Blog

  • آفاق احمد کی ضمانت منظور،رہا کرنے کا حکم

    آفاق احمد کی ضمانت منظور،رہا کرنے کا حکم

    کراچی(کنزیومر واچ نیوز)ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج غربی نے سرجانی ٹاؤن میں ٹرک نذرِ آتش کرنے کیخلاف مقدمے میں مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین آفاق احمد کی ضمانت منظور کرلی۔کراچی سٹی کورٹ میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج غربی نے ٹرک نذرِ آتش کرنے کیخلاف مقدمے میں مہاجر قومی موومنٹ کے چئرمین آفاق احمد کی ضمانت پر محفوظ فیصلہ سنادیا۔عدالت نے ایک لاکھ روپے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ آفاق احمد کسی اور مقدمے میں گرفتار نہیں تو انہیں رہا کیا جائے۔

  • شائقین کرکٹ نے اپنا غصہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نکال دیا

    شائقین کرکٹ نے اپنا غصہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نکال دیا

    کراچی(کنزیومر واچ نیوز)قومی ٹیم کے کپتان محمد رضوان کی قیادت میں آئی سی سی چیمپئینز ٹرافی کے پہلے راؤنڈ سے باہر ہونے پر شائقین کرکٹ نے اپنا غصہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نکال دیا۔ہوم گراؤنڈ پر افتتاحی میچ میں نیوزی لینڈ کے ہاتھوں اور پھر دبئی میں روایتی حریف بھارت کے ہاتھوں ذلت آمیز شکستوں نے پاکستان کو ٹورنامنٹ سے باہر کردیا ہے۔قومی ٹیم کی جانب سے ایونٹ میں تینوں شعبوں میں ناقص کھیل کا مظاہرہ کیا گیا، جس نے شائقین کرکٹ کے صبر کا پیمانہ لبریز کردیا، فینز نے کپتان محمد رضوان اور بابراعظم کو سست بیٹنگ پر آڑے ہاتھوں لیا اور شکست کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

  • ملزم حماد صدیقی کی حوالگی کیلئے انٹرپول سے رجوع کرنے کا حکم

    ملزم حماد صدیقی کی حوالگی کیلئے انٹرپول سے رجوع کرنے کا حکم

    کراچی(کنزیومر واچ نیوز)سندھ ہائیکورٹ نے سانحہ بلدیہ فیکٹری کے مفرور ملزم حماد صدیقی کی حوالگی کیلئے انٹرپول سے رجوع کرنے کا حکم دے دیا۔سندھ ہائیکورٹ میں سانحہ بلدیہ فیکٹری ملزمان حوالگی کیس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں متعلقہ حکام عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔دوران سماعت قتل کیس میں نامزد ملزم حماد صدیقی اور دبئی فرار دیگر ملزمان کی پاکستان حوالگی کے کیس میں محکمہ داخلہ اور خارجہ نے رپورٹ جمع کرائی۔

  • ملزم ارمغان کا ریمانڈ نہ دینے والے جج سے انتظامی اختیارات واپس لینے کی سفارش

    ملزم ارمغان کا ریمانڈ نہ دینے والے جج سے انتظامی اختیارات واپس لینے کی سفارش

    کراچی(کنزیومر واچ نیوز) سندھ ہائیکورٹ نے مصطفیٰ عامر قتل کیس کے ملزم ارمغان کا ریمانڈ نہ دینے والے انسداد دہشتگردی عدالت کے منتظم جج سے انتظامی اختیارات واپس لینے کی سفارش کردی۔سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس ظفر راجپوت کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔قائم مقام پراسیکیوٹر جنرل کے مطابق عدالت نے ریکارڈ ٹیمپرنگ کے الزامات کے بعدجج سے اختیارات واپس لینے کی سفارش کی ہے۔حکم نامے کے مطابق منتظم جج کے احکامات ہاتھ سے نہیں لکھے گئے بلکہ ٹائپ شدہ تھے، منتظم جج نے ملزم کے جسمانی ریمانڈ کا حکم دیا لیکن بعد میں وائٹو لگا کر ریمانڈ کو جوڈیشل کسٹڈی کیا گیا، قائم مقام پراسیکیوٹر جنرل نے بتایا کہ ریمانڈ کے وقت ملزم کا باپ منتظم جج کے چیمبر میں رہا۔

  • اداکار عمر شہزاد نے بھی خانہ کعبہ میں نکاح کرلیا۔

    اداکار عمر شہزاد نے بھی خانہ کعبہ میں نکاح کرلیا۔

    کراچی(کنزیومر واچ نیوز) پاکستانی اداکار جوڑی گوہر رشید اور کبریٰ خان کے بعد اداکار عمر شہزاد نے بھی خانہ کعبہ میں نکاح کرلیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق عمر شہزاد کے نکاح کی تقریب خانہ کعبہ میں ہوئی جس میں جوڑے کے قریبی دوستوں اور رشتے داروں نے شرکت کی۔اداکار عمر شہزاد نے نکاح کے بعد خانہ کعبہ سے لی گئی تصاویر اور خوبصورت پوسٹ شیئر کرتے ہوئے مداحوں کو شادی کی اطلاع دی۔ا داکار کی پوسٹ میں ان کی اہلیہ کے حوالے سے فی الحال کوئی معلومات شیئر نہیں کی گئی ہیں جب کہ تصاویر میں بھی ان کی اہلیہ کا چہرہ واضح نہیں ہے۔

  • یورپ کو اپنی عوام سے خطرہ محسوس ہورہا ہے،جرمن وزیر دفاع

    یورپ کو اپنی عوام سے خطرہ محسوس ہورہا ہے،جرمن وزیر دفاع

    خواتین و حضرات آپ دنیا کے تیزی سے بدلتے ہوئے حالات سے یقینا باخبر ہوں گے۔ سب سے پہلے تو فروری کے مہینے میں جرمنی کے شہر میونخ میں جو دفاعی یا حفاظتی کانفرنس منعقد ہوئی اور اس میں امریکہ کے نائب صدر وینس نے جو بیان دیا تو وہ اس کانفرنس ہال میں بیٹھے دنیا کے بڑے بڑے صدور اور رہنماؤں کے لیے انتہائی حیران کن تھا۔ یہ بیان یورپ کے لیے باعث شرم تھا۔ یہاں تک کہ جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹریوس نے اسے اس حد تک امیز حد تک جانا کہ برافروختہ جواب میں کہا کہ نائب صدر جے ڈی وینس کا یہ بیان کہ یورپ اپنی جمہوری روایتوں سے انحراف کر رہا ہے قطعی درست نہیں اور یہ کہ وہ ان کی اس بات سے مکمل اختلاف کرتے ہیں کہ یورپ کو روس اور چین سے زیادہ خطرہ، خود اپنی عوام سے محسوس ہو رہا ہے جو موجودہ حکمرانوں کی پالیسیوں کے خلاف پارٹیوں کو ووٹ دے کر کامیاب کرانا چاہتے ہیں۔ نائب صدر کا کہنا تھا کہ یورپ میں ایسی مثال اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی کہ جمہوری اداروں کو کمزور کیا جاتا ہو، عدالتیں انتخابات کو غیر موثر قرار دیتی ہوں اور انتخاب سے قبل ایسی چھوٹی پارٹیوں کو جن کی کامیابی سامنے نظر آرہی ہو انہیں حکومتی کاروبار سے دور رکھنے کا عندیہ دیا جا رہا ہو۔ عوام کے ایک بڑے طبقے کے اندر پرورش پاتے شعور کو ہر ممکنہ طریقے سے دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یورپ میں جمہوریت کی ایسی روایت کبھی بھی نہیں رہی ہے۔ اسی اجلاس میں یوکرین کے مسئلے پر اقوام عالم کے تمام بڑے بڑے سربراہوں، خاص کر یورپ کے پنڈتوں کی نظرلگی ہوئیں تھی کہ امریکہ ایک واضح اور جامع پروگرام طے کرے گا اور روس کو یورپ کی شرائط پر مذاکرات کی میز پر بیٹھنے پر مجبور کرے گا۔ اور اسی مناسبت سے کوئی بیان سامنے آئے گا۔ لیکن برعکس اس کے امریکی نائب صدر کا رویہ اپنے سابقہ رویوں سے 180 درجے بدل چکا تھا۔ ماضی میں بھی امریکہ اپنی پالیسیوں میں اسی طرح کی قلابازیاں کھاتا رہا ہے انتہا تو یہ ہے کہ امریکہ اور روس سعودی عرب میں بیٹھے یوکرین کے مسائل پر بات چیت کر رہے ہیں اور یوکرین اور یورپ کے دیگر ممالک کو اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت تک نہیں ملی ہے۔ دعوت دینا تو دور کی بات ہے مذاکرات کے اختتام پر دیگر بیان کے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے صدر زیلنسکی پر شدید نوعیت کے الزامات عائد کیے ہیں کہ انہیں ان پچھلے تین سالوں میں مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کو طے کرنا چاہیے تھا بلکہ انہیں یہ جنگ شروع ہی نہیں کرنی چاہیے تھی
    ٹرمپ نے روس کے بجائے یوکرین کو جنگ کا ذمہ دار ٹھہرادیا۔ ایسے میں یقینا زیلنسکی کو اپنا سب کچھ لٹتا محسوس ہوا ہوگا۔
    ہم سب جانتے ہیں کہ امریکہ صرف اپنی مفادات کی جنگ لڑا کرتا ہے اور جب وہ اپنے مفاد میں کامیاب ہو جائے تو میدان چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے۔ سن 1971 میں جب ملک پاکستان کا بڑا حصہ ٹوٹ رہا تھا، اور بھارتی جارحیت کے نتیجے میں ملک دولخت ہو رہا تھا تو اس وقت بھی پاکستان پر یہ الزامات عائد کیے گئے تھے کہ وہ اس جنگ کا ذمہ دار ہے کوئی شک نہیں کہ سابقہ مشرقی پاکستان اور موجودہ بنگلہ دیش میں فوج کشی اور دیگر ریشہ داوانیہ یہاں کے عوام کو مشتعل کرنے کا باعث ضرور تھے لیکن اس کا جو حل ہندوستان نے پیش کیا وہ واحد حل نہیں تھا بلکہ امریکہ چاہتا تو وہ پاکستانی حکومت پر دباو ڈال کر بھی بنگالی عوام کے حقوق انہیں دلوا سکتا تھا لیکن اس نے ایسا کرنے کے بجائے جنگ کی راہ اختیار کی اور دوران جنگ بیچ بھنور میں پاکستان کی فوجی جنتا کو چھوڑ کر الگ ہو گیا۔
    اس کی مثال افغانستان میں ایک بار پھر دیکھنے میں ائی جب امریکہ اور اس کے حواری راتوں رات افغانستان کو اس کے 40 سال کا حساب دیے بغیر وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ آج یوکرین کو اس بات کا شدت سے احساس ہو رہا ہوگا کہ اس کا ملک بھی افغانستان جیسے ملک سے ایک درجہ بھی بہتر نہیں ہے کیونکہ اس نے جن پتوں پہ تکیہ کیا وہی اسے آج ہوا دے رہے ہیں امریکہ اور اس کے مابین ہونے والے معاہدے کے تحت روس یورپ کے تمام معاملات کو دیکھے گا اور یورپ اپنے طور پر اپنی سلامتی کی کوشش کرے گا۔ امریکہ کے اس رویے کے جواب میں فرانس میں صدر ایمنویل موکراں کی ایما پہ 18 یورپی ممالک اکٹھے ہوئے ہیں اور کوئی نئی پالیسی تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ یورپ نے ہمیشہ ہی برطانیہ اور امریکہ کی مدد سے دنیا پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی ہے۔ اول و دوئم عالمی جنگیں اس بات کی گواہ ہیں۔ امریکہ کی اس نئی پالیسی کو یورپ کی حکومتیں ایک وقتی تبدیلی جان رہی ہیں کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچے گی اور اسی لیے ان کا لائحہ عمل بھی وقتی ہی ہوگا۔
    سرور غزالی(جرمنی)

  • “چینی ادب: سفرِ حرف و خیال”

    “چینی ادب: سفرِ حرف و خیال”

    ہوا میں صندل کی خوشبو تھی، یا شاید وہ خوشبو میرے تخیل کا فریب تھی۔ میں بیجنگ کے ایک قدیم کوچے میں کھڑی تھی، جہاں پرانے دروازے وقت کی خاموش گواہی دے رہے تھے، اور دیواروں پر گزری صدیوں کی سرگوشیاں نقش تھیں۔ آسمان ہلکی ہلکی سرمئی چادر اوڑھے تھا، جیسے یادداشت میں کوئی بھولا ہوا افسانہ ہو جو بارش کی پہلی بوند کے انتظار میں ٹھہرا ہو۔
    میں نے اپنی انگلیاں اس دیوار پر پھیریں، جس کے رنگ مدھم پڑ چکے تھے۔ یہاں ہزاروں سال پرانی کہانیاں سانس لے رہی تھیں— شاید لی پو کی کوئی نظم، شاید لو شوئن کے کسی کردار کی آہ، یا شاید کوئی گمشدہ عشق، جو اب بھی ان پتھروں میں کہیں دفن تھا۔
    “تمہیں معلوم ہے، یہ گلیاں کتنی پرانی ہیں؟” ایک مقامی لڑکی نے مجھ سے پوچھا۔
    میں نے مسکرا کر گردن ہلائی۔ “ہاں، بالکل اتنی ہی پرانی جتنی کہانیوں میں لکھی ہوئی محبتیں۔”
    چینی ادب کو پڑھنا ایسے ہی ہے جیسے کسی قدیم قلعے کی بھول بھلیوں میں راستہ تلاش کرنا۔ ہر موڑ پر ایک نیا دروازہ کھلتا ہے، ایک نیا کردار سامنے آتا ہے، اور ہر سطر میں وہی شاعری سانس لیتی ہے جس نے کنفیوشس کے زمانے سے لے کر آج تک مسافروں کو مسحور کر رکھا ہے۔
    یہ سفر صرف کتابوں کے صفحات پر نہیں، یہ زمین پر کھینچی ہوئی وہ لکیریں ہیں جن پر صدیوں سے لوگ چلتے آ رہے ہیں۔ میں بھی انہی لکھی ہوئی راہوں پر چلنے کے لیے آئی تھی— کسی لو شوئن کے کردار کی آنکھوں میں جھانکنے، کسی شاعرانہ ناول کے خوابوں میں اترنے، اور کسی قدیم دیوار کے سائے میں بیٹھ کر وہ کہانیاں سننے، جو آج بھی ہوا کے دوش پر بہتی ہیں۔ میرے سامنے زیاؤ کھڑی مسکرا رہی تھی۔ ایک عام چینی لڑکی، جو اردو بولنے کی کوشش میں الفاظ کو خاص انداز سے توڑ رہی تھی۔
    “تم… اردو… لکھتی ہو؟”
    میں نے سر ہلایا۔
    “میں ایک کہانی کار اور شاعرہ ہوں”
    “اوہ… یہ تو بہت خوشی کی بات ہے تو چین کے ادب کو کیسے جانتی ہو؟”
    میں کچھ لمحے خاموش رہی۔ یہ سوال خود میرے لیے بھی نیا تھا۔ چین کا ادب؟ میں نے لو شون کو پڑھا تھا، مو یان کے “زندہ رہنے کا فن” کو محسوس کیا تھا، لی بائی کی شاعری میں کھوئی تھی، مگر کیا میں واقعی چین کے ادب کو جانتی تھی؟
    کیا تم میری مدد کرو گی چین کے ادب کو سمجھنے میں ؟
    “ہاں ضرور …” وہ مسکرائی…
    میں نے کمرے کی کھڑکی سے باہر دیکھا تو شہر نیون روشنیوں میں گھرا تھا، مگر کہیں دور کسی گلی کے سرے پر، ماضی کے دروازے اب بھی آہستہ آہستہ کھل رہے تھے۔
    چین کا ادب ایک ایسا سمندر ہے جس میں غزل کی نرمی، نظم کی روانی، اور افسانے کی گہرائی سب یکجا ہیں۔ یہاں شاعری صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک روحانی تجربہ ہے—ایک ایسا لمحہ جس میں قدرت، تاریخ، اور انسانی جذبات ایک ساتھ ہم آہنگ ہوتے ہیں۔ کلاسیکی چینی شاعری میں لی بائی کی رومانی چاندنی، دُو فُو کی المیہ صدائیں، اور وانگ وی کی فطرت سے جڑی خاموشیاں آج بھی زندہ ہیں۔ چین میں شاعری صرف ادب نہیں، بلکہ زندگی کا حصہ ہے، چائے کی خوشبو میں، قدیم مندروں کی خاموشی میں، اور پہاڑوں پر گونجتی ہواؤں میں۔ افسانوی ادب نے بھی وقت کے ساتھ ترقی کی، لو شون کی تحریروں میں انقلاب کی تپش، مو یان کے ناولوں میں حقیقت اور جادو کی آمیزش، اور ژانگ ای کی کہانیوں میں عورت کے جذباتی کرب کی جھلک سبھی اس معاشرے کی گہرائی کو بیان کرتی ہیں۔ چینی شاعری اور افسانوی ادب نے ہمیشہ تاریخ اور فلسفے کو اپنے اندر سموئے رکھا، اور یہی وہ عنصر ہے جو اسے محض لفظوں سے آگے لے جا کر ایک مکمل تہذیبی تجربہ بنا دیتا ہے۔
    اگلی صبح زیاؤ نے اعلان کیا،
    “ہم دیوارِ چین جا رہے ہیں۔”
    “ارے بہت شکریہ میں اپنی اس ملنسار دوست کی پیشکش کیسے رد کرتی ” زیاؤ کی انگلش کافی اچھی ہے جبکہ وہ کچھ اردو بھی جانتی ہے ”
    دیوار چین پہنچ کر میں نے اپنے چاروں طرف پھیلی وادیوں کو دیکھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے تاریخ خود اپنے اوراق پلٹ رہی ہو۔ زیاؤ نے آہستہ سے کہا،
    “جانتی ہو، لی بائی نے ایک نظم لکھی تھی، جس میں اس نے دیوارِ چین کی تنہائی کو محسوس کیا تھا؟”
    اس نے کتاب نکالی اور آہستہ آہستہ پڑھنے لگی:
    *”ہوا پہاڑوں سے سرکتی ہے،
    وقت کسی بوڑھے درخت کے سائے میں بیٹھا اونگھ رہا ہے،
    اور میں سوچتی ہوں کہ شاید
    یہاں کی اینٹوں میں بھی کہانیاں سانس لیتی ہیں۔”*
    میں نے دیوار کی پرانی اینٹوں کو چھوا— واقعی ان میں کوئی کہانی تھی، شاید وہی جو کسی گمشدہ سپاہی نے آخری رات چاند کے نیچے لکھی ہوگی۔
    بیجنگ کے پرانے بازار میں گھومتے ہوئے مجھے ایسا لگا جیسے میں لاہور کے کسی کوچے میں ہوں۔ دیواروں پر وقت کی دراڑیں تھیں، دکانوں میں وہی پرانی اشیا جو نجانے کتنے سالوں سے بکتی آ رہی تھیں— کاغذی چھتریاں، چینی مٹی کے برتن، اور موٹی جلد والی کتابیں، جن کے صفحات پر انگلی پھیرنے سے صدیوں کی گرد اڑتی محسوس ہوتی تھی۔
    ایک دکان میں رک کر میں نے ایک پرانی کتاب اٹھائی، اس کا سرورق زرد ہو چکا تھا، شاید سورج کی روشنی یا شاید کسی ایسے شخص کے لمس سے جس نے اسے دہائیوں پہلے کھولا تھا۔ زیاؤ نے جھک کر دیکھا،
    “یہ ہولان ریور کی کہانی ہے، ژاؤ ہونگ کی کتاب۔ ایک ایسے گاؤں کی کہانی، جہاں خواب صرف دریا کے پانی میں بہہ سکتے ہیں، حقیقت میں نہیں۔”
    میں نے کتاب خرید لی۔میرے کمرے کی الماری میں پہلے ہی کئی کتابیں بےترتیب رکھی تھیں، مگر یہ کتاب ان سب سے مختلف تھی۔ یہ ایک زمین، ایک تہذیب، اور شاید خود مجھ سے جڑی ہوئی تھی۔ گھر کی بالکنی میں بیٹھ کر میں نے کتاب کھولی۔ کہیں دور بیجنگ کا آسمان نیلا دھواں اوڑھے تھا، اور ہوا میں ایک پرانی نظم کی سرگوشی تھی:
    *”چاند نیچے وادیوں میں بہہ رہا ہے،
    دیواروں پر وقت کا سایہ رینگ رہا ہے،
    اور کسی سفرنامے کی پہلی رات میں،
    کہانی ابھی باقی ہے !
    چین کی سرزمین صرف دیواروں اور معبدوں کی نہیں، یہ شاعری کی دھرتی ہے—وہ شاعری جو دریا کے بہاؤ میں، پہاڑوں کی خاموشی میں، اور چاندنی راتوں کی اداسی میں بسی ہوئی ہے۔
    لی بائی (Li Bai) اور چاندنی راتوں کی تنہائی*
    چین کی راتیں الگ سی ہوتی ہیں۔ یہاں چاندنی کسی اور ہی انداز میں زمین پر اترتی ہے—کسی یاد کی طرح، کسی نظم کی طرح۔ لی بائی، جو چین کے سب سے مشہور شاعروں میں سے ایک تھے، ان کی شاعری میں چاند ایک خاص استعارہ بن کر ابھرتا ہے—تنہائی، یاد اور خوابوں کا استعارہ۔

    > *床前明月光,*
    > *疑是地上霜。*
    > *举头望明月,*
    > *低头思故乡。*

    **(میرے بستر کے سامنے چاندنی کی جھلک ہے،
    یوں لگتا ہے جیسے زمین پر کہر جم گئی ہو۔
    میں چاند کی طرف دیکھ کر سر اٹھاتا ہوں،
    اور پھر سر جھکا کر اپنے وطن کو یاد کرتا ہوں۔)**

    یہ شعر اس رات میرے دل میں اترا، جب میں دیوارِ چین کے قریب ایک سنسان مقام پر کھڑی تھی۔ سرد ہوا چل رہی تھی، اور چاندنی کسی بچھڑ جانے والے دوست کی طرح زمین پر بکھری ہوئی تھی۔ اس لمحے میں نے محسوس کیا کہ سفر کرنے والے ہمیشہ کسی نہ کسی چیز کو یاد کرتے ہیں—کبھی اپنا گھر، کبھی کوئی لمحہ، کبھی کوئی بچھڑ جانے والا خواب
    دو فو (Du Fu) اور وقت کے زخم*
    دیوارِ چین کے بلند حصے پر کھڑے ہو کر میں نے نیچے پھیلے ہوئے منظر کو دیکھا—پہاڑ، دریا، گھاٹیاں، اور کہیں دور ایک خاموش بستی۔ چین کی تاریخ جنگوں، بغاوتوں، اور زخموں سے بھری ہوئی ہے۔ اس تاریخ کی سب سے خوبصورت مگر اداس بازگشت دو فو کی شاعری میں سنائی دیتی ہے۔

    > *国破山河在,*
    > *城春草木深。*

    **(ملک برباد ہو چکا ہے، مگر پہاڑ اور دریا اب بھی باقی ہیں،
    شہر میں بہار آ چکی ہے، مگر ہر شے گھاس اور درختوں میں ڈھک گئی ہے۔
    یہ نظم تانگ سلطنت کے زوال کے دوران لکھی گئی تھی، مگر جب میں نے بیجنگ کے قدیم قلعوں کی دیواروں کو چھوا، تو یوں محسوس ہوا جیسے یہ الفاظ آج بھی زندہ ہیں۔ تاریخ مٹتی نہیں، صرف ایک نئے رنگ میں ڈھلتی ہے۔
    وانگ وی (Wang Wei) اور خاموشی کی گونج*
    بیجنگ سے باہر، جب چین کے دیہی علاقوں میں پہنچی، تو وہاں کے سنسان پہاڑوں اور پرسکون وادیوں میں ایک الگ ہی سکون تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے یہ جگہیں کسی نظم میں سانس لے رہی ہوں، جیسے یہاں خاموشی کے بھی معنی ہوں۔ وانگ وی، جو نہ صرف ایک عظیم شاعر تھے بلکہ ایک مصور بھی تھے، ان کی شاعری میں یہی سکون جھلکتا ہے۔

    > *空山不见人,*
    > *但闻人语响。*
    > *返景入深林,*
    > *复照青苔上。*

    **(خالی پہاڑ، کوئی انسان دکھائی نہیں دیتا،
    مگر دور کہیں باتوں کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔
    سورج کی روشنی جنگل کے اندر گہری ہوتی جا رہی ہے،
    اور سبز کائی پر آ کر دوبارہ چمکنے لگی ہے۔)**

    یہ وہ لمحہ تھا جب میں ایک قدیم بدھ مندر کے قریب کھڑی تھی، جہاں ہوا بھی دھیرے دھیرے چلتی تھی۔ یہاں وقت رک سا گیا تھا، جیسے کسی نے نظم کے درمیان ایک وقفہ لے لیا ہو۔
    لُو یو (Lu You) اور بچھڑنے کی اداسی*
    چین کا سفر صرف دیواروں اور پہاڑوں کا نہیں، یہ دل کے سفر کی بھی کہانی ہے۔ کبھی کبھی کسی گلی میں، کسی جھیل کے کنارے، یا کسی قدیم باغ میں چلتے ہوئے دل میں ایک گہری اداسی اتر آتی ہے—وہی اداسی جو لُو یو کی شاعری میں ہے۔

    > *红酥手,黄藤酒,*
    > *满城春色宫墙柳。*
    > *东风恶,欢情薄,*
    > *一杯愁绪,几年离索。*

    **(سُرخ نرم ہاتھ، پیلے رنگ کی شراب،
    شہر میں بہار چھا چکی ہے، محل کی دیواروں پر بید کے درخت لہرا رہے ہیں۔
    مگر مشرقی ہوا سخت ہو چکی ہے، محبت مدھم پڑ گئی ہے،
    ایک پیالہ غم، کئی سال کی جدائی کا قصہ۔)**

    جب میں نے یہ نظم پڑھی، تو یوں محسوس ہوا جیسے چین کے قدیم باغوں میں کہیں کوئی کہانی بکھری ہوئی ہو—ایسی کہانی جسے کوئی سنانے والا نہیں، مگر جو ہوا میں اب بھی سانس لے رہی ہے۔
    یہ سفر صرف جغرافیہ کا نہیں تھا، یہ ان نظموں کے ساتھ چلنے کا تھا جو صدیوں سے زندہ ہیں۔ میں چین میں نہیں تھی، میں شاعری کی زمین پر تھی—ایک ایسی زمین، جہاں ہر دریا ایک شعر کی طرح بہتا ہے، ہر پہاڑ ایک نظم کی طرح خاموش کھڑا رہتا ہے، اور ہر چاندنی رات لی بائی کے خوابوں کی طرح زمین پر بکھرتی ہے۔
    چین میں کئی موسم گزر گئے، کئی بار بہار نے گلابی پھولوں کی چادر بچھائی، کئی بار خزاں نے سنہرے پتوں کی نظمیں لکھی۔ میں اب یہاں کی گلیوں، پہاڑوں، قدیم دروازوں اور بارش میں بھیگتے مندروں کو اجنبی نظروں سے نہیں دیکھتی۔ وقت کے ساتھ یہ سب میرے اندر کہیں گھر کر چکے ہیں۔ میں اکثر سوچتی ہوں، کیا یہ چین ہے جو میرے اندر بسا ہے، یا میں خود اس سرزمین کا کوئی بھولا ہوا خواب بن چکی ہوں؟
    رات کے آخری پہر میں، جب خاموشی شہر پر اترتی ہے، میں اپنی کھڑکی سے چاند کو دیکھتی ہوں۔ لی بائی کا وہی قدیم شعر، جو شاید ہر مسافر کے دل میں کبھی نہ کبھی گونجتا ہے، میرے ہونٹوں پر آ جاتا ہے:

    > *举头望明月,低头思故乡。
    > (سر اٹھا کر چاند کو دیکھتی ہوں، پھر سر جھکا کر اپنے وطن کو یاد کرتی ہوں۔)

    مگر اب یہ شعر کسی یاد، کسی دوری، کسی بچھڑنے کی کیفیت میں نہیں گونجتا۔ اب یہ میرے اندر ایک سوال جگاتا ہے—وطن کیا ہے؟ وہ سرزمین جہاں ہم پیدا ہوتے ہیں یا وہ جگہ جہاں ہماری روح کو سکون ملتا ہے؟

    بیجنگ کی قدیم گلیوں میں چلتے ہوئے، کسی مٹیالی دیوار پر ہاتھ رکھتے ہوئے، کسی معبد کے خاموش صحن میں کھڑے ہو کر، میں محسوس کرتی ہوں کہ شاید ہر سفر کا اصل راز یہی ہوتا ہے—ہم وہاں پہنچتے نہیں جہاں جانے کا خواب دیکھتے ہیں، بلکہ وہ مقام خود ہمارے اندر کہیں جاگ اٹھتا ہے۔
    لیکن پھر، کہیں دور سمندر کی سرگوشیاں سنائی دیتی ہیں—نہیں، یہ حقیقت میں نہیں، یہ میرے اندر ہے۔ وہی شور جو کراچی کے ساحل پر لہروں کے ساتھ اٹھتا تھا، وہی جو کلفٹن کے ریتیلے کنارے پر ننگے پاؤں چلتے ہوئے محسوس ہوتا تھا، وہی جو میرے شہر کی مصروف سڑکوں میں، بسوں کے ہارن اور پرانی چائے خانوں کی گپ شپ کے بیچ بھی کہیں سنائی دیتا تھا۔ ایسے میں کہیں دور سے اذان کی آواز سنائی دیتی ہے—نہیں، یہ حقیقت میں نہیں، یہ میرے اندر ہے۔ وہی آواز جو لاہور کی صبحوں میں سنائی دیتی تھی، وہی جو اسلام آباد کی پہاڑیوں کے سائے میں گونجتی تھی، وہی جو میرے گھر کے قریب ہی مسجد کے مینار سے اٹھ کر فضا میں پھیلتی ہے۔ میں رک جاتی ہوں۔ پاکستان میرے اندر زندہ ہے،
    اور آج، جب میں چین کے کسی قدیم کوچے میں چاولوں کی بھاپ اٹھتے دیکھتی ہوں، یا دیوارِ چین کی اونچائی پر کھڑے ہو کر ہوا کے لمس کو محسوس کرتی ہوں، تو یہ لمحے مجھے واپس اپنے شہر میں لے جاتے ہیں۔
    *شاید میں کراچی میں ہوں، شاید میں چین میں ہوں، شاید میں دونوں جگہ ہوں۔*
    یا شاید وطن کی سرحدیں وہ نہیں جو نقشے پر بنی ہیں، بلکہ وہ ہیں جو دلوں میں بسی ہوتی ہیں۔
    ارم زہراء چین

  • کے الیکٹرک کے اراکین پارلیمنٹ سے رابطوں کا انکشاف

    کے الیکٹرک کے اراکین پارلیمنٹ سے رابطوں کا انکشاف

    اسلام آباد(کنزیو مر واچ نیوز) کے الیکٹرک کا مختلف امور پر اراکین پارلیمنٹ سے کنسلٹنٹس کی مدد سے رابطوں کا انکشاف ہوا پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی ناز بلوچ نے کے الیکٹرک کے کنسلٹسن کے ذریعے رابطوں کا معاملہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کے اجلاس میں اٹھا دیا۔قائمہ کمیٹی اجلاس میں رکن ناز بلوچ نے کہا کہ کنسلٹنٹس کمیٹی اجلاس کے بعد کے الیکٹرک کی وکالت کرتے ہیں، کے الیکٹرک کی جانب سے کنسلٹنٹس کے زریعے رابطہ کیا گیا، قائمہ کمیٹی پروسیڈنگ میں کنسلٹنٹس کے ذریعے مداخلت کی کوشش کی گئی۔

  • گرینڈ اپوزیشن الائنس کو توسیع دینے کے معاملے میں پیش رفت

    گرینڈ اپوزیشن الائنس کو توسیع دینے کے معاملے میں پیش رفت

    کراچی (کنزیو مر واچ نیوز)حکومت مخالف اتحاد کے سلسلے میں تحریکِ تحفظِ آئین اور جی ڈی اے کی مشترکہ کمیٹی قائم کردی گئی۔ذرائع کے مطابق گرینڈ اپوزیشن الائنس کو توسیع دینے کے معاملے میں پیش رفت ہوئی ہے، جس کے مطابق تحریک تحفظ آئین پاکستان اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس نے مشترکہ کمیٹی تشکیل دیدی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ کمیٹی مشترکہ سیاسی جدوجہد کے بنیادی نکات کوحتمی شکل دے گی، جس کے بعد اپوزیشن اتحاد کی اگلی بیٹھک 26 اور 27 فروری کو اسلام آباد میں ہوگی۔

  • پاکستانی شائقین کی اسپورٹس مین اسپرٹ، کوہلی کو بھی جی بھر کے داد دی

    پاکستانی شائقین کی اسپورٹس مین اسپرٹ، کوہلی کو بھی جی بھر کے داد دی

    اسلام آباد(کنزیو مر واچ نیوز)پاکستان کرکٹ ٹیم تو چیمپئنز ٹرافی میں بھارت کے خلاف اہم میچ میں بری طرح ہار گئی لیکن پاکستانی شائقین کی جانب سے اسپورٹس مین اسپرٹ کا زبردست مظاہرہ کیا گیا۔پاکستان کے 242 رنز کے ہدف کے تعاقب میں وکٹری شاٹ پر ویرات کوہلی کی سنچری مکمل ہوئی تو پاکستانی شائقین کرکٹ نے کوہلی کو بھی جی بھر کے داد دی۔اسلام آباد میں شائقین کرکٹ نے ویرات کوہلی کے حق میں نعرے بھی لگائے،اسٹار بلے باز کے ہر ہر شاٹ پر داد دی۔