Blog

  • کراچی میں 14 گھنٹوں کی بدترین لوڈشیڈنگ

    کراچی میں 14 گھنٹوں کی بدترین لوڈشیڈنگ

    کراچی میں 12 سے 14 گھنٹوں کی بدترین لوڈشیڈنگ کے باوجود ترجمان کے الیکٹرک نے شہر کا 70 فیصد حصہ لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔کراچی کے مختلف علاقوں میں شدید گرمی کے باوجود اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے جہاں تکنیکی خرابی کےنام پر گھنٹوں بجلی بند کرنا معمول بن گیا ہے جب کہ خرابی کے نام پر بجلی کی بندش کے باوجود لوڈشیڈنگ بھی معمول کے مطابق کی جارہی ہے۔شہر کے مختلف علاقوں میں بجلی کی بندش کا دورانیہ 12 سے 14 گھنٹے تک پہنچ گیا ہے جس میں اولڈسٹی ایریا، ماڑی پور، لائنز ایریا، سرجانی، ماڈل کالونی، ملیر، لانڈھی،کورنگی، اللہ والا ٹاؤن، ا ورنگی ٹاون، نیوکراچی،نارتھ کراچی، سٹی ریلوے کالونی، جامع کلاتھ، لیاقت آباد اور دیگربازاروں میں بھی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔شہریوں کا کہنا ہےکہ باقاعدگی سے بل ادا کرتےہیں لیکن اس کےباوجودگھنٹوں بجلی نہیں آتی، شدید گرمی میں خرابی کے نام پر بجلی کی بندش اور پھر لوڈشیڈنگ معمول کے مطابق ہونے سے انتہائی پریشانی کا سامنا ہے۔شہریوں کے مطابق شدید گرمی میں ہر ہفتے مینٹیننس ورک کے نام پر 12،12 گھنٹے بجلی کی بندش بھی معمول بن گیا ہے جب کہ مینٹیننس کے باوجود معمول کی لوڈشیڈنگ بھی کی جاتی ہے جس سے شدید اذیت کا سامنا ہے۔دوسری جانب ترجمان کےالیکٹرک کا کہنا ہےکہ ‏جن فیڈرز پر بلوں کی مکمل ادائیگی ہے وہاں بجلی فراہم کی جاتی ہے اور شہر میں کسی کو مفت بجلی کی فراہمی ممکن نہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ بجلی صارفین کا ٹیرف پورے پاکستان میں یکساں ہے، کراچی کے صارفین وہی قیمت ادا کرتے ہیں جو دیگر شہروں میں ادا کی جاتی ہے۔ترجمان نے دعویٰ کیا کہ کراچی کی کمرشل مارکیٹیں 70 فیصد لوڈشیڈنگ فری فیڈرز پر ہیں، موبائل مارکیٹ، الیکٹرانک مارکیٹ، ایمپریس روڈ، لکی اسٹار، بولٹن مارکیٹ، لائٹ ہاؤس، عبداللہ ہارون روڈ اور زینب مارکیٹ لوڈشیڈنگ فری ہیں۔
    اسی طرح صدربازار، داؤد پوتہ روڈ، طارق روڈ اور کھارادر سمیت کمرشل مراکز لوڈ شیڈنگ فری ہیں جب کہ 30 فیصدنیٹ ورک پر بجلی چوری اور بلوں کی ادائیگی کے تناسب سے لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے۔

  • ایشین ایتھلیٹکس چیمپئن شپ: پاکستان کے ارشد ندیم نے گولڈ میڈل اپنے نام کرلیا

    ایشین ایتھلیٹکس چیمپئن شپ: پاکستان کے ارشد ندیم نے گولڈ میڈل اپنے نام کرلیا

    اولمپک گولڈ میڈلسٹ جیولن تھرور ارشد ندیم نے ایشین ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں بھی گولڈ میڈل حاصل کرلیا۔پاکستان کے یاسر سلطان نے پہلی باری میں 70.53 میٹر کی تھرو کی، یاسر سلطان کی دوسری تھرو 75.39 میٹر کی رہی جبکہ تیسری کوشش میں یاسر سلطان نے 75.50 میٹر کی تھرو کی۔پاکستان کے ارشد ندیم نے پہلی تھرو 75.64 میٹر کی پھینکی جبکہ دوسری کوشش میں ارشد ندیم کی تھرو 76.80 میٹر کی رہی، ارشد ندیم نے تیسری کوشش میں 85.57 میٹر کی تھرو پھینکی۔ ارشد ندیم نےچوتھی کوشش میں 83.99 میٹر کی تھرو پھینکی۔چوتھے راؤنڈ کے اختتام پر ارشد ندیم چارٹ پر پہلے نمبر پر موجود ہیں جبکہ سری لنکا کے ہرانگا کی اب تک دوسری پوزیشن ہے، چین کےہو ہو ہران تیسری پوزیشن پر اور بھارت کے یش ور سنگھ 82.23 میٹر تھرو کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہیں۔ بھارت ہی کے سچن یادیو اب تک چھٹی پوزیشن پر ہیں۔ارشد ندیم جیولن تھرو کی فائنلز چارٹ پر تیسری تھرو کے بعد پہلی پوزیشن پر آگئے جس کے بعد انہوں نے اپنی آخری تھرو 86.40 میٹر لمبی پھینکی اور بلآخر گولڈ میڈل اپنے نام کرلیا۔

  • بھارت کا پہلی بار پاک فضائیہ کے ہاتھوں اپنے کئی لڑاکا طیاروں کی تباہی کا اعتراف

    بھارت کا پہلی بار پاک فضائیہ کے ہاتھوں اپنے کئی لڑاکا طیاروں کی تباہی کا اعتراف

    سنگاپور (کنزیومر واچ نیوز)بھارتی فوج نے پہلی بار مئی میں پاکستان کے ساتھ جھڑپوں میں غیر متعین تعداد میں لڑاکا طیاروں کو کھونے کی تصدیق کردی۔رپورٹ کے مطابق ہندوستان کی فوج نے پہلی بار اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس نے مئی میں پاکستان کے ساتھ جھڑپوں میں غیر متعینہ تعداد میں اپنے لڑاکا طیارے کھو دیے۔ہندوستانی مسلح افواج کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف انیل چوہان نے یہ اعتراف ہفتے کے روز سنگاپور میں شنگری لا ڈائیلاگ میں شرکت کے دوران بلومبرگ ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

  • ناکامی کا پردہ چاک ہونے کا ڈر: بھارت کا فرانسیسی آڈیٹرز کو رافیل طیاروں تک رسائی دینے سے انکار

    ناکامی کا پردہ چاک ہونے کا ڈر: بھارت کا فرانسیسی آڈیٹرز کو رافیل طیاروں تک رسائی دینے سے انکار

    نیویارک (کنزیومر واچ نیوز)بھارت نے معرہ حق آپریشن بنیان مرصوص کے دوران پاکستان کے ہاتھوں اپنی عبرت ناک شکست کا پردہ فاش ہونے کے ڈر سے فرانسیسی آڈیٹرز کو رافیل طیاروں تک رسائی دینے سے انکار کردیا۔امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ رافیل بنانے کی فرانسیسی کمپنی ڈاسو طیاروں میں کسی بھی ممکنہ خرانی کا جائزہ لینے کے لیے بھارت آنا چاہتی تھی۔جریدے نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا کہ بھارت کو خدشہ ہے کہ فرانسیسی آڈیٹرز اصل مقصد خراب کارکردگی کا الزام بھارتی فضائیہ پر ڈالنا ہے۔رپورٹ کے مطابق اس تمام صورتحال میں بھارت نے فرانسیسی آڈیٹرز کو رافیل طیاروں تک رسائی دینے سے صاف انکار کردیا ہے۔بھارت کے فرانسیسی ساختہ رافیل طیاروں کو تباہ کردیا تھا جس پر فرانسیسی فوج نے اپنے پہلے رد عمل میں کہا تھا کہ رافیل کی کارکردگی کے حوالے سے صورتحال کا بغور جائزہ لینے کے لیے بھارت سے براہ راست معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانسیسی فوج کے ترجمان نے پریس بریفنگ میں بتایا تھا کہ لڑائی میں بہت سے طیاروں نے حصہ لیا تھا اس لیے بہت سے پہلوؤں کی تصدیق ہونا باقی ہے واقعے کی تفصیلات غیر یقینی ہیں۔تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ فرانس اس سے زیادہ سے زیادہ سیکھنے کا خواہشں مند ہے اگر واقعی رافیل طیارے مار گرائے تو یہ دو دہائیوں کی آپریشنل سروس کا پہلا واقعہ ہوگا۔یاد رہے کہ بھارتی جارحیت میں مسجد کی شہادت اور معصوم شہریوں کی قیمتی جانوں کے نقصان پر پاک فضائیہ نے جواباً بھارت کے 6 طیارے مار گرائے تھے۔یاد رہے کہ بھارت نے فرانس سے جدید 36 رافیل طیارے خریدے تھے جن میں سے 3 پاکستان نے حالیہ جنگ میں تباہ کردیے ہیں۔

  • عیدالاضحیٰ کی تعطیلات جمعہ 6  سے پیر 9 جون تک ہوں گی

    عیدالاضحیٰ کی تعطیلات جمعہ 6 سے پیر 9 جون تک ہوں گی

    اسلام آباد(کنزیومر واچ نیوز) وزیراعظم نے عید الاضحیٰ کی تعطیلات کی منظوری دے دی۔عیدالاضحیٰ کی تعطیلات جمعہ 6 جون سے پیر 9 جون تک ہوں گی۔خیال رہے کہ پاکستان میں عید الاضحٰی ہفتہ 7 جون کو ہوگی۔ عید الاضحٰی پر دنیا بھر کے مسلمان حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسمعیل علیہ السلام کی قربانی کی پیروی کرتے ہوئے جانوروں کی قربانی کرتے ہیں.

  • امریکا اور نیاگرا فالز “قدرت کا عظیم شاہکار”حمیرا گل تشنہ

    امریکا اور نیاگرا فالز “قدرت کا عظیم شاہکار”حمیرا گل تشنہ

    کسی نے بہت پہلے مجھ سے کہا تھا کہ تمہارے ہاتھ کی لکیروں میں سفر لکھا ہے۔ اور ہمیں یقین ہے کہ کہنے والے نے سچ ہی کہا ہے۔ گزشتہ دنوں میاں جی کی جاب سے ایک ہفتے کی چھٹیاں تھیں اور ہم نے ایک دم شام کو پروگرام بنایا نیاگرافالس جانے کا۔ بس پھر کیا تھا فورا ہی رات کو پیکنگ کی اور صبح سویرے نکل پڑے قدرت کے اس شاہکارکے دیدار کے لیے۔
    نیاگرا فالز (Niagara Falls) دنیا کے مشہور ترین اور خوبصورت ترین آبشاروں میں سے ایک ہے، جو شمالی امریکا میں واقع ہے۔ یہ آبشار نہ صرف قدرت کے شاہکار کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ سیاحوں کے لیے ایک اہم مقام بھی ہے۔ امریکا اور کینیڈا کی سرحد پر واقع ہونے کی وجہ سے یہ دونوں ممالک کے لیے ایک اہم سیاحتی اور معاشی اثاثہ ہے۔

    نیاگرا فالز دراصل تین بڑے آبشاروں پر مشتمل ہے:
    1. ہارس شو فالز (Horseshoe Falls) جو کینیڈا کی طرف واقع ہے اور سب سے بڑا ہے۔
    2. امریکن فالز (American Falls) جو مکمل طور پر امریکا کی ریاست نیویارک میں واقع ہے۔
    3. برائیڈل ویل فالز (Bridal Veil Falls) یہ بھی امریکا میں ہے لیکن نسبتاً چھوٹا ہے۔

    یہ آبشار دریائے نیاگرا پر واقع ہیں، جو جھیل ایری (Lake Erie) سے جھیل اونٹاریو (Lake Ontario) تک بہتا ہے۔ امریکا اور کینیڈا کی سرحد اس دریا کے درمیان سے گزرتی ہے، جس کی وجہ سے دونوں ممالک اس قدرتی عجوبے سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

    نیاگرا فالس پہنچ کر ہمیں یہاں کی تاریخی اہمیت کا علم ہوا۔ نیاگرا فالز کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔ مقامی امریکی قبائل جیسے کہ “Iroquois” اور “Seneca” اسے مقدس مقام سمجھتے تھے۔ یورپیوں نے پہلی بار 17ویں صدی میں اسے دریافت کیا، اور 19ویں صدی میں یہ ایک اہم سیاحتی مقام بن گیا۔

    19ویں اور 20ویں صدی میں نیاگرا فالز کو بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔ “نکولا ٹیسلا” جیسے سائنسدانوں نے ہائیڈرو الیکٹرک پاور کے تجربات یہیں کیے، جس کی وجہ سے یہ علاقہ توانائی کے حوالے سے بھی اہم ہو گیا۔

    نیاگرا فالز ہر سال لاکھوں سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے جس میں اس بار ہم دونوں میاں بیوی بھی شامل تھے۔ نیاگرافالس پہنچ کر ہم یہاں کی چند مشہور سیاحتی سرگرمیوں کا حصہ بنے۔

    1. مائیڈ آف دی مسٹ (Maid of the Mist)
    یہ ایک کشتی کا سفر ہے جو سیاحوں کو آبشار کے قریب ترین لے جاتا ہے۔ جس کے ٹکٹ آپ وہیں سے اس وقت خرید سکتے ہیں۔ کشتی سے ہارس شو فالز کا نظارہ ناقابلِ فراموش ہوتا ہے۔

    2. کیو جورنی بہائنڈ دی فالز (Cave of the Winds)
    اس ٹور میں سیاحوں کو ایک غار (جسے گزر گاہ کے طعلور پر استعمال کیا جاتا ہے) سے گزارا جاتا ہے اور برائیڈل ویل فالز کے قریب لے جایا جاتا ہے۔ اس مقام پر آپ کو شدید ہواؤں کا سامنا رہتا ہے۔ جہاں وہ آبشار کے پانی میں بھیگ سکتے اور اس کی طاقت کو محسوس کر سکتے ہیں۔

    3. لائیٹنگ اور فائر ورکس
    رات کے وقت آبشار کو رنگین لائٹس سے سجایا جاتا ہے، اور موسم گرما میں فائرورکس کا شاندار نظارہ پیش کیا جاتا ہے۔ اسے دیکھنے کے لیے بے شمار لوگ رات کے وقت دیر تک یہاں رکتے ہیں۔ رات کے وقت گرتے ہوئے پانی کا شور، رنگین لائٹس اور فائر ورکس مل کر بیحد طلسماتی ماحول بناتے ہیں۔

    4. نیاگرا فالز اسٹیٹ پارک
    یہ پارک امریکن سائیڈ پر واقع ہے اور یہاں سے آبشار کا حیرت انگیز نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ جہاں سے خوبصورت تصاویر لینا سب کا ہی شوق ہوتا ہے۔

    نیاگرافالس کی معاشی اور ماحولیاتی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ نیاگرا فالز نہ صرف سیاحت کے لیے اہم ہے بلکہ یہ ہائیڈرو الیکٹرک پاور کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ امریکا اور کینیڈا دونوں ممالک نے یہاں ڈیم بنائے ہیں جو لاکھوں گھروں کو بجلی فراہم کرتے ہیں۔ تاہم، ماحولیاتی تحفظ کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ آبشار کا قدرتی حسن برقرار رہے۔

    امریکا کے لیے نیاگرا فالز بے حد اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس کی وجہ سے سیاحت سے بڑی ہونے والی آمدنی ہے۔ کیونکہ ہر سال لاکھوں
    سیاح یہاں آتے ہیں، جو مقامی معیشت کو تقویت دیتے ہیں۔ دوسرا، یہ توانائی کا اہم ذریعہ ہے اور یہاں سے حاصل ہونے والی ہائیڈرو الیکٹرک پاور ریاست نیویارک کو توانائی فراہم کرتی ہے۔ اور تیسرا، یہ امریکہ کی ثقافتی شناخت آبشار ہے۔ امریکا کی فطری خوبصورتی کی علامت ہے اور دنیا بھر میں اسے پہچانا جاتا ہے۔

    نیاگرا فالز قدرت کا ایک انمول تحفہ ہے جو اپنی رعنائی اور طاقت کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہے۔ اور کیوں مشہور ہے اس کا اندازہ ہم کو خود اسے دیکھ کر ہوا۔ امریکا کے لیے یہ نہ صرف ایک سیاحتی مقام ہے بلکہ توانائی اور معیشت کا اہم ذریعہ بھی۔ اگر آپ کبھی امریکا جائیں تو نیاگرا فالز دیکھنا مت بھولیں، کیونکہ اس کی دلکشی اور عظمت کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں!
    حمیرا گل تشنہ

  • جرمنی میں نئی حکومت کی  تشکیل تحریر سرور غزالی

    جرمنی میں نئی حکومت کی تشکیل تحریر سرور غزالی

    جرمنی میں اس سال 23 فروری کو یہاں کی قومی اسمبلی یعنی بنڈس ٹاگ کے انتخابات ہوئے تھے۔ اس قبل از وقت، صرف تین سال کے بعد ہی انتخابات کی وجہ چانسلر اولاف شولز کی گرین پارٹی اور ایف ڈی پی پارٹی کی کوالیشن حکومت کا خاتمہ تھی، جس کے نتائج کے مطابق یہاں کی کرسچن ڈیموکریٹک پارٹی نے سب سے زیادہ یعنی 22 اعشاریہ چھ فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔ اپنی قریبی سسٹر پارٹی کرسچن سوشل یونین کے ساتھ مل کر کل 28 عشاریہ 6 فیصد ووٹ اس مشترکہ پارٹی کے حق میں پڑے تھے چونکہ سی ایس یو کو صرف چھ فیصد ووٹ ملے تھے۔ واضح رہے کہ سی ایس یو ایک چھوٹی اور صرف صوبہ ببیریا میں مقبول پارٹی ہے اور وہیں اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑتی رہی ہے۔ اور یہ دونوں پارٹیاں ہمیشہ ہی ساتھ ساتھ حکومت یا اپوزیشن میں نمائندگی کرتی رہی ہیں۔ دوسری ابھر کر سامنے آنے والی پارٹی انتہا پسند دائیں بازو کی پارٹی اے ایف ڈی ہے۔ جس کا تمام دوسری پارٹیوں نے متفقہ طور پر بائیکاٹ کیا اور اسی وجہ سے اس کے ساتھ حکومت بنانے کے لیے کسی قسم کی کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔ اور اس کے بجائے صرف 16 فیصد ووٹ لے کر کامیاب ہونے والی پارٹی ایس پی ڈی کے ساتھ سی ڈی یو اور سی ایس یو مشترکہ طور پر حکومت بنانے کی بات چیت کا آغاز کیا۔ ان طویل المدتی بات چیت کے دوران نئی حکومت تشکیل دیے جانے کے سلسلے میں معاہدے اور اصول طے کیے گئے اور ان کے تحت حکومت بنانے کا عندیہ دیا گیا۔ اس گفت و شنید کے اختتام پر تینوں پارٹیوں نے اپنے اپنے کارکنوں کو موقع دیا کہ وہ ایک اندرون پارٹی انتخاب کے ذریعے حکومت بنائے جانے کی شرائط اور ان کے نتیجے میں مقرر کیے جانے والے وزراء کی منظوری دیں۔ تینوں پارٹیوں نے ان درون خانہ انتخاب کے بعد متفقہ طور پر حکومت بنانے کا فیصلہ کیا۔
    حکومت بنانے کا اگلا مرحلہ بنڈس ٹاگ کے سامنے حکومت کے سربراہ، چانسلر کی تقرری کا انتخاب 6 مئی کو ہوا۔ چونکہ تینوں پارٹیاں مل کر اکثریتی اور متفقہ طور پر چانسلر کو منتخب کرنے والی تھیں اور امید یہی تھی کہ فریڈرش میرز پارلیمنٹ کے سامنے بطور چانسلر منتخب ہو جائیں گے۔ لیکن جب 6 مئی کی صبح نو بجے بنڈس ٹاگ کی کاروائی کا آغاز ہوا تو، کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس تقریب کے اختتام پر کسی چانسلر کا چناؤ نہیں ہو سکے گا۔ اس سے پہلے جرمنی کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ جو پارٹیاں مل جل کر اکثریت میں ہوں اور سیٹوں کے تناسب سے انہیں حکومت کا حق دیا جانا ہو، ان کا نمائندہ بہ آسانی نہ چنا جائے۔ لیکن 6 مئی کے بنڈس ٹاگ کے اندر ہونے والے انتخاب کا نتیجہ مایوس کن ہی نہیں حیران کن بھی تھا۔ اور اس کے مطابق کل 630 ممبروں میں سے 621 نے ووٹ ڈالے جن میں صرف 310 رکن نے فریڈرش میرز کو چانسلر بنانے کی حمایت کا ووٹ ڈالا جبکہ 307 افراد نے ان کی مخالفت میں ووٹ ڈالا۔ جس میں ایک ووٹ ناقابل عمل بھی تھا، اور تین ارکان نے ووٹ میں حصہ دینے سے اجتناب کیا اس طرح سے فریڈرش میرز کو ایک دو نہیں بلکہ 18 ووٹوں کی کمی سے چانسلر نہ منتخب ہونے کا عندیہ ملا، اور ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ فریڈرش میرز پہلے بھی ایک متنازعہ شخصیت رہے ہیں اور سابقہ چانسلر انجلیکا
    میرکل کے ساتھ ان کے اختلافات کی بنیاد پر وہ پارٹی سے عملی طور پر دور بھی رہ چکے ہیں اور اس الیکشن کے دوران وہ کافی عرصے بعد پہلی مرتبہ اس قدر فعال اور بہت زیادہ پرامید نظر آرہے تھے کہ ان کی چانسلر بننے کی خواہش کو، جسے وہ برسوں سے اپنے دل میں چھپائے بیٹھے ہیں پوری ہوجائے گی۔ مگر ان کی یہ خواہش ایک بار پھر ناکامی میں بدل گئی۔ یہ ایک بڑا جھٹکا تھا جو شاید انہی کی پارٹی یا شاید ان کی حکومت میں شامل کوالیشن پارٹی کے کئی ممبران، مسٹر میرز کو انہیں صرف وقتی طور پر یہ بتانے کے لیے، کہ ان کی رضامندی کے بغیر ان کی حکومت کسی وقت بھی ٹوٹ سکتی ہے، ان کے حق میں ووٹ نہیں ڈالا۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ مسٹر میرز کسی طور بھی چانسلر نہیں بن سکیں گے۔ چونکہ حتمی فیصلے کے لیے ایک سیکنڈ اور پھر تھرڈ راؤنڈ 6 مئی کو دن کے ڈھائی بجے ہوا۔ جس کے لیے ازسرنو پارلیمنٹ کی کارروائی شروع کی گئی جس سے قبل پارٹی کے اجلاس میں اس بات کا حتمی فیصلہ کیا گیا کہ چانسلر کون بنے گا، چونکہ جرمنی میں حکومت کی تشکیل نہایت ضروری ہے اور دنیا کے سامنے موجودہ صورتحال ناقابل قبول ہے۔
    اور پھر آخر کار دوسرے راؤنڈ میں فریڈرش میرز نے 325 ووٹ حاصل کیے اور جرمنی کے نئے چانسلر مقرر ہوگئے۔
    اس کے فورا” بعد ہی صدر جمہوریہ جرمنی نے اپنے محل میں نئے چانسلر کو تقرری کی سند عطا کی۔ تاہم جناب میرز کو اندرونی اور بیرونی دباو سامنا ہے۔ امریکی حکومت نیان کی حکومت کا حزب اختلاف کی سب سے بڑی پارٹی کے ساتھ رویے کو غیر جمہوری قرار دیا ہے۔

  • کینیڈا میں مستقل سکونت اختیار کرنے والے پاکستانیوں کے لیے حکومتی سہولیات ،تحریر ڈاکٹر بشارت ریحان

    کینیڈا میں مستقل سکونت اختیار کرنے والے پاکستانیوں کے لیے حکومتی سہولیات ،تحریر ڈاکٹر بشارت ریحان

    کینیڈا دنیا بھر سے تارکین وطن کو اپنی طرف متوجہ کرنے والا ایک ترقی یافتہ ملک ہے جو نئے شہریوں کو بے پناہ مواقع اور سہولیات فراہم کرتا ہے۔ پاکستان سے کینیڈا مستقل سکونت اختیار کرنے والوں کے لیے کینیڈین حکومت نے کئی پروگرامز اور سہولیات وضع کی ہیں جو ان کے انتقال، آبادکاری اور ترقی کے عمل کو آسان بناتے ہیں۔ یہ مضمون کینیڈا میں مستقل رہائش اختیار کرنے والے پاکستانیوں کے لیے دستیاب سہولیات کی تفصیل پیش کرے گا۔

    کینیڈا کی امیگریشن پالیسی اور پاکستانی تارکین وطن

    کینیڈا ہر سال 3 لاکھ سے زائد نئے تارکین وطن کو مستقل رہائشی (Permanent Resident) کی حیثیت سے داخل ہونے کی اجازت دیتا ہے۔ پاکستان سے ہر سال ہزاروں افراد کینیڈا کی مختلف امیگریشن اسکیمز کے تحت مستقل سکونت کے لیے منتقل ہوتے ہیں۔ کینیڈین حکومت نے تارکین وطن کے لیے درج ذیل اہم پروگرامز ترتیب دیے ہیں:

    1. ایکسپریس انٹری سسٹم: یہ کینیڈا کی سب سے مقبول امیگریشن اسکیم ہے جو ہنر مند کارکنوں کو مستقل رہائش کی پیشکش کرتی ہے۔ اس کے تحت درخواست دہندگان کو عمر، تعلیم، زبان کی مہارت، کام کا تجربہ اور دیگر عوامل کے لحاظ سے پوائنٹس دیے جاتے ہیں۔

    2. صوبائی نامزد پروگرام (PNP): کینیڈا کے مختلف صوبے اپنی ضروریات کے مطابق تارکین وطن کو نامزد کر سکتے ہیں۔ پاکستانی باشندے جن کے پاس مخصوص ہنر یا پیشے ہیں وہ اس پروگرام کے تحت مستقل رہائش حاصل کر سکتے ہیں۔

    3. فیملی اسپانسر شپ کینیڈا میں مستقل رہائشی یا شہری اپنے خاندان کے اراکین کو کینیڈا لانے کے لیے اسپانسر کر سکتے ہیں۔ اس میں شوہر/بیوی، والدین اور غیر شادی شدہ بچے شامل ہیں۔

    4.ا سٹوڈنٹ ویزا سے مستقل رہائش: کینیڈا میں تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی طلباء گریجویشن کے بعد کام کا اجازت نامہ (Post-Graduation Work Permit) حاصل کر سکتے ہیں اور بعد میں مستقل رہائش کے لیے درخواست دے سکتے ہیں .

    آبادکاری کے لیے مالی امداد اور سہولیات

    کینیڈین حکومت نئے تارکین وطن کو آبادکاری کے عمل میں مدد کے لیے مختلف مالی امداد اور سہولیات فراہم کرتی ہے:

    رہائشی قرضے اور گھر خریدنے میں مدد

    کینیڈا میں مستقل رہائشی حیثیت حاصل کرنے والے پاکستانی باشندے گھر خریدنے کے لیے حکومتی اسکیموں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ کینیڈا ہاؤسنگ اینڈ مرٹگیج کارپوریشن (CMHC) پہلی بار گھر خریدنے والوں کو خصوصی قرضے اور انشورنس ا سکیمیں پیش کرتی ہے۔ اس کے علاوہ، کچھ صوبوں میں نئے تارکین وطن کے لیے رہائشی گرانٹس بھی دستیاب ہیں۔

    روزگار کے مواقع اور تربیتی پروگرام

    کینیڈین حکومت نئے تارکین وطن کو روزگار کے حصول میں مدد کے لیے مختلف پروگرامز چلاتی ہے:

    – کیریئر ایسوسمنٹ سروسز: یہ سروسز تارکین وطن کے تعلیمی اور پیشہ ورانہ تجربے کا اندازہ لگاتی ہیں اور کینیڈین مارکیٹ میں ان کے لیے موزوں ملازمتوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔
    – مہارت کی شناخت کے پروگرام: بیرون ملک حاصل کردہ پیشہ ورانہ ڈگریوں اور سرٹیفیکیشنز کو کینیڈین معیار کے مطابق بنانے میں مدد کرتے ہیں۔
    – انٹرن شپ اور اپرنٹس شپ پروگرام: نئے تارکین وطن کو کینیڈین کام کے ماحول سے آشنا کرنے کے لیے تربیتی مواقع فراہم کرتے ہیں۔

    زبان کی تربیت

    کینیڈین حکومت انگریزی یا فرانسیسی زبان سیکھنے کے لیے مفت یا سبسڈی والے کورسز پیش کرتی ہے۔ Language Instruction for Newcomers to Canada (LINC) پروگرام کے تحت تارکین وطن کو بنیادی سے لے کر اعلیٰ سطح تک زبان کی تربیت دی جاتی ہے۔ یہ پروگرام ملک بھر میں دستیاب ہے اور اس میں بچوں کی دیکھ بھال کی سہولت بھی شامل ہو سکتی ہے۔

    صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات

    کینیڈا کا ہیلتھ کیئر سسٹم دنیا بھر میں مشہور ہے۔ مستقل رہائشی حیثیت حاصل کرنے والے پاکستانی باشندے کینیڈا کے پبلک ہیلتھ کیئر سسٹم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں:

    – صوبائی ہیلتھ انشورنس: ہر صوبہ اپنے رہائشیوں کو مفت یا سبسڈی والی بنیادی صحت کی دیکھ بھال فراہم کرتا ہے۔ نئے تارکین وطن کو عام طور پر رہائش شروع کرنے کے تین ماہ بعد ہیلتھ انشورنس کا حق مل جاتا ہے (کچھ صوبوں میں یہ مدت کم بھی ہو سکتی ہے)۔
    – ادویات کی سبسڈی: کچھ صوبوں میں کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے ادویات کی قیمتوں میں رعایت دی جاتی ہے۔
    – دماغی صحت کی خدمات: تارکین وطن کے لیے نفسیاتی اور جذباتی مسائل سے نمٹنے کے لیے خصوصی پروگرامز دستیاب ہیں۔

    تعلیمی سہولیات

    کینیڈا میں مستقل رہائش اختیار کرنے والے پاکستانی خاندانوں کے بچوں کو اعلیٰ معیار کی تعلیم تک رسائی حاصل ہوتی ہے:

    – مفت پبلک اسکولنگ: تمام مستقل رہائشیوں کے بچے 5 سے 18 سال کی عمر تک مفت پبلک اسکولنگ کا حق رکھتے ہیں۔
    – سبسڈی والے ڈے کیئر پروگرام: کچھ صوبوں میں کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے بچوں کی دیکھ بھال کی سبسڈی دستیاب ہے۔
    – بالغوں کی تعلیم: نئے تارکین وطن کے لیے بالغ تعلیم کے پروگرامز دستیاب ہیں جو انہیں اضافی مہارتیں سیکھنے یا کینیڈین ڈپلومہ/ڈگری حاصل کرنے میں مدد کرتے ہیں۔
    – کالج اور یونیورسٹی فیس میں رعایت: مستقل رہائشی حیثیت رکھنے والے طلباء بین الاقوامی طلباء کے مقابلے میں کہیں کم فیس ادا کرتے ہیں (عام طور پر ایک تہائی سے نصف تک)۔

    سماجی بہبود کے پروگرام

    کینیڈین حکومت کم آمدنی والے خاندانوں اور افراد کے لیے مختلف سماجی بہبود کے پروگرامز چلاتی ہے:

    – بچوں کا فائدہ (Canada Child Benefit): یہ ماہانہ ٹیکس فری ادائیگی ہے جو کم اور درمیانی آمدنی والے خاندانوں کو بچوں کی پرورش کے اخراجات میں مدد کے لیے دی جاتی ہے۔
    – گڈز اینڈ سروسز ٹیکس (GST/HST) کریڈٹ: کم آمدنی والے افراد اور خاندانوں کو سیلز ٹیکس کی واپسی کی شکل میں مالی امداد۔
    – بے روزگاری کے فوائد: اگر کوئی مستقل رہائشی نوکری کھو دیتا ہے اور اس نے ملازمت کے دوران EI پریمیم ادا کیے ہوں تو وہ عارضی طور پر بے روزگاری کے فوائد حاصل کر سکتا ہے۔
    – معذوری کے فوائد: معذور افراد کے لیے مختلف مالی امداد کے پروگرامز دستیاب ہیں۔

    قانونی حقوق اور تحفظ

    کینیڈا میں مستقل رہائشی حیثیت حاصل کرنے والے پاکستانی باشندوں کو درج ذیل قانونی حقوق حاصل ہوتے ہیں:

    – کینیڈین قانون کا تحفظ: کینیڈا کے تمام قوانین اور تحفظات سے یکساں فائدہ اٹھانے کا حق۔
    – کام کرنے کا حق: کسی بھی صوبے یا علاقے میں کسی بھی پیشے میں کام کرنے کی آزادی (بعض لائسنس یافتہ پیشوں کے لیے اضافی شرائط ہو سکتی ہیں)۔
    – تعلیم حاصل کرنے کا حق: کینیڈا کے کسی بھی تعلیمی ادارے میں تعلیم حاصل کرنے کا حق۔
    – صحت کی دیکھ بھال تک رسائی صوبائی ہیلتھ انشورنس کے تحت صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات تک رسائی۔
    – کینیڈین شہریت کے لیے اہلیت: عام طور پر پانچ سال میں تین سال کینیڈا میں گزارنے کے بعد شہریت کے لیے درخواست دینے کا حق۔

    ثقافتی اور مذہبی حقوق

    کینیڈا ایک کثیرالثقافتی معاشرہ ہے جو تارکین وطن کو اپنی ثقافت اور مذہب کو برقرار رکھنے کی آزادی دیتا ہے:

    – مذہبی آزادی تمام مذاہب کی آزادانہ عبادت کا حق۔ کینیڈا میں مسلمان آبادی کے لیے متعدد مساجد اور اسلامی مراکز موجود ہیں۔
    – ثقافتی تقریبات: پاکستانی ثقافتی تہواروں کو منانے کی آزادی۔ کینیڈا کے بڑے شہروں میں پاکستانی کمیونٹی کے زیر اہتمام بڑے پیمانے پر ثقافتی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔
    – اقلیتی زبانوں کا تحفظ: کچھ صوبوں میں سرکاری خدمات تک غیر سرکاری زبانوں میں رسائی ممکن ہے۔

    شہریت کے حصول کا عمل

    مستقل رہائشی حیثیت حاصل کرنے کے بعد پاکستانی باشندے کچھ شرائط پوری کرنے پر کینیڈین شہریت کے لیے درخواست دے سکتے ہیں:

    1. رہائشی مدت: عام طور پر پانچ سال میں کم از کم تین سال (1،095 دن) کینیڈا میں گزارنا ضروری ہے۔
    2. زبان کی مہارت انگریزی یا فرانسیسی زبان کی بنیادی مہارت کا ثبوت۔
    3. کینیڈا کے بارے میں علم: شہریت کے امتحان میں کینیڈا کی تاریخ، اقدار، اداروں اور حقوق و ذمہ داریوں کے بارے میں بنیادی علم کا مظاہرہ۔
    4. ٹیکس کی واپسی: اگر ضروری ہو تو آمدنی کی ٹیکس واپسی جمع کروانا۔
    5. شہریت کی تقریب: شہریت کی حتمی تقریب میں شرکت اور حلف برداری۔

    پاکستانی کمیونٹی کی حمایت

    کینیڈا کے بڑے شہروں جیسے ٹورنٹو، وینکوور، مانٹریال اور کیلیگری میں پاکستانی کمیونٹی کے مضبوط نیٹ ورکس موجود ہیں جو نئے آنے والوں کو آبادکاری میں مدد فراہم کرتے ہیں:

    – کمیونٹی سنٹرز پاکستانی ثقافتی مراکز نئے تارکین وطن کو مشورے اور رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
    – مذہبی ادارے مساجد اور اسلامی مراکز مذہبی اور سماجی ضروریات پوری کرتے ہیں۔
    – پروفیشنل نیٹ ورکس پاکستانی نڑاد پیشہ ور افراد کے گروپس نوکریوں اور کاروباری مواقع کے حصول میں مدد کرتے ہیں۔
    – ثقافتی ایسوسی ایشنز یہ تنظیمیں پاکستانی ثقافت کو فروغ دیتی ہیں اور نئے آنے والوں کو کمیونٹی سے جوڑتی ہیں۔

    چیلنجز اور حل

    اگرچہ کینیڈا پاکستانی تارکین وطن کو بے پناہ مواقع فراہم کرتا ہے، لیکن کچھ چیلنجز بھی موجود ہیں:

    رہائشی بحران

    کینیڈا کے بڑے شہروں میں رہائش کا بحران ایک بڑا مسئلہ ہے۔ کچھ طلباء کو خیموں میں رہنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے:

    – چھوٹے شہروں یا کم آبادی والے علاقوں میں آباد ہونے پر غور کریں جہاں رہائش سستی ہے۔
    – حکومتی رہائشی اسکیموں کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔
    – ابتدائی دور میں روم شیئرنگ یا بیسمنٹ ایپارٹمنٹس کو ترجیح دیں۔

    روزگار کے مسائل

    بعض اوقات بیرون ملک کے تجربے اور تعلیمی قابلیتوں کو کینیڈا میں تسلیم نہیں کیا جاتا۔ اس کے حل کے لیے:

    – کینیڈین سرٹیفیکیشن یا لائسنس حاصل کریں۔
    – انٹرن شپ یا رضاکارانہ کام کے ذریعے کینیڈین تجربہ حاصل کریں۔
    – مہارت کی شناخت کے پروگرامز سے فائدہ اٹھائیں۔

    موسمی حالات

    پاکستان کے موسم سے مختلف کینیڈا کے سخت موسم کا مقابلہ کرنے کے لیے:

    – موسم سرما کے لیے مناسب لباس اور گاڑی کی تیاری کریں۔
    – موسمی تبدیلیوں کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔
    – گھر میں ہیٹنگ سسٹم کی دیکھ بھال کو یقینی بنائیں۔

    مستقبل کے مواقع

    کینیڈا میں مستقل رہائش اختیار کرنے والے پاکستانی باشندوں کے لیے درج ذیل مواقع دستیاب ہیں:

    1. کاروباری مواقع کینیڈا چھوٹے کاروباروں کو فروغ دیتا ہے اور تارکین وطن کے لیے مختلف لون پروگرامز دستیاب ہیں۔
    2. سیاسی شرکت پاکستانی نڑاد افراد کینیڈا کی سیاست میں فعال کردار ادا کر سکتے ہیں، جیسا کہ رانا اسلم نے کیا جو ایک دن کی چھٹی لے کر انتخابات میں حصہ لے رہے تھے۔
    3. بین الثقافتی تعلقات پاکستانی تارکین وطن دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی اور اقتصادی پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
    4. تعلیمی ترقی کینیڈا کی معیاری تعلیمی سہولیات سے فائدہ اٹھا کر اپنے کیریئر کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں۔

    نتیجہ

    کینیڈا پاکستانی تارکین وطن کے لیے ترقی اور خوشحالی کے بے پناہ مواقع فراہم کرتا ہے۔ حکومت کینیڈا کی طرف سے فراہم کردہ سہولیات نئے آنے والوں کو اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے اور کامیاب مستقبل تعمیر کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ اگرچہ ابتدائی دور میں کچھ چیلنجز درپیش ہو سکتے ہیں، لیکن مستقل رہائشی حیثیت کے فوائد اور مواقع ان مشکلات پر بھاری پڑتے ہیں۔ مناسب منصوبہ بندی، لگن اور حکومتی سہولیات کے موثر استعمال سے پاکستانی تارکین وطن کینیڈا میں ایک کامیاب اور پرامن زندگی گزار سکتے ہیں۔

    کینیڈا کی کثیرالثقافتی پالیسیاں پاکستانی شہریوں کو اپنی ثقافت اور روایات کو برقرار رکھتے ہوئے کینیڈین معاشرے کا حصہ بننے کی اجازت دیتی ہیں، جو کہ ایک منفرد اور قابل رشک موقع ہے۔ حکومت کینیڈا کی طرف سے فراہم کردہ یہ سہولیات نہ صرف تارکین وطن کے لیے بلکہ پورے کینیڈین معاشرے کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں، کیونکہ یہ ملک کی معاشی ترقی اور ثقافتی تنوع کو فروغ دیتی ہیں۔

  • چینی بزرگوں  کے لئے مفت ٹرین سروس۔۔۔ارم زہرا

    چینی بزرگوں کے لئے مفت ٹرین سروس۔۔۔ارم زہرا

    صبح، خنک ہوا کے نرم جھونکوں میں لپٹی ہوئی، کچھ اس انداز سے اتری گویا کسی قدیم چینی مصور کی پینٹنگ سے خامشی سے نکل کر وقت کی دہلیز پر آ ٹھہری ہو ہلکی روشنی، مدھم رنگ اور سکون کا ایک بے نام لمحہ لیے ہوئے۔میں بیجنگ کے ایک نسبتا خاموش اسٹیشن پر کھڑی تھی ، جہاں نہ کوئی ہڑبونگ تھی، نہ ہی کوئی چیختی صدائیں بس ایک ٹھہرا ہوا سا سکوت، جس میں دور سے آتی ہوئی ایک ٹرین کی سرسراہٹ کسی نظم کے مصرعے جیسی محسوس ہو رہی تھی۔یہ “سلور ٹرین” تھی ۔ چاندی کی مانند چمکتی، مہذب قدموں سے پلیٹ فارم پر اترتی ہوئی، جیسے کسی مہارانی نے ریشمی پردوں کے بیچ سے پردہ ہٹا کر سفر کی دعوت دی ہو۔ چین کی جدیدیت اور اس کے تاریخی حسن کا ایسا امتزاج میں نے پہلی بار دیکھا۔ وہ ٹرین صرف ایک ذریعہ سفر نہ تھی، وہ ایک خواب تھی ۔ چین کے نظم و ضبط، محنت اور نفاست کا رواں تبصرہ۔۔۔ سفر کے آغاز سے پہلے ہمیں ایک چھوٹا سا *Travel Guide Card* دیا گیا، جیسے کسی نرمی سے بھری ہوئی ہدایت کی خوشبو۔ یہ کارڈ صرف کاغذ نہیں، بلکہ ایک مہربان ہمسفر تھا، جو باریک بینی سے ہمارے ہر قدم کی رہنمائی کرتا تھا۔اس میں موسم کی تازہ ترین خبر تھی، تاکہ ہم اپنی پوشاک کا انتخاب حکمت سے کر سکیں، اور آرام دہ کپڑوں کی ہدایت تاکہ یہ سفر جسم و جان دونوں کے لیے سکون بخش ہو۔ بزرگوں کی حفاظت کے لیے احتیاطی تدابیر نہایت محبت سے بیان کی گئی تھیں، خاص طور پر ائیر بڈز کے استعمال کی وضاحت، جو شور سے بچا کر خاموشی اور سکون کی گونج سناتی تھی۔کارڈ میں کھانے پینے کی تفصیل بھی شامل تھی، نہایت سنبھال کر تیار کیے گئے ذائقے جو نہ صرف صحت مند تھے بلکہ ہر نوالے میں محبت کا مزہ بھی تھے۔ یہ چھوٹا سا کارڈ ایک مکمل داستان تھا، جو سفر کے ہر لمحے کو خوشگوار اور محفوظ بنانے کا وعدہ کرتا تھا۔اس کارڈ کے ساتھ ہمیں محسوس ہوا کہ ہم نہ صرف ایک ٹرین میں سوار ہیں بلکہ ایک محبت کے سمندر میں غوطہ لگا رہے ہیں، جہاں ہر تفصیل میں خیال اور احترام چھپا ہے۔ جیسے کوئی پرانا دوست ہمیں کہہ رہا ہو، “چلیں، آرام سے، ہم ساتھ ہیں۔” میرے ساتھ بیٹھے ہوئے ایک بوڑھے مسافر، جن کی آنکھوں میں ہزاروں میل کا سفر ٹھہرا ہوا تھا، کہنے لگے “یہ ریل ہماری محنت کی ریل ہے، ہماری امیدوں کی ریل ہے…” اور اس لمحے مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں صرف ایک ملک کی سرزمین نہیں، بلکہ اس کے جذبوں، خوابوں اور تہذیب کے اوپر سے گزرتی جا رہی ہوںیہ ٹرین چین نے بزرگوں کے لیے بنائی ہے وقت کے ان مسافروں کے لیے جو آج شاید آہستہ چلتے ہوں، مگر کل یہ راستے انہی کے قدموں سے آباد ہوئے تھے۔ اور آج، یہ چاندی سی ریل انہیں عزت، سکون اور احترام کے ساتھ لے جا رہی تھی شاید ان کے ماضی کی ان گلیوں کی طرف، جہاں بچپن، جوانی اور قربانیاں چھپی تھیں۔پندرہ مارچ 2025 کو چین نے اس ٹرین کا آغاز ہاربن شہر سے کیا۔ 546 مسافر، اور سب کے سب وہ چہرے جن پر وقت نے رنگ بھرا تھا ۔سفید بال، جھریاں، اور گہری آنکھیں میں ایک نوجوان مسافر کے طور پر اس ریل میں موجود تھی، لیکن اس لمحے مجھے لگا، میں کوئی سیاح نہیں، بلکہ وقت کی ایک شاگرد ہوں۔ٹرین کے اندر ہر چیز بزرگوں کے آرام کو مدنظر رکھ کر بنائی گئی تھی۔ نشستیں نرم، روشنی مدھم، فرش پر پھسلن کا سوال ہی نہیں اور ہر چند قدم پر سہارا دینے والی ریلنگ ، ہر ڈبے میں طبی عملہ، آکسیجن کی سہولت، اور وہ سکون جو عام ریلوں میں کہیں نہیں ملتا۔میرے سامنے والی نشست پر ایک بزرگ بیٹھے تھے، ہاتھ میں پرانی تصویر لئے شاید اپنی جوانی کی وہ آہستہ سے بولے، “ہم نے زندگی بھر دوسروں کو سفر میں سہارا دیا، آج چین نے ہمیں سہارا دیا ہے۔”یہ سلور ٹرین صرف ایک سہولت نہیں، ایک “شکریہ” ہے ۔ان تمام بزرگوں کے لیے جو زندگی کے شور میں اکثر خاموش ہو جاتے ہیں، جن کی کہانیاں سنی نہیں جاتیں، اور جن کے لیے جدید دنیا کی تیزی بعض اوقات تنہائی بن جاتی ہے۔چین نے اِس منصوبے کو “سلور اکانومی” کا نام دیا ہے ۔ وہ معیشت جو بزرگوں کے گرد گھومتی ہے۔ اور اندازہ ہے کہ 2035 تک یہ معیشت 30 ٹریلین یوآن کو چھو لے گی لیکن میرے لیے یہ ٹرین صرف اعداد و شمار کی بات نہیں تھی، یہ جذبے کی ایک پٹڑی تھی۔کھڑکی سے باہر گزرتے سبز میدانوں اور پرانے درختوں کو دیکھتے ہوئے میں نے دل میں سوچاکاش، ہمارے ملک میں بھی کوئی ایسی سلور ٹرین ہو۔ جہاں میرے ملک کے بزرگ بنا دھکے کھائے، احترام سے بیٹھ سکیں۔ جہاں وقت صرف گھڑی میں نہ ہو، دل میں بھی ہو۔سلور ٹرین میں بیٹھے مجھے دوسرا گھنٹہ ہونے کو آیا تھا، مگر وقت جیسے ٹھہر سا گیا تھا۔ یہ وہ ریل نہ تھی جس میں لوگ وقت کے خلاف دوڑتے ہیں، یہ تو جیسے ان کے لیے بنی تھی جو وقت سے رکے ہوئے تعلق رکھتے ہیں یا شاید ان کے لیے جو وقت کو اپنے کندھوں پر اٹھائے چلتے رہے۔چین نے یہ ریل صرف بزرگوں کے آرام دہ سفر کے لیے ہی نہیں، بلکہ ان کے وقار کی بحالی کے لیے بھی متعارف کروائی ہے۔ یہ مفت ہے، جی ہاں فری آف کاسٹ ان شہریوں کے لیے جو 60 برس یا اس سے زائد عمر کے ہیں۔ حکومت نے نہ صرف کرایہ معاف کیا، بلکہ ہر اسٹیشن پر مخصوص عملہ مقرر کیا ہے جو ان کی رہنمائی، صحت، اور آرام کا خیال رکھتا ہے۔ یہ کوئی عام ٹرین نہیں یہ سفر کے ساتھ ساتھ سلوک کا بھی پیغام ہے۔ٹرین کے ایک کونے میں، کھڑکی کے قریب ایک بزرگ بیٹھے تھے۔ عمر شاید ستر کے پیٹے میں، چہرے پر وہ نقوش جنہیں زندگی نے خود اپنے ہاتھوں سے تراشا ہو۔ میں نے سلام کیا تو انہوں نے آنکھوں میں روشنی سی بھر کر جواب دیا۔ چند لمحوں کی خاموشی کے بعد وہ خود ہی گویا ہوئے”بیٹی، میرا نام لی وین ہے۔ ریٹائرڈ استاد ہوں۔ 40 سال بچوں کو تاریخ پڑھائی لیکن آج جو چین خود کر رہا ہے، وہ تاریخ میں بھی کم کم دکھائی دیتا ہے۔”ان کی آواز میں فخر کی نمی تھی۔ کہنے لگے کہ پچھلے کئی برسوں سے میری ٹانگوں میں درد ہے، اور لمبے سفر کا سوچ کر بھی میں ہچکچاتا ہوں۔ لیکن جب سلور ٹرین کے بارے میں سنا، تو یوں لگا جیسے کوئی بھولا ہوا پرانا دروازہ پھر سے کھل گیا ہو۔ “یہ پہلا موقع ہے کہ میں بغیر فکر کے، بغیر کسی تھکن یا ہراساں کیے، گھر سے دور نکل رہا ہوں۔”ان کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا بیگ تھا ۔ بیگ میں صرف ایک جیکٹ، ایک کتاب، اور ایک چھوٹی بوتل میں چائے۔ کہنے لگے:”اب چیزیں زیادہ نہیں رکھتا، بس تجربے کافی ہو چکے ہیں۔”میں نے مسکرا کر پوچھا، “آپ کہاں جا رہے ہیں؟”بولے، “اپنے پرانے شاگردوں سے ملنے۔ جنہوں نے کبھی میرا ہاتھ پکڑ کر لکھنے کی شروعات کی تھی، آج وہ میرے لیے یہ سفر آسان بنا رہے ہیں۔”یہ بات سن کر میری آنکھوں میں نمی سی آ گئی۔ مجھے لگا جیسے یہ ٹرین صرف جسموں کو منزل تک نہیں لے جا رہی، یہ رشتوں کو، یادوں کو، اور عزت کو واپس پہنچا رہی ہے۔چین اس منصوبے کو “سلور اکانومی” کہتا ہے، مگر میرے لیے یہ “سلور عزت” ہے ۔ ایسی عزت جو نہ بولتی ہے، نہ شور مچاتی ہے، صرف عمل سے ظاہر ہوتی ہے۔ٹرین کی کھڑکی سے باہر ایک چھوٹا سا گاوں گزر رہا تھا، جہاں کھیتوں میں کسان جھک کر کام کر رہے تھے۔ شاید ان میں سے بھی کوئی کل سلور ٹرین کا مسافر ہو اور میں نے دل میں ایک خاموش دعا کی کاش ہمارے ہاں بھی کوئی ریل
    چلے عزت والی، خیال والی، سلور جیسی۔سلور ٹرین صرف سفر نہیں، سماج کا وہ آئینہ ہے جس میں بوڑھاپے کی مسکراہٹ قید ہو گئی ہے۔ ہر کوچ میں ہینڈ ریلز، نرم نشستیں، طبی عملہ، حتی کہ کتابیں اور چائے کی خوشبو بھی ملتی ہے ۔ ایک لمحے کو مجھے لگا کہ یہ ریل نہیں، کسی بزرگ کے خواب کی تعبیر ہے، جو برسوں پہلے کہیں اندر دفن ہو گئی تھی اور آج چین نے اسے ہاتھ تھام کر دنیا کے سامنے پیش کیا۔باہر کھڑکی سے پہاڑ نظر آ رہے تھے، اور اندر دل کے اندر ایک پہاڑ سا سکون اتر رہا تھا۔ میں نے آنکھیں موند لیں ٹرین آہستہ آہستہ چل رہی تھی یا شاید وقت خود۔میں سوچنے لگی کہ جب پرانی دنیا کی گلیوں میں بیل گاڑیوں کی چرچراہٹ ہوا کرتی ہوگی ، تب شاید کسی نے خواب میں بھی نہ سوچا ہو کہ ایک دن دھرتی پر ایسی گاڑیاں دوڑیں گی جو ہوا سے تیز اور وقت سے آگے ہوں گی۔ آج کا چین انہی خوابوں کا روپ ہے۔ جہاں ٹرینیں صرف سواری نہیں بلکہ سوچ، سائنس، اور شاعری کی آمیزش ہیں۔چین کا ریل نظام دنیا کا سب سے وسیع، منظم اور جدید نیٹ ورک ہے، جس میں مختلف اقسام کی ٹرینیں الگ الگ کہانیاں سناتی ہیں۔ ہر ٹرین اپنے سفر کے ساتھ ایک نیا باب رقم کرتی ہے۔سب سے پہلے ذکر ہائی اسپیڈ ٹرینوں (High-Speed Trains) کا، جنہیں “فوکسنگ ہاو” (Fuxing Hao) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ زمین پر دوڑتی ہوئی بجلی کی لکیر معلوم ہوتی ہیں، جو 350 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہیں، اور بعض تجرباتی ماڈل 450 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی رفتار چھو چکے ہیں۔ ان ٹرینوں میں نہ صرف تکنیکی کمال ہے، بلکہ اندرونی خاموشی، کشادہ نشستیں، اور جدید سہولیات ہر مسافر کے سفر کو ایک خواب جیسا بناتی ہیں۔پھر آتی ہیں بلٹ ٹرینیں (Bullet Trains)، جو چین کی رفتار اور ترقی کا استعارہ بن چکی ہیں۔ ان کے ایروڈائنامک ڈیزائن اور نظم و ضبط نے دنیا کو حیران کیا ہے۔ گزرنے کے لمحے میں ہی جیسے وقت رک جاتا ہے، صرف ایک دھیمی سی ہوا کی سرسراہٹ باقی رہ جاتی ہے۔ایک اور منفرد پہلو ہے میگ لیو ٹرین (Maglev Train) کایہ وہ ٹرین ہے جو پٹری کو چھوتی بھی نہیں، بلکہ مقناطیسی قوت کے ذریعے فضا میں معلق ہو کر دوڑتی ہے۔ شنگھائی ایئرپورٹ سے شہر کے درمیان چلنے والی یہ ٹرین 431 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے مسافروں کو مستقبل میں لے جاتی ہے۔چین نے گرین ٹرینوں (Green Trains) کو بھی نہ بھلایا، جو ماضی کی یادگار ہیں اور آج بھی دیہی علاقوں اور اندرونی صوبوں کے لیے زندگی کا ذریعہ بنی ہوئی ہیں۔ یہ نسبتا سست مگر قابلِ اعتماد ٹرینیں ہیں جو وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر لوگوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتی ہیں۔اور اب، جب بات ہو سلور ٹرینز (Silver Trains) کی، تو وہ سفر سے زیادہ ایک تجربہ ہے۔ یہ بزرگ شہریوں کے لیے تیار کردہ ریل گاڑیاں ہیں، جہاں وقت آہستہ چلتا ہے، اور سہولت، عزت اور سکون کی ہمسفری ہر قدم پر ساتھ رہتی ہے۔یہ سب اقسام کی صرف ٹرینیں نہیں، بلکہ تہذیب کا وہ آئینہ ہیں جس میں چین کی رفتار، فکر اور فطرت جھلکتی ہے۔ ہر انجن کی سیٹی، ہر اسٹیشن کی رونق، اور ہر کوچ کی روشنی اس بات کا اعلان ہے کہ چین نے نہ صرف فاصلے کم کیے ہیں بلکہ دلوں کو بھی جوڑ دیا ہے۔فولاد کی یہ نظمیں، وقت کی پٹری پر جو لکھی جا رہی ہیں، نہ صرف چین کے ماضی اور حال کا بیانیہ ہیں، بلکہ اس کے روشن مستقبل کی جھلک بھی ہیں۔ریل گاڑی میں اکثر ہم صرف کھڑکی کے باہر دیکھتے ہیں، مگر میں نے آج یہ دروازہ کھولا اندر کے لوگوں اور ان کے حالات جاننے کے لیے۔۔ کوچ کے آخر میں ایک چھوٹا سا کیبن تھا، جہاں دو نرسیں اور ایک دراز عمر ڈاکٹر بیٹھے تھے۔ سفید کوٹ، چہرے پر اطمینان، اور لہجے میں نرمی۔ میں نے اجازت لی اور چند سوالات کے بہانے ان کی خاموش دنیا میں داخل ہو گئی۔ڈاکٹر ژا نے بتایا۔ “یہ صرف ایک ٹرین
    نہیں، ایک خواب ہے ۔ جو چین کی سوشل پالیسی میں برسوں پہلے دیکھا گیا تھا۔ یہاں عمر رسیدہ شہریوں کو سہولت دینا صرف احترام کا اظہار نہیں، ذمہ داری بھی ہے۔”پھر انہوں نے مسکرا کر کہا، “آپ کو شاید یہ جان کر حیرت ہو کہ ہم ہر روز 20 سے زائد بزرگوں کا بلڈ پریشر چیک کرتے ہیں، کچھ کو دوا دیتے ہیں، اور کچھ صرف بات کرنے آتے ہیں جی ہاں، تنہائی بھی ایک بیماری ہے۔”نرس می لی نے بتایا کہ ان کی ٹریننگ میں صرف میڈیکل نہیں، “رویہ” بھی سکھایا جاتا ہے۔ “ہمیں بتایا گیا ہے کہ ہر بزرگ آپ کے اپنے والدین کی جگہ ہے۔”ڈرائیور یانگ، جو پچھلے 10 سال سے چین کی تیز ترین بلٹ ٹرین چلا چکے تھے، انہوں نے بتایا”میں نے خود یہ فیصلہ کیا کہ اب سلور ٹرین چلاوں۔ رفتار کم ہے، مگر دل کا سکون زیادہ ہے اب میں وقت کے ساتھ نہیں، دل کی مرضی سے چلتا ہوں۔”ایک معمولی سی ریل، جسے دنیا شاید “مفت سفری اسکیم” کہے، اس کے اندر جذبے، قربانی اور ذمہ داری کا ایسا گہرا سمندر ہے، جسے صرف وہی دیکھ سکتا ہے جو سفر دل سے کرے۔یہ وہ ٹرین ہے جس کا انجن اسٹیل سے نہیں، خدمت سے بنا ہے۔میں نے آنکھیں بند کیں اور تصور کیا کہ اگر میرے اپنے ملک میں پاکستان میں، ایسی کوئی ٹرین ہو؟ جیسے سلور ٹرین پاکستان ۔سفید رنگ کی ایک خوبصورت ریل، لاہور سے ملتان، کراچی سے پشاور تک، جس میں بزرگ مفت سفر کریں۔ کوچز میں نرم کرسیاں، چائے کی خوشبو، اور دروازے پر مسکرا کر استقبال کرنے والے نوجوان۔ میں نے سوچا ہماری سیاست تو بہت کام کرتی ہے، لیکن کیا ہم کبھی تہذیب پر سیاست سے پہلے بات کریں گے؟ کیا ہمارے ہاں بڑھاپا بوجھ کے بجائے اثاثہ سمجھا جائے گا؟کیا ہم بھی ایک دن ایسی کوئی ریل بنا سکیں گے جو تیز نہ ہو، مگر سچی ہو چین نے ہمیں ایک مثال دی ہے نہ صرف ترقی کی، بلکہ ترجیح کی سلور ٹرین صرف چین کی پٹریوں پر نہیں، دلوں میں بھی چل سکتی ہے اگر ہم چاہیں۔میں نے اسٹیشن کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھا اور دل میں ایک دعا کی اے خدا، ہم بھی وہ قوم بن جائیں جو وقت سے آگے چلے، مگر یادداشتوں سے پیچھے نہ ہٹے۔جہاں ترقی اونچی عمارتیں نہیں، اونچے ظرف کی پہچان ہو۔جہاں ایک آہستہ، مہذب ریل ہی کسی انقلاب کی شروعات بن جائے ۔۔ ہم بھی وہ قوم بن جائیں جو وقت سے آگے ہو، مگر یادداشت سے غافل نہ ہو۔ارم زہرا ۔ چین

  • بھارتی دفاعی معاہدے کرپشن کا شکار؛ ایئر چیف کا انکشاف

    بھارتی دفاعی معاہدے کرپشن کا شکار؛ ایئر چیف کا انکشاف

    نئی دہلی (کنزیومرواچ نیوز) آپریشن سندور نے بھارتی فوج کی نااہلی کو بے نقاب کر دیا، بھارتی ایئر چیف کے تہلکہ خیز بیان نے دفاعی معاہدوں کی کرپشن کا راز فاش کر دیا۔ایئر چیف اے پی سنگھ نے انکشاف کیا کہ ٹائم لائن کا جنازہ نکل چکا ہے، کوئی بھی دفاعی پروجیکٹ کبھی بھی وقت پر مکمل نہیں ہوا۔ ہم جانتے ہیں کچھ سسٹمز کبھی آئیں گے ہی نہیں، پھر بھی معاہدے کرتے ہیں!اے پی سنگھ نے دفاعی خریداری کا حیران کن فارمولا بتاتے ہوئے کہا کہ بعد میں دیکھیں گے کیا کرنا ہے، ہر منصوبہ تاخیر کا شکار ہے اور ایسا کوئی پروجیکٹ نہیں جو آج تک وقت پر مکمل ہوا ہو، دفاعی معاہدے تو ہوتے ہیں، مگر ہتھیار نہیں آتے!انہوں نے کہا کہ آپریشن سندور نے دفاعی قیادت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، آپریشن سندور نے واضح کر دیا ہے کہ جنگ کی نوعیت اور حکمت عملی بدل رہی ہے۔ایئر چیف اے پی سنگھ نے سوال کیا کہ جو وعدے پورے نہیں ہونے، وہ کیوں کرتے ہیں؟