Blog

  • تبدیلی آئے تو پی ٹی آئی کے اندر سے ہی آئے، مولانافضل الرحمن

    تبدیلی آئے تو پی ٹی آئی کے اندر سے ہی آئے، مولانافضل الرحمن

    پشاور(کنزیو مر واچ نیوز)جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ میری تجویز ہو گی صوبے میں تبدیلی آئے اور تبدیلی آئے تو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندر سے ہی آئے۔پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہناتھاکہ ہمارا صوبہ کسی سیاسی کشمکش کا متحمل نہیں ہوسکتا۔انہوں نے کہا کہ صوبے سے متعلق پارٹی مشاورت سے فیصلہ کرے گی، میری تجویز ہو گی صوبے میں تبدیلی آئے اور تبدیلی آئے تو پی ٹی آئی کے اندر سے ہی آئے۔ان کا کہنا تھاکہ سینیٹ سے متعلق کیا ایڈجسمنٹ ہوتی ہے ابھی تبصرہ نہیں کرسکتا ہے۔فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ فاٹا انضمام غلط فیصلہ تھا جس کو سب پارٹیوں کو تسلیم کرنا چاہیے ، کل قبائل کا گرینڈ جرگہ دوبارہ بیٹھے گا، ان سے مشاورت کریں گے، ہم نے پہلے بھی فاٹا کے عمائدین کے مشورے سے فیصلے کرنا چاہے، انضمام مقصد نہیں تھا، بات قبائل کے سیاسی مستقبل کی تھی، انضمام کی تجویز آئی تھی ہم نے کہا نہیں، قبائل کو اختیار دو، فاٹا سے متعلق قبائلی مشران کی مشاورت ناگزیر ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ فاٹا کے لیے بنائی گئی کمیٹی میں کتنے پشتون ہیں اور کتنے صوبے سے ممبر ہیں ؟ کمیٹی نے جے یو آئی سے نام مانگا ہے اور ہمیں فریق تسلیم کیا ہے، ہمارے صوبہ کا پیسا صرف اس لیے ہے کہ مراعات لی جائیں، کے پی اور بلوچستان میں جس بچے پر ظلم ہوتا ہے، میں ان کو اپنا بچہ سمجھتا ہوں، 8 سال ہو گئے ہیں فاٹا میں ایک پٹواری نہیں جاسکتا ہے ، جمعیت علمائے اسلام سے بڑھ کر کس نے ملین مارچ کیے، عوام کا مورال بلند کرنے کےلیے پشاور میں ملین مارچ کیا۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ سیاستدان جیل جاتا ہے لیکن تحریک صرف رہائی کےلیے نہیں ہوتی، تحریکیں عظیم مقاصد کےلیے ہوتی ہیں، پی پی، مسلم لیگ ن اور اے این پی سے اختلاف ہیں پر دشمنی نہیں، پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے درمیان دشمنی تو نہیں ہے، دونوں کے درمیان تلخ زمانہ گزرا ہے۔ پشاور: امن و امان سے متعلق اپوزیشن نے بات چیت کی تو بیٹھ کر بات کریں گے، تمام سیاسی پارٹیوں کو تسلیم کر لینا چاہیےکہ انکی کوئی سیاسی بصیرت نہیں، سندھ میں ڈاکوؤں کا راج ہے،3صوبے بےامنی کی لپیٹ میں ہیں، حکمران اپنی عیاشیوں میں مگن ہیں اور جیبیں بھر رہےہیں، غریب عوام دہشت گردی سے متاثر ہو رہی ہے۔

  • شہید بیٹے کی لاش دیکھ کر والد انتقال کر گئے

    شہید بیٹے کی لاش دیکھ کر والد انتقال کر گئے

    میاں چنوں (کنزیومر واچ نیوز)بلوچستا ن میں بس پر دہشت گردوں کے حملے میں شہید غلام سعید کی لاش دیکھ کر والد بھی شدت غم سے انتقال کرگئے۔رپورٹ کے مطابق پنجاب کے ضلع میاں چنوں میں شہید غلام سعید اور ان کے والد کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔بلوچستان کے ضلع ژوب میں دہشتگردی کے واقع میں شہید ہونے والے غلام سعید کا تعلق میاں چنوں سے تھا۔شہید غلام سعید کا جسد خاکی ان کے آبائی گھر چک نمبر 72 پندرہ ایل پہنچا تو ان کے والد غلام سرور نے اسی وقت دم توڑ دیا۔رپورٹ کے مطابق سپاہی غلام سعید اپنے بیمار والد کی عیادت کے لیے اپنے گھر آ رہے کہ حملہ آوروں نے انہیں شہید قتل کر دیا، ان کے بیمار والد یہ خبر برداشت نہ کر سکے اور اپنے بیٹے کی لاش گھر آنے پر صدمے سے چل بسے۔دونوں کی نماز جنازہ گاؤں 72 پندرہ ایل میں اسکول گراؤنڈ میں ادا کی گئی، نمازِ جنازہ میں سیاسی، سماجی، پولیس اور عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

  • فلسطین و کشمیر پر آزادی کا سورج جلد طلوع ہوگ،مریم نواز

    فلسطین و کشمیر پر آزادی کا سورج جلد طلوع ہوگ،مریم نواز

    لاہور:(کنزیومر واچ نیوز)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ فلسطین و کشمیر پر آزادی کا سورج جلد طلوع ہوگا۔امید کے عالمی دن پر اپنے امید افزا پیغام میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ ہمت وحوصلہ رکھیں توامید کی روشنی یقین کا تمتاتا سورج بن جاتی ہے۔ امید ایک ایسا جذبہ ہے جو ہمیں آگے بڑھنے کی طاقت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مشکلات اور چیلنجز کے باوجود، امید کا دامن کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔ امید ہے کہ ان شا اللہ فلسطین اور کشمیر کے عوام پر جلد آزادی کا سورج طلوع ہوگا۔مریم نواز نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) عوام کی امید بن چکی ہے۔ پاکستانی قوم کی امیدوں پر پورا اترنے کے لےی ہم دن رات کوشش کررہے ہیں۔ امید ہے کہ پنجاب کے عوام کو اب صحت کی سہولتیں ملے گی۔اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ پنجاب کے ہر بچے کو لیپ ٹاپ،ہونہار اسکالر شپ اور بہترین تعلیم ملے گی۔ امید ہے کہ پنجاب میں ہر بے گھر کواپنی چھت کا سکھ ملے گا۔ امید ہے کہ پنجاب کا ہرکسان لہلہاتی فصلیں دیکھ کر خوش اورخوشحال ہوگا۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ امید ہمیں مایوسی کے اندھیرے میں بھی روشنی کی کرن تلاش کرنے کی آس دلاتی ہے۔ عوام کو بھی یہی امید تھی کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) آئے گی تو ہی لیپ ٹاپ، اسکالر شپ،فری دوائیں ملیں گی۔

  • حیدرآباد:بیوی کو قتل کرنے والا سفاک شوہر مارا گیا

    حیدرآباد:بیوی کو قتل کرنے والا سفاک شوہر مارا گیا

    حیدرآباد(کنزیومر واچ نیوز)صوبہ سندھ کے شہر حیدرآباد میں سفاک شوہر نے کدال کا وار کرکے بیوی کو قتل کر دیا۔پولیس کے مطابق افسوسناک واقعہ حیدرآباد کے گاؤں خداڈنو پنھور میں پیش آیا جس کےدوران شوہر نے کدال کے وار کرکے بیوی کو قتل کردیا۔پولیس کا بتانا ہے کہ واقعے کے بعد خاتون کے رشتے داروں نے اس کے شوہر کو بھی قتل کردیا۔پولیس کے مطابق قتل کی اصل وجہ تاحال معلوم نہیں ہوسکی ہے، معاملے کی مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔پولیس نے مرد اور خاتون کی لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے سول اسپتال منتقل کر دی ہیں۔

  • صدر زرداری سے استعفی لیے جانے کی خبروں میں صداقت نہیں، وزیراعظم

    صدر زرداری سے استعفی لیے جانے کی خبروں میں صداقت نہیں، وزیراعظم

    اسلام آباد (کنزیومر واچ نیوز) وزیراعظم شہباز شریف نے صدر آصف علی زرداری سے استعفیٰ لیے جانے یا آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے صدر بننے کی خواہش سے متعلق تمام افواہوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور قیاس آرائی پر مبنی قرار دیا ہے۔دی نیوز سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے واضح الفاظ میں کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کبھی صدر بننے کی خواہش ظاہر کی اور نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے، انہوں نے زور دے کر کہا کہ صدر آصف علی زرداری، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وہ خود، تینوں کے درمیان تعلقات باہمی احترام اور پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے مشترکہ عزم پر مبنی ہیں۔وزیرا عظم شہباز شریف نے یقین دہانی کرائی کہ میڈیا کے بعض حلقوں میں صدر آصف علی زرداری کے استعفے سے متعلق گردش کرنے والی ایسی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ وزیراعظم کی یہ وضاحت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے آفیشل ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر بیان جاری کرتے ہوئے صدر زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف کیخلاف چلائی جانے والی مہم کو ’’منظم سازش‘‘ قرار دے کر اس کی شدید مذمت کی۔عسکری قیادت سے قریب سمجھے جانے والے محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ہمیں بخوبی علم ہے کہ اس منظم مہم کے پیچھے کون ہے، میں واضح کر چکا ہوں کہ صدر سے استعفیٰ لینے یا چیف آف آرمی اسٹاف کے صدر بننے کے بارے میں کوئی بات ہوئی ہے اور نہ ہی ایسی کوئی سوچ موجود ہے۔

  • اداکارہ حمیرا اصغر کے والد پہلی بار منظر عام پر آگئے

    اداکارہ حمیرا اصغر کے والد پہلی بار منظر عام پر آگئے

    کراچی (کنزیومر واچ نیوز)کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 6 کے فلیٹ سے مردہ پائی جانے والی اداکارہ حمیرا اصغر کے والد پہلی بار منظر عام پر آگئے۔گزشتہ روز اداکارہ حمیرا اصغر کو لاہور میں سپردِ خاک کر دیا گیا، اس دوران میڈیا سے گفتگو کے دوران حمیرا اصغر کے والد نے میڈیا سے بھی گفتگو کی۔ حمیرا اصغر کی تدفین کے موقع پر ان کے والد سےایک صحافی نے سوال کیا کہ آپ 9 مہینے سے بیٹی سے رابطے میں نہیں تھے ، اب جو پوسٹ مارٹم رپورٹ آئی ہے اس پر کیا کہیں گے؟صحافی کے سوال پر حمیرا اصغر کے والد کا کہنا تھا کہ’مجھے اس حوالے سے کچھ بھی نہیں پتا، یہ ساری معلومات میرے بیٹے کو ہیں، میرے پاس اسمارٹ فون بھی نہیں، میں ایک سادہ سا فون رکھتا ہوں‘ ۔دوران گفتگو حمیرا اصغر کے والد نے بیٹی کی لاش وصول نہ کرنے کی خبروں کی تردید کی اور کہا کہ ’ہم میں سے کسی نے بھی حمیرا کی لاش وصول کرنے سے انکار نہیں کیا، ابھی تو میڈیکل بھی نہیں ہوا تھا اس کے بعد ہی لاش ورثا کے حوالے کی جاتی ہے‘ ۔بیٹی کےقتل کے حوالے سے کوئی تحقیقات ہونی چاہیے ؟ کے سوال پر حمیرا کے والد نے انگلی آسمان کی طرف اٹھاتے ہوئے کہا کہ جو اللہ بہتر سمجھے گا وہی ہوگا۔دوران گفتگو حمیرا اصغر کے کزن نے میڈیا کو بتایا کہ چند دن قبل میری والدہ کی فوتگی کی وجہ سے مامو ں گاؤں میں تھے اور صدمے میں تھے۔
    حمیرا اصغر کی موت ، معاملہ کیا ہے؟
    خیال رہے کہ حمیرا اصغر کی لاش 8 جولائی کو اتحاد کمرشل کے ایک فلیٹ سے اس وقت ملی جب کرائے کی عدم ادائیگی پر مالک مکان کے عدالت پہنچنے پر عدالتی بیلف ان کے گھر پہنچا اور فلیٹ کا دروازہ نہ کھولنے پر دروازہ توڑا گیا تو اداکارہ کی لاش برآمد ہوئی تھی۔

  • مودی حکومت کے خلاف ملک گیر ہڑتال

    مودی حکومت کے خلاف ملک گیر ہڑتال

    نئی دہلی(کنزیومر واچ نیوز) بھارت میں کروڑوں مزدور، کسان، بینک ملازمین اور ٹرانسپورٹ ورکرز نے مودی حکومت کے خلاف ملک گیر ہڑتال کی۔رپورٹ کے مطابق 30 سے 40 کروڑ افراد نے بھارت بند میں حصہ لیا، جس سے ریلوے اسٹیشن سنسان، بینک بند، اور بازار مکمل ویران ہو گئے۔کیرالا، پنجاب، تمل ناڈو، مغربی بنگال اور مہاراشٹر سمیت کئی ریاستوں میں دفاتر، اسکول، پبلک ٹرانسپورٹ اور انڈسٹری سب کچھ بند رہا۔ سی آئی آئی کے مطابق صرف ایک دن میں معیشت کو تقریباً 15,000 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔یہ احتجاج کسان دشمن پالیسیوں اور مزدور کش قوانین کے خلاف کیا گیا۔ بینکنگ نظام مفلوج ہو چکا ہے اور گاؤں سے لے کر شہروں تک لوگ حکومت سے انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تاہم، بھارتی مین اسٹریم میڈیا کی خاموشی پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں، جب کہ سوشل میڈیا پر #BharatBandh2025 ٹرینڈ کر رہا ہے۔کسانوں نے ایک بار پھر دہلی کی سرحدوں کا رخ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 2020-21 میں جو وعدے کیے گئے تھے، وہ وفا نہیں ہوئے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف احتجاج نہیں، بلکہ عوامی اعتماد کا بحران ہے۔دوسری جانب ملک میں اقلیتوں، خواتین، قبائلیوں اور نچلی ذاتوں کے ساتھ ناروا سلوک اور عدم تحفظ کا ماحول بھی عوامی غصے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ صرف اونچی ذات کے ہندو ہی اس ملک میں محفوظ ہیں۔ماہرین کے مطابق بھارت بند اب صرف ایک دن کی ہڑتال نہیں بلکہ ایک انقلاب کی دستک ہے۔ عوامی صبر ختم ہو چکا ہے، اور مودی حکومت کی پالیسیوں پر واضح عدم اعتماد سامنے آ چکا ہے۔

  • کپل شرما کے کیفے پر حملہ، کامیڈین کس حال میں ہیں؟

    کپل شرما کے کیفے پر حملہ، کامیڈین کس حال میں ہیں؟

    ممبئی(کنزیومر واچ نیوز)بھارتی کامیڈین کپل شرما کا کیفے فائرنگ کا نشانہ، دہشتگرد تنظیم کے کارندے نے ذمہ داری قبول کرلی.بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق کپل شرما کے حال ہی میں کینیڈا میں لانچ ہونے والا “کپس کیفے” پر حملہ کیا گیا ہے۔ افتتاح کے چند روز بعد ہی اس کیفے پر کم از کم 9 گولیاں چلائی گئیں جس کے بعد علاقے میں خوف ہراس پھیل گیا۔خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم یہ واقعہ اس وقت مزید سنگین صورت اختیار کر گیا جب بھارت کی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (NIA) کی سب سے زیادہ مطلوب افراد کی فہرست میں شامل، کالعدم تنظیم بابا خالصہ انٹرنیشنل (BKI) سے تعلق رکھنے والے کارندے ہرجیت سنگھ لڈی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی۔اطلاعات کے مطابق ہرجیت سنگھ کی جانب سے یہ اقدام مبینہ طور پر کپل شرما کی جانب سے دیے گئے کچھ بیانات کے خلاف ردعمل کے طور پر کیا گیا۔یاد رہے کہ کپل شرما کی ریسٹورنٹ انڈسٹری میں یہ پہلی پیش رفت تھی، جو اب سیکیورٹی خطرات کے باعث تنقید اور تشویش کا باعث بن گئی ہے۔ کپل شرما اس واقعے کے بعد شدید پریشانی کا شکار ہیں اور اس پر ردعمل دینے سے گریز کر رہے ہیں۔

  • کوئٹہ: پنجاب جانے والی بسوں کے 9 مسافروں کو  شہید کر دیا گیا

    کوئٹہ: پنجاب جانے والی بسوں کے 9 مسافروں کو شہید کر دیا گیا

    کوئٹہ:(کنزیومر واچ نیوز)بلوچستان کے علاقے سرہ ڈاکئی میں فتنۃ الہندوستان کے دہشتگردوں نے ایک سفاکانہ کارروائی میں پنجاب جانے والی بسوں کو روک کر مسافروں کو شناخت کے بعد اتار کر 9 بے گناہ پاکستانیوں کو شہید کر دیا۔ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند نے اس دلخراش واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے فتنہ الہندوستان کی کھلی درندگی قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ واقعہ لورالائی اورموسیٰ خیل کی درمیان قومی شاہراہ پرسرہ ڈاکئی کےمقام پرپیش آیا، دہشت گردوں نے مسافروں کے شناختی کارڈ چیک کئے جس کے بعد مخصوص مسافروں کو نیچے اتار کر انہیں گولیاں مار کر شہید کر دیا گیا۔دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والوں میں دو سگے بھائی عثمان اور جابر بھی شامل تھے، شہداء کے بھائی صابر نے سوشل میڈیا پر بیان دیا کہ کل ان کے والد کا انتقال ہوا تھا، آج صبح 9 بجے ان کا نماز جنازہ تھا جس میں شرکت کیلیے دونوں بھائی اپنی فیملی کے ہمراہ پنجاب واپس آ رہے تھے۔شاہد رند کے مطابق یہ واقعہ دشمن کے ناپاک عزائم کی عکاسی کرتا ہے جو پاکستان کے امن، استحکام اور یکجہتی کو نقصان پہنچانے کے لیے سرگرم ہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈرائیورز نے لورالائی پہنچ کر بسوں کو روکنے کے حوالے سے انتظامیہ کو بتایا، سیکیورٹی فورسز نے فوری ردِعمل کا مظاہرہ کیا اور جائے وقوعہ پر پہنچ کر دہشتگردوں کا تعاقب شروع کر دیا۔ترجمان بلوچستان کے مطابق فتنۃ الہندوستان کے دہشت گردوں نے سرہ ڈاکئی کے علاوہ قلات اور مستونگ میں بھی حملے کیے، تینوں مقامات پر سیکیورٹی فورسز نے فوری اور بھرپور رسپانس دیا۔ترجمان نے بتایا کہ دہشتگرد رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہو گئے، تاہم سیکیورٹی فورسز کا ان کے تعاقب میں آپریشن بدستور جاری ہے۔متاثرہ علاقے میں بھرپور سرچ آپریشن کیا جا رہا ہے تاکہ دہشتگردوں کو گرفتار کیا جا سکے یا انجام تک پہنچایا جا سکے۔شاہد رند نے مزید کہا کہ اس بزدلانہ حملے سے بلوچستان کے عوام کے حوصلے پست نہیں ہوں گے، بلوچستان کے عوام دشمن کے ناپاک عزائم کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن چکے ہیں۔ترجمان نے واضح کیا کہ اس دہشتگرد حملے کو پاکستان کے امن، سلامتی اور اتحاد پر حملہ تصور کیا جاتا ہے، اور ریاست دشمن عناصر کو عبرتناک انجام تک پہنچایا جائے گا۔اسسٹنٹ کمشنر ژوب نوید عالم کے مطابق شہید کیے جانے والے افراد کی لاشوں کو پنجاب بھجوانے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔کمشنر ڈی جی خان اشفاق احمد چوہدری کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر لورا لائی دہشت گرد حملے کے 9 شہداء کی میتین پنجاب لانے کے لیے 5 ایمبولینس بلوچستان روانہ کر دی گئیں ہیں۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ضلع مستونگ کے علاقے سرہ ڈاکئی میں نہتے مسافروں کے سفاکانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے فتنۃ الہندوستان کی کھلی دہشتگردی قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی شناخت پر معصوموں کا قتل ناقابل معافی جرم ہے اور اس کا جواب سخت، فیصلہ کن اور فوری ہوگا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشتگردوں نے انسانیت نہیں بلکہ بزدل درندوں کا چہرہ دکھایا ہے، بلوچستان کی مٹی میں بہایا گیا بے گناہوں کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا، ریاست ان قاتلوں کو زمین کے اندر بھی چھپنے نہیں دے گی۔میر سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کو تباہ کرنے کی ہر کوشش کو طاقت، عزم اور اتحاد سے کچلا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ دشمن عناصر بلوچستان کی ترقی، استحکام اور یکجہتی کے دشمن ہیں اور انہیں ہر صورت انجام تک پہنچایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان دشمنوں کے لیے قبرستان بنے گا اور ریاستی ادارے اس عزم کے ساتھ سرگرمِ عمل ہیں کہ ملک دشمنوں کو کوئی جائے پناہ نہیں دی جائے گی۔وزیراعلیٰ نے واقعے میں جاں بحق ہونے والے شہریوں کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بلوچستان کے علاقے سرہ ڈاکئی میں قومی شاہراہ پر پیش آنے والے دہشتگرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے، جس میں نہتے اور بے گناہ مسافروں کو نشانہ بنایا گیا۔انہوں نے واقعے کو فتنۃ الہندوستان کے دہشتگردوں کی بزدلانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سفاکیت کی انتہا ہے۔محسن نقوی نے اس دلخراش واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کی۔انہوں نے کہا کہ ہم دکھ کی اس گھڑی میں سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ بے گناہ اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنا کر دشمن نے اپنی درندگی اور بدترین بربریت کا مظاہرہ کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم ان بھارتی اسپانسرڈ دہشتگردوں اور ان کے مقامی آلہ کاروں کا ہر جگہ پیچھا کریں گے اور انہیں انجام تک پہنچائیں گے۔محسن نقوی نے مزید کہا کہ قوم کی مکمل حمایت اور اعتماد کے ساتھ ریاست ان تمام سازشوں کو ناکام بنائے گی جو پاکستان کے امن، استحکام اور سالمیت کے خلاف کی جا رہی ہیں۔

  • ‘حمیرا کا ہم سے ایک سال سے رابطہ نہیں تھا،بھائی نوید اصغر

    ‘حمیرا کا ہم سے ایک سال سے رابطہ نہیں تھا،بھائی نوید اصغر

    کراچی (کنزیومر واچ نیوز)کچھ روز قبل کراچی میں ڈیفنس سے ملنے والی اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش ان کے بھائی کے حوالے کردی گئی۔10 جولائی کو ان کے بھائی دیگر اہلخانہ کے ہمراہ لاہور سے کراچی پہنچے جہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ان سوالات کے جواب دیے جو لوگوں کے ذہنوں میں گردش کررہے تھے۔حمیرا سے گزشتہ چند ماہ سے رابطہ نہ ہونے کے سوال پر ان کے بھائی نوید اصغر نے کہا کہ ‘حمیرا کا ہم سے ایک سال سے رابطہ نہیں تھا، اس کے موبائل فونز بند تھے، جب والدہ نے ہمیں بتایا کہ اس سے رابطہ نہیں ہورہا تو میں نے ڈائری میں سے اس کی چند دوستوں کو فون کیا، ان سے بھی کچھ پتا نہیں چل سکا’۔نوید اصغر کے مطابق ‘والدہ نے بتایا کہ اس نے کئی عرصے سے یہ نہیں بتایا کہ وہ کراچی میں کہاں رہتی ہے، والدہ کے بارہا پوچھنے پر بھی حمیرا نہیں بتاتی تھیں کہ وہ کہاں جارہی ہیں یا کس جگہ قیام پذیر ہیں، جب ابھی ہمیں اطلاع ملی تو ہم صدمے میں چلے گئے، ہمیں یقین نہیں آرہا تھا، کچھ دن قبل میری پھوپھو کا اچانک ٹریفک حادثے میں انتقال ہوگیا، فیملی اس وجہ سے بھی بہت پریشان تھی’۔
    انہوں نے والد کی جانب سے لاش لینے سے انکار پر کہا ‘میری والدہ کو جب پتا چلا کہ لاش کی بری حالت ہے تو انہوں نے کہا میں مر ہی کیوں نہ جاؤں لیکن میت نہیں دیکھوں گی، اسی وجہ سے میرے والد نے ایسا کہا کہ ہم ڈیڈ باڈی نہیں لیں گے، میڈیا نے اس بات کو غلط رُخ دیا اور اچھالا، میں یہاں والد کی اجازت سے ہی لاش لینے آیا ہوں ‘۔اداکارہ کے بھائی کا کہنا تھا کہ ‘وہ خود مختار تھی اور اپنی خوشی سے یہاں مقیم تھی، اس کی رپورٹس آنے کے بعد ایف آئی آر کا معاملہ دیکھیں گے’۔انہوں نے مزید کہا کہ’ گزشتہ تین دن سے ہم مسلسل چھیپا صاحب اور پولیس کے ساتھ رابطے میں تھے، میڈیا والوں نے فون کرکر کے پریشان کردیا تھا اس لیے والد نے کہا کہ اگر ایمرجنسی ہے تو آپ اسے تدفین کردیں، لیکن قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد ہی ہم لاش لے سکتے تھے اور اب ہم لینے یہاں آئے ہیں‘۔نوید اصغر نے میڈیا سے سوال کیا کہ کیا آپ لوگوں میں سے کسی نے مالک مکان کا انٹرویو کیا؟ آپ لوگوں کا پورا فوکس صرف اصغر علی کے خاندان پر تھا۔