راولپنڈی:190 ملین پاو نڈز کیس کا فیصلہ آج پھر مو خر کردیا گیا ہے۔ سماعت میں بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ پیش نہیں ہوئے۔
نجی ٹی وی کے مطابق احتساب عدالت نے اڈیالہ جیل میں ہونے والی سماعت میں آج پھر 190 ملین پاو نڈز ریفرنس کیس کا فیصلہ مو خر کردیا۔ کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے کی۔سماعت سے قبل احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا اڈیالہ جیل پہنچے جب کہ نیب پراسیکیوٹر چوہدری نذر، نیب لیگل ٹیم کے ممبران عرفان احمد،سہیل عارف اور اویس ارشد، احتساب عدالت اسلام آباد کا عملہ اور بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکلا سلمان اکرم راجا ایڈووکیٹ اور دیگر بھی جیل پہنچے تھے۔اس موقع پر اڈیالہ جیل کے باہر پولیس کی اضافی نفری تعینات کی گئی تھی، جس میں لیڈیز پولیس اہلکاروں سمیت ایلیٹ فورس کے تازہ دم دستے بھی شامل تھے۔ اسی طرح اڈیالہ جیل گیٹ نمبر 5 پر سکیورٹی ہائی الرٹ کی گئی تھی اور داخل ہونے والے سرکاری اہلکاروں کی بھی جامہ تلاشی لی جا رہی تھی۔اڈیالہ جیل میں ہونے والی سماعت میں بانی پی ٹی آئی کی بہنیں علیمہ خان اور عظمیٰ خان بھی عدالت پہنچیں، تاہم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی خود عدالت میں پیش نہیں ہوئے، جس پر عدالت نے کیس کا فیصلہ مو خر کردیا جو اب 17 جنوری کو سنایا جائے گاجج نے دورانِ سماعت ریمارکس دیے کہ بانی پی ٹی آئی کو 2مرتبہ پیغام بھجوایا لیکن وہ عدالت نہیں آئے۔ بشریٰ بی بی بھی عدالت نہیں آئیں۔ میں ٹھیک ساڑھے 8 بجے جیل آگیا تھا۔ اب ساڑھے 10 ہوچکے ہیں، ملزمان اور ان کے وکلا موجود نہیں۔ فیصلہ مو خر کررہے ہیں، جو اب 17 جنوری کو سنایا جائے گا۔بعد ازاں عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل پہنچیں تاہم وہ اندر جائے بغیر باہر ہی سے واپس روانہ ہو گئیں۔واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاونڈز ریفرنس کا فیصلہ آج اڈیالہ جیل میں سنایا جانا تھا، جس کے لیے احتساب عدالت کے عملے نے بانی پی ٹی آئی کے وکلا کو باضابطہ طور پر آگاہ کردیا تھا۔ بانی پی ٹی آئی کے وکیل خالد یوسف چوہدری نے تصدیق کی تھی کہ احتساب عدالت اسلام آباد کے عملے نے باضابطہ طور پر آگاہ کردیا ہے کہ آج 190 ملین پاونڈ ریفرنس کا فیصلہ اڈیالہ جیل میں سنایا جائے گا۔
قبل ازیں احتساب عدالت نے 190 ملین پاو نڈز ریفرنس کا فیصلہ دو مرتبہ موخر کیا تھا، ٹرائل کی آخری سماعت گزشتہ سال 18 دسمبر کو اڈیالہ جیل میں ہوئی تھی۔ یہ فیصلہ آج بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی موجودگی میں سنایا جانا تھا، تاہم دونوں آج پیش نہیں ہوئے، جس پر عدالت نے فیصلہ آج تیسری بار بھی مو خر کردیا۔اس سے پہلے 23 دسمبر کو کیس کا فیصلہ سنائے جانے کی تاریخ مقرر کی گئی تھی، تاہم عدالت نے فیصلہ سنائے جانے کی تاریخ ملتوی کرکے 6 جنوری مقرر کی تھی اور اس کے بعد کیس کا فیصلہ سنانے کی تاریخ 13 جنوری مقرر کی گئی تھی۔190 ملین پاو نڈ ریفرنس کا جیل ٹرائل ایک سال میں مکمل ہوا، عمران خان کے خلاف یہ واحد کیس ہے جس کا ٹرائل ایک سال تک چلا۔ نیب نے 13 نومبر 2023 کوعمران خان کی گرفتاری ڈالی، 17 دن تک عمران خان سے اڈیالا جیل میں تفتیش کے بعد یکم دسمبر 2023 کو 190 ملین پاو ڈ ریفرنس احتساب عدالت میں دائرکیا۔عدالت نے 27 فروری 2024 کو عمران خان اور بشریٰ بی بی پر فرد جرم عائد کی، 190 ملین پاو نڈ ریفرنس میں آج35 گواہان کے بیانات قلمبند کیے گئے۔190 ملین پاو نڈ ریفرنس میں سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، سابق وزیراعلیٰ پرویزخٹک، سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال نے بھی بیان ریکارڈ کروایا۔
190 ملین پاو نڈ ریفرنس میں 4 مرتبہ جج تبدیل ہوئے، سماعت پہلے جج محمد بشیر نے کی پھر سماعت جج ناصر جاوید رانا نے کی اس کے بعد ریفرنس جج محمد علی وڑائچ اور پھر دوبارہ جج ناصرجاوید رانا کے پاس آیا۔
Blog
-

190 ملین پاو نڈز کیس کا فیصلہ 17 جنوری کو سنایا جائے گا .
-

2025 میں عالمی تجارتی جنگ کے خطرات
سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے دنیا آج جتنی عدم استحکام اور بے یقینی کا شکار ہے، شاید اس سے پہلے کبھی نہ رہی ہو۔ جغرافیائی سیاسی کشیدگی عروج پر ہے، یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ جنگ کے شعلوں کی لپیٹ میں ہیں اور بڑھتے ہوئے ماحولیاتی خطرات نے سال رواںکو مزید پریشان کْن بنا دیا ہے۔
گزشتہ چند سالوں سے عالمی آرڈر مسائل سے دوچار ہے۔ دوسری جانب کثیر قطبی دنیا کی جانب بڑھتے ہوئے جھکاؤ کی وجہ سے مغربی تسلط کم ہوتا جارہا ہے جبکہ کثیرالجہتی ادارے شدید دباؤ میں ہیں۔ طاقت کے عالمی توازن میں تبدیلیوں کے منظر نامے میں جغرافیائی سیاست کی تشکیل میں درمیانی طاقتیں اہم کردار ادا کریں گی۔
2025ء کا سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دوسرا دورِ حکومت، عالمی معاملات میں مزید عدم استحکام کا باعث بنے گا؟ ان کی اعلان کردہ پالیسیز تشویش ناک ہیں جو پہلے سے ہی مشکلات سے گھری دنیا کے حالات کو مزید بگاڑ دیں گی۔
جغرافیائی سیاسی سطح پر یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ ٹرمپ کی حکمرانی میں امریکا اپنے اتحادیوں، مخالفین اور حریفوں سے کیسے ڈیل کرتا ہے۔ سال2025 میں امریکا اور چین کے درمیان تعلقات کا مستقبل کیسا رہے گا، یہ بھی اسٹریٹجک اعتبار سے اہمیت کا حامل ہوگا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی غیرمتوقع شخصیت کے پیش نظر چین اور امریکا کے حوالے سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ کیا پتا وہ دونوں ممالک میں کشیدگی میں مزید اضافہ کردیں، یہ اب ان کے طرزِعمل پر منحصر ہے کہ وہ معاملات کو کس طرح سنبھالتے ہیں۔
امریکا کے ساتھ تجارتی سرپلس والے چین سمیت دیگر ممالک پر زیادہ محصولات عائد کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی پر بہت سے ماہرین اتفاق کرتے ہیں کہ 2025ء کے سب سے بڑے خطرات میں عالمی تجارتی جنگ بھی شامل ہوگی۔ لندن میں قائم رسک کنسلٹنسی فرم، کنٹرول رسکس نے پیش گوئی کی ہے کہ 2025ء ’قومی سلامتی کو بین الاقوامی تجارت اور سرمایہ کاری کے رہنما اصول کے طور پر قائم کرے گا‘۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تجارتی تحفظ پسندی میں واشنگٹن کس حد تک جائے گا، یہ چین امریکا تعلقات کے ساتھ ساتھ عالمی معیشت کے لیے بھی نتیجہ خیز ثابت ہوگا۔ تاہم بڑے تجارتی شراکت دار خاص طور پر چین پہلے ہی اس حوالے سے سرگرم ہیں کہ اپنی حکمت عملیوں کو ٹرمپ سے کیسے محفوظ بنایا جائے۔ دی اکانومسٹ نے اپنی سالانہ اشاعت ‘ میں نوٹ کیا ہے کہ چینی فرمز پہلے ہی تجارتی رکاوٹوں کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ گلوبل ساؤتھ میں نئی مارکیٹس تک رسائی حاصل کرنے کے لیے بیرون ملک خود کو وسعت دے رہی ہیں۔ بلیک راک کے ایک جائزے نے امریکا اور چین کے درمیان ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے فرق کو ایک بڑھتے ہوئے عالمی خطرے کے طور پر دیکھا گیا ہے۔
2025ء طے کرے گا کہ یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ کی جنگوں کے نتائج کیا ہوں گے۔ یوکرین کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پالیسیز میں تبدیلی کے بیانات پہلے ہی یورپی حکومتوں کو بیچین کررہے ہیں۔ وہ اکثر دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ یوکرین جنگ ’ایک دن میں‘ ختم کروا سکتے ہیں، توقع کی جارہی ہے کہ ٹرمپ یوکرین کو روس کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے مجبور کریں گے۔ اگرچہ انہوں نے مسئلہ حل کرنے کے لیے کوئی واضح منصوبہ پیش نہیں کیا ہے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کو ایسے مذاکرات سے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا جس سے روس کو فائدہ ہو اور یوکرین کو اپنی کچھ زمین سے دستبردار ہونا پڑے۔
ڈونلڈ ٹرمپ یہ بھی متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں اور غزہ میں جنگ بندی کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اس حوالے سے تفصیلات نہیں دیں لیکن گمان یہی ہوتا ہے کہ یہ جنگ بندی بھی اگر ہوگی تو وہ اسرائیل کی شرائط پر ہوگی۔ وہ کہہ چکے ہیں کہ امریکا کو شام میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے لیکن شام میں حکومت کی تبدیلی کے پیچیدہ علاقائی اثرات کے پیش نظر وہ کیسے امریکا کو اس معاملے سے دور رکھ پائیں گے، یہ دیکھنا اہم ہوگا۔
دنیا بھر میں جمہوریت کو چیلنجز کا سامنا رہے گا۔ گزشتہ چند سالوں میں جو رجحانات سامنے آئے ہیں وہ کسی صورت حوصلہ افزا نہیں۔ بہت سے ممالک میں سیاست زیادہ تقسیم کا شکار اور غیر مستحکم ہوتی جا رہی ہے۔ سیاست میں درمیانی راستے کی گنجائش ختم ہوتی جارہی ہے جبکہ سیاسی مرکز عالمی سطح پر کمزور ہوتا جارہا ہے۔ اس کا تعلق دائیں بازو کے پاپولزم کے عروج سے ہے جس کا اثر و رسوخ یورپ کے کئی حصوں میں بڑھ رہا ہے جبکہ یہ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔
دنیا کے تقریباً تمام خطوں میں جمہوریت کمزور ہوئی ہے۔ بہت سے بین الاقوامی تنظیموں نے بھی کمزور ہوتی جمہوریت کو اجاگر کیا ہے جبکہ جتنے زیادہ ممالک میں ’آمرانہ طرزِ حکمرانی‘ بڑھی گی اور جمہوری حقوق اور آزادی کم ہوگی، یہ مسئلہ بڑھتا جائے گا۔ عالمی تھنک ٹینکس جو جمہوریت کی صورت حال کا جائزہ لیتے ہیں، جمہوریت کے مستقبل کے حوالے سے مایوس ہیں۔ عوام کی توقعات سوشل میڈیا کی وجہ سے بڑھ چکی ہیں جبکہ سیاسی نظام ان معیارات اور توقعات پر پورا نہیں اتر پا رہے۔ عالمی خطرات کی پیش گوئی کرنے والی کچھ انٹیلی جنس کمپنیز نے کہا ہے کہ دنیا کے زیادہ تر خطوں میں بدامنی بڑھنے کے خدشات ہیں۔
2025 کا ایک اور سب سے بڑا چیلنج عالمی تجارتی جریدے گلوبل ٹریڈ ریویو کے مطابق ’گرے زون جارحیت پسندی‘ ہے۔ یہ ایسا خطرہ ہے جو بیان کرنا مشکل ہے لیکن اس کی تشخیص انتہائی ضروری ہے۔ اس میں غلط معلومات پھیلانے کی مہمات، سائبر حملے اور پراکسی وارز شامل ہیں۔ ایسے عوامل تنازعات اور امن کے وقت کے درمیان کی لکیر کو دھندلا دیتے ہیں۔
نئی طرز کی یہ جنگ دنیا بھر میں لڑی جارہی ہے جس کی وجہ سے ممالک اس سے مقابلے کے لیے تیار نہیں ہوتے نہ ان کے پاس نمٹنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ اس سے ’بلیک سوان‘ (غیرمتوقع) واقعات بڑھنے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں اور اچانک ہونے والی جغرافیائی سیاسی پیش رفت جن کے دور رس نتائج ہوتے ہیں، طاقت کے موجودہ توازن کو تبدیل کرسکتے ہیں اور اس سے نئے چیلنجز پیدا ہوسکتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ہونے والی ترقی پر بھی 2025ء میں نظر رکھنا ہوگی۔ کاروبار، دفاتر، انٹرٹینمنٹ، میڈیا، صحت عامہ اور ذاتی زندگیوں میں اے آئی ٹولز کا استعمال زیادہ عام ہوجائے گا۔ مصنوعی ذہانت پہلے ہی بہت سی تبدیلیاں لے کر آیا ہے۔ لیکن ٹیکنالوجی کی دنیا میں نئے چیلنجز جنم لیں گے جس میں سائبر سیکیورٹی کو بھی خطرات لاحق ہوں گے۔ ملٹری میں اے آئی کے استعمال سے بھی اضافی چیلنجز سر اٹھائیں گے۔
برطانوی تھنک ٹینک چیتھم ہاؤس کا خیال ہے کہ سال 2025ء میں اے آئی کی عالمی نگرانی پر زیادہ توجہ مرکوز کی جائے گی۔ اس نے فروری میں پیرس میں ہونے والی اے آئی ایکشن سربراہی اجلاس کی جانب اشارہ کیا ہے جس میں حکومتی نمائندگان، ٹیک کمپنیز، سائنسدان اور ماہرین شرکت کریں گے اور اے آئی کو ’عوام کے مفاد‘ کے مطابق لانے کے لیے بات چیت کریں گے۔ ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی ترقی نے مشکل سوالات اٹھائے ہیں کہ اس ترقی کے متاثر کْن اثرات اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والی کمزوریوں سے کیسے نمٹا جائے۔ جہاں ایک ڈیجیٹل دنیا چیلنجز لاتی ہے وہیں یہ معاشی اور سماجی شعبہ جات میں ترقی کے نئے مواقع بھی پیش کرتی ہے۔
2025ء اپنے ساتھ جغرافیائی تناؤ اور معاشی چیلنجز لے کر آئے گا جوکہ نہ صرف اقوام کے لیے کڑا امتحان ثابت ہوں گے بلکہ یہ بھی بتائیں گے کہ بین الاقوامی برادری مشترکہ مسائل کو حل کرنے کے لیے مل کر کیسے کام کرتے ہیں،ڈان نیوز کے شکریہ کے ساتھ شائع کیا گیا۔ -

گیس کی قیمتوں میں بھاری اِضافے کی منظوری مسترد
حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے قائم مقام صدر احمد ادریس چوہان نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگراٌکی جانب سے گیس کی قیمتوں میں بھاری اِضافے کی منظوری کو مسترد کرتے ہوئے اسے صنعتوں، خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) کے لیے مہلک قرار دیا ہے، یہ غیرمنصفانہ اِضافہ عوام اور صنعتوں پر اِضافی بوجھ ڈالے گا جو پہلے ہی بلند افراطِ زر اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ایک بیان میں احمد ادریس نے کہا کہ اوگرا کو گیس کی قیمتوں میں اِضافے کی تجویز دینے کے بجائے قیمتوں میں کمی کی تجویز پیش کرنی چاہیئے تھی۔ کیونکہ شرح سود میں کمی اور گیس کے نقصانات (یو ایف جی)میں کمی جیسے عوامل اِس بات کی حمایت کرتے ہیں۔ عام طور پر جب شرح سود میں اِضافہ ہوتا ہے تو گیس کے ٹیرف میں بھی اِضافہ کیا جاتا ہے۔ لیکن حالیہ شرح سود میں کمی کو گیس کے نرخوں کے تعین میں نظرانداز کیا گیا ہے جس سے اوگرا کی قیمتوں میں اِضافے کی تجویز حیران کن نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوگرا کی سفارش پر سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کے صارفین کے لیے گیس کی قیمت میں 25.78 فیصد اور سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کے صارفین کے لیے 8.71 فیصد اِضافہ کیا گیا ہے جو واضح طور پر سندھ اور بلوچستان کے صارفین پر پنجاب، خیبرپختونخوا اور اسلام آباد کے صارفین کو ترجیح دینے کا مظہر ہے۔ ادریس چوہان نے کہا ہے کہ آئین پاکستان کی اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبہ سندھ کو اپنے قدرتی وسائل پر پہلا حق حاصل ہے ۔ لیکن بدقسمتی سے سندھ اپنی ضرورت کے مطابق گیس سے محروم ہے۔ یہ آئین شکنی ہے اور اِس کے باعث سندھ کے صنعتی اور گھریلو صارفین کو اِضافی چارجز ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔ جبکہ اوگرا کے اعداد و شمار کے مطابق سندھ پاکستان کے تقریبا 70 فیصد قدرتی گیس کے ذخائر رکھتا ہے اور قومی پیداوار میں 63 فیصد حصہ بھی ڈالتا ہے۔ ادریس چوہان نے کہا کہ یہ فیصلہ نہ صرف صنعتوں کی پیداواری لاگت میں اِضافے کا باعث بنے گا بلکہ بہت سی صنعتوں اور کارخانوں کی بندش کا سبب بھی بنے گا۔ خاص طور پر ایس ایم ایز جو پہلے ہی مہنگائی اور بلند پیداواری لاگت کا شکار ہیں مزید نقصان اٹھائیں گے۔ اِس کے نتیجے میں بے روزگاری بڑھے گی اور برآمدات متاثر ہوں گی جو معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچائے گی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین دہائیوں سے حکومت نے گیس کے نئے ذخائر کی دریافت پر توجہ نہیں دی جس کے باعث گیس کا بحران بڑھ رہا ہے۔ اگر فوری اِقدامات نہ کیے گئے تو قیمتیں ناقابل برداشت ہو جائیں گی۔ حکومت کو چاہیئے کہ سندھ کو اِس کا حق دے اور ملکی وسائل کی دریافت کے لیے مثر پالیسی بنائے تاکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے۔ قائم مقام صدر چیمبر ادریس چوہان نے اِس بات پر زور دیا کہ حکومت کی جانب سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی ترقی کے لیے کیے گئے اقدامات جیسے کہ رعایتی قرضے اور صنعتی ترقی کے منصوبے اِس فیصلے سے متصادم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گیس کی قیمتوں میں اِضافے سے ایس ایم ایزکی مسابقتی صلاحیت ختم ہو جائے گی جو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم سے درخواست کی کہ اوگرا کو اپنی سفارشات پر نظر ثانی کرنے کی ہدایت دیں اور متبادل حل تلاش کرنے پر توجہ مرکوز کریں۔ انہوں نے حکومت سے یہ بھی کہا کہ وہ اِس بات کو یقینی بنائے کہ صنعتوں پر مزید بوجھ نہ پڑے۔ اگر ٹیرف میں اِضافہ ضروری ہو تو اس کا بوجھ دوسرے شعبوں پر منتقل کیا جائے نہ کہ ان صنعتوں پر جو پہلے ہی بلند گیس کے بلوں کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔ اِس کے ساتھ ایس ایم ایز کی ترقی کے لیے مثر اور عملی اقدامات کئے جائیں تاکہ ملکی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔
گیس لوڈشیڈنگ نے شہریوں کا جینا دوبھر کر دیا
وزیراعلی سندھ کے معاون خصوصی برائے خوراک و سابق ایم پی اے عبدالجبار خان نے کہا ہے کہ سوئی گیس کی لوڈشیڈنگ نے حیدرآباد سمیت سندھ بھر کے شہریوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے، سردی کے آغاز کے ساتھ ہی سوئی گیس کی طویل دورانیہ کی لوڈشیڈنگ کے باعث شہریوں کو روزمرہ کے کاموں کھانا پکانے کے لئے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سارا دن گیس نہیں آتی اور اگر گیس آتی ہے تو اس کا پریشر اتنا کم ہوتا ہے کہ نہ تو اس پر کھانا بن پاتا ہے، اس کے علاوہ بچے بھی صبح گھروں میں ناشتے سے محروم ہوجاتے ہیں، انہوں نے کہا کہ سندھ جوکہ سب سے زیادہ گیس پیدا کرتا ہے لیکن سندھ کے عوام کو گیس کی بنیادی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہے اور خاص طورپر صنعتی علاقوں میں بھی گیس کی شدید بحرانی کیفیت ہے جس کی وجہ سے صنعتیں بھی بحران کا شکار ہیں، کئی صنعتی اداروں میں کام نہ ہونے کے برابر ہے، شفٹیں کم کردی گئی ہیں جس کی وجہ سے بیروزگاری میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہی صورت حال رہی تو پھر مجبورا لوگ لکڑیوں پر کھانا پکانے لگیں گے جو اضافی بوجھ ہو گا، انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طورپر اس طرف توجہ دے اور حیدرآباد سمیت سندھ میں گیس کی قلت کا فوری خاتمہ کیا جائے۔ -

TIK TOKنے چینی بزنس مین کو امیر ترین شخص بنادیا
ٹک ٹاک کی بڑھتی ہوئی عالمی مقبولیت نے اس کی پیرنٹ کمپنی بائٹ ڈانس کے شریک بانی کو چین کا سب سے امیر شخص بنا دیا ۔ہورن ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی جانب سے تیار کی گئی امیر ترین افراد کی فہرست کے مطابق ژانگ ییمنگ کی دولت اب 49.3 ارب ڈالر ہے جو 2023 کے مقابلے میں 43 فیصد زیادہ ہے۔41 سالہ ژانگ ییمنگ نے 2021 میں کمپنی کے انچارج کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا لیکن سمجھا جاتا ہے کہ وہ کمپنی کے تقریبا 20 فیصد حصص کے مالک ہیں۔ٹک ٹاک دنیا کی مقبول ترین سوشل میڈیا ایپس میں سے ایک بن چکی ہے اس کے باوجود کہ کچھ ممالک میں چینی ریاست کے ساتھ اس کے تعلقات کے بارے میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔اگرچہ دونوں کمپنیوں کا اصرار ہے کہ وہ چینی حکومت سے آزاد ہیں لیکن امریکہ کا کہنا ہے کہ اگر بائٹ ڈانس اسے فروخت نہیں کرتا تو وہ جنوری 2025 میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد کر دے گا۔امریکہ میں شدید دباؤ کا سامنا کرنے کے باوجود بائٹ ڈانس کے عالمی منافع میں گذشتہ سال 60 فیصد اضافہ ہوا جس سے ژانگ ییمنگ کی ذاتی دولت میں بھی اضافہ ہوا۔ہورن کے سربراہ روپرٹ ہوگی ورف کا کہنا ہے کہ ژانگ ییمنگ صرف 26 سال چین کے ایسے 18ویں فرد ہیں جو نمبر ون بن گئے ہیں۔اس کے مقابلے میں امریکہ میں صرف چار افراد ہیں جو پہلے نمبر پر آئے وہ بل گیٹس، وارن بفیٹ، جیف بیزوس اور ایلون مسک ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ’اس سے پتا چلتا ہے کہ چینی معیشت کتنی متحرک ہے۔‘ژانگ اس فہرست میں چین کے ٹیک سیکٹر کے واحد نمائندے نہیں۔ ٹیکنالوجی گروپ ’ٹینسینٹ‘ کے سربراہ پونی ما 44.4 ارب پاؤنڈ کی ذاتی دولت کے ساتھ اس فہرست میں تیسرے نمبر پر ہیں۔درحقیقت فہرست میں شامل تقریباً 30 فیصد افراد کی مجموعی دولت میں اضافہ ہوا تھا جبکہ باقی میں کمی دیکھی گئی۔ہوگی ورف کا کہنا ہے کہ ’ہورون چائنا رچ لسٹ‘ مسلسل تیسرے سال غیر معمولی طور پر سکڑ گئی کیونکہ چین کی معیشت اورا سٹاک مارکیٹس کے لیے ایک مشکل سال تھا۔انھوں نے کہا کہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ یہ شاؤمی جیسے سمارٹ فون مینوفیکچررز کے لیے اچھا سال رہا ہے جبکہ گرین انرجی مارکیٹ میں گراوٹ دیکھا گیا۔انھوں نے کہا ’سولر پینل، لیتھیم بیٹری اور ای وی بنانے والوں کے لیے مشکل سال رہا کیونکہ مسابقت میں تیزی آئی اور محصولات کے خطرے نے غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کیا۔‘سولر پینل بنانے والوں کی دولت میں 2021 کے مقابلے میں 80 فیصد کمی دیکھی گئی جبکہ بیٹری اور ای وی بنانے والوں کی دولت میں بالترتیب نصف اور ایک چوتھائی کمی آئی۔ژانگ ٹیکنالوجی کی دنیا میں اپنے کریئر کے آغاز پر ناکامیوں کے باوجود ثابت قدم رہے۔ انھوں نے 2005 میں نانکائی یونیورسٹی سے گریجویشن کیا جہاں انھوں نے مائیکرو الیکٹرانکس کی تعلیم شروع کی تاہم بعد میں انھوں نے سافٹ ویئر انجینیئرنگ کو اپنا مضمون بنا لیا۔گریجویشن کے بعد ژانگ نے ایک ا سٹارٹ اپ میں ملازمت حاصل کی جہاں انھوں نے وہ مہارت حاصل کی جس کی مدد سے انھوں نے اپنی کمپنی کی بنیاد رکھی۔گلوبل لیڈرز نامی ویب سائٹ کے مطابق انھوں نے بتایا کہ ’میں نے کوکسون نامی کمپنی میں شمولیت اختیار کی اور میں اس کے اولین ملازمین میں سے ایک تھا۔ میں شروع میں ایک عام انجینیئر تھا لیکن دوسرے سال میں بیک اینڈ ٹیکنالوجی اور مصنوعات سے متعلق دیگر کاموں کے ذمہ دار تقریبا 40 سے 50 افراد کا انچارج تھا۔‘تیزی سے ترقی اور مہارت حاصل کرنے کی ان کی فطری صلاحیت نے انھیں دہائی کے ابھرتے ہوئے لیڈرز میں شامل کر دیا۔انھوں نے مزید کہا کہ ’آپ میں ذمہ داری کا احساس اور چیزوں کو اچھی طرح سے کرنے کی خواہش، آپ کو مزید چیزیں کرنے اور تجربہ حاصل کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔‘ایک انجینیئر ہوتے ہوئے ژانگ کا مسائل کو حل کرنے کے لیے وقف رویہ اور جوش آخر کار ان کے منصوبوں میں مددگار ثابت ہوا۔ژانگ نے یہی مہارت بعد میں اپنی کمپنی بائٹ ڈانس کو بڑھانے کے لیے استعمال کی۔کوکسون کے بعد ژانگ نے مختصر عرصے کے لیے مائیکروسافٹ میں شمولیت اختیار کی۔ یہ ہ وقت تھا جس نے ان میں مزید آزادی اور تخلیقی صلاحیتں نکھارنے کا جذبہ پیدا کیا اور وہ دوبارہ ا سٹارٹ اپ کی دنیا میں لوٹ گئے۔سنہ 2009 میں ژانگ نے اپنا پہلا کاروبار شروع کیا ایک پراپرٹی سرچ سائٹ شروع کی لیکن انھوں نے تین سال بعد یہ کاروبار چھوڑ دیا لیکن یہ کمپنی بنانے سے ژانگ میں انٹرپرینیورشپ کا جذبہ پیدا ہوا۔سنہ 2012 میں انھوں نے بیجنگ میں واقع ایک کاروبار بائٹ ڈانس کی بنیاد رکھی جو خبریں جمع کرنے کی خدمات فراہم کرتا ہے۔ژانگ کا ارداہ تھا کہ وہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے صارفین کو متعلقہ مواد پہنچانے کے لیے تجاویز دیں اور یہی خیال بالآخر بائٹ ڈانس کی تخلیق کا باعث بنا۔اس کمپنی کا آغاز انھوں نے بیجنگ کے ایک چار بیڈروم والے اپارٹمنٹ سے کیا۔ ان کی ٹیم یہاں رہتی بھی تھیں اور کام بھی کرتی تھی۔انھوں نے گلوبل لیڈز کو بتایا کہ ’ہمارے خیالات بہت بڑے تھے۔ ہم ایک چھوٹے سے اپارٹمنٹ میں گلوبلائزیشن کے بارے میں بات کر سکتے ہیں۔‘انھوں نے کمپنی کے لیے جو مستقبل سوچا وہ چین تک محدود نہیں تھا۔ انھوں نے کمپنی کو دنیا بھر میں پھیلانے کا منصوبہ بنایا تاہم زیادہ تر سرمایہ کار ان کے خیال سے متاثر نہیں تھے۔بہت کوشش کے بعد بھی وہ فنڈز حاصل کرنے میں ناکام رہے لیکن پھر سیسکویہنا انٹرنیشنل گروپ منصوبے کی صلاحیت بھانپتے ہوئے اس سٹارٹ اپ میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار ہو گیا۔ اس کے بعد ترقی کرتے ہوئے وہ موجودہ مقام تک پہنچ گئے۔
-

آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے ہر میدان میں ٹیکنالوجی کا انقلاب
ٹیکنالوجی ماہرین نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلیجنس)ہر میدان میں ٹیکنالوجی کا انقلاب لاتے ہوئے مستقبل کے کاروباری ماڈلز، صنعت کے مقابلے، اور سرکاری و نجی تنظیموں کو منظم اور تبدیل کرے گی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز جیسے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کلا ڈ کمپیوٹنگ، اور بگ ڈیٹا تیزی سے ٹیکنالوجی کے منظرنامے کو تبدیل کر رہی ہیں، جبکہ روایتی صنعت کار آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے کم لاگت کے طریقے اور محدود بجٹ میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر مبنی سافٹ ویئر کی مدد سے کام کرنے جیسے بے شمار فوائد دیکھ کر حیرت زدہ ہیں۔مغرب میں، انٹیلیجنس سافٹ ویئر پہلے سے ہی استعمال ہو رہا تھا، لیکن اسے تیزی سے آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر مبنی سافٹ ویئر سے تبدیل کیا جا رہا ہے، جو تمام اقسام کی تنظیموں، چاہے سرکاری ہوں یا نجی، چھوٹی ہوں یا بڑی، کے لیے بے شمار فوائد فراہم کرتا ہے۔جرمنی سے کراچی آئے ہوئے نوجوان ڈیٹا اینالسٹ بلال احمدصدیقی کامیڈیا سے گفتگو میں کہنا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر مبنی پروگرام صنعت سے صنعت، تنظیم سے تنظیم اور فیلڈ سے فیلڈ میں مختلف ہوتے ہیں،مثلا آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر مبنی سافٹ ویئر کسی منصوبے کے لیے بجٹ اور لاگت کے حوالے سے درست اعداد و شمار اکٹھا کرنے میں مدد فراہم کرسکتا ہے، جبکہ سرکاری تنظیموں میں خراب گورننس یا کرپشن کو کنٹرول کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ بلال احمدصدیقی نے کہا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس ہماری صنعت میں انقلاب لانے کے لیے تیار ہے،بگ ڈیٹا بھی درست معلومات نکالنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی قدر ناقابل انکار ہے، حال ہی میں یورپ کے ایک کلائنٹ نے لاجسٹکس سافٹ ویئر تیار کرایا ہے، وہاں کی حکومت اب اس سافٹ ویئر میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی صلاحیتوں کو شامل کرنے کے لیے گرانٹ فراہم کر رہی ہے، جو لاجسٹکس کو مزید بہتر بنانے اور اقتصادی ترقی کو بڑھانے کی صلاحیت کو تسلیم کرتی ہے۔ یہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی تبدیلی کی طاقت اور صنعتوں کو نئے سرے سے تشکیل دینے کی صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔ دوسری جانب یہ سافٹ ویئر زراعت کے شعبے میں مٹی کی جانچ کو یقینی بنا سکتا ہے، صحت کے شعبے میں تمام مریضوں کے الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈ (ای ایم آر) کو برقرار رکھ سکتا ہے، ہوٹل انڈسٹری میں کھانے کے ضیاع کو کم کرسکتا ہے اور ڈیلیوری مینجمنٹ کو یقینی بنا سکتا ہے، اور مینوفیکچرنگ کے شعبے میں وسائل کے استعمال کو بہتر بنا سکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ کسی بھی کمپنی یا تنظیم کے لیے پرانا ڈیٹا آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر مبنی پروگرام بنانے میں بہت اہم ہے۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا استعمال کرنا بہت آسان ہے، اور قریب مستقبل میں دنیا بھر میں ہر چیز آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر انحصار کرے گی۔
انہوں ںے کہا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی وسیع رسائی اور استعمال سے صنعتوں میں ایک انقلاب آنے والا ہے، جیسے ماضی میں سیٹلائٹ ٹیلی ویژن، کمپیوٹرز، انٹرنیٹ اور اسمارٹ فونز نے تبدیلی لائی تھی، آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا بڑا ڈیٹا پروسیس کرنے اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت کاروباروں کو تیز، ذہین فیصلے کرنے، اپنے آپریشنز کو بہتر بنانے اور نئے ترقیاتی مواقع دریافت کرنے کے قابل بنائے گی، کلا ڈ کمپیوٹنگ نئی کمپنیوں اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کو بغیر زیادہ انفراسٹرکچر کے اخراجات کے اپنے آپریشنز کو بڑھانے کے قابل بنا رہی ہے، آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر مبنی بصیرتیں کاروباروں کو تیزی سے نئے ماڈلز کے ساتھ تجربہ کرنے اور ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں داخل ہونے کے قابل بناتی ہیں،انٹرپرینیورز اور پروڈکٹ ڈیولپمنٹ ٹیموں کے لیے یہ ٹیکنالوجی تبدیلی لانے والی ہے۔ نئے پروڈکٹس بنانے اور ان کی جانچ کے لیے درکار وسائل اور وقت میں نمایاں کمی واقع ہو رہی ہے۔ -

جیل میں عمران خان سے ملاقات کا دن، آج کوئی بھی ملنے نہ آیا
راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے آج ملاقات کا دن تھا تاہم کوئی بھی ان سے ملنے نہ آیاعمران خان سے ملاقات کا دن ہونےکے باوجودکوئی رہنما، وکیل اور فیملی ممبر اڈیالہ جیل میں ملاقات کے لیے نہ پہنچا۔مذاکراتی کمیٹی کا کوئی رکن بھی اڈیالہ جیل ملاقات کےلیے نہ پہنچا۔ وکیل فیصل چوہدری کے مطابق مذاکراتی کمیٹی کو ملاقات کی اجازت تاحال نہیں ملی ہے۔جیل ذرائع کے مطابق منگل اور جمعرات بانی پی ٹی آئی سے معمول کی ملاقات کا دن مقرر ہے۔ جیل مینوئل کے مطابق آج ملاقاتوں کا وقت بھی ختم ہوگیا ہے تاہم ملاقات کی اجازت ملنے یا نہ ملنے کے باوجود پارٹی رہنما اور وکلا اڈیالہ جیل پہنچتے ہیں۔
-

زیادہ ٹیکسز پاکستان کو نہیں چلنے دیں گے، وزیراعظم
کراچی:وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ زیادہ ٹیکس پاکستان کو نہیں چلنے دیں گے تاہم ہمیں آئی ایم ایف سے کیے گئے معاہدے پورے کرنے ہیں اور وقت آنے پر آئی ایم ایف کو خیرباد کہیں گے۔پاکستان اسٹاک ایکس چینج کراچی میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پہلی بار اسٹاک مارکیٹ کا دورہ کرنے پر خوشی ہوئی ہماری کامیابیاں ٹیم ورک کا نتیجہ ہیں ہمیں اب معاشی نمو کی جانب بڑھنا ہے، اسٹاک مارکیٹ کی تیزی کو اب معیشت کی بہتری کے لیے استعمال کرنا ہے، ماضی میں بھی بڑے خوش نما پروگرام دیکھے اور سنے ہیں۔انہوں ںے کہا کہ زیادہ ٹیکس پاکستان کو نہیں چلنے دیں گے، ہمیں آئی ایم ایف سے کیے گئے معاہدے پورے کرنے ہیں تاہم وقت آنے پر آئی ایم ایف کو خیرباد کہیں گے۔انہوں ںے کہا کہ ایک زمانے میں کراچی کی روشنیاں ختم ہوگئی تھیں مگر اب کراچی میں دوبارہ روشنیاں آچکی ہیں کراچی ہمارا تجارتی، فنانشل اور ایکسپورٹس کا مرکز ہے، اب ہم اڑان پاکستان کے ذریعے ملکی معیشت کو مزید اوپر لے کر جائیں گے۔قبل ازیں گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری اور وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے پی اے ایف بیس فیصل کراچی میں وزیراعظم کا استقبال کیا۔نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر خزانہ اورنگزیب، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیر مملکت علی پرویز ملک بھی ان کے ہمراہ پہنچے۔وزیراعظم پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے بعد کے پی ٹی اور آغا خان یونیورسٹی میں ہونے والی تقاریب میں شرکت کریں گے۔سرکاری ذرائع کے مطابق امکان ہے کہ وزیراعظم سے بزنس کمیونٹی اور دیگر وفود ملاقاتیں بھی کریں گے۔
-

چین کی سرزمین پر ایک پاکستانی لڑکی
ارم زہرا کون ہیں؟
ارم زہرا کراچی کی ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں، انھوں نے کراچی یونیورسٹی سے ماسٹرز کیا ا ور روزنامہ “قومی اخبار” اور “دھوم چینل” میں خدمات انجام دیں۔ نثر نگاری میں نام پیدا کرنے کے بعد جب شاعری کی طرف رجوع کیا تو وہ کراچی کے مشاعروں کی ایک اہم ضرورت بن گئیں۔ حساس دل کی مالک ہونے کی وجہ سے انہوں نے انسانی جذبوں سے لبریز ایسی شاعری کی جو جلد ہی ادبی اور عوامی حلقوں میں مقبول ہو گئی۔ ہر مشاعرے میں ان کی پراثر شاعری کے لیے واہ واہ کی صدائیں گونجتیں۔ بھرپور عوامی پذیرائی نے ان کے حوصلے کو بلند کیا اور انہوں نے پانچ کتابیں لکھ ڈالیں، جن میں دو مجموعہ کلام *”اف اللہ”* اور *”دل کی مسند”* شامل ہیں۔شہرِ کراچی کے حوالے سے ان کی تخلیقات میں “میرے شہر کی کہانی” جیسا اہم ادبی کام شامل ہے، جب کہ ان کا ناول *”چاند میرا منتظر”* اور افسانوی مجموعہ *”آدھ کھلا دریچہ”* بھی قارئین میں خاصا مقبول ہوا۔ ارم زہرا ان دنوں چین میں مقیم ہیں اور اب *”کنزیومر واچ”* کے لیے ہفتہ وار کالم لکھیں گی، جو بنیادی طور پر ایک سفرنامہ ہےکراچی ایئرپورٹ کی چمکتی دمکتی روشنیوں میں ایسا جادو ہے جو نہ صرف مسافروں کے قدموں کو نئی راہوں پر لے جانے کی دعوت دیتا ہے بلکہ دلوں میں ان کہی کہانیاں بنا دیتا ہے ۔ یہ وہی لمحہ تھا جب میں اور میرے شریک حیات ، ایک نئے سفر کی شروعات کرنے جا رہے تھے۔ ہماری منزل وہ دیس ہے جسے دنیا “چین ” کے نام سے جانتی ہے جہاں قدیم تہذیب کی خوشبو اور جدیدیت کی روشنی قدم , قدم پر محسوس ہوتی ہے چین کا نام سنتے ہی ہمیشہ میرے ذہن میں رنگ برنگی تصاویر ابھرتی تھیں پرانے بادشاہوں کے محلات، اونچی دیواریں، جدید ترین ٹیکنالوجی , قدیم دیوار چین کی بلندیاں، بلند و بالا پہاڑوں کا سلسلہ, آبشاریں جہاں قدرت اپنے جوبن پر نظر آتی ہے . میری ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ ایک دن میں اس سرزمین کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھوں گی نا کہ ٹک ٹاک کی ریلیز پہ ….. اور جب یہ موقع آیا، تو میں نے اسے دل سے خوش آمدید کہا .کراچی ایئرپورٹ پر مسافروں کی جلد بازی کے ساتھ جذبات کا سمندر نظر آرہا تھا ۔ جہاں والدین کے آنسو، بچوں کی ہنسی، اور دوستوں کی دعائیں اپنے پیاروں کو رخصت کر رہی تھیں ، وہیں میں نے بھی اپنی بہنوں سے وداع لیا ۔ سب کچھ ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے کوئی فلم چل رہی ہو۔ اور اس فلم کے مرکزی کردار ہم ہوں …. جہاز نے آہستہ , آہستہ رن وے پر حرکت کی، اور میں نے مسکراتے ہوئے کھڑکی سے نیچے دیکھا۔ کھڑکی والی سیٹ پر میں ہمیشہ ہی قبضہ کر لیتی ہوں. شریک حیات بھی بخوبی جانتے ہیں جب میں معصومیت سے ہمیشہ وہی وعدہ دہراتی ہوں جو کبھی نبھانے کا ارادہ نہیں ہوتا ” واپسی پر آپ کی باری ! جیسے ہی جہاز نے فضا میں بلند ہونا شروع کیا، میں نے سفری دعائیں پڑھیں اور انہی دعاوں کے حصار میں تصوراتی خیالی دنیا میں حقیقت کے رنگ بھرنے لگی…. رات کے اندھیرے میں جہاز کی روشنیوں کا منظر، اور نیچے زمین پر بکھری روشنیوں کی قطاریں، سب کچھ کسی خوبصورت شاعری کا حصہ لگ رہا تھا۔ میں نے اپنے شریک حیات کی طرف دیکھا، جن کی آنکھوں میں مستقبل کے روشن امکانات نمایاں تھے .کراچی سے
بیجنگ کا سفر طویل مگر آرام دہ تھا۔ جیسے ہی جہاز بیجنگ کے قریب پہنچا، دنیا بدل چکی تھی۔ کھڑکی سے نظر آنے والے مناظر کسی اور ہی دنیا کی کہانی سنا رہے تھے۔ قدیم عمارتیں، جدید اسکائی اسکریپرز، اور ان کے درمیان پھیلے باغات۔ یہ شہر ایک عجیب امتزاج تھا، جہاں تاریخ اور جدیدیت نے ایک دوسرے کو گلے لگایا ہوا تھا۔بیجنگ ایئرپورٹ پر اترتے ہی سرد ہوا نے ہمارا استقبال کیا۔ یہاں تو ہوا بھی لگتا ہے ویزہ لے کر آتی ہے ۔ میں نے صاف ستھری ہوا میں ایک طویل سانس لیتے ہوئے سوچا۔ ایئرپورٹ کی وسیع و عریض عمارتیں دیکھ کر دل میں ایک عجیب سی حیرت جاگی۔ چین واقعی وہ ملک ہے جہاں مستقبل کا ہر خواب حقیقت کا روپ دھار سکتا ہے۔۔ بیجنگ ایئرپورٹ، جو اپنی وسعت اور خوبصورتی کے لیے مشہور ہے، واقعی کسی شاہکار سے کم نہیں تھا۔ ایئرپورٹ پر موجود ہر چیز نہایت منظم اور جدید تھی۔ ۔بیجنگ ایئرپورٹ پر قدم رکھتے ہی ایسا محسوس ہوا جیسے ہم مستقبل کی کسی دنیا میں آ پہنچے ہوں۔ یہ صرف ایک ایئرپورٹ نہیں، بلکہ ٹیکنالوجی کا ایسا شاہکار ہے جہاں ہر چیز اپنی جگہ خودکار اور بے مثال ہے۔داخلے سے لے کر سامان کی ترسیل تک، ہر قدم پر جدت کے مظاہر دیکھنے کو ملے۔ روبوٹ گائیڈز خاموشی سے مسافروں کی مدد کرتے نظر آتے ہیں، اپنے روشن اسکرینوں پر نقشے اور راستے دکھاتے ہوئے، جیسے وہ انسانوں کی جگہ لینے کے لیے ہی بنائے گئے ہوں۔ چیک ان کا نظام مکمل طور پر خودکار تھا، جہاں صرف ایک بارکوڈ اسکین کروا کر آپ کی تمام معلومات کمپیوٹر کے سامنے موجود ہوتی ہیں۔ نہ کوئی قطار، نہ کوئی پیچیدگی بس ایک اسکرین کے سامنے کھڑے ہو جائیں اور باقی کام مشین خود کر لیگی. پھر سیکورٹی چیک کا مرحلہ آیا، جہاں نہ صرف جدید اسکینرز بلکہ مصنوعی ذہانت کے حامل روبوٹ بھی کام کر رہے تھے۔ چہرے کی شناخت کا نظام اتنا تیز تھا کہ پلک جھپکنے میں ہی آپ کی شناخت مکمل ہو جاتی ہے ایئرپورٹ کے اندرونی نظام کا ہر حصہ اتنا مربوط اور منظم تھا کہ ہر کام اپنی جگہ بالکل درست انداز میں انجام پا رہا تھا۔ ایک لمحے کے لیے ایسا لگا کہ ہم ایک ایسی دنیا میں ہیں جہاں ماضی کی مشکلات کو مستقبل کی آسانیوں نے بدل دیا ہو۔یہاں ہمارا تین گھنٹے کا قیام تھا اس لئے اب بھوک کا احساس بھی شدت اختیار کر گیا … جہاز میں حلال کھانے کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہم نے سفر کے دوران صرف فروٹس پر گزارا کیا تھا۔ وہ سیب اور ڈرائی فروٹس جو جہاز کے عملے نے ہمیں بڑی محبت سے دیے تھے، کسی شاہی ضیافت سے کم نہ لگے۔ لیکن بیجنگ کے سرد موسم میں، یہ پھل کافی نہیں تھے۔ دل چاہ رہا تھا کہ کچھ گرم اور خوشبودار مل جائے، جو نہ صرف جسم کو بلکہ روح کو بھی سکون دے۔ہماری نظریں اسٹار بکس پر جا ٹھہریں۔ وہاں پہنچتے ہی کافی کی خوشبو نے ہمیں جکڑ لیا۔ ہم نے “کیپو چینو” کا آرڈر دیا اور جب کافی کا پہلا گھونٹ لیا تو ایسا لگا جیسے زندگی دوبارہ شروع ہو گئی ہو۔ گرم، کریمی، اور چاکلیٹ کے ہلکے ذائقے کے ساتھ یہ کافی، سردی اور تھکن دونوں کے لیے بہترین علاج تھی.”بیجنگ ایئرپورٹ پر قیام مختصر تھا، لیکن اس دوران میں نے محسوس کیا کہ یہ ملک واقعی ترقی کی ایک مثال ہے۔ میری اگلی پرواز وینزو کے لیے تھی، اور میرے دل میں تجسس مزید بڑھ رہا تھا۔ میں سوچ رہی تھی کہ وینزو، جو اپنی کاروباری ذہانت اور قدیم روایات کے لیے مشہور ہے، دیکھتے ہیں مجھے کیا حیرتیں دکھائے گا … ؟”رات کا دوسرا پہر تھا، جب طیارے کی کھڑکی سے جھانکتے ہوئے مجھے وینزو کے جگمگاتے چراغ نظر آئے۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے کسی نے زمین پر ستارے بکھیر دیے ہوں۔ میں نے اپنے دل کو تیز دھڑکتا محسوس کیاایک نئی سرزمین، ایک نیا شہر، اور ایک نئی کہانی میرا انتظار کر رہی ہے , ہوا میں ایک عجیب سی خوشبو تھی، مجھے اپنے ارد گرد کسی قدیم روایت کی بازگشت محسوس ہورہی تھی.”میں نے اپنی یادداشت کی ڈائری میں لکھا : چین کے شہر وینزو کا سفر صرف راستوں کی کہانی نہیں ہوگا، بلکہ یہ وقت کے پردے میں چھپے ہوئے خوابوں کی تلاش کا سفر ہوگا۔”جیسے ہی طیارہ زمین پر اترا، میں نے اپنی گھڑی پر وقت دیکھارات کے تین بج رہے تھے، لیکن وینزو کے ایئرپورٹ پر زندگی جاگ رہی تھی۔ یہ شہر شاید کبھی سوتا ہی نہیں۔ میرے ارد گرد اجنبی زبانوں کی سرگوشیاں، مختلف ثقافتوں کی جھلکیاں اور ایک خاص قسم کا سکون تھا، جو کسی نئی جگہ پر پہنچنے پر ہی محسوس ہوتا ہے۔””ایئرپورٹ سے باہر نکلتے ہی ٹھنڈی ہوا نے ہمارا استقبال کیا۔( جاری ہے) -

بجلی کے نرخوں میں کمی کے لیے اقدامات تیز کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے بجلی کے نرخوں میں کمی کے لیے اقدامات تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے وزارت توانائی کی جانب سے مختلف آپشنز پر کام جاری ہے۔وزارت توانائی حکام کے ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر 5 آئی پی پیز سے معاہدے ختم کیے جا چکے ہیں، پانچ معاہدوں کے خاتمہ سے مجموعی طورپر 411 ارب روپے کی بچت ہوگی، پانچوں معاہدوں کے خاتمے سے سالانہ بچت 70 ارب روپے بنتی ہے، بگاس کے 8 پاورپلانٹس کا ٹیرف تبدیل کیے جانے سے بھی اربوں کی بچت کا تخمینہ ہے۔ذرائع مطابق بگاس کے 8 پاور پلانٹس کے ریٹ تبدیلی سے 238 ارب روپے کی بچت ہوگی، بگاس پاور پلانٹس کے ٹیرف تبدیلی کی سالانہ 8 ارب 83 کروڑ روپے بنتی ہے، 16 آئی پی پیز سے نظر ثانی شدہ معاہدوں سے 481 ارب روپے کا فائدہ ہوگا، معاہدوں کے خاتمے یا ان میں تبدیلی کا فائدہ صارفین تک پہنچایا جائے گا، بجلی بلوں پر ٹیکسز کا بوجھ کم کرنےکی بھی تجویز بھی زیر غور ہیں۔
-

تبت میں زلزلہ،95افراد ہلاک،62 زخمی
تبت کے دوسرے سب سے بڑے اور مقدس سمجھے جانے والے شہر شگاتسے کے قریب طاقتور زلزلے کے جھٹکوں سے کم از کم95افراد کی ہلاکت اور 62 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو گئی جب کہ نیپال میں بھی سیکڑوں کلومیٹر دور زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق زلزلے کی شدت کے حوالے سے چینی اور امریکی مانیٹرنگ گروپس نے معلومات فراہم کیں۔چین کے زلزلہ نیٹ ورکس سینٹر کے مطابق زلزلہ منگل کو مقامی وقت کے مطابق صبح 9 بج کر 5 منٹ پر آیا، اس کی گہرائی 10 کلومیٹر (6.2 میل) اور شدت 6.8 ریکارڈ کی گئی، جب کہ امریکا کے جیولوجیکل سروے نے زلزلے کی شدت 7.1 رپورٹ کی۔رپورٹ کے مطابق 6.8 شدت کا زلزلہ طاقتور اور شدید نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے، ایک سے زیادہ آفٹر شاکس بھی رپورٹ کیے گئے جن میں سب سے زور دار جھٹکے 4.4 شدت کے تھے۔چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ڑنہوا نے اطلاع دی کہ شہر کے آس پاس کے تین علاقوں میں 9 افراد ہلاک ہوئے، اس کے علاوہ کئی عمارتیں منہدم ہو گئیں اور مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔الجزیرہ کی رپورٹر نے بیجنگ سے رپورٹنگ کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ علاقوں سے آنے والی تصاویر میں کئی عمارتیں اور مکانات منہدم دکھائی دے رہے ہیں۔رپورٹر نے بتایا کہ زلزلے کے شکار علاقے دور دراز پہاڑی دیہات ہیں جہاں رسائی مشکل ہے اور اب موسم سرما کے دوران وہاں تک پہنچنا مزید مشکل ہے، علاقے میں شدید سردی ہے اور یہاں سے کوئی بھی بڑا شہر قریب نہیں ہے۔نرطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے چین کے سرکاری میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ زلزلے کے جھٹکوں سے کم از کم 95افراد کی ہلاکت اور 62 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو گئی ہے۔زلزلے کے جھٹکے تبت کے پڑوس میں واقع ملک نیپال اور بھارت کے کچھ حصوں میں بھی محسوس کیے گئے۔رپورٹ کے مطابق اس خطے میں زلزلے عام ہیں جو کہ فالٹ لائن پر واقع ہے۔شگاتسے کو تبت کے مقدس ترین شہروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، یہ بدھ مت کی ایک اہم شخصیت پنچن لامہ کی روایتی نشست ہے جنہیں دلائی لامہ کے بعد دوسرے نمبر کی روحانی شخصیت قرار دیا جاتا ہے۔