چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے کہا ہے کہ دھابیجی اسپیشل اکنامک زون رواں سال مئی تک مکمل کر لیا جائے گا۔خصوصی گفتگو کرتے ہوئے خلیل ہاشمی نے کہا کہ دوست ملک کی جانب سے ملک بھر کے اسپیشل اکنامک زونز میں نئی جان ڈالی جا رہی ہے، ان کی افادیت کے بارے میں خدشات کو موثر طریقے سے دور کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ رشکئی اسپیشل اکنامک زون کے حوالے سے بھی نمایاں پیشرفت ہوئی ہے، جبکہ دھابیجی پر کام تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، جس کی تکمیل مئی 2025 تک متوقع ہے۔ جہاں گیس کی فراہمی کو محفوظ بنادیا گیا اور ایک خود مختار بجلی کا نظام تیز رفتاری سے تیار کیا جا رہا ہے۔وزارت منصوبہ بندی کے مطابق سندھ میں دھابیجی کا اسپیشل اکنامک زون سندھ میں 1،530 ایکڑ اراضی پر تیار کیا جا رہا ہے اور اسے دو مرحلوں میں تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے جس میں فیز I کے لیے 750 ایکڑ جبکہ فیز II کے لیے 780 ایکڑ اراضی پر مشتمل ہے۔پاکستانی سفیر نے مزید کہا کہ اس علاقے کو پورٹ قاسم تک آسانی سے رسائی حاصل ہے، جس سے خام مال کی درآمد اور تیار شدہ سامان کی برآمد کے لیے اندرون ملک نقل و حمل کے بڑے اخراجات اور وقت کی بچت ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے گزشتہ ماہ 12 بڑی چینی کمپنیوں کے وفد کے علاقے کا دورہ کرنے کے بعد بتایا ہے کہ چینی تجارتی وفد نے دھابیجی اکنامک زون میں ایک بلین ڈالرز کا میڈیکل سٹی قائم کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔چین کے پاک چین اقتصادی راہداری کی رفتار پر تحفظات کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ ایک خیال ہوسکتا ہے لیکن حقائق بتاتے ہیں کہ چین نے ملک میں ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کے لئے 26 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرکے گرڈ میں 8,800 میگاواٹ بجلی شامل کی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ سی پیک کے عمل میں سست روی کا تاثر درست نہیں ہے۔خلیل ہاشمی نے کہا کہ پاکستانی حکام چینی سرمایہ کاروں اور شہریوں کو بہترسیکیورٹی فراہم کرنے کے لئے پرعزم ہیں اور اس ضمن میں اقدامات کئے جارہے ہیں، کیونکہ چین پاکستان میں صنعتی ترقی کے لئے کوشاں ہے، تاہم یہ ممکن نہیں کہ کوئی بھی ملک اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے دوسرے ملک میں اپنی سیکیورٹی فورسز کو بھیجے۔انہوں نے کہا کہ قراقرم ہائی وے کی بھاشا اور بونجی کے قریب تعمیر نو کی جائے گی، چین کے لیے 1700 سے 1800 ایکڑ اراضی پر کام ہو چکا ہے،اکنامک زونز کی ترقی میں سست روی کی بڑی وجہ زمین کے حصول کے لیے رئیل اسٹیٹ ماڈل ہے۔پاکستانی سفیر نے برآمدات بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے 21 شعبوں کی نشاندہی کی ہے جہاں چین کے ساتھ تجارت بڑھائی جاسکتی ہے۔
Blog
-

آئندہ 2 سال کے دوران الیکٹرک گاڑیوں کے لیے 3 ہزار چارجنگ اسٹیشنز بنائے جائیں گے
حکومت پاکستان کی الیکٹریکل وہیکل پالیسی 2025 تا 2030 کے تحت ملک میں آئندہ 2 سال کے دوران الیکٹرک گاڑیوں کے لیے 3 ہزار چارجنگ اسٹیشنز بنائے جائیں گے۔اردو نیوز کی رپورٹ کے مطابق چارجنگ اسٹیشنز کے لیے ملک کی 2 نجی کمپنیوں ملک انٹرپرائزز اور انڈس ویلی نے حکومت پاکستان کے اشتراک سے چین کی کمپنی ایڈم گروپس کے ساتھ معاہدہ کیا ہے۔پاکستانی کمپنی ملک انٹرپرائزز کے مالک ملک خدا بخش نے بتایا کہ آنے والے 2 سال پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کے مستقبل کے حوالے سے انقلابی ثابت ہوں گے۔
تاہم آٹو موبائل انڈسٹری سے منسلک افراد یہ سمجھتے ہیں کہ حکومتی منصوبہ بندی یا اعلانات پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال میں اضافے کی وجہ نہیں بن سکتے، اس ضمن میں حکومت کو ٹھوس اور قابلِ عمل اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔انرجی وہیکل پالیسی کے تحت سال 2030 تک ملک میں مجموعی طور پر 30 فیصد تک الیکٹرک گاڑیاں استعمال میں لائی جائیں گی۔ملک خدا بخش نے بتایا کہ دو پاکستانی کمپنیاں حکومت پاکستان کے اشتراک سے چینی کمپنی کے ساتھ مل کر اگلے 2 برسوں میں 3 ہزار چارجنگ اسٹیشنز لگائیں گی اور اگلے 2 ہفتوں میں چارجنگ اسٹیشنز لگنا شروع ہو جائیں گے۔ملک خدا بخش نے کہا کہ اس وقت ملک بھر میں الیکٹرک گاڑیوں کے لیے محض 11 سے 13 چارجنگ اسٹیشنز ہیں، ہم حکومتِ پاکستان اور چینی کمپنی کی مدد سے جنوری کے آغاز سے ہی چارجنگ اسٹیشنز لگانا شروع کر دیں گے جن کی تعداد کو 3 ہزار تک بڑھایا جائے گا، تاہم ابتدا کراچی، لاہور، راولپنڈی، فیصل ا?باد، ملتان جیسے بڑے شہروں سے ہوگی، یہ سلسلہ اسلام آباد سے کراچی موٹر وے تک پھیلایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ 2 سال میں چاروں صوبائی دارالحکومتوں، کشمیر اور گلگت بلتستان تک الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنز قائم کر دیے جائیں گے۔اسی مناسبت سے حکومت کی جانب سے ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ چارجنگ اسٹیشنز لگائے جانے کی حکمتِ عملی بنائی گئی ہے۔پاکستان میں لگائے جانے والے چارجنگ اسٹیشنز بجلی کے ساتھ ساتھ سولر پر بھی چل سکیں گے، یہ چارجنگ اسٹیشنز دن میں سولر اور پھر رات میں بجلی پر چلیں گے۔
آٹو موبائل انڈسٹری کے ماہر سنیل منج کے خیال میں اس وقت تک پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کے لیے کوئی بڑا نیٹ ورک نہ ہونے کی وجہ سے اس شعبے میں مستقل قریب میں بھی کوئی بڑی تبدیلی رونما ہوتی ہوئی دکھائی نہیں دے رہی۔انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی مجموعی تعداد ہی 2 ہزار کے لگ بھگ ہے، دوسری جانب الیکٹرک گاڑیوں کے لیے ایک درجن سے بھی کم چارجنگ اسٹیشنز قائم ہیں، اس صورتحال میں پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں سے منسلک کاروبار میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے لیے خدشات موجود رہیں گے۔سنیل منج نے کہا کہ حکومت کو پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کے لیے مکمل نیٹ ورک قائم کرنے کی ضرورت ہے، الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال میں اگر کوئی انقلابی تبدیلی آ بھی سکتی ہے تو وہ موٹر سائیکلوں یا رکشوں کے حوالے سے آسکتی ہے اور فور ویلر گاڑیوں کے استعمال میں بڑے اضافے کے فی الحال امکانات نہیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’کسی بھی ملک میں ٹیکنالوجی کا استعمال وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتا ہے، الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال میں بھی راتوں رات بڑا اضافہ نہیں ہو سکتا، اس لیے حکومت کو ایک جامع منصوبے کے تحت آگے بڑھنا ہوگا۔آٹو موبائل انڈسٹری کے ایک اور ماہر سید علی رضا نے اپنا تبصرہ کرنے سے قبل سوال اٹھایا کہ کیا ان چارجنگ اسٹیشنز کا حال بھی کچھ عرصہ بعد سی این جی اسٹیشنز جیسا نہیں ہو جائے گا؟انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آنے والی مختلف حکومتیں الیکٹریکل وہیکلزکے استعمال میں اضافے کے اعلانات کرتی رہی ہیں مگر ہوم ورک نہ ہونے کی وجہ سے اْنہیں کامیابی نہیں مل سکی، اسی طرح جب پاکستان میں سی این جی اسٹیشنز لگائے گئے تو اْن کے حوالے سے بھی کوئی پائیدار حکمت عملی ترتیب نہیں دی گئی تھی جس کے باعث آج سی این جی اسٹیشنز ویران پڑے ہیں۔اْنہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ پہلے اپنا ہوم ورک مکمل کرے اور پھر ایسی پالیسیوں پر کام شروع کرے تاکہ کامیابی کے امکانات زیادہ سے زیادہ ہوں۔ -

الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنز کے لیے بجلی 45 فیصد سستی کرنے کا اعلان
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات کا عمل جاری ہے، الیکٹرک گاڑیوں کی عوام تک رسائی کے لیے چارجنگ اسٹیشنز کے قواعد و ضوابط بنا لیے ہیں، ای وی اسٹیشنز کا بجلی کا ٹیرف 45 فیصد کم کردیا ہے۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ سال 2023 کے 5 ماہ جولائی سے نومبر کے مقابلے سال 2024 میں گردشی قرضے میں کمی آئی، اس عرصے کے دوران ہماری کارکردگی بہتر رہی، تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) نے سال 2023 کے ان مہینوں کے دوران 223 ارب کا نقصان کیا جو سال 2024 کے مذکورہ مہینوں میں 170 ارب سے بڑھنے نہیں دیا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز کابینہ کمیٹی برائے توانائی میں وزیراعظم نے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے تمام انڈسٹریل زونز کو مساوی بنیادوں پر بجلی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا، تمام صنعتی اور اقتصادی زونز سے متعلق طریقہ کار کو تبدیل کیا ہے۔اویس لغاری کا کہنا تھا کہ الیکٹرک گاڑیوں کی لوگوں تک رسائی کے لیے ای وی چارجنگ اسٹیشنز کے قواعد و ضوابط بنا لیے ہیں، گاڑیوں کے لیے چارجنگ اسٹیشنز کا ٹیرف 45 فیصد کم کردیا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ چارجنگ اسٹیشنز کا ٹیرف 71 روپے 10 پیسے کم کرکے 39 روپے 70 پیسے کر رہے ہیں، چارجنگ اسٹینشز کا این او سی 15 دنوں میں جاری کیا جائے گا، ہر محلے میں چارجنگ اسٹیشن ہوگا، ای پورٹل کے ذریعے اس حوالے سے اجازت دی جائے گی، 18 سے 20 لاکھ روپے اور ڈیڑھ کروڑ تک سرمایہ لگا کر اس کاروبار کو شروع کیا جاسکتا ہے۔وفاقی وزیر توانائی نے مزید کہا کہ بین الاقوامی سطح پر اسے بہت بڑی کامیابی سمجھتے ہیں، اچھے ماحول کی طرف مثبت اقدام ہے، موٹرسائیکل، رکشوں، 800 سی سی کی چھوٹی گاڑیوں کے متبادل کے طور پر یہ اقدام عوام کے لیے ایک بہت بڑا موقع ہے۔اویس لغاری نے کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں بڑی حد تک کمی لائی ہے، آئی پی پیز سے لے کر ڈسکوز کی نجکاری تک ہم نے حکومت نے آنے کے بعد ہر مرحلے پر خود کو ثابت کیا ہے، خصوصی سہولت سرمایہ کاری کونسل (ایس آئی ایف سی) کا سازگار ماحول فراہم کرنے میں بہت بڑا کردار رہا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگلے چند ماہ میں پاکستان خطے میں سستے ترین بجلی فراہم کرنے والا ملک بن جائے گا۔
-

الیکٹرک وہیکلز کے لیے چارجنگ اسٹیشنز کے منصوبے کو تیزی سے آگے بڑھائے،وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں الیکٹرک وہیکلز کو فروغ دینے سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی آئے گی، وزارت توانائی نے چارجنگ اسٹیشنز کے لیے بجلی کا ٹیرف 70 روپے سے کم کرکے 40 روپے کر دیا، منصوبہ تیزی سے آگے بڑھایا جائے۔

اسلام آباد میں الیکٹرک وہیکلز کو فروغ دینے کے حوالے سے اقدامات کے جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات پر تشویش پائی جاتی ہے، روایتی ایندھن کی گاڑیوں کے بجائے ماحول دوست توانائی کی حامل الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ دے کر آلودگی میں کمی لائی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ماحول دوست منصوبے اس حوالے سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، باکو میں کوپ 29 کے انعقاد کے دورانبھی دنیا کو درپیش کلائمیٹ چینج کے معاملے پر غور کیا گیا اور کئی اقدامات تجویز کیے گئے۔شہباز شریف نے ہدایت کی کہ وزارت توانائی الیکٹرک وہیکلز کے لیے چارجنگ اسٹیشنز کے منصوبے کو تیزی سے آگے بڑھائے، الیکٹرک وہیکلز کو فروغ دیا جائے گا تو پاکستان کے خزانے پر درآمدی ایندھن کی وجہ سے پڑنے والا زرمبادلہ کا دباؤ کم ہوگا۔انہوں نے کہا کہ مہنگی بجلی کی وجہ سے الیکٹرک وہیکلز کے کلچر کو فروغ دینا مشکل تھا، تاہم وزارت توانائی نے چارجنگ اسٹیشنز کے لیے قیمتوں میں 45 فیصد کمی کا اعلان کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میں وزیر توانائی اویس لغاری اور ان کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے انتھک محنت کرکے یہ کارنامہ سر انجام دیا، اس سے سرمایہ کاروں کو حوصلہ ملے گا اور وہ اس شعبے میں پیسہ لگائیں گے۔وزیر اعظم نے کہا کہ اس حوالے سے تشہیری مہم کا آغاز کیا جائے، یہ بہت اچھا اقدام ہے اور اس سے ماحول میں نمایاں بہتری آنے کی توقع ہے۔ -

چین میں یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام، اور گوگل کے بغیر زندگی کاتجربہ

چین میں قیام کا دوسرا سورج طلوع ہوچکا تھا۔ بارش مسلسل برس رہی تھی، جیسے آسمان اپنے راز زمین پر کھول رہا ہو۔ کل مسٹر چاؤ نے کہا تھا کہ یہاں چھتری کے بغیر زندگی کا تصور ممکن نہیں، اور آج یہ بات سچ ثابت ہو رہی تھی۔ بارش کے نرم قطرے میرے وجود کو بھگو رہے تھے، اور میں سوچ رہی تھی کہ شاید یہ سرزمین اپنے مسافروں کو خوش آمدید کہنے کا یہی طریقہ رکھتی ہے۔
لیکن خوش آمدید کہنے کے اس انداز میں ایک چیلنج بھی تھا۔ ہمیں حلال کھانے کی تلاش تھی، جو کسی بھی اجنبی ملک میں ایک مسلمان کے لیے اولین ترجیح ہوتی ہے۔ میرے ہسبینڈ کے ایک کولیگ نے بتایا کہ یہاں ایک حلال ریستوران ہے جس کا نام ’’ ابو دو‘‘ ہے اور یہ خبر ہمارے لیے نعمت سے کم نہیں تھی۔ بارش میں بھیگتے ہوئے، ہم اس ریستوران کی سمت روانہ ہوئے، دل میں ایک عجیب سی خوشی اور بے چینی لیے کہ شاید ان کے کھانے کا ذائقہ پاکستان کی یادوں کو زندہ کر دے۔
راستے میں وینزو کی گلیاں ہمارے قدموں کے نیچے جیسے زندہ تھیں۔چمکتی سڑکیں ،آسمان سے باتیں کرتی عمارتیں ہر منظر، اور ہر اجنبی چہرہ اپنے اندر کئی کہانیاں چھپائے ہوئے تھا۔ بارش کے ساتھ ان گلیوں کی خاموشی اور گہرائی کچھ ایسی تھی کہ گویا وقت رک سا گیا ہو۔ اور ہم اجنبی مسافر کی طرح ان کہانیوں کا حصہ بننے جا رہے ہوں
یہ سفر صرف حلال کھانے کی تلاش کا نہیں تھا۔ یہ اپنے آپ کو ایک نئی دنیا میں ڈھالنے کا، اجنبیوں میں اپنے لیے جگہ بنانے کا، اور ان تجربات کو اپنے دل میں محفوظ کرنے کا تھا جو زندگی کو مزید خوبصورت بناتے ہیں۔
گو کہ ‘چین ‘ ، کا ہر منظر ایک داستان سناتا ہے اور ہر گلی ایک خواب دکھاتی ہے، یہاں سب سے بڑا چیلنج زبان کا تھا۔ میں نی ہاؤ اور ششی کے درمیان ایسی گم تھی جیسے باقی دنیا کسی اور سیارے پر جا بسی ہو۔ یہاں نہ گوگل چلتا ہے ,نہ یوٹیوب، نہ فیس بک اور نہ انسٹاگرام۔ ایسا لگتا ہے جیسے کسی قدیم بادشاہ کے قلعے میں قید کر دیے گئے ہوں جہاں باہر کی دنیا سے رابطہ صرف ایک خفیہ پیغام رساں کبوتر کے ذریعے ممکن ہو۔
یہاں ’’وی چیٹ‘‘ تھا، جو ہر مقامی شخص کے لیے زندگی کا دوسرا نام تھا۔ اور ’’علی پے‘‘ تو جیسے ان کی رگوں میں دوڑتا خون تھا، بغیر اس کے نہ کھانے کو کچھ ملتا ہے اور نہ رہنے کی جگہ، میں اپنے پرس میں موجود کیش کو حسرت سے دیکھ رہی تھی ، جو زمانہ قدیم کے سکوں کی طرح بیکار ہو چکا تھا۔
یہاں زبان کا مسئلہ ایسا ہے کہ آپ اگر ’’واش روم‘‘ کا پوچھیں، تو لوگ آپ کو ’’گرین ٹی‘‘ کی طرف لے جائیں۔ اور اگر کھانے کے لیے ’’چکن‘‘ طلب کریں، تو آپ کے سامنے ایک مسکراتا ہوا چہرہ کچن لے آئے۔ ہر بات کو سمجھانے کے لیے گوگل ٹرانسلیٹ کو استعمال کیاجاتا ، جو اکثر خود بھی بے بس ہو کر کوئی ایسا ترجمہ کرتا کہ ہم سوچتے، شاید یہ چینی زبان کا کوئی شاعرانہ پہلو ہے۔اور یہ شاعرانہ انداز بغیر وی پی این کے مکمل نہیں ہوسکتا…
یہاں کیش کے سارے معاملات ’’علی پے‘‘ ایپ کے ذریعے حل ہوتے ہیں ، ایک موبائل ایپ جس کے بغیر آپ ایک گلاس پانی بھی نہیں خرید سکتے۔ کوئی پھل لینا ہو، ٹیکسی کرنی ہو یا کافی کا کپ پینا ہو، ہر جگہ موبائل فون کا بارکوڈ اسکین ہوتا ہے، اور رقم “چْپ چاپ” ڈیجیٹل دنیا میں غائب ہو جاتی ہے۔
میں نے سوچا اب ہم بھی ایپ کی دنیا کے مسافر بن جاتے ہیں “، لیکن پھر اگلا دھچکا وی چیٹ نے دیا۔ یہاں کی دنیا وی چیٹ پر گھومتی ہے، بات چیت ہو، بل ادا کرنا ہو یا راستہ پوچھنا ہو، سب کچھ وی چیٹ سے ہوتا ہے۔ جسے ایکٹیویٹ کرنے کے لیے پہلے چائنیز سم خریدنی ہوتی ہے …
چین میں جو سب سے بڑا مسئلہ ہے وہ زبان کا مسئلہ ہے ۔
یہاں بات چیت کا سادہ طریقہ ترجمہ ہے، گویا آپ کسی غیر ملکی ملک میں نہیں، بلکہ ایک عالمی زبانوں کے میلے میں کھڑے ہیں۔ ایک طرف آپ کی موبائل ایپ میں ٹرانسلیٹر کھلا ہوتا ہے اور دوسری طرف آپ کے سامنے چینی زبان کا ایک سمندر، جو سمجھ نہیں آتا مگر اس میں غوطے لگانے پڑتے ہیں۔
چین میں قدم رکھتے ہی جو سب سے پہلا لفظ آپ سیکھتے ہیں وہ ’’نی ہاؤ‘‘ ہوتا ہے، جو کہ ’’ہیلو‘‘ کے مترادف ہے، اور پھر ’’ششی‘‘ آ جاتا ہے، جو ’’شکریہ‘‘ کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ یہ دو الفاظ ہی چین میں آپ کے تمام تر سماجی تعلقات کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ باقی کی باتیں گوگل ترجمہ یا ہاتھوں کے اشاروں پر منحصر ہوتی ہیں۔
ز بان کے مسائلستان سے تو خیر نکل نہیں سکتے مگر سب سے زیادہ دل تب ٹوٹا جب معلوم ہوا کہ یہاں یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام، اور گوگل سب بند ہیں۔ یہ تو ایسا ہی تھا جیسے کسی پرندے کو پنجرے میں ڈال دیا جائے اور کہا جائے، “اب گنگناؤ!” فارنرز کے لیے یہ سب کسی امتحان سے کم نہیں۔ لیکن چین کی یہ دنیا، اپنی تمام تر عجیب و غریب پابندیوں اور اصولوں کے ساتھ، اتنی مختلف اور منفرد ہے کہ بندہ حیران رہ جاتا ہے۔ جیسے کسی پرانی کتاب کا صفحہ پلٹ رہا ہو، جہاں ہر چیز آپ کے فہم سے بالاتر ہو، لیکن پھر بھی دلکش۔
خیر، بات ہو رہی تھی حلال ریستوران تک پہنچنے کی، ہماری چینی لغت ابھی دو الفاظ سے زیادہ نہیں تھی اور گوگل پر پابندی نقشوں اور ترجموں سے محروم کر رہی تھی. …
بحرحال ٹیکسی کی مدد سے ہم اس مشہور مسلم ریستوران تک پہنچ ہی گئے۔ یہ جگہ نہ صرف وینزو بلکہ پورے چین میں اپنی خاص شہرت رکھتی ہے۔ یہاں کے باربی کیو، نان، چائنیز نوڈلز کا ذکر ہر مسافر کی زبان پر ہوتا ہے جو حلال کھانے کی تلاش میں ہوتا ہے۔
ریستوران میں داخل ہوتے ہی ایک عجیب سا سکون محسوس ہوا۔ ماحول نہایت دلکش تھا، اور ترکی انداز کی ڈیکوریشن نے ایک الگ ہی رنگ جما رکھا تھا۔ دیواروں پر خطاطی کے نمونے اور چھت سے لٹکتے خوبصورت فانوس دل کو بھلے لگ رہے تھے۔ فانوسوں کی روشنی مدھم مگر پرکشش تھی، اور ترکی طرز کی آرائش نے ایک ایسا احساس دیا جیسے ہم کسی قدیم شاہی محل میں قدم رکھ چکے ہوں۔ میزوں پر صاف ستھری
ترتیب کے ساتھ پانی کے جگ رکھے تھے، جن میں لیموں کے چند سلائسز تیر رہے تھے۔ یہ ایک ایسی روایت تھی جو دل کو خوش کر دیتی ہے کہ پانی خریدنا نہیں پڑتا۔ چین کے تقریباً ہر ریستوران میں یہی معمول ہے کہ پانی کا جگ اور ساتھ میں گرین ٹی مفت پیش کی جاتی ہے۔ گرین ٹی کا ذائقہ گلاب کی پتیوں جیسا تازگی بھرا تھا، اور یہ پیشکش کسی بھی ریستوران یا حتیٰ کہ کسی فائیو اسٹار ہوٹل میں بھی انتہائی کم قیمت یا بلا معاوضہ ملتی ہے۔
یہاں کی گرین ٹی اور پانی صرف پیاس بجھانے کا ذریعہ نہیں تھے، بلکہ یہ ایک ایسی روایت کی عکاسی کرتے تھے جو چینی مہمان نوازی کی بنیاد ہے۔ جیسے ہی ہم نے باربی کیو اور نوڈلز کا آرڈر دیا، کچن سے آتی خوشبو نے بھوک کو اور بڑھا دیا۔ اس ریستوران کا ماحول ایسا تھا جیسے آپ کسی اجنبی جگہ پر نہیں بلکہ اپنے کسی قریبی دوست کے گھر بیٹھے ہوں۔
کھانے کی پلیٹیں جب میز پر آئیں تو وہ ذائقے اور خوشبو کے لحاظ سے ہماری توقعات سے بڑھ کر تھیں۔ باربی کیو کے مسالے اور نوڈلز کا ذائقہ منفرد اور مزیدار تھا۔ ایک لمحے کے لیے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے ہم اپنے وطن کے کسی ریستوران کے ذائقے چکھ رہے ہوں۔
لیکن کہانی میں ایک نیا موڑ آیا جب ہمیں چوپ اسٹکس کے ساتھ کھانے کا سامنا ہوا۔ یہ باریک لکڑی کی چھڑیاں ہمارے لیے کسی معمہ سے کم نہ تھیں۔ ہر نوالہ لینے کی کوشش کے ساتھ ہی کھانے کا ٹکڑا فرار ہونے کی کوشش کرتا۔ چند منٹوں کی جدوجہد کے بعد، ہم نے ہتھیار ڈال دیے اور آخرکار ویٹر کو ریکویسٹ کی کہ بھائی، ہمیں چمچ اور کانٹے لا دیں، ورنہ آج کھانے کے بغیر ہی لوٹنا پڑے گا۔
ویٹر مسکراتے ہوئے چمچ اور کانٹے لے آیا، یوں لگتا تھا جیسے ہم نے کوئی بڑی جنگ جیت لی ہو۔ چمچ ہاتھ میں آتے ہی کھانے کا لطف دوگنا ہو گیا۔ نوڈلز اور باربی کیو کے ذائقے نے ہمیں مکمل طور پر مسحور کر دیا۔
یہاں کھانے کے دوران یہ احساس شدت سے ہوا کہ مسلم ریستوران نہ صرف کھانے کے ذائقے کے لیے مشہور ہیں بلکہ ان کی گرم جوشی اور مہمان نوازی بھی انہیں خاص بناتی ہے۔ یہ ایک ایسی جگہ تھی جہاں زبان اور کلچر کی تمام رکاوٹیں ختم ہو گئیں، اور صرف کھانے کا مزہ اور مہمان نوازی باقی رہ گئی۔
ریستوران سے باہر نکلتے ہی بارش نے ہمیں ایک بار پھر اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ چھتری تانے ہم وینزو کی صاف ستھری، چمکتی ہوئی سڑکوں پر چلنے لگے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ یہاں کی بارشیں بھی اپنی ذمہ داری نبھاتی ہیں صرف زمین کو نہیں دھوتیں بلکہ ہر چیز کو تازگی کا ایک نیا رنگ دیتی ہیں۔ بازاروں کی ترتیب، دکانوں کی چمک، اور سڑکوں کی صفائی نے ہمیں حیران کر دیا۔ یہ سب کچھ اتنا بے عیب اور منظم تھا کہ جیسے کسی خوبصورت خواب کا حصہ ہو۔
لیکن یہ سوال ہمارے ذہن میں بار بار آ رہا تھا ” کیا یہ صفائی اور خوبصورتی مہنگائی کی قیمت پر آتی ہے؟ ” کیا چین میں زندگی جتنی دلکش نظر آتی ہے، اتنی ہی مہنگی بھی ہے؟
یہ سوالات ہمیں گلیوں اور بازاروں کی کھوج کی طرف لے جا رہے تھے۔ کیا چین کی صفائی، نظام، اور ترقی کی قیمت یہاں کے لوگوں کے لیے بوجھ ہے، یا یہ سب کچھ ایک مثالی توازن کا نتیجہ ہے؟ اگلی قسط میں ہم چین کے بازاروں کی روشنیوں اور ان کی حقیقتوں کو کھوجیں گے،
اور یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ کیا یہ دلکش منظر مہنگائی کے پردے میں چھپا ہوا ہے یا واقعی حقیقی خوشحالی کا عکس ہے۔
تو انتظار کیجیے، کیونکہ یہ کہانی ابھی باقی ہے۔ -

پاکستانی تجارتی وفد کا 12 سال بعد دورہِ بنگلہ دیش
کراچی(کنزیومر واچ نیوز)پاکستان کے تجارتی وفد نے 12 سال بعد ایف پی سی سی آئی کے صدر کی زیرقیادت بنگلہ دیش کا دورہ کیا جہاں دوطرفہ اقتصادی روابط اور سرمایہ کاری بڑھانے پر زور دیا گیا۔ایف پی سی سی آئی سے جاری بیان کے مطابق صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ کی زیر قیادت پاکستانی تجارتی وفد نے بنگلہ دیش کے وزیر تجارت شیخ بشیرالدین سے ملاقات کی اور پاکستانی وفد نے دونوں برادر ممالک کے مابین اقتصادی روابط اور سرمایہ کاری بڑھانے پر زور دیا گیا۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ یہ ایک نئے دور کا آغاز ہے، آزمائش کے ہر موقع پر بنگلہ دیش کے ساتھ کھڑے ہوں گے، بنگلہ دیشی وزیر تجارت نے پاکستان سے تجارتی تعلقات کو ترجیح دینے کا اعلان کیا ہے۔سینیئر نائب صدر ایف پی سی سی آئی ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کی جانب سے پاکستانیوں کے لیے ویزا شرائط میں نرمی کا خیر مقدم کرتے ہیں، پاکستانی بزنس کمیونٹی کو لانگ ٹرم ویزے دیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھی بنگلہ دیش کے لیے ویزا شرائط میں نرمی کر دی ہے۔بنگلہ دیش کے وزیر تجارت شیخ بشیرالدین نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ مل کر اقتصادی، معاشی، سرمایہ کاری، انڈسٹریل، کاروباری اور تجارتی مواقع تلاش کریں گے۔پاکستانی وفد سے ہونے والی ملاقات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ باہمی تجارت بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے، پاکستانی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کریں گے۔اجلاس میں بنگلہ دیش میں پاکستانی ہائی کمشنرسید احمد معروف نے خصوصی شرکت کی۔
-

اسٹیل ملز کی بندش کا زرمبادلہ ذخائر اور توازن تجارت پر منفی اثر
کراچی(کنزیومر واچ نیوز)پاکستان اسٹیل مل کی بحالی وفاقی حکومت اور سندھ حکومت کے درمیان بات چیت کا مرکزی موضوع بنی ہوئی ہے، یہ 2015 سے غیرفعال ہے، پاکستان اسٹیل مل کی بندش کا صنعتی شعبے پر منفی اثر پڑا ہے اور درآمدات پر انحصار بڑھتا جارہا ہے، جس کی لاگت اربوں ڈالر سالانہ ہے، جو ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر اور تجارتی خسارے پر منفی اثر ڈال رہا ہے. وفاقی حکومت اسٹیل مل کی نجکاری کو ترجیح دیتی ہے، جبکہ سندھ حکومت اس کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت چلانا چاہتی ہے۔سندھ حکومت نجی سرمایہ کاری کے حصول کے ساتھ ساتھ مقامی کمیونیٹیز اور مزدوروں کی فلاح کو بھی ممکن بنانا چاہتی ہے اور اس پر زور دیتی ہے۔سندھ نے ایک پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل تجویز کیا ہے، جس میں صوبائی حکومت آپریشنز کی نگرانی اور سماجی اور ماحولیاتی معیارات کی تعمیل کو یقینی بنانے میں فعال کردار ادا کرے گی۔اسٹیل مل کی بحالی سے اسٹیل کی درآمد پر انحصار کم کیا جاسکتا ہے اور پائیدار صنعتی ایکوسسٹم کی تشکیل کی جاسکتی ہے، تاہم اسٹیل مل کی بحالی چیلنجوں سے بھرا ایک راستہ ہے۔اسٹیل مل کی بحالی کیلیے 1 ارب ڈالر سے زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، جبکہ آپریشنل رکاوٹوں جیسا کہ گیس کی فراہمی، لیبر کے مسائل، ماحولیاتی مسائل وغیرہ سے نمٹنا ہوگا۔
-

روشن ڈیجیٹل اکاونٹ میں سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے 9.342 ارب ڈالر جمع
کراچی (کنزیومر واچ نیوز)روشن ڈیجیٹل اکاونٹ (آر ڈی اے)میں دسمبر 2024 کے اختتام تک سمندر پار مقیم پاکستانیوں کی جانب سے 9.342 ارب ڈالر جمع کرائے گئے ہیں۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق دسمبر 2024 کے دوران آر ڈی اے میں 203 ملین ڈالر کی وصولیاں ہوئیں جبکہ نومبر 2024 کے دوران 186 ملین ڈالر وصول ہوئے تھے۔ اس طرح نومبر کے مقابلے میں دسمبر 2024 کے دوران آر ڈی اے میں 17 ملین ڈالر زائد جمع کروائے گئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ستمبر 2020 سے دسمبر 2024 کے دوران آر ڈی اے میں مجموعی طور پر 9.342 ارب ڈالر کی وصولیاں ہوئیں جبکہ اس دوران 1.7 ارب ڈالر واپس بیرون ملک منتقل کئے گئے ہیں اور 5.911 ارب ڈالر کا مقامی استعمال کیا گیا ہے۔ایس بی پی کے مطابق دسمبر 2024 کے اختتام تک آر ڈی اے ڈیجیٹل اکائونٹس کی تعداد 7 لاکھ 78 ہزار 713 تک پہنچ گئی جبکہ نومبر 2024 کے خاتمہ پر یہ تعداد 7 لاکھ 68 ہزار 394 ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس طرح نومبر کے مقابلہ میں دسمبر 2024 کے دوران آر ڈی اے ڈیجیٹل اکائونٹس کی تعداد میں 10 ہزار 319 اکائونٹس کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
-

پاکستان برآمدات میں خطے کے دیگر ممالک کی نسبت سب سے پیچھے
کراچی(کنزیومر واچ نیوز)پاکستان برآمدات میں خطے کے دیگر ممالک کی نسبت سب سے پیچھے رہ گیا۔دستاویز کے مطابق سری لنکا، بنگلا دیش، مصر اور بھارت کی برآمدات پاکستان سے زیادہ ہیں، دیگر ممالک کی برآمدات جی ڈی پی کا 27 فیصد جبکہ پاکستان کی 10 فیصد تک محدود ہیں، 2010 سے 2024 تک ہر سال جی ڈی پی شرح کے لحاظ سے برآمدات کم ہوئیں۔2010 میں برآمدات جی ڈی پی کا 13 فیصد تھیں جو 2024 میں کم ہو کر 10 فیصد رہ گئیں، بھارت کی برآمدات جی ڈی پی کا 22 فیصد اور بنگلا دیش کی 13 فیصد ہیں۔تعلیم اور صحت اخراجات میں بھی پاکستان خطے کے دیگر ممالک سے پیچھے ہے، ہیلتھ سروسز کیلئے پاکستان جی ڈی پی کا محض 0.8 فیصد کرچ کر رہا ہے، ہیلتھ سروسز پر بھارت جی ڈی پی کا 1.1 فیصد، سری لنکا 1.9 فیصد خرچ کر رہا ہے۔تعلیمی اخراجات کی بات کی جائے تو پاکستان جی ڈی پی کا 1.9 فیصد خرچ کر رہا ہے جبکہ پاکستان کی نسبت بھارت تعلیم پر کل جی ڈی پی کا 4.1 فیصد خرچ کر رہا ہے۔
-

یاماہا پاکستان کی جانب سے شاندار آفر کا اعلان
کراچی(کنزیومر واچ نیوز)یاماہا پاکستان نے موٹرسائیکل کے شوقین افراد کے لیے ایک دلچسپ پیشکش کی ہے، جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ صارفین کے لیے یاماہا موٹرسائیکل خریدنا آسان بنانا ہے۔ کمپنی نے “اب خریدو، بعد میں ادا کرو” کی طرز پر نیا فنانسنگ آپشن متعارف کروا دیا ہے۔یاماہا پاکستان نے سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کے ساتھ شراکت داری کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت صارفین “آسان انسٹالمنٹ پلان” کے ذریعے یاماہا موٹرسائیکل خرید سکتے ہیں۔”اسٹینڈرڈ چارٹرڈ آسان انسٹالمنٹ پلان کے ساتھ، آپ یاماہا موٹرسائیکل 12 ماہ کی اقساط میں 0% مارک اپ پر حاصل کر سکتے ہیں۔”یہ آفر ان صارفین کے لیے بہترین ہے جو ایک ہی دفعہ بڑی رقم ادا کرنے سے بچنا چاہتے ہیں اور ماہانہ قسطوں پر بائیک خریدنے کے خواہشمند ہیں۔یاماہا نے 2024 میں YBR125G ماڈل میں نیا رنگ متعارف کروایا ہے۔کمپنی نے اپنے فیس بک پیج پر نئے ماڈل کے حوالے سے اعلان کرتے ہوئے کہاکہ:”نئی یاماہا YBR125G کو متعارف کروایا جا رہا ہے، اب شاندار میٹالک یلو کلر میں۔ اپنی مہمات پر نکلیں اور سڑکوں پر چمک بکھیر دیں۔”یاماہا کا یہ نیا رنگ سڑک پر نمایاں نظر آنے کے لیے ایک منفرد اور پرکشش انتخاب ہے۔ کمپنی کے مطابق اس منفرد رنگ کی بدولت موٹرسائیکل کا اسٹائل اور جاذبیت مزید بڑھ جائے گی۔
