Blog

  • چیئرمین وائس فار ہیومنیٹی انٹرنیشنل احتشام ارشد نظامی کے اعزاز میں عصرانہ

    چیئرمین وائس فار ہیومنیٹی انٹرنیشنل احتشام ارشد نظامی کے اعزاز میں عصرانہ

    کراچی:
    کامن ویلتھ پیپلز فرینڈرز شپ ایسوسی ایشن پاکستان (سی پی ایف اے) کے زیر اہتمام چئیرمین وائس فار ہیومنیٹی انٹرنیشنل اور ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم ہم اور آپ کے ہوسٹ احتشام ارشد نظامی کے اعزاز میں ایک پروقار عصرانے کا اہتمام کیا گیا جس میں ملکی دانشوروں ،ادیبوں ،شعرا،شاعرات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات سمیت بیرون ملک مقیم ادیبوں،شاعروں اوردانشوروں نے بھی شرکت کی ،نظامت کے فرائض شاہد محی الدین نے انجام دئیے، ابتدائی خطاب میں وائس فار ہیومنیٹی انٹرنیشنل پاکستان چیپٹر کے چئیرمین حامد اسلام نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم لوگ بنیادی طور پر فلاح وبہبود کے کام کرتے ہیں،خاص طور پر ان مجبور لوگوں کے لئے جوبنگلہ دیش کے کیمپوں میں جانوروں سے بدتر زندگی گزار رہے ہیں،ان مجبور لوگوں کا حال بتانے کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں انھوں نے کہا کہ مشرقی پاکستان کے حوالے سے ہمیں غلط تاریخ پڑھائی جارہی ہے، لاکھوں محب وطن لوگ موت کے گھاٹ اتار دئیے گئے اس قتل عام کا کسی نے نوٹس نہیں لیا نا ہی کسی کے پاس ان اموات کی درست تعداد موجود ہے۔

    میں سانحہ مشرقی پاکستان کا عینی شاہد ہوں میرے الفاظ بہت اہمیت کے حامل ہیں،میں سمجھتا ہوں کہ مشرقی پاکستان میں پانچ سے چھ لاکھ اردو اسپیکنگ افراد کو شہید کیا گیا حامد اسلام نے کہا کہ ان بد قسمت لوگوں کو نا پاکستان قبول کر رہا ہے ناہی بنگلہ دیش،نواز شریف نے محصورین کو پنجاب میں آباد کرنے کی کوشش کی تھی مگر ان کو شدید دباو کا سامنا کرنا پڑا حالانکہ کچھ مکانات بھی تعمیر ہوئے تھے اور چند خاندانوں کو آباد بھی کیا گیا تھا بعد ازاں یہ منصوبہ سرد خانے کی نذر ہوگیا۔جنرل سکریٹری اظفر شکیل نے کہا کہ میرا گلا خراب ہے مگر زباں بندی نہیں ہے،ہم لوگ امریکا،کینیڈا اور دیگر ممالک میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں،ہماری آواز سنی جارہی ہے اس لئے آج ہم یہاں موجود ہیں،ہم احتشام ارشد نظامی کی قیادت میں بنگلہ دیش کے کیمپوں میں مقیم محب وطن لوگوں کے لئے کام کر رہے ہیں، چئیرمین وائس فار ہیومنیٹی انٹرنیشنل احتشام ارشد نظامی نے کہا کہ میں آپ سب حاضرین کا بے حد شکر گزار ہوں کہ ٓاپ نے مجھے اظہار خیال کا موقع دیا اور مجھے سننے کے لیے یہاں موجود ہیں ہم نا صرف بنگلہ دیش کے کیمپوں میں مقیم محب وطن لوگوںکے لیے کام کر رہے ہیں بلکہ ہم نے برما کے روہنگیا مسلمانوں کے لیے بھی کام کیا امریکہ ،کینیڈا پاکستان اور دیگر ممالک میں ہم خدمات انجام دے رہے ہیں میں اکثر بنگلہ دیش کے کیمپوں میں جاتا ہوں وہاں کے اسکولوں کا دورہ کرتا ہوں اور کوشش کرتا ہوں کہ جس حد تک ممکن ہو ان محب وطن لوگو ںکی خدمت کر وں انہوں نے کہا کہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ سانحہ مشرقی پاکستان کے دوران کتنے اردوا سپیکنگ لوگوں کو شہید کیا گیا ان کی تعداد کا صحیح اندازہ موجود نہیں ہے جس وقت سانحہ مشرقی پاکستان ہوا اس وقت ہم پاکستان میں تھے اور ان کے لیے تحریک چلا رہے تھے کہ کسی طرح ان لوگوں کے ساتھ انصاف ہو سکے انہوں نے کہا کہ میری لائبریری میں مشرقی پاکستان سے متعلق بے شمار کتابیں موجود ہیں یہ میرا پسندیدہ موضوع ہے اسی لیے میں اس موضوع پر ایک کتاب تحریر کر رہا ہوں میں سمجھتا ہوں کہ حسین شہید سہروردی کے ساتھ بہت ناانصافیاں ہوئی ہیں وہ بہت بڑے لیڈر تھے مگر ان کو تسلیم نہیں کیا گیا انہوں نے کہا کہ میں مانتا ہوں کہ بنگالیوں کا بھی قتل ہوا مگر یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ قتل کس نے کیا مختلف حوالوں سے پاکستانی فوج پر جھوٹے الزامات لگائے جاتے ہیں انہوں نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ 30 لاکھ بنگالیوں کو قتل کیا گیا اس حوالے سے کمیشن بھی بنایا گیا تھا مگر اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا انہوں نے کہا کہ مشرقی پاکستان میں عورتوں کو برہنہ کر کے جلوس نکالا گیا ان کی بے حرمتی کی گئی مگر کوئی پوچھنے والا نہیں تھا-
    انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصدیہ ہے کہ حقائق کو سامنے لایا جائے انہوں نے کہا کہ جو لوگ کیمپوں میں پڑے ہیں ان کی حالت بہت خراب ہے ایک تخت پر ایک فیملی اور اس کے نیچے دوسری فیملی گزارا کر رہی ہے واش روم کے لیے لمبی لمبی لائنیں لگائی جاتی ہیں محصورین پاکستان کی وجہ سے اس حال کو پہنچے اور ہمارے حکمران کہتے ہیں کہ ان لوگوں کو وہیں رہنے دیا جائے انہوں نے کہا کہ میں جب تک زندہ ہوں انسانیت کے لیے کام کرتا رہوں گا انہوں نے کہا کہ مجھ سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ کی جدوجہد کا کیا نتیجہ نکلا تو میں کہتا ہوں کہ اذان دیتے ہوئے موذن کبھی یہ نہیں سوچتا کہ کتنے لوگ نماز پڑھنے آئیں گے اسی طرح میں بھی جدوجہد کر رہا ہوں جدوجہد خلوص کے ساتھ کر رہا ہوں اس لیے توقع ہے کہ نتائج نکلیں گے اور نتائج نکلیں یا نہ نکلیں میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا رہوں گاانہوں نے شاعروں اور ادیبوں سے کہا کہ وہ اپنی شاعری اور کہانیوں میں بنگلہ دیش کے کیمپوں میں مقیم ان محب وطن پاکستانیوں کو ضرور یاد رکھیں ہوسکتا کہ آپ کے قلم اٹھانے سے ان مظلوموں کی کچھ داد رسی ہوسکے۔تقریب کے اختتام پر مختلف شخصیات میں شیلڈز بھی تقسیم کی گئیں۔

  • کتابی علوم کے ساتھ ہنر کا سیکھنا بھی ضروری ہے

    کتابی علوم کے ساتھ ہنر کا سیکھنا بھی ضروری ہے

    آج کے دور میں تعلیم صرف کتابوں تک محدود نہیں رہی بلکہ عملی مہارتوں اور ہنر کا سیکھنا بھی کامیاب زندگی کے لیے لازمی بن چکا ہے۔ جہاں تعلیمی ڈگریاں ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں، وہیں ہنر اور عملی تجربہ نوجوانوں کو اپنے مقاصد حاصل کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

    کتابی علوم کی اہمیت
    تعلیمی ڈگریاں اور کتابی علم انسان کو علم کے مختلف شعبوں سے روشناس کراتے ہیں۔ یہ نہ صرف نظریاتی فہم میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ منطقی سوچ، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت، اور مختلف موضوعات پر گہری معلومات فراہم کرتے ہیں۔

    تاہم، صرف کتابی علم کامیابی کی ضمانت نہیں ہے۔ آج کی دنیا میں وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو اپنے علم کو عملی طور پر لاگو کرنے کی مہارت رکھتے ہیں۔

    ہنر کی اہمیت
    ہنر یا اسکلز کا سیکھنا آج کی دنیا میں اتنا ہی اہم ہے جتنا کتابی علم۔ یہ مہارتیں نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا کرتی ہیں بلکہ ایک شخص کو خود مختار اور کامیاب بناتی ہیں۔

    ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل اسکلز:
    ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ویب ڈیزائننگ، اور کوڈنگ جیسے ہنر آج کی دنیا میں سب سے زیادہ طلب کیے جاتے ہیں۔
    فنی مہارتیں:
    کارپینٹری، ٹیلرنگ، اور مکینیکل اسکلز جیسے ہنر مقامی اور بین الاقوامی سطح پر روزگار کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔
    سافٹ اسکلز:
    کمیونیکیشن، ٹیم ورک، اور قیادت کی مہارتیں کسی بھی شعبے میں کامیابی کے لیے ضروری ہیں۔
    تعلیمی نظام میں ہنر کی شمولیت
    جدید تعلیمی نظام میں کتابی علوم کے ساتھ ہنر کی تربیت کو شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    پیشہ ورانہ تربیت:
    تعلیمی ادارے اپنے نصاب میں پروفیشنل کورسز کو شامل کریں تاکہ طلباء اپنے پسندیدہ شعبے میں مہارت حاصل کر سکیں۔
    انٹرنشپ اور عملی تربیت:
    اسکول اور یونیورسٹیز کو انٹرنشپ اور عملی تربیت کے مواقع فراہم کرنے چاہییں تاکہ طلباء کتابی علم کو عملی زندگی میں لاگو کرنے کے قابل ہوں۔
    ہنر کے مراکز کا قیام:
    حکومت اور نجی ادارے ہنر کے تربیتی مراکز قائم کر کے نوجوانوں کو تربیت فراہم کریں۔.

    ہنر سیکھنے کے فوائد
    روزگار کے مواقع:
    ہنر مند افراد کے لیے روزگار کے زیادہ مواقع موجود ہیں، چاہے وہ کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتے ہوں۔
    خود انحصاری:
    ہنر مند افراد اپنی روزی خود کما سکتے ہیں اور دوسروں کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا کر سکتے ہیں۔
    مستقبل کی تیاری:
    ہنر سیکھنا نوجوانوں کو مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار کرتا ہے اور انہیں ترقی کے مواقع فراہم کرتا ہے۔

    نتیجہ
    کتابی علوم اور ہنر کا امتزاج ایک کامیاب اور متوازن زندگی کے لیے لازمی ہے۔ جہاں کتابی علم انسان کو نظریاتی بنیاد فراہم کرتا ہے، وہیں ہنر انسان کو عملی زندگی کے مسائل حل کرنے کے قابل بناتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ والدین، اساتذہ، اور تعلیمی ادارے کتابی علوم کے ساتھ ہنر کی اہمیت کو بھی اجاگر کریں اور نوجوانوں کو دونوں شعبوں میں مہارت حاصل کرنے کی ترغیب دیں۔

    ایک روشن اور کامیاب مستقبل کے لیے کتابی علم کے ساتھ ہنر کو اپنانا وقت کی ضرورت ہے۔

  • آج کے جدید دور میں بھی لاکھوں بچے بنیادی تعلیم سے محروم

    آج کے جدید دور میں بھی لاکھوں بچے بنیادی تعلیم سے محروم

    آج کا دور جدید ٹیکنالوجی، سائنسی ترقی، اور ڈیجیٹل انقلاب کا دور ہے، جہاں دنیا تیزی سے ترقی کی راہوں پر گامزن ہے۔ اس کے باوجود، افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ لاکھوں بچے بنیادی تعلیم جیسی بنیادی انسانی ضرورت سے محروم ہیں۔

    تعلیم کا بنیادی حق
    تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے، جیسا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اعلامیہ میں ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم، ترقی پذیر ممالک میں غربت، وسائل کی کمی، اور تعلیمی نظام میں خرابی کی وجہ سے بچوں کی بڑی تعداد اسکول جانے سے محروم رہتی ہے۔

    بچوں کی تعلیم میں رکاوٹیں
    غربت:
    بہت سے خاندان اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کے بجائے ان سے محنت مزدوری کروانے پر مجبور ہیں تاکہ وہ گھر کے اخراجات پورے کر سکیں۔
    تعلیمی سہولیات کی کمی:
    دور دراز علاقوں میں اسکولوں کی عدم موجودگی یا ناقص تعلیمی نظام بچوں کو تعلیم کے مواقع سے محروم کر دیتا ہے۔
    صنفی تفاوت:
    خاص طور پر لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے کے مواقع کم ملتے ہیں، جس کی وجہ سماجی رکاوٹیں اور رسم و رواج ہیں۔
    حکومتی اور غیر سرکاری اقدامات
    بچوں کی تعلیم کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے کئی حکومتیں اور غیر سرکاری تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ اسکولوں کی تعمیر، مفت تعلیمی منصوبے، اور عوامی شعور کی مہمات ان اقدامات کا حصہ ہیں۔ تاہم، ان اقدامات کی کامیابی اب بھی محدود ہے اور لاکھوں بچے آج بھی تعلیم سے محروم ہیں۔

    تعلیم سے محرومی کے اثرات
    تعلیم سے محروم بچے اپنی زندگی میں مواقع سے محروم رہ جاتے ہیں اور غربت کا دائرہ نسل در نسل منتقل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ مسئلہ سماجی و اقتصادی ترقی میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے اور معاشرے میں عدم مساوات کو فروغ دیتا ہے۔

    آگے کا راستہ
    یہ وقت کی ضرورت ہے کہ حکومتیں، تعلیمی ادارے، اور عوام مل کر اس مسئلے کا حل تلاش کریں۔ تعلیم کے فروغ کے لیے زیادہ وسائل مختص کیے جائیں، تعلیمی سہولیات کو بہتر بنایا جائے، اور صنفی برابری کو یقینی بنایا جائے۔

    تعلیم ہی وہ روشنی ہے جو نہ صرف بچوں کی زندگی بدل سکتی ہے بلکہ معاشرتی ترقی اور خوشحالی کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ ہمیں اس مقصد کے لیے اپنی کوششوں کو مزید تیز کرنا ہوگا تاکہ ہر بچے کو تعلیم کا حق مل سکے۔

  • ریاضی کی مشقوں کے لیے صحیح وقت کونسا ہے. سائنسدانوں کا نیا انکشاف

    ریاضی کی مشقوں کے لیے صحیح وقت کونسا ہے. سائنسدانوں کا نیا انکشاف

    ریاضی کو سمجھنے اور سیکھنے کے لیے مشقوں کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ریاضی کی مشقوں کے لیے دن کا کون سا وقت سب سے زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے؟ سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی ہے، اور اس انکشاف نے تعلیمی ماہرین اور والدین کی توجہ حاصل کی ہے۔

    تحقیق کا پس منظر
    یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے نیوروسائنس ماہرین نے ایک تحقیق میں طالب علموں کے دماغی کارکردگی اور مختلف اوقات میں ان کی ریاضی کی مشق کرنے کی صلاحیت کا جائزہ لیا۔ تحقیق کا مقصد یہ جاننا تھا کہ دن کے کس حصے میں دماغ سب سے زیادہ ریاضی کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    نتائج کیا کہتے ہیں؟
    تحقیق سے معلوم ہوا کہ صبح کے وقت، خاص طور پر ناشتے کے بعد، دماغ ریاضی کے مسائل حل کرنے کے لیے زیادہ تیار ہوتا ہے۔ اس وقت دماغی توانائی عروج پر ہوتی ہے اور دماغ منطقی مسائل کو زیادہ مؤثر طریقے سے حل کر سکتا ہے۔

    دوسری طرف، تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ شام کے وقت دماغ زیادہ تخلیقی کاموں کے لیے بہتر کارکردگی دکھاتا ہے، جبکہ ریاضی جیسے منطقی اور تحلیلی کاموں میں کارکردگی کم ہو سکتی ہے۔

    ریاضی کی مشق کے لیے سائنسدانوں کی تجویز
    صبح کے وقت مشق کریں:
    تحقیق کے مطابق، صبح کے وقت، خاص طور پر 8 سے 11 بجے کے درمیان، ریاضی کی مشق سب سے زیادہ فائدہ مند ہو سکتی ہے۔
    دماغ کو آرام دیں:
    مشقوں کے دوران وقفے لینے سے دماغ کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔ مسلسل دباؤ ڈالنے کے بجائے وقفوں کو شامل کریں۔
    خوراک کا خیال رکھیں:
    ناشتے میں متوازن غذا لینے سے دماغ کو وہ توانائی ملتی ہے جو ریاضی جیسے کاموں کے لیے ضروری ہے۔
    تعلیمی ماہرین کا مؤقف
    تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے تعلیمی نظام میں تبدیلیاں لانے میں مدد مل سکتی ہے۔ اگر اسکولوں میں ریاضی کی کلاسز صبح کے وقت رکھی جائیں، تو طلباء زیادہ مؤثر طریقے سے سیکھ سکتے ہیں۔

    والدین کے لیے اہم نکات
    والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے مطالعہ کے اوقات کو بہتر بنانے کے لیے اس تحقیق سے فائدہ اٹھائیں۔ ریاضی کی مشقوں کے لیے صبح کا وقت مختص کریں اور شام کے وقت انہیں تخلیقی سرگرمیوں میں مشغول کریں۔

    نتیجہ
    سائنسدانوں کا یہ انکشاف طلباء، والدین، اور اساتذہ کے لیے ایک اہم رہنمائی ہے۔ ریاضی جیسا اہم مضمون، جو بعض اوقات طلباء کے لیے چیلنجنگ بن جاتا ہے، صحیح وقت پر مشق کرنے سے زیادہ مؤثر اور آسان ہو سکتا ہے۔

    تعلیم میں بہتر کارکردگی کے لیے وقت کے اصولوں کو اپنانا ضروری ہے تاکہ طلباء کے لیے سیکھنے کے عمل کو بہتر اور کامیاب بنایا جا سکے۔

  • سوشل میڈیاصارفین کی تعدادسے متعلق اعدادوشمارجاری

    سوشل میڈیاصارفین کی تعدادسے متعلق اعدادوشمارجاری

    کراچی (کنزیومر واچ نیوز)کستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے سوشل میڈیا صارفین کی تعداد سے متعلق اعدادو شما ر جاری کر دیئے ہیں جوکہ جنوری 2024 تک فیس بک صارفین کی تعداد 6 کروڑ 4 لاکھ ریکارڈ کی گئی ۔پی ٹی اے کے مطابق فیس بک کے مرد صارفین کی تعداد 77 اور خواتین صارفین کی تعداد 24 فیصدہے،جنوری 2024تک ملک میں یوٹیوب صارفین کی تعداد 7 کروڑ 17 لاکھ ریکارڈکی گئی ، مرد یوٹیوب صارفین کی تعداد 72 فیصد خواتین صارفین کی تعداد 28 فیصد ہے، ملک میں جنوری 2024 ٹک ٹاک صارفین کی تعداد 5 کروڑ 44لاکھ ریکارڈکی گئی۔ پی ٹی اے کا کہناتھا کہ ٹک ٹاک استعمال کرنے والے مرد صارفین کی تعداد 78 فیصد،خواتین کی تعداد 22 فیصدہے، جنوری 2024 تک انسٹاگرام صارفین کی تعداد ایک کروڑ 73 لاکھ تک ریکارڈکی گئی۔ انسٹاگرام کے مرد صارفین کی تعداد 64 فیصد جبکہ 36 فیصد خواتین کی ہے۔

  • امریکا ،سب سے طویل پہاڑی سلسلہ کوہ را خزانے سے بھرا پڑا ہے

    امریکا ،سب سے طویل پہاڑی سلسلہ کوہ را خزانے سے بھرا پڑا ہے

    یہ تحریر ایک فرضی تحریر ہے جو کے سٹائلو تھیمز کی تیار کردہ ایک تھیم “اردو پیپر” کے لیے لکھی ہے۔ اس تحریر کا مقصد صرف ارو صرف اس تھیم میں مواد دکھانا ہے۔ یہ تھیم بہترین خصوصیات کی حامل ہے، اس تھیم کی مدد سے آپ ایک نیوز ویب سائٹ بنا سکتے ہیں۔ اس تھیم کو آپ اپنی ورڈپرس پاورڈ ویب سائٹ پر لگا سکتے ہیں۔

    یہ فرضی تحریر اس تھیم کے ساتھ ملنے والے ڈیمو ڈیٹا کے لئے ہے۔ اس ڈیمو ڈیٹا کو آپ اپنے تھیم سیٹنگز پینل سے اپنی ویب سائٹ پر حاصل کر سکتے ہیں۔ تاکہ آپ کو ابتدائی مراحل کے لئے پہلے سے تخلیق شدہ ڈیٹا مل جائے اور آپ کو تھیم لگانے میں آسانی ہو اور آپ  اس کی کارکردگی دیکھ سکیں۔

    اس تھیم کو لگانے مٰیں اگر آپ کو کوئی دشواری پیش آئے تو آپ ہماری ویب سائٹ پر آ کر مدد طلب کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس تھیم کو لگانے کا مکمل طریقہ کار ویڈیو گائڈ میں بتایا گیا ہے جو کے آپ ہمارے یوٹیوب چینل پر ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔

    اس تھیم کے اپڈیٹس بلکل مفت ہیں، آپ ہمارے فیس بک پیج، ٹویٹر پروفائیل اور ہمارے بلاگ کو ملاحظہ فرماتے رہیں تاکہ آپ اس کے اپڈیٹس سے آگاہ رہ سکیں۔

    اس ڈیمو ڈیٹا میں موجود تمام خبریں فرضی ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، اس ڈیٹا کو صرف اور صرف تھیم کی کارکردگی دکھانے کے لئے لکھا گیا ہے۔ اور اس میں استعمال ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز انٹرنیٹ سے لی گئی ہیں جن ک جملہ حقوق ان ک اصل مالکان کے پاس محفوظ ہیں۔

  • 28 ہزار پاکستانیوں کی یورپی ممالک میں پناہ کے لیے درخواستیں

    28 ہزار پاکستانیوں کی یورپی ممالک میں پناہ کے لیے درخواستیں

    ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس اکتوبر 2023 سے اکتوبر 2024 کے درمیان تقریبا 28 ہزار پاکستانیوں نے یورپی یونین کے ممالک میں پناہ کے لیے درخواستیں دیں۔رپورٹ کے مطابق یورپ میں پناہ کی درخواست دینے والے پاکستانیوں کی تعداد میں ہر ماہ کمی واقع ہو رہی ہے۔ یہ گزشتہ سال اکتوبر میں 3400 درخواستوں کے ساتھ سب سے زیادہ تھا، لیکن رواں ماہ اکتوبر میں یہ درخواستیں 1,900 ہوگئی ہیں۔رپورٹ کے مطابق یورپ میں پناہ کی درخواست دینے والے زیادہ تر پاکستانی اٹلی گئے۔ انہیں میں فرانس، یونان اور جرمنی بھی شامل تھے، لیکن اٹلی کو متعدد درخواستیں موصول ہوئیں۔

    ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق یورپی ممالک نے تقریبا 20 ہزار پاکستانیوں کی پناہ کی درخواستوں پر فیصلے کیے ہیں۔ تاہم، ان درخواست دہندگان میں سے صرف 12 فیصد کو پناہ گزین کا درجہ یا ذیلی تحفظ دیا گیا۔رپورٹ کے مطابق اس سال اکتوبر کے آخر تک پناہ کی درخواستوں سے متعلق تقریبا 34 ہزار فیصلے زیر التوا تھے۔

    رپورٹ میں پاکستان کی موجودہ سیکیورٹی صورت حال کا جائزہ پیش کیا گیا ہے وہیں ملکی حالت میں ملوث اسٹیک ہولڈرز اور عدلیہ کا کردار کے علاوہ ملک میں ایک مخصوص گروپ کے ساتھ رواں رکھے جانے والے سلوک کے بارے میں بتایا گیا۔رپورٹ میں پاکستان کی سیاست، سیکورٹی اور لوگوں کے مخصوص گروہوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا جاتا ہے اس کا ایک جائزہ بھی پیش کیا گیا۔ اس میں افغانستان سے آنے والے پناہ گزینوں کی صورت حال کو بھی دیکھا گیا ہے جو پاکستان میں مقیم ہیں۔پاکستان انسانی اعضا کی تجارت سمیت اسمگلنگ کے ایک بڑے راستے پر واقع ہے، انسانوں کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے قوانین موجود ہونے کے باوجود ملک کی کمزور جمہوریت اور احتسابی نظام نہ ہونے کے باعث یہ قوانین موثر نہیں ہیں۔2023 تک پاکستان انسانی اسمگلنگ کے خاتمے کے معیارات پر مکمل طور پر پورا نہیں اترا، حالانکہ حکومت نے اس مقصد کے لیے نمایاں کوششیں کی ہیں۔تاہم، بدعنوانی اور اسمگلنگ کے جرائم میں ریاستی حکام کی ملی بھگت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں کو متاثر کیا ہے۔

  • اندرون سندھ سے تعلق رکھنے والے میاں بیوی نے عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کردیا

    اندرون سندھ سے تعلق رکھنے والے میاں بیوی نے عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کردیا

    اندرون سندھ سے تعلق رکھنے والے میاں بیوی نے عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کردیا تفصیلات کے مطابق جھڈو شہر کی ایک ذہین بیٹی ڈاکٹر عائشہ ثانی بنت غلام محمد میمن اورکندھکوٹ سے تعلق رکھنے والے ان کے شوہر ڈاکٹر دلاور میمن نے میکسیکو یونیورسٹی سے نینو ٹیکنالوجی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرکے وطن عزیز کا سبز ہلالی پرچم سربلند کردیا۔ گذشتہ دنوں میکسیکو یونیورسٹی کی جانب سے ایک پر وقار تقریب میں دونوں پاکستانی میاں بیوی کو پی ایچ ڈی کی ڈگری اور گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔

    میکسیکو یونیورسٹی سے ایک ساتھ پی ایچ ڈی ڈگری اور گولڈ میڈل حاصل کرنے کا منفرد اعزاز حاصل والے یہ پہلے پاکستانی میاں اور بیوی ہیں، واضح رہے کہ ڈاکٹر عائشہ ثانی عبدالعزیز میمن اور محمد عمر میمن (آکسفورڈ گرامر اسکول جھڈو) کی بھتیجی ہیں انھوں نے پرائمری تعلیم آکسفورڈ گرامر اسکول جھڈو سے حاصل کی ،میٹرک اور انٹرمیڈیٹ گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول قاسم آباد حیدرآباد سے جبکہ بی ایس کیمسٹری اور ایم ایس کیمسٹری کی تعلیم سندھ یونیورسٹی جامشورو سے حاصل کی ،جس کے بعد کیمسٹری کے شعبہ میں پی ایچ ڈی کرنے کے لئے ڈاکٹر عائشہ ثانی اور ان کے شوہر ڈاکٹر دلاور میمن کو میکسیکو یونیورسٹی کی جانب سے فلی فنڈڈ اسکالر شپ فراہم کی گئی جس کے بعد ڈاکٹر عائشہ ثانی اور ان کے شوہر ڈاکٹر دلاور میمن نے کیمسٹری کے شعبہ ( نینو ٹیکنالوجی) میں اعلیٰ اعزاز کے ساتھ پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور اعلیٰ کارکردگی پر دونوں میاں بیوی نے میکسیکو یونیورسٹی سے بیک وقت گولڈ میڈلز بھی حاصل کئے جو پاکستان کے لئے ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔

  • اہم یورپی ملک کا عجیب و غریب چور گرفتار، طریقہ واردات نے پوری دنیا کو حیران کر دیا

    اہم یورپی ملک کا عجیب و غریب چور گرفتار، طریقہ واردات نے پوری دنیا کو حیران کر دیا

    ورپ کے اہم ملک فرانس میں ایک غیر معمولی اور عجیب و غریب چور کو گرفتار کیا گیا ہے، جس کا طریقہ واردات نہ صرف حیران کن بلکہ ناقابل یقین بھی ہے۔ یہ چور اپنی منفرد حکمت عملی کی وجہ سے کافی عرصے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک معمہ بنا ہوا تھا، لیکن آخرکار پولیس نے اسے قابو کر لیا۔

    چور کی منفرد حکمت عملی
    رپورٹس کے مطابق، یہ چور رات کے وقت مختلف گھروں اور دکانوں میں داخل ہونے کے لیے انتہائی غیر روایتی طریقے اپناتا تھا۔ وہ عمارتوں کی چھتوں کے ذریعے داخل ہوتا اور چمگادڑ کی طرح لٹک کر قیمتی اشیاء چرا لیتا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نے اپنے آپ کو ‘رات کا شکاری’ کا لقب دیا تھا۔

    چور نے کئی وارداتوں میں بغیر کسی نقصان کے قیمتی زیورات، نقدی، اور دیگر سامان چرایا۔ وہ انتہائی چالاکی کے ساتھ سیکیورٹی کیمروں اور الارم سسٹمز کو ناکام بنانے میں ماہر تھا۔

    پولیس کی تحقیقات اور گرفتاری
    فرانسیسی پولیس نے اس چور کو پکڑنے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی اور خفیہ معلومات کا استعمال کیا۔ کئی ہفتوں کی محنت اور ایک مربوط منصوبے کے تحت چور کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ایک مشہور زیورات کی دکان میں واردات کی کوشش کر رہا تھا۔

    پولیس کے مطابق، چور نے کئی وارداتوں کا اعتراف کیا ہے اور اس نے انکشاف کیا کہ وہ اپنی حکمت عملی کو مزید بہتر کرنے کے لیے مسلسل نئی تراکیب پر کام کر رہا تھا۔

    پوری دنیا کی توجہ کا مرکز
    چور کے منفرد طریقہ واردات نے نہ صرف فرانس بلکہ پوری دنیا میں خبروں کی شہ سرخیوں میں جگہ بنا لی۔ سوشل میڈیا پر لوگوں نے اس چور کو ‘حقیقی زندگی کا رابن ہڈ’ اور ‘چمگادڑ چور’ جیسے القابات دیے ہیں۔

    تاہم، قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے جرائم کی سنگینی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اور اسے اپنے اعمال کی سزا ملنی چاہیے۔

    چور کے اعترافات
    گرفتاری کے بعد، چور نے میڈیا کو دیے گئے ایک بیان میں کہا کہ وہ اپنے مخصوص طریقوں کے ذریعے شہرت حاصل کرنا چاہتا تھا۔ اس نے کہا کہ وہ کسی کو نقصان پہنچانے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا بلکہ صرف ایڈونچر کے لیے یہ سب کر رہا تھا۔

    قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کامیابی
    فرانسیسی پولیس نے اس چور کی گرفتاری کو اپنی بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ حکام نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ وہ دیگر ایسے مجرموں کے خلاف بھی سخت کارروائی کریں گے۔