Blog

  • آفاق احمد کو ضمانت کے بعد دوبارہ گرفتار کرلیا گیا

    آفاق احمد کو ضمانت کے بعد دوبارہ گرفتار کرلیا گیا

    کراچی(کنزیومر واچ نیوز )مہاجرقومی موؤمنٹ کےچیئرمین آفاق احمد کوضمانت کےبعد دو بارہ گرفتارکرلیا۔ سرجانی پولیس نے کراچی سینٹرل جیل میں آفاق احمد کی گرفتاری کے لئے کارروائی کی۔ آفاق احمد کے خلاف سرجانی ٹاون میں نامعلوم افراد کے خلاف گاڑی جلانے کا مقدمہ درج تھا۔ آفاق احمد کی انسداددہشت گردی کورٹ نےدومقدمات میں ضمانت منظورکی تھی۔ جاویدچھتاری ایڈووکیٹ نے کہا کہ آفاق احمد کا ایف آئی آرمیں نام نہیں ہے، ہم کل اس مقدمے میں بھی درخواست ضمانت دائر کردیں گے

  • پاکستانیوں کےلئے خوشخبری۔انٹرنیٹ اسپیڈ اب بڑھ جائے گی

    پاکستانیوں کےلئے خوشخبری۔انٹرنیٹ اسپیڈ اب بڑھ جائے گی

    اسلام آباد(کنزیومرواچ نیوز)پاکستان افریقہ، عرب ممالک اور فرانس سے اپنی انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی کو مزید بہتر کرنے جارہا ہے۔
    ٹیلی کام انڈسٹری کے ذرائع کے مطابق افریقہ ون نامی زیر سمندر فائبر آپٹک انٹرنیٹ کیبل کل پاکستان کے ساحل پر پہنچ جائیگا۔
    یہ افریقہ ون سب-میرین کیبل پاکستان کی افریقہ، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، مصر اور فرانس کے ساتھ انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی کو بہتر بنائیگی۔افریقہ ون انٹرنیٹ کیبل زیر سمندر دس ہزار کلومیٹر پر محیط ہے جس کے عالمی کنسورشیم میں ایتصلات، جی فورٹی ٹو، پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی اور ٹیلی کام مصر شامل ہیں۔

  • ’’عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم‘‘تنازعہ کھڑا ہوگیا

    ’’عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم‘‘تنازعہ کھڑا ہوگیا

    پشاور(کنزیومرواچ نیوز)پشاور کے تاریخی ارباب نیاز کرکٹ اسٹیڈیم کا نام تبدیل کرکے ’’عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم‘‘ رکھا جارہا ہے۔
    اطلاعات ہیں کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے شاہی باغ میں واقع اس اسٹیڈیم کا نام تبدیل کرنے کی منظوری دے دی ہے، جسے صوبائی کابینہ جمعہ کے اجلاس میں حتمی شکل دے گی۔پشاور کے تاریخی کرکٹ اسٹیڈیم کا نام تبدیل کر کے سربراہ پی ٹی آئی کے نام پر رکھے جانے کے فیصلے کے بعد ایک تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ اور اس فیصلے کی ارباب نیاز کے خاندان اور دیگر حلقوں کی طرف سے سخت مخالفت کی جا رہی ہے۔

  • عافیہ صدیقی کے بدلے شکیل آفریدی کی حوالگی کی تجویز

    عافیہ صدیقی کے بدلے شکیل آفریدی کی حوالگی کی تجویز

    اسلام آباد(کنزیومر واچ نیوز)ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور وطن واپسی سے متعلق کیس میں وفاقی حکومت نے رہائی کے بدلے شکیل آفریدی حوالگی سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کو آگاہ کر دیا۔وفاقی حکومت کے وکیل ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ عافیہ صدیقی کی رہائی کے بدلے شکیل آفریدی حوالگی کی تجویز قابل عمل نہیں۔دوران سماعت، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے دلائل میں کہ اکہ عافیہ صدیقی کی امریکی عدالت میں دائر پٹیشن کے ڈرافٹ میں شامل کچھ باتوں پر تحفظات ہیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم دیا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل حکومت سے ہدایات لے کر بتائیں امریکی عدالت میں دائر عافیہ صدیقی کی پٹیشن پر کیا اعتراض ہے۔ عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ہدایات لے کر اگلے جمعہ تک جواب طلب کرلیا۔

  • مستحق اور ذہین طلبہ آکسفورڈ سے ماسٹرز ڈگری حاصل کر سکیں گے

    مستحق اور ذہین طلبہ آکسفورڈ سے ماسٹرز ڈگری حاصل کر سکیں گے

    کراچی (کنزیومر واچ نیوز )سندھ کے طلبہ کے لیے صوبائی حکومت نے اہم فیصلہ کیا ہےترجمان کے مطابق سندھ کے طلبہ کے لیے بڑی خوش خبری یہ ہے کہ صوبائی حکومت طلبہ کو آکسفورڈ یونیورسٹی کی اسکالر شپ فراہم کرے گی۔ مستحق اور ذہین طلبہ آکسفورڈ سے ماسٹرز ڈگری حاصل کر سکیں گے۔سمعتا افضال سید نے بتایا کہ اسکالر شپس سائنس، انجینئرنگ، ٹیکنالوجی اور میتھس کے شعبوں میں دی جائیں گی۔ مزید تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ ہر سال 6طلبہ و طالبات کو آکسفورڈ اسکالرشپس دی جائیں گی۔

  • بھارت نے بنگلادیش کو 6 وکٹوں سے شکست دے دی

    بھارت نے بنگلادیش کو 6 وکٹوں سے شکست دے دی

    دبئی(کنزیومرواچ نیوز)آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے دوسرے میچ میں بھارت نے بنگلادیش کو 6 وکٹوں سے شکست دے دی۔پاکستان کی میزبانی میں کھیلے جارہے اس ایونٹ کا یہ میچ دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں ہوا جہاں بنگلادیش نے بھارت کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔بنگلادیش کی ٹیم آخری اوور میں 228 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔ بھارت نے 229 رنز کا ہدف 47 ویں اوور میں 4 وکٹوں کے نقصان پر پورا کرلیا۔اس سے قبل بنگال ٹائیگرز کی اننگ کا آغاز اچھا نہیں رہا اور آدھی ٹیم یعنی 5 کھلاڑی صرف 35 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے۔اوپنر سومیا سرکار اور مہدی حسن کو محمد شامی جب کہ کپتان نجم الحسن شنتو کو ہرشت رانا نے پویلین لوٹایا۔ بنگلادیش کے تنزید حسن اور مشفق الرحیم کو اکشر پٹیل نے آؤٹ کیا۔5 وکٹیں گرنے کے بعد ذاکر علی اور توحید ہردوئے نے 154 رنز کی قیمتی شراکت قائم کی ، 189 کے مجموعی اسکور پر ذاکر علی 68 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔توحید ہردوئے نے شاندار 100 رنز مکمل کیے اور آخری اوور میں آؤٹ ہوئے، ان کے علاوہ تنزید حسن نے 25 اور رشاد حسین نے 18 رنز بنائے، سومیا سرکار اور نجم الحسین صفر پر آؤٹ ہوئے، مشفیق الرحیم اور تنظیم حسن بھی کوئی رنز بنائے بغیر آؤٹ ہوئے۔بھارت کی جانب سے محمد شامی نے 5 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، ہرشت رانا نے 3 اور اکشر پٹیل نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔بھارت کی جانب سے کپتان روہت شرما نے شبمن گل کے ساتھ اننگ کا آغاز کیا۔
    روہت شرما 41 اور ویرات کوہلی نے 22 رنز بنائے، شریاس ایئر 15 اور اکشر پٹیل 8 رنز بناکر آوٹ ہوئے۔ شبمن گل 101 رنز بنا کر ناقابل شکست رہے ، انہوں نے اپنی اننگ میں 2 چھکے اور 9 چوکے لگائے۔کے ایل راہول 41 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔ بنگلادیش کے رشاد حسین نے 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، تسکین احمد اور مستفیض الرحمان نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔شبمن گل بیٹنگ پرفارمنس پر پلیئر آف دی میچ قرار پائے۔

  • چین کا نیوایئر،محض ایک جشن نہیں، دلچسپ حقائق

    چین کا نیوایئر،محض ایک جشن نہیں، دلچسپ حقائق

    ارم زہرا

    چین جسے دنیا کے نقشے پر ’’ابدی روشنیوں کی سرزمین‘‘ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا، ہمیشہ سے ایک عجیب و غریب کشش کا مرکز رہا ہے۔ چین ایک ایسی زمین ہے جہاں قدیم روایات کی گونج جدید ترقی کی بلند عمارتوں میں محوِ رقص ہے مگر یہ سوال کہ ” کیا اس ترقی اور خوبصورتی کی قیمت یہاں کے عام انسان نے اپنے سکون سے چکائی ہے ” میرے ذہن میں ایک شعلہ بن کر جل رہا تھا۔ بیجنگ کی روشنیوں سے لبریز گلیاں، شنگھائی کی فلک بوس عمارتوں کی بلندیاں، اور ہانگ کانگ کی پررونق بندرگاہیں یہ سب کچھ میرے سامنے تھے، مگر میری نظر ان بازاروں کے اندر جھانکنا چاہتی تھی، جہاں شاید یہ روشنی کچھ مدھم ہو جاتی ہو۔آج بیجنگ کی سرد ہوا میں ایک عجب سی تازگی تھی، جیسے وقت تھم کر ایک قدیم داستان سنانے کو تیار ہو۔ میرے ارد گرد روشنیوں کا ایک سمندر تھا، دکانوں کے رنگین بورڈ، اشتہارات کی جگمگاہٹ، اور لوگوں کا بے ہنگم ہجوم مگر میرے دل میں ایک ہی سوال تھا ” کیا یہ چمک دمک، یہ خوبصورتی اور یہ ترقی، سب کی زندگی کا حصہ ہے یا صرف خوش نصیبوں کا؟ ” کیا یہاں کا غریب بھی ان روشنیوں کے پیچھے اپنی چھوٹی سی دنیا میں سکون سے جی رہا ہے، یا یہ سب محض ایک دکھاوا ہے ؟ میں بیجنگ کے مشہور وانگ فوجنگ بازار کی روشنیوں میں کھوئی ہوئی تھی۔ ہر طرف جگمگاتی دکانیں، سرخ فانوسوں کی قطاریں، اور اشتہارات کے روشن بورڈز جیسے چمکتے ستارے ہوں نظر آرہے تھے ہوا میں مختلف کھانوں کی خوشبوئیں تیر رہی تھیں، اور لوگ اپنے اپنے سامان کی طرف لپکے جا رہے تھے۔ مگر میری آنکھیں اس چمک دمک کے پیچھے چھپے چین کو دیکھنے کی متلاشی تھیں۔ان دنوں یہاں کی مارکیٹس میں چینی نئے سال کی گہما گہمی اپنے عروج پر تھی۔ ہر دکان کے باہر سرخ اور سنہری فانوس، ڈریگن کے مجسمے، اور “خوشحالی” کے سنہری حروف چمک رہے تھے۔ بچے خوشی سے قلقاریاں مارتے ہوئے اپنے والدین کے ساتھ کھلونوں کی دکانوں پر کھڑے تھے۔ میں ایک طرف کھڑی یہ سب دیکھ رہی تھی کہ میری نظر ایک بوڑھی عورت پر پڑی جو گلی کے کونے میں بیٹھ کر ہاتھ سے بنے کھلونے بیچ رہی تھی۔ اس کے چہرے کی جھریوں میں وقت کی کہانی لکھی ہوئی تھی، اور آنکھوں میں ایک عجیب سی تھکن چھپی تھی۔ میرا دل چاہا کہ اس کی کہانی سنوں، مگر چینی زبان نہ جاننے کی وجہ سے میں جھجک رہی تھی۔ پھر اپنے موبائل پر ترجمہ ایپ کھولی اور ہچکچاتے ہوئے کہا، “آپ یہ کھلونے خود بناتی ہیں؟” وہ میری ٹوٹی پھوٹی کوشش پر مسکرائی اور سر ہلاتے ہوئے جواب دیا، جسے ایپ نے یوں ترجمہ کیا: “ہاں، بیٹا۔ یہ ہمارے گزر بسر کا سہارا ہے۔” میں نے دوبارہ پوچھا، “کیا مہنگائی نے آپ کی زندگی کو مشکل بنایا ہے؟” وہ ہنسی، مگر اس ہنسی میں دکھ کی جھلک تھی۔ کہنے لگی، “زندگی تو مشکل ہے، مگر ہماری حکومت ہمیں سہارا دیتی ہے۔ چھوٹے کاروبار کرنے والوں کے لیے یہاں بڑی رعایتیں ہیں۔” میں نے محسوس کیا کہ چین کی ترقی کی مشینری محض فیکٹریوں اور بلند عمارتوں تک محدود نہیں بلکہ یہاں کا عام آدمی بھی اس میں شریک ہے۔ بڑے شہروں میں غریبوں کے لیے کم قیمت بازار، سبسڈی والے کھانے، اور صحت کی سہولتیں موجود ہیں۔ مگر یہ ترقی ہر جگہ ایک جیسی نہیں۔ دیہی علاقوں میں لوگ اب بھی سادہ زندگی گزار رہے ہیں، جہاں وقت شاید اتنی تیزی سے نہیں بدلا جتنا شہروں میں…چین کی حکومت نے غربت کے خلاف اپنی جدوجہد کو ایک نئے رخ پر ڈال دیا تھا جو اپنی مثال آپ ہے۔ مٹی کی جھونپڑیوں کو خوبصورت، جدید اپارٹمنٹس میں بدل دیا گیا تھا، جن کے باہر سرخ لالٹینیں ہوا میں جھول رہی تھیں۔ یوں لگتا تھا جیسے زندگی نے یہاں اپنے رنگوں سے نیا آغاز کیا ہو۔
    چین کی حکومت نے اپنی عوام کو صرف مکان ہی نہیں دیے بلکہ زندگی کے مواقع بھی فراہم کیے ہیں۔ گاؤں اور دیہات کے بچوں کو شہروں کے اسکولوں میں داخل کرایا گیا، جہاں وہ اپنے خوابوں کو ایک نئی حقیقت میں بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔چینی عوام اور حکومت کے تعلق کو دیکھ کر مجھے وہ قصہ یاد آیا جب ایک دوست نے کہا تھا، “چین میں لوگ حکومت سے ڈرتے نہیں، بس اس سے بہت زیادہ توقعات رکھتے ہیں۔” یہ بات سچ ہے، کیونکہ یہاں ہر شخص اپنی محنت سے آگے بڑھنا چاہتا ہے، اور حکومت انہیں مواقع فراہم کرتی ہے۔ مگر یہ مواقع بعض اوقات ایک دوڑ میں بدل جاتے ہیں، جہاں ہر شخص دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔چین کی موجودہ معیشت، جسے دنیا “دنیا کی ورکشاپ” کہتی ہے، واقعی حیرت انگیز ہے۔ ہر طرف ترقی کا شور ہے، مگر یہ شور کبھی کبھی انسانی جذبات کو دبانے لگتا ہے۔
    چین کی سرزمین پر جنوری کے ان دنوں میں، جب برف کے نرم گالے ہوا کے سنگ اپنی منزل کی تلاش میں اترتے ہیں، ہر طرف ایک عجیب سی گہما گہمی دکھائی دیتی ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب چین کا نیا سال قریب آ رہا ہوتا ہے۔ نیو ایئر، جو یہاں اسپرنگ فیسٹیول کہلاتا ہے، درحقیقت ایک خواب کی طرح ہے، جسے دیکھنے کے لیے لاکھوں لوگ اپنے گاؤں اور شہروں کا رخ کرتے ہیں۔چینی نیا سال، جسے وہ ‘‘چونگ جے’’ یا ‘‘اسپرنگ فیسٹیول’’ کہتے ہیں، ایک منفرد اور دلکش تہوار ہے جو چین کی سرزمین پر ہر سال ایک نیا رنگ اور نیا جذبہ لے کر آتا ہے۔جسے ایک نئے قمری سال کی شکل میں تسلیم کیا جاتا ہے۔چینی نئے سال کا آغاز چاند کے نئے مہینے سے ہوتا ہے، اور یہ کبھی بھی 21 جنوری سے 20 فروری کے درمیان کسی بھی تاریخ کو آ سکتا ہے۔ قمری کیلنڈر کے مطابق، ہر سال ایک نیا مہینہ چاند کے نئے دن سے شروع ہوتا ہے، اور اس دن چین میں ایک نیا آغاز ہوتا ہے۔ اس دن، سڑکوں پر لال لال دیے، رنگین جھنڈے اور برکت کی دعائیں نظر آتی ہیں، جیسے یہ سب کسی نئے سفر کا آغاز ہواور پھر آتا ہے، چین کا زودیاک جانور، جو ہر سال بدلتا ہے۔ چاہے وہ ڈریگن ہو، سانپ ہو یا چوہا، ہر جانور اپنے اندر ایک خاص راز چھپائے ہوتا ہے۔ یہ جانور نہ صرف چینی ثقافت میں فرد کی شخصیت اور تقدیر کا عکاس ہوتے ہیں، بلکہ ایک نئے سال کی شروعات کی علامت بھی ہوتے ہیں کیونکہ چینی کیلنڈر ہر سال کسی نہ کسی جانور کے نام کر دیا جاتا ہے۔ اس سال کی باری ” لکڑی کے سانپ ” کی تھی، اور مجھے بتایا گیا کہ ” لکڑی کے سانپ کی نظر ہمیشہ آگے کی طرف ہوتی ہے جو مستقبل کے لیے حکمت اور دور اندیشی سے قدم اٹھانے کی دعوت دیتا ہے “جب میں نے چینی کلینڈر کے مطابق نئے سال کا آغاز دیکھا۔ تو میں حیران رہ گء , ہم سب جانتے ہیں کہ ہر سال کا بارہ مہینیکا چکر کیا ہوتا ہے، مگر جو بات مجھے سب سے زیادہ حیران کن لگی، وہ یہ تھی کہ یہاں ہر سال کا تعلق نہ صرف ایک جانور سے ہوتا ہے، بلکہ اس جانور کے ساتھ پانچ بنیادی عناصر میں سے ایک عنصر بھی جڑا ہوتا ہے۔ جیسے 2024 تھا لکڑی کے اڑدھے کا سال، اور 2025 ہے لکڑی کے سانپ کا سال۔چینی کیلنڈر کیمطابق لکڑی کے سانپ کا سال آنا ایک طرح سے ایک نئے سرے سے زندگی کی بگڑتی ہوئی حالتوں کو درست کرنے کا وقت ہوتا ہے، گویا کہ ہمیں نئی سمت میں چلنے کی ضرورت ہے۔نیو ایئر کی آمد کا سب سے بڑا اعلان گلیوں میں لٹکتی لالٹینیں کرتی ہیں۔ لال رنگ یہاں خوشحالی اور خوشی کا استعارہ ہے، اور ہر دروازے پر سرخ کاغذ کی تختیاں آویزاں ہوتی ہیں۔ چینی نیو ایئر کی ایک اور خاص بات , وہ بے پناہ چھٹیاں ہیں جو اس تہوار کے دوران ملتی ہیں۔ پورے ملک میں سات دن کا سرکاری جشن منایا جاتا ہے . تحفے تقسیم کئے جاتے ہیں. نیو ایئر کی سب سے بڑی روایت وہ لمبی مسافتیں ہیں، جو لوگ اپنے گاؤں اور خاندانوں تک
    پہنچنے کے لیے طے کرتے ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی انسانی مائیگریشن انہی دنوں میں ہوتی ہے، جب شہروں کے ریلوے اسٹیشن لوگوں کے ہجوم سے بھر جاتے ہیں۔ رات کے وقت، ہر طرف پٹاخوں کی گونج اور روشنیوں کا سماں ہوتا ہے۔ ایک قدیم عقیدہ ہے کہ یہ پٹاخے بدروحوں کو ڈراتے ہیں۔ میں نے ایک بزرگ سے پوچھا، “یہ بدروحیں کب آتی ہیں؟” وہ مسکرا کر بولے، “جب لوگ انہیں بلاتے ہیں!” اس طرح کی من گھڑت کہانیاں سننا چین میں عام بات ہے… چینی نیو ایئر کی سب سے دلچسپ روایت ریڈ انویلپ کی ہے، جنہیں یہاں “ہونگ باؤ” کہا جاتا ہے۔ ان سرخ لفافوں میں بزرگ بچوں کو پیسے دیتے ہیں۔چین کے ہر بڑے چھوٹے شہر میں نئے سال کی تقریبات منعقد ہوتی ہیں , جہاں مختلف ثقافتی پروگرامز، موسیقی کے کنسرٹس اور روایتی رقص کے ذریعے جشن منایا جاتا ہے۔چین میں رہتے ہوئے، نئے سال کی یہ رنگینیاں میرے لیے ہر بار ایک نئی کہانی بْن دیتی ہیں۔ سرخ لفافوں کی گرم جوشی، روشنیوں کی جگمگاہٹ، اور چہروں کی خوشی نے مجھے سکھایا کہ تہوار کا سب سے بڑا تحفہ تعلقات کی مٹھاس ہے۔ یہاں میں نے جانا کہ چینی نیا سال محض ایک جشن نہیں، بلکہ زندگی کو نئے خوابوں اور امیدوں کے ساتھ جینے کا اعلان ہے۔ اور ہماری زندگی بھی تو نئے سال کی طرح ہے , ہر اختتام ایک نئی شروعات کی دعوت دیتا ہے

  • نیوزی لینڈ سے میچ کیوں ہارے؟ شعیب اختر نے بتادیا

    نیوزی لینڈ سے میچ کیوں ہارے؟ شعیب اختر نے بتادیا

    اسلام آباد (کنزیومر واچ نیوز)قومی ٹیم کے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے نیوزی لینڈ کیخلاف پاکستان کی ہار پر لب کشائی کردی۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری کردہ ویڈیو میں راولپنڈی ایکسپریس شعیب اختر نے گرین شرٹس کو مشورہ دیا کہ پاکستانی ٹیم کو جارحانہ کھیل کھیلنے کی ضرورت ہے، دنیا جس انداز میں کھیلتی ہے، ہم اس سے بہت دور ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان 6 رنز اوور کی اوسط سے بھی بالنگ کرواتا تو میچ جیت سکتا تھا لیکن ہم بیٹرز بہت سلو کھیل رہے ہیں جسکا نقصان ہمیں ہار کی صورت میں اٹھانا پڑا۔

  • گاڑی کی نمبر پلیٹوں پر ایڈووکیٹ لکھنا غیر قانونی ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ

    گاڑی کی نمبر پلیٹوں پر ایڈووکیٹ لکھنا غیر قانونی ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ

    اسلام آباد (کنزیومر واچ نیوز) اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ گاڑی کی نمبر پلیٹوں پر ایڈووکیٹ لکھنا غیر قانونی ہے۔ جسٹس طارق محمود جہانگیری نے اس بات پر زور دیا کہ تمام شہریوں کی طرح وکلاء کو بھی قانون کی پابندی کرنی چاہیے اور وہ اس طرح کی نمائشوں کے ذریعے خصوصی مراعات کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔انہوں نے قانونی برادری پر زور دیا کہ وہ ان نشانات کو ہٹا دیں اور ذاتی فائدے کے لیے اپنے پیشے کا غلط استعمال کرنے سے گریز کریں۔ عدالت نے زور دیا کہ قانون سب پر یکساں لاگو ہوتے ہیں، انصاف اور احتساب کو یقینی بناتے ہیں۔خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جا سکتی ہے، اور وکلاء کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ صرف حکومت کی جاری کردہ نمبر پلیٹس استعمال کریں۔ یہ حکم بغیر کسی استثنیٰ کے ٹریفک قوانین پر عمل کرنے کی اہمیت کو تقویت دیتا ہے۔

  • راکھی ساونت نے پاکستانیوں سمیت 20 مسلمانوں کو عمرے پر بھیج دیا

    راکھی ساونت نے پاکستانیوں سمیت 20 مسلمانوں کو عمرے پر بھیج دیا

    دبئی (کنزیومر واچ نیوز) بالی ووڈ کی معروف اداکارہ راکھی ساونت نے رمضان سے قبل پاکستان اور بھارت سے 20 افراد کو عمرے پر بھجوا دیا۔بھارتی اداکارہ راکھی ساونت نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری ویڈیو بیان میں بتایا کہ وہ اللہ کی راہ میں رمضان المبارک سے قبل ایک چھوٹا سا نیک کام کررہی ہیں، 10 پاکستانی اور 10 بھارتی بہن بھائیوں کو عمرے پر بھیج رہی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت دبئی میں ہیں اور جن حضرات کو عمرے پر بھیج رہی ہیں انہیں احرام بھی دیں گی۔