Blog

  • رواں ہفتے کراچی میں شدید زلزلے کا خدشہ

    رواں ہفتے کراچی میں شدید زلزلے کا خدشہ

    اسلام آباد(کنزیومرواچ نیوز)نجی ادارے ’ ارتھ کوئیک نیوز اینڈریسرچ سینٹر‘ نے اسی ہفتے کراچی میں شدید زلزلے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
    گزشتہ روز نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ارتھ کوئیک نیوز اینڈریسرچ سینٹر کے سی ای او محمد شہباز لغاری نے خبردار کیا کہ کراچی میں آنے والے حالیہ زلزلوں کو نظر انداز نہ کیا جائے، جمعرات کی رات سے ہفتے کی رات کے دوران زیادہ شدت کے زلزلے آسکتے ہیں تاہم چھوٹے زلزلے بڑے زلزلوں کے امکان کو کم کرتے ہیں۔محمد شہباز لغاری نے کہا کہ ہم پر خوف و ہراس پھیلانے کا الزام لگایا جاتا ہے تاہم ہم پیشگی اطلاع کے ذریعے حکومت اور عوام کو حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی طرف مائل کرتے ہیں، اپنے ملک میں کام کرنے سے روکا جا رہا ہے اور حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے جب کہ بیرون ممالک سے حوصلہ افزائی اور مل کر کام کرنے کی آفرز آ رہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ارتھ کوئیک نیوز اینڈ ریسرچ سینٹر زلزلے کی پیشگی اطلاع دینے والا دنیا کا پہلا ریسرچ سینٹر ہے جس کے ثبوت کا ریکارڈ ان کے یو ٹیوب چینل ای کیو کیو این پر موجود ہے۔2 روز قبل گفتگو کرتے ہوئے چیف میٹرولوجسٹ امیر حیدر نے بتایا کہ یہ زلزلے کے جھٹکے لانڈھی فالٹ ریجن میں آرہے ہیں، یہ زلزلے کے معمولی جھٹکے ہیں، اس فالٹ لائن پر آج تک بڑے زلزلے کے جھٹکے نہیں آئے ہیں، کراچی کی دوسری فالٹ لائن تھانہ بولا خان کے قریب ہے اور یہ دونوں متحرک فالٹ لائن ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان دنوں میں معمولی شدت کے زلزلے رپورٹ ہوتے ہیں، کیرتھر کے قریب بھی مین باؤنڈری لائن ہے، یہاں معتدل شدت کی زلزلے رپورٹ ہوتے رہتے ہیں، فالٹ لائن کو معمول پر آنے میں چند روز لگ سکتے ہیں، اس فالٹ لائن پر آئندہ چند روز تک زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

  • آپریشن میں بھارتی سرپرستی میں کام کرنیوالے 14 خوارج ہلاک

    آپریشن میں بھارتی سرپرستی میں کام کرنیوالے 14 خوارج ہلاک

    پشاور(کنزیو مر واچ نیوز)پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے ضلع دتہ خیل کے علاقے میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا جو فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے خوارج کی موجودگی کی اطلاع پرکیاگیا۔آئی ایس پی آر نے بتایا کہ فورسز اور خوارج کے درمیان شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 14 خوارج ہلاک ہوگئے۔آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والےخوارج کے ٹھکانےکو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا، علاقے سے مزید بھارتی اسپانسرڈ خوارج کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہےکہ سکیورٹی فورسز ملک سے بھارتی اسپانسرڈ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔

  • ‘ونڈر ویمن ایسوسی ایشن آف پاکستا   ن ـ”  کے زیر اہتمام لکی ون میں شاندار ایونٹ

    ‘ونڈر ویمن ایسوسی ایشن آف پاکستا ن ـ” کے زیر اہتمام لکی ون میں شاندار ایونٹ

    #I am with HER کے سلوگن کو سراہا گیا،بڑی تعداد میں حاضرین کی شرکت نے پروگرام کو مزید دلکش بنادیا، پینل ڈسکشن میں زبردست دلچسپی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    شیخ راشد عالم کی ز یر نگرانی ایسوسی ایشن کی وائس چئیرپرسن راحیلہ بقائی ، صدر شگفتہ راشد،جنرل سکریٹری ضوفشاں عاصم،علینہ مزمل،رمیز رضا ، وقار نعیم ودیگر نے متحرک کردار ادا کیا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سمیعہ عاصم نے خوبصورت کمپئیرنگ کی،نجا راشد،گرزین راشد،رفا ء عاصم،ضحی عاصم نے نوجوانوں کی نمائندگی کی،پینل ڈسکشن میں اہم شخصیات کی شرکت
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسمبلیوں میں موجود خواتین اراکین کی ذمہ داری ہے کہ وہ خواتین کے حقوق کے لیے کام کریں،مہمان خصوصی شہلار ضا کا تقریب سے خطاب
    رپورٹ :نشید آفاقی
    فوٹوگرافی:کامران
    ہیش ٹیگ آئی ایم ود ہر (#I am with HER)کے سلوگن کے تحت ‘ــــــــــ’ونڈر ویمن ایسوسی ایشن آف پاکستانـ” نے لکی ون شاپنگ مال میں ایک خوبصورت محفل سجائی ،بڑی تعداد میں حاضرین کی شرکت نے پروگرام کو مزید دلکش بنادیا،لوگوں نے پینل ڈسکشن میں زبردست دلچسپی لی مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے حاضرین کو اپنے اپنے تجربات کے حوالے سے مفید معلومات دیںجس کو حاضرین نے دلچسپی سے سنا اور ماہرین سے سوالات بھی پوچھے،اس موقع پر گیمز کااہتمام بھی کیا گیا جس میں خواتین ،مردوں اور بچوں نے خوشی خوشی حصہ لیا کامیاب ہونے والوں میں گفٹ ہیمپرز تقسیم کئے گئے سمیعہ عاصم نے خوبصورت انداز میں پروگرام کی کمپئیرنگ کی جس کو بہت پسند کیا گیا، ‘ــــــــــ’ونڈر ویمن ایسوسی ایشن آف پاکستانـ’ـ کے بانی اور روح رواں شیخ راشد عالم کی ز یر نگرانی ایسوسی ایشن کی وائس چئیرپرسن راحیلہ بقائی، صدر شگفتہ راشد،جنرل سکریٹری ضوفشاں عاصم،علینہ مزمل،رمیز رضا ، وقار نعیم ودیگر نے متحرک کردار ادا کیا پروگرام کی مہمان خصوصی سابق ڈپٹی اسپیکر، صوبائی وزیر اور موجودہ رکن قومی اسمبلی سیدہ شہلا رضا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک عمومی خیال ہے کہ جو عورت پریکٹیکل فیلڈ میں آتی ہے وہ مرد کی عزت نہیں کرتی یہ غلط تاثر ہے ایسا بالکل نہیں ہے انھوں نے کہا کہ مردوں کو چاہیے کہ وہ ورکنگ وومنز کی عزت کریں اور ان کو دوسرے آفس کولیگ کی طرح سمجھیں انہوں نے کہا کہ میری شادی کو 34 سال ہو چکے ہیں میں اور میرے شوہر بہترین انڈراسٹینڈنگ کے ساتھ خوبصورت زندگی گزار رہے ہیں اسمبلیوں میں موجود خواتین اراکین کی ذمہ داری ہے کہ وہ خواتین کے حقوق، ان کو مضبوط بنانے اور ویمن امپا ورمنٹ کے لیے کام کریں ایسی خواتین کے پاس کھلا میدان ہوتا ہے سیاست کے شعبے میں رہتے ہوئے ان معاملات پر بہتر انداز میں کام کیا جا سکتا ہے انہوں نے کہا کہ میں ڈپٹی ا سپیکر سندھ اسمبلی رہی یہ عہدہ ایک خاتون کے لیے انتہائی چیلنجنگ ہے ایوان جس میں تجربے کار اراکین اسمبلی موجود ہوتے ہیں ان کو کنٹرول کرنا کوئی آسان کام نہیں ڈپٹی اسپیکر کی حیثیت سے مجھے متعدد بار ایوان چلانے کا موقع ملا میں نے اس عہدے کے تقاضوں کے مطابق بہترین انداز میں ایوان کو چلایا میں ایوان کے قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل درآمد کراتی تھی جس پر بعض اوقات اراکین اسمبلی ناراض بھی ہو جاتے تھے میری شہرت پڑوسی ملک تک پہنچی اور ان کی ایک نیوز ویب سائٹ پر ایوان کو بہتر انداز میں چلانے کے حوالے سے میرے اقدامات کو سراہا گیا جو میرے لیے فخر کی بات ہے،قبل ازیںجنرل سکریٹری ضوفشاں عاصم نے کنزیومر واچ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ
    ہیش ٹیگ آئی ایم ود ہر(#I am with HER) دراصل مردوں کے لیے ہے کہ وہ خواتین کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں ان کی حوصلہ افزائی کریں اور خواتین کو معاشرے کا کارآمد ستون بنانے میں اپنا کردار ادا کریں اس وقت ملک میں خواتین کی اکثریت ہے اور وہ صلاحیتوں میں بھی مردوں سے کسی بھی طرح کم نہیں لہذا ان کو اداروں میں کلیدی عہدوں پر فائز کیا جانا چاہیے اور ان کی تنخواہ اور دیگر مراعات بھی مردوں کے برابر ہونی چاہیے انھوں نے کہا کہ خواتین کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے مردوں کو چاہیے کہ وہ خواتین کی صحت کا خیال رکھیں خواتین کو سیاست کے میدان میں بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے وہ صرف ریزرو سیٹ پر نہ آئیں بلکہ عام نشستوں پر
    انتخابات میں حصہ لیں بھرپور انداز میں اپنی انتخابی مہم چلائیں اور کامیاب ہو کر اسمبلیوں میں جائیں انھوں نے کہا کہ خواتین کو ان کی خواہش کے مطابق تعلیم ملنی چاہیے اس میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے انھوں نے کہا کہ سوک لیڈرشپ میں بھی خواتین کا کردار ہونا چاہیے بورڈ ممبرز ہوں والنٹیئر سروس ہو فنڈ ریزنگ ہو ،چاہے ڈونر کے پاس جانا ہو وہاں خواتین کا کردار قائدانہ ہونا چاہیے انھوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم و تربیت صرف خواتین کی ذمہ داری نہیں دونوں ماں باپ کو مل کر بچوں کی تربیت میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ وہ اچھے شہری بن سکیں،انھوں نے شیخ راشد عالم کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسوسی ایشن کی کامیابی میں ہمارے قائد کا نمایاں کردار ہے۔اور انہی کا وژن آج آپ سب کے سامنے ہے۔پروگرام کے دوران وقفے وقفے سے ہونے والے پینل ڈسکشن میںراحیلہ بقائی،شمین خان،ڈاکٹر سائرہ بانو،یسرا سیف،جواد علی،سمیعہ عاصم،ضوفشاں عاصم۔محبوب رضوی ،احسن رضوی، نجا راشد،گرزین راشد،رفا ء عاصم، ضحی عاصم،شہناز رمزی،سمعیہ لاری،شیریں خان،کاشف رفیع،حنا انیس نے حصہ لیا۔

  • “جانوروں کے حقوق اور تحفظ: کینیڈاکی جامع کوششیں۔۔تحریر ، “ڈاکٹر بشارت  ریحان

    “جانوروں کے حقوق اور تحفظ: کینیڈاکی جامع کوششیں۔۔تحریر ، “ڈاکٹر بشارت ریحان

    تعارف اور تاریخی پس منظر

    کینیڈا نے جانوروں کے حقوق اور تحفظ کے لیے ایک مربوط نظام وضع کیا ہے جو وفاقی، صوبائی اور علاقائی سطح پر کام کرتا ہے۔ کینیڈامیں جانوروں کے تحفظ کی تاریخ 1887 میں شروع ہوتی ہے جب ساسکیچوان میں لاسٹ ماؤنٹین لیک کو جنگلی پرندوں کے تحفظ کے لیے مخصوص کیا گیا، جو شمالی امریکہ کا پہلا وفاقی پرندہ محفوظ علاقہ بنا۔ 1916 میں برطانیہ اور امریکہ کے درمیان مائیگریٹری برڈز کنونشن پر دستخط ہوئے، جس کے بعد کینیڈا نے 1917 میں مائیگریٹری برڈز کنونشن ایکٹ پاس کیا۔

    1947 میں ڈومینین وائلڈ لائف سروس کا قیام عمل میں آیا جو بعد میں کینیڈین وائلڈ لائف سروس کے نام سے جانا جانے لگا۔ 1973 میں کینیڈا وائلڈ لائف ایکٹ پاس ہوا جس نے نیشنل وائلڈ لائف ایریاز کے قیام، انتظام اور تحفظ کو ممکن بنایا۔ آج کینیڈا میں 55 سے زائد نیشنل وائلڈ لائف ایریاز موجود ہیں جو جانوروں اور پودوں کے لیے قومی اہمیت کے حامل مساکن کا تحفظ کرتے ہیں۔
    قانونی فریم ورک اور تحفظ کے اقدامات

    وفاقی قوانین

    کینیڈا میں جانوروں کے تحفظ کا بنیادی قانونی فریم ورک کریمنل کوڈ آف کینڈا کے سیکشن 445 سے 447 پر مشتمل ہے، جو جانوروں کے ساتھ ظلم کو ایک مجرمانہ جرم قرار دیتا ہے۔ سیکشن 445.1 کسی بھی شخص کو جان بوجھ کر جانور یا پرندے کو غیر ضروری درد، تکلیف یا چوٹ پہنچانے سے منع کرتا ہے۔ سیکشن 446 نقل و حمل کے دوران جانوروں کے ساتھ جان بوجھ کر لاپرواہی برتنے یا گھریلو یا قید میں رکھے گئے جنگلی جانوروں کی مناسب دیکھ بھال نہ کرنے کو ممنوع قرار دیتا ہے۔

    2016 میں ماڈرنائزنگ اینیمل پروٹیکشن ایکٹ (بل C-246) پیش کیا گیا تھا جو جانوروں کو حساس وجود کے طور پر تسلیم کرنے، مجرمانہ غفلت کے مقدمات چلانے کو آسان بنانے اور شارک فنز، بلی اور کتے کی کھال کی درآمد پر پابندی لگانے کا مطالبہ کرتا تھا، لیکن یہ بل 5 اکتوبر 2016 کو ہاؤس آف کامنز میں مسترد کر دیا گیا۔

    صوبائی اور علاقائی قوانین

    کینیڈا کے تمام صوبوں اور علاقوں کے پاس جانوروں کی بہبود کے تحفظ کے لیے اپنے قوانین ہیں۔ مثال کے طور پر:

    – کیوبیک: 2015 میں کیوبیک کی نیشنل اسمبلی نے قانون سازی کی جس میں کہا گیا کہ “جانور چیزیں نہیں ہیں بلکہ حیاتیاتی ضروریات والے حساس وجود ہیں”۔ بل 54، این ایکٹ ٹو امپروو دی لیگل سچویشن فار اینیملز نے کیوبیک کے جانوروں کی فلاح و بہبود کے سابقہ دفعات کو تبدیل کر دیا اور جانوروں کے ساتھ ظلم، غفلت اور تشدد کے لیے جرمانے کو بڑھا کر $250,000 تک کر دیا۔

    – انٹاریو: 2019 میں انٹاریو حکومت نے پراونشل اینیمل ویلفیئر سروسز (PAWS) ایکٹ پاس کیا جس میں معمولی پہلے جرم کے لیے $75,000 اور بڑے کارپوریٹ جرم کے لیے $1 ملین تک کے جرمانے مقرر کیے گئے۔

    – برٹش کولمبیا: برٹش کولمبیا میں صوبائی سطح پر جانوروں کے ساتھ ظلم کے جرم کے لیے $75,000 تک کا جرمانہ اور دو سال تک کی قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

    صنفی تحفظ کے پروگرام

    کینیڈانے متعدد بین الاقوامی معاہدوں پر دستخط کیے ہیں جن میں شامل ہیں:

    – پولر بیئرز کے تحفظ کا معاہدہ (1973): کینیڈا، ڈنمارک (گرین لینڈ)، ناروے، سوویت یونین اور امریکہ نے پولر ریچھوں کے تحفظ کے لیے ایک کثیر جہتی معاہدے پر دستخط کیے۔

    – سیٹس (1975): جنگلی جانوروں اور پودوں کی خطرے سے دوچار انواع کے بین الاقوامی تجارت کے کنونشن پر کینیڈا نے دستخط کیے، جو کہ وائلڈ اینیمل اینڈ پلانٹ پروٹیکشن اینڈ ریگولیشن آف انٹرنیشنل اینڈ انٹرپروونشل ٹریڈ ایکٹ کے ذریعے کینیڈا میں نافذ کیا جاتا ہے۔

    – رامسر کنونشن (1981): بین الاقوامی اہمیت کے حامل ویٹ لینڈز کے تحفظ کا کنونشن جس کا مقصد تمام ویٹ لینڈز کا تحفظ اور عقلمندانہ استعمال ہے۔

    جانوروں کے حقوق کی اسلامی تعلیمات

    اگرچہ کینیڈا ایک سیکولر ملک ہے، لیکن اسلامی تعلیمات جانوروں کے حقوق کے بارے میں واضح ہدایات فراہم کرتی ہیں جو کہ کینیڈین قوانین کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ اسلام نے جانوروں کو عذاب دینا حرام قرار دیا ہے اور ان کے ساتھ شفقت اور رحم کا معاملہ کرنے کی تعلیم دی ہے۔

    نبی کریم نے ارشاد فرمایا: “ہر زندہ اور تر جگر رکھنے والے جانور (کی تکلیف دور کرنے) میں ثواب ہے”۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا جس کو اس نے باندھ کر رکھا تھا، یہاں تک کہ بھوکی پیاسی مر گئی۔

    اسلام نے جانوروں کو نشانہ بنانے، ان کو آپس میں لڑانے اور بلاوجہ تکلیف دینے سے منع فرمایا ہے۔ یہ تعلیمات کینیڈا کے جانوروں کے تحفظ کے قوانین کے ساتھ مماثلت رکھتی ہیں جو جانوروں کو غیر ضروری تکلیف دینے سے منع کرتے ہیں۔

    چیلنجز اور تنقیدی جائزہ

    اگرچہ کینیڈا نے جانوروں کے تحفظ کے لیے قابل تعریف اقدامات کیے ہیں، لیکن کئی چیلنجز باقی ہیں:

    1. قانونی خلا: کریمنل کوڈ میں جانوروں کو اب بھی جائیداد کے طور پر درجہ بندی کیا گیا ہے، نہ کہ حساس وجود کے طور پر۔

    2. صوبائی اختلافات: صوبائی قوانین میں نمایاں اختلافات موجود ہیں، جس سے ملک بھر میں یکساں تحفظ یقینی بنانا مشکل ہو جاتا ہے۔

    3. عام طریقہ کار کی مستثنیات: زیادہ تر صوبائی جانوروں کے ساتھ ظلم کے قوانین شکار، پھندے لگانے اور کھیتی باڑی کے طریقوں کو عام طور پر قبول شدہ طریقوں کے طور پر مستثنیٰ قرار دیتے ہیں۔

    4. نفاذ کی کمزوری: جانوروں کے تحفظ کے قوانین کا نفاذ مختلف صوبوں میں مختلف ہوتا ہے اور کہیں کہیں ناکافی ہے۔

    5. جانوروں کے احساسات کی محدود تسلیم: اگرچہ کریمنل کوڈ تسلیم کرتا ہے کہ جانور تکلیف محسوس کر سکتے ہیں، لیکن اس میں جانوروں کے شعور اور مثبت جذبات کا تجربہ کرنے کی صلاحیت کو تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔

    سفارشات اور مستقبل کے اقدامات

    کینیڈا میں جانوروں کے حقوق اور تحفظ کو مزید بہتر بنانے کے لیے درج ذیل سفارشات کی جا سکتی ہیں:

    1. وفاقی سطح پر حساسیت کی تسلیم: وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ کیوبیک کے راستے پر چلتے ہوئے قومی سطح پر قانون سازی کرے جو جانوروں کو حساس وجود کے طور پر تسلیم کرے۔

    2. قوانین کی ہم آہنگی: صوبائی اور وفاقی قوانین میں ہم آہنگی پیدا کی جائے تاکہ ملک بھر میں جانوروں کو یکساں تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

    3. نفاذ کے نظام کو مضبوط بنانا: جانوروں کے تحفظ کے قوانین کے نفاذ کے لیے مزید وسائل اور تربیت یافتہ اہلکار فراہم کیے جائیں۔

    4. عوامی آگاہی: جانوروں کے حقوق اور تحفظ کے بارے میں عوامی آگاہی بڑھانے کے لیے مہمات چلائی جائیں۔

    5. تحقیق اور مانیٹرنگ جانوروں کی بہبود کے معیارات کو بہتر بنانے اور ان کے نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے مزید تحقیق اور مانیٹرنگ کے نظام قائم کیے جائیں۔

    کینیڈانے جانوروں کے حقوق اور تحفظ کے لیے ایک جامع نظام وضع کیا ہے جو وفاقی، صوبائی اور علاقائی سطح پر کام کرتا ہے۔ تاریخی طور پر کینیڈا نے جنگلی حیات کے تحفظ میں عالمی رہنمائی کی ہے، جیسا کہ 1973 میں کینیڈا وائلڈ لائف ایکٹ اور پولر بیئرز کے تحفظ کے معاہدے سے ظاہر ہوتا ہے۔ تاہم، اب بھی کئی چیلنجز موجود ہیں جن پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔
    کیوبیک کی 2015 کی قانون سازی جس میں جانوروں کو “حساس وجود” کے طور پر تسلیم کیا گیا ، ایک مثبت قدم ہے جسے دیگر صوبوں اور وفاقی سطح پر اپنایا جانا چاہیے۔ اسلامی تعلیمات جو جانوروں کے ساتھ رحم اور شفقت کے سلوک پر زور دیتی ہیں ، کینیڈین قوانین کے ساتھ ہم آہنگ ہیں اور انہیں جانوروں کے حقوق کے تحفظ کی عالمی کوششوں میں اہم شراکت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔مستقبل میں، کینیڈا کو چاہیے کہ وہ جانوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنے قوانین کو مزید بہتر بنائے، ان کے نفاذ کو مضبوط بنائے اور عوامی آگاہی بڑھانے کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھے تاکہ تمام جانوروں کو مناسب تحفظ اور احترام مل سکے۔

  • ایک شام ڈاکٹر زبیر فاروق العرشی کے نام۔۔۔۔حمیرا گل تشنہ

    ایک شام ڈاکٹر زبیر فاروق العرشی کے نام۔۔۔۔حمیرا گل تشنہ

    ڈاکٹر زبیر فاروق العرشی کے اعزاز میں کاروان ِ شعروسخن ٹورنٹو،کینیڈا کے زیراہتمام منائی گئی شام کی صدارت اردو ادب کی معتبر شخصیت ڈاکٹرسید تقی عابدی نے کی
    ڈاکٹر زبیر فاروق دبئی سے تعلق رکھتے ہیں وہ عربی گھرانے میں پیدا ہونے والے بلند پایہ ادیب، شاعر، گلوکار اور موسیقار ہیں
    زندگی کے گہرے تجربات، انسانی جذبات، دکھ، درد ، محبت اور دیگر مسائل کی عکاسی ڈاکٹر زبیر فاروق کی شاعری میں ہوتی ہے
    معروف شعرا ء کرام نے اپنا خوبصورت کلام پیش کیا اور خوب دادوصول کی،اس خوبصورت محفل کو مدتوں فراموش نہیں کیا جا سکے گا
    بشارت ریحان کینیڈا میں اردو ادب کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں یہ مشاعرے ان کی اردو ادب سے محبت کا منہ بولتا ثبوت ہیں
    کاروان ِ شعروسخن ٹورنٹو،کینیڈا کے زیراہتمام ڈاکٹر زبیر فاروق العرشی کے ساتھ ایک شام منائی گئی جس کی صدارت اردو ادب کی معتبر شخصیت ڈاکٹرسید تقی عابدی نے کی۔ اس شام ہمیں امریکہ سے خصوصی طور پر بحیثیت اعزازی مہمان شرکت کی دعوت دی گئی۔تقریب میں معروف شعراکرام نے اپنا کلام پڑھا اور حاضرین محفل سے دادوصول کی۔
    اردو ادب کی دنیا کی بہت معتبر شخصیت ڈاکٹر زبیر فاروق کی کینیڈا مشاعرے کے سلسلے میں آمد ہوئی ۔ اس مشاعرے کے دوسرے ہی دن ہمیں انتظامیہ کی طرف سے فون آیا جس میں ہمیں ڈاکٹر زبیر فاروق صاحب کے جشن میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ ڈاکٹر زبیر فاروق دبئی سے تعلق رکھنے والے عربی گھرانے میں پیدا ہونے والے ایک بلند پایہ ادیب، شاعر، سنگر اور موسیقار ہیں جنھوں نے اردو زبان و ادب میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اب جبکہ کینیڈا میں ان کے اعزاز میں ایک شاندار جشن منعقد کیا گیا، تو یہ موقع ڈاکٹر زبیر فاروق کی علمی اورادبی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے بہترین ہے۔
    ڈاکٹر زبیر فاروق کا ادبی سفر کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ انہوں نے نہ صرف شاعری میں اپنا لوہا منوایا، بلکہ موسیقی کے میدان میں بھی اہم کارنامے انجام دیے۔ ایک عربی گھرانے میں پیدائش ہوئی، دبئی میں مقیم ہونے کے باوجود، ان کی اردو سے محبت ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ انھوں نے اردو ادب کی ترویج و ترقی کے لیے بین الاقوامی سطح پر کام کیا۔ ان کی شاعری نہ صرف پاکستان اور ہندوستان میں، بلکہ خلیجی ممالک اور دیگر عالمی برادری میں بھی سراہی جاتی ہے
    ڈاکٹر زبیر فاروق کی شاعری میں کلاسیکل رچاؤ اور جدید احساس کی آمیزش نظر آتی ہے۔ ان کے کلام میں زندگی کے گہرے تجربات، انسانی جذبات، دکھ، درد اور محبت کے مسائل کی عکاسی ہوتی ہے۔ اسکے علاوہ انھوں نے مزاحیہ شاعری میں بھی بہت کام کیا۔
    کینیڈا میں ڈاکٹر زبیر فاروق کے اعزاز میں منعقد ہونے والا یہ جشن نہ صرف ان کی ادبی عظمت کو سلام پیش کرے گا، بلکہ یہ اردو زبان کے بین الاقوامی فروغ کا بھی ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ کینیڈا میں اردو بولنے والی کثیر آبادی موجود ہے۔ کاروان شعر و سْخن ٹورنٹو کینیڈا کے
    زیر اہتمام ہونے والی ادبی تقریب لوگوں کو انہیں اپنی زبان و ثقافت سے جوڑے رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
    جشن میں ڈاکٹر تقی عابدی نے زبیر فاروق کی تخلیقات پر علمی و ادبی گفتگو کی، اور عرب گھرانے سے تعلق رکھنے اور اردو مادری زبان نا ہونے کے باوجود ڈاکٹر زبیر فارق صاحب کی کاوشوں کو سراہا۔
    ڈاکٹر زبیر فاروق صاحب نے خود اپنی منتخب غزلیں پیش کریں، سقر مشاعرے کو یادگار بنا دیا۔
    ڈاکٹر زبیر فاروق صرف دبئی یا کینیڈا تک محدود نہیں، بلکہ ان کا ادبی کام پوری دنیا میں پزیرائی حاصل کر چکا ہے۔ انہیں متعدد بین الاقوامی ادبی انعامات سے نوازا جا چکا ہے۔ کینیڈا میں ان کا یہ جشن اردو زبان کی عالمی سطح پر پذیرائی کی ایک اور کڑی ہے۔

    جشن میں ڈاکٹر زبیر فاروق صاحب کی شخصیت کے کئی پہلو سامنے آئے۔ اپنے کلام کو دھن دینا اور اس کی میوزک کمپوزنگ کرنا، یہ سارے پہلو دیکھ کر ان کی سادہ مزاجی اور اردو شاعری سے ان کی والہانہ محبت کو ثبوت ہے۔
    مزید یہاں کاروانِ شعر و سْخن کی ادبی خدمات کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ جس قدر بشارت ریحان صاحب کینیڈا میں اردو ادب کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں یہ مشاعرے ان کی اردو ادب سے محبت و خلوص کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
    ڈاکٹر زبیر فاروق کی شخصیت اور ادبی خدمات ہمارے لیے باعثِ فخر ہیں۔ کینیڈا میں ان کے اعزاز میں منعقد ہونے والا یہ جشن نہ صرف ان کے چاہنے والوں کے لیے ایک خوشی کا موقع ہے، بلکہ یہ اردو ادب کی عالمی سطح پر ترقی کی ایک اور روشن مثال بھی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ یہ تقریب اردو زبان کے فروغ میں ایک نئی روح پھونکے گی اور آنے والی نسلوں کو اپنی ثقافتی ورثے سے جوڑے رکھنے کی تحریک دے گی۔

  • چین کے شہر ،لِنشیا کی مویشی منڈی میں۔۔ارم زہرا

    چین کے شہر ،لِنشیا کی مویشی منڈی میں۔۔ارم زہرا

    ہوا میں خنکی تھی، اور لِنشیا کی صبح کچھ ایسی پرسکون تھی جیسے وضو کے بعد کی خاموشی۔ میں، ایک پاکستانی لڑکی، جب اس چینی شہر کے دروازے میں داخل ہوئی تو دل میں ایک ہی سوال تھا یہاں کی مویشی منڈی کیسی ہوگی ؟
    چین کی زمین پر قدم رکھے کئی سال ہو چکے تھے، لیکن لِنشیا کی کشش کچھ اور ہی ہے۔ سنا ہے اس شہر کو “چین کا چھوٹا مکہ” کہا جاتا ہے اور واقعی، یہاں ہر گلی میں ایک خاموش سی دینداری چلتی پھرتی دکھائی دیتی ہے۔ مسجدوں کے اونچے گنبد، سفید ٹوپی پہنے بوڑھے اور بچیاں جن کے اسکارف ہوا کے ساتھ ہلکے سے لرزتے ہیں۔ مجھے لگا جیسے یہ شہر خود دعا میں مصروف ہے۔
    صبح دس بجے، ہم نے ٹیکسی لی اور مویشی منڈی کی طرف روانہ ہوئے یعنی میں اور میرے ہمسفر ، راستے میں سبزہ، پہاڑ، اور پھلوں کے اسٹالز ایسے لگے تھے جیسے کسی پرانے لوک داستان کی جھلک ہو۔ ٹیکسی ڈرائیور Hui مسلمان تھا، اس نے عربی میں “السلام علیکم” کہا تو میری آنکھوں میں نمی اتر آئی۔ اس سلام میں اپنائیت تھی، جیسے کراچی کی کسی سڑک پر اجنبی اردو بول اٹھے۔
    منڈی کے دروازے پر پہنچ کر ہم کچھ لمحے رک گئے۔ دروازے کے پاس CCTV کیمرے، صاف صفائی، اور نظم و ضبط کا وہ عالم تھا جو ہمارے ہاں عید سے تین دن پہلے ناپید ہو چکا ہوتا ہے۔ لیکن یہاں… ایک عجب ترتیب تھی۔ کوئی شور نہیں، کوئی آواز نہیں۔ بس جانور تھے اور ان کی آنکھوں میں قربانی کی خاموشی۔
    بکرے قطار میں بندھے ہوئے تھے۔ کچھ Hui بچے اپنے والدین کے ساتھ جانور دیکھنے آئے تھے۔ میں نے ایک چھوٹے بچے کو دیکھا جو بکرے کے کان کو سہلا رہا تھا۔ اس کی ماں نے آہستہ سے کہا
    “بس دیکھو، چھونا نہیں۔”
    میں نے سوچا، یہ ہدایت صرف بکرے کے لیے نہیں، شاید مذہب کے اظہار کے لیے بھی ہے۔
    مجھے ایک بکرا بہت پسند آیا۔ سفید رنگ کا، ہلکی بھوری دھاری کے ساتھ۔میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکا تو لگا وہ مجھ سے کہہ رہا ہو
    “تم پاکستان سے آئی ہو؟ وہاں بھی مجھے قربان کیا جاتا ہے نا؟”
    دل کچھ لرز سا گیا۔ میں نے مسکرا کر سر ہلا دیا۔
    منڈی کے ایک کونے میں چینی رسم الخط میں کچھ بورڈز تھے
    زندہ بکریاں برائے فروخت
    اردو کا ترجمہ ذہن میں آیا تو عجیب سا لگا، جیسے میرے گاؤں کی منڈی کسی اور زبان میں چل رہی ہو۔
    میں نے وہاں کچھ Hui دکانداروں سے بات کرنے کی کوشش کی۔ وہ شرمیلے تھے، لیکن احترام سے پیش آئے۔ میرے ہاتھ میں ڈائری دیکھ کر ایک بزرگ نے پوچھا “کیا آپ لکھاری ہیں؟” میں نے کہا “جی، تھوڑا بہت لکھتی ہوں۔ انہوں نے کہا “تو ہماری عید بھی لکھ دیجیے، جو آوازوں سے خالی ہے لیکن قربانی سے بھری ہوئی ہے۔”
    یہ سن کر میں خاموش ہو گئی۔ دل میں ایک نوک سی چبھی۔ واقعی، یہاں کی مویشی منڈی صرف گوشت کی خرید و فروخت کی جگہ نہیں، یہ ایمان، صبر اور نظم کی ایک جیتی جاگتی تفسیر تھی۔
    یقینا یہ منڈی کراچی جیسی نہ تھی۔نہ وہ شور، نہ ہنگامہ، نہ لاؤڈ اسپیکر پر بکروں کی تعریف۔یہاں سب کچھ خاموش، سلیقے سے اورمختلف انداز سے تھا۔
    بکرے رسیوں سے بندھے، سایہ دار چھتوں کے نیچے اور ہر ایک کی پیشانی پر چھوٹی سی تختی
    حلال، رجسٹرڈ، قیمت ¥xxxx
    ہم نے ایک درمیانے قد کے، چمکدار سفید بکرے کا انتخاب کیا۔
    آنکھوں میں سکون تھا، جیسے وہ خود بھی تیار ہو، اپنی آخری منزل کے لیے۔ بیچنے والا
    Hui
    مسلمان تھا دھیما لہجہ، صاف لباس، اور گہری مسکراہٹ۔
    ہم نے کہا “ہم دوپہر کا کھانا کھا کر واپس آئیں گے، بکرا ہمارے لیے رکھ دیجیے گا؟” وہ مسکرایا، سر ہلایا، اور اگلے ہی لمحے اْس نے جیب سے ایک چھوٹی سی سرخ اسٹیمپ نکالی جس پر چینی زبان میں SOLDلکھا تھا۔
    اْس نے وہ اسٹیمپ بکرے کی تختی پر لگائی
    ایک پرانی سی تختی، جس پر جانور کا وزن، عمر اور قیمت درج تھی،
    اور اب اْس پر سرخ رنگ میں مہربند ہو گیا تھا: “SOLD”۔
    یہاں شور مچانے، رسی باندھنے، یا بکرا کھینچنے کی ضرورت نہ تھی۔
    ایک اسٹیمپ، ایک وعدہ، اور خریدار کا نام یہی اس منڈی کی شناخت تھی۔
    منڈی سے نکلتے ہی سورج بلند ہو چکا تھا،لیکن ہمارے دلوں میں ایک اور روشنی جاگی مسجد جانے کی خواہش۔ہم نے سیدھا لنشیا کی جامع مسجد کا رخ کیا۔
    وہ مسجد جس کے بارے میں سْنا تھا کہ چینی اور اسلامی طرزِ تعمیر کا حسین امتزاج ہے۔گول مینار، سبز و سفید رنگت، اور دروازے پر خوشبو بکھیرتی لکڑی۔
    مسجد کے صحن میں داخل ہوتے ہی ایسا لگا جیسے کراچی کی کسی پرانی جامع مسجد میں قدم رکھ دیا ہو۔
    میں پہلی بار Hui کمیونٹی کی مسجد میں گئی تو حیران رہ گئی۔ نہ کوئی لاوڈ اسپیکر، نہ جمعہ کا ہجوم، نہ اذان کی آواز۔ لیکن دروازے کے باہر جوتوں کی ترتیب نے بتایا کہ عبادت اندر جاری ہے۔ میں مسجد کے باہر رکی رہی، جیسے کسی پرانے خواب کے دروازے پر دستک دے رہی ہوں۔
    کچھ دیر بعد، سفید ٹوپی پہنے بزرگ حضرات باہر نکلے۔ ان کے چہروں پر چین کی شہری زندگی کا تھکن زدہ رنگ بھی تھا، اور اللہ کی رضا کا نور بھی۔ ان کے ہلکے ہلکے سلام، دھیمے لہجے، اور محتاط قدم مجھے بتا رہے تھے کہ یہاں دین جتنا مضبوط ہے، اتنا ہی خاموش بھی۔
    میں نے ایک بزرگ سے پوچھا “آپ لوگ عید الاضحیٰ کیسے مناتے ہیں؟”
    وہ مسکرائے اور بولے “ہماری عید بہت چھوٹی ہے بیٹی، بس چند گھنٹے، خاموشی سے قربانی، پھر گوشت کا تین حصوں میں بٹوارہ، اور پھر روزمرّہ کی زندگی۔” میں نے دل ہی دل میں سوچا۔ کیا یہ چھوٹی عید، درحقیقت سب سے بڑی عبادت نہیں؟
    حکومتی قوانین کی وجہ سے وہ زیادہ مذہبی اجتماعات منعقد نہیں کرتے، لیکن ان کے گھروں میں، ان کے دلوں میں، قربانی کا جذبہ زندہ ہے۔ بکرے، بھیڑیں، حتیٰ کہ کبھی کبھار گائیں — سب کو چپکے سے خریدا جاتا ہے، ذبح کیا جاتا ہے، اور گوشت قریبی غریبوں تک پہنچا دیا جاتا ہے۔
    یہاں Hui مسلمان اپنے دین کو لباس، خوراک، اور زبان سے نہیں، رویے سے ظاہر کرتے ہیں۔ ان کے کھانے حلال ہیں، ان کے دل صاف، اور ان کے انداز مہذب۔ میں نے ان کے چہروں پر وہ “خاموش عبادت” دیکھی جو نہ مسجد میں ملتی ہے، نہ کتاب میں، بلکہ صرف دل میں بستی ہے۔
    فضا میں سکون تھا، ٹھنڈک تھی، اور دل میں ایک عجیب سی راحت ہم نے وضو کیا، نماز پڑھی، اور دل میں شکر ادا کیا کہ برسوں کا ارمان، آج ایک دن میں پورا ہو رہا ہے نہ صرف لنشیا دیکھا،
    بلکہ اْس مویشی منڈی میں پہنچے جہاں ایمان اور قربانی ہاتھ میں ہاتھ ڈالے چلتے ہیں
    لِنشیا کی منڈی سے واپسی کے بعد ایک سوال دل میں گونجتا رہا “اگر کبھی وقت نہ ملے، تو کیا چین میں بکرا آن لائن بھی خریدا جا سکتا ہے؟”
    کراچی کی گلیوں میں بکروں کے درمیان چلنا، ان کے سینگ چھونا، آوازیں سننا یہ سب ایک تہذیب ہے لیکن یہاں، چین میں، جہاں ہر چیز QR کوڈ سے جڑی ہو، وہاں قربانی بھی شاید ‘‘ایپ’’ میں بدل چکی ہے۔
    میں نے لیپ ٹاپ کھولا، JD.com کی ویب سائٹ پر زندہ بکری لکھا، اور انٹر کا بٹن دبا دیا۔
    چند لمحوں میں اسکرین پر درجنوں آپشنز نمودار ہو گئے۔ وزنی بکرے، مختلف نسلیں، قیمتیں، اور ہر جانور کی تفصیل۔ حیرت ہوئی، جیسے مویشی منڈی میری انگلیوں کے نیچے آ گئی ہو۔
    مجھے وہ وقت یاد آیا جب ہم کراچی میں بکرا خریدنے نکلتے تھے۔ والد صاحب ہر جانور کی ٹانگیں، دانت اور عمر کا حساب لگاتے، اور ہم بچوں کا کام صرف محبت سے نام رکھنا ہوتا “چمپو”، “لالا”، “راجو” لیکن JD.com پر کوئی جانور کا نام نہیں تھا، صرف کوڈ تھا۔ ، حلال، ترسیل بشمول ذبح’’
    یہاں قربانی صرف عبادت نہیں، ایک “سروس” بن چکی ہے۔ JD.com پر آپ بکرا خریدتے ہیں، وہ مخصوص دن پر کسی حلال سلاٹر ہاؤس میں ذبح ہوتا ہے اور گوشت پیک ہو کر آپ کے دروازے پر آ جاتا ہے۔ نہ کوئی خون، نہ گلی میں بہتا پانی، نہ تکبیرات کی گونج۔

    بس ‘‘اوڈر کنفرم’’ اور ‘‘ڈیلیوری کمپلیٹ’’۔
    میں نے ایک Hui دوکاندار لڑکی سے اس بارے میں پوچھا۔ اس نے مسکرا کر کہا “یہاں ہم عبادت کو آسان بنانے کے قائل ہیں، لیکن دل میں قربانی کا احساس باقی ہے۔” میں خاموش ہو گئی۔ شاید عبادت کا رنگ بدل گیا ہے، لیکن نیت کا خلوص وہی ہے۔ چینی زبان میں آن لائن قربانی کی ترسیل کو کہتے ہیں
    “آن لائن ذبح خدمات”
    یہ اصطلاح نئی تھی، لیکن روح پرانی وہی ابراہیمی جذبہ، بس انداز کچھ جدید۔ میں نے JD.com پر ایک بکری کو منتخب کیا، صرف تجربے کے لیے لیکن دل میں ایک ہچکچاہٹ تھی کیا عبادت بغیر مٹی کے لمس کے مکمل ہوتی ہے؟
    “دل کہہ رہا تھا تْو قربانی چاہتا ہے، یا قربت؟”اور میں سوچتی رہی…کہ کلک کی قربانی اور ہاتھ کی دعا میں فرق کتنا ہے؟
    چین جیسے جدید ملک میں جہاں ہر چیز موبائل سے کنٹرول ہوتی ہے، قربانی کے جانور بھی آن لائن ان پلیٹ فارمز سے خریدے جا سکتے ہیں اور وہ بھی حلال طریقے سے ذبح کے وعدے کے ساتھ۔
    میرے موبائل کی اسکرین پر وہ تین پلیٹ فارمز جگمگا اٹھے جن پر چینی مسلمان بکرا، دْنبہ یا گائے آن لائن آرڈر کرتے ہیں:
    1. Taobao
    یہاں مخصوص سرچ جیسے Halal Goat For Eid کرنے پر کئی فروخت کنندگان سامنے آتے ہیں۔
    ہر پوسٹ کے نیچے ذبح کی تاریخ، وزن، حلال سرٹیفیکیٹ اور ڈیلیوری تفصیلات لکھی ہوتی ہیں۔
    2. JD.com
    تھوڑی زیادہ منظم اور تیز سروس فراہم کرتا ہے، خاص طور پر شہر کے اندر slaughterhouses Halal -certified سے قربانی کے جانور پیش کیے جاتے ہیں۔
    بعض صورتوں میں، آپ جانور کی ویڈیو بھی دیکھ سکتے ہیں۔
    3. Pinduoduo
    یہاں کچھ سستے آپشنز ہوتے ہیں، اور Hui علاقوں سے مقامی جانور فروخت کیے جاتے ہیں۔
    گروپ خریداری کا نظام بھی ہے، جس سے قیمت میں کمی آتی ہے۔
    چین میں رہتے ہوئے مجھے جو سب سے خوبصورت تضاد دیکھنے کو ملا، وہ Hui مسلمانوں کی زندگی میں چھپا تھا۔ایک طرف گہری مذہبی روایت، اور دوسری طرف مکمل جدیدیت یہ امتزاج مجھے اکثر الجھا دیتا، اور پھر حیران بھی کرتا۔

    لِنشیا کی ایک گلی میں، میں نے ایک نوجوان لڑکے کو دیکھا۔ سفید ٹوپی پہنے، ہاتھ میں اسمارٹ فون، اور ایئرپوڈز کان میں وہ مسجد کے صحن میں داخل ہو رہا تھا۔ میں نے دل میں کہا”یہ روایت کا بیٹا ہے یا ٹیکنالوجی کا پجاری؟
    لیکن جیسے جیسے میں Hui کمیونٹی کو جاننے لگی، میں نے سیکھا کہ وہ دونوں ہیں اور دونوں میں توازن رکھتے ہیں۔
    یہاں Hui لوگ نماز پڑھنے کے بعد WeChat پر حلال گوشت کی ترسیل آرڈر کرتے ہیں، عید کی کھانے کی تصویریں Xiaohongshu پر لگاتے ہیں، اور بچوں کو Zoom پر عربی کلاس دلواتے ہیں۔
    ان کے گھروں میں قرآن بھی ہوتا ہے، اور Alexa بھی۔
    Huiنوجوان لڑکیاں برقعے میں کالج جاتی ہیں، اور واپسی پر تاؤباؤ
    پر جوتے خریدتی ہیں اْن کے دل ایمان سے بھرے ہیں اور دماغ آگے بڑھنے کے خوابوں سے۔
    یہ تضاد نہیں، بلکہ ہم آہنگی ہے جو کسی پاکستانی لڑکی کے لیے، جیسے میں، حیران کن بھی ہے، اور سبق آموز بھی۔ ہم نے اکثر سنا کہ روایت اور جدیدیت ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔
    لیکن Hui لوگوں نے مجھے سکھایا کہ جب دل صاف ہو، تو چہرے پر نور بھی رہتا ہے، اور ہاتھ میں فون بھی۔
    خیر ذکر مویشی منڈی کا ہو رہا تھا۔ کراچی کی مویشی منڈی کا نام آتے ہی دل میں ایک شور اٹھتا ہے۔شور سے بھرپور، زندگی سے لبریز، دھول اور خوشبو کا امتزاج۔ جہاں بچے اپنی پسند کا بکرا ڈھونڈتے ہیں اور والد صاحب قیمت میں کمی کے لیے ایک لمبی بحث چھیڑ دیتے ہیں لیکن چین میں… سب کچھ الگ ہے۔شاید ایک دْھن ہے یہاں، لیکن وہ شور سے خالی ہے۔شاید جذبات ہیں، مگر اظہار مہذب اور خاموش سا۔
    جب میں نے JD.com یا Taobao جیسے چینی آن لائن پلیٹ فارمز پر Halal Goatلکھا، تو سامنے آیا ایک ایسا جہاں جہاں بکرے تصویروں میں تھے، قیمت ساتھ درج تھی، اور نیچے چھوٹے چھوٹے نوٹس ‘‘حلال تصدیق شدہ، مخصوص ذبح خانے سے فراہمی، صرف مجاز علاقوں میں ڈیلیوری’’دل میں ایک الجھن ہوئی کیا یہ وہی قربانی ہے جسے ہم ہاتھوں سے چھوتے تھے؟ جس کی رسی تھام کر ہم تکبیر کہتے تھے؟
    چین میں مسلمانوں کے لیے مذہبی زندگی ایک الگ نظم میں بندھی ہے۔
    قربانی کے لیے جانور خود ذبح کرنا منع ہے۔ صرف لائسنس یافتہ، حکومت سے منظور شدہ مقامات پر قربانی ہو سکتی ہے۔
    گھروں میں، گلیوں میں، یا کھلے میدان میں ذبح کرنا ، ‘‘ قانونی طور پر قابلِ سزا’’ہے۔
    یہ قانون بظاہر صاف ستھرا نظام قائم رکھنے کے لیے ہیلیکن ایک پاکستانی مسلمان کے لیے، جو مذہب کو اظہار کے ساتھ جیتا ہے، یہ ایک ‘‘خاموش سی دوری’’ کا احساس دے جاتا ہے۔

    پاکستان میں ہم جس چیز کو روایتی خوشی کہتے ہیں وہ شور، وہ بکرے کی گھنٹی، وہ چھری دھار کرنا۔ یہاں وہ سب کچھ قانون، ضوابط اور احتیاط کے خول میں بند ہے۔ حلال گوشت کی دستیابی بھی آسان ہے، مگر مشروط۔بڑے شہروں میں مخصوص Hui دکانیں ہوتی ہیں، جہاں “حلال” کا بورڈ صرف سجاوٹ نہیں، بلکہ اجازت کا ثبوت ہوتا ہے۔
    ریسٹورنٹس پر جانے سے پہلے اکثر ایپ پر دیکھنا پڑتا ہے کہ “حلال” نشان موجود ہے یا نہیں۔ یہ آسانی بھی ہے اور مسلسل احتیاط بھی۔
    کراچی میں ہم دین جیتے ہیں کھل کر، گلیوں میں، مسجدوں سے باہر نکل کراور چین میں…مسلمان ‘‘دین محسوس کرتے ہیں۔اندر، دل میں، خاموشی، لیکن پْراثر۔
    تو ہاں، یہاں جانور خریدنے کا تجربہ ایک کلک میں مکمل ہو جاتا ہے،
    لیکن وہ لمس، وہ انتظار، وہ نام رکھنے والا جذبہ وہ کہیں پیچھے رہ جاتا ہے۔
    شاید یہی قربانی ہے صرف جانور کی نہیں، اپنی خواہشوں کی بھی اور میں یہ سب دیکھ کر سوچنے لگی
    ‘‘اگر روایت اور جدیدیت ایک ساتھ چل سکتی ہیں، تو کیا میرے دل میں بھی قربانی کے جذبے اور ڈیجیٹل دنیا کا امتزاج ممکن ہے؟”
    مگریہ جان کر خوشی ہوئی کہ چین میں نہ صرف ڈیجیٹل قربانی کے لیے آن لائن بکرے دستیاب ہیں، بلکہ مویشی منڈیاں بھی باقاعدہ موجود ہیں جو روایت اور جدیدیت کے حسین امتزاج کا ثبوت ہیں۔
    کیا میں بھی لِنشیا کی زمین پر وہی عیدالاضحیٰ منا سکتی ہوں، جو کبھی کراچی کی گلیوں میں منائی تھی؟ کیا وہی قربت، وہی جذبات، یہاں بھی ممکن ہیں؟
    یہ سوالات لے کر میں اپنی قربانی کی تیاریوں میں مصروف ہو گئی ہوں۔ نہ صرف ایک جانور کے انتخاب میں، بلکہ خود کو ایک نئی زمین پر اپنے ایمان کی خوشبو کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کوشش میں بھی۔ اگلی بار لکھوں گی۔ عید الالضحی کے دن کی داستان، جب لِنشیا کی خاموش گلیوں میں ہماری تکبیر گونجے گی اور قربانی صرف ایک رسم نہیں بلکہ دل اور رب کے درمیان بندگی کا تعلق بن جائے گی۔

  • مودی خطے کیلیے بڑا خطرہ  ہے، خواجہ آصف

    مودی خطے کیلیے بڑا خطرہ ہے، خواجہ آصف

    اسلام آباد:(کنزیومرواچ نیوز)وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ مودی خطے کے لیے بڑا خطرہ بن چکا ہے اور وہ اپنے سیاسی مفاد کی خاطر کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو جنوبی ایشیا کے لیے غیر متوقع اور خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سیاسی فائدے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔خواجہ آصف نے واضح کیا کہ نریندر مودی کی موجودگی میں پورا خطہ غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ مودی کا حالیہ طرز عمل صرف بھارت ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے امن کو داؤ پر لگا رہا ہے۔وزیر دفاع نے بھارتی فوجی مشقوں کو محض ایک سیاسی تماشا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کا حقیقی مقصد بھارتی عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانا اور مودی کی گرتی ہوئی مقبولیت کو وقتی سہارا دینا ہے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے پہلگام واقعے کی کسی غیر جانبدار تحقیقات کا عندیہ تک نہیں دیا، بلکہ الزامات کا رخ براہ راست پاکستان کی جانب موڑ دیا گیا۔خواجہ آصف نے مزید کہا کہ حالیہ تناؤ کے بعد پاکستان کا دہشت گردی کے خلاف بیانیہ عالمی سطح پر مزید مستحکم ہوا ہے۔ انہوں نے دفاعی بجٹ کے حوالے سے کہا کہ ملک کی سکیورٹی کو درپیش چیلنجز کے پیش نظر ہماری مسلح افواج کو وسائل کی اشد ضرورت ہے اور اسی لیے دفاعی بجٹ میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔سابق اور موجودہ فوجی قیادت کے حوالے سے سوال پر خواجہ آصف نے کہا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور موجودہ آرمی چیف کے طرز قیادت میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔انہوں نے بھارت کی پانی بند کرنے کی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان کا پانی روکنا بھارت کے لیے اتنا آسان نہیں جتنا وہ سمجھتا ہے۔ یہ معاملہ بین الاقوامی سطح پر قانونی اور سیاسی طور پر بھارت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔خواجہ آصف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کشمیر سے متعلق بات کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ٹرمپ کے صرف ایک بیان نے بھارت کو تلملا کر رکھ دیا تھا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیر ایک ایسا تنازع ہے جو دبایا نہیں جا سکتا۔

  • عمران خان کو پی ٹی آئی میں نیا عہدہ مل گیا

    عمران خان کو پی ٹی آئی میں نیا عہدہ مل گیا

    اسلام آباد:(کنزیومرواچ نیوز)پاکستان تحریک انصاف میں عمران خان کو نیا عہدہ دے دیا گیا۔چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے ملک گیر احتجاج کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کو پیٹرن انچیف بنا دیا گیا ہے اور احتجاج کے دوران عمران خان کی نمائندگی عمر ایوب اور سلمان اکرم راجا کریں گے جب کہ علی امین گنڈا پور خیبر پختونخوا گورننس کے معاملات پر فوکس کریں گے۔بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ احتجاج کے دوران مجھے بطور چیئرمین ڈپلومیٹک رابطوں کہ ذمے داری ملی ہے۔ میں ہی پارٹی کا چیئرمین ہوں اور ہائیکورٹ میں پارٹی کے کیسز لے کر چلوں گا۔

  • ملیر جیل سے فرار قیدی کی ماں نے بیٹے کو خود واپس جیل پہنچا دیا، ویڈیو وائرل

    ملیر جیل سے فرار قیدی کی ماں نے بیٹے کو خود واپس جیل پہنچا دیا، ویڈیو وائرل

    کراچی (کنزیومر واچ نیوز)کراچی کی ملیر جیل سے قیدیوں کے فرار ہونے کے واقعے کے بعد ایک قیدی کو اس کی ماں نے خود ہی جیل پہنچا دیا۔پیر کی رات کراچی کی ملیر جیل میں صورتحال اس وقت خراب ہوئی جب شہر کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، زلزلے کے جھٹکوں کے دوران جیل سے 200 سے زائد قیدی فرار ہوگئے جن میں سے متعدد کو دوبارہ گرفتار کرلیا گیا۔ملیر جیل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پیر کی رات زلزلے کے دوران نقصان سے بچنے کے لیے قیدیوں کو بیرکوں سے باہر بٹھایا گیا تھا، زلزلےکے باعث ہنگامہ آرائی شروع ہوئی، قیدیوں نے پولیس اہلکاروں سے ہاتھا پائی کی اور اسلحہ چھین کر فائرنگ کی جب کہ اس دوران 200 سے زائد قیدی فرار ہوئے۔ڈی آئی جی جیل کراچی محمد حسن سہتو کے مطابق زلزلے کے جھٹکوں کے دوران قیدیوں کی بڑی تعداد بیرکس سے باہر نکلی، قیدیوں نے ماڑی کا گیٹ بھی توڑا اور جیل پولیس اہلکاروں پر تشدد کیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ قیدیوں نے جیل میں پولیس اہلکاروں سے اسلحہ چھینا، پولیس اور قیدیوں کی جانب سے فائرنگ بھی کی گئی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک قیدی جب جیل سے فرار ہو کر گھر پہنچا تو اس کی ماں نے نہ صرف اسے سمجھایا بلکہ اسے فوراً پولیس کے حوالے کردیا۔جیل کے باہر قیدی کی والدہ نے اسے پولیس کے حوالے کیا اور پھر پولیس اہلکاروں سے اپنے بیٹے کی غلطیوں کی معافی مانگتی رہی۔ قیدی کی ماں پولیس اہلکاروں کے سامنے ہاتھ جوڑ کر التجا کرتی رہی کہ میرے بیٹے سے غلطی ہوئی ہے اور میں خود اسے آپ کے پاس لے کر آئی ہوں، مہربانی کرنا اور اسے کچھ مت کہنا۔مذکورہ ماں نے بتایا کہ میں بیوہ ہوں اور یہ میرا سب سے بڑا بیٹا ہے، اس کو موبائل میں دوست کے ساتھ تصویر کی بنا پر سزا سنائی گئی، کافی دور سے خود پیدل چل کے اسے پولیس کے حوالے کرنے آئی ہوں۔

  • بھارت کیساتھ حالیہ تنازع میں اپنے وسائل پر انحصار کیا،: چیئرمین جوائنٹ چیفس

    بھارت کیساتھ حالیہ تنازع میں اپنے وسائل پر انحصار کیا،: چیئرمین جوائنٹ چیفس

    راولپنڈی:(کنزیومر واچ نیوز) پاکستان کی مسلح افواج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے کہا ہےکہ بھارت کے ساتھ حالیہ تنازع میں پاکستان نے اپنے وسائل پر انحصار کیا اور کہیں سے کوئی مدد نہیں حاصل کی گئی ۔برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں جنرل ساحر شمشاد نے کہا کہ بھارت کے ساتھ تنازع میں96 گھنٹوں کے دوران جو کچھ ہوا، وہ مکمل طور پر پاکستان نے خود اپنے طور پر کیا۔چین سے پاکستان کو مدد ملنے کے سوال پر جواب دیتے ہوئے جنرل ساحر شمشاد نے کہا کہ حالیہ کشیدہ صورتحال میں پاکستان نے جو آلات استعمال کیے وہ یقیناً ایسے ہی ہیں جیسے بھارت کے پاس ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کچھ ساز و سامان دوسرے ملکوں سے خریدا ہے مگر اس کے علاوہ حقیقی وقت میں صرف اور صرف پاکستان کی اندرونی صلاحیتوں پر انحصار کیا گیا، ہم نے کہیں سے کوئی مدد حاصل نہیں کی۔خیال رہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام پر ہونے والے حملے کو جواز بنا کر پہلے پاکستان کے خلاف آبی جارحیت کرتے ہوئے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کیا اور پھر 6 اور 7 مئی کی درمیانی شپ پاکستان اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں پر میزائل داغے جس کا پاکستانی فوج نے بھرپور جواب دیا۔بھارت نے 10 مئی کو ایک بار پھر پاکستان کے نور خان ائیر بیس اور رحیم یار خان ائیر پورٹ پر میزائلوں سے حملے کیے جس کا پاکستان نے بھرپور جواب دیتے ہوئے بھارت کے خلاف آپریشن بنیان مرصوص شروع کیا جس میں بھارت کے 3 رافیل طیاروں سمیت 6 لڑاکا طیارے گرائے اور آدم پور اور ادھم پور سمیت کئی ائیر فیلڈز اور ایمونیشن ڈپوز کو تباہ کردیا۔پاکستان کی جانب سے بھرپور جوابی کارروائی کے بعد بھارت کو اپنی شکست نظر آنے لگی تو بھارت نے امریکا اور دیگر اتحادیوں سے جنگ بندی کی درخواست کی جس کے بعد دونوں ممالک کے سیز فائر ہوئی۔