Blog

  • اگلے چند ماہ میں بجلی کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئے گی،وزیراعظم

    اگلے چند ماہ میں بجلی کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئے گی،وزیراعظم

    اسلام آباد :وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے اگلے چند ماہ میں بجلی کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئے گی۔اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کہنا تھا امید ہے آج شرح سود میں مزید کمی ہو گی، بس چلے تو ٹیکس کی شرح 15 فیصد کم کر دوں مگر آئی ایم ایف کی وجہ سے مجبوری ہے۔ان کا کہنا تھا بجلی سستی ہونے تک ترقی نہیں ہو سکتی، بجلی کی قیمت کم کرنے کے لیے دن رات کام کررہے ہیں، اگلے چند ماہ میں بجلی کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئے گی۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اخراجات کم کر رہے ہیں، پی ڈبلیو ڈی کرپشن کا منبع تھا جسے بند کر دیا ہے، قومی ایئر لائن کو شفاف نیلامی کے عمل سے نجی شعبےکو دیں گے، پاکستان کے نجی شعبےکے پاس یہ استعداد ہےکہ وہ قومی ائیر لائن کو خریدیں۔انہوں نے کہا یقین دلاتا ہوں کہ حکومت سرمایہ کاری میں رکاوٹوں کو دور کررہی ہے، ملکی برآمدات اور ترسیلات زر میں اضافہ ہو رہا ہے، پاکستان کو جلد اپنے پیروں پر کھڑا کریں گے۔

  • دریائے سندھ کی نایاب نابینا ڈولفن کی نسل خطرات سے دوچار

    دریائے سندھ کی نایاب نابینا ڈولفن کی نسل خطرات سے دوچار

    ( خصوصی رپورٹ)

    طویل رقبے پر پھیلے دریائے سندھ میں پائی جانے والی اندھی ڈولفن کا شماردنیا کے نادرونایاب ترین ممالیہ(دودھ پلانے والی آبی حیات)میں ہوتا ہے، مگر بڑھتی ہوئی آلودگی اور دیگر وجوہات کی بنا پر انڈس ڈولفن کی نسل خطرات سے دوچار ہے۔ ڈولفنزعموما سمندرکے کھارے پانی میں پائی جاتی ہیں،مگرکرہ ارض پرصاف پانی،دریاوں اورپانی کے مستقل ذخائرمیں بھی دریائی ڈولفنزموجود ہیں،جو اپنی جسمانی ساخت،رنگ اور دیگر عوامل کے سبب ایک دوسرے سے مختلف ہیں،ان میں صرف ایک قدرمشترک ہے کہ ان کے مسکن میٹھے پانی کے دریا ہیں۔پاکستان کے دریائے سندھ میں پائی جانیوالی ڈولفن بھی دنیا کے دیگرممالک میں پائی جانے والی ڈولفنزسے بالکل الگ تھلگ نسل ہے،انفرادیت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ مکمل طور پر اندھی ہے،آنکھوں کے حلقے ہونے کے باوجود اس میں روشنی نہیں ہے اور یہ بینائی سے مکمل طورپرمحروم ہے،مگراندھی ہونے کے باوجود دریائے سندھ کی ڈولفن بلا کی حس رکھتی ہے،یہ ہلکے سے کھٹکے پربھی خطرے کو بھانپ لیتی ہے۔پرسکون اور پرامن ماحول کے دوران دریاکے پانی میں اچھل کود اور غوطہ دیکھنے والے کے لیے ایک دلفریب نظارہ ہوتا ہے، دنیا کے دیگر ممالک میں دریائی ڈولفن کا مسکن بھارت کی گنگاندی، ایمیزون ندی، چین کے دریا ینگٹزاوربرازیل کے قرب میں واقع بولوین ندی بھی ہے۔ڈبلیو ڈبلیوایف کے مطابق سن 1992میں انڈس ڈولفنز کی تعداد 500کے لگ بھگ تھی،تاہم گزرتے وقت کے ساتھ یہ تعداد ابتدا میں 1200سے1500جبکہ بعدازاں سن 2017میں کیے گئے سروے کے مطابق یہ تعداد 2ہزارکے لگ بھگ ہے۔انسانی عمل دخل کی وجہ سے انڈس ڈولفن کا 80فیصد مسکن تباہی سے دوچارہوچکا ہے،اس نوع کی آبادی کو مختلف خطرات کا سامنا ہے،جن میں ماہی گیری کے جالوں میں الجھنا،آبی آلودگی،غیرقانونی شکار،آبپاشی کی نہروں میں ڈولفن کا پھنس جانا شامل ہیں، سندھ میں پائی جانے والی ڈولفن کو سندھی زبان میں اندھی بلہن کہا جاتا ہے۔بین الاقوامی تنظیم انٹرنینشل یونین فار کنزرویشن آف نیچر(آئی یو سی این)نے اس صاف پانی کی ممالیہ جانور کوخطرے سے دوچار انواع کی ریڈ لسٹ میں شامل کررکھا ہے، ماہرین کے مطابق پیدائشی طور پر پاکستان میں پائی جانے والی ڈولفن کبھی بصارت رکھتی ہوگی، تاہم دریاوں میں بڑھتی آلودگی اور مسلسل گدلے پانی میں رہنے کی وجہ سے یہ نسل بتدریج بینائی سے محروم ہوئی۔سمندری ڈولفن کے مقابلے میں اس کی تھوتھنی لمبی اور کسی آرے سے مشابہہ ہوتی ہے، جس میں دونوں جانب بہت چھوٹے چھوٹے دانت ہوتے ہیں، اندھی ڈولفن نابینا ہونے کے باوجود روشنی اور اندھیرے میں فرق کر سکتی ہیں،اس کا رنگ بھورا ہوتا ہے جبکہ جسم کا وسط کالے سے بھورا نما ہوتا ہے۔مچھلی کے شکار کے لیے زرعی ادویات کے استعمال جیسے اقدامات سے انڈس ڈولفن کی نشو نما متاثر ہو رہی ہے،پانی میں بڑھتی ہوئی آلودگی بھی انڈس ڈولفن کی اموات کی ایک بڑی وجہ ہے،دریائے سندھ کے قرب وجوار کے کھیتی باڑی والے علاقوں میں زراعت کے لیے کھاد اور زرعی ادویات کے استعمال اورکیڑے مکوڑوں کے لیے جراثیم کش زہریلے کیمیکل بھی دریا کے پانی میں شامل ہوجر ڈولفن کے اموات کا سبب بنتے ہیں۔ماضی میں انسانی سہولیات کے لیے بننے ڈیموں اوربیراجوں کی تعمیرنے اس آبی حیات کی آبادی کوتقسیم کرکیان کے قدرتی مسکن کوشدید متاثرکیا،جس کی وجہ سے قدرتی طور پراندھی ڈولفن کی نقل وحرکت انتہائی محدود ہوگئی۔ دریائے سندھ کی اندھی ڈولفن کوماہی گیری کے جالوں سے بھی شدید خطرات ہے،کیونکہ اس کی لمبی تھوتھنی اس وقت جال میں پھنس جاتی ہیجب یہ جال میں پھنسی مچھلی کی بو پاکر اس کو کھانے کے لیے لپکتی ہے،ڈبلیوڈبلیوایف کیکوآرڈینیٹر عمران ملک کیمطابق ایک نجی بینک کی فنڈنگ سیڈولفن کنزرویشن پروگرام اس کی بقا کے لیے ترتیب دیا گیا ہے،ضروری امریہ ہے کہ لوگوں کوآگاہی دی جائے تاکہ ان میں اس آبی حیات کے حوالے سے شعورپیداہو۔انہوں نے کہاکہ انڈس ڈولفن کیحوالے سیحکومتی اورسندھ وائلڈلائف کی پالیسیز پر نظرثانی کی ضرورت ہے،دریا میں سیوریج اورصنعتی بغیرٹریٹیڈ پانی شامل کیا جارہاہے،اس کیعلاوہ ماہی گیروں کی جانب سے غیرقانونی اورنقصان دہ جالوں کا استعمال بھی ایک بہت ہی بڑاخطرہ ہے،اس کا حل یہ ہے ان کویا توآگاہی دی جائییا اس حوالیسے کوئی سخت قوانین وضع کیے جائیں۔ڈبلیوڈبلیوایف کے مینیجرتوحیدغنی میہسرکے مطابق ملاح کمیونٹی کی آگاہی ناگزیرہے،اس کے علاوہ کینال کے گیٹوں پرپنگلرکو جالوں پرتنصیب بھی ناگزیرہے،پنگرایک مخصوص آوازپیداکرنے والا آلہ ہے،جوماہی گیری کے جالوں کے قریب آتی ڈولفنزکوایک تنبیہہ جاری کرتے ہیں،25ہزارمالیت کا یہ آلہ آوازپیدا کرنے والے آلات کی تعیناتی ماہی گیری کے جالوں میں دریائے سندھ کے ڈولفن کے الجھنے کو کم کرنے کا ایک ممکنہ حل ہے،یہ ٹیکنالوجی خطرے سے دوچار دریائی ڈولفن کے تحفظ میں مدد کر سکتی ہے اور پائیدار ماہی گیری کو فروغ دے سکتی ہے۔انہوں نے کہاکہ سن 2022 کے اوائل میں پاکستان میں تجرباتی طور پر پہلی بار دریائے سندھ کی 3 ڈولفنز کو محفوظ طریقے سے سیٹلائٹ ٹرانسمیٹر کے ساتھ ٹیگ کیا گیا تھا،جو ان کی نقل و حرکت، رویے اور رہائش گاہوں کے بارے میں اہم ڈیٹا فراہم کریں گے،پراجیکٹ کے تحت صوتی رکاوٹوں کی آزمائشیں کی گئیں،جن میں آواز خارج کرنے والا آلہ پنگر استعمال کیا گیا۔نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ پنگرز ماہی گیری کے جالوں کے ساتھ ڈولفن کے براہ راست عمل دخل کو کرتا ہے،سائنسی ماہرین نیدودہائیوں پر محیط ایک صبر آزما اور طویل تحقیق کے بعد اس بات کا انکشاف کرچکے ہیں کہ خطرے سے دوچار دریائے سندھ اور گنگا کی ڈولفن ایک دوسرے سییکسر مختلف اقسام کی نسلیں ہیں۔اس تحقیق سے پہلے انھیں جغرافیائی اعتبار سے ایکدوسرے کے قریب خطوں میں ہونے کے سبب ایک سمجھا جاتا تھا،پاکستان میں مون سون بارشوں کے بعد جب دریا کا پانی اترتا ہے، تو یہ مچھلیاں تالابوں وغیرہ میں پھنس جاتی ہیں، جہاں انہیں خوراک کی کمی کا سامنا رہتا ہے۔دریائے سندھ میں گذشتہ کئی برسوں کے دوران یکے بعد دیگرے چشمہ تونسہ، گدو اور سکھر چینل کے درمیان کئی سروے کیے گئے،جس میں تحقیقی ٹیم نے دریا اور زمین پر اس حساس نوعیت کے تیکنیکی کام کے دوران کئی شب وروز گزارے۔گزشتہ دو دہائیوں سے تقریبا 300پھنسے ہوئے دریائی ڈولفنز کو بحفاظت بچا لیا گیا ہے اور انہیں واپس سندھ میں چھوڑ دیا گیا،راستہ بھٹک جانے والی انڈس ڈولفن دریامیں مسلسل سفر کے دوران کئی کلومیٹر دور نکل جاتی ہیں،ریسکیو کے بعد ان کی دریائے سندھ میں واپسی کا مرحلہ انتہائی دشوار اورتکنیکی اعتبار سے انتہائی پیچیدگی نوعیت کا ہوتا ہے کیونکہ برق رفتار سے واپسی کا یہ سفر بذریعہ سڑک کیا جاتا ہے،جس کے دوران اندھی ڈولفن کو ایک تولیے میں لپیٹ کر اس کے جسم کو مسلسل پانی سے تر رکھاجاتا ہے کیونکہ ذراسے خشکی کے سبب یہ دم توڑ دیتی ہے۔سندھ وائلڈلائف کے مطابق ماضی کے خطرات کے درمیان اب کچھ اور واقعات نئے اندیشوں کی صورت میں سر اٹھارہے ہیں،جن میں اس بے ضرر آبی حیات کو کلہاڑیوں کے وار اور بندوق سے براہ راست گولی مارنے کے واقعات پیش آچکے ہیں۔گذشتہ دنوں کچھ نوجوانوں کی جانب سے ڈولفن کو دریا سے نکال کر سیلفی بنانے کے چکر میں ڈولفن کی جان لے چکے ہیں،جن کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے،دریائے سندھ کے قریب واقع گاں،دیہات میں انڈس ڈولفن کے حوالے سیکچھ قصے بھی مشہور ہیں،ایک افسانوی قصے کے مطابق اندھی ڈولفن کبھی جل پری ہواکرتی تھی،جس نے گذرتے وقت کے ساتھ اپنی شکل تبدیل کرلی اور اب جل پری سے مچھلی بن چکی ہے۔

  • بلدیاتی اداروں میں کرپشن کا راج( اپوزیشن لیڈر)مخالفین نکمے ہیں(مئیر کراچی)

    بلدیاتی اداروں میں کرپشن کا راج( اپوزیشن لیڈر)مخالفین نکمے ہیں(مئیر کراچی)

    2024کا سال سندھ حکومت اور کے ایم سی کی کارکردگی کے حوالے سے کراچی کے شہریوں کے لیے نہایت مایوس کن رہا۔ 2025میں بھی صورتحال کراچی کے شہریوں کے لیے امید افزاء نہیں ہے، سندھ حکومت اور کے ایم سی کے زیر اہتمام محکموں سے شہریوں کو کوئی ریلیف نہیں ملا۔کرپشن، نا اہلی، تعصب، اور ناقص کاموں پر وائٹ پیپر جاری کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار کے ایم سی میں اپوزیشن لیڈرسیف الدین ایڈوکیٹ نے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا اجلاس میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر مبشر حافظ الحق حسن زئی، جماعت اسلامی پارلیمانی پارٹی کے ڈپٹی لیڈر قاضی صدر الدین، کونسل میں ورکس کے انچارج فرمان، کوآر ڈی نیٹر اپوزیشن لیڈر نعمان الیاس، اسپورٹس اور یوتھ کے امور کے انچارج تیمور احمد، ممبر کونسل اسامہ احمد اور دیگر شریک ہوئے۔ اس موقع پر گزشتہ سال 2024میں سندھ حکومت اور کے ایم سی کی کارکردگی اور شہریوں کی تکالیف کے ازالے کے حوالے سے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ سیف الدین ایڈوکیٹ نے مزید کہا کہ گزشہ سال شہر میں جرائم کی ریکارڈ وارداتیں ہوئیں، لاکھوں شہری اپنی گاڑیوں،موٹر سائیکلوں، موبائل فونز سے محروم ہوئے اور ڈکیتی کا شکار ہوئے، 109کے قریب شہری لوٹ مار کی وارداتوں کے دوران اپنی جان سے گئے، ہیوی ٹریفک کے حادثات میں بڑی تعداد میں شہری جاں بحق ہوئے لیکن حکومت سندھ مجرموں کی گرفتاری اور جرائم کی بیخ کنی میں مکمل ناکام رہی، سندھ کے تمام محکموں بالخصوص بلدیاتی اداروں میں بدترین کرپشن کا راج رہا جس کی وجہ سے منتخب نمائندوں کے لیے مسائل میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کے بڑے مسائل سڑکیں، پانی کی فراہمی، سیوریج کے نظام کی بحالی، کچرا صفائی میں سندھ حکومت اور کے ایم سی مکمل ناکام رہی، انہوں نے کہا کہ قابض میئر مرتضیٰ وہاب واٹر بورڈ اور سندھ سالڈویسٹ مینجمنٹ کے چیئرمین بھی ہیں لیکن کراچی کے شہریوں کو کچرے کے ڈھیروں، غلاظت سے بھر ہوئے نالوں اور بہتے گٹروں سے نجات نہ مل سکی جبکہ ان امور کی ذمہ داری براہ ِ راست ان کے پاس ہے، کراچی کی 106سڑکیں اور 44نالے براہ ِ راست قابض میئر مرتضیٰ وہاب کے ماتحت ہیں لیکن اربوں روپے کے اخراجات مختلف ٹینڈرز میں ظاہر کرنے کے باوجود شہرکا بدترین حال ہے، سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں اور اگر کہیں کام ہوا بھی ہے اس قدر غیر معیاری کہ چند دن میں ہی برباد ہو گیا جو کرپشن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سندھ حکومت اور کے ایم سی نے کئی شعبوں میں کام کیا ہے تو وہ کرپشن اور مختلف اداروں میں شہر کے باہر سے لائے ہوئے نا اہل افسران کی تقرری کا ریکارڈ قائم کرنے کا کام۔ انہوں نے کہا کہ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، بورڈ آف ریونیو کے رجسٹرار آفس، واٹر ٹینکر سب نے مافیا سسٹم اور کراچی شہر کو برباد کرنے کا کام کیا٭
    میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہاہے کہ2025 میں کراچی کیلئے پینے کے پانی کی سپلائی میں اضافہ ہوگا۔خصوصی گفتگوکرتے ہوئے میئر کراچی مرتضی وہاب نے کہاکہ 2025 میں بلدیہ عظمی کراچی انفرااسٹرکچر ٹھیک کرنے کی کوشش کرے گی، کراچی کے شہریوں کو سستی اور معیاری تفریح فراہم کرنے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سیوریج کے مسائل ہمارے لیے چیلنج ہیں، 2025 میں کراچی کیلئے پینے کے پانی کی سپلائی میں اضافہ ہوگا، حب ڈیم سے نئی کینال نکالنے کیلیے تیزی سے کام ہورہا ہے، اگست 2025 تک حب کینال کا کام مکمل کرلیا جائے گا۔مرتضی وہاب نے کہا کہ کے4 اور ملیر ایکسپریس وے پر بھی کام کیا جارہا ہے، بلدیہ عظمی کراچی کے کنٹرول میں 106 سڑکیں آتی ہیں، گلی محلے کی سڑکیں متعلقہ ٹائون کی ذمہ داری ہے، کوشش ہے رواں مالی سال پی آئی بی کالونی کی گلیاں بنادی جائیں، ماضی کا کراچی شاندار تھا تو مستقبل کا کراچی شاندار کیوں نہیں ہوسکتا؟میئر کراچی نے کہا کہ کراچی کی ترقی کے لیے سب کو کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے، مخالفین کا اعتراض یہ ہے کہ شہر میں کام ہو تو ان کے نام سے ہو، پیپلزپارٹی کے نام سے کام ہو گا تو مخالفین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، مخالفین آئے دن ہمارے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مخالفین کی پریس کانفرنس کا مقصد لوگوں کو ناامید کرنا ہے، مخالفین اپنے نکمے پن کی ذمہ داری پیپلزپارٹی پر ڈال دیتے ہیں، باتیں کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے، مسائل حل کرنے کے لیے میدان میں اترنا پڑتا ہے، پی پی پی میدان میں کام کررہی ہے۔مرتضی وہاب نے کہا کہ افسوسناک صورتحال ہے کہ پانی کا شارٹ فال ہے، جماعت اسلامی والے قابل بننے کی بات کرتے ہیں، جماعت اسلامی والے ٹینکرز کا پانی بہا دیتے ہیں، پیپلزپارٹی کی سخت بات جماعت اسلامی کو ناگوار گزرتی ہے، 1100 ملین یومیہ پانی کی ضرورت ہے، 550 ملین گیلن سپلائی کیا جاتا ہے، 2025 میں کراچی میں پانی کی مشکلات میں کمی آئے گی۔
    کراچی کی اہم سڑکوں کو خوبصورت اور فٹ پاتھوں کی حالت بہتر کرنے کا فیصلہ
    کمشنر کی شاہراہ فیصل پر جاری ترقیاتی کام سمیت شہر کی تما م شاہراہوں اورفٹ پاتھوں کی مرمت کے کام کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت
    کمشنر کراچی سید حسن نقوی کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں شہر کی اہم سڑکوں کو خوبصورت بنانے، فٹ پاتھوں اور سڑکوں کی حالت بہتر بنانے کیلیے اقداما ت کا جائزہ لیا گیا۔کمشنر نے شاہراہ فیصل، آئی آئی چندریگر روڈ، شاہراہ قائدین، میرن پرومنڈ پر جاری ترقیاتی کام سمیت شہر کی تما شاہراہوں پر فٹ پاتھوں اور سڑکوں کی مرمت کے کام کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس میں شہر میں، مین ہولز کو کور کرنے، یوٹیلیٹی اداروں کے چیمبرز کی مرمت، اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب، سڑکوں پر نمایاں مقامات سے کچرا کنڈیوں کی منتقلی اور صفائی کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں تمام ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنر ہیڈ کوارٹرز رابعہ سید، اسسٹنٹ کمشنر جنرل کمشنر کراچی افس حاظم بنگوار، مینجنگ ڈائریکٹر سالد ویسٹ مینجمنٹ بورڈ طارق نظامانی، ریجنل ڈائریکٹر لو کل گورنٹمنٹ رمضان پٹھان، ڈائریکٹر جنزل میونسپل سروسز طارق مغل، چیف انجنیئر کے ڈی اے عبد الصمد مختلف ٹاونز کے میونسپل کمنشنرز اور دیگرنے شرکت کی۔تمام ڈپٹی کمشنرز نے اپنے ضلع میں شہری کی بہتری کے اقدامات کے بارے میں منصوبہ بندی اور جاری کاموں کا جائزہ پیش کیا۔ ڈپٹی کمشنر غربی احمد علی صدیقی نے منگھوپیر روڈ شاہراہ ورنگی میں، ڈپٹی کمشنر وسطی طحہ سلیم نے شاہراہ پاکستان اور علامہ راشد ترابی روڈ میں، ڈپٹی کمشنر شرقی ابرار جعفر نے شاہراہ فیصل میں، ڈپٹی کمشنر جنوبی الطاف ساریو نے آئی آئی چندریگر روڈ، ڈپٹی کمشنر کیماڑی راجہ طارق چانڈیو نے ضلع کیماڑی میں، ڈپٹی کمشنر ملیر سلیم الہ اوڈھو نے ضلع ملیر اور ڈپٹی کمشنر کورنگی مسعود بھٹونے کورنگی میں اہم سڑکوں کی نشاندہی کی جس پر کام شروع کیا جا رہا ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ضلع وسطی میں شاہراہ پاکستان شیر شاہ سوری روڈ علامہ راشد ترابی روڈ پر پیچ ورک اور دیگر ترقیاتی کام جاری ہیں۔ ضلع وسطی میں غیر سرکاری تنظیموں اور اداروں کے تعاون سے شجر کاری کی جائے گی کے ڈی اے چورنگی کو بوہرہ کمیونٹی کے تعاون سے خوبصورت بنایا جا رہا ہے۔ ٹاون ایڈمنسٹریشن کے تعاون سے ماڈل مارکیٹ اور اے او کلنک پر ڈیولپنٹ پارک کی تعمیر کے منصوبے بھی تیار کئے گئے ہیں جبکہ کے ڈی اے کے تعاون سے مختلف فلائی اوورز کے نیچے اسپورٹس کمپلیکسز بھی بنائے جائیں گے۔اجلاس میں شاہراہ فیصل میرن پرومینڈ شاہراہ قائدین کو خوبصورت بنانے کیلیے یوٹیلٹی اداروں کے چیمبرز کی وجہ سے فٹ پاتھوں پر پیدل چلنے والوں کو درپیش دشواریوں کو دور کرنے کے چیمبرز کو بہتر بنانے کے کام کا جایزہ لیا گیا۔فیصلہ کیا گیا کہ آئی آئی چندریگر روڈ اور مرین پرومنڈ پر جاری کام کو اگلے دس روز میں مکمل کر لیا جائے گا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ آئی آئی چندریگر روڈ پر کمشنر کراچی کے حالیہ دورہ کے موقع پر کئے گئے فیصلہ کی روشنی میں فٹ پاتھوں پر مرمت اور رنگ ور وغن کا کام مختلف مقامات پر مکمل کر لیا گیا ہے۔کے ڈی اے اور کے ایم سی نے تصاویر کے ذریعے ترقیاتی کاموں کے بارے میں بریفنگ دی۔ کے ڈی اے نے کمشنر کو بتایا کہ آئی آئی چندریگر روڈ پر 36 مین ہولز تھے جو بند کر دئے گئے ہیں۔کمشنر نے کہا کہ تمام ڈپٹی کمشنرز اورمیونسپل ادارے اپنے اپنے علاقوں میں اس بات کو یقینی بنائیں کہ شہر میں کوئی بھی مین ہول نہ کھلا ہو۔

  • ایلون مسک نے پاکستانیوں کی اپیل سْن لی

    ایلون مسک نے پاکستانیوں کی اپیل سْن لی

    پاکستان میں گذشتہ برس کی ابتدا سے ہی لوگ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی بندش سے پریشان ہیں اور بعض اندازوں کے مطابق اس غیراعلانیہ بندش کے سبب انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے شعبے کو ایک ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے۔گھریلو اور کمرشل صارفین انٹرنیٹ کی بندش اور ‘ایکس’ جیسی معروف سوشل میڈیا ویب سائٹ کی ملک میں معطلی کے سبب کسی ایسے نئے نظام کی تلاش میں تھے جس کے ذریعے انھیں انٹرنیٹ کی بلاتعطل فراہمی ممکن ہوسکے۔ٹاپ 10 وی پی این ڈاٹ کام کی ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ برس پاکستان کو انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ایپس کی بندش کے سبب ایک ارب 62 کروڑ ڈالر کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔پاکستان میں حکومتی شخصیات اور ادارے انٹرنیٹ کی اس بندش کے متعدد جواز پیش کرتے رہے ہیں۔ کبھی سیاسی احتجاج کے سبب انٹرنیٹ متاثر نظر آتا تھا، تو کبھی زیرِ سمندر انٹرنیٹ کی کسی کیبل میں خرابی کے سبب لوگ انٹرنیٹ سے محروم ہوجاتے تھے اور تو اور کچھ حکومتی شخصیات کی جانب سے سکیورٹی خدشات کو بھی متعدد مرتبہ انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ بتایا گیا۔ایسے میں متعدد انٹرنیٹ صارفین امریکی کاروباری شخصیت ایلون مسک سے اپیل کرتے ہوئے نظر آئے کہ وہ اپنی ا سٹارلنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ کمپنی کو پاکستان میں متعارف کروائیں۔بالآخر ایلون مسک نے پاکستانیوں کی اپیل سْن لی اورا سٹارلنک کو سکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں رجسٹرڈ کروا لیا گیا ۔ایسے میں یہ سوالات اْٹھ رہے ہیں کہ یہ کمپنی کتنے عرصے میں پاکستان میں فعال ہوجائے گی اور کیا عام گھریلو صارفین بھی سیٹلائٹ انٹرنیٹ استعمال کر پائیں گے؟پاکستان میں وزیر برائے آئی ٹی شزہ فاطمہ نے تصدیق کی ہے کہ ا سٹارلنک کو ملک میں رجسٹر کر لیا گیا ہے، لیکن انھوں نے مزید کہا کہ ایسی کمپنیوں کے لیے قواعد و ضوابط طے کرنا ضروری ہے۔انھوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ‘اسٹارلنک کے علاوہ دیگر اور سیٹلائٹ کمپنیاں بھی ہیں جو پاکستان میں اپنی سروسز صارفین کو دینا چاہتی ہیں۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم ریگولیٹری میکن ازم ترتیب دیں جس کے تحت وہ پاکستان میں آپریٹ کرسکیں۔’ایلون مسک آج کل امریکی سیاست میں کافی متحرک ہیں’ہم تمام پہلوؤں کو دیکھتے ہوئے ایک جامع پالیسی تیار کررہے ہیں تاکہ یہ سیٹلائٹس مقامی فری کوئنسی میں مداخلت نہ کر سکیں۔’انھوں مزید کہا کہ جب ریگولیٹری میکن ازم تیار ہو جائے گا تو پھرا سٹارلنک جیسی کمپنیوں کو لائسنس کا اجرا شروع ہوجائے گا۔’یہ نئی چیز ہے اور آج تک کسی نے بھی دنیا میں لو ارتھ اوربٹ سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے حوالے سے کسی قسم کی کوئی ریگولیشن نہیں بنائے ہیں۔ اس لیے ہماری کوشش ہے کہ ہم پاکستان کے لیے بین الاقوامی معیار کے تحت یہ تمام قوائد اور سسٹم چند ماہ کے اندر اندر ترتیب دے لیں۔ جس کے بعد ہی یہ ا سٹارلنک یا کوئی اور ایسی کمپنی پاکستان میں آپریٹ کر سکے گی۔’
    اسٹارلنک کا سیٹلائٹ انٹرنیٹ کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟
    ایکلون مسک کی کمپنی ا سٹارلنک سیٹلائٹس کے ایک وسیع نیٹ ورک کے ذریعے انٹرنیٹ سروس مہیا کرتی ہے۔
    کمپنی کے مطابق اس کا مقصد ان افراد کو تیز ترین انٹرنیٹ مہیا کرنا ہے جو زمین کے دور دراز یا دیہی علاقوں میں رہتے ہیں اور انھیں تیز انٹرنیٹ تک رسائی حاصل نہیں ہے۔
    حکومت پاکستان کو ’ڈیجیٹل قوم‘ کیوں بنانا چاہتی ہے اور اس پر ماہرین کو کیا تحفظات ہیں؟
    یونیورسٹی آف پورٹسمتھ کے ا سپیس پروجیکٹ کی مینیجر لوسینڈا کنگ کہتی ہیں کہ برطانیہ میں بھی ا سٹارلنک کے صارفین موجود ہیں لیکن کمپنی کی سروس استعمال کرنے والوں کی تعداد افریقہ جیسے خطوں میں زیادہ ہے۔ایلون مسک کے اسٹارلنک منصوبے کے تحت سیٹلائٹس کو زمین کے نچلی سطح کے مدار میں چھوڑا گیا ہے تاکہ ان سیٹلائٹس اور زمین کے درمیان رابطوں کی رفتار کو جتنا ممکن ہو تیز بنایا جا سکے۔یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ ایلون مسک کی کمپنی نے 2018 سے لے کر اب تک تقریباً 3000 چھوٹے سیٹلائٹس زمین کے مدار میں بھیجے ہیں۔ٹیکنالوجی ویب سائٹ پاکٹ لنٹ کے ایڈیٹوریل ڈائریکٹر کرس ہال کا کہنا ہے کہ ایلون مسک کی کمپنی اسٹارلنک 10 سے 12 ہزار سیٹلائٹس استعمال کر سکتی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ‘سیٹلائٹس کو استعمال کرتے ہوئے ہم دنیا کے دور دراز علاقوں جیسا کے صحرا اور پہاڑوں پر انٹرنیٹ کنکشن تک رسائی کی مشکل حل کر سکتے ہیں۔ یہ ہمیں ان علاقوں تک انٹرنیٹ حاصل کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر جیسا کے تاریں اور کھمبوں کی ضرورت سے نجات دلائے گی۔’
    اسٹارلنک کی قیمت کیا ہے اور کون اسے استعمال کرے گا؟
    روایتی انٹرنیٹ سروسز کے مقابلے میںا سٹارلنک مہنگا ہے۔ صارفین کے لیے اس کی ماہانہ فیس 99 ڈالر ہے، جبکہ انٹرنیٹ کی فراہمی کے لیے استعمال ہونے والی ڈِش اور راؤٹر کی قیمت 549 ڈالر ہے۔میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی سے منسلک اسد بیگ کہتے ہیں اگرا سٹارلنک پاکستان میں اپنی سروس شروع کرتا ہے تو ملک میں انٹرنیٹ کے استعمال کے حوالے سے اور بھی کئی سوالات کھڑے ہو جائیں گے۔
    ان کا کہنا ہے کہ ‘سیٹلائٹ انٹرنیٹ تک کس کو رسائی ہوگی اور کس قیمت پر؟ اسٹارلنک کی سروسز، سستی نہیں ہیں اور اس کا آنا پاکستان میں ڈیجیٹل تقسیم کو مزید گہرا بھی کر سکتا ہے، جہاں کچھ خاص لوگ اس سے استفادہ اٹھا سکیں اور دوسروں کو وہی خراب انٹرنیٹ سروسز پر انحصار کرنا پڑے گا۔’
    برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں 96 فیصد گھرانوں کو پہلے سے ہی تیز ترین انٹرنیٹ سروس تک رسائی حاصل ہے، جبکہ امریکہ اور یورپی یونین میں بھی 90 فیصد عوام کے انٹرنیٹ کی اچھی سہولت موجود ہے۔
    لندن یونیورسٹی کے انسٹٹیوٹ آف ا سپیس پالیسی اینڈ لا کے ڈائریکٹر پروفیسر سعید موستشر کا کہنا ہے کہ ‘بیشتر ترقی یافتہ دنیا کے پاس پہلے ہی اچھے انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہے۔ وہ (اسٹارلنک) آمدن کے لیے عالمی مارکیٹ کے چھوٹے حصے پر انحصار کر رہے ہیں۔’
    ایلون مسک کی کمپنی ا سٹارلنک کے اس وقت درجنوں ممالک میں کئی لاکھ صارفین ہیں۔ جن میں بیشتر شمالی امریکہ، یورپ اور آسٹرالایشیا سے ہیں۔ ان میں گھریلو اور کاروباری دونوں طرح کے صارفین موجود ہیں۔اسٹارلنک اپنے نیٹ ورک کو مزید پھیلانے کا ارادہ رکھتی ہے جس کے تحت وہ اپنے تیز ترین انٹرنیٹ کی سروس افریقہ، جنوبی امریکہ اور ایشیا میں فراہم کرے گی۔ یہ دنیا کے وہ علاقے ہیں جہاں انٹرنیٹ سروس اور کوریج زیادہ اچھی نہیں ہے۔کرس ہال کا کہنا ہے کہ اسٹارلنک کی انٹرنیٹ سروسز کی قیمت شاید افریقہ کے کچھ گھرانوں کے لیے بہت زیادہ ہو لیکن یہ دور افتادہ علاقوں میںا سکولوں اور ہسپتالوں سے رابطے قائم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔’
    کیا سیٹلائٹ انٹرنیٹ میں بھی رکاوٹ ڈالی جا سکتی ہے؟
    پاکستان میں اسٹارلنک کی متوقع آمد پر ایک سوال اور بھی انٹرنیٹ صارفین کے ذہنوں میں ہے کیا حکومتی ادارے ایلون مسک کی کمپنی کی انٹرنیٹ سروس میں بھی رخنہ ڈالنے کی سکت رکھتے ہیں؟پاکستان میں انٹرنیٹ اور آن لائن مسائل پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ ا سٹارلنک کے ذریعے بھی شاید ملک میں آزاد انٹرنیٹ کی فراہمی ممکن نہ ہو۔اس معاملے پر بی بی سی بات کرتے ہوئے سماجی کارکن اور انٹرنیٹ امور کی ماہر نگہت داد کا کہنا تھا کہ عوام تک بغیر کسی رکاوٹ کے انٹرنیٹ کی فراہمی ان کے بنیادی حقوق میں شامل ہے۔
    ‘ہمیں ماضی کی مثالوں کو دیکھتے ہوئے اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ ا سٹارلنک یا اس جیسی کمپنیوں کا مستقبل میں کیا بنے گا۔ ویسے تو سیٹلائٹ انٹرنیٹ میں خلل ڈالنا یا رکاوٹ پیدا کرنا مشکل ہے لیکن پھر بھی اہم بات یہ ہے کہ اسٹارلنک جیسی کمپنیاں (حکومت سے) کیا معاہدے کرکے آرہی ہیں۔’
    صارفین کے لیے اسٹارلنک کی ماہانہ فیس 99 ڈالر ہے
    ‘یہاں سب سے بنیادی اور اہم سوال یہ ہے کہ حکومت ایسی کمپنیوں کو کن قوائد وضوابط کے تحت پاکستان میں کام کرنے دیں گے۔ اگر تو ان کمپنیوں نے بھی پابندیوں کے تحت ہی انٹرنیٹ کی فراہمی عوام تک پہنچانی ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ صارفین کو پہلے سے معلوم ہو کہ انھیں کیا سروسز ملیں گی اور کیا نہیں ملے گا۔’
    اسد بیگ بھی سمجھتے ہیں کہ سیٹلائیٹ انٹرنیٹ کو باآسانی کنٹرول یا ریگولیٹ نہیں کیا جا سکتا ‘
    ‘اگر ان تمام پابندیوں کے بغیر سیٹلائیٹ انٹرنیٹ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تو پھر فائر وال یا ویب مینیجمٹ سسٹم پر اتنے پیسے کیوں خرچ کئے گئے؟ دوسری جانب نگہت داد کہتی ہیں کہ اگرا سٹارلنک کسی معاہدے کے تحت پاکستان آتی ہے تو حکومت اور کمپنی کو شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے یہ معاہدہ عوام کے سامنے رکھنا چاہیے۔
    اسٹارلنک کے مالک ایلون مسک آج کل امریکی سیاست میں کافی متحرک ہیں اور نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی بھی تصور کیے جاتے ہیں۔
    نگہت داد کہتی ہیں کہ ‘یہ بات دنیا سے ڈھکی چھپی نہیں کہ آج کل ایلون مسک امریکی سیاست میں کتنے فعال ہیں۔ یہی نہیں بلکہ جمہوری نظام، ڈِس اور مِس انفارمیشن کے معاملے پر بھی ان کے کردار پر انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں۔
    ‘ہمیں اس بات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے کہ ہم ٹیکنالوجی اور جدت کو اہمیت دیتے ہوئے کسی پروپیگنڈا کا شکار نہ ہوں

  • وزیراعظم شہباز شریف جلد بجلی سستی ہونے کیلئے پر امید

    وزیراعظم شہباز شریف جلد بجلی سستی ہونے کیلئے پر امید

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ٹاسک فورس کی کوششوں سے جلد بجلی سستی ہونے کی امید ظاہر کی ہے۔وفاقی کابینہ اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ تعلیمی شعبے میں صوبوں کا اہم کردار ہے، وفاق کو صوبوں کے ساتھ مل کر تعلیمی میدان میں چیلنجز سے نمٹنا چاہیے۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ٹاسک فورس نے 3 ہزار میگاواٹ کا ہدف حاصل کر لیا ہے، مزید بڑی کمپنیوں سے کیپیسٹی چارجز کے معاملے پر بات چل رہی ہے۔ وزیراعظم نے سرکاری پاور جنریشن کمپنیوں کو ڈالرز میں کیپیسٹی پیمنٹس ہونے پر حیرت کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی یورپ کے لیے پروازیں شروع ہونا کامیابی ہے، گزشتہ حکومت کے ایک وزیر کی تقریر کے تباہ کن نتائج ہوئے، شکر ہے جو بندشیں لگیں وہ ختم ہوئیں اور امید ہے جلد لندن کے لیے پروازوں کا آغاز ہوگا۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ضلع کرم میں حالات نارمل ہورہے ہیں، امن معاہدے کے بعد مورچے مسمار کیے جارہے ہیں، خوراک اور ادویات کی سپلائی بھی پہنچائی جارہی ہے، امید ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر قیام امن یقینی بنائیں گے۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ فتنہ الخوارج کے خلاف دن رات کارروائیاں ہورہی ہیں اور امید ہے ان کارروائیوں کے نتیجے میں فتنہ الخوارج مکمل طور پر ختم ہوجائے گی۔

  • وزارت خزانہ نے آئل اینڈ گیس سیکٹر کے مالیاتی نظام پر سوالات اٹھادیئے

    وزارت خزانہ نے آئل اینڈ گیس سیکٹر کے مالیاتی نظام پر سوالات اٹھادیئے

    وفاقی وزارت خزانہ نے پی ایس او، پاکستان پیٹرولیم لمٹیڈ، او جی ڈی سی ایل، سوئی سدرن اور سوئی ناردرن گیس کمپنیوں کے مالیاتی نظام کو غیر موثر قرار دے دیا۔وزارت خزانہ نے آئل اینڈ گیس سیکٹر کے مالیاتی نظام پر سوالات اٹھائے ہیں۔ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق ان تیل و گیس کمپنیوں کا انفرا اسٹرکچر دقیانوسی اور غیر موثر ہوچکا ہے جس کی وجہ سے تمام پانچ کمپنیوں کو چیلنجز کا سامنا ہے۔ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی پی ایل کے وصولی کے ایشوز نے ان کی مالی پوزیشن کو کمزور کیا جس کی وجہ سے ان کا حکومت کی مالی سپورٹ پر انحصار بڑھا ہے۔ انرجی سیکٹر میں گردشی قرضے کے باعث کیش فلوز کے مسائل پیدا ہوگئے اور عدم ادائیگیوں کے باعث واجبات بڑھ گئے جس سے لیکو ڈیٹی متاثر ہو رہی ہے۔وزارت خزانہ کے مطابق واجبات بڑھنے سے کمپنیوں کی معاشی صورتحال پر اثرات مرتب ہوئے اور سرکاری اداروں کا حکومتی سپورٹ پر انحصار بڑھ گیا ہے، پرانی ٹیکنالوجی کے باعث پیداوار کم اور آپریشنل لاگت زیادہ ہے۔گیس کے ترسیلی اور تقسیمی نظام میں لاسز کا سامنا ہے، بزنس پلان کے ذریعے ریونیو لاسز محدود اور آپریشنل کارکردگی بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ مالیاتی نظام کو بہتر بنا کر گردشی قرضے کے مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

  • ایف پی سی سی آئی کی فیسوں میں 100 فیصد اضافہ غیر منصفانہ ہے،مرزاعبدالرحمن

    ایف پی سی سی آئی کی فیسوں میں 100 فیصد اضافہ غیر منصفانہ ہے،مرزاعبدالرحمن

    فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری(ایف پی سی سی آئی)کے سابق نائب صدر اور اٹک چیمبر آف کامرس کے بانی صدر مرزا عبدالرحمن نے کہا ہے کہ ایف پی سی سی آئی کی جانب سے مختلف فیسوں میں سو فیصد اضافہ کو مسترد کرتے ہیں ۔ اخراجات میں کمی کے بجائے انھیں بڑھایا جا رہا ہے جسے پہورا کرنے کے لئے تاضروں اور صنعتکاروں کو ہدف بنایا جا رہا ہے جو ناقابل برداشت ہے۔ مرزا عبدالرحمان نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ ایف پی سی سی آئی فیس کے ڈھانچے میں ایک سو فیصد اضافہ سے تجارتی انجمنوں اور تاجر برادری کے ارکان پر اضافی بوجھ پڑے گا۔یہاں جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ یونائیٹڈ بزنس گروپ(یو بی جی)نے ایف پی سی سی آئی میں پانچ سال کے وقفے کے بعد دوبارہ اقتدار سنبھالا ہے کیونکہ ووٹرز نے اسے ناقص کارکردگی کی وجہ سے مسترد کر دیا تھا۔مگر اقتدار سنبھالنے کے بعد وہی کام شروع کر دئیے گئے ہیں جس کی وجہ سے انھیں مسترد کیا گیا تھا جو افسوسناک ہے۔وسائل کے ضیاں، غیر قانونی تقرریوں اور دیگر متنازعہ اقدامات کے براہ راست ذمہ دار ایف پی سی سی آئی کے صدر ہیں۔مرزا عبدالرحمن نے تمام چیمبرز آف کامرس اور تجارتی انجمنوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس اقدام پر احتجاج کریں، کیونکہ یہ ان کے مفاد میں نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ بزنس مین پینل نے اقتدار میں آتے ہی سالانہ فیسوں میں کمی کی لیکن یو بی جی نے ان میں اضافہ کر ڈالا ہے۔ تاجر رہنما نے کہا کہ بزنس کونسلز، سٹینڈنگ کمیٹیوں، ویزا سفارشات اور سارک ویزا پروسیسنگ کی فیس دگنی کر دی گئی ہے جسے واپس لیا جائے۔

  • نیا سال مہنگائی کا طوفان لئے آیا ، عوام کی مشکلات بڑھ گئیں

    نیا سال مہنگائی کا طوفان لئے آیا ، عوام کی مشکلات بڑھ گئیں

    نیا سال مہنگائی کا طوفان لئے آیا ، عوام کی مشکلات بڑھ گئیں، آٹے ،چینی کی بوری پر 300روپے بڑھا دئے گئے ، سرسو ںکے تیل فی لیٹر 80روپے کا اضافہ ، ڈاکٹرز نے اپنی فیس بھی بڑھا دی۔ تفصیلا ت کے مطابق جیکب آباد میں نئے سال کی آمد سے ہی مہنگائی کا طوفان امنڈ آیا ہے جس سے عام شہری کی مشکلات بڑھ گئی ہیں آٹے اور چینی کی بوری پر 200سے 300روپے بڑھا دئے گئے ہیں اسی طرح سر سو کے تیل پر فی لیٹراضافہ کردیا گیا ہے اب سرسو کا تیل 480روپے لیٹر فروخت کیا جارہا ہے خوردنی تیل مہنگا ہونے کی وجہ سے شہری سرسو کے تیل کو کھانے پکانے میں استعمال کرنے لگے تھے جس کے ریٹ بھی اب بڑھا دئے گئے ہیںدوسری طرف شہر میںپرائیوٹ کلینکس کے ڈاکٹرس نے بھی اپنی معائنہ فیسیں بھی بڑھا دی ہیںہوشربا مہنگائی سے عوام کی چیخیں نکل گئی ہیں اور عام استعمال کی اشیاء خریدنا مشکل ہو گیا ہے شہریوں کا کہنا ہے کہ ظالمانہ مہنگائی سے قوت خرید جواب دے گئی ہے کیا کھائیں کیا پہنیں ، اب تو گذارہ بھی مشکل ہو گیا ہے، مہنگائی کا خاتمہ اور کنٹرول کرنے کے حکومتی دعوی جھوٹے ہیںکوئی پرسان حال نہیں۔

  • چین کے شہر وینزو میں حلال کھانے کی تلاش ایک امتحان

    چین کے شہر وینزو میں حلال کھانے کی تلاش ایک امتحان


    پہاڑوں کے دامن میں گھرا وینزو اور سامنے سڑک کے کنارے روشن لالٹینیں، جن پر قدیم چینی خطاطی میں کچھ لکھا تھا، ہوا کے ساتھ جھول رہی تھیں۔ہمارے میزبان، مسٹر چائو، پہلے سے ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ وہ مسکراتے ہوئے آگے بڑھے اور نہایت خلوص سے ہاتھ ملایا۔ ان کی آنکھوں میں وہ چمک تھی جو وینزو کے ہر شہری میں دکھائی دیتی ہے ایک مہمان نواز، گرم جوش اور زندگی سے بھرپور انداز۔””گاڑی میں بیٹھتے ہی، مسٹر چائو نے ہنستے ہوئے کہا، ‘آپ خوش قسمت ہیں کہ وینزو کی سب سے مشہور چیز، رات کی روشنیوں کو دیکھنے کا موقع مل رہا ہے لیکن اس بار بارشیں معمول سے زیادہ ہو رہی ہیں اس لیے چھتری ہمیشہ اپنے ساتھ رکھیں ۔’ گاڑی تیزی سے شہر کی طرف روانہ ہوئی، اور میں کھڑکی سے باہر جھانکنے لگی۔ ہر طرف قدیم اور جدید کا امتزاج نظر آ رہا تھا۔ ایک طرف بلند و بالا عمارتیں تھیں، جن پر نیون روشنیوں کے ساتھ چینی حروف جگمگا رہے تھے، اور دوسری طرف پرانے لکڑی کے گھر، جو صدیوں کی تاریخ سناتے محسوس ہو رہے تھے۔””مسٹر چائو نے بتایا، ‘یہ وینزو ہے، جہاں لوگ نہ صرف تجارت میں ماہر ہیں بلکہ اپنے کلچر اور روایات کو زندہ رکھنا بھی جانتے ہیں۔’ ان کے لہجے میں فخر کی جھلک تھی۔ ‘آپ دیکھیں گے کہ یہاں کے لوگ زندگی کو کس طرح محبت اور محنت کے ساتھ گزارتے ہیں۔’ ان کی باتیں سن کر میرا تجسس مزید بڑھ گیا۔””گاڑی جب شہر کے مرکز میں پہنچی تو مجھے لگا جیسے میں کسی خواب کا حصہ بن گئی ہوں۔کشادہ شاہراہیں , جن کے دونوں اطراف گلاب کے پھولوں کی باڑ تھی . دونوں جانب چمکتے کاغذی فانوس لٹک رہے تھے، اور ہر موڑ پر کسی قدیم کہانی کی جھلک مل رہی تھی۔ مسٹر چائو نے بتایا کہ یہاں ہر گلی کی اپنی کہانی ہے، اور لوگ اپنے آبائو اجداد کی روایات کو زندہ رکھنے کے لیے ان کہانیوں کو سینے سے لگائے رکھتے ہیں۔ اسی دوران ہماری گاڑی ایک قدیم پل کے اوپر سے گزری. پل کے نیچے بہتا دریا چاند کی روشنی میں چمک رہا تھا مسٹر چا ئونے پل کے بارے میں بتایا کہ یہ پل تقریبا پانچ سو سال پرانا ہے اور یہاں کے لوگوں کے لئے محبت اور اتحاد کی علامت ہے.”میں نے سوچا یہ شہر نہ صرف خوبصورت ہے بلکہ اپنے ماضی اور حال کو خوبصورتی سے سنبھالے ہوئے ہے.جہاں قدیم روایات اور جدید ترقی ایک ساتھ سانس لیتی ہیں۔چین کا شہر وینزو، ایک ایسا شہر ہے جس کی تاریخ بھی کسی ہیرے جواہرات سے کم نہیں۔ جیسے ہی آپ اس شہر میں قدم رکھتے ہیں، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ماضی اور حال کا سنگم ایک خوبصورت اور حیرت انگیز طریقے سے آپ کے روبرو ہے۔ یہ شہر صرف ایک جغرافیائی مقام نہیں، بلکہ ایک جیتی جاگتی تاریخ ہے، جو اپنی تمام تر عظمتوں اور چیلنجوں کے ساتھ آپ کو اپنی آغوش میں لے لیتا ہے۔وینزو کا ماضی اتنا رنگین ہے کہ اس کی کہانیاں سن کر آپ کو لگے گا کہ جیسے کسی قدیم داستان کا حصہ بن گئے ہوں۔ 192 قبل مسیح میں جب اس شہر نے مشرقی او کی سلطنت کا دارالحکومت ہونے کا اعزاز حاصل کیا، تب یہ شہر ایک نیا سورج بن کر ابھر رہا تھا۔ اور پھر جب 323 عیسوی میں اس نے یونگجیا پریفیکچر کا درجہ حاصل کیا، تو گویا یہ شہر اپنی عظمت کی طرف قدم بڑھا رہا تھا۔ لیکن ایک کہانی بھی ہے، جو شاید اس شہر کے دل کی آواز ہو۔ کہتے ہیں کہ جب اس شہر کی بنیاد رکھی جا رہی تھی، تو ایک سفید ہرن پھول کے ساتھ شہر کے گرد چکر لگاتا تھا۔ اس دن کے بعد سے، وینزو کو “سفید ہرن کا شہر” کے نام سے جانا جانے لگا۔ وینزو کا شمار چین کے ان شہروں میں ہوتا ہے جہاں کی دستکاری، سیلاڈون کے سامان، کاغذ سازی، کشتی سازی، ریشم، کڑھائی، لکڑی کے کام، جوتے اور چمڑے کی مصنوعات کا نام دنیا بھر میں لیا جاتا ہے۔ ان تمام چیزوں کے بیچ، ایک اور چیز ہے جو وینزو کو دیگر شہروں سے ممتاز کرتی ہے، وہ ہے اس کی ثقافت۔ وینزو “نانشی اوپیرا” کا گھر ہے،
    جسے جنوبی اوپیرا بھی کہا جاتا ہے۔ گا منگ کے مشہور ڈرامے “دی پیپا” کو عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی، اور اس کی کہانیوں نے وینزو کو دنیا بھر میں ایک خاص مقام دلایا۔مگر وینزو کی عظمت صرف اس کی تاریخ اور ثقافت تک محدود نہیں۔ اس شہر نے کئی عظیم فلسفیوں، شاعروں اور دانشوروں کو جنم دیا ہے۔ ان میں سے بعض ایسے ہیں جنہوں نے چینی ادب، فلسفہ اور سائنس میں انقلابی تبدیلیاں لائیں۔ یونگجیا اسکول کے فلسفی “یے شی” اور جنوبی سونگ دور کے “دریا اور جھیلوں کے اسکول” کے شاعروں نے وینزو کو ایک نئی پہچان دی۔وینزو کے بارے میں سب سے دلکش بات یہ ہے کہ یہاں کی ثقافت ایک خوبصورت توازن قائم کرتی ہے۔ یہاں کی دستکاری، اوپیرا، آرٹ، ڈرامہ، رقص اور لوک ادب میں ایک عجیب سی گہرائی ہے، جو نہ صرف چینی بلکہ عالمی سطح پر اپنی اہمیت رکھتی ہے۔ یہ شہر صرف تاریخ کا محافظ نہیں بلکہ ایک جدید ترقی کی علامت بھی ہے۔ وینزو کا جغرافیہ، اس کی تاریخ اور اس کی ثقافت ایک خوبصورت کہانی بناتی ہے، جس میں ہر قدم پر ایک نیا راز، ایک نیا تجربہ چھپا ہوتا ہے۔ اور جب آپ اس شہر کی گلیوں میں چلتے ہیں، تو آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ آپ صرف ایک سیاح نہیں بلکہ اس شہر کا حصہ بن چکے ہیں، جہاں ہر زاویہ، ہر منظر اور ہر کہانی آپ کو اپنے اندر کھینچ لیتی ہے۔اس شہر میں، جہاں ماضی کی گونج اور حال کی حقیقت آپس میں ملتی ہیں، وہیں ہر شخص کا سفر ایک منفرد تجربہ ہوتا ہے۔ وینزو کی گلیاں، بارش میں دھلے پہاڑ، اور لوگوں کے چہروں پر سجی مسکراہٹیں۔۔۔ یہ سب کسی خواب کا حصہ لگتے ہیں۔ مگر خوابوں کے ساتھ کچھ حقیقتیں بھی ہوتی ہیں، جو ہمارے جیسے مسافروں کے قدموں کو کبھی بوجھل اور کبھی ہلکا کر دیتی ہیں۔ پہاڑوں کے دامن میں گھرا یہ شہر اپنی خوبصورتی سے دل کو موہ لیتا ہے، لیکن کیا یہ دل کو ہمیشہ کے لیے اپنا بنا سکتا ہے؟ ہم پاکستانی، جہاں بھی جاتے ہیں، اپنی ثقافت، اپنی روایات اور اپنی شناخت کا عزم بھی ساتھ لے کر جاتے ہیں۔ وینزو میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ یہاں کے لوگوں کی مسکراہٹیں تو بے حد خلوص بھری ہیں، مگر کیا یہ مسکراہٹیں ہمارے عقیدے، ہماری زبان اور ہمارے رہن سہن کو قبول کر سکیں گی ؟ اور ہاں، کھانے کی بات کریں تو یہاں کے پکوان کا ہر ذائقہ یقینا منفرد ہوگا، مگر ایک پاکستانی کے لیے اپنے ذائقے سے دور رہنا کسی امتحان سے کم نہیں۔ حلال کھانے کی تلاش، اردو بولنے والوں کی کمی، اور مسجد کے میناروں کو ڈھونڈنے کی جستجو۔۔۔ یہ سب کہانی کے وہ حصے ہیں جنہوں نے ہمیں ایک لمحے کے لیے سوچنے پر مجبور کیا کہ یہاں رہنا کتنا آسان ہوگا؟ کیا وینزو کے ان چمکتے بازاروں میں ہماری اقدار جگہ بنا سکیں گی؟ کیا زبان کا یہ خلا کبھی بھر سکے گا؟ اور کیا یہ سرزمین ہماری کہانیوں کا حصہ بنے گی یا صرف ایک عارضی قیام کی منزل رہے گی؟ یہ سب جاننے کے لیے آپ کو اگلی قسط کا انتظار کرنا ہوگا، جہاں ہم وینزو کی زندگی کے ان گوشوں کو بے نقاب کریں گے، جو ہر اجنبی کے لیے حیرت کا باعث بنتے ہیں۔ تو دل تھام لیجیئے , کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی!

  • دنیا کے ٹاپ ٹین ارب پتی ( تازہ ترین فہرست جاری)

    دنیا کے ٹاپ ٹین ارب پتی ( تازہ ترین فہرست جاری)

    بلوم برگ نے رواں مہینے ارب پتیوں کی فہرست جاری کی ہے،ایلون مسک نے پھر میدان مارلیا اور وہ اب بھی نمبرون کی پوزیشن پر موجود ہیں،بلوم برگ کے مطابق ٹاپ ٹین ارب پتی درج ذیل ہیں

    1 ایلون مسک ۔۔نیٹ ورتھ 426 بلین ڈالر
    ایلون مسک دنیا کی سب سے قیمتی کار ساز کمپنی ٹیسلا کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔ آسٹن، ٹیکساس میں قائم کمپنی الیکٹرک گاڑیاں اور گھریلو شمسی بیٹریاں فروخت کرتی ہے۔ مسک اسپیس ایکس کے چیف ایگزیکٹیو بھی ہیں،جو راکٹ بنانے والی کمپنی ہے جسے ناسا نے خلائی اسٹیشن کو دوبارہ سپلائی کرنے کے لیے مقرر کیا ہے، وہ سوشل نیٹ ورکنگ کمپنی X کے مالک بھی ہیں، جو پہلے ٹویٹر کے نام سے جانا جاتا تھا۔
    ٹیسلاکمپنی کے مطابق ایلون مسک ٹیسلا کے تقریباً 13 فیصد حصص کے مالک ہیں۔ ان کے پاس اپنے 2018 کے معاوضے کے پیکیج سے تقریباً 304 ملین قابل استعمال اسٹاک آپشنز بھی ہیں۔ جنوری 2024 میں اس معاوضے کے پیکج کو ڈیلاویئر کے جج نے کالعدم قرار دے دیا، شیئر ہولڈر کے نئے ووٹ کے بعد دسمبر 2024 میں اسے دوبارہ مسترد کر دیا گیا۔
    SpaceX کی قدر دسمبر 2024 کی ٹینڈر پیشکش کا استعمال کرتے ہوئے کی گئی جس کے مطابق کمپنی کی قیمت تقریباً $350 بلین ہے۔ دسمبر 2022 میں فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن اور بلومبرگ کے مطابق مسک کمپنی کے تقریباً 42% حصص کے مالک ہیں۔
    2022 میں $44 بلین میں حاصل کرنے کے بعد ایون مسک کے پاس X Corp کے تقریباً 79% حصص تھے جو پہلے ٹویٹر کے نام سے جانا جاتا تھا،
    ایلون مسک کے اسٹارٹ اپس نیورلنک، xAI اور دی بورنگ کمپنی میں بھی حصص ہیں
    تعلیم: ایلون مسک ،جنوبی افریقہ میں ایک انجینئر والد اور غذائیت کی ماہر ماں کے ہاں پیدا ہوئے، انھوں نے 17 سال کی عمر میں کینیڈا میں کالج کے لیے گھر چھوڑ دیا، اس لیے کہ وہ نسل پرستی کے دور کی جنوبی افریقی فوج میں خدمات انجام دینے سے گریز کرنا چاہتے تھے۔ یونیورسٹی آف پنسلوانیا سے فزکس اور اکنامکس میں ڈگری حاصل کرنے کے بعد انھوں نے ا سٹینفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ انھوں نے اپنی دلچسپی کے اہم شعبوں: انٹرنیٹ، صاف توانائی کو چند دنوں کے بعد ہی چھوڑ دیا۔ انھوںنے یونیورسٹی آف پنسلوانیا، یونیورسٹی آف پنسلوانیا کا وارٹن اسکول میں بھی تعلیم حاصل کی۔
    ٭انھوںنے 1995 میں Zip2 کے نام سے ایک آن لائن پبلشنگ پلیٹ فارم بنایا اور اسے چار سال بعد $300 ملین سے زیادہ میں فروخت کیا۔ انھوں نے آن لائن ادائیگی کا نظام X.com شروع کرنے کے لیے کچھ رقم دوبارہ انویسٹ کی۔ جو بالآخر پے پال بن گیا، ای کامرس سائٹ جو بالآخر 2002 میں ای بے کو 1.5 بلین ڈالر میں فروخت کر دی گئی۔
    ٭ان کا اگلا پروجیکٹ: SpaceX، ایک راکٹ کمپنی ہے جسے NASA نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کو دوبارہ سپلائی کرنے میں خلائی شٹل کے کردار کو سنبھالنے کے لیے مقررکیا تھا۔ ایک سال بعد، انھوں نے ٹیسلا کی مشترکہ بنیاد رکھی، وہ کمپنی جس نے 2010 میں دنیا کی
    پہلی آل الیکٹرک، زیرو ایمیشن اسپورٹس کار تیار کی تھی۔ اسی سال کمپنی نے عوامی پیشکش میں حصص فروخت کیے ۔
    ٭ان کی تیسری کمپنی، سولر سٹی، سولر پاور سسٹم فراہم کرنے والی کمپنی تھی۔ سولر سٹی نے 2012 میں عوامی پیشکش میں حصص فروخت کیے اور 21 نومبر 2016 کو ٹیسلا نے خریدے۔
    ٭ایلون مسک نے خواہش ظاہر کی ہے کہ وہ سیارہ مریخ پر ریٹائر ہونے کا ارادہ رکھتا ہے
    ٭ ٹیسلا جولائی 2020 میں دنیا کی سب سے قیمتی کار ساز کمپنی بن گئی اور مزید فوائد کے نتیجے میں ایلون مسک جنوری 2021 میں دنیا کے امیر ترین شخص بن گئے۔
    سنگ میل
    1971ایلون مسک جنوبی افریقہ کے شہر پریٹوریا میں پیدا ہوئے۔
    1981 دس سال کی عمر میں پہلا کمپیوٹر خریدا۔
    1983 مسک نے اپنا پہلا تجارتی سافٹ ویئر گیم بلاسٹار بنایا اور فروخت کیا۔
    1999 X.com نامی ایک آن لائن ادائیگی کا نظام تیار کیا۔
    2000 X.com کو PayPal کی بنیادی کمپنی Cofinity کے ساتھ ضم کیا۔
    2002 پے پال کو ای بے نے 1.5 بلین ڈالر میں حاصل کیا۔
    2002 LAX کے قریب ایک سابق ہوائی جہاز کے ہینگر میں SpaceX قائم کی۔
    2003 میں آل الیکٹرک ٹیسلا روڈسٹر کو ڈیزائن کرنا شروع کیا۔
    2008 SpaceX نے اپنا پہلا سیٹلائٹ خلا میں پہنچایا۔
    2010 ٹیسلا موٹرز نے اسٹاک ایکسچینج میں تجارت شروع کی۔
    2022 نے سوشل میڈیا کمپنی Twitter کو 44 بلین ڈالر میں خریدا۔
    2024 SpaceX نے سپر ہیوی راکٹ بوسٹر کو کامیابی سے پکڑ لیا۔

    #2 جیف بیزوس نیٹ ورتھ 241 بلین ڈالر
    جیف بیزوس دنیا کے سب سے بڑے آن لائن ریٹیلر Amazon کے بانی ہیں۔ سیٹل میں قائم کمپنی اپنی فلیگ شپ ویب سائٹ کے ذریعے الیکٹرانکس، گھریلو سامان اور دیگر مصنوعات فروخت کرتی ہے۔ یہ ہول فوڈز گروسری چین کو بھی کنٹرول کرتی ہے اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور اسٹریمنگ سروسز پیش کرتی ہے۔ ایمیزون کی آمدنی 2023 میں 574.8 بلین ڈالر تھی۔
    نومبر 2024 کی کمپنی کی فائلنگ کے مطابق، بیزوس دنیا کے سب سے بڑے آن لائن خوردہ فروش ایمیزون کے تقریباً 8.8 فیصد حصص کے مالک ہیں۔
    وہ خلائی ریسرچ کمپنی بلیو اوریجن کے بھی مالک ہیں، جو بلومبرگ کی سرمایہ کاری کی لاگت کے حساب کتاب میں شامل ہے۔
    وینچر فنڈ اسپیس اینجلس کے سی ای او چاڈ اینڈرسن کے مطابق، بلیو اوریجن کے لیے قیمت کا تعین کرنا اس کی منفرد حکمت عملی اور اس حقیقت کی وجہ سے مشکل ہے کہ بیزوس واحد شیئر ہولڈر ہیں اور ان کمپنی کو فروخت کرنے کا کوئی واضح ارادہ نہیں ہے۔
    جیف بیزوس نے اپریل 2017 میں کہا تھا کہ وہ “ایمیزون اسٹاک کے ایک سال میں تقریبا$ 1 بلین ڈالر” کی فروخت کے ذریعے انٹرپرائز کو فنڈ دیتے ہیں۔ اس رقم کو 2014 سے ان کے معلوم حصص کی فروخت کے بعد ٹیکس کی آمدنی سے کاٹ کر بلیو اوریجن کے لیے فنڈنگ کے طور پر دیتے ہیں۔ 2021 میں یہ رقم 2 بلین ڈالر تک بڑھا دی گئی کیونکہ کمپنی نے اپنی پہلی انسانی عملے کی پروازیں کیں اور بیزوس کے حصص کی فروخت میں تیزی آئی۔ 2002 کے بعد سے، انھوںنے بلومبرگ ڈیٹا کے تجزیے کی بنیاد پر، تقریباً 42 بلین ڈالر کے ایمیزون شیئرز فروخت کیے ۔
    بیزوس نے اگست 2013 میں واشنگٹن پوسٹ کے لیے $250 ملین ادا کیے، بیزوس نے 2023 میں شروع کی گئی سپر یاٹ، کورو کے لیے تقریباً 500 ملین ڈالر بھی ادا کیے۔
    انہوں نے 2018 میں سماجی مسائل کے لیے 2 بلین ڈالر کا وعدہ کیا اور فروری 2020 میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے 10 بلین ڈالر عطیہ کرنے کا وعدہ کیا۔ تحائف دیے جانے پر یہ رقم ان کی مجموعی مالیت سے کاٹی جائے گی۔
    ان کی نقد سرمایہ کاری کی قیمت میں یہ لین دین، ٹیکس اور مارکیٹ کی کارکردگی شامل ہے۔طلاق کے بعد 2019 میں میکنزی اسکاٹ کو 4 فیصد حصص منتقل کرنے سے پہلے بیزوس کے پاس ایمیزون کا 16 فیصد حصہ تھا۔
    تعلیمجیف بیزوس وال اسٹریٹ کے سابق کمپیوٹر انجینئر ہیں انھوںنے 1994 میں کتابیں آن لائن فروخت کرنے کے لیے ایمیزون بنایا۔ 1997 میں ابتدائی عوامی پیشکش کے بعد، ایمیزون اسٹاک میں تقریباً 40 گنا اضافہ ہوا، جس کے بعد بیزوس کی ذاتی دولت 12 بلین ڈالر سے زیادہ ہوگئی۔
    پرنسٹن کے گریجویٹ نے طویل مدتی سوچ اور کسٹمر سروس پر توجہ مرکوز کرکے اپنی ساکھ بنائی۔ آج، Amazon لاکھوں مختلف پروڈکٹس فروخت کرتا ہے، جن میں سے بہت سے فریق ثالث فروشوں کے ذریعے خریدے جاتے ہیں جو اپنے آرڈرز کو پورا کرنے میں مدد کے لیے Amazon کی ڈیٹا مینجمنٹ سروسز پر انحصار کرتے ہیں۔
    کمپنی نے 2007 میں کنڈل الیکٹرانک بک ریڈر متعارف کرایا۔ چار سال بعد، ایمیزون نے کنڈل فائر جاری کیا، جس سے کمپنی ٹیبلیٹ کمپیوٹر کے کاروبار میں ایپل کے مقابلے میں تھی۔
    بیزوس واشنگٹن پوسٹ کے مالک ہیں اور وہ بلیو اوریجن کی بھی نگرانی کرتے ہیں، جو ایک خلائی ریسرچ کمپنی ہے جو لاگت کو کم کرنے اور خلائی پرواز کی حفاظت کو بڑھانے کی کوشش کرتی ہے۔ ا نھوں نے ستمبر 2018 میں پری اسکول کے پروگراموں اور بے گھر خاندانوں کی مدد کے لیے $2 بلین اور فروری 2020 میں موسمیاتی تبدیلی سے لڑنے کے لیے $10 بلین دینے کا وعدہ کیا۔
    جیف بیزوس اور ان کی اہلیہ میک کینزی اسکاٹ نے 2019 میں طلاق لے لی۔ میک کینزی نے اپنی علیحدگی کے حصے کے طور پر ایمیزون میں 4% حصص حاصل کیا۔
    انہوں نے فروری 2021 میں اعلان کیا کہ وہ ایمیزون کے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے ریٹائر ہو جائیں گے، اپنی انسان دوستی اور دیگر کمپنیوں کے لیے زیادہ وقت دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جولائی 2021 میں اس نے بلیو اوریجن کے پہلے عملے کے مشن میں شمولیت اختیار کی۔
    بیزوس نے مئی 2023 میں لارین سانچیز سے منگنی کی۔
    سنگ میل
    1964 جیفری بیزوس البوکرک، نیو میکسیکو میں پیدا ہوئے۔
    1986 پرنسٹن یونیورسٹی سے گریجویشن کیا اور بینکرز ٹرسٹ میں نوکری حاصل کی۔
    1994 میں کتابیں آن لائن فروخت کرنے کے لیے Amazon.com قائم کی۔
    1997 ایمیزون کو ابتدائی عوامی پیشکش میں $18 فی حصص کی فہرست میں شامل کیا۔
    1999 ٹائم میگزین کے پرسن آف دی ایئر کے لئے نامزدگی
    2003 جنوب مغربی ٹیکساس میں ایک ہیلی کاپٹر حادثے سے بچے۔
    2007 Kindle الیکٹرانک بک ریڈر متعارف کرائی۔
    2010 ای بک کی فروخت Amazon.com پر روایتی کتابوں کی فروخت کو پیچھے چھوڑ گئی۔
    2013 واشنگٹن پوسٹ اخبار کو 250 ملین ڈالر میں خریدا۔
    2017 میں امیر ترین شخص بن گئے۔
    2019 بیزوس اور میکنزی ا سکاٹ نے اعلان کیا کہ وہ طلاق لے رہے ہیں۔
    2021 ایمیزون کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے عہدے سے سبکدوش ہو گئے۔
    2021 خلاء میں بلیو اوریجن کے پہلے عملے کے مشن میں شامل ہوئے
    2023 میں 500 ملین ڈالر کی سپر یاٹ کورو نے سمندری آزمائش شروع کی۔

    #3 مارک زکربرگ نیٹ ورتھ6 21 بلین ڈالر
    زکربرگ میٹا پلیٹ فارمز کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو ہیں، جو فیس بک چلانے والی کمپنی ہے جو دنیا کا سب سے بڑا سوشل نیٹ
    ورک ہے مینلو پارک، کیلیفورنیا میں مقیم کاروباری شخصیت کی آمدنی 2023 میں 134.9 بلین ڈالر تھی اور ان کے ماہانہ صارفین تقریباً 4 بلین ہیں۔
    زکربرگ کی خوش قسمتی کا زیادہ تر حصہ ستمبر 2024 کی فائلنگ کی بنیاد پر میٹا پلیٹ فارمزہیں، جو پہلے فیس بک تھا،
    فیس بک دنیا کا سب سے بڑا سوشل نیٹ ورک ہے۔ فروری 2024 کی کمپنی پریزنٹیشن کے مطابق، میٹا پلیٹ فارمز کے ہر ماہ تقریباً 4 بلین فعال صارفین ہوتے ہیں جن میں فیس بک پر تقریباً 3 بلین شامل ہیں۔ کمپنی نے 17 مئی 2012 کو ابتدائی عوامی پیشکش میں حصص فروخت کیے جو اس وقت کی تاریخ کا سب سے بڑا ٹیکنالوجی IPO تھا۔
    پراکسی کے مطابق، ارب پتی ٹرسٹ اور ہولڈنگ کمپنیوں کی ایک سیریز کے ذریعے حصص کا مالک ہے۔ دسمبر 2015 کی فائلنگ کے مطابق، وہ اپنی زندگی بھر میں اپنے حصص کا 99% دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ زکربرگ نے اپنی انسان دوستی کو فنڈ دینے کے لیے اگست 2016 میں حصص فروخت کرنا شروع کیے تھے
    ان کی نقد سرمایہ کاری کی قدر اندرونی لین دین کے تجزیہ پر مبنی ہے زیادہ تر Facebook کے شیئرز کی فروخت جس کی قیمت بلومبرگ ڈیٹا اور کمپنی کی فائلنگ کے تجزیہ سے ہوتی ہے نیز ٹیکس، جائیداد کی خریداری، انسان دوستی اور مارکیٹ کی کارکردگی
    تعلیم:وائٹ پلینز، نیو یارک میں پیدا ہوئے، زکربرگ نے ایلیٹ بورڈنگ اسکول فلپس ایکسیٹر اکیڈمی میں کمپیوٹر پروگرامنگ کے ماہر کے طور پر اپنی ساکھ بنائی۔ Exeter سے گریجویشن کرنے کے بعد ہارورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا، جہاں انھوں نے تین دوستوں کے ساتھ مل کے اپنے کمرے سے فیس بک شروع کی۔ سائٹ نے تیزی سے دوسری یونیورسٹیوں کی طرف ہجرت شروع کر دی، جس سے زکربرگ کو ہارورڈ چھوڑ کر سلیکن ویلی جانے کا اشارہ ملا۔
    انھوں نے 2004 کے موسم خزاں میں پیٹر تھیل سے $500,000 کی فنڈنگ حاصل کی۔ دوسری وینچر فرموں کی سرمایہ کاری تیزی سے ہوئی۔ فیس بک کی رکنیت دسمبر 2004 تک 10 لاکھ صارفین تک پہنچ چکی تھی۔ ٹائلر اور کیمرون ونکلیووس نے فیس بک آئیڈیا چوری کرنے کے الزام میں زکربرگ پر مقدمہ دائر کیا۔
    نومبر 2011 میں، فیس بک نے صارف کی پرائیویسی کی خلاف ورزی کی شکایات کو حل کرنے کے لیے فیڈرل ٹریڈ کمیشن کے ساتھ 20 سالہ معاہدہ کیا۔ کمپنی نے 17 مئی 2012 کو نیویارک اسٹاک ایکسچینج میں ابتدائی عوامی پیشکش میں حصص فروخت کیے تھے۔ یہ اس وقت کی تاریخ کا سب سے بڑا ٹیکنالوجی آئی پی او تھا۔
    زکربرگ نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ فلاحی کاموں میں دینے کا وعدہ کیا ہے۔ ستمبر 2010 میں، انھوں نے فیس بک کے $100 ملین شیئرز نیوارک کو عطیہ کیے،
    سنگ میل
    1984 مارک ایلیٹ زکربرگ نیویارک کے وائٹ پلینز میں پیدا ہوئے۔
    2004 تین دوستوں کے ساتھ ہارورڈ کے کمرے میں thefacebook.com بنائی۔
    2004 نے وینچر کیپیٹلسٹ پیٹر تھیل سے $500,000 سرمایہ کاری اکٹھی کی۔
    2005 کمپنی نے باضابطہ طور پر اپنا نام فیس بک میں تبدیل کر دیا۔
    2005 فیس بک کو Yahoo کو فروخت کرنے کے لیے $1 بلین کی پیشکش کو مسترد کر دیا۔
    2012 فیس بک نے ڈیجیٹل فوٹو کمپنی انسٹاگرام کو 1 بلین ڈالر میں حاصل کیا۔
    2012 فیس بک نے حصص بیچے جو اس وقت کی تاریخ کا سب سے بڑا ٹیکنالوجی آئی پی او تھا۔
    2012 سوشل نیٹ ورک نے 1 بلین ممبران کو عبور کیا۔