Blog

  • ایشیا کی سب سے بڑی مویشی منڈی سج گئی

    ایشیا کی سب سے بڑی مویشی منڈی سج گئی

    سورج مکھی،لال بادشاہ،میرا،شیرا،سالار،بادشاہ،شہنشاہ،راجہ،سوڈانی اور چا ر سینگوں والے دنبے کی دھوم ،یہ جانور عوام کی توجہ کا مرکز بن گئے
    سورج مکھی کو صرف اندھیرے میں نظر آتا ہے، لال بادشاہ اور میرا پریمی جوڑا جو بچپن سے ایک دوسرے کے ساتھ ہیں،مالک کا بیان
    ڈھائی فٹ کے گنی نسل کے منفرد بچھڑے کی قیمت 30 لاکھ روپے ،رقص کرنے والا اونٹ دس لاکھ میں دستیاب، راجہ کی قیمت پانچ لاکھ
    مویشی دوست منڈی کے نظم وضبط میں ایڈمنسٹریٹر فیصل علی کااہم کردار،صفائی،پانی،بجلی،پارکنگ اور سیکورٹی کے عمدہ انتظامات
    قارئین کی رہنمائی کے لئے کنزیومر واچ کی رپورٹ تیار، میڈیا سیل کے ماجد خان نے قدم قدم پر ہماری ٹیم کی بھرپور رہنمائی کی
    (رپورٹ:نشید آفاقی،فوٹو گرافی حسنین احمد،جاوید احمد)
    نادرن بائی پاس پر ایشیا کی سب سے بڑی مویشی منڈی میںسورج مکھی،لال بادشاہ،میرا،شیرا،سالار،بادشاہ،شہنشاہ،راجہ،ہیرو،سوڈانی دنبہ اور چا ر سینگوں والے دنبے کی دھوم ،اعلی نسل اور منفرد خصوصیات کی وجہ سے یہ جانور عوام کی توجہ کا مرکز بن گئے۔کنزیومر واچ نے قارئین کی رہنمائی کے لئے مویشی منڈی کی رپورٹ تیار کی ہے جو آپ کی خدمت میں پیش کی جارہی ہے ،رپورٹ کی تیاری کے سلسلے میں میڈیا سیل کے ماجد بھائی نے قدم قدم پر ہماری بھرپور رہنمائی کی،چلیں چلتے ہیں سورج مکھی کے پنڈال میں سورج مکھی کے مالک نے بتایا کہ اس کو صرف اندھیرے میں نظر آتا ہے روشنی میں اس کی بینائی چلی جاتی ہے۔ہمارا سوال تھا کہ کیا اس کی قربانی جائز ہے؟ اس کے جواب میں مالک کا کہنا تھا کہ ہم نے فتوی لے لیا ہے اس کی قربانی جائز ہے ۔اسی پنڈال میں ہماری ملاقات لال بادشاہ اور میرا سے کرائی گئی جن کے بارے میں مالک نے بتایا کہ یہ پریمی جوڑا ہے اور ایک دوسرے کی بغیر نہیں رہتا بچپن سے یہ ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔بشیر کیٹل فارم میں ہم نے تین بہت خوبصورت بیل دیکھے جن کی مالیت فی بیل ایک کروڑ روپے بتائی گئی۔ بابا کیٹل فارم پر ہم نے گنی بچھیا اور بچھڑے سے ملاقات کی گنی نسل کے جانوربنیادی طور پر بنگلادیش سے تعلق رکھتے ہیں پست قامت جانور صرف ڈھائی فٹ کے ہوتے ہیں ۔گنی نسل کے ایک منفرد بچھڑے کی قیمت 30 لاکھ روپے ہے دیگر 10 سے 15 لاکھ میں دستیاب ہیں،گائے منڈی کے بعد ہم اونٹ منڈی گئے وہاں بھی ہمیں ایک منفرد اونٹ نظرآیا جو رقص کرتا اور جھومتا ہے۔اس کی قیمت دس لاکھ ہے،بکرا منڈی میں بھی اعلی نسل کے جانور آئے ہوئے ہیں۔بادشاہ اور شہنشاہ آٹھ ،آٹھ لاکھ جبکہ راجہ پانچ لاکھ میں دستیاب ہے۔

    نادرن بائی پاس مویشی دوست منڈی کی رونقیں مسلسل بڑھنے لگی ہیں تاہم اس مرتبہ انتظامات نہایت شاندار ہیں،1200 ایکٹر رقبے پر پھیلی مویشی دوست منڈی کا نظم وضبط ایڈمنسٹریٹر فیصل علی کا کارنامہ ہے قربانی کے لیے لائے گئے نایاب اور دیدہ زیب جانور شہریوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں،گائے،بیل،بچھڑے، بکروں اور خوبصورت نقش ونگار والے اونٹوں کیلئے الگ الگ بلاک مختص ہیں موشی دوست منڈی میں پہلی بار شہریوں کیلئے بڑے بڑے برانڈز کی فوڈ اسٹریٹ قائم کی گئی ہے جس پر عوام نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ منڈی کے مختلف بلاکس میں پہلے دن سے لائیو اسٹاک کے کیمپس قائم ہیں ،کار،موٹرسائیکل پر آنے والے شہریوں کیلئے پاس کی بھی سہولت موجود ہے ، پورے مہینے کے لئے موٹرسائیکل کے 1500 اور بڑی گاڑی کی پارکنگ فیس3200 روپے ہے، ون ڈے پاس بنواکر بھی گاڑی لانے کی اجازت ہے،
    منڈی میں جانوروں کے لیے چارہ،پانی اور بجلی کی سہولت 24 گھنٹے موجود
    ہے،ایڈمنسٹریٹر فیصل علی کے مطابق فی جانور 30 لیٹر پانی مفت فراہم کیا جارہا ہے، مویشی دوست منڈی کے اطراف سیکیورٹی کیلئے ایک ہزار پولیس اہلکار تعینات ہیں

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ماجد خان(ترجمان مویشی دوست منڈی)
    ہماری کوشش ہے کہ میڈیا کے لوگوں کو ہرممکن سہولتیں فراہم کی جائیں ہم کونٹینٹ کی تیاری کے حوالے سے بھی ان کو گائیڈ کرتے ہیں تاکہ وہ کم وقت میں اپنی نیوز رپورٹ اور پیکج تیار کرلیں،خریداروں اور بیوپارویوں کو بھی
    مکمل آگہی فراہم کر رہے ہیں،ہماری ٹیم بیس افراد پر مشتمل ہے۔جو تین شفٹوں میں اپنے فرائض انجام دے رہی ہے۔جانوروں کی بیماریوں کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اس سال منڈی میں داخل ہونے سے پہلے ہی جانوروں کا چیک اپ کیا جارہا ہے۔اگر کسی جانور میں بیماری پائی گئی تو اس کو واپس بھیجا جا رہا ہے۔اور اگر کوئی جانور منڈی آنے کے بعد بیمارہوجائے تو اس کے علاج معالجے کے لئے ٹیم موجود ہے۔قیمتوں کے حوالے سے تجزیہ کرتے ہوئے ماجد خان نے بتایا کہ مہنگائی تو ہے مگر لوگوں کو ان کے بجٹ کے مطابق جانور مل ر ہے ہیں۔صحافتی تجربے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ انہیں پچیس سالہ صحافتی تجربہ ہے اور وہ مختلف معروف اخبارات اور چینلز سے منسلک رہے ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پنجاب، بلوچستان، سندھ کے چھوٹے بڑے شہروں سے بیل،بچھڑے ، بچھیا،اونٹ اور بکروں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے ، سبی ، ساہیوال، چولستانی، آسٹریلین، سندھی نسل کی گائے ،بیل، بچھڑے اور بچھیا مویشی منڈی کی زینت بن چکے ہیں، خوبصورت نقش و نگار والے اونٹ، ٹاپری،سندھی اور کاموری نسل کے بکروں کی ڈیمانڈ زیادہ ہے ، جبکہ وی وی آئی پی،وی آئی پی اور سفائر بلاکس میں بھاری،بھرکم جانوروں نے مویشی منڈی کی رونقیں بڑھادی ہیں، مارشلینگ ایریا میں ٹریلرز اور ٹرکوں پر لدے مال مویشیوں کی آمد کا سلسلہ دن رات جاری ہے ، مویشی دوست منڈی میں بیوپاریوں کو پہلے سے زیادہ سہولیات موجود ہیں کراچی میں غیر قانونی مویشی منڈیوں اور سڑک کنارے جانوروں کی خرید و فرخت پر پابندی عائد ہے غیر قانونی مویشی منڈیاں قائم کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے۔ وی آئی پی اور جنرل بلاکس میں دو من سے لے کر دس من تک کے خوبصورت اور مختلف رنگ ونسل کے مویشی موجود ہیں۔ایشیا کی سب سے بڑی مویشی منڈی کے افتتاح کوکافی دن گزر چکے ہیں اور پہلے روز سے ہی جانوروں کی خرید وفروخت کا سلسلہ جاری ہے۔ کراچی میں لگنے والی قربانی کے جانوروں کی مویشی منڈی نے شہریوں کی توجہ حاصل کرلی ہے یہی وجہ ہے کہ ان دنوں شہریوں کی بڑی تعداد نادرن بائی پاس مویشی منڈی کا رخ کررہی ہے۔ منڈی میں ویک اینڈ پر شہریوں کے سیر سپاٹے اس بات کا ثبوت ہیں کہ نہ صرف مویشی منڈی کو جانے والے راستے محفوظ ہیں بلکہ منڈی کے اطراف اور اندر بھی سیکیورٹی کا انتظام موثر ہے۔

  • کینیڈا: تاریخ، معیشت اور مستقبل کا جائزہ…..تحریر ڈاکٹر بشارت ریحان

    کینیڈا: تاریخ، معیشت اور مستقبل کا جائزہ…..تحریر ڈاکٹر بشارت ریحان

    کینیڈا شمالی امریکہ کا ایک وسیع و عریض ملک ہے جس کا موجودہ وجود صدیوں کے تاریخی ارتقاء کا نتیجہ ہے۔ کینیڈا کے نام کی ابتدا “کاناٹا” سے ہوئی جو مقامی ہرون-ایروکوئین زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب “گاؤں” یا “آبادی” ہے۔ 1535ء میں جب فرانسیسی مہم جو جیکوئس کارٹیئر موجودہ کیوبیک سٹی کے علاقے میں پہنچا، تو مقامی لوگوں نے اسے یہ لفظ سنا کر اپنی بستیوں سے متعارف کرایا۔

    کینیڈا کی تاریخ درحقیقت اس سے کہیں پرانی ہے۔ آثار قدیمہ کے شواہد بتاتے ہیں کہ شمالی علاقے یوکون میں انسانی موجودگی 26,000 سال پہلے سے ہے جبکہ جنوبی علاقے اونٹاریو میں 9,500 سال پرانے انسانی آثار ملے ہیں۔ یورپیوں کی آمد سے پہلے یہ خطہ مقامی قبائل جیسے کہ فرسٹ نیشنز، انوئٹ اور میٹس لوگوں کا مسکن تھا۔

    یورپیوں میں سب سے پہلے وائکنگز نے تقریباً 1000 عیسوی میں نیو فاؤنڈ لینڈ کے علاقے میں آباد ہونے کی کوشش کی۔ اس کے بعد 1497 میں جان کابوت اور 1534 میں جیکوئس کارٹیئر جیسے یورپی مہم جوؤں نے اس خطے کی دریافت کی۔ پہلی مستقل یورپی آبادکاری فرانسیسیوں نے 1605 میں پورٹ رائل اور 1608 میں کیوبیک سٹی میں قائم کی۔

    نوآبادیاتی دور اور کینیڈا کا قیام

    17ویں اور 18ویں صدی میں فرانسیسی اور برطانوی نوآبادیاتی طاقتوں کے درمیان اس خطے پر کنٹرول کے لیے شدید کشمکش رہی۔ 1763 کے معاہدہ پیرس کے بعد فرانس نے شمالی امریکہ میں اپنے بیشتر علاقے برطانیہ کے حوالے کر دیے۔

    1867 میں برطانوی شمالی امریکہ ایکٹ کے تحت کینیڈا کی ڈومینین وجود میں آئی جس میں ابتدائی طور پر چار صوبے شامل تھے: اونٹاریو، کیوبیک، نیو برنزویک اور نووا سکوشیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دیگر صوبے اور علاقے بھی کینیڈا میں شامل ہوتے گئے۔ 1982 تک کینیڈا نے برطانیہ سے مرحلہ وار سیاسی آزادی حاصل کر لی۔

    کینیڈا کا جغرافیائی ارتقاء اور سمندروں سے تعلق

    سائنسی شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ کروڑوں سال پہلے، جب براعظم اپنی موجودہ پوزیشن پر نہیں تھے، کینیڈا کا بیشتر حصہ درحقیقت سمندر کے نیچے تھا۔ ارضیاتی ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ کینیڈا کے کئی حصے قدیم سمندروں کی تہہ میں تھے جنہوں نے وقت کے ساتھ ارضیاتی عمل کے تحت ابھر کر موجودہ شکل اختیار کی۔

    خاص طور پر کینیڈا کے وسطی اور مشرقی حصوں میں پائے جانے والے فوسلز اور چٹانیں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ یہ علاقے کبھی گہرے سمندروں کے نیچے تھے۔ ارضیاتی پلیٹوں کی حرکت کے نتیجے میں یہ علاقے ابھر کر سطح زمین پر آئے اور بعد میں گلیشیروں کے عمل سے گذر کر موجودہ شکل میں ڈھل گئے۔

    کینیڈا کی ابتدائی معیشت

    کینیڈا کی ابتدائی معیشت کا انحصار بنیادی طور پر قدرتی وسائل اور تجارت پر تھا۔ نوآبادیاتی دور میں فرانسیسی اور برطانوی تاجروں نے یہاں کی معیشت کو دو اہم ستونوں پر استوار کیا:

    1. فر کی تجارت: یہ کینیڈا کی ابتدائی معیشت کا سب سے اہم حصہ تھی۔ یورپی تاجر مقامی لوگوں سے بیور، لومڑی اور دیگر جانوروں کی کھالیں حاصل کرتے تھے جو یورپ میں بہت قیمتی تھیں۔

    2. ماہی گیری: خصوصاً نیو فاؤنڈ لینڈ کے ساحل پر کوڈ مچھلی کی صنعت نے یورپی ممالک کو بڑی مقدار میں خوراک فراہم کی۔

    3. لکڑی کی صنعت: کینیڈا کے وسیع جنگلات سے حاصل ہونے والی لکڑی برطانوی بحریہ کے جہازوں کی تعمیر میں استعمال ہوتی تھی۔

    4. زراعت: دریائے سینٹ لارنس کے زرخیز میدانوں میں فرانسیسی آبادکاروں نے گندم اور دیگر فصلیں اگائیں۔

    19ویں صدی میں کینیڈا کی معیشت میں صنعتی انقلاب کے اثرات ظاہر ہونے لگے۔ ریلوے کی تعمیر نے ملک کے مشرق و مغرب کو جوڑا اور تجارت کو فروغ دیا۔ دریائے سینٹ لارنس سمندری راستہ اور گریٹ لیکس کا نظام تجارتی نقل و حمل کے لیے اہم بن گیا۔

    20ویں صدی میں کینیڈا کی معیشت

    20ویں صدی میں کینیڈا کی معیشت نے تیزی سے ترقی کی اور یہ ملک صنعتی قوت بن کر ابھرا:

    1. قدرتی وسائل: کینیڈا نے اپنے وسیع معدنی ذخائر، تیل، گیس اور جنگلات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عالمی منڈیوں میں اپنی جگہ بنائی۔

    2. صنعتی ترقی: خصوصاً دوسری عالمی جنگ کے دوران کینیڈا کی صنعتی صلاحیتوں میں زبردست اضافہ ہوا۔

    3. بین الاقوامی تجارت: ریاستہائے متحدہ کے ساتھ گہرے تجارتی تعلقات نے کینیڈا کی معیشت کو مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

    4. خدمات کا شعبہ: 20ویں صدی کے دوسرے نصف میں مالیاتی خدمات، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں نمایاں ترقی ہوئی۔

    موجودہ کینیڈا: معیشت اور سماجی ڈھانچہ

    آج کینیڈا دنیا کی دس بڑی معیشتوں میں سے ایک ہے اور اس کی کئی خصوصیات ہیں:

    معاشی ڈھانچہ:
    – قدرتی وسائل: کینیڈا تیل، گیس، معدنیات، لکڑی اور پانی کے وسیع ذخائر کا مالک ہے۔
    – ٹیکنالوجی اور جدت: ٹورنٹو، واٹرلو اور وینکوور جیسے شہر ٹیکنالوجی کے اہم مراکز بن چکے ہیں۔
    – زراعت: کینیڈا دنیا کے اہم غذائی برآمد کنندگان میں سے ایک ہے۔
    – صنعت: گاڑیاں، ہوائی جہاز اور جدید ٹیکنالوجی کی مصنوعات کی تیاری میں کینیڈا کا اہم کردار ہے۔

    سماجی ڈھانچہ:
    – کثیرالثقافتی معاشرہ: کینیڈا دنیا کے سب سے کثیرالثقافتی ممالک میں سے ایک ہے جہاں ہر چار میں سے ایک شخص تارک وطن ہے۔
    – تعلیم اور صحت: کینیڈا کا تعلیمی اور صحت کا نظام دنیا کے بہترین نظاموں میں شمار ہوتا ہے۔
    – معیار زندگی: کینیڈا کے شہر مسلسل دنیا کے قابل رہائش شہروں کی فہرست میں شامل ہوتے ہیں۔

    کینیڈا کا مستقبل: چیلنجز اور مواقع

    کینیڈا کو مستقبل میں متعدد چیلنجز اور مواقع کا سامنا ہے:

    چیلنجز:
    1. آبادیاتی تبدیلیاں: کینیڈا کی آبادی تیزی سے معمر ہو رہی ہے جبکہ پیدائش کی شرح کم ہے۔ اس کا حل امیگریشن میں تلاش کیا جا رہا ہے، جیسا کہ حکومت نے 2025 تک سالانہ 5 لاکھ تارکین وطن کو قبول کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

    2. ماحولیاتی تبدیلیاں: گلوبل وارمنگ کینیڈا کے آرکٹک علاقوں کو خاص طور پر متاثر کر رہی ہے۔

    3. اقتصادی عدم مساوات: بڑے شہروں میں رہائش کے بحران اور مہنگائی عوام کے لیے مسائل پیدا کر رہی ہیں۔

    4. لسانی تقسیم: کیوبیک میں فرانسیسی زبان کے تحفظ کا مسئلہ ملکی یکجہتی کے لیے چیلنج بنا ہوا ہے۔

    مواقع:
    1. قابل تجدید توانائی: کینیڈا ہائیڈرو، شمسی اور ہوائی توانائی کے ذریعے صاف توانائی کی پیداوار میں عالمی رہنما بن سکتا ہے۔

    2. ٹیکنالوجی اور جدت: مصنوعی ذہانت، بائیو ٹیکنالوجی اور صاف ٹیکنالوجی کے شعبوں میں کینیڈا کو نمایاں فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔

    3. بین الاقوامی تجارت: نئے تجارتی معاہدے اور عالمی منڈیوں تک رسائی کینیڈا کی معیشت کو مزید فروغ دے سکتی ہے۔

    4. کثیرالثقافتی طاقت: تارکین وطن کی مہارت اور تنوع کینیڈا کو عالمی معیشت میں ایک منفرد مقام دلوا سکتا ہے۔

    سمندری وسائل اور کینیڈا کا مستقبل

    کینیڈا کا سمندروں سے گہرا تعلق رہا ہے اور مستقبل میں بھی سمندری وسائل اہم کردار ادا کریں گے:

    1. سمندری تجارت: کینیڈا کا دنیا کا سب سے طویل ساحل ہے جو تجارت کے لیے اہم راستہ فراہم کرتا ہے۔

    2. ماہی گیری: پائیدار ماہی گیری کینیڈا کی معیشت کا اہم حصہ بنی رہے گی۔

    3. سمندری معدنیات: گہرے سمندروں سے معدنیات کی نکالی کی ممکنہ صنعت مستقبل میں اہم ہو سکتی ہے، حالانکہ اس کے ماحولیاتی اثرات پر تشویش ہے۔

    4. قطبی راستے: گلوبل وارمنگ کے باعث آرکٹک سمندری راستے کھل رہے ہیں جو کینیڈا کے لیے نئے تجارتی مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔

    کینیڈا کی خارجہ پالیسی اور عالمی کردار

    مستقبل میں کینیڈا کا عالمی کردار ان عوامل سے متاثر ہوگا:

    1. امریکہ کے ساتھ تعلقات: کینیڈا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہونے کے ناطے امریکہ کے ساتھ تعلقات اہم رہیں گے۔

    2. مہاجرین کی پالیسی: کینیڈا مہاجرین کے لیے ایک پرکشش مقام رہے گا، جیسا کہ اس کا پناہ گزینوں کا نظام ظلم و ستم سے بچنے والوں کی مدد کرتا ہے۔

    3. ماحولیاتی قیادت: کینیڈا موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں عالمی رہنما کا کردار ادا کر سکتا ہے۔

    4. امن مشنز اقوام متحدہ کے امن مشنز میں کینیڈا کا کردار اس کی عالمی پہچان کو مستحکم کرے گا۔

    کینیڈا کی تاریخ ارضیاتی تبدیلیوں، نوآبادیاتی دور، صنعتی ترقی اور جدید کثیرالثقافتی معاشرے کے ارتقاء کی داستان ہے۔ اس کا جغرافیہ کبھی قدیم سمندروں کے نیچے تھا جو آج دنیا کے دوسرے سب سے بڑے ملک میں تبدیل ہو چکا ہے۔ کینیڈا کی معیشت نے فر کی تجارت سے لے کر جدید ٹیکنالوجی تک کا سفر طے کیا ہے۔

    مستقبل میں کینیڈا کو آبادیاتی تبدیلیوں، ماحولیاتی چیلنجز اور معاشی عدم مساوات جیسے مسائل کا سامنا ہے، لیکن ساتھ ہی ٹیکنالوجی، قابل تجدید توانائی اور کثیرالثقافتی طاقت کے ذریعے ترقی کے بے پناہ مواقع بھی موجود ہیں۔ کینیڈا کی سمندری وسائل تک رسائی اور آرکٹک خطے میں بڑھتی ہوئی رسائی اسے مستقبل کی معیشت میں اہم مقام دلوا سکتی ہے۔

    کینیڈا کا مستقبل اس کی گزشتہ کامیابیوں، موجودہ چیلنجز اور مستقبل کے مواقع کے درمیان توازن قائم کرنے پر منحصر ہوگا۔ اپنے وسیع قدرتی وسائل، متنوع آبادی اور جمہوری اقدار کے ساتھ کینیڈا 21ویں صدی میں ایک مستحکم، خوشحال اور بااثر ملک کے طور پر ابھر سکتا ہے۔

  • کنیکٹی کٹ  کا  وکڈ ٹیولِپس فارم ،محبت ،خوشبو اور رنگوں کا حسین سنگم… حمیرا گل تشؔنہ

    کنیکٹی کٹ کا وکڈ ٹیولِپس فارم ،محبت ،خوشبو اور رنگوں کا حسین سنگم… حمیرا گل تشؔنہ

    کنیکٹی کٹ (Connecticut) ریاستِ امریکا کے خوبصورت موسمِ بہار میں جب فطرت اپنے پورے رنگ بکھیرتی ہے، تو وکڈ ٹیولِپس (Wicked Tulips) کا فارم سیاحوں اور مقامی لوگوں کے لیے ایک دلکش مقام بن جاتا ہے۔ یہ جگہ ہزاروں رنگ برنگے ٹیولِپس کے پھولوں سے سجی ہوتی ہے، جو دیکھنے والوں کو حیرت اور مسرت سے بھر دیتی ہے۔ اور اسی فطرت کے خوبصورت جلوے کو دیکھنے ہم بھی اپنے میاں جی کو لے کر پہنچے۔

    پہلے تو یہ جاننا ضروری ہے کہ وکڈ ٹیولِپس کیا ہے؟ وکڈ ٹیولِپس دراصل ایک یو-پک (U-Pick) ٹیولِپس فارم ہے، جہاں زائرین خود اپنے ہاتھوں سے ٹیولِپس توڑ سکتے ہیں۔ یہ فارم رہوڈ آئی لینڈ (Rhode Island) اور کنیکٹی کٹ (Connecticut) دونوں جگہوں پر واقع ہے۔ کنیکٹی کٹ کا فارم خاص طور پر پرنسٹن (Preston) شہر میں واقع ہے اور یہ اپریل سے مئی تک کھلا رہتا ہے۔

    وکڈ ٹیولِپس کی بنیاد جوآن اور الیکزینڈر “سینڈر” پیٹرسن نے رکھی، جو اصل میں نیدرلینڈز سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے 2016 میں رہوڈ آئی لینڈ میں پہلا فارم کھولا، جو کامیابی کے بعد کنیکٹی کٹ تک پھیل گیا۔ یہ فارم نہ صرف ٹیولِپس کی کاشت کرتا ہے بلکہ لوگوں کو فطرت کے قریب لانے کا ایک خوبصورت ذریعہ بھی ہے۔

    یہاں پہنچ کر اندازہ ہوا کہ وکڈ ٹیولِپس فارم پر 80 سے زائد اقسام کے ٹیولِپس اگائے جاتے ہیں، جن میں سے کچھ مشہور اقسام یہ ہیں:
    1. سنگل ارلی ٹیولِپس: یہ پہلے کھلتے ہیں اور روشن رنگوں کے حامل ہوتے ہیں۔
    2. ڈبل لیٹ ٹیولِپس: گھنے پنکھڑیوں والے، جو گلاب جیسے دکھائی دیتے ہیں۔
    3. فِرنگیڈ ٹیولِپس: جن کے کنارے دندانے دار ہوتے ہیں۔
    4. پیرٹ ٹیولِپس: جن میں رنگوں کا انوکھا امتزاج ہوتا ہے۔
    ہر سال نئی اقسام متعارف کرائی جاتی ہیں، جو زائرین کے لیے ایک نیا تجربہ پیش کرتی ہیں۔

    وکڈ ٹیولِپس کنیکٹی کٹ صرف پھول توڑنے تک محدود نہیں، بلکہ یہاں کئی دلچسپ سرگرمیاں دستیاب ہیں:

    1. پھول توڑنے کے لیے زائرین کو ایک مخصوص ٹوکری دی جاتی ہے، جس میں وہ اپنے پسندیدہ ٹیولِپس جمع کر سکتے ہیں۔ ہر پھول کی قیمت الگ ہوتی ہے، اس لیے بجٹ کے مطابق انتخاب کیا جا سکتا ہے۔
    ہر پھول کی اپنی قسمت ہے
    سب اپنی قیمت پاتے ہیں

    2. تصویری سیشنز کے لیے یہ جگہ بہترین ہے۔ یہ فارم انسٹاگرام اور فیس بک اور پرسنل البم کے لیے لوگ باقاعدہ فوٹوگرافرز اور اپنی فیملی کے ساتھ آتے اور تصاویر کھنچواتے ہیں ۔ رنگین پھولوں کے درمیان کھینچی گئی تصاویر ایک حسین یادگار بن جاتی ہیں۔ کئی لوگ ہمارے سامنے اپنی فیملی کے ساتھ تصاویر سیشن کر وا رہے تھے۔

    3. خاندانی تفریح اور بچوں کے لیے یہ جگہ بہترین ہے، جہاں وہ کھلی فضا میں پھولوں کے بارے میں سیکھ سکتے ہیں۔ کچھ فارمز پر “پکنک زون” بھی ہوتے ہیں۔ ہم نے واضح محسوس کیا وہاں مختلف مقامات پر بینچ رکھی گئی تھیں اور جھولے بھی رکھے تھے جہاں لوگ بیٹھ کر جسمانی ہی نہیں بلکہ ذہنی تھکان بھی دور کر رہے تھے۔

    4. یہاں پر اکثر خصوصی ایونٹس بھی رائے جاتے ہیں۔ وکڈ ٹیولِپس کبھی کبھار “یوگا سیشنز، پینٹنگ ورکشاپس، اور شادی کی تقریبات جیسے خصوصی پروگرامز بھی منعقد کرتا ہے۔

    ایک اہم بات تو یاد رکھنے کی ہیں وہ یہ ہیں کہ وکڈ ٹیولِپس کنیکٹی کٹ جانے کا بہترین وقت اپریل کے آخر سے مئی کے وسط تک کا ہے۔ موسم کے لحاظ سے یہ مدت بدل سکتی ہے اس لیے اس کو آن لائن دیکھتے رہنا چاہیے۔
    یہاں پر ٹکٹ کی خریداری صرف آن لائن ہی کی جاتی ہے تاکہ زیادہ بھیڑ کو کنٹرول رکھا جا سکے۔ اور ایک وقت میں محدود لوگ ہی فارم میں داخل ہو سکیں۔
    مزید یہ کہ یہاں جانے کے لیے کچھ بھی آرام دہ جوتے، اسنیکر، جوگرز وغیرہ کا استعمال بہترین ہے۔ کیونکہ کھیت میں چلنا پڑتا ہے اور ایسے میں کوئی کیڑا بھی کاٹ سکتا۔ اس لیے پہلے سے بنائے گئے مخصوص راستوں پر چلنے کی خصوصی ہدایت ہوتی ہے اور جانوروں کا داخلہ منع ہوتا ہے۔

    ہم نے بھی فارم سے کم و بیش 25 مختلت اقسام و رنگ کے پھولوں کا انتخاب کیا۔ پھول چننے کے بعد وہاں پر موجود ٹینٹ میں پہنچ کر ہم نے خود ہی اپنے پھولوں کو ریپ کیا، گلدستے کی شکل دی۔ بہت سے لوگ جو ریپ نہیں کرنا جانتے یا چاہتے وہ لوگ وہیں سے پیسے دے کر رہپ کروا لیتے ہیں۔ ہم کو لیکن شوق ہے اس لیے ہم نے خود ہی گلدستہ تیار کیا اور ہلکے پلکے دن اور پھولوں کے ساتھ گھر کی راہ لی۔

    وکڈ ٹیولِپس کنیکٹی کٹ صرف ایک پھولوں کا فارم نہیں، بلکہ یہ فطرت کے ساتھ جڑنے، خوبصورت لمحات کو کیمرے میں قید کرنے اور خاندان کے ساتھ، اپنے پیاروں کے ساتھ یادگار وقت گزارنے کا ایک بہترین موقع ہے۔ اگر کوئی موسمِ بہار میں کنیکٹی کٹ جائے، تو اس رنگین جگہ کو اپنی فہرست میں ضرور شامل کریں۔

  • چین  کی سڑ کوں  پر پاکستان کی فتح کا جشن،،،،ارم زہرا

    چین کی سڑ کوں پر پاکستان کی فتح کا جشن،،،،ارم زہرا

    ‎ جب سورج بیجنگ کے بادلوں سے جھانکنے کی کوشش کر رہا تھا میرے کمرے میں رات جاگ رہی تھی۔
    ‎میری آنکھوں کے نیچے حلقے گواہی دے رہے تھے کہ رات بھر نیند کا کوئی پیامبر میرے پاس نہیں آیا۔ موبائل کی اسکرین پر انگلی بار بار سرکتی، چینل بدلتا، خبر بدلتی، لیکن دل کی دھڑکن نہیں۔ آج موبائل میرے ہاتھوں میں کانپ رہا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے اس چھوٹی سی اسکرین میں پورا پاکستان سما گیا ہو۔
    ‎جیو نیوز، اے آر وائی، سماء۔۔۔ہر پل، ہر لمحہ، ایک نئی سرخی، ایک نیا دھچکا، ہر خبر جیسے نیا دھماکہ ۔سیالکوٹ پر ڈرون حملہ ، لاہور میں ایمرجنسی نافذ، کراچی پورٹ پر میزائل حملہ، اور میرے دل میں جیسے ہر خبرایک دھماکے کی طرح گونج رہی تھی ۔ میری انگلیاں موبائل پر خبروں کواسکرول کر رہی تھیں اور دل میں اضطراب یوں ہلچل مچا رہا تھا جیسے سرحد پار توپیں نہیں، میری روح پر گولے برس رہے ہوں۔کبھی میں پاکستان فون کرتی ۔ بہنوں سے خیریت طلب کرتی کہ سب خیریت ہے؟ لاہور میں سسرال ہے تو وہاں کے حالات جاننے کی کوشش کرتی ، سیالکوٹ کے احباب سے رابطہ کرتی کہ کیا صورتحال ہے؟ میری آواز میں جو کپکپاہٹ تھی، وہ بیجنگ کی سردی کی نہیں پاکستان کے آسمان پر منڈلاتی گن گرج کی تھی۔
    ‎ایک لمحہ تھا ، ایک اسکرین اور ساری دنیا جیسے اُس میں قید ہو گئی تھی اور میں بیجنگ میں بیٹھی ہوئی، وہ لڑکی، جو نہ سپاہی ہے، نہ سیاستدان صرف ایک پاکستانی بیٹی ہے ۔ 
جس کا دل اس وقت پاکستان کے آسمان پر اُڑتے ہر سائے سے زخمی ہو رہا تھا۔ اپنے وطن سے ہزاروں میل دور جو گھر بیٹھ کر الفاظ سے تاریخ کا پہرہ دے رہی ہے مگر ان خبروں کے بیچ کہیں میرا دل تھا بےچین، پریشان اور تنہا ۔ ایک جنگ کا خدشہ، ایک دشمن کی سازش، اور ایک وطن جو ہمیشہ ہماری محبتوں کی ضد میں قربانی کا کفن اوڑھ لیتا ہے۔ میرے دل میں وہی دھڑکن جاگ اٹھی، جو کبھی کراچی کے مزار قائد پر قومی پرچم تھامے نعرے لگاتے ہوئے ہوتی تھی۔
    ‎اسکرین پر خبریں بار بار پلٹ رہی تھیں ۔ بھارت کی جھوٹی خبروں نے جیسے پاکستان کا جغرافیہ ہی مٹا دیا تھا۔ایک خبر میں لاہور میں سمندر تھا،
اور اُس پر بنا “لاہور پورٹ” دشمن کے حملے میں جل کر راکھ ہو چکا تھا ۔دوسری خبر میں کراچی کا ساحل مٹ چکا تھا ۔جہاں میرے بچپن کی یادیں تھیں، وہاں اب صرف بارود کی راکھ تھی۔اسلام آباد میرے خیالوں کا خوبصورت شہر خبرناموں میں “تباہ شدہ دارالحکومت” بن چکا تھا۔اور سیالکوٹ نقشے سے ایسے غائب، جیسے کبھی وجود ہی نہ رکھتا ہو۔ اور میری آنکھیں ایسی سچائی تلاش رہی تھیں جو اُس وقت کہیں بھی نہیں تھی۔
    ‎میری سانسیں رکتی جا رہی تھیں کبھی میں پاکستان کال کرکے حالات کی خبریں سنتی اور کبھی انڈین میڈیا کے جھوٹے دعووں اور بے بنیاد سرخیوں کا سامنا کرتی۔کبھی کراچی پورٹ کی تباہی کی خبر آتی، کبھی لاہور اور سیالکوٹ کے حوالے سے ڈرون حملوں کی بات کی جاتی۔
    یہ سب کچھ اتنا افسوسناک تھا کہ دل دہل رہا تھا اور ہر نئی سرخی جیسے امید کا دامن چھین لیتی تھی ۔ یہ صرف جنگ نہ تھی، بلکہ خبر اور جھوٹ کے بیچ لٹکتی وہ سچائی تھی جس کا بوجھ صرف دور بیٹھا ایک محب وطن دل ہی محسوس کر سکتا ہے۔ تب ہی ایک اور خبر نے چونکا دیا لیکن یہ سرخی خوف سے نہیں، امید سے بھری ہوئی تھی۔
    ‎چین نے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعلان کر دیا ، دفاعی ٹیکنالوجی،
    ‎سیٹلائٹ سسٹمز، اور عسکری مدد فوراً فراہم کی جائے گی۔
    ‎چین، وہی ملک جہاں میں بیٹھی تھی۔جس کی زبان مجھے ابھی مکمل نہیں آتی مگر جس کے لہجے میں اُس دن میرے لیے دوستی، پناہ اور ایک وعدہ تھا جیسے دور کہیں بارود کی گھن گرج میں ایک دوستی کی صدا نے مجھ تک راہ بنا لی ہو۔ چینی وزارت خارجہ کا اعلان آیا ۔ سادہ، مضبوط اور دوستی سے لبریز
    ‎پاکستان ہمارا سٹریٹیجک اتحادی ہے۔ ہم اس کے دفاعی حق کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ اگر پاکستان پر حملہ ہوا تو اسے چین پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
    ‎یہ صرف الفاظ نہ تھے یہ ایک پیغام تھا،جو بھارت سے زیادہ دنیا کو سنانا تھا۔
    ‎چین نے نہ صرف پاکستان کو جدید میزائل سسٹم، ڈرون جیممرز اور سیٹلائٹ ڈیٹا فراہم کیا، بلکہ چین کے ماہر انجینئرز نے براہِ راست پاکستان کے کمانڈ سینٹرز میں آن لائن سپورٹ بھی فراہم کی۔
JD-2 ہائپرسونک میزائل، جو حالیہ برسوں میں چین نے ڈیولپ کیا 
پاکستان کے حوالے کیے گئے تاکہ کسی بھی بھارتی جارحیت کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جا سکے
    ‎چین کی اے آئ ٹیکنالوجی نے پاکستانی ریڈار سسٹمز کو تقویت دی جس کی بدولت دشمن کی نقل و حرکت پل پل سامنے آتی بھارت نے سی پیک پر بھی حملے کی کوشش کی مگر چینی کمپنیوں نے اعلان کیا
    ‎اگر ہماری تعمیراتی سائٹس پر حملہ ہوا، تو ہم صرف ٹھیکے دار نہیں، شریک محافظ بن کر کھڑے ہوں گے
    ‎اور یوں گلگت سے گوادر تک، چینی اہلکار اور پاکستانی فورسز ایک ساتھ کھڑے ہو گئے۔
چین کی حمایت کی خبر نے میرے دل میں ایک انوکھا جذبہ پیدا کیا۔ ایک ایسا جذبہ جو ایک پاکستانی لڑکی کو اپنے وطن کے لیے کچھ کرنے کی ترغیب دے رہا تھااور پھر چین کی اس پہلی صدا نے نہ صرف میری پریشانیوں کو کم کیا بلکہ دنیا کو یہ بتا دیا کہ پاکستان اکیلا نہیں ہے۔
اسی دوران سوشل میڈیا پر جیسے ہی جنگ کی بازگشت گونجی، ایک نیا محاذ کھل گیا۔ جہاں نہ بندوقیں تھیں نہ بارود، صرف الفاظ تھے، میمز تھے، اور ہیش ٹیگز جو دلوں کی گہرائیوں سے نکلے تھے۔ میں بیجنگ کی بارش میں بھیگتی کھڑکی کے پاس بیٹھی، موبائل اسکرین پر بہادری کی نئی قسم دیکھ رہی تھی۔ پاکستانی نوجوانوں نے دشمن کی جھوٹی خبروں اور پروپیگنڈے کو ایسی زبان میں جواب دیا، جو نہ صرف طنز سے لبریز تھی بلکہ مزاح سے بھرپور بھی۔ “سندور بنا تندور” ہر ٹائم لائن پر جلتا ہوا نظر آ رہا تھا، “چائے تھی شاندار ۔ پارٹ 2” کی گونج پھر سے سنی جا رہی تھی، اور “پگڑی کے نیچے خالی جہاز” جیسے ہیش ٹیگز نے دنیا کو بتایا کہ ہم صرف وار ہی نہیں کرتے، وار کا مزاحیہ پوسٹ مارٹم بھی کرتے ہیں۔ “را کی راکھ”، “ٹوی پلین آرمی”، اور “میڈیا وار کا جواب میم وار” جیسے نعرے صرف کلک نہیں تھے، یہ وہ وار تھے جو قوم کے حوصلے سے نکلے تھے۔ بیجنگ کی خاموشی میں، یہ آوازیں پاکستان کے عزم کی بازگشت تھیں۔ایسی گونج جوسرحدوں کو بھی چیر کر دشمن کے کانوں تک پہنچی۔
    ‎جنگ کی پہلی صبح یا چین کی پہلی صدا کہہ لیجئے کہ
صبح ابھی پوری طرح جاگی نہیں تھی، بیجنگ کی سڑکیں خاموش تھیں،جیسے کسی بے نام انتظار میں ہوں اور میرے کمرے کی کھڑکی سے چھن چھن کر آتی ہلکی روشنی یوں لگ رہی تھی جیسے کسی ماں کے ہاتھوں کی لرزتی چادر ہو جو اپنے بچے کو جنگ کے شور میں سمیٹنا چاہتی ہو۔
میں نے آنکھیں ملیں اور سب سے پہلے موبائل اٹھایا وہی موبائل جواب خواب اور حقیقت کے درمیان پل کا کام دے رہا تھا۔ اسکرین پر سَرخی اب بھی لال تھی
پاکستان کی جوابی کارروائی بھارت کے تین ایئر بیس تباہ، دشمن پسپا
    ‎میرے لب ہولے سے لرزے، اللہ تیراشکر
    رات کے سائے ابھی مکمل چھٹے نہ تھے کہ بھارتی فوج نے ایک بار پھر سرحد پار اشتعال انگیزی کی۔ لیکن اس بار جواب پہلے سے مختلف تھا۔
    پاکستانی فضائیہ کے شاہین، گرجتے ہوئے افق میں اترے۔ ان کے پیچھے “JF-17 تھنڈر” تھے، جو اب “چینی اپ گریڈڈ راڈار سسٹمز” اور “لیزر گائیڈڈ میزائلوں” سے لیس تھے۔
    پاکستان نے زمین سے ہدف کو مار گرانے والے سسٹم کا استعمال کیا، جس میں چینی ساختہ “HQ-9B “ دفاعی میزائل سسٹم شامل تھا۔
    کشمیر کی فضا میں، پاکستانی طیارے دشمن کے غرور کو توڑتے ہوئے، اس کی فضائی برتری کو مٹی میں ملا چکے تھے۔
    ادھر راجھستان کے محاذ پر “پاکستان آرمی کے کمانڈوز” نے دشمن کے مورچوں کو گھیر لیا۔
    سوشل میڈیا پر ویڈیوز آنے لگیں بھارتی ٹینک جل رہے تھے، اور ان کے سپاہی پسپائی اختیار کر رہے تھے۔
    چین کی طرف سے جاری ہتھیاروں اور انٹیلیجنس شیئرنگ نے دشمن کی پوزیشنوں کو پہلے ہی آشکار کر دیا تھا۔چین نے نہ صرف سفارتی سطح پر بھارت کو تنبیہ کی ، بلکہ سیٹلائٹ کی مدد سے پاکستانی افواج کو ہر لمحے کی نگرانی میں رکھا۔
    ۱۰ مئی کو جیسے ہی پاکستان کی فتح کی تصدیق ہوئی،
    میرے کمرے میں خوشی کا طوفان تھا، لیکن میں خاموش تھی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ یہ آنسو فتح کے تھے، دعا کے تھے، اور اُس یقین کے تھے کہ محبت اگر خالص ہو، تو خدا بھی راستے کھول دیتا ہے۔ میں نے قلم اٹھایا، اور پہلی سطر لکھی
    “یہ جنگ پاکستان نے صرف ہتھیاروں سے نہیں، سچائی، وفاداری، اور ایک مخلص دوست “ چین “کے ساتھ مل کر جیتی ہے” 
چینی اخبارات آن لائن کھولے تو حیرت نے مجھے تھام لیا۔ ہر سرخی میں پاکستان کا ذکر تھا لیکن خوف کے ساتھ نہیں، احترام کے ساتھ۔ چینی حکومت نے نہ صرف پاکستان کے مؤقف کی تائید کی، بلکہ دنیا کو پیغام دیا ۔پاکستان تنہا نہیں چین اُس کے ساتھ ہے، ہر سطح پر۔
    10 مئی بھارت جنگ ہار چکا تھا، 
نیوز چینلز پر اب وہی لہجہ تھا جو صرف فتح کے بعد آتا ہے۔ پراعتماد، سربلند، اور جوشیلہ ، وطن کی محبت سے بھرپور جیسے ہر جملہ پہلے دل سے ہو کر گزرا ہو
    پاکستان نے بھارتی فوج کی پانچ بڑی تنصیبات تباہ کر دیں ، را جونیئر کی سائبر حملے کی سازش بے نقاب ، سیالکوٹ کے محافظوں نے دشمن کو پسپا کر دیا ۔ میرے وطن کا ہر سپاہی اُس دن ایک داستان بن چکا تھا۔
چین کی سڑکوں پر، چینی نوجوان پاکستانی پرچم اٹھائے جشن منا رہے تھے کچھ نے ’دل دل پاکستان‘ بجایا، کچھ نے وی چیٹ پر پاکستانی دوستوں کو فتح کی مبارکباد دی۔ بیجنگ یونیورسٹی کے باہر لگی LED اسکرین پر چینی زبان میں لکھا گیا ۔
    “پاکستان کی فتح — ہمارے بھائی کا فخر ہمارا فخر ہے”
میں نے پڑھا، چینی طلباء پاکستانی طلباء کے ساتھ مل کر پاکستانی پرچم اٹھائے سڑکوں پر نکلے۔ کچھ نے پاکستانی سفارتخانے کے باہر موم بتیاں جلائیں اور بینرز پر لکھا
”Pak-China Dosti Zindabad”
دل میں عجیب سا سکون اترا جیسے رات بھر کی گرج دار خاموشی کے بعد کسی دوست نے کندھے پر ہاتھ رکھا ہو، بغیر کچھ کہے، صرف موجودگی سے تسلی دی ہو
جنگ ختم ہو چکی تھی دھوئیں کی وہ لپٹ جو دل تک اتری تھی، اب چھٹنے لگی تھی لیکن ایک اور محاذ کھلا تھا طنز کا، فن کا، اور وہ بھی اُس سرزمین سے جس نے دوستی صرف ہتھیاروں سے نہیں، دل سے نبھائی تھی۔
بیجنگ کے چائنا میڈیا گروپ نے ایک گانا نشر کیا۔ پہلی بار تو میں حیرت سے فقط دیکھتی رہ گئی۔ اسکرین پر چینی نوجوان تھے رنگ برنگی پگڑیاں، سر پر کھلونہ طیارے، لباس میں مزاح کا طنز، اور رقص میں وہ چال، جس نے دشمن کو جگت میں بھی شکست دے دیا۔
گانے کے بول کچھ یوں تھے۔ 
”Ek taara, do missiles — sab fake news ka khel, 
Pakistan toh shaheen hai — tum ho sirf rail “
یہ نغمہ صرف ایک فنکارانہ ردِعمل نہ تھا۔ یہ چین کا نغمہ تھا۔ جب دوستی نے دشمنی پر رقص کیا ۔ یہ تاریخ کا نیا باب تھا جہاں دوستی نے جنگ کے زخموں پر مرہم رکھا اور دشمن کی جھوٹی بڑکوں پر ہنسی کا نشتر چلا دیا۔
چین کے سوشل میڈیا پر یہ گانا ٹرینڈ کر گیا #ToyPlaneDance، #PakChinaAnthem #چاہینہ راکڈ فرانس شاکڈ اور سب سے زیادہ دل کو چھو لینے والا #ThankYouPakistan
    علی ظفر اور چینی گلوکارہ ژیانگ منقی نے پاک چین دوستی اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے جو گیت گایا تھا وہ ایک بار پھر چین میں ٹرینڈ بن گیا۔ “You Have Stolen My Heart “
    ‎چین میں پاکستان کی فتح کا جشن نہایت گرمجوشی اور محبت سے منایا گیا ، جس نے دونوں ممالک کے درمیان “آہنی دوستی” کو مزید مضبوط کیا۔
    ‎چینی شہریوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے ویبو اور ژیاؤہونگشو پر پاکستان کی حمایت میں پوسٹس اور ویڈیوز شیئر کیں۔ ان پوسٹس میں پاکستانی پرچموں، “پاکستان زندہ باد” کے نعروں، اور پاک چین دوستی کے جذباتی اظہار شامل تھے۔ کئی چینی صارفین نے پاکستانی فوج کی بہادری کو سراہتے ہوئے “پاک فوج زندہ باد” جیسے ہیش ٹیگز استعمال کیے۔
    ‎بیجنگ اور دیگر شہروں میں پاکستانی کمیونٹی اور چینی دوستوں نے مشترکہ تقریبات منعقد کیں، جن میں موم بتیاں روشن کی گئیں، قومی ترانے گائے گئے، اور دونوں ممالک کی دوستی کا جشن منایا گیا۔ ان تقریبات کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں، جن میں چینی شہریوں کو “پاک چین دوستی زندہ باد” کے نعرے لگاتے دیکھا جا سکتا ہے۔
    ‎چینی حکومت نے بھی پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔ چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے پاکستانی ہم منصب اسحاق ڈار سے گفتگو میں پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا یقین دلایا۔ انہوں نے پاکستان کے تحمل اور ذمہ دارانہ رویے کی تعریف کی اور کہا کہ چین ہر حال میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔
مجھے بیجنگ کی ان گلیوں میں وہ بچے یاد آئے جو دو دن پہلے پاکستانی جھنڈے کے رنگوں سے بنے غبارے اُڑا رہے تھے۔ اب وہی بچے اُسی نغمے پر ناچ رہے تھے چینی زبان میں، لیکن اُن کے دل پاکستان کی محبت سے معمور تھے ۔
    ‎ایک لڑکا، جسے میں صرف “لیو” کے نام سے جانتی ہوں، اس کی پروفائل پر تحریر تھا
    Pakistan Zindabad! Iron Brothers Forever!
میرے ہونٹ بے اختیار مسکرائے، اور آنکھوں میں ایک ان دیکھی نمی تیر گئی۔
    ‎بیجنگ کے مرکزی چوک پر پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ چینی نوجوانوں نے موم بتیاں روشن کیں۔ وہ لمحہ گویا روشنیوں میں لپٹا ایک خاموش پیغام تھا دوستی، وفاداری اور امن کا۔ چینی لڑکیاں پاکستانی قومی ترانہ گنگنا رہی تھیں، اور بینرز پر جلی حروف میں لکھا تھا ۔ پاک چین دوستی زندہ باد ۔
    ‎میرے دل نے پہلی بار محسوس کیا کہ دوستی اگر دلوں سے نکلے تو زبان اور نسل کی قید نہیں مانتی۔
    ‎بیجنگ کی گلیوں میں بہار آ چکی تھی درختوں کی شاخوں پر زندگی جھوم رہی تھی اور فضا میں چائے کی بھاپ میں ملی ہوئی امن کی مہک تیر رہی تھی۔ میں چائے کا کپ تھامے کھڑکی کے پاس بیٹھی تھی دُور کہیں پاکستان کا جھنڈا ہوا سے باتیں کر رہا تھا اور ایک بچہ زور زور سے بول رہا تھا
”Bakesitan he wo bhai hai jo humesha madad karta hai “
میرے آنکھوں میں ایک مسکراہٹ سی پھیل گئی۔ میں نے تصور کیا اگر کراچی میں ابھی فجر کی اذان ہو رہی ہے تو شاید وہی اذان میرے دل کے اندربھی گونج رہی ہے۔
فاصلے اب فقط جغرافیہ تھے۔ محبت نے انہیں مٹا دیا تھا۔ کبھی سوچا نہ تھا کہ ایک دن ایسا بھی آئے گا جب جنگ جیتنے کے بعد میں گولہ بارود نہیں، بلکہ بینرز، موم بتیاں، اور پگڑی والے طنزیہ گیت یاد رکھوں گی۔ کبھی سوچا نہ تھا کہ بیجنگ کے کسی کوچے میں، کوئی اجنبی، صرف ایک جملہ کہہ کر مجھے اپنا بنا لے گا
ہمیں تمہاری جیت پر فخر ہے اور شاید یہی وہ لمحہ تھا جب چین اور
    ‎پاکستان کے بیچ کا فاصلہ ایک لفظ میں سمٹ گیا اور وہ لفظ تھا دوستی۔
    اور اس لمحے مجھے یوں لگا جیسے تاریخ نے اپنے اوراق پر ایک نیا باب رقم کر دیا ہو۔ ایسا باب، جہاں گولیوں کی گونج کو دوستی کی نرمی نے خاموش کر دیا۔جہاں سرحدیں صرف نقشے پر تھیں، دلوں میں نہیں اور میں، ایک عام سی لڑکی، ہزاروں میل دور بیٹھی یہ سوچ رہی تھی کہ شاید اصل فتح توپ و تفنگ سے نہیں احساس، رشتے اور سچے جذبوں سے حاصل ہوتی ہے۔ یہ صرف جنگ کا اختتام نہیں تھا بلکہ ایک پائیدار رشتہ، ایک گہری محبت کا نیا آغاز تھا۔ پاک چین دوستی، جو ہمیشہ سے ہمارے دلوں میں تھی،اب صرف نعرہ نہیں بلکہ ایک حقیقت بن چکی تھی جو وقت اور حالات کے امتحان میں مزید مضبوط ہوئی تھی۔
    ارم زہرا

  • نفرت انگیز مہم چلانے والے بڑے پاکستانی یوٹیوبرز کی فہرستیں تیار

    نفرت انگیز مہم چلانے والے بڑے پاکستانی یوٹیوبرز کی فہرستیں تیار

    اسلام آباد (کنزیومر واچ نیوز)حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران ریاست اور فوجی قیادت کے خلاف نفرت انگیز مہم چلانے والے بڑے پاکستانی یوٹیوبر پی ٹی اے کے ریڈار پر آگئے۔نفرت انگیز مہم چلانے والے بڑے پاکستانی یوٹیوبرز کی پی ٹی اے نے فہرستیں مرتب کرلیں۔ پی ٹی اے نے حکومت سے یوٹیوب چینلز فوری بند کرنے کی اجازت مانگ لی۔ذرائع کے مطابق پی ٹی اے کی فہرست میں عمران ریاض، صابر شاکر، صدیق جان اور شہبازگل کے نام شامل ہیں، پی ٹی اے احمد نورانی اور وقار ملک کے یوٹیوب چینلز پاکستان میں بلاک کراچکی ہے۔پی ٹی اے دیگر یوٹیوبرز کے چینلز کی بندش کے لیے بھی اجازت کی منتظر ہے، پی ٹی اے کو ابھی تک حکومت کی جانب سے کارروائی کی منظوری نہیں ملی۔ فوج کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والوں کی فہرست یوٹیوب انتظامیہ کو بھی ارسال کردی گئی۔

  • بارڈر سے واپسی پر پاک فوج کا لاہور میں والہانہ استقبال

    بارڈر سے واپسی پر پاک فوج کا لاہور میں والہانہ استقبال

    لاہور(کنزیو مر واچ نیوز)آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی کے بعد بارڈر سے واپس آنے والے پاک فوج کے دستوں کا زندہ دلانِ لاہور نے شاندار استقبال کیا۔ شہریوں نے جوانوں پر پھول نچھاور کیے اور پاک فوج کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔لاہورمیں بارڈر سے واپس آنے والے پاک فوج کےدستوں کا والہانہ استقبال کیاگیا۔شہریوں نے پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں اورجوانوں کے ساتھ ٹینکوں پر بھی محبت کا اظہار کیا۔آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی پر لاہور کے شہریوں نے پاک فوج کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔قومی پرچم تھامے نوجوان، بزرگ اور بچےفخر ومسرت سے جھومتے نظر آئے،پاک فوج زندہ باد” کےفلک شگاف نعرے گونجتے رہے اور جشن کا سماں بندھ گیا۔شہریوں نے ہمیشہ پاک فوج کے ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کا اعادہ کیا اور وطن سے وابستگی کا اظہار کیا۔

  • آپریشن بُنیان مرصوص کی اہمیت کم کرنے کیلئے بھارت کا  منصوبہ بے نقاب

    آپریشن بُنیان مرصوص کی اہمیت کم کرنے کیلئے بھارت کا منصوبہ بے نقاب

    اسلام آباد(کنزیور واچ نیوز)پاکستان کے کامیاب آپریشن بنیان مرصوص کی اہمیت کو کم کرنے کیلئے بھارت کا بڑا منصوبہ بے نقاب ہوگیا۔رپورٹ کے مطابق ذرائع نے کہا کہ پاکستانی مسلح افواج کے ہاتھوں آپریشن بنیان مرصوص میں ہزیمت اٹھانے کے بعد بھارتی سرکار اور مسلح افواج تاحال تڑپ رہی ہیں، بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے آپریشن بنیان مرصوص کی اہمیت کو ختم کرنے کیلئے فتنہ الخوراج کے سابق ترجمان کی خدمات حاصل کرلیں۔سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ احسان اللہ احسان نے بھارتی اخبار دی سنڈے گارڈین میں ایک مضمون لکھا ہے جس میں بے بنیاد دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر کے اندر مزید دو دہشتگردانہ حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

  • بھارتی ہٹ دھرمی ، ایشیا کپ نہ ہونے کا خدشہ

    بھارتی ہٹ دھرمی ، ایشیا کپ نہ ہونے کا خدشہ

    لاہور(کنزیومر واچ نیوز)بھارتی ہٹ دھرمی کی وجہ سے اس سال شیڈول ایشیا کپ نہ ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔بھارتی میڈیا چیمپئنز ٹرافی کے بعد اب ایشیا کپ کے پیچھے پڑ گیا، بھارتی میڈیا کے مطابق پاکستان سے کشیدگی کے بعد بھارت نے مینز ایشیا کپ اور ویمنز ایمرجنگ ایشیا کپ نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ مینز ایشیا کپ ستمبر میں کھیلا جانا ہے جبکہ ویمنز ایمرجنگ ایشیا کپ جون کے مہینے میں سری لنکا میں شیڈول ہے۔بھارتی میڈیا نے بی سی سی آئی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ ایشین کرکٹ کونسل کے صدر چیئرمین پی سی بی محسن نقوی ہیں، بھارتی ٹیم ایک ایسے ٹورنامنٹ میں نہیں کھیل سکتی جس کے سربراہ پاکستان کے وزیر ہیں۔

  • بھارت میں مسلمان پروفیسر اور یوٹیوبر پر جاسوسی کے الزامات! اصل کہانی کیا ہے؟

    بھارت میں مسلمان پروفیسر اور یوٹیوبر پر جاسوسی کے الزامات! اصل کہانی کیا ہے؟

    نئی دہلی (کنزیومر واچ نیوز)بھارت میں مختلف ریاستوں سے متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں ایک معروف یوٹیوبر، ایک یونیورسٹی پروفیسر، اور کئی عام شہری شامل ہیں۔ان پر الزام ہے کہ یا تو ان کے پاکستان سے مبینہ روابط ہیں یا انہوں نے بھارت-پاکستان حالیہ کشیدگی کے دوران بھارتی فوجی کارروائیوں پر تنقیدی ریمارکس دیے۔یہ گرفتاریاں بھارت کے زیرِ قبضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ایک حملے کے بعد سامنے آئیں، جس کے ردعمل میں بھارت نے پاکستان پر فضائی حملے کیے تھے، جبکہ پاکستان نے پانچ بھارتی طیارے مار گرائے تھے۔ دونوں ممالک کے درمیان تناؤ امریکی مداخلت پر 10 مئی کو جنگ بندی پر ختم ہوا۔علی خان محمودآباد، جو ہریانہ کی اشوکا یونیورسٹی میں سیاسیات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں، کو نئی دہلی میں ان کے گھر سے حراست میں لیا گیا۔ ان پر بھارتی فوج کے “آپریشن سندور” پر تنقیدی پوسٹ لکھنے کا الزام ہے۔انہوں نے ایک پوسٹ میں کالم نویسوں کی منافقت کو نشانہ بنایا جو مسلمان خاتون فوجی افسر کرنل صوفیہ قریشی کی تعریف تو کرتے ہیں، لیکن بھارت میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر خاموش رہتے ہیں۔بی جے پی کی یوتھ ونگ کے ایک رہنما نے ان کے خلاف شکایت درج کرائی جس پر انہیں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے اور غداری جیسے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا۔33 سالہ جیوتی ملہوترا، جو ‘ٹریول وِد جو’ کے نام سے یوٹیوب چینل چلاتی ہیں، کو پاکستان کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق انہوں نے پاکستانی ایجنٹوں کو حساس معلومات فراہم کیں، جبکہ ان کے والد نے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔جیوتی نے حال ہی میں پاکستان کے مذہبی مقامات جیسے گوردوارہ دربار صاحب اور گوردوارہ پنجہ صاحب کی ویڈیوز اپنے چینل پر شیئر کی تھیں، جس پر بھارتی صارفین نے ان پر سنگین الزامات عائد کیے۔پنجاب، ہریانہ، آسام، راجستھان اور تلنگانہ میں پولیس نے درجنوں افراد کو پاکستانی ایجنٹس سے روابط اور جعلی سم کارڈز کے ذریعے معلومات دینے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ ان میں سیکیورٹی گارڈز، یونیورسٹی طلبہ اور عام شہری شامل ہیں۔

  • ڈمپر کی رکشوں اور  موٹرسائیکلوں کو ٹکر، 5 افراد جاں بحق

    ڈمپر کی رکشوں اور موٹرسائیکلوں کو ٹکر، 5 افراد جاں بحق

    لاہور(کنزیومر واچ نیوز)اہور کے علاقے باغبان پورہ میں آخری منٹ اسٹاپ کے قریب ڈمپر نے کئی رکشوں اور موٹرسائیکلوں کو ٹکر مار دی جس کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق ہوگئے۔رپورٹ کے مطابق ریسکیو حکام نے کہا کہ حادثہ لاہور کے علاقے باغبان پورہ کے جی ٹی روڈ پر پیش آیا جس کے دوران ڈمپر نے 3 رکشوں اور 2 موٹرسائیکلوں کو ٹکر ماردی۔ریسکیو حکام کا بتانا تھا کہ حادثے کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق اور 4 افراد زخمی ہوئے۔حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 2 اسکول کی بچیاں بھی شامل ہیں