Blog

  • شہباز شریف اور حمزہ شہباز رمضان شوگر مل کرپشن کیس میں بری

    شہباز شریف اور حمزہ شہباز رمضان شوگر مل کرپشن کیس میں بری

    اینٹی کرپشن عدالت لاہور نے رمضان شوگرمل کرپشن کیس میں وزیراعظم شہباز شریف اور سابق وزیر اعلیٰ پنجبا حمزہ شہباز کی بریت درخواست منظور کرلی۔اینٹی کرپشن عدالت کے جج سردار محمد اقبال ڈوگر نے 3 فروری کو وزیراعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف رمضان شوگر ملز ریفرنس پرسماعت کی تھی۔ عدالت نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی بریت پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسے 6 فروری کو سنایا جائے گا۔اینٹی کرپشن عدالت اپنے فیصلے میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو رمضان شوگر مل گندہ نالہ کیس میں بری کر دیا، اینٹی کرپشن عدالت کے جج سردار محمد اقبال ڈوگر نے فیصلہ سنایا، عدالت نے کہا کہ سزا کا امکان نہیں ہے۔11 جولائی 2017 کو نیب لاہور رمضان شوگر ملز ریفرنس میں میں انکوائری کا آغاز کیا تھا، نیب نے الزام لگایا تھا کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز نے 2015 میں چنیوٹ میں رمضان شوگر ملز کے لیے نالہ تعمیر کروایا، گندے نالے کی تعمیر سے ملکی خزانے کو 21 کروڑ 30 لاکھ روپے کا نقصان ہوا، وزیر اعظم شہباز شریف کو نیب نے 5 اکتوبر 2018 کو نیب نے گرفتار کیا۔حمزہ شہباز شریف کو رمضان شوگر ملز ریفرنس میں 11 جون 2019 کو گرفتار کیا گیا، احتساب عدالت لاہور نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر 9 اپریل 2019 کو فرد جرم عائد کی، نئے ثبوتوں کے بعد اور ضمنی ریفریس دائر ہونے کے بعد 6 اگست 2020 کو پھر سے فرد جرم عائد کی گئی۔ 14 فروری 2019 کو لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے شہباز شریف کی ضمانت منظور کی تھی،شہباز شریف رمضان شوگر ریفرنس میں 4 ماہ 9 دن تحویل میں رہے، 6 فروری 2020 کو لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے حمزہ شہباز کی ضمانت منظور کی، حمزہ شہباز شریف رمضان شوگر ریفرنس میں 7 ماہ 26 دن تحویل میں رہے، نیب ترامیم کے بعد احتساب عدالت لاہور نے 11 ستمبر 2022 کو ریفرنس نیب کو واپس بھجوایا۔سپریم کورٹ نے نیب ترمیمی ایکٹ کلعدم قرار دیا تو 22 ستمبر 2023 کو ریفریس سماعت کے لیے دوبارہ احتساب عدالت کو بھیجا گیا، 6 ستمبر 2024 کو سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کو پھر سے بحال کیا تھا۔17 اکتوبر 2024 کو احتساب عدالت لاہور نے رمضان شوگر ملز ریفرنس اینٹی کرپشن عدالت کو منتقل کردیا تھا، احتساب عدالت لاہور میں رمضان شوگر ملز ریفریس کی 105 جبکہ اینٹی کرپشن عدالت میں 13 مرتبہ سماعت ہوئی۔

  • وزیراعظم سمیت دیگر قائدین کی کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کی حمایت کی تجدید

    وزیراعظم سمیت دیگر قائدین کی کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کی حمایت کی تجدید

    قائم مقام صدرو سینیٹ چیئرمین، وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان، اسپیکر قومی اسمبلی سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں پاکستان کی حکومت کی طرف سے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے حصول کے لیے ان کی منصفانہ اور جائز جدوجہد کی مستقل حمایت کی تجدید کی ہے۔وزیر اعظم آفس سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام ہر سال ”یوم یکجہتی کشمیر” مناتے ہیں تاکہ کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے حصول کے لیے ان کی منصفانہ اور جائز جدوجہد کی مستقل حمایت کی تجدید کی جاسکے۔ حق خود ارادیت بین الاقوامی قانون کا ایک بنیادی اصول ہے، ہر سال، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی ایک قرارداد منظور کرتی ہے جس میں لوگوں کو اپنی تقدیر خود طے کرنے کے قانونی حق پر زور دیا جاتا ہے۔ افسوس کہ کشمیری عوام گزشتہ 78 سال گزرنے کے باوجود اس ناقابل تنسیخ حق کو استعمال نہیں کر سکے۔غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر تسلط، مقبوضہ جموں و کشمیر (IIOJK) دنیا کے سب سے بڑے قابض فوجی علاقوں میں سے ایک ہے۔ کشمیری خوف اور دہشت کے ماحول میں جی رہے ہیں۔ سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے محافظوں کو طویل حراست میں رکھا جا رہا ہے اور ان کی جائیدادیں ضبط کی جا رہی ہیں۔ کشمیری عوام کی حقیقی امنگوں کی نمائندگی کرنے والی سیاسی جماعتوں پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ ان جابرانہ اقدامات کا مقصد اختلاف رائے کو کچلنا ہے۔بھارت، مقبوضہ کشمیر پر اپنے غیر قانونی قبضے کو مستحکم کرنے کے لیے غیر قانونی اقدامات کر رہا ہے۔ 5 اگست, 2019 کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کے بعد، بھارت کی کوششوں کا مقصد بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کی آبادی اور سیاسی ماحول کو تبدیل کرنا ہے تاکہ کشمیری اپنی ہی سرزمین میں ایک بے اختیار کمیونٹی میں تبدیل ہو جائیںـمشرق وسطیٰ کی حالیہ پیش رفت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ دیرینہ تنازعات کو مزید طول نہیں دیا جانا چاہیے۔ مقامی لوگوں کی حقیقی امنگوں کو دبا کر دیرپا امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن کے مفاد میں عالمی برادری کو بھارت پر زور دینا چاہیے کہ وہ کشمیری عوام کو آزادانہ طور پر اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی اجازت دے۔میں اس بات کا اعادہ کرنا چاہتا ہوں کہ جموں و کشمیر کا تنازعہ ہماری خارجہ پالیسی کا ایک اہم ستون رہے گا۔ پاکستان کشمیری عوام کے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق، حق خودارادیت کے حصول تک ان کی غیر متزلزل اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا۔ میں اس موقع پر بہادر کشمیری عوام کے عزم اور حوصلے کو سلام پیش کرتا ہوں، جو اپنے بنیادی حقوق اور آزادیوں کے حصول کے لیے اپنی جدوجہد میں لاتعداد قربانیاں دے رہے ہیں۔سینیٹ سیکرٹریٹ سے جاری بیان میں قائمقام صدر سید یوسف رضا گیلانی نے یوم یکجہتی کشمیر پر اظہارِ یکجہتی کیا اور کہا کہ کشمیری عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، پاکستان ہر محاذ پر کشمیری عوام کی حمایت جاری رکھے گا۔سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ عالمی برادری کشمیری عوام کو ان کا حقِ خودارادیت دلانے میں کردار ادا کرے، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں قابلِ مذمت ہیں، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، کشمیریوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے، پوری پاکستانی قوم کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے، یومِ یکجہتی کشمیر، مظلوم کشمیری عوام سے عہدِ وفا کا دن ہے۔
    ان کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی دنیا کے ضمیر کا امتحان ہے، بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور مظالم قابلِ مذمت ہیں، پاکستان سفارتی، اخلاقی اور سیاسی سطح پر کشمیری عوام کے ساتھ ہے، یوم یکجہتی کشمیر عزم، حوصلے اور قربانیوں کی داستان ہے، کشمیر کی آزادی تک ہر فورم پر کشمیری عوام کی آواز بلند کرتے رہیں گے، 5 فروری مظلوم کشمیریوں کے حق میں آواز اٹھانے کا دن ہے، کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر خصوصی پیغام میں کہا کہ مسئلہ کشمیر برصغیر کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا ہے، خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل ناگزیر ہے، پاکستان کشمیری عوام کی جدو جہد آزادی کی مکمل حمایت کرتا ہے، گزشتہ 78 برسوں سے کشمیری عوام بھارتی ظلم و جبر کا سامنا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عالمی برادری مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لے، بھارتی آئین سے آرٹیکل 370 اور 35A کی منسوخی بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے، کشمیری عوام نے اپنے حق خودارادیت کے حصول کے لیے لازوال قربانیاں پیش کی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ طاقت کے بل بوتے پر کشمیری عوام کی تحریک آزادی کو دبایا نہیں جا سکتا، حق خودارادیت کے حصول کیلئے جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے بہادر سپوتوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔وفاقی وزیر اطلاعات عطائ اللہ تارڑ نے کہا کہ آج کے دن ہم نہتے اور مظلوم کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھنے کا عہد کرتے ہیں، مقبوضہ کشمیر کے عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کی بھرپور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، کشمیر کے بہادر جوانوں، ما?ں اور بہنوں کی لازوال قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی،کشمیریوں کا خون مقدس خون ہے۔ عطائ اللہ تارڑ نے کہا کہ کشمیری عوام اپنے حق کے لئے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں، کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت ملنا چاہئے، کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کا خاتمہ ہونا چاہئے، پاکستان کے عوام کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں، ہمیشہ ان کی حمایت جاری رکھیں گے۔یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام اورصوبائی حکومت یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر کشمیری عوام سے مکمل یکجہتی کا اظہا ر کرتے ہیں، آزادی ،کشمیر کے عوام کا بنیادی حق ہے۔ ہم آزادی کی اس جدوجہد میں کشمیری عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں، آج کے دن ہم مقبوضہ کشمیر کے عوام کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں، انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں کو چاہئے کہ وہ کشمیری عوام پر بھارتی ظلم و ستم کا نوٹس لیں،انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کشمیری عوام کو اْن کا حق خودارادیت دلانے کے سلسلے میں اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عملدرآمد کے لئے اپنا کردار ادا کرے، خطے کا امن مسئلہ کشمیر کے حل سے وابستہ ہے ، اس کے بغیرخطے میں دیر پاامن کا قیام ممکن ہی نہیں، مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام جس طرح ایک طویل عرصے سے آزادی کے لیے جدو جہد کر رہیہیں اس کی پوری دنیا میں مثال نہیں ملتی۔علی امین گنڈاپور نے کہا کہ بانی چئیرمین پی ٹی آئی تحریک نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جس طرح موثر اور توانا انداز میں کشمیر کا مسئلہ اْٹھایا، اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، ہم بانی چئیرمین کے وڑن کے مطابق آزادی کی اس جدوجہد میں اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر صدرمسلم کانفرنس و سابق وزیراعظم آزادکشمیر سردارعتیق احمد خان نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ کشمیری عوام یوم یکجہتی منانے پر اہل پاکستان کے شکرگزار ہیں، اہل پاکستان کی یکجہتی کے عمل سے کشمیری عوام کے حوصلے بلند ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیر اور پاکستان لازوال رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں، جلد یابادیر کشمیر پر آزادی کا سورج طلوع ہوگا، وہ وقت دور نہیں جب سارے کشمیر پر پاکستانی پرچم لہرائے جائیں گے، ہندوستان نے کشمیر کے محاذ پر کوئی ایڈونچر کیا تو اسے منہ کی کھانی پڑے گی۔جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جے یو آئی آج بھر پور طریقے سے یوم یکجہتی کشمیر منائے گی، اقوام متحدہ کی قرارداد پر عملدرآمد میں بھارت کا منفی رویہ اور ہٹ دھرمی رکاوٹ ہے، اقوام متحدہ کشمیر میں استصواب رائے کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہا۔
    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سات دہائیاں گذرنے کے باوجود اقوام متحدہ کی جانب سے 1948اور 1949 کی قراردادوں پر عملدرآمد کیلئے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے گئے، بھارت کے کشمیر پر غاصبانہ تسلط کا عالمی برادری نوٹس لے، ہمارے حکمرانوں نے کشمیریوں کے خون اور ناموس کو اپنی سیاست کے لئے استعمال کیا ہے، 5 فروری ظلم کے خلاف جدوجہد، حق کی حمایت اور آزادی کی تحریک کا دن ہے۔انہوں نے کہا کہ انصاف کے نام پر بنی اقوام متحدہ کشمیر کے لیے کب حرکت میں آئے گی؟ کشمیر کے شہیدوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، بھارت کے مظالم تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے، عالمی طاقتیں بھارتی ظلم پر کب بولیں گی؟ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کو سلام پیش کرتے ہیں، کشمیری عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، ہم کشمیریوں پر سالوں سے جاری بھارتی مظالم کی شدید مذمت کرتے ہیں، اقوام متحدہ کشمیریوں کو حق خودارادیت دلانے میں کردار ادا کرے، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، ہم ہر فورم پر کشمیریوں کی حمایت جاری رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کا مقدمہ ہر سطح پر اٹھائیں گے، حکومت سندھ کشمیری عوام کی حمایت میں ہر ممکن اقدام کرے گی، سندھ بھر میں کشمیر کے حق میں تقریبات اور ریلیوں کا انعقادکیا گیا ہے۔سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ آج یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر ہم اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں، کشمیری عوام دہائیوں سے اپنے حق خودارادیت کی جنگ لڑ رہے ہیں اور بھارتی ظلم و جبر کا سامنا کر رہے ہیں، کشمیری عوام کی آزادی کی جدوجہد کو طاقت کے زور پر دبایا نہیں جا سکتا، پاکستان ہمیشہ سے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کا حامی رہا ہے اور ہر عالمی فورم پر ان کے حق کے لیے آواز بلند کرتا رہے گا۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ بھارتی قابض افواج کے مظالم کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنا ہماری ذمہ داری ہے، ہم اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لیں۔

  • پیکا قانون: مشاورت اور بات چیت کی گنجائش موجود ہے، وفاقی وزیراطلاعات

    پیکا قانون: مشاورت اور بات چیت کی گنجائش موجود ہے، وفاقی وزیراطلاعات

    اسلام آباد: حکومتی نمائندوں نے پیکا قانون سازی پر جلد بازی کا اعتراف کرتے ہوئے بات چیت پر رضا مندی ظاہر کی ہے۔ایک بیان میں سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ وہ مانتے ہیں پیکا قانون سازی میں حکومت نے جلد بازی کی اور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ پیکا کا معاملہ ایسی بات نہیں جس کی اصلاح نہیں ہو سکتی، اس معاملے پر صحافیوں کی رائے لینی چاہیے تھی جو قانون مشاورت سے اچھا بن سکتا تھا وہ متنازع ہوگیا۔دوسری جانب وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ قوانین میں بہتری کی ہمیشہ گنجائش موجود رہتی ہے، ابھی پیکا ایکٹ کے رولزبننے ہیں، اس میں مشاورت اور بات چیت کی بہت گنجائش موجود ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مشاورت میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلیں گے، بتایا جائے پیکا ایکٹ میں کونسی شک متنازع ہے ہم اس پربات کرنے کو تیار ہیں۔عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پروٹیکشن اتھارٹی میں نجی شعبے سے نامزدگیاں کی جائیں گی، اتھارٹی میں پریس کلب یا صحافتی تنظیموں سے منسلک صحافیوں کو شامل کیا جائے گا جب کہ ٹربیونل میں بھی صحافیوں اور آئی ٹی پروفیشنل کو شامل کیا گیا ہے۔

  • نوجوان کی محبت میں آنیوالی امریکی خاتون نے واپس جانے کیلئے شرط بتا دی

    نوجوان کی محبت میں آنیوالی امریکی خاتون نے واپس جانے کیلئے شرط بتا دی

    نوجوان کی محبت میں کراچی آنے والی امریکی خاتون نے واپس جانے کے لیے اپنی شرط بتادی۔امریکی خاتون اونیجا اینڈریو رابنس نے کراچی میں سماجی کارکن رمضان چھیپا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اپنے شوہر کو تلاش کر رہی ہوں، اپنے شوہر کے ساتھ دبئی چلی جاو ¿ں گی۔امریکی خاتون نے مطالبہ کیا کہ مجھے پیسے دیے جائیں اور حکومت مجھے ایک لاکھ دے۔دوسری جانب شاہراہ فیصل نرسری کے قریب ایمبولینس کوامریکی خاتون نے رکوالیا اور وہ ایمولنس سے اترکر رکشے میں سوار ہوگئی۔ خاتون نے کہا کہ مجھے تھانے نہیں جانا جس کے بعد وہ شاہراہ فیصل نرسری پرسڑک کنارے بیٹھ گئیں۔نوجوان کی محبت میں امریکا سے کراچی آنیوالی خاتون اب کہاں رہائش پذیر ہیں؟
    رمضان چھیپا کا کہنا ہے کہ خاتون کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں ہے،نوجوان لڑکے سے کہوں گا وہ آئے اور مسئلہ حل کیا جائے۔اس سے قبل امریکی خاتون اونیجا اینڈریو رابنس کو واپس بھیجنے کی تمام کوششیں ناکام ہونے کے بعد اب وہ فلاحی ادارے میں موجود ہے۔رمضان چھیپا کا کہنا ہے کہ امریکی خاتون ٹیپو سلطان تھانے میں تھیں، ان کی طبیعت آرام نہ کرنے کے باعث خراب ہے، خاتون کے رہنے کا انتظام کیا ہے، خاتون میری بہن ہیں، جب تک چاہیں یہاں رہ سکتی ہیں۔اس کے علاوہ خاتون کا ایک بیٹا بھی منظرِ عام پر آیا ہے جس نے والدہ کو ذہنی مریضہ قرار دیا ہے۔واضح رہے کہ مذکورہ خاتون 19 سالہ نوجوان سے شادی کی خواہش لیے گزشتہ برس 11 اکتوبر سے کراچی میں موجود ہیں اور امریکا واپس جانے سے انکار کر رہی ہیں۔امریکی خاتون کا کہنا ہے کہ میری شادی آن لائن ہو چکی ہے، پیسوں کے لیے شادی نہیں کی، میرے پاس پیسہ ہے۔

  • واشنگٹن فضائی حادثہ، ہلاکتوں کی تعداد 67ہوگئی

    واشنگٹن فضائی حادثہ، ہلاکتوں کی تعداد 67ہوگئی

    واشنگٹن ائیرپورٹ کے قریب مسافر طیارہ اور فوجی ہیلی کاپٹر آپس میں ٹکرا گئے جس کے نتیجے میں طیارے اور ہیلی کاپٹر میں سوار تمام 67 افراد ہلاک ہوگئے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی ائیرلائن کی پرواز کینساس کے شہر وکیٹا سے واشنگٹن پہنچی تھی جہاں طیارے کو دریائے پوٹومیک کے اورپر رن وے کے قریب حادثہ پیش آیا۔طیارے میں عملے سمیت 64 افراد اوربلیک ہاک ہیلی کاپٹرمیں3 فوجی اہلکار سوار تھے۔حادثے کے نتیجے میں طیارے اور ہیلی کاپٹر میں سوار تمام 67 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوگئی ہے۔ دریا سے بیشترلاشیں نکال لی گئیں۔پنٹاگون نے حادثے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، اس حادثے کو نائن الیون کے بعد سے 23 برسوں میں بدترین فضائی حادثہ قرار دیا جا رہا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن فضائی حادثے کا ذمہ دار سابق صدر جو بائیڈن اور ڈیموکریٹک پارٹی کو ٹھہرا دیا۔
    ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاوس میں خطاب میں بغیر ثبوت فراہم کیے دعویٰ کیا کہ فیڈرل ایوی ایشن اتھارٹی میں ہر قسم کے لوگوں کی بھرتیاں اِس حادثے کی ذمہ دار ہو سکتی ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شدید تنقید کرتے ہوئے حادثے پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ مسافر طیارہ ٹھیک راستے پر تھا، فوجی ہیلی کاپٹر کو طیارے کی جلتی روشنیاں ،کیوں نظر نہیں آئیں ، رات بھی صاف تھی تو فوجی ہیلی کاپٹرطیارے کی طرف بڑھنے کے بجائے دائیں بائیں کیوں نہیں مڑا۔ٹرمپ نے کہا کہ کنٹرول ٹاور نے ہیلی کاپٹر کے پائلٹ سے طیارہ دکھائی دینے کے سوال کے بجائے،ہنگامی اقدامات کا کیوں نہیں کہا،حادثہ کو یقینی طورپرروکا جانا چاہیے تھا۔اس کے علاوہ امریکی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ فوجی ہیلی کاپٹر تربیتی مشن پر تھا جس دوران غلطیاں ہوئیں۔

  • واشنگٹن: مسافر طیارہ فوجی ہیلی کاپٹر سے ٹکرا کر دریا میں گرگیا، 18 لاشیں نکال لی گئیں، مزید ہلاکتوں کا خدشہ

    واشنگٹن: مسافر طیارہ فوجی ہیلی کاپٹر سے ٹکرا کر دریا میں گرگیا، 18 لاشیں نکال لی گئیں، مزید ہلاکتوں کا خدشہ

    واشنگٹن: مسافر طیارہ فوجی ہیلی کاپٹر سے ٹکرا کر دریا میں گرگیا، 18 لاشیں نکال لی گئیں، مزید ہلاکتوں کا خدشہ،واشنگٹن ائیرپورٹ کے قریب مسافر طیارہ اور فوجی ہیلی کاپٹر آپس میں ٹکرا گئے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی ائیرلائن کی پرواز کینساس کے شہر وکیٹا سے واشنگٹن پہنچی تھی جہاں طیارے کو دریائے پوٹومیک کے اورپر رن وے کے قریب حادثہ پیش آیا۔فلائٹ ریڈار کے مطابق طیارے کو حادثہ مقامی وقت کے مطا ق شام 8 بجکر 48 منٹ پر پیش آیا، اس وقت طیارے کی رفتار 166 کلو میٹر فی گھنٹہ تھی۔رپورٹس کے مطابق بمبارڈیئر CRJ700 طیارے میں 78 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے، فوجی ہیلی کاپٹر سے ٹکرانے کے بعد مسافر طیارہ پوٹومیک دریا میں گرگیا، حادثے کے بعد دریائے پوٹومیک میں غوطہ خوروں کو تعینات کردیا گیا ہے۔امریکی حکام کا بتانا ہےکہ حادثے کا شکار ہونے والے طیارے میں 64 مسافر سوار تھے، حادثے کی اطلاع ملتے ہی امدادی کارروائیاں شروع کردی گئیں اور اب تک 18 لاشوں کو دریا سے نکال لیا گیا ہے اور مزید کی تلاش جاری ہے۔ امریکی فوجی حکام کے مطابق مسافر طیارے سے ٹکرانےوالے فوجی ہیلی کاپٹر میں 3 اہلکار سوار تھے۔امریکی میڈیا کے مطابق مسافر طیارے سے ٹکرانے والا بلیک ہاک فوجی ہیلی کاپٹرتربیتی پرواز پر تھا۔حادثے کے بعد ریگن نیشنل ائیرپورٹ پرتمام پروازیں معطل کردی گئی ہیں جب کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی فضائی حادثے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ فضائی حادثے سے متعلق پوری طرح سے آگاہ کیا گیا ہے، صورتحال کی نگرانی کر رہا ہوں، جیسے ہی مزید تفصیلات سامنے آئیں گی فراہم کی جائیں گی۔واشنگٹن ڈی سی فائر چیف کا کہنا ہے کہ امدادی سرگرمیوں کےلیے صورتحال موافق نہیں ہے، خراب موسم،شدید سردی ریسکیو آپریشن میں رکاوٹ بن رہی ہے، امدادی آپریشن کئی گھنٹوں تک جاری رہ سکتاہے۔ان کا بتانا ہے کہ حادثے میں بچ جانے والوں کے بار ے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔میئر واشنگٹن ڈی سی کا بتانا ہے کہ دریائے پوٹومیک کو بھی کشتی سروس کے لیے بند کردیاگیا ہے۔

  • فورسز کا شمالی وزیرستان میں آپریشن، 6 خوارج ہلاک، مقابلے میں میجر اور سپاہی شہید

    فورسز کا شمالی وزیرستان میں آپریشن، 6 خوارج ہلاک، مقابلے میں میجر اور سپاہی شہید

    سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کر کے 6 خوارج کو جہنم واصل کر دیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق میر علی میں آپریشن 29 اور 30 جنوری کی شب خوارج کی موجودگی کی اطلاع کیا گیا۔آئی ایس پی آر کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے خوارج کے ٹھکانےکا پتہ لگایا اور 6 خوارج کو ہلاک کر دیا۔شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق شدید فائرنگ کے تبادلے میں میجر سمیت دو جوانوں نے جام شہادت نوش کیا، دہشتگردوں کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے میجر اسرار اور سپاہی محمد نسیم نے جام شہادت نوش کیا، میجر اسرار آپریشن کی قیادت کر رہے تھے۔

  • وزارت دفاع نے سویلینز کے ملٹری ٹرائل کیس کا ریکارڈ آئینی بینچ میں پیش کردیا

    وزارت دفاع نے سویلینز کے ملٹری ٹرائل کیس کا ریکارڈ آئینی بینچ میں پیش کردیا

    سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت جاری ہے جس کے دوران جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ آج کل ہمارا ملک اتنا ٹرینڈ ہوچکا ہے کہ 8 ججز کے فیصلے کو 2 لوگ بیٹھ کے کہتے ہیں کہ غلط ہے جب کہ وزارت دفاع نے ملٹری ٹرائل کا ریکارڈ آئینی بینچ میں پیش کردیا۔جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ سماعت کر رہا ہے۔وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے آرمی ایکٹ کے تحت ملٹری ٹرائل کے طریقہ کار پر دلائل دیتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ جج ایڈووکیٹ جنرل حلف اٹھاتا ہے کہ غیر جانبداری کو برقرار رکھے گا، سپریم کورٹ اس سماعت میں ہر کیس کا انفرادی حیثیت سے جائزہ نہیں لے سکتی۔انہوں نے استدلال کیا کہ سپریم کورٹ کے سامنے آرٹیکل 184 کی شق تین کا کیس عدالت کے سامنے نہیں ہے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ملٹری ٹرائل کس بنیاد پر چیلنج ہو سکتا ہے، وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ مجاز عدالت نہ ہو، بدنیتی پر مشتمل کارروائی چلے یا اختیار سماعت سے تجاوز ہو تو ٹرائل چیلنج ہو سکتا ہے، اگر ملٹری ٹرائل میں کوئی ملزم اقبال جرم کرلے تو اسے اسلامک قانون کے تحت رعایت ملتی ہے۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ اقبال جرم تو مجسٹریٹ کے سامنے ہوتا ہے، وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ وہ معاملہ الگ ہے، جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ اگر ملٹری ٹرائل میں کوئی ملزم وکیل کی حیثیت نہ رکھتا ہو کیا اسے سرکاری خرچ پر وکیل دیا جاتا ہے۔وکیل وزارت دفاع نے مؤقف اپنایا کہ وکیل کرنے کی حیثیت نہ رکھنے والے ملزم کو سرکاری خرچ پر وکیل دیا جاتا ہے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ عام طور پر تو ملزم عدالت کا فیورٹ چائلڈ ہوتا ہے، کیا ملٹری کورٹ میں بھی ملزم کو فیورٹ چائلڈ سمجھا جاتا ہے۔وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ آرمی ایکٹ کے رولز کے تحت ملزم کو مکمل تحفظ دیا جاتا ہے، جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ میں نے بطور چیف جسٹس بلوچستان ملٹری کورٹس کے فیصلے کیخلاف اپیلیں سنی ہیں، ایسا نہیں ہوتا محض ملٹری کورٹس کے فیصلے میں صرف ایک سادے کاغذ پر لکھ دیا جائے کہ ملزم قصور وار ہے یا بے قصور ہے، جب رٹ میں ہائی کورٹس میں اپیل آتی ہے تو جی ایچ کیو پورا ریکارڈ فراہم کرتا ہے۔جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ ریکارڈ میں پوری عدالتی کارروائی ہوتی ہے، جس میں شواہد سمیت پورا طریقہ کار درج ہوتا ہے، آپ 9 مئی کے مقدمات سے ہٹ کر ماضی کے ملٹری کورٹس کے فیصلے کی کچھ مثالیں بھی پیش کریں۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ غیر ملکی جاسوسوں کے علاوہ اگر کسی عام شہری کا ملٹری ٹرائل ہو تو کیا وہاں صحافیوں اور ملزم کے رشتہ داروں کو رسائی دی جاتی ہے، وکیل وزارت دفاع خواجہ حارث نے جواب دیا کہ قانون میں رشتہ داروں اور صحافیوں کو رسائی کا ذکر تو ہے لیکن سیکیورٹی وجوہات کے سبب رسائی نہیں دی جاتی۔جسٹس محمد علی مظہر سوال اٹھایا کہ اگر ٹرائل میں کوئی غلطی رہ گئی ہو تو کیا اپیل میں اس غلطی کی نشاندہی کی وجہ سے ملزم کو فائدہ ملتا ہے، خواجہ حارث نے جواب دیا کہ اپیل کا حق دیا گیا ہے اور اس کی تمام پہلو دیکھے جاتے ہیں۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ کیا رٹ میں اتنا اختیار ہے کہ پروسیجر کو دیکھا جائے کہ اسے مکمل فالو کیا گیا یا نہیں، خواجہ حارث نے کہا کہ تمام پروسیجر فالو ہوتا ہے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ رٹ میں کوئی ایسی اتھارٹی تو ہو جو پروسیجر کو دیکھ سکے اور اسکا جائزہ لے، زندگی کسی کی بھی ہو انتہائی اہم ہوتی ہے، جج پر بھی تو منحصر ہوتا ہے کہ وہ ٹرائل کیسے چلاتا ہے۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اپیل میں اپیل کنندہ کو کیا مکمل موقع دیا جاتا ہے، خواجہ حارث نے کہا کہ رولز 63 میں ملٹری کورٹ کے پرائزئڈنگ آفسر کہ ذمہ داریاں دی گئی ہیں، انصاف کے تقاضوں
    کو پورا کرنا اور شفاف ٹرائل کا موقع دینا اسکی ذمہ داری میں شامل ہے، حلف لینے کے بعد آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل کرتے ہیں۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ ملٹری کورٹ کے جو پرائزئینڈنگ افسر ہوتے ہیں، کیا وہ مکمل تجربہ کار ہوتے ہیں یا کسی کو بھی یہ ذمہ داری دے دی جاتی ہے، خواجہ حارث نے جواب دیا کہ تجربہ ضروری نہیں لیکن ملٹری ایکٹ پر عبور رکھتے ہوں۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ پہلے مجسٹریٹ اور کمشنر وغیرہ بھی ٹرائل کرتے تھے تو قتل کیس میں سزا دی جاتی تھی، جب کہا جاتا تھا کہ اس میں شہادتیں نہیں تو سزا کیسی، تو کہا جاتا قتل تو ہوا ہے، پروسیجر اور شفاف ٹرائل کا موقع تو فراہم ہونا چاہیے۔خواجہ حارث نے کہا کہ ملٹری ٹرائل کرنے والوں کو اسکی کوئی خاص ٹریننگ کی ضرورت نہیں ہوتی، انہوں نے صرف حقائق دیکھنے ہوتے ہیں کہ یہ قصوروار ہے کہ نہیں۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ آجکل ہمارا ملک اتنا ٹرینڈ ہوچکا ہے کہ 8 ججز کے فیصلے کو دو لوگ بیٹھ کے کہتے ہیں کہ غلط ہے۔خواجہ حارث نے کہا کہ سوشل میڈیا کی تو بات نہ کریں وہاں کیا کچھ نہیں ہو رہا، سوشل میڈیا پر کچھ لوگ بیٹھ کر اپنے آپ کو سب کچھ سمجھتے ہیں، ان کا کام ہے انکو کرنے دیں ہمیں انکی ضرورت نہیں۔جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ افسوس ہے کہ سوشل میڈیا پر ایسے تاثر دیا جاتا ہے کہ جیسے ہم کسی سیاسی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں، میرا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے میں ملٹری ٹرائل پر اس کے اثرات کہ وجہ سے سوال کرتی ہوں، لیکن افسوس میرے ان سوالات کی وجہ سے مجھے سیاسی پارٹی سے جوڑ دیا جاتا ہے۔اس موقع پر سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا, وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تووزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے سفید کاغذی لفافوں میں ملٹری ٹرائل کا ریکارڈ آئینی بنچ میں پیش کردیا، ملٹری ٹرائل کی سات کاپیاں آئینی بنچ کے ساتوں ججز کو دی گئیں۔وکیل وزارت دفاع خواجہ حارث نے کہا کہ عدالت ٹرائل کا طریقہ کار دیکھ لے، ٹرائل سے قبل پوچھا گیا کسی کو لیفٹیننٹ کرنل عمار احمد پر کوئی اعتراض تو نہیں، کسی نے بھی اعتراض نہیں کیا۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ یہ ریکارڈ تو اپیل میں دیکھا جانا ہے، ہمارے لیے اپیل میں اس ریکارڈ کا جائزہ لینا مناسب نہیں، ہم ٹرائل کو متاثر نہیں ہونگے دیں گے۔آئینی بنچ کے 6 ججز نے ٹرائل کا ریکارڈ وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث کو واپس کردیا، جسٹس محمد علی مظہر نے ریکارڈ دیکھنے کے بعد واپس کردیا۔ جسٹس مسرت ہلالی نے بھی پیش کردہ ریکارڈ کا جائزہ لیا، خواجہ حارث نے آرٹیکل 14 کا حوالہ دیا اور کہا کہ جسٹس عائشہ ملک نے اپنی ججمنٹ میں ایک پوائنٹ سے اختلاف کیا ہے۔جسٹسں مسرت ہلالی نے کہا کہ ایف آئی آر میں تمام سیکشنز پی پی سی کے نیچے آتی ہیں، خواجہ حارث نے کہا کہ ایف آئی آر میں ان صاحب کا نام میٹر نہیں کرتا، جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ وہ کہہ رہا یے کہ وہ چشم دید گواہ بھی نہیں ہیں۔خواجہ حارث نے کہا کہ 9 ملزمان میں سے چار چشم دید گواہ ہیں، آپ اتنی تفصیل سے ملٹری کورٹس کی دستاویزات دیکھ رہی ہیں اور ایسے سوالات اٹھا رہی ہیں کل کو اپیل آپ کے پاس آنی ہیں، آپ کو کیس کے میرٹ سے متعلق سوال نہیں پوچھنے چاہییں کہ یہ معاملہ ابھی آپ کے پاس اپیل میں آنا باقی ہے۔جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ میرے ذہن میں جو سوال بنتا ہے وہ میں کروں گی کسی کو اچھا لگے یا برا۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ ملٹری ٹرائل کرنے والا جج تو اتھارٹیز کے ماتحت ہوتا ہے، وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ اگر کسی کے پاس کوئی شواہد ہیں تو بات کریں، محض تاثر پر اعتراض نہیں اٹھایا جا سکتا۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ نہ مجھے کسی پر کوئی شک ہے نہ اعتراض ہے، سوال یہ ہے کہ ملٹری کورٹس میں ٹرائل کرنے والے
    کون ہیں، اس لییپوچھا، جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ آپ کی جانب سے پیش کردہ ریکارڈ کا جائزہ لیا، میں بہت تفصیل میں نہیں گیا، 9 مئی واقعات میں بظاہر سیکیورٹی آف اسٹیٹ کا معاملہ نہیں لگتا، نو مئی واقعات کے ملزمان کا ملٹری ٹرائل بہت تفصیل سے چلایا گیا، کیا یہ ممکن نہیں یہ تمام ریکارڈ پبلک کر دیا جائے تاکہ پبلک ان ملزمان کی مذمت کر سکے، 9 مئی واقعات کے ملزمان نے جو کارنامے سرانجام دیے وہ عوام میں بے نقاب ہونے چاہیں۔خواجہ حارث نے کہا کہ یہ تو اتھارٹیز نے طے کرنا ہے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ کیا آرٹیکل 175 کے تحت ملٹری کورٹس کے قیام کیلئے گنجائش رکھی گئی ، ہے، خواجہ حارث نے کہا کہ اگر عدالت اس طرف جائے گی تو اب تک ملٹری کورٹس کے قیام سے متعلق جتنے بھی فیصلے دیے گئے ان پر نظرثانی کرنا پڑے گی، آئین میں آئین و قانون کے تحت عدالتوں کے قیام کا زکر ہے، بہت سارے ممالک میں ملٹری کورٹس قائم ہوئیں۔جسٹس جمال خان نے ریمارکس دیے کہ نارکوٹکس کا پورا کنٹرول فوج کے پاس ہے، نارکوٹکس میں جب کسی ملزم کا ٹرائل چلانا ہوتا ہے تو متعلقہ چیف جسٹس سے سیشن جج مانگا جاتا ہے، کیا یہاں بھی ملٹری کورٹس کیلئے ایسا کیا جاسکتا ہے۔خواجہ حارث نے مؤقف اپنایا کہ تمام عدالتی فیصلوں میں ملٹری کورٹس کو آرٹیکل 175 سے الگ رکھا گیا ہے، آرمی ایکٹ کو بنیادی حقوق کی بنیاد پر چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔سربراہ آئینی بنچ جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ خواجہ صاحب کل تک دلائل مکمل کر لیں گے، خواجہ حارث نے کہا کہ میں کل گیارہ بجے تک دلائل مکمل کر لوں گا۔ دوران سماعت آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان اور لطیف کھوسہ میں اہم مکالمہ ہوا، لطیف کھوسہ نے کہا کہ کیا کل ہماری بھی باری آئے گی، جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ آپ نے تو بیٹھے بیٹھے ہی آدھے کیس کے دلائل دیدیے، شہدا فاؤنڈیشن اور حکومت بلوچستان کے وکلائ نے وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث کے دلائل اپنا لیے۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ میں درج سزاؤں پر سول کورٹ میں ٹرائل چل سکتا ہے، کیا آپکو سول کورٹس پر اعتماد نہیں، یہ کیسز سول کورٹس میں کیوں نہیں لیکر گئے۔

  • نو جوانوں کی امیدوں کا محور وزیر اعظم یوتھ پروگرام

    نو جوانوں کی امیدوں کا محور وزیر اعظم یوتھ پروگرام

    رانا مشہود احمد خان کا تعلق ایک معزز گھرانے سے ہے جس میں سیاسی اور قانونی شعور موجودہے۔ ان کے مرحوم والد رانا عبدالرحیم معروف قانون دان تھے اور انہیں ان کی قومی خدمات پر پاکستان موومنٹ گولڈ میڈل سے نوازا گیا تھا۔ وکیل بننے کے بعد رانا مشہود احمد خان کو سیاست میں بھی دلچسپی پیدا ہوئی، رانا مشہود نے 2000 میں مسلم لیگ ن لائرز فورم پنجاب کے صدر کا عہدہ سنبھالا۔ 2001 میں وہ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے کم عمر ترین جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے۔ 2002 میں وہ پی پی 149 سے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے اور غیر جمہوری قوتوں کے خلاف مضبوطی سے کھڑے رہے۔ اسی سال متحدہ اپوزیشن کی حمایت سے انہوں نے پنجاب اسمبلی کے ا سپیکر کے عہدے کے لیے الیکشن لڑا اور لاہور کے میئر کے لیے 2005 کے الیکشن میں جمہوریت نواز جماعتوں کی نمائندگی کی۔ 2008 میں وہ دوبارہ پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی ا سپیکر کی ذمہ داری سنبھالی۔ 2013 میں، انہوں نے اسی حلقے سے ایک بار پھر عوام کا اعتماد حاصل کیا اور صوبائی وزیر برائے تعلیم، اعلیٰ تعلیم، یوتھ، کھیل، سیاحت اور آثار قدیمہ کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ انہوں نے تعلیمی شعبے میں انقلابی اصلاحات کے جامع پروگرام جیسے، انٹرن شپ، ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ، پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن، اور دیگر تعلیمی منصوبوں پر عمل درآمد کیا۔ انہوں نے 2012، 2013 اور 2014 میں عظیم الشان یوتھ فیسٹیولز کا انعقاد کیا، جس میں صوبے بھر سے کھلاڑیوں نے حصہ لیا، انھوں نے کھیلوں کے میدانوں کو زندہ اور آباد کیا اور متعدد عالمی ریکارڈز قائم کیے۔ 2018 میں عوام نے انہیں پی پی 152 سے ایک بار پھر منتخب کر کے اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے رانا مشہود احمد خان پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کو وزیراعظم یوتھ پروگرام کا چیئرمین مقرر کر دیا ہے۔

    رانا مشہود احمد خان پرائم منسٹریوتھ پروگرام کے چیئرمین ہیں جو وزیراعظم کے وژن کے مطابق پروگرام کو تیزی سے آگے بڑھا رہے ہیں اسی حوالے سے پرائم منسٹرہاوس میں یوتھ چیمبر آف کامرس کے بانی صدر شیخ راشد عالم کی قیادت میں وفد کی چیئرمین پرائم منسٹریوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان سے ملاقات، پروگرام پر تبادلہء خیال، پرائم منسٹریوتھ پروگرام میںیوتھ چیمبر آف کامرس کے کردار اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی گفتگو کی گئی، پرائم منسٹریوتھ پروگرام کیا ہے اور نوجوان اس سے کس طرح استفادہ کرسکتے ہیں، اس پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہیں،پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کے ذریعے ملک بھر میں بااختیار بنانے کی ایک طاقتور لہر پھیل رہی ہے، جو اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ کوئی خواب ادھورا نہ رہ جائے۔ ہمارے روشن اور پرجوش نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے، یہ پروگرام ایک خوشحال اور اختراعی پاکستان کی بنیاد رکھ رہا ہے۔پرائم منسٹر یوتھ پروگرام ہمارے نوجوانوں کی بے پناہ صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا گیا ہے،پرائم منسٹر یوتھ پروگرام نے نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور ان کے ہاتھ مضبوط کے لیے خود کو وقف کر رکھا ہے۔ 2023 میں 10ویں سالگرہ منانے کے ساتھ ہی پرائم منسٹر یوتھ پروگرام نے نوجوانوں کے ذہنوں کو تقویت دینے کے لیے اپنے عزم کی ایک بار پھر تجدیدکی جس میں ان کی حقیقی صلاحیت کا ادراک کرنے میں ان کی مدد کرنا شامل ہے ہمارا وژن معیاری تعلیم، مہذب روزگار، بامعنی مشغولیت فراہم کرنا اور مربوط، متحرک اور پائیدار اقدامات کرنا ہے۔
    ہمارا وژن
    ہمارا وژن پاکستان کے نوجوانوں کے لیے معیاری تعلیم، معقول روزگار، اور بامعنی مصروفیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ ہم ماحول کے لیے گہرا احترام پیدا کرنے اور نوجوانوں کو ان مہارتوں اور اعتماد کے ساتھ بااختیار بنانے کی کوشش کررہے ہیں ،ہمارا مقصد نوجوانوں کو پاکستان کی ترقی اور معاشی استحکام میں مثبت کردار ادا کرنے کے قابل بنانا ہے۔
    ہمارا مشن
    پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کے ذریعے ہمارا مشن نوجوانوں کی ترقی میں سرمایہ کاری کرنا ہے، انہیں ہنر مند، پراعتماد، وسائل سے بھرپور اور خود انحصار بنانا ہے۔ نوجوانوں کو بااختیار بنا کر ہم انہیں اس قابل بنا سکتے ہیں کہ وہ پاکستان کی ترقی اور معاشی استحکام میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔ اپنے اقدامات کے ذریعے، ہمارا مقصد نوجوانوں کو وہ مواقع فراہم کرنا ہے جن کے ذریعے انہیں کامیابی حاصل ہو۔
    بڑھیں سیکھیں اور ملازمت حاصل کریں۔
    پرائم منسٹرز یوتھ پروگرام نوجوانوں کو تعلیم حاصل کرنے، بڑھنے اور اپنی صلاحیتوں کو وسیع کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ نوجوانوں میں سرمایہ کاری ہماری قوم کی ترقی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ پی ایم اسکلز ڈیولپمنٹ پروگرام اور یوتھ لیپ ٹاپ اسکیم کے ساتھ، ہمارا مقصد اپنے نوجوانوں کو روشن کل کے لیے تعلیم دینا ہے۔
    تعلیم میں ہمارے اثرات
    پرائم منسٹر یوتھ پروگرام نے نوجوانوں کو بااختیار بنا کر اور تبدیلی کے مواقع سے آراستہ کرکے تعلیم میں انقلاب برپا کیا، تعلیم یافتہ اور ہنر مند افراد کی ایک نسل کو روشن مستقبل کی تشکیل کے لیے تیار کیا ہے،اس موقع پر600,000 لیپ ٹاپ ،216,151، اسکالرشپس،100,000سرٹیفیکٹس تقسیم کئے گئے
    ہمارے ساتھ اپنے افق کو وسیع کریں!
    ہمارا ماننا ہے کہ معاشرے کا نتیجہ خیز رکن بننے کے لیے، ہمارے ملک کے ہر نوجوان شہری کو کام اور پڑھائی سے ہٹ کر صحت مند سرگرمیوں اور مصروفیات کا سامنا کرنا چاہیے۔ ہمارے اسپورٹس ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام اور بے شمار تفریحی سرگرمیوں کے ساتھ، PMYP یقینی بناتا ہے کہ ہمارے نوجوانوں کو ایک مضبوط اور پراعتماد نوجوان بنانے کے لیے صحت مند جسمانی سرگرمیوں تک رسائی حاصل ہو!
    نیشنل یوتھ کونسل
    نیشنل یوتھ کونسل ملک کی پالیسی سازی میں نوجوانوں کو شامل کرتی ہے اور انہیں نوجوانوں سے جڑے اہم مسائل کو اجاگر کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ کونسل ملک کے چند باصلاحیت اور سرشار نوجوانوں پر مشتمل ہے جنہوں نے اپنی کمیونٹیز کو تبدیل کیا ہے، اپنے کام کے لیے قومی اور بین الاقوامی پہچان حاصل کی اور جو اپنی قوم کو بہتر بنانے کے لیے وقف ہیں۔
    قومی رضاکار کور
    وزیراعظم کی قومی رضاکار کور وزیراعظم یوتھ پروگرام کی چھتری کے تحت کرنا وزیراعظم کا اقدام ہے جس کا مقصد ملک بھر میں رضاکاروں کی استعداد کار کو بڑھانا اور انہیں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے تیار کرنا، غیر رسمی تعلیم کو فروغ دینا، رہائش میں اضافہ اور نوجوانوں کو معاشی طور پر بااختیار بنانا ہے۔ انٹرپرینیورشپ کی بنیادی تربیت کے ذریعے۔
    پروجیکٹ میں تربیت کے چار موضوعاتی شعبے ہیں۔
    1: تباہی کے خطرے میں کمی
    2: موسمیاتی لچک
    3: سیکھنے کے متبادل راستے
    4: اقتصادی شمولیت (بنیادی کاروباری)
    سبز انقلاب کا عزم!
    PMYP ہماری قوم کے متحرک نوجوانوں میں ماحولیاتی بیداری اور پائیداری کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ ہمارے نوجوان آنے والی نسلوں کے لیے ہمارے ماحول کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اپنے ماحولیاتی اقدامات کے ذریعے، ہم نوجوانوں کو ماحولیاتی تحفظ، فضلہ کے انتظام، اور پائیدار طریقوں میں تعلیم دینے اور ان میں مشغول کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    گرین یوتھ موومنٹ
    گرین یوتھ موومنٹ (GYM) یونیورسٹی کے طلباء کو پائیدار ترقی، ماحول کی اختراع اور ماحولیاتی تحفظ کی سرگرمیوں میں شامل کرتی ہے تاکہ ہمارے ماحول کے تحفظ کے لیے نوجوان کارکنوں کی عمدہ ٹیم تشکیل دی جاسکے۔ملک بھر میں 137 سے زیادہ یونیورسٹیوں میں GYM کلبوں کے ساتھ، ہم اپنے نوجوانوں کو کرہ ارض کے ذمہ دار بننے اور ایک سرسبز، زیادہ پائیدار مستقبل کی تعمیر کے لیے بااختیار بنانے کی امید کرتے ہیں۔

    باکس
    وزیر اعظم کا ڈیجیٹل یوتھ ہب!
    ڈیجیٹل یوتھ ہب تعلیم، روزگار، مشغولیت اور ماحولیات میں متنوع مواقع کے لیے نوجوانوں کی “ون اسٹاپ شاپ” ہے۔ حکومت نوجوانوں کے اندر موجود ناقابل یقین صلاحیت کو بااختیار بنانے اور ترقی دینے کے لیے پرعزم ہے۔ اپنی صلاحیتوں کو دریافت کریں، اور اپنے خوابوں کو بلند ہونے دیں۔ آپ کی توانائی، خیالات اور جوش قوم کی ترقی کی اہم ضرورت ہے۔ اس اقدام کے ذریعے، ہم آپ کے سفر میں آپ کی رہنمائی اور مدد کریں گے۔ اسکالرشپ اور انٹرپرینیورشپ کو فروغ دینے سے لے کر نوکری کی تلاش اور رضاکارانہ طور پر۔ صحت اور بہبود کے لیے کھیلوں کی سرگرمیوں میں مشغول ہونا اور ماحولیاتی اختراع کو فروغ دینا وہ اہم پہلو ہیں جن کو ہم ترجیح دیتے ہیں۔
    ہم مل کر ایک روشن، مضبوط اور زیادہ متحرک پاکستان بنائیں گے۔

  • پی آئی اے کا اندرون و بیرون ملک نئی پروازیں شروع کرنے کا فیصلہ

    پی آئی اے کا اندرون و بیرون ملک نئی پروازیں شروع کرنے کا فیصلہ

    قومی ایئر لائن نے اندرون و بیرون ملک نئی پروازیں شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ذرائع کے مطابق 20 جنوری سے سیالکوٹ سے بحرین ہفتے میں دوطرفہ پرواز آپریٹ ہو گی جب کہ لاہور سے کویت 25جنوری سے ہفتہ وار ایک پرواز آپریٹ ہو گی۔پی آئی اے لاہور سے دمام ہفتہ وار 2 پروازیں 22 جنوری سے آپریٹ کرے گی۔ 20 جنوری سے فیصل آباد اور جدہ کیدرمیان ایک پرواز ہفتہ وار آپریٹ ہوگی۔ذرائع نے بتایا کہ 25 جنوری سے پی آئی اے پشاور کراچی ہفتہ وار ایک پرواز آپریٹ کریگی جب کہ پی آئی اے 21جنوری سے سیالکوٹ سے دوحہ ہفتہ وار پروازی آپریٹ کرے گی۔پی آئی اے ان پروازوں بوئنگ 777 ایئر بس 320طیارے استعمال کریگی۔پی آئی اے کا ایک اور لانگ گرانڈڈ ایٹی آر طیارہ آپریشنل ڈیوٹی میں شامل ہو گیا۔سی ای اوکے مطابق طیارے کی آپریشنل ڈیوٹی میں شمولیت سے پی آئی اے کی گلگت، سکھر، تربت اور گوادر کی پروازوں کو تقویت ملے گی۔ترجمان کے مطابق پی آئی اے اپنے آپریشنل طیاروں میں اضافہ کرے گی کیونکہ یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی کی جانب سے پی آئی اے پر پابندی ختم ہوچکی ہے۔پی آئی اے نیٹ ورک کو یورپ اور برطانیہ تک بڑھانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ منصوبے کے پہلے مرحلے میں بوئنگ 777 کے آپریشنل بیڑے کی تعداد 8 ہو جائے گی۔ترجمان نے بتایا کہ ایئربس اے 320 طیاروں کی تعداد 12 تک پہنچنے کی توقع ہے جب کہ پی آئی اے کے منصوبے کے تحت اے ٹی آر طیاروں کی تعداد 2ہو جائے گی۔ یہ فلیٹ اپ گریڈ 2025 کیلئے پی آئی اے کے جارحانہ آپریٹنگ پلان کے مطابق ہیں۔ترجمان کے مطابق قومی ایئر لائن اپنے نیٹ ورک کو بڑھانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے نئے فضائی روٹس سے بیرون ملک مقیم تارکین کو کم خرچ سفری سہولت دستیاب ہوگی، پی آئی اے کی بروقت روانگی کی شرح 90 فیصد سے تجاوز کر رہی ہے جوملک زیادہ ہے۔