہ رواں سال کے پہلے 5 ماہ (جولائی تا نومبر) میں مہنگائی کی شرح کم ہو کر 7.9 فیصد رہ گئی۔ان کا کہنا تھا کہ روپے کی قدر میں کمی نے مہنگائی کے مسئلے کو مزید بڑھا دیا ہے کیونکہ جون 2024 میں شرح تبادلہ 43.2 فیصد کم ہوکر 278.4 روپے فی ڈالر ہوگئی جو جولائی 2019 میں 158.8 روپے فی ڈالر تھی۔اسی عرصے کے دوران پام آئل کی قیمتوں میں بھی 61 فیصد اضافہ ہوا جو 544 ڈالر سے بڑھ کر 874 ڈالر فی ٹن جبکہ سویا بین آئل کی قیمت 35 فیصد اضافے سے 748 ڈالر سے بڑھ کر 1011 ڈالر فی ٹن ہوگئی۔اسی عرصے کے دوران گندم کی قیمت 35 فیصد اضافے سے 196.2 ڈالر سے بڑھ کر 265 ڈالر فی ٹن جبکہ خام تیل کی قیمت 29 فیصد اضافے سے 82.6 ڈالر فی ٹن ہوگئی۔انہوں نے مزید بتایا کہ 2022 کے سیلاب نے معیشت، خاص طور پر زراعت کے شعبے کو کافی نقصان پہنچایا، تقریباً 45 لاکھ ایکڑ فصلوں کو نقصان پہنچا اور تقریباً 10 لاکھ مویشی ہلاک ہو گئے۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ 2022 کے سیلاب کے مجموعی نقصانات اور خسارے 30 ارب 13 کروڑ ڈالر تھے، جس میں سے زراعت کو 12.9 ارب ڈالر (کل نقصانات اور خسارے کا 43 فیصد) کا سامنا کرنا پڑا۔فصلوں کے ذیلی شعبے نے کل نقصانات اور خسارے میں 82 فیصد، مویشیوں نے 7 فیصد اور ماہی گیری/ آبی زراعت نے ایک فیصد کا حصہ ڈالا۔ فصلوں کو پہنچنے والے نقصان اور سپلائی چین میں خلل کی وجہ سے مالی سال 2023 میں غذائی افراط زر کی شرح 38 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ ہیڈ لائن افراط زر میں 29.2 فیصد اضافہ ہوا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ مسابقتی کمیشن مہنگائی کے دباؤ پر قابو پانے کے لیے کارٹلائزیشن اور ناجائز منافع خوری پر قابو پانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے تاہم انہوں نے ان اقدامات کا تذکرہ نہیں کیا جو شہریوں کی طرف سے محسوس کیے جا سکتے تھے۔لیکن انہوں نے غیر قانونی فارن ایکسچینج کمپنیوں، اسمگلنگ اور اجناس کی مارکیٹ میں ذخیرہ اندوزی کے خلاف بھی سخت کارروائی کا ذکر کیا جس سے شرح تبادلہ میں استحکام، مارکیٹ کے اعتماد کی بحالی اور اجناس کی ہموار فراہمی میں مدد ملی۔وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ بجلی اور ایندھن کی قیمتوں میں کمی نے عوام پر مہنگائی کے دباؤ کو نمایاں طور پر کم کیا ہے جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی مختص کردہ رقم میں اضافے سے کمزور طبقے کو مدد ملی ہے۔ انہوں نے پاکستان ریلوے کی جانب سے کرایوں میں 10 فیصد کمی کا بھی ذکر کیا۔
-

چمکتا دمکتا کراچی ہمارا وژن، غفلت برتنے والوں کیخلاف سخت ایکشن ہوگا،ڈپٹی مئیر
سلمان عبداللہ مراد کراچی کے نوجوان ڈپٹی مئیر ہیں،کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن کی قیادت نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے مئیر کراچی مرتضیٰ وہاب بھی نوجوان ہیں توقع ہے کہ یہ نوجوان شہر قائد کو پھر سے چمکتا دمکتا بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے،سلمان عبداللہ مراد نظریاتی طور پر نہایت پختہ ذھن رکھتے ہیں،متحرک ہیں اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس رکھتے ہیں،وہ مئیر کراچی کے شانہ بشانہ شہر کی تعمیر و ترقی میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں،سلمان مراد کے والدشہید عبداللہ مراد ایک نڈر اور بے باک سیاستدان تھے وہ کراچی کے عوام کا درد رکھتے تھے،محترمہ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری ان کو بہت عزیز رکھتے تھے ،امید ہے کہ کام کرنے کی جو تڑپ ان کو ورثے میں ملی ہے وہ اس کا اظہار عملی طور پر کریں گے،یہ بات بہت اچھی ہے کہ دُپٹی مئیر نے اپنے دروازے عام شہریوں کے لئے کھول دئیے ہیں وہ لوگوں کے مسائل سننے اور اس کو حل کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں،انھوں نے تمام اسٹیک ہولڈروں سے کہا کہ وہ کراچی کو اون کریں اورہمارے شانہ بشانہ شہر کی ترقی کے لئے کام کریں ،نمائندہ کنزیومر واچ نے ان سے شہرکے مسائل کے حوالے سے گفتگو کی جس کو نذر قارئین کیا جارہا ہے۔
انٹرویو۔نشید آفاقی
فوٹو گرافی:حسنین احمدس: ٹوٹی سڑکیں اڑتی دھول، ڈپٹی مئیر صاحب !کراچی والوں کا مستقبل کب سنورے گا ؟
ج: ہمیں اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ کراچی ملک کی آن، بان اور شان ہے سب سے بڑا شہر ہونے کے ناطے اس پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے ہمارے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کاوژن ہے کہ اس شہر کو بھرپور ترقی دے کر اس کو دنیا کے دیگر بڑے شہروں کے ہم پلہ بنایا جائے چنانچہ میئر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب کی سربراہی میں ہماری پوری ٹیم بھرپور محنت کر رہی ہے ٓاپ نے دیکھا ہوگا جگہ جگہ ترقیاتی کام ہو رہے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ میئر کراچی کی سربراہی میں ہماری پوری ٹیم آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کے وژن کے مطابق اس شہر کے انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے کام کر رہی ہے ہم چاہتے ہیں کہ کراچی کے عوام نے ہم پر جو اعتماد کیا ہے اس پر پورا اتریں جمہوریت کا اصول ہے کہ ٓاپ کو عوام کا جواب دہ ہونا پڑتا ہے ہم انشا اللہ اچھا کام کر کے سرخرو ہوں گے پیپلز پارٹی میں ورکر کی تربیت بہترین انداز میں ہوتی ہے مجھے فخر ہے کہ میں پیپلز پارٹی کا ورکر ہوں اور ہمارے قائدین ذوالفقار علی بھٹو شہید محترمہ بے نظیر بھٹو شہید آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری سے ہم نے خدمت کا جو فلسفہ سیکھا ہے اس پر عمل کر رہے ہیں میں کراچی والوں کو یقین دلاتا ہوں کہ وہ شہر میں جلد خوشگوار تبدیلی دیکھیں گے عوام کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے ہم لوگ دن رات محنت کر رہے ہیں ہمارے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں یہاں منتخب نمائندے بھی آ سکتے ہیں اور عام شہری بھی، سب کے مسائل سنے جاتے ہیں اور ان کا حل بھی نکالا جاتا ہے ہم نے کونسلرز کو بھی بجٹ دے دیا ہے تاکہ وہ گلی محلوں میں کام کرا سکیں ہم نے کبھی نہیں کہا کہ ہمارے پاس اختیارات نہیں ہیں جہاں ہمارا کوئی منتخب نمائندہ نہیں ہے وہاں بھی ہم نے میگا پروجیکٹس دیے ہیں ہم نے بلدیہ کو اپنے پاوں پر کھڑا کیا ہے۔س: آج کل کثرت سے ٹوٹی سڑکوں کی استرکاری کی جا رہی ہے جو چند ماہ بعد پھر ٹوٹ جاتی ہیں اس حوالے سے ٓاپ کیا کہیںگے کیونکہ اگر مکمل سڑک بنادی جائے تو یہ مسئلہ پیدا نہیں ہوگانیز سیوریج لائنوں کی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے شہر کی سڑکیں بھی خراب ہو رہی ہیں؟
ج: ڈی جی واٹر بورڈ سے ہماری بات ہوئی ہے اور انجینئر نگ ڈیپارٹمنٹ سے بھی کہا گیا ہے کہ کوالٹی اور کوانٹٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اگر غیر ذمہ داری کا کوئی کیس سامنے ٓایا تو ہم نے ذمہ دار کو معطل بھی کیا اور انکوائری بھی کی مٹیریل کا لیبارٹری ٹیسٹ بھی ہو رہا ہے ہم نے ٹھیکے داروں کو بلیک لسٹ بھی کیا ہے افسران کے خلاف بھی کارروائی ہوئی میئر کراچی مرتضی وہاب کی ہدایت ہے کہ ترقیاتی کاموں کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے اسی لیے سخت ترین کوالٹی کنٹرول کا نظام رائج ہے دیکھیں کراچی ہم سب کا شہر ہے ہمیں مل کر اس کو بہتر کرنا ہے کراچی روشنیوں کا شہر کہلاتا ہے ہم اس کی روشنیاں بحال کریں گے اس کا وقار بلند کریں گے ہم عوام کو مایوس نہیں کریں گے چمکتا دمکتا کراچی ہمارے قائدین کا وژن ہے ہم ہر صورت اس کو پورا کریں گے ۔س: ہمارے شہر میں ایسا کوئی منصوبہ نظر نہیں آتا جس پر ہم فخر کر سکیں اگر مستقبل میں کوئی منصوبہ ہے تو عوام کو بتائیں ؟
ج: کراچی میں جا بجا ایسے منصوبے ہیں جس پر فخر کیا جا سکتا ہے جیسے ابھی کچھ عرصے پہلے سفاری پارک کی تزین و آرائش کی گئی سفاری پارک میں جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ بہت سی ایسی ڈیویلپمنٹ کی گئی ہیںجس کو بہت پسند کیا گیا اس کے علاوہ شہر میں کئی چھوٹے بڑے پارک بنائے گئے جس سے شہریوں کو صحت مند تفریح کے مواقع میسر آ رہے ہیں مزید اور منصوبے زیر غور ہیں جو وقتا فوقتا عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔س: ساحلی تفریح گاہوں کی صورتحال ابتر ہے کراچی کا سمندر انتہائی آلودہ ہے شہر کی آلودگی سمندر میں گرائی جا رہی ہے جو سمندری حیات کے لیے نقصان دہ ہے دنیا بھر میں سمندر کی حیثیت ایک اثاثے کی ہوتی ہے مگر ہم نے اس قدرتی اثاثے کی حفاظت نہیں کی اور غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کو نْقصان پہنچایامستقبل میں کیا قوم کوئی اچھی امید رکھے ؟
ج: ہم نے ٹریٹمنٹ پلانٹ لگایا ہے جس کا وزیراعلی سندھ نے دورہ بھی کیا تھا جب وہ مکمل ہوگا تو چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے اس کا افتتاح کروائیں گے اس کے ذریعے سمندر کے پانی کو صاف کریں گے اور یہ صاف شدہ پانی فیکٹریوں وغیرہ کو سپلائی کیا جائے گا ٹی پی تھری پہلے بھی تھا مگر ہم سے پہلے کسی نے توجہ نہیں دی جس طرح دبئی میں سمندر کے پانی کو ری سائیکل کیا جاتا ہے اسی طرز پر کراچی میں بھی ہورہا ہے جنوری فروری میں اس کا افتتاح ہوگا اس کے بعد کراچی کا سمندر صاف ہو جائے گا اور شہری ساحلی تفریح گاہوں سے زیادہ بہتر انداز میں لطف اٹھائیں گے ایک خوشخبری اور ہے کہ ایسا ہی ایک پلانٹ ملیر میں بھی لگایا جارہا ہے جس سے صورتحال بہت بہتر ہو جائے گی میری طرف سے عوام کو یہ پیغام دے دیں کہ عنقریب ان کو صاف و شفاف سمندر ملے گا جہاں وہ بہترین پکنک منا سکیں گے یہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا وژن ہے اور ہماری ذمہ داری ہے،جس کے لئے ہم دن رات کام کرہے ہیں۔س: بجلی کے بل میں بلدیہ کا جو ٹیکس لگایا گیا ہے اس حوالے سے بتائیں کہ عوام کس طرح سمجھے کہ بہتری آ رہی ہے اور ٹیکس دینے کا کوئی فائدہ ہو رہا ہے کیونکہ ٹیکس دینے والے کا حق ہے کہ وہ سوال کرے کہ ٹیکس کی مد میں ان سے وصول کی جانے والی رقم کہاں خرچ کی جارہی ہے؟
ج: یہ ٹیکس نیا نہیں ہے اس سے پہلے بھی لیا جاتا تھا پہلے چھ سات ہزار لیے جاتے تھے مگر وہ پیسے کے ایم سی کے اکاونٹ میں نہیں جاتے تھے اب ہم نے جو کام کیا ہے اس سے یہ پیسے کے ایم سی کے اکاونٹ میں ا ٓرہے ہیں یہ پیسے شہریوں پر خرچ ہوں گے شہری حلقوں پر خرچ ہوں گے جو پیسے ٓائیں گے ہم بتائیں گے کہ کہاں خرچ ہوئے اس کی تفصیل کیا ہے اس سے پہلے سالانہ 15 کروڑ جمع ہوتے تھے اب ہم ماہانہ بنیادوں پر جمع کر رہے ہیںس: ابھی تک کچرہ اٹھانے کے لیے باہر کے لوگ آرہے ہیں تو اس ٹیکس دینے کا کیا فائدہ ہے؟
ج :سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ کے تحت کچرا اٹھانے کا انتظام کیا گیا ہے یہ لوگ گھر گھر کچرا اٹھاتے ہی جھاڑو دی جاتی ہے صفائی اچھی ہو رہی ہے کام تو ہو رہے ہیں۔س :ڈپٹی میر صاحب ہمارے علاقے نارتھ کراچی میں کچرا اب بھی باہر کے لوگ اٹھا رہے ہیں.
ج: اب آپ نے مجھے بتایا ہے تو میں اس کو چیک کرتا ہوں سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ کو آن بورڈ لے کر بات کرتا ہوں اگر کسی شہری کو کوئی شکایت ہے تو اس شکایت کو دور ہونا چاہیے ِ۔س: کراچی کے جزائر کی صورتحال بھی ابتر ہے اس حوالے سے کیا کہیں گے جبکہ وہاں پیپلز پارٹی کا ووٹ بینک بھی ہے؟
ج: میرے خیال میں آپ کافی دنوں سے وہاں نہیں گئے اب صورتحال کافی بہتر ہے بیرون ملک کی طرح ریزورٹ بنائے گئے ہیں ڈیپ سی میں جا کر لوگ لطف اٹھاتے ہیں اس پر مزید کام کر رہے ہیں تاکہ سیاح ہمارے ساحلوں کا رخ کریں ہماری ذمہ داری ہے ہم کام کریںگے اللہ کے بعد میں اپنی قیادت کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھ ناچیز کو کراچی کا ڈپٹی میئر بنایا۔س:آپ کے والد عبداللہ مراد ایک دلیر اور بڑے سیاستدان تھے آپ نے ان سے کیا سیکھا؟
ج: میں ان کے دور میں پی ایس ایف میں شامل تھا میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد بزنس کو ٹائم دیتا تھا جیسے ہی والد کی شہادت ہوئی مجھ پر بھاری ذمہ داری عائد ہو گئی اس وقت کراچی میں سیاست کرنا مشکل تھا مگر محترمہ بے نظیر بھٹو اور ٓاصف علی زرداری نے ہمیں حوصلہ دیا ہم سب ان ہستیوں کے بے حد مشکور ہیں اس شہر میں پیپلز پارٹی کا نام لینا مشکل تھا اور گھر سے کفن ساتھ لے کر نکلنا ہوتا تھا پیپلز پارٹی کی لیڈرشپ نے اس ملک اور جمہوریت کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں بلاول بھٹو صاحب کی کوششوں سے 26 ویں ترمیم آئی ہے اور جس طرح 50 سال بعد شہید بھٹو کو انصاف ملا ہے تو ہم بھی توقع کرتے ہیں کہ عبداللہ مراد شہید کے لواحقین کو بھی انصاف ملے گا۔س: کراچی اور لاہورکاموازنہ کیسے کریں گے؟
ج: کراچی اور لاہور کا کوئی موازنہ نہیں کراچی بہت بڑا شہر ہے یہاں کا انفراسٹرکچر لاہور سے بہت بہتر ہے مگر بدقسمتی سے کراچی کو کوئی اون نہیں کرتا ہم اس شہر کو اون کرتے ہیں اور تمام اسٹیک ہولڈروں کو کہتے ہیں کہ آئیں ہمارے ساتھ اس شہر کی تعمیر و ترقی کے لیے کام کریں لاہور والے اپنے شہر کو اون کرتے ہیں لاکھ اختلافات کے باوجود وہ مل کر شہر کی بہتری کے لیے کام کرتے ہیں کراچی میں بھی اسی جذبے کی ضرورت ہے۔
-

کراچی، بین الاقوامی کتب میلے کی ریکارڈ توڑ کامیابی
کراچی ایکسپو سینٹر میں منعقدہ پانچ روزہ 19ویں بین الاقوامی کتب میلے نے ریکارڈ توڑ کامیابی حاصل کی ایک محتاط اندازے کے مطابق چار لاکھ سے زائد شہریوں نے کتب میلے کا دورہ کیا،جن میں بچے ،بچیاں،بوڑھے،نوجوان اور خواتین سب شامل تھے،وزیراعلی،گورنر،وزراء سمیت شاعروں،ادیبوں،صحافیوں اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے بھرپور شرکت کی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہر قائد میں علم کی آبیاری اسی آب وتاب کے ساتھ جاری ہے جو ہماری تاریخ کا حصہ ہے،حالانکہ سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال کے بعد توقع کی جارہی تھی کہ کتابی کلچر اب ہم سے روٹھ گیا ہے مگر کتب میلے کی کامیابی نے تمام پیشنگوئیوںکو غلط ثابت کیا۔قبل ازیںوزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے 19ویں کراچی بین الاقوامی کتب میلے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسے علم ، ثقافت اور تخیل کا میلہ قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ کتب بینوں، لکھاریوں اور پبلشرز کو ایک ہی چھت تلے جمع کرنے والے اس پروگرام کا حصہ بننا اعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے پبلشرز، کتاب فروشوں اور لائبریریز کی کوششوں اور ادبی حلقوں کے درمیان تعاون کو سراہا۔
فیتہ کاٹنے کے موقع پر وزیر تعلیم سید سردار شاہ، میئر کراچی مرتضی وہاب، صدر آرٹس کونسل پاکستان احمد شاہ ، آرگنائزر متین خان اور عزیز خالد وزیراعلی کے ہمراہ تھے۔میلے کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ کتب میلے نے قومی اور بین الاقوامی پبلشرز کو ایک ہی چھت تلے جمع کیا ہے جس سے خیالات کے تبادلے اور کتب کی فروخت میں اضافہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ کتب میلے میں مصنفین کو پبلشرز اور قارئین کے ساتھ تبادلہ خیال کا موقع ملتا ہے جس سے تخلیقی مکالمہ اور تنقیدی سوچ پروان چڑھتی ہے۔وزیراعلی نے میلے کی کامیابی کیلیے وقار متین کی قیادت میں آرگنائزر اور انتظامی کمیٹی کی محنت کو بھی سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا ادب کے فروغ اور کتابوں سے پیار کا جذبہ قابل قدر ہے۔اس سال میلے میں 17 ممالک کے 40 ادارے شریک ہیں جو پاکستان کیلیے ادبی اور ثقافتی سنگ میل ہے۔
وزیراعلی سندھ نے کراچی میں ملک کے سب سے بڑے کتب میلے کے انعقاد کو اعزاز قرار دیا اور کہا کہ یہ بھی ہمارے کراچی کا ہی اعزاز ہے کہ حال ہی میں 17ویں اردو کانفرنس ہوئی اور ہمارے کراچی میں ہی دنیا کا سب سے بڑا کلچرل فیسٹیول بھی ہوا۔کتب میلے میں لوگوں کے ہجوم پر بات کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ لوگوں کی دلچسپی دیکھ کر دل خوش ہوا ۔انہوں نے لوگوں کو پڑھنے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ ہر کتاب میں ایک دنیا ہے جو دریافت کی منتظر ہے۔ ہر صفحہ ایک سفر اور ہر پڑھنے والا اپنی کہانی خود بناتا ہے۔کراچی بین الاقوامی کتب میلہ تخلیقی سوچ، فکری گفتگو اور ثقافتی پذیرائی کا اہم ذریعہ ہے اور ہر سال اس کے دائرے میں اضافہ ہو رہا ہے۔
وزیرتعلیم سید سردار شاہ نے اس موقع پر بات کرتے ہوئے ڈیجیٹل دور میں بھی کتاب کی لافانی اہمیت کو اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل کتابوں کی آج کی دنیا میں اپنی اہمیت ہے لیکن کتاب کو ہاتھ میں لینے اور ورق گردانی کا جو مزہ ہے وہ بے مثال ہے۔سردار شاہ نے علم اور تحقیق کے میدان میں مسلمانوں کے تاریخی کردار پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ مسلمانوں نے جدید تعلیم کو آگے بڑھانے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ جامعہ القراوین 859 عیسوی میں مراکش میں قائم کی گئی اور بغداد کا بیت الحکمت نویں صدی میں علم کا مرکز تھا۔ اس کے مقابلے میں آکسفورڈ یونیورسٹی 12 ویں صدی میں قائم کی گئی۔سردار شاہ نے بتایا کہ پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں پر فکری اور علمی زوال آگیا۔ ہمیں اپنے علمی اور تخلیقی ورثے کو دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔وزیرتعلیم نے زور دیا کہ تعلیم کو اہمیت دیں، نئی نسل میں پڑھنے اور سیکھنے کے کلچر کو عام کریں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم سید سردار شاہ نے کہا کہ وادی سندھ نے دنیا کو علم دیا، ہمارا اساس ہمیں واپس کرنا ہے، کوشش کرینگے کہ سکھر حیدرآباد اور دیگر شہروں میں بھی اس کتب میلے کو لیکر جائیں گے آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ نے کہا کہ ہم نے اس شہر سے نفرت ختم کرنا ہے،ہم نے کتابوں، زبان اور تمام لوگوں کی ثقافت کو اجاگر کیا،اپنے شہر اپنے صوبے اپنے ملک کو بہتر کرنا ہے،ہمارا فوکس تعلیم اورکتاب پر ہوناچا ہیے ، پاکستان پبلشرز اینڈ بک سیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عزیز خالد نے کہا آج خوشی کا دن ہے کہ بین الاقوامی کتب میلہ منعقد ہو رہا ہے ،پاکستان کا صاف امیج دنیاکو دیکھانا چاہتے ہیں ،بچوں کو اچھی کتابیں ایک چھت کے نیچے دینا چاہتے ہیں۔اس نمائش میں بین الاقومی پبلشر کو اکٹھا کیا ہے،یہاں ادب زبانوں اور کورسز کی کتابیں دستیاب ہیں۔
کراچی انٹر نیشنل بک فیئر کے کنوینئر وقار متین نے کہاکہ کراچی انٹر نیشنل بک فیئر کے منتظمین اور حکومت سندھ کے تعاون سے پبلک پارک میں لائبریری قائم کرنے کے لیے تیار ہیں ۔ کراچی ایکسپو سینٹر میں جاری انیسویں کراچی بین الاقوامی کتب میلے کے پہلے روز صبح سے ہی طلبہ و طالبات اور شائقین کتب بڑی تعداد میں پہنچ گئے۔ طلبہ و طالبات نے نصابی اور درسی کتب کے علاوہ تاریخی اور کہانیوں کی کتب میں گہری دلچسپی لی۔ اسکول و مدرسہ کے ہزاروں طلبہ بسوں اور وین کے ذریعہ کتب میلے میں شریک ہوئے۔ شہریوں کی بڑی تعداد میں آمدسے پارکنگ کی جگہ تقریبا بھر چکی تھی۔ پبلشرز کی جانب سے کتب پر 30فیصد سے 70فیصد تک رعایت دی گئی۔ منتظمین کی جانب سے کیشن وین میں اے ٹی ایم کی سہولت مہیا کی گئی تھی پہلے دن ادیبہ و شاعرہ فاطمہ حسن، ادیب و شاعر سحر انصاری، روس کے کونصلیٹ جنرل اوررشین ہاوس کے ڈائریکٹر رسلان رکوف، چیئرمین فیڈریشن آف پرائیوٹ اسکولز محمد علیم قریشی، چیئرمین پاکستان پرائیوٹ اسکولز انور علی بھٹی، طارق پرائیوٹ اسکول مینجمنٹ ایسوسی ایشن، ادیب قاضی اسد عابد، بانی رکن اور صدر پاکستان اکیڈمک کنسورشیم ناصر زیدی، منیجنگ ڈائریکٹر اکیڈمی سندھ سعد بن عزیز، لائٹری کنٹربیوشن اردو فراست رضوی بھی شریک ہوئے، کتب میلے میں عوام کی بڑی تعداد نے شریک ہو کر مختلف موضوعات پر کتابیں خرید یںکتب میلے میں سب سے زیادہ دلچسپی بچوں نے دکھائی جہاں انہیں پسندیدہ کتابیں میسرتھیں۔عالمی کتب میلے کے کنوینر وقار متین کے مطابق کتب میلے میں پاکستان بھر کے پبلشرز کے علاوہ 17دیگر ممالک کے پبلشرز نے بھی اسٹالز لگائے۔عالمی کتب میلے میں مصنفین کی کتابوں کی رونمائی سمیت بچوں کی بہتر تربیت کے لیے مختلف سرگرمیاں بھی منعقد کی گئیں۔
بک فیئر میں پاکستان سمیت،انڈیا، ترکی، سنگا پور، چین، ملائشیا، برطانیہ متحدہ عرب امارات کی کتابیں نمائش کا حصہ تھیں۔عالمی کتب میلے میں 330 سے زائد اسٹالز لگائے گئے ہیں جن پر بچوں اور بڑوں کا خاصہ رش نظرآیا ۔پانچ روزہ عالمی کتب میلے کے تیسرے دن بھی ہزاروں کی تعداد میں کراچی کے مختلف نجی و سرکاری تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات، اساتذہ اور ماہرین تعلیم نے شرکت کی، کتب میلہ کے کنوینر وقار متین کے مطابق اب تک لاکھوں کتابیں فروخت ہو چکی ہیں۔وقار متین کے مطابق ایکسپو میں گنجایش نہ ہونے کے سبب متعدد پبلشرز کو جگہ بھی فراہم نہیں کی جا سکی ہے، اس لیے آئندہ سال ہم تمام ہال بک کرنے کی کوشش کریں گے۔وقار متین نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ آئندہ سال سندھ حکومت کے اشتراک سے کتب میلے کا انعقاد کریں، کیوں کہ کتب ملیہ کلچر کو سندھ کے دیگر اضلاع میں شروع کرنے کی تجاویز بھی آئی ہیں۔.
کتب میلے میں ترکی کی جانب سے لگایا گیا اسٹال لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا، مفت کتب تقسیم کی گئیں، ایڈیشنل ڈائریکٹر انسپکیشن اینڈ رجسٹریشن انسٹیٹیوشن رافعہ جاوید نے دورے کے موقع پر کہا عالمی کتب میلہ کراچی کے شہریوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہے، جناح ٹان چیئرمین رضوان عبدالسمیع نے کہا ہمارے علاقے کے تمام اسکولز اس کتب میلے میں شرکت کریں گے اور اس کے لیے فنڈز بھی مختص کریں گے۔ترکی اسٹال کے نمائندہ محمد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمارا بردار ملک ہے یہاں کے لوگ انتہائی پر خلوص ہیں مجھے پاکستان بہت پسند آیا اگلے سال پھر آنے کا ارادہ ہے۔ ایک سوال کے جواب میں محمد کا کہنا تھا کہ اس جدید دور میں کتب کی اہمیت کم نہیں ہوئی ہے یہ کتب میلہ ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کا نوجوان اس وقت بھی کتب میں دلچسپی رکھتا ہے.
معاشرتی برائیوں کو کتاب کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے،گورنر سندھ کامران ٹیسوری
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کراچی ایکسپو سینٹر میں منعقدہ کتب میلے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بچے سیاسی کتابیں نہ ہی پڑھیں تو بہتر ہے، نئی نسل کو کتاب دوست بننا پڑے گا۔گورنر سندھ نے کہا کہ کتاب سے محبت اور دوستی کے لیے گورنر ہاوس میں سیل قائم کریں گے، زندگی میں تبدیلی لانے کے لیے کتاب پڑھنا بہت ضروری ہے۔کامران ٹیسوری نے کہا کہ معاشرتی برائیوں کو کتاب کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے، انتظامیہ نے کتابوں سے محبت کا سلسلہ 19 برس سے جاری رکھا ہے، کتب میلے میں بہت ساری کتابیں خرید کر مختلف جامعات میں رکھواوں گا۔گورنرسندھ کامران خان ٹیسوری نے ایکسپو سینٹر میں 19ویں ’’کراچی انٹر نیشنل بک فیئر‘‘ کا دورہ کیا۔گورنرسندھ مختلف اسٹالز گئے جہاں پر انہیں مختلف کتابوں کے حوالہ سے آگاہی دی گئی۔بک اسٹالز پر بچوں نے گورنرسندھ کو اپنے درمیان دیکھ کر خوشگوار حیرت کا اظہار کیا اور گورنر سندھ کے ہمراہ سیلفیاں بھی لیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ نے مزید کہا کہ کراچی انٹر نیشنل بک فیئر ایک شاندار اقدام ہے۔ معاشرہ سے کتب بینی ختم ہوتی جارہی ہے ایسے میں کتاب کی اہمیت اجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔پاکستانی قوم آج بھی کتابوں کے عشق میں مبتلا ہے،وفاقی وزیر تعلیم و فنی تربیت خالد مقبول
وفاقی وزیر تعلیم و فنی تربیت ڈاکٹرخالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستانی قوم آج بھی کتابوں کے عشق میں مبتلا ہے ۔کہا جاتا ہے کہ اس قوم کی کی کتاب سے دوستی ختم ہوگئی لیکن یہاں شائقین کتب کی بڑی تعداد میں شرکت نے اسکی نفی کر دی ہے۔کراچی شہر آج بھی ادب، ثقافت، معاشرتی اور معاشی ترقی کا محور ہے، مجھے ہر بارعالمی کتب میلے میں بلا یا جاتا ہے اور میں ہر سال یہاں آتا ہوں کیونکہ کراچی تہذیب کی ترقی کا محور اور انجن ہے۔یہ با ت انہوں نے کراچی ایکسپو سینٹر میں منعقدہ انیسویں کراچی عالمی کتب میلے کا دورہ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ۔اس موقع پر کراچی انٹر نیشنل بک فیئر کے کنوینئر وقار متین ، ، ڈپٹی کنوینر نا صر حسین، ندیم مظہر، ایم۔ اقبال غازیانی، اقبال صالح محمد، کامران نورانی، اور سلیم عبدالحسین،سعد بن عزیزاور اصغر زیدی بھی موجود تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم اور تحقیق کی بڑی اہمیت ہے۔ کتب خانے طلباء ، محققین، شعبہ درس وتدریس کے افراد اور دیگر لوگوں کو اپنے تعلیمی اور تحقیقی کاموں کے لیے ضروری وسائل فراہم کرتے ہیں، جو معاشرے کی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔کتب خانے لوگوں کو ایک دوسرے سے ملنے، بات چیت کرنے، اور خیالات کا اشتراک کرنے کے لیے بھی ایک جگہ فراہم کرتے ہیں۔ یہ سماجی رابطے اور کمیونٹی کی تعمیر کے لیے ضروری ہے، جو صحت مند اور خوشحال معاشروں کے لیے ضروری ہے۔ کتب خانے ثقافتی تفہیم اور رواداری کو فروغ دینے میں مدد کر سکتے ہیں جو اس قسم کے معاشرے میں ضروری ہیں۔

-

کراچی کی570 خطرناک اور مخدوش عمارتیں
کراچی شہر میں 570 خطرناک اور مخدوش عمارتیں موجود ہونے اور ان ناکارہ عمارتوں میں ہزاروں افراد تاحال رہائش پذیر ہونے کا انکشاف ہواہے۔سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے خطرناک اور مخدوش عمارتوں کو خالی کرانے اور گرانے سے معذرت کرلی ہے۔ پی اے سی نے خطرناک عمارتوں میں رہائش پذیر ہزاروں انسانی جانیں ضائع ہونے سے بچانے کے لئے چیف سیکرٹری سندھ اور سندھ حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر اقدمات لینے کے لئے سفارش کردی ہے۔ پی اے سی کا اجلاس چیئرمین نثار کھوڑو کی صدارت میں ہوا اجلاس میں کمیٹی کے رکن سید فرخ شاہ، ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی عبدالرشید سولنگی سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں سندھ بکڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی سال 2017ع سے سال 2020ع تک آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں کراچی سمیت سندھ میں 782 خطرناک اور مخدوش عمارتیں موجود ہونے اور ان میں سے صرف کراچی شہر میں 570 عمارتیں خطرناک اور مخدوش ہونے اور ان عمارتوں میں ہزاروں افراد رہائش پذیر ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔
ڈی جی آڈٹ سندھ نے آڈٹ پیرا پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کے کراچی سمیت سندھ بھر میں خطرناک عمارتوں کو گرانے میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ناکام ثابت ہوا ہے اور خطرناک عمارتوں میں لوگوں کی موجودگی کسی بھی وقت ہزاروں انسانی جانوں کے ضیاع کا المیہ بن سکتی ہے۔ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی عبدالرشید سولنگی نے پی اے سی کو بتایا کے کراچی شہر میں 570 عمارتیں خطرناک اور مخدوش قرار دی گئی ہیں جبکہ حیدرآباد میں 81 میرپورخاص میں 67 سکھر میں 60 اور لاڑکانہ میں 4 عمارتیں خطرناک اور مخدوش قرار دی جا چکی ہیں اور ان خطرناک قرار دی گئی عمارتوں میں ہزاروں لوگ رہائش پذیر ہیں جو اپنے گھر اور جائیداد خالی کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ ڈی جی ایس بی سی اے نے بتایا کے لوگ اپنے گھر خالی کرنے کی صورت میں متبادل گھر فراہم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ایس بی سی اے کے پاس متبادل گھر یا پلاٹ نہیں ہیں جو ان لوگوں کو دے سکیں اس لئے خطرناک قرار دی گئی عمارتوں کو گرا نہیں سکتے کیوں کے لوگوں کو متبادل رہاش فراہم کرنا بڑا اشو یے۔چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے کہا کے سندھ حکومت کو عوام کی زندگی کا تحفظ چاہئے کیوں کے مزید وقت گذرنے سے خطرناک عمارتیں مزید مخدوش ہوجائینگی اگر خطرناک قرار دی گئی عمارتیں گر گئی تو ہزاروں انسانی جانیں ضایع ہونے کا خدشہ ہے۔نثار کھوڑو نے کہا کے سندھ حکومت خطرناک اور مخدوش عمارتوں میں رہائش پذیر انسانی جانیں ضایع ہونے سے بچانے کے لئے ھنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے۔
پی اے سی نے خطرناک عمارتوں میں رہائش پذیر ہزاروں انسانی جانیں ضایع ہونے سے بچانے کے لئے چیف سیکریٹری سندھ اور سندھ حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر اقدامات لینے اور معاملے کو فوری طور پر حل کرنے کی ہدایت کردی ہے۔
-

البانیہ نے ٹک ٹاک پر ایک سال کی پابندی لگا دی
ترانہ ( کنزیومر واچ نیوز)میڈیا رپورٹس کے مطابق البانوی حکومت کا یہ اقدام گزشتہ ماہ ایک نوجوان کے قتل کے بعد اٹھایا گیا جس میں دو لڑکوں میں سوشل میڈیا پر جھگڑا ہوگیا تھا جس میں ایک نے دوسرے کو تیز دھار آلے سے قتل کردیا۔سوشل میڈیا پر قتل کی حمایت کرنے والوں میں حیرت انگیز طور پر کم عمر بھی شامل تھے جس کے بعد بچوں پر سوشل میڈیا کے منفی اثرات کا خدشہ پیدا ہوا ہے۔وزیر اعظم ایدی راما نے کہا کہ پابندی جو کہ اسکولوں کو محفوظ بنانے کے وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے، اگلے سال کے اوائل سے نافذ العمل ہو جائے گی۔ یہ اعلان ملک بھر میں والدین اور اساتذہ کے کے گروپوں کے ساتھ وزیر اعظم کی 1,300 ملاقاتوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ایدی راما نے کہا کہ ایک سال کے لیے ہم اسے مکمل طور پر سب کے لیے بند کر دیں گے۔ البانیہ میں کوئی ٹک ٹاک نہیں ہوگا۔واضح رہے کہ فرانس، جرمنی اور بیلجیئم سمیت کئی یورپی ممالک نے بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندیاں نافذ کر رکھی ہیں۔ ٹک ٹاک کو نشانہ بنانے والے دنیا کے سخت ترین ضابطے آسٹریلیا سے آئے ہیں جس نے نومبر میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی منظوری دی تھی۔ایدی راما نے سوشل میڈیا اور خاص طور پر ٹک ٹاک کو اسکولوں کے اندر اور باہر نوجوانوں میں تشدد کو ہوا دینے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
-

کی بورڈ کے فضول اور بیکار بٹن
نیو یارک ( کنزیومرواچ نیوز)کیبورڈ پر انگریزی حروف، عدد اور علامتوں کے بٹنز کارآمد ہوتے ہیں لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ کئی بٹن ایسے بھی ہیں جنہیں فضول اور بیکار کہا جائے تو غلط نہ ہوگا،درج ذیل 2 ایسے بٹن کے بارے میں بتایا جارہا ہے جو پورے کیبورڈ میں سب سے بیکار بٹنز ہیں۔
اسکرول لاک ،یہ بٹن آپ کے کی بورڈ کے اوپری دائیں جانب واقع ہے۔ اسکرول لاک فنکشن عام استعمال میں نہیں ہوتا۔ اور جب دبایا جائے بھی، تو بھی اس کے نتیجے میں آپ کو اپنی اسکرین پر کوئی واضح اثر نظر نہیں آئے گا،بس کبھی کبھی بٹن کو پروگرام کے کچھ افعال جیسے اسکرولنگ کی صلاحیتوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جیسے مائیکروسافٹ ایکسل میں،ایکسل استعمال کرتے وقت ایرو کیز کو ایک سیل سے دوسرے سیل میں منتقل کرنے کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے جب کہ اسکرول لاک غیر فعال ہو،لیکن جب آن کردیا جائے تو پھر ایروز کیز سے ایکسل میں سیل نہیں بدل سکتے بلکہ اسکرین اسکرولنگ کیلئے استعمال ہوتا ہے جو عمومی طور پر ماؤس سے کی جاتی ہے،دوسرے الفاظ میں اسکرول لاک بٹن اس وقت تک بیکار ہے جب تک کہ ایکسل استعمال نہ کیا جائے۔
پاز/بریک بٹن،یہ بٹن بھی اسکرول لاک بٹن کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔ یہ بٹن بھی شاید ہی کبھی کسی نے استعمال کیا ہو، انٹرنیٹ براؤز کرتے وقت یا ورڈ پر ٹائپ کرتے وقت زیادہ تر اسکرول لاک کی طرح ہی اس کا کوئی اثر دکھائی نہیں دیتا۔
بہت شاذ و نادر ہی پاز بریک بٹن کسی ایسے پروگرام کو روکتا ہے جو اوپن ہو۔ لیکن پھر بھی مائیکروسافٹ کا دعویٰ ہے کہ یہ بنیادی طور پر پرانے پروگراموں میں استعمال ہوتا تھا لیکن زیادہ جدید سافٹ ویئر کے ساتھ یہ زیادہ کارآمد نہیں ہے۔
