دبئی ( کنزیو مر واچ نیوز)دبئی میں مقیم ایک بھارتی خاتون نے آن لائن شاپنگ کے دوران ایسا چونکا دینے والا تجربہ ہوا جس نے انھیں سبق سکھانے کے ساتھ سوشل میڈیا پر ہنسی کا طوفان بھی بکھیر دیا۔واقعہ کچھ یوں ہے کہ خاتون نے گھر کے ضروری سامان کی خریداری کے لیے معروف آن لائن پلیٹ فارم کا رخ کیا۔ انھیں لگتا تھا جیسے انہوں نے کسی شاندار ڈیل پر ہاتھ مار لیا ہو، مگر جب پارسل کھولا تو حیرت اور ہنسی کا ایک ملا جلا طوفان برپا ہوگیا کیونکہ انھیں اصل اشیاء کی جگہ صرف اُن کی تصاویر والے اسٹیکرز موصول ہوئے!یہ دلچسپ غلط فہمی اس وقت پیش آئی جب خاتون نے آن لائن ویب سائٹ پر سامان کی تفصیلات غور سے پڑھے بغیر آرڈر دے دیا۔ دراصل، جن اشیاء کو وہ حقیقی سامان سمجھ کر خرید رہی تھیں، ان کی تفصیل میں واضح طور پر لکھا تھا کہ یہ ’’اسٹیکرز‘‘ ہیں، یعنی صرف تصاویر، اصلی چیزیں نہیں۔مذکورہ آن لائن پلیٹ فارم پر صارفین کو براہِ راست مینوفیکچررز سے کم قیمت پر اشیاء خریدنے کی سہولت دستیاب ہے۔ مگر یہ واقعہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ آن لائن خریداری کرتے وقت پروڈکٹ کی تفصیل پوری توجہ سے پڑھنا کتنا ضروری ہے۔سچیتا اوجھا نامی لڑکی نے جب اپنی والدہ کے ساتھ پیش آئے اس واقعے کی ویڈیو انسٹاگرام پر شیئر کی تو وہ تیزی سے وائرل ہوگئی، اور اب تک دو ملین سے زیادہ لوگ اسے دیکھ چکے ہیں۔ کمنٹس میں لوگوں نے نہ صرف مزاحیہ انداز میں دلچسپی ظاہر کی بلکہ کچھ نے ہمدردی کا بھی اظہار کیا۔ایک صارف نے تبصرہ کیا: ’’تفصیل میں صاف لکھا ہے کہ یہ اسٹیکرز ہیں، مگر پھر بھی بہت مزے کی بات ہے۔‘‘
ایک اور نے مشورہ دیا: ’’خریدنے سے پہلے نیچے تک اسکرول کرکے ریویوز اور پروڈکٹ کی کوالٹی ضرور دیکھنی چاہیے۔‘‘تیسرے صارف نے لکھا: ’’اگر آپ صرف تصاویر دیکھ کر یا بغیر پڑھے آرڈر کریں گے تو قصور آپ کا ہے، پلیٹ فارم کا نہیں۔‘‘یہ واقعہ ایک سبق بھی ہے اور تفریح بھی کہ آن لائن شاپنگ کرتے وقت تھوڑا سا دھیان نہ دینا، بڑے بڑے برتنوں کی جگہ چھوٹے چھوٹے اسٹیکرز کا تحفہ دلا سکتا ہے!
Blog
-

آن لائن شاپنگ کا دھوکا؛ اصل سامان کی جگہ صرف اسٹیکرز نکلے!
-

بھارت کو ریڈلائن عبور نہیں کرنے دیں گے،وزیراعظم شہباز شریف
دوشنبے (کنزیو مر واچ نیوز)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ناقابل قبول ہے، بھارت کو ریڈلائن عبور نہیں کرنے دیں گے۔تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں گلیشیئرز کے تحفظ سے متعلق عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی کوششوں کو نہایت خطرناک اور افسوسناک قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ پاکستان اپنی آبی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔انہوں نے کہا کہ سیاسی مقاصد کے لیے کروڑوں انسانوں کے پانی کے حق کو یرغمال نہیں بنایا جا سکتا اور بھارت کو واضح طور پر ’’ریڈ لائن ‘‘ کا علم ہونا چاہیے جسے عبور کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
-

ارشد ندیم نے ایشین ایتھلیٹکس چیمپئن شپ کے فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا
کراچی (کنزیومر واچ نیوز)پاکستان کے اولمپک گولڈ میڈلسٹ جیولن تھرور ارشد ندیم اوریاسر سلطان نے ایشین ایتھلیٹکس چیمپئن شپ کےفائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا۔جنوبی کوریا میں ایشین ایتھلیٹکس کےجیولن تھرو کوالیفائنگ راؤنڈ کے گروپ اے میں ارشد ندیم نے پہلی باری میں 86.34 میٹر کی تھرو کی۔دوسری جانب بھارتی کھلاڑی یش نے پہلی باری میں 76.67 میٹر کی تھرو کی۔کوالیفائنگ راؤ نڈ کی پہلی باری میں ارشد ندیم نے 86.34 کی سب سے لمبی تھر وکی جس کے ساتھ انہوں نے ایشین ایتھلیٹکس چیمپئن شپ کے فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا۔ارشد ندیم کے بعد پاکستان کے یاسر سلطان نے بھی فائنل میں جگہ بنالی۔یاسر سلطان نے پہلی ہی باری میں 76.07 میٹر کی تھرو کر کے ایشین ایتھلیٹکس چیمپئن شپ کے فائنل کیلئے کوالیفائی کیا۔
-

پمپس پر پیٹرول اور ڈیزل کی چوری روکنے کے لیے بڑا فیصلہ
کراچی(کنزیومر واچ نیوز) وفاقی حکومت نے پیٹرول پمپس پر پیٹرول اور ڈیزل کی چوری روکنے کے لیے بڑا فیصلہ کیا ہے۔وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا سوئی سدرن کے دفتر کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا وزارت پیٹرولیم نے پیٹرول پمپس پر چوری اور اسمگلنگ کے سدباب کے لیے بڑا فیصلہ کیا ہے۔وفاقی وزیر علی پرویز ملک کا کہنا تھا حکومت نے پمپس پر پیٹرول ڈالنے والی نوزلز ڈیجیٹل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ایک سوال کے جواب میں وزیر پیٹرولیم کا کہنا تھا گھریلو گیس کنکشنز کے لیے وزیراعظم سے درخواست کروں گا، مقامی گیس دستیاب نہیں ہے، نئے گھریلو کنیکشنز امپورٹڈ گیس پر ہو سکتے ہیں۔علی پرویز ملک کا کہنا تھا بجلی گھر ایل این جی خریداری نہیں کر رہے، ایل این جی نہ خریدے جانے پر 400 ایم ایم سی ایف ڈی مقامی گیس سپلائی روکنی پڑ رہی ہے، پی ڈی ایل بڑھائی گئی لیکن فی الحال پیٹرولیم قیمت پر اس کا اثر نہیں ہے۔امریکا کے ساتھ تجارت سے متعلق سوال پر وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم کا کہنا تھا امریکا سے امپورٹ بڑھانے کے لیے کمیٹی بنا دی گئی ہے۔
-

بھارت جان لے، پاکستان کشمیر کو کبھی نہیں چھوڑے گا۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
راولپنڈی(کنزیو مر واچ نیوز)چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ بھارت جان لے، پاکستان کشمیر کو کبھی نہیں چھوڑے گا۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے مختلف جامعات کے وائس چانسلرز، پرنسپلز اور سینئر اساتذہ کرام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اساتذہ کرام ملک کا بڑا سرمایہ ہیں، جو کچھ ہوں، والدین اور اساتذہ کی وجہ سے ہوں۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کہنا تھا کہ پانی پاکستان کی ریڈ لائن ہے، معرکہ حق میں اللہ تعالی نے پاکستان کی مدد کی، قوم آہنی دیوار بن جائے تو کوئی طاقت اُسے گرا نہیں سکتی۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کا کوئی بھی سودا ممکن نہیں، ہم کشمیر کو کبھی نہیں بھول سکتے، بھارت جان لے کہ پاکستان کشمیر کو کبھی نہیں چھوڑے گا۔فیلڈ مارشل کا کہنا تھا کہ بھارت نے کشمیر کا مسئلہ دبانے کی کوشش کی مگر ناکام ہو چکا، کشمیر ایک عالمی سطح کا مسئلہ ہے، پاکستان، بھارت کی اجارہ داری کبھی قبول نہیں کرے گا۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گرد فتنہ الہندوستان ہیں، ان کا بلوچوں سے تعلق نہیں، دہشت گردی بھارت کا اندرونی مسئلہ ہے، بھارت میں دہشت گردی کی وجہ اقلیتوں پر ظلم اور تعصب ہے۔
-

پاکستان کا اقوام متحدہ سے غزہ میں نسل کشی روکنے کا مطالبہ
واشنگٹن (کنزیومر واچ نیوز)پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں نسل کشی روکنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک پُرزور بیان دیتے ہوئے سفیرِ پاکستان کا کہنا تھا کہ غزہ میں جاری انسانی بحران اور اسرائیلی مظالم پر مزید خاموشی ناقابلِ قبول ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ سلامتی کونسل اپنے مینڈیٹ کے مطابق فوری، مؤثر اور عملی قدم اٹھائے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے عالمی برادری کو متنبہ کیا کہ دنیا مزید ایک دن کی بے عملی کی متحمل نہیں ہو سکتی، کیونکہ تاریخ ہمیں ہماری ذمے داری سے بری الذمہ نہیں کرے گی۔انہوں نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خصوصاً مسئلہ فلسطین پر ہونے والی سلامتی کونسل کی بریفنگ کے دوران سوال اٹھایا کہ اور کتنے مظالم درکار ہوں گے تاکہ یہ کونسل وہ اقدام کرے جو اخلاقی، قانونی اور اقوام متحدہ کے منشور کے تحت درست ہے؟انہوں نے واضح کیا کہ صرف تشویش کا اظہار کافی نہیں، بلکہ اب نسل کشی کو روکنے کے لیے فوری اور عملی اقدام ناگزیر ہے۔ اسرائیلی مظالم کو معمول کا حصہ بننے سے روکنا ضروری ہے کیونکہ ایسا نہ کرنا بین الاقوامی قانون اور انسانی وقار کی صریح توہین ہو گی۔اپنے خطاب میں سفیر پاکستان نے اقوام متحدہ کے خصوصی رابطہ کار سیگریڈ کاگ، ڈاکٹر فیروز صدیقوا اور انڈر سیکرٹری جنرل ٹام فلیچر کی غیرجانبدار اور دیانت دارانہ خدمات کی بھرپور حمایت کی اور ان پر کی جانے والی کسی بھی غیرضروری تنقید کو ناقابل قبول قرار دیا۔انہوں نے غزہ میں جاری تباہی کو ’’ایک انسانی ساختہ بحران‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اسرائیل کی طویل ناکا بندی، اندھادھند بمباری اور عام شہریوں پر مسلسل حملوں کا نتیجہ ہے۔انہوں نے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ اب تک 54,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، جبکہ 122,000 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ المیہ ’’ناقابلِ تصور اور ناقابلِ بیان ذہنی و جسمانی اذیت‘‘ کا منظر پیش کر رہا ہے۔پاکستانی مندوب نے بحران کے 4 اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ 800 سے زائد طبی مراکز کو نشانہ بنایا جا چکا ہے، اسپتالوں میں بنیادی سامان موجود نہیں اور طبی عملے و ایمبولینسز پر بھی حملے ہو رہے ہیں۔اسی طرح کم از کم 57 بچے بھوک سے جاں بحق ہو چکے ہیں جب کہ انسانی امدادی قافلوں کو یا تو روکا جا رہا ہے یا ان پر حملے کیے جا رہے ہیں۔80 فی صد سے زائد گھروں کو مسمار کر دیا گیا ہے، جب کہ پانی، بجلی اور مواصلاتی نظام بھی تباہی کا شکار ہو چکے ہیں۔28 ہزار سے زیادہ خواتین اور بچیاں شہید ہو چکی ہیں اور 50,000 حاملہ خواتین انتہائی غیر انسانی حالات میں بچوں کو جنم دینے پر مجبور ہیں۔سفیر پاکستان عاصم افتخار نے مغربی کنارے میں بھی بگڑتی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا، جہاں گھروں کی مسماری، پرتشدد کارروائیاں اور نقل و حرکت پر سخت پابندیاں معمول بن چکی ہیں۔ انہوں نے مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی حکام کے اشتعال انگیز دوروں کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات پورے خطے کو شدید کشیدگی کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔پاکستان نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ قرارداد 2735 پر مکمل عملدرآمد اور شہریوں پر حملے فوری رکوائے جائیں۔ انسانی امدادی اداروں کی بلا رکاوٹ رسائی اور تمام پابندیوں کا خاتمہ کیا جائے۔ فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی کسی بھی کوشش کی واضح مذمت کی جائے اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر مسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل، جس میں القدس الشریف کو خودمختار فلسطینی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کیا جائے۔پاکستان کی جانب سے جون میں فرانس اور سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس کو مسئلہ فلسطین کے سیاسی حل کے لیے ایک اہم موقع قرار دیا گیا اور زور دیا گیا کہ موجودہ بحران کے خاتمے کے لیے فوری اور متحد عالمی اقدام نہ صرف فلسطینی عوام کے لیے ضروری ہے بلکہ عالمی ضمیر اور اقوام متحدہ کی ساکھ کے لیے بھی فیصلہ کن لمحہ ہے۔سفیر پاکستان نے آخر میں دوٹوک انداز میں کہا کہ ’’اب ابہام کی کوئی گنجائش نہیں رہی، فلسطینی عوام کی تکالیف کے لیے کوئی جواز نہیں۔ جی ہاں، بس بہت ہو چکا۔
-

پاکستان سے شرمناک شکست؛ بھارت نے ٹرمپ کی کردار کشی شروع کردی
اسلام آباد(کنزیومر واچ نیوز)پاکستان سے شرمناک شکست کھانے کے بعد بھارت نے ہزیمت چھپانے کے لیے ٹرمپ کی کردار کشی شروع کردی۔مودی سرکار کے زیر اثر بھارتی میڈیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کردار کشی پر اتر آیا ہے اور پاکستانی مسلح افواج کی جانب سے اپنے دفاع میں بھارت کو منہ توڑ جواب دینے پر امریکاپر تنقید کا سلسلہ شروع کردیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششوں کے بعد سیز فائر ہو گیا تو بھارت نے یوٹرن لے لیا اور اب بھارتی میڈیا جس میں ارناب گوسوامی جیسے مودی کے حمایتی بھرے پڑے ہیں، نے امریکی صدر پر تنقید شروع کردی ہے۔بھارتی میڈیا نے اپنی خفت مٹانے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دہشتگردوں کا سرپرست بھی کہا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کا آئی کیو لیول بھارت کے 7ویں جماعت کے بچے سے بھی کم ہے اور جہاں ٹرمپ جیسے صدر ہوں گے وہاں 11/9 جیسا واقعہ ہونا کوئی بڑی بات نہیں۔مودی سرکار نےجب پاکستانی مسلح افواج سے منہ کی کھائی تو امریکا سے مدد کی بھیک مانگی اور جب سیز فائر طے پا گیا تو مودی سرکار نے یوٹرن لیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید شروع کردی ہے۔آپریشن بُنیان مرصوص میں پاکستانی مسلح افواج کے جوابی حملے میں بھارت کے رافیل طیارے تباہ ہوئے۔ پاکستانی مسلح افواج کے حملوں سے شمالی بھارت کے70 فیصد علاقے کی بجلی بند ہو گئی۔ پاکستانی فضائیہ نےبھارت کا مہنگا ترین ایس 400 دفاعی نظام تباہ کر دیا ۔بھارتی فوج نے جب دیکھا کہ سب کچھ ان کے ہاتھ سے نکل گیا تو مودی سرکار کو امریکا سے رابطے کے لیے کہا۔ بھارت کی جانب سے سیز فائر کے لیے رابطے کے حوالے سے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے رپورٹر نک رابرٹسن نے بھی تصدیق کی ہے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان سیز فائر کی خبر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری کی، جس نے بھارتی میڈیا ، سیاست دانوں اور عوام کو سیخ پا کردیا۔بھارتی سیاست دان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سیز فائر کی خبر اب امریکی دھرتی سے جاری کی جائے گی۔ امریکا کے دباؤ کے باعث بھارت سیز فائر کر رہا ہے۔ 78 برس سے ہمارا مؤقف رہا کہ کسی تیسرے ملک کی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی اور آج ٹرمپ ٹوئٹ کرتا ہے اور سیز فائر ہو جاتا ہے۔بھارتی سیاست دان نے کہا کہ سیز فائر کے لیے کوئی نہ کوئی کردار ادا کرتا ہے مگر امریکا کی جانب سے تجارتی دھمکیاں دے کر ایسا کرنا افسوس ناک ہے۔ اس بدلتی صوت حال میں بھارتی سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ بھارتی میڈیا کے اینکرز بھی امریکی صدر ٹرمپ پر برس پڑے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھارتی میڈیا کے اینکرز نے بغیر نظریے کا حامل رہنما قرار دیدیا۔ بھارتی ٹی وی اینکر نے کہا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ٹرمپ کشمیر پر بات کرا دے گا تو ہم بتا دیں ہم اپنا معاملہ دیکھنا جانتے ہیں۔دوسری جانب بھارتی میڈیا اور سیاست دانوں کی جانب سے ٹرمپ پر حملوں کے بعد سیز فائر کرنے والے مودی خاموش ہیں۔ کچھ عرصہ قبل مودی جو امریکی صدر ٹرمپ سے گلے ملے تھے، اب بھارتی میڈیا میں ایک ولن کا روپ دھار چکے ہیں۔اُدھر بھارتی میڈیا نے امریکی صدر ٹرمپ کو اپنی کمپنیوں کے لیے بسماسورا تک قرار دیدیا ہے۔ بھارتی کہانیوں کے مطابق بسماسورا وہ کردار تھا جو کسی بھی چیز پر ہاتھ رکھتا تھا تو وہ خاک ہو جاتی تھی۔بھارتی میڈیا کے مطابق اس بار امریکی صدر ٹرمپ کے نشانے پر آئی فون ہے جس پر ہاتھ رکھیں گے اور وہ راکھ ہو جائے گا۔ اسی طرح امریکا اور بھارت کے درمیان اسٹریٹیجک معاہدہ بھی تنقید کی زد میں ہے اور اس کی بڑی وجہ مودی کا ناکامی کا سامنا نہ کرنا ہے۔بھارتی میڈیا کا دوغلا پن کھل کر سامنے آ چکا ہے۔ پہلے امریکا سے سیز فائر کرانے کے لیے بھیک مانگی بعد میں تنقید شروع کردی۔ مودی سرکار کی یہ عادت ہے کہ پہلے بھیک مانگو، پھر الزام تراشی شروع کردو اور بعد میں مکر جاؤ جب کہ اس بار تو مودی سرکار نے دنیا کے سب سے طاقتور صدر کے ساتھ بھی یہ سب کچھ کردیا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کو بھارتی میڈیا نے دھوکا اور جھوٹ تک قرار دیدیا۔امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے آئی فون بنانے والی کمپنی کے سی ای او کو بھارت میں فیکٹریاں لگانے سے منع کردیا ہے اور اُدھر بھارتی میڈیا نے امریکی صدر کو دہشتگرد دوست، جھوٹا، اسلحہ ڈیلر تک قرار دیدیا ہے۔بھارتی اپوزیشن کے مطابق یہی بی جے پی اور آر ایس ایس کے لوگ ٹرمپ کی جیت کے لیے ریلیاں نکالتے رہے اور اس کی جیت پر خوش ہوئے۔بھارتی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت سے سیز فائر کے لیے کہا اور دونوں کو تجارت کے لیے آگے بڑھنے کی بات کی۔ 3 دن بعد وہ قطر میں اپنے فوجیوں کے سامنے اپنی ہی بات سے مکر گئے اور کہا کہ سیز فائر میں ان کا جھوٹاکردار تھا۔ ٹرمپ اپنے بیان سے اس لیے مکر گئے کیونکہ بھارت نے سخت مؤقف اپنایا۔ بھارتی میڈیا نے کہا کہ بھارت کا عالمی تجارت میں کردار اور امریکی صدر کی یوٹرن لینے کی عادت ہے۔یاد رہے کہ بھارتی میڈیا واشنگٹن کی آنکھ کا تارا بننے کے لیے ٹرمپ کی جیت پر اسپیشل کوریج بھی کرتا رہا ہے مگر جب بات سیز فائر کی آئی تو بھارتی میڈیا راتوں رات بدل گیا جو اس کے دوغلے پن کی واضح مثال ہے اور حقیقت یہ ہے کہ بھارت نے کبھی امریکا کو دوست نہیں سمجھا۔ وہ صرف تجارت اور ٹیرف میں آسانیاں چاہتا ہے۔جیسے ہی امریکا نے انسانیت کو جنگ کے نقصانات سے روکنے اور بھارتی فوج کی کمزوریوں کو چھپایا، تو وہیں بھارتی میڈیا اور مودی کے چہرے سے نقاب اتر گیا۔ بھارتی عوام اور سیاست دانوں کی جانب سے یہ کہنا شروع کردیا گیا کہ ٹرمپ کبھی بھی بھارت کا قریبی دوست نہیں تھا۔مودی سرکار کے حمایتی میڈیا کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا نے ٹرمپ کی الیکشن مہم میں اس کا ساتھ دیا مگر اب جو کچھ صدر ٹرمپ کر رہا ہے وہ ثابت کرتا ہے کہ یہ صرف ایک بزنس مین ہے۔
-

’’اپنا میٹر اپنی ریڈنگ‘‘ اووربلنگ کے خاتمے کیلیے حکومت کی نئی اسکیم
اسلام آ باد:(کنزیومر واچ نیوز)حکومت نے بجلی کی اوور بلنگ کا مسئلہ حل کرنے کے لیے ’’اپنا میٹر اپنی ریڈنگ‘‘ اسکیم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی (پاور) کا اجلاس ہوا، جس میں رکن رانا محمد حیات نے سوال اٹھایا کہ کیا آئندہ مالی سال میں بجلی ٹیرف میں مزید کمی ہو گی؟، جس پر چیئرمین نیپرا نے جواب دیا کہ فی الحال بجلی کا ریٹ اتنا ہی رہنے کا امکان ہے۔رانا محمد حیات نے کہا کہ صنعتی شعبے کو 30 فیصد ریلیف دیا گیا ہے جب کہ زرعی شعبے کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا ، جس پر سیکرٹری پاور ڈویژن نے بتایا کہ صنعتی شعبے کو ریلیف کراس سبسڈی ختم کرنے کے باعث حاصل ہوا ۔ بجلی شعبے کے لیے جامع منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔دوران اجلاس راجا قمر الالسلام نے کہا کہ اجلاس پاور کمیٹی کا ہے مگر مجھے پیٹرولیم ڈویژن کے منٹس ملے ہیں۔
جنید اکبر نے کہا کہ میں نے 4 ماہ قبل آفر کی تھی کہ میں کنڈا اتروانے کے لیے خود جاؤں گا۔ ہم تعاون کرتے ہیں مگر ان سے لائن لاسز کم نہیں ہو رہے جب کہ صارف کو آٹھ آٹھ گھنٹے بجلی نہیں ملتی۔ کام یہ نہیں کرتے اور گالیاں ہم کھاتے ہیں۔
سی ای او پیسکو نے کمیٹی میں کہا کہ ان کے علاقے میں ان کے تعاون سے بہت بہتری آئی ہے، آئندہ ماہ سے مزید بہتری ہوگی۔
وفاقی وزیر اویس لغاری نے کہا کہ ریلیف ماہانہ بنیاد پر دیا جائے ۔ متعلقہ ایس ڈی او کی ڈیوٹی لگائیں اور ریلیف ماہانہ بنیادوں پر فراہم کریں۔ سبسڈی کے اصل حق داروں کو ریلیف دے رہے ہیں۔اویس لغاری نے اس موقع پر بتایا کہ 100 یونٹ تک استعمال کرنے والوں کے لیے 56 فیصد بجلی سستی کی ہے۔ 101 سے 200 تک استعمال کرنے والے صارفین کے لیے 48 فیصد بجلی سستی کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ اوور بلنگ کا مسئلہ حل کرنے کے لیے وزیر اعظم جلد اسکیم کا اعلان کریں گے۔ صارفین کو اپنی بلنگ کا اختیار دے رہے ہیں اور اس سلسلے میں ’’اپنا میٹر اپنی ریڈنگ‘‘ کے نام سے اسکیم کا اعلان کرنے جا رہے ہیں۔ صارفین اپنے موبائل سے میٹر کی ریڈنگ کر کے ایپ پر بھیج سکیں گے۔وفاقی وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ سبسڈی کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے صارفین سے جوڑ رہے ہیں۔ حکومت کا بجلی کے سلیبز کو تبدیل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بھی ڈیٹا درست کرنے کی ضرورت ہے۔ آئی پی پی کے معاہدے ختم کرکے عوام کو 3400 ارب روپے کا فائدہ دیا۔ بجلی سستی کرنے کا سفر شروع کر چکے ہیں۔ -

رافیل طیاروں کی ناکامی پر بھارت فرانسیسی کمپنی سے لڑ پڑا
اسلام آباد(کنزیومر واچ نیوز)پاکستان کے ہاتھوں شرمناک شکست اور رافیل طیاروں کی ناکامی پر بھارت فرانسیسی کمپنی سے لڑ پڑا، دونوں میں اختلافات شدت اختیار کر گئے۔رافیل طیاروں کی پاکستان کے خلاف جنگ میں ناکامی نے بھارت کی فضائی طاقت کی حقیقت بے نقاب کر دی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق فرانسیسی کمپنی داسوٹ اور بھارتی حکومت کے درمیان رافیل کی کارکردگی پر شدید اختلافات پیدا ہو گئے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاک بھارت کشیدگی میں بھارتی فضائیہ کی مہنگے فرانسیسی ساختہ رافیل طیاروں کے استعمال پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے استعمال کیے گئے چینی ساختہ PL-15 میزائلوں کی مؤثر کارکردگی نے بھارت کے دفاعی دعووں پر کاری ضرب لگائی ہے۔عالمی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ فرانس کی دفاعی کمپنی ڈسالٹ ایوی ایشن اور بھارتی حکومت کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ فرانسیسی ماہرین کی ایک ٹیم نے بھارت میں موجود رافیل بیڑے کے معائنے کی درخواست کی، جسے نئی دہلی نے سکیورٹی خدشات کے تحت مسترد کر دیا۔فرانسیسی ٹیم کا دعویٰ ہے کہ وہ تکنیکی مسائل کا جائزہ لینا چاہتی تھی تاکہ رافیل کی حالیہ کارکردگی پر پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کو ختم کیا جا سکے۔ رافیل کی حالیہ کارکردگی کے تناظر میں انڈونیشیا نے بھی ڈسالٹ کے ساتھ اپنے حالیہ جنگی طیارہ خریداری معاہدے پر نظر ثانی شروع کر دی ہے۔بھارتی رافیلز کی کمزور کارکردگی نے انڈونیشیا کو اس پر نظر ثانی پر مجبور کر دیا ہے۔رپورٹس کے مطابق بھارتی فضائیہ کئی برس سے تربیت یافتہ پائلٹس کی قلت کا شکار ہے۔ دسمبر 2024 کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی فضائیہ میں پائلٹوں کی کمی 2015 میں 486 سے بڑھ کر 2021 میں 596 ہو ئی۔ بھارت کے پاس 42 اسکواڈرن کی ضرورت کے برعکس صرف 31 لڑاکا اسکواڈرن موجود تھے، جو جنگ کے لیے ناکافی تھے۔بھارتی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ ڈسالٹ ایوی ایشن نے رافیل کے اہم مشن سسٹمز اور ایویونکس کے سورس کوڈ تک رسائی دینے سے انکار کیا۔ یہ کوڈ رسائی جنگی تیاری، اسلحہ انضمام اور پائلٹ تربیت کے لیے نہایت ضروری ہے۔بین الاقوامی میڈیا کا کہنا ہے کہ فرانسیسی کمپنی کی جانب سے انکار نے رافیل کے مؤثر استعمال میں رکاوٹیں پیدا کی ہیں۔ بھارت نے فی رافیل طیارہ 288 ملین ڈالر خرچ کیے، لیکن وہ اپنے ہی خریدے گئے سسٹمز پر مکمل کنٹرول حاصل نہیں کر سکے۔دوسری جانب دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ جنگ نے بھارت کی دفاعی تیاریوں میں بنیادی خامیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ بھارت میں پائلٹس کی شدید کمی اور ناقص تربیت نے جنگ کے آغاز میں ہی بھارتی فضائیہ کو شکست سے دوچار کیا۔دفاعی ماہرین کے مطابق بھارت کی مہنگی رافیل خریداری کے باوجود پاکستان کے چینی ساختہ PL-15 میزائل زیادہ مؤثر ثابت ہوئے۔
-

پاکستان نے پہلے سرکاری حمایت یافتہ بٹ کوائن ریزرو کا اعلان کر دیا
اسلام آباد(کنزیو مر واچ )پاکستان نے پہلے سرکاری حمایت یافتہ بٹ کوائن ریزرو کا اعلان کر دیا۔رپورٹ کے مطابق ذرائع نے کہا کہ اسٹریٹجک بٹ کوائن ریزرو کا اعلان وزیراعظم کے خصوصی معاون برائے بلاک چین اور کرپٹو اور پاکستان کرپٹو کونسل (پی سی سی) کے سی ای او بلال بن ثاقب نے کیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اعلان بٹ کوائن ویگاس 2025 کے دوران کیا گیا، پاکستان کرپٹو کونسل (پی سی سی) کے سی ای او بلال بن ثاقب نے ڈونلڈ ٹرمپ کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔ذرائع کے مطابق بلال بن ثاقب نے ڈونلڈ ٹرمپ کا حالیہ بھارت-پاکستان کشیدگی میں امن قائم کرنے اور کرپٹو اپنانے کے لیے امریکی صدر کی خدمات کو سراہا۔تقریب کے دوران امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس، ایرک ٹرمپ اور ڈونلڈ ٹرمپ جونئر بھی شامل تھے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 40 ملین کرپٹو والٹس موجود ہیں اور یہ دنیا کی سب سے بڑی اور سب سے زیادہ فعال فری لانس معیشتوں میں سے ایک ہے۔تقریب سے خطاب میں بلال بن ثاقب نے ایک قومی بٹ کوائن والٹ کے قیام کا بھی اعلان کیا۔ذرائع کے مطابق قومی بٹ کوائن والٹ ایسے ڈیجیٹل اثاثے رکھے گا جو پہلے ہی ریاست کی تحویل میں ہیں۔حکومت نے پہلے مرحلے میں بٹ کوائن مائننگ اور اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے لیے 2,000 میگاواٹ زائد بجلی مختص کی ہے۔ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ یہ بٹ کوائن مائننگ اور اے آئی ڈیٹا سینٹرز خود مختار مائنرز، ٹیک کمپنیوں، اور بین الاقوامی بلاک چین فرمز کے لیے دروازے کھول رہا ہے، پاکستان ڈیجیٹل اثاثہ جات اتھارٹی کے قیام کا بھی اعلان کیا گیا تاکہ بلاک چین پر مبنی مالیاتی ڈھانچے کو ریگولیٹ کیا جا سکے۔پاکستان نے کرپٹو کرنسی کو قومی ذخیرے میں شامل کر کے عالمی برادری کو حیران کر دیا پاکستان اب صرف ایک ملک نہیں، بلکہ ایک ڈیجیٹل تحریک ہے — جس کی قیادت نوجوان کر رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کے خصوصی معاون برائے بلاک چین اور کرپٹو اور پاکستان کرپٹو کونسل (پی سی سی) کے سی ای او بلال بن ثاقب نے لاس ویگاس کے اسٹیج سے دنیا کو پیغام دیا کہ ’پاکستان تیار ہے اور آگے بڑھنے کو بے تاب ہے۔رپورٹ کے مطابق ان کی یہ تقریر ایک اعلان تھی کہ ’پاکستان صرف ماضی کا اسیر نہیں، بلکہ مستقبل کا معمار ہے‘۔جب دنیا نے شک کیا، پاکستان نے بٹ کوائن کو اسٹریٹیجک ریزرو میں بدل کر یقین پیدا کیا، یہ پہلی بار تھا کہ کسی ترقی پذیر ملک نے کرپٹو کو قومی ذخیرے میں شامل کر کے عالمی برادری کو حیران کر دیا۔پاکستان نے اپنی پہچان دہشت گردی یا غربت سے نہیں، بلکہ ڈیجیٹل انقلابی طاقت سے جوڑ دی ہے، بلال بن ثاقب نے کہا کہ ’میں وزیر بن کر نہیں آیا، میں ایک نسل کی آواز بن کر آیا ہوں۔پاکستان کی 23 سالہ اوسط عمر، 40 ملین کرپٹو والیٹس، اور دنیا کے بڑے فری لانس بازاروں میں سے ایک، یہ صرف اعداد نہیں، ایک کہانی ہے۔2,000 میگاواٹ بجلی ڈیجیٹل معیشت کے لیے مختص کرنا صرف ایک پالیسی نہیں، بلکہ ایک وژن ہے، پاکستان اب صرف کنزیومر مارکیٹ نہیں، بلکہ عالمی بلاک چین انقلاب کا مرکزی اسٹیشن ہے۔پریس کی منفی سرخیاں صرف ایک رخ دکھاتی ہیں — مگر بلال بن ثاقب نے دنیا کو ’ہنر، امید، اور قیادت‘ کی دوسری حقیقت دکھا دی، پاکستان ڈیجیٹل اثاثوں کی دنیا میں اپنی جگہ خود بنا رہا ہے — اپنے اصولوں، اپنے نوجوانوں، اور اپنی طاقت کے ساتھ۔رپورٹ کے مطابق اگر آپ حقیقت میں کچھ نیا بنا رہے ہیں — تو پاکستان آئیے، یہاں وہ زمین ہے جہاں خواب ڈیجیٹل حقائق میں ڈھلتے ہیں، یہ لمحہ صرف ایک تقریر نہیں تھا — یہ ایک ابھرتے ہوئے پاکستان کی عالمی شناخت کا آغاز تھا۔پاکستان، جو کبھی صرف خبروں کی سرخیوں میں رہتا تھا، اب دنیا کو ڈیجیٹل معیشت کا سبق دینے جا رہا ہے۔