راولپنڈی:(کنزیومر واچ نیوز)سیکیورٹی فورسز کے آواران میں خفیہ آپریشن کے دوران تین بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد مارے گئے اس دوران فائرنگ سے میجر سید رب نواز شہید ہوگئے۔پاک فوج کے شعبہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات پر 16 جولائی کو ضلع آواران میں دہشت گرد تنظیم “فتنہ الہندوستان” سے تعلق رکھنے والے بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا۔آپریشن کے دوران پاکستانی دستوں نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ آپریشن کے نتیجے میں تین بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد واصلِ جہنم ہو گئے تاہم شدید فائرنگ کے تبادلے میں میجر سید ربنواز طارق دشمن کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔ شہید میجر اپنے دستے کی قیادت فرنٹ لائن سے کر رہے تھے۔آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ علاقے میں کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی چھپے دہشتگرد کو ختم کیا جا سکے،پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ملک سے بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں اور ہمارے بہادر سپاہیوں کی قربانیاں اس عزم کو مزید مضبوط بناتی ہیں۔
وزیراعظم کا شہید میجر کو خراج عقیدت
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے آواران میں فتنہ الہندوستان کے خلاف کامیاب آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکاروں کو شاباش دیتے ہوئے تین دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر سیکیورٹی فورسز کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا اعتراف کیا۔
وزیرِ اعظم نے آپریشن کے دوران بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے میجر سید رب نواز طارق کو خراج عقیدت پیش کیا اور شہید کی بلندی درجات اور اہل خانہ کیلئے صبر کی دعا بھی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ دہشتگردی کی عفریت کے ملک سے مکمل خاتمے تک اس کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے، مجھ سمیت پوری قوم کو اپنے شہداء اور ان کے اہل خانہ پر فخر ہے۔انہوں نے کہا کہ پاک فوج کے افسران و جوان دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کیلئے دن رات مصروف عمل ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم اپنی بہادر افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے بلوچستان کے علاقے آواران میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے خلاف آپریشن میں شہید ہونے والے میجر سید رب نواز طارق کی بہادری کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت کیا اور اہل خانہ سے دلی ہمدردی و تعزیت کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ میجر سید رب نواز طارق نے فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے خلاف بہادری سے لڑتے ہوئے قیمتی جان وطن پر نچھاور کی۔ انہوں نے جرات کے ساتھ فتنہ الہندوستان کے 3 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا۔وزیر داخلہ نے کہا کہ فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے مذموم عزائم خاک میں ملانے والے شہید میجر سید رب نواز طارق کو سلام پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے شہادت کا بلند ترین رتبہ پایا ہے اور اُن کی قربانی کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔محسن نقوی نے کہا کہ شہداء وطن نے اپنے قیمتی لہو سے امن کی آبیاری کی ہے اورپوری قوم کو شہداء کی عظیم قربانیوں پر ناز ہے۔
Blog
-

3 بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد ہلاک، میجر شہید
-

شادی کی تقریب میں فائرنگ سے بچی جاں بحق
کراچی(کنزیومر واچ نیوز) شادی کی تقریب میں فائرنگ سے بچی جاں بحق ہوگئی۔کراچی کے علاقے سائٹ ایریا میں شادی کی تقریب اچانک ماتم میں اس وقت بدلی جب ایک بچی فائرنگ کی زد میں آگئی۔شادی میں باراتیوں کی جانب سے فائرنگ کی جارہی تھی جس دوران گولی ایک بچی کو لگی جو شدید زخمی ہوئی، بچی کو فوری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹرز نے اس کی موت کی تصدیق کردی۔واقعے کے اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی جس نے دُلہا اور اس کے والد کو گرفتار کرلیا۔
-

حمیرا اصغرسے آخری ایام میں کون کون رابطے میں رہا؟
کراچی (کنزیومر واچ نیوز)پاکستانی اداکارہ حمیرا اصغر کی پراسرار موت کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔تفتیشی حکام کے مطابق حمیرا اصغر کے فلیٹ کی چابیاں تحویل میں لے لی گئی ہیں، فلیٹ کے مرکزی دروازے کی 3چابیاں فلیٹ کے اندر سے ملی ہیں جب کہ بلڈنگ انتظامیہ، چوکیدار اور اداکارہ کی سابقہ گھریلو ملازمہ شامل تفتیش ہیں۔تفتیشی حکام کا بتانا ہے کہ بلڈنگ انتظامیہ، چوکیدار اور گھریلو ملازمہ سے تفتیش کی گئی ہے، تمام لوگ اکتوبر2024 تک حمیرا اصغر سے رابطے میں تھے جب کہ حمیرا کی ملازمہ 2024 میں ملازمت چھوڑ کے جاچکی تھی۔تفتیشی حکام کے مطابق لگتا ہے حمیرا اصغر مالی طور پر پریشان تھیں، انہوں نے ستمبر 2024 میں آخری کمرشل شوٹ کیا تھا اور وہ کام سے متعلق اکتوبر2024 میں لوگوں سے رابطے میں تھی۔
-

ملک گیرشٹرڈاون ہڑتال 19 جولائی کو شیڈول کے مطابق ہی ہوگی، صدر کراچی چیمبر
کراچی (کنزیومر واچ نیوز)صدر کراچی چیمبر،محمد جاوید بلوانی نے کہا ہے کہ ملک گیرشٹرڈاون ہڑتال 19 جولائی بروز ہفتہ اپنے شیڈول کے مطابق ہی ہوگی، نہ ملتوی ہوگی نہ منسوخ انھوں نے کہا کہ ملک بھر میں ہڑتال کے انعقاد کا منصوبہ برقرار ہے، پوری تیاری کے ساتھ عمل ہوگا، جاوید بلوانی نے کہ ہڑتال کے ملتوی یا منسوخی کی افواہیں پھیلانے والے عناصر کا ہڑتال سے کوئی تعلق نہیں، صدر کراچی چیمبر نے کہا کہ ہڑتال کا فیصلہ چاروں صوبوں کے بڑے چیمبرز سے مشاورت کے بعد کیا گیا، اگر ہڑتال مؤخر یا منسوخ کرنی پڑی تو یہ فیصلہ بھی تمام چیمبرز سے مشاورت کے بعد ہی ہوگا، اس حوالے سے کسی بھی فیصلے کا باضابطہ اعلان تمام پارٹنر چیمبرز کی موجودگی میں مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا جائے گا، افواہیں پھیلانے والے کاروباری برادری کے خیر خواہ نہیں، یہ گمراہ کن عناصر ہیں تاجر، دکاندار، صنعتکار، سب ہمارا ساتھ دیں، یہ ملک و قوم کے وسیع تر مفاد کا معاملہ ہےعوام اور کاروباری برادری افواہوں پر کان نہ دھریں، ہڑتال کی خبریں درست اور حتمی ہیں، ملک گیر ہڑتال کا فیصلہ متفقہ مشاورت کا نتیجہ ہے، اسے سبوتاژ کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوگی،
-

بھارت پر سخت پابندیاں لگ سکتی ہیں، نیٹو چیف کا انتباہ
لندن (کنزیومر واچ نیوز)نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے خبردار کیا ہے کہ اگر برازیل، چین اور بھارت نے روس کے ساتھ تجارت جاری رکھی تو انہیں ثانوی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو ان ممالک کی معیشت پر شدید منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔مارک روٹے نے یہ بات امریکی کانگریس میں سینیٹرز سے ملاقات کے دوران کہی۔ یہ ملاقات اُس روز ہوئی جب امریکی صدر نے یوکرین کے لیے نئے ہتھیاروں کی فراہمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر روس اور یوکرین میں آئندہ 50 دنوں میں امن معاہدہ طے نہیں پایا تو روسی برآمدات خریدنے والے ممالک پر 100 فیصد تک ثانوی محصولات عائد کر دیں گے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق روٹے کا کہنا تھا کہ میری برازیلیا، بیجنگ اور نئی دہلی میں بیٹھے رہنماؤں سے اپیل ہے کہ وہ اس صورتحال کو سنجیدگی سے لیں، کیونکہ اگر روس کے ساتھ تجارتی تعلقات جاری رکھے گئے تو ان ممالک کو اس کا بھاری نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کوئی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو فون کریں اور انہیں کہیں کہ وہ امن مذاکرات کو سنجیدگی سے لیں ورنہ اس کے نتائج برازیل، بھارت اور چین پر بڑے پیمانے پر واپس آئیں گے۔ریپبلکن سینیٹر تھام ٹلس نے امریکی صدر کی جانب سے اعلان کردہ اقدامات کو سراہا، تاہم انہوں نے 50 دن کی تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ مدت پیوٹن کو جنگ میں مزید پیش قدمی کا موقع دے سکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں آج یوکرین کی موجودہ حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے واضح پیغام دینا ہوگا کہ آئندہ 50 دنوں میں روس کی کسی بھی پیش رفت کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔نیٹو چیف مارک روٹے نے مزید کہا کہ یورپ یوکرین کو امن مذاکرات میں بہترین پوزیشن پر لانے کے لیے درکار مالی وسائل فراہم کرے گا۔انہوں نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے طے پانے والے معاہدے کے تحت اب امریکہ یوکرین کو بڑے پیمانے پر اسلحہ فراہم کرے گا، جس میں فضائی دفاعی نظام، میزائل اور گولہ بارود شامل ہیں، جن کی ادائیگی یورپی ممالک کریں گے۔جب ان سے یوکرین کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کی فراہمی کے حوالے سے پوچھا گیا تو روٹے نے کہا کہ اس میں دفاعی اور جارحانہ دونوں اقسام کے ہتھیار شامل ہوں گے، تاہم اس کی تفصیلات پر بات فی الحال امریکی محکمہ دفاع، یورپی سپریم کمانڈرز اور یوکرینی حکام کے درمیان جاری ہے
-

مشہور یوٹیوبر رجب بٹ ایک بار پھر مشکل میں
لاہور (کنزیومر واچ نیوز) سیشن کورٹ میں مشہور یوٹیوبر رجب بٹ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست دائر کردی گئی۔رپورٹ کے مطابق رجب بٹ کیخلاف درخواست شہری شہزادہ عدنان نے اپنے وکیل مدثر چوہدری کی وساطت سے دائر کی ہے۔ درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کی ویڈیو میں رجب بٹ نے صحابہ کی شان میں توہین آمیز الفاظ کہے۔درخواست میں بتایا گیا کہ رجب بٹ کے خلاف این سی سی آئی اے سے رجوع کیا تاہم مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔ عدالت این سی سی آئی اے کو مقدمہ درج کرنے کا حکم دے۔ ایڈیشنل سیشن جج نے کاروائی کرتے ہوئے نوٹسز جاری کردیے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل بھی رجب بٹ کو مختلف مقدمات کا سامنا رہا ہے۔ اس نئی متنازع ویڈیو کے بعد رجب بٹ نے سوشل میڈیا پر جہاز میں سفر کے دوران ایک اسٹوری پوسٹ کی جس میں انہوں نے لکھا کہ ’اگر مشہور ہونا ہے تو پاکستان سے باہر جاکر ہونا‘۔
-

لڑکی نے چلتی بس میں بچے کو جنم دے کر نیچے پھینک دیا
ممبئی (کنزیومر واچ نیوز)بھارتی ریاست مہاراشٹرا میں 19 سالہ لڑکی نے چلتی بس میں ایک بچے کو جنم دے کر نیچے پھینک دیا جس سے نومولود ہلاک ہوگیا۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ پربھنی شہر میں پیش آیا جہاں لڑکی نے چلتی سلیپر کوچ میں ایک بچے کو جنم دیا۔بعد ازاں خاتون کا شوہر ہونے کا دعویٰ کرنے والے شخص نے اس بچے کو بس کی کھڑکی سے نیچے پھینک دیا جس کے نتیجے میں بچہ ہلاک ہوگیا۔بھارتی میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ چلتی بس سے کپڑے میں لپٹی کسی چیز کو پھینکنے کا واقعہ نیچے کھڑے شہری نے بغور دیکھا، جب شہری نے اس کپڑے کے قریب جاکر دیکھا تو اسے معلوم ہوا کہ اس کپڑے میں ایک نومولود ہے اس کے بعد شہری نے پولیس کو اطلاع دی۔بھارتی میڈیا کے مطابق خاتون کی شناخت ریتیکا دھیرے کے نام سے ہوئی جو سلیپر کوچ میں الطاف شیخ نامی شخص کے ساتھ پونے سے پربھنی جا رہی تھی جب کہ خاتون نے بھی الطاف کو اپنا شوہر بتایا ہے۔رپورٹ کے مطابق خاتون سفر کے دوران حاملہ تھی جس نے چلتی بس میں بچے کو جنم دیا لیکن اس کے مبینہ شوہر نے بچے کو بس سے پھینک دیا، واقعے کے بعد پیٹرولنگ ڈیوٹی پر موجود پولیس ٹیم نے بس کو روک کر خاتون اور اس کے مبینہ شوہر کو حراست میں لے لیا۔تفتیش کے دوران جوڑے نے بتایا کہ وہ بچے کی پرورش کرنے سے قاصر ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے نومولود کو پھینک دیا اور بچے کی موت سڑک پر پھینکنے کے بعد ہوئی۔پولیس کے مطابق دھیرے اور الطاف دونوں کا تعلق پربھنی سے ہے اور وہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے پونے میں مقیم ہیں، دونوں نے میاں بیوی ہونے کا دعویٰ کیا ہے لیکن ان کے پاس کوئی قانونی دستاویز نہیں۔
-

اداکارہ حمیرا اصغر مالی بحران کا شکار تھی،تحقیقاتی افسران
کراچی( کنزیومر واچ نیوز) اداکارہ حمیرا اصغرکی موت سے متعلق تحقیقات میں مزید انکشافات ہوئے ہیں۔تحقیقاتی افسران نے اداکارہ کے فلیٹ سے ملنے والے 3 موبائل فونز اور ٹیبلٹ کو قبضے میں لےکر اس سے حاصل ہونے والے مواد کا جائزہ لیا ۔اس کے بعد افسران نے یہ بات اخذ کی کہ متوفیہ کی جس وقت موت واقع ہوئی وہ مالی بحران کا شکار تھی۔افسران نے بتایا کہ حمیرا اصغر کا فون آخری بار 7 اکتوبر کو شام 5 بجے تک استعمال ہوا، انہوں نے 7 اکتوبر 2024 کو 14افراد سے رابطہ کیا لیکن اس دوران اداکارہ کا کسی سے رابطہ نہیں ہوا۔
تحقیقاتی افسران کا کہنا ہےکہ اس سے یہ بات اخذ کی جاسکتی ہے کہ اداکارہ کی 7 اکتوبر کو موت واقع ہوئی، ان کے فلیٹ سے ڈائری اور ڈاکیومینٹس بھی ملے ہیں۔تحقیقاتی افسران نے مزید بتایا کہ حمیرا اصغر کے نام پر 3سمز تھیں، تینوں سمز فون میں لگی ہوئی تھیں جب کہ حمیرا اصغر کے 2 موبائل فونز پر کوئی پاسورڈ نہیں تھا۔
حمیرا اصغر کی موت، معاملہ کیا ہے؟
حمیرا اصغر کی لاش 8 جولائی کو اتحاد کمرشل کے ایک فلیٹ سے اس وقت ملی جب کرائے کی عدم ادائیگی پر مالک مکان کے عدالت پہنچنے پر عدالتی بیلف ان کے گھر پہنچا اور فلیٹ کا دروازہ نہ کھولنے پر دروازہ توڑا گیا تو اداکارہ کی لاش برآمد ہوئی۔
لاش کے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاش ڈی کمپوز کے آخری اسٹیج پر ہے جسے دیکھ کر اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اداکارہ کی موت تقریباً 8 سے 10 ماہ پرانی ہے۔ -

امریکا، ٹیکساس میں موجودہ سیلابی صورتحال : حمیرا گل تشؔنہ
امریکی ریاست ٹیکساس اس وقت تاریخ کے بدترین سیلابی حالات سے گزر رہی ہے جہاں طوفانی بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں اب تک 128 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ 160 سے زیادہ لاپتہ ہیں ۔ یہ سانحہ خصوصاً کیر کاؤنٹی میں سب سے زیادہ تباہ کن ثابت ہوا جہاں 103 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں ۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دے دیا ہے اور وفاقی سطح پر امدادی کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں ۔
موجودہ سیلاب نے ٹیکساس ہل کنٹری کو خاص طور پر متاثر کیا ہے جہاں گوادالوپے دریا نے اپنے کناروں کو توڑتے ہوئے ریکارڈ بلندی تک پانی کی سطح بڑھا دی۔ صرف 4 جولائی کی رات کو، کیرویل میں گوادالوپے دریا کی سطح 35 فٹ تک بلند ہو گئی ۔ یہ سیلاب اب تک ٹیکساس کی تاریخ کا دوسرا سب سے مہلک سیلاب قرار دیا جا رہا ہے ۔
ہلاکتوں میں خاص طور پر ایک سمر کیمپ (کیمپ مسٹک) کے 27 کیمپرز اور کونسلرز شامل ہیں جو دریا کے کنارے واقع تھا ۔ مختلف ذرائع کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد میں اختلاف پایا جاتا ہے – کچھ رپورٹس میں 80 ، کچھ میں 91 ، تو کچھ میں 108 ، 119 اور 120 تک ہلاکتیں بتائی گئی ہیں۔ سرکاری طور پر اب تک 128 ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے ۔
لاپتہ افراد کی تعداد کے حوالے سے بھی مختلف اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ کچھ رپورٹس میں 41 ، تو کچھ میں 172 لاپتہ افراد کا ذکر ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 160 افراد لاپتہ ہیں ۔ ریسکیو ٹیموں نے ساڑھے آٹھ سو سے زائد افراد کو محفوظ طریقے سے نکال لیا ہے ۔
بچاؤ کارروائیوں میں مقامی، ریاستی اور وفاقی ادارے شامل ہیں جنہوں نے ہیلی کاپٹرز، کشتیوں اور ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے متاثرین کو نکالا ۔ ناسا نے بھی فضائی نگرانی کے لیے جدید طیارے تعینات کیے ہیں ۔ تاہم، گذشتہ ہفتے کے بعد سے اب تک کوئی زندہ بچ جانے والا نہیں ملا ۔
سیلاب نے 12,000 سے زائد مکانات کو نقصان پہنچایا ہے ۔ متاثرہ علاقوں میں مکانات اور گاڑیاں پانی میں ڈوب گئی ہیں، درخت گرنے سے راستے بند ہو گئے ہیں ۔ کیر کاؤنٹی میں صورتحال سب سے زیادہ سنگین ہے جہاں 68 سے 96 تک ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
فیما (FEMA) کے تخمینے کے مطابق گھر میں صرف ایک انچ سیلاب کا پانی بھی چھبیس ہزار آٹھ سو سات ڈالر 26,807$ کا نقصان پہنچا سکتا ہے ۔ چونکہ ٹیکساس میں صرف 7 فیصد رہائشی املاک کے پاس سیلاب کا انشورنس ہے ، اس لیے مالی نقصانات کا ازالہ مشکل ہو گا۔
محکمہ موسمیات نے وسطی ٹیکساس میں آئندہ دنوں میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے جس سے صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے ۔ ایکوا ویدر کے مطابق، شمالی اور وسطی ٹیکساس کے کچھ حصوں میں 14 انچ تک بارش ہو سکتی ہے ۔
زمین پہلے ہی سیلاب سے سیراب ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے مزید بارشیں صورتحال کو مزید خراب کر سکتی ہیں ۔ موسمیات دانوں نے متنبہ کیا ہے کہ آہستہ رفتار طوفان مختصر وقت میں کئی انچ بارش برسا سکتے ہیں ۔
صدر ٹرمپ نے کیر کاؤنٹی کو آفت زدہ علاقہ قرار دے دیا ہے تاکہ امدادی کاموں میں تیزی لائی جا سکے ۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ مقامی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے ۔
ریاستی گورنر گریگ ایبٹ نے ہنگامی صورتحال کے پیش نظر اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کر لیا ہے ۔ اس اجلاس میں سیلاب سے تحفظ، ابتدائی وارننگ سسٹم، اور متاثرہ علاقوں کے لیے مالی امداد جیسے اقدامات پر غور کیا جائے گا ۔
ٹیکساس میں سیلاب کوئی نئی بات نہیں۔ 1921 میں ولیمسن کاؤنٹی کے شہر تھرال نے 18 گھنٹوں میں 36 انچ بارش ریکارڈ کی تھی جو آج تک ایک قومی ریکارڈ ہے ۔ 1957 کے موسم بہار میں ہونے والی بارشوں نے ریاست گیر خشک سالی کو ختم کیا لیکن ساتھ ہی سیلاب بھی لایا ۔
1998 میں، جنوبی وسطی ٹیکساس میں دو دنوں میں 30 انچ بارش ہوئی جس سے سان مارکوس، گوادالوپے اور سان انٹونیو دریاؤں کے کنارے تاریخی سیلاب آیا ۔ 2017 میں ہریکین ہاروی نے 8 دنوں میں 60 انچ بارش برسائی جس سے راکپورٹ سے اورینج تک کے رہائشیوں کو تباہی کا سامنا کرنا پڑا ۔
ٹیکساس ہل کنٹری کی خوبصورت پہاڑیاں، متعدد دریاؤں اور چٹانی خطہ جو ماہی گیری اور ستاروں کے نیچے کیمپنگ کے لیے مثالی ہے، یہی اسے ملک کے سب سے زیادہ سیلاب زدہ علاقوں میں سے ایک بناتا ہے ۔
بالکونز اسکارپمنٹ، جو وسطی ٹیکساس میں ایک اہم جغرافیائی خصوصیت ہے، اس علاقے میں ڈرامائی نظارے اور بلندی میں تبدیلی پیدا کرتا ہے۔ لیکن یہ طوفانوں کو روک کر بھاری بارش برسانے کا باعث بھی بن سکتا ہے ۔
جب طوفان آتے ہیں تو پانی تیزی سے نیچے کی طرف بہتا ہے، جیسے جیسے یہ حرکت کرتا ہے رفتار اور قوت حاصل کرتا جاتا ہے۔ اسے روکنے کے لیے بہت کم چیزیں موجود ہیں – پتلی، چٹانی مٹی زیادہ پانی جذب نہیں کرتی، اور کھلی چٹانیں اور کم پودے کوئی بفر فراہم نہیں کرتے ۔
اس زیادہ تعداد میں ہلاکتوں نے سوالات اٹھائے ہیں کہ کیا موسمیات دانوں یا ہنگامی ردعمل کے ذمہ دار مقامی اہلکاروں نے علاقے کے لوگوں کو مناسب انتباہ دیا تھا ۔
تباہی سے پہلے، نیشنل ویدر سروس نے جمعرات کی دوپہر کیر کاؤنٹی کے لیے سیلاب کی نگرانی کا اعلان کیا تھا ۔ 1:14 بجے صبح، وفاقی موسمیات دانوں نے اس اعلان کو سیلاب کے انتباہ میں تبدیل کر دیا، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ سیلاب ہو رہا ہے یا قریب ہے ۔ یہ اس علاقے میں کم بلند پانی کے عبور سے سیلاب کی پہلی رپورٹس سے تین گھنٹے 21 منٹ پہلے بھیجا گیا تھا ۔
مقامی حکام نے واضح جوابات فراہم نہیں کیے ہیں، یہ کہتے ہوئے کہ ان کی توجہ تلاش اور بچاؤ کی کوششوں پر مرکوز ہے ۔ کیرویل کے میئر نے کہا کہ وہ صبح تقریباً ساڑھے پانچ 5:30 بجے سیلاب کے بارے میں جان پائے، اس پہلے انتباہ کے چار گھنٹے سے زیادہ بعد، جب سٹی مینیجر نے انہیں فون کیا اور جگایا ۔
ریاستی رہنما اب سائرن، سیلاب کے گیجز اور تخفیف کی کوششوں میں اضافے کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔ گورنر گریگ ایبٹ نے خصوصی قانون سازی کا اجلاس بلایا ہے جس میں درج ذیل اقدامات پر قانون سازی کی جائے گی :
– سیلاب انتباہی نظام
– سیلاب ہنگامی مواصلات
– قدرتی آفات کی تیاری اور بحالی
– متاثرہ علاقوں کے لیے امدادی فنڈز
یہ سانحہ ٹینیا پاول جیسے خاندانوں کو سوگوار چھوڑ گیا ہے۔ ان کی 21 سالہ بیٹی ایلا روز کاہل کا جسم منگل کو ملا تھا ۔
“یہ ایک راحت بخش، خوش، اداس، خوفناک، حیرت انگیز خبر کی طرح تھا۔ میرا مطلب ہے، میں اسے بیان بھی نہیں کر سکتی، کیونکہ آپ اس لیے خوش ہیں کہ وہ ابھی تک کہیں باہر نہیں ہے،” پاول نے کہا۔ “لیکن اسی وقت، یہ ایک آخری لمحہ ہے۔”
دوسرے، جیسے ایلا کے بوائے فرینڈ ایڈن ہارٹ فیلڈ کے والد، ملبے اور گدلے پانیوں میں تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں، چاہے زندہ بچ جانے والے کو تلاش کرنے کی امیدیں مدھم ہو چکی ہوں۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے گزشتہ ہفتے کے بعد سے کوئی زندہ بچاؤ نہیں کیا ہے ۔
ٹیکساس میں موجودہ سیلابی صورتحال ایک المناک انسانی المیہ ہے جو ریاست کی تاریخ کے بدترین سیلابوں میں سے ایک کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ جب کہ فوری طور پر امدادی کوششیں جاری ہیں، طویل مدتی حل پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ریاست کی آبادی میں اضافہ، سیلاب زدہ زمین کی سستی اپیل اور انتہائی موسمی حالات اسے ایک فوری تشویش بناتے ہیں۔
ریاست کی ایک چوتھائی زمین کسی نہ کسی درجے کے شدید سیلاب کے خطرے سے دوچار ہے، جس سے اندازاً 50 لاکھ ٹیکساس کے شہری ممکنہ خطرے میں ہیں ۔ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچنے کے لیے مضبوط انتباہی نظام، بہتر منصوبہ بندی اور عوامی بیداری انتہائی ضروری ہیں۔
اس وقت، ٹیکساس کے عوام کو یکجہتی، ہمدردی اور عملی مدد کی ضرورت ہے۔ ریڈ کراس، سیلویشن آرمی اور کیر کاؤنٹی فلڈ ریلیف فنڈ جیسے اداروں کے ذریعے عطیات دیے جا سکتے ہیں ۔ یہ المیہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ فطرت کی طاقت کے سامنے انسانی ترقی کی تمام تر کامیابیوں کے باوجود ہم اب بھی کس قدر بے بس اور کمزور ہیں۔
Facebook -

لبوبو کی دنیا میں۔۔ ارم زہراء
صبح کے وقت جب شنگھائی کی گلیوں میں نرم دھند اترتی ہے اور بلند عمارتیں کسی خواب کی مانند آسمان کی آنکھوں میں گھل جاتی ہیں، تو میں اکثر سوچتی ہوں کہ ان فٹ پاتھوں پر چلتے ہوئے ہم کیا تلاش کرتے ہیں؟ کبھی کتاب، کبھی رشتہ، کبھی اپنا آپ… اور کچھ لوگ صرف ایک کھلونا۔جی ہاں، ایک کھلونا لبوبو۔
جسے میں نے ایک دکان میں نہیں، بلکہ ایک خاموش لڑکی کی آنکھوں میں دیکھا تھا۔ وہ لڑکی میرے سامنے Pop Mart کی ایک دکان میں کھڑی تھی، اور اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا باکس تھا۔ وہ باکس کھولا، اور اس میں سے لبوبو برآمد ہوا ۔ بڑی بڑی دانتوں والی مسکراہٹ، غیر متوازن سی ساخت، اور آنکھیں جیسے کسی درد سے بھری ہوئی ہوں۔۔
دکاندار نے بتایا “یہ لبولبو ہے، دی مون ، مون فاریسٹ سے آیا ہے۔ چین اور کوریا میں بچے اس کے دیوانے ہیں۔”
وہیں پہلی بار میں نے لبوبو کی کہانی سنی ، ایک شرارتی، جنگلی مگر دل کا نرم کردار جو فینسی کھلونوں کی اس دنیا میں الگ پہچان رکھتا ہے۔ پھر اُس نے کہا، “یہ صرف کھلونا نہیں، ایک مکمل شخصیت ہے، جس کا ہر ورژن بچوں کے جذبات سے جڑا ہے۔”
میں دیر تک کھلونے دیکھتی رہی۔ ہر ایک کے چہرے پر کوئی نہ کوئی کہانی لکھی ہوئی تھی ۔ کوئی خوشی، کوئی غصہ، کوئی حیرت۔ لبوبو ہی نہیں، Molly Dolls، Dimoo، Skull Panda، Pucky اور Bunny Play جیسے کردار بھی دکان میں آراستہ تھے۔ یہ Pop Mart برانڈ کے انقلابی کھلونے تھے، جو نہ صرف بچوں بلکہ بڑے لوگوں کے دل بھی جیت چکے ہیں۔
میرے دل میں سوال آیا ۔ کیا یہ کھلونا ہے؟ یا کوئی علامت؟ یا شاید آج کے انسان کا آئینہ؟
پوچھنے پر پتہ چلا، یہ گڑیا لبوبو کہلاتی ہے ۔ ہانگ کانگ کے آرٹسٹ Kasing Lung کی تخلیق، جو Pop Mart کمپنی کے تحت چین بھر میں پھیلا ہے۔ یہ کوئی عام کھلونا نہیں۔ یہ “designer toy” ہے، جو blind box میں بند ہو کر بیچا جاتا ہے، یعنی آپ کو معلوم نہیں ہوتا کہ اس بار کون سا لبوبو ملے گا۔ خوش قسمتی، یا بدقسمتی دونوں خریداری میں شامل ہیں۔ میرے چینی دوستوں کا کہنا ہے کہ “ لبوبو وہ چیز ہے جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم مکمل نہیں اور اسی میں ہماری خوبصورتی ہے۔”
لبولبو جو ہانگ کانگ سے تعلق رکھتا ہے ۔ یہ کردار سب سے پہلے The Monsters series میں 2016 کے آس پاس متعارف ہوا۔
اس کی دنیا کا نام تھا The Monster Forest ایک تخیلاتی جنگل جہاں “غیر روایتی، غیر خوبصورت، مگر ایماندار” کردار رہتے تھے۔
لبولبو دراصل اسی جنگل کی ایک چھوٹی سی مخلوق تھا، جو شرارت پسند تھا، جنگلی تھا، مگر دل سے صاف۔
اسے شہرت Pop Mart نے دی ہے ۔ چین کی ایک مشہور آرٹ ٹوائے کمپنی، جو ہر کھلونے کو ایک چھوٹی کہانی، ایک منفرد انداز، اور خاص حد تک محدود بناتی ہے تاکہ “نایابی” کا جادو برقرار رہے۔
، لبوبو (Labubu) کی دنیا میں کچھ ایسے ماڈلز بھی بنائے گئے ہیں جو اتنے نایاب (rare) اور محدود تعداد میں جاری ہوئے کہ ان کی قیمتیں سن کر واقعی حیرت ہوتی ہے۔ اب تک کا سب سے مہنگا لبوبو
“Labubu Crystal Ghost Limited Edition”
• قیمت (ریسیل مارکیٹ میں):
تقریباً ¥18,800 RMB سے لے کر ¥22,000 RMB تک (یعنی تقریباً 2600 سے 3000 امریکی ڈالر یا 8 لاکھ پاکستانی روپے سے زائد) یہ ایڈیشن اتنا نایاب ہے کہ اسے صرف خاص ایونٹس پر یا لکی ڈرا کے ذریعے ہی خریدا جا سکتا تھا، اور زیادہ تر collector-to-collector resale کے ذریعے خریدا گیا۔ دیگر مہنگے اور نایاب لبوبو ایڈیشنز ایڈیشن اندازاً قیمت
Golden Dancer Labubu ¥12,000+ RMB
Pop Mart 10th Anniversary میں جاری ہوا
Labubu x Skull Panda (Black Gold) ¥9,000 RMB مشہور “Monster Series” کا کراس اوور
Labubu Forest Elf Glow Edition ¥6,500 RMB روشنی میں چمکتا ہے، محدود ریلیز
Labubu x Pokémon Crossover ¥5,000 RMB Pokémon کے ساتھ خاص تعاون نوٹ یہ قیمتیں ریسیل مارکیٹ (Xianyu, Xiaohongshu, Pop Mart Collector Groups) میں رائج ہیں، اصل دکان کی قیمتیں اس سے کہیں کم ہوتی ہیں قیمت اس بات پر منحصر ہے کہ وہ edition کتنا نایاب ہے، کتنا پرانا ہے، اور مارکیٹ میں اُس وقت طلب کتنی ہے۔
میں نے اسے ہاتھ میں اٹھایا۔ کچھ دیر دیکھا۔ وہ خاموش تھا، مگر جیسے بہت کچھ کہہ رہا ہو۔ شاید “تم بھی تو لبوبو ہو، بس انسانی شکل میں۔”
2024 سے 2025 کے درمیان چین میں لبوبو کی مانگ دیوانگی کی حد تک بڑھ گئی۔ 2024 تک، لبولبو کی 60 سے زیادہ منفرد اقسام (Variants) مارکیٹ میں آ چکی ہیں اور نئے editions ہر چند ماہ بعد متعارف کروائے جاتے ہیں 2025 کا مہنگا ترین Labubu:
• Golden Dragon Labubu (Ultra Rare, 2025 Lunar Edition• ماربل finish، سونے کے رنگ کا تاج، ہاتھ میں طِفل اژدہا• مارکیٹ پرائس: $4000 USD
(تقریباً 11 لاکھ PKR)• Only 99 units worldwide
لبوبو کو دنیا کے مختلف ممالک کے لباس و ثقافت میں ڈھالا گیاہے جس میں خلیجی ممالک سر فہرست ہیں ۔ عربی لباس میں Labubu ہاتھ میں لالٹین اور ستاروں سے سجا لباس بطور خاص متعارف کروایا گیا ہے ۔
ان دنوں لبوبو سے وابستگی کا عالم یہ ہے کہ Pop Mart کی دکانوں میں قطاریں لگنے لگی ہیں ۔ Douyin پر ہر دوسری ویڈیو لبوبو کی۔ Xiaohongshu پر “My Healing Corner with Labubu” جیسے ہیش ٹیگ وائرل ہوئے ۔ اور مارکیٹ؟ وہ تو پاگل ہو گئی۔
ایک عام لبوبو باکس 59 RMB میں ملتا تھا، مگر rare editions جیسے “Golden Labubu”, “Crystal Ghost”, یا “10th Anniversary” ایڈیشنز کی قیمتیں 8000 سے 18000 RMB تک جا پہنچیں۔ کچھ تو 2600 امریکی ڈالر میں نیلام ہوئے۔
بلیک مارکیٹ، ڈجیٹل نیلامی، کولیکٹرز کی دوڑمیں سب سے آگے نظر آتے ہیں اور لڑکیوں کا یہ کہنا کہ “لبوبو میرے دل کا وہ حصہ ہے، جو کسی کو دکھایا نہیں جا سکتا مگر اسے گلے لگایا جا سکتا ہے۔”
کیا یہ صرف کاروبار ہے ؟ نہیں یہ ان کے مطابق آج کے تنہا دل کی ایک خاموش دعا ہے۔
اگلے دن میں نے اپنے گھر کے قریب مکسی مال کے Pop Mart سٹور پر دوبارہ جانا چاہا۔ میری دوست نے بتایا کہ لبوبو کا ایک نیا ورژن آیا ہے
“Fairy Forest Edition”۔
میں نے قیمت پوچھی RMB 89 سے 129 یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 3500 سے 6000 روپے فی کھلونا۔ اگر Rare Edition ہو، تو قیمت 30000 روپے سے بھی اوپر جا سکتی ہے!
دکاندار نے بتایا “یہ کھلونے صرف بچے نہیں خریدتے، بڑے لوگ انہیں بطور سرمایہ بھی رکھتے ہیں۔” یہ بات میرے دل میں چبھی ۔ کیا بچپن کا مطلب صرف nostalgia کا بیوپار رہ گیا ہے؟
کیا اب کھلونا وہی قیمتی ہے جو مہنگا ہو، یا جو محدود ہو؟
کیا دل سے بنایا گیا رشتہ بھی اب پلاسٹک میں ڈھال دیا گیا ہے؟
چین اور کوریا میں لڑکیوں کی ایک نئی نسل لبوبو کو “ugly-cute” کہتی ہے یعنی وہ پیارا ہے کیونکہ وہ عجیب ہے۔
دنیا نے ہمیشہ بتایا کہ خوبصورتی بڑی آنکھیں، باریک ناک، یا گلابی ہونٹ ہیں۔ لبوبو نے کہا نہیں، خوبصورتی وہ ہے جو اندر کے ٹوٹے ہوئے پن کو سچائی سے دکھا دے اور شاید اسی لیے لبوبو therapy toy بن گیا۔
چین کی یونیورسٹیوں میں، دباؤ اور تنہائی میں گھری لڑکیاں لبوبو کے ساتھ تصویریں لیتی ہیں، diary لکھتی ہیں، رات کو گلے سے لگا کر سوتی ہیں۔
2025 میں چین کے شہروں ۔ بیجنگ، شنگھائی، شینزین میں Labubu Cafés کھل چکے ہیں۔
Labubu-themed مشروبات، cupcakes، نشستیں، اور دیواروں پر لبوبو کے جملے: “تم جیسے ہو، ویسے ہی قیمتی ہو۔”
Pop Mart نے ایک World Tour Mini Museum بھی لانچ کیا جس نے کوریا، جاپان، سنگاپور، اور اب یورپ تک قدم رکھ دیے۔
چین میں اب لبوبو صرف کھلونا نہیں، بلکہ identity کا اظہار ہے خاص طور پر نوجوان لڑکیوں کے لیے، جو “soft but sad” culture کو اپناتی ہیں۔
ان دنوں تقریبا” ہر لڑکی نے اپنے ہاتھ میں ایک ننھا سا کھلونا تھام رکھا ہے ۔ بڑے بڑے کان، باہر نکلتے دانت، اور الجھی سی آنکھیں۔ وہ اس کے ساتھ ایسے تصویر بنوا رہی ہوتی ہیں جیسے کوئی محبوب چیز ہو۔
Pop Mart کی روشنیوں سے لے کر سوشل میڈیا پر لڑکیوں کی چیخوں تک لبوبو ہر طرف تھا۔شاید میں کسی اور دنیا میں آ چکی تھی۔
ایک شام جب میری چینی دوست نے کہا “چلو، تمہیں لبوبو دکھاتی ہوں!”
تو میں نے دل میں کہا “بس یہی دیکھنا باقی رہ گیا ہے لیکن اس بار میں نے سوچا کہ اسے اب اپنی تحریر کا حصہ بناؤ گی ”
“میں دیکھ چکی ہوں اور اس کے بارے میں بہت کچھ جانتی ہوں “ میں نے مسکراتے ہو ئے کہا
ہم Pop Mart کی ایک برانچ میں داخل ہوئے۔ شیشے کے ڈبوں میں رنگ برنگی لبوبو گڑیاں سجی تھیں کوئی سونے کی، کوئی چمکدار، کوئی پری، کوئی روح۔ لڑکیاں قطار میں لگی تھیں، اور ہر ایک کے ہاتھ میں بند ڈبہ تھا جیسے قسمت کا کوئی سندیسہ کھول رہی ہوں۔
یوئن نے خوشی سے کہا،اس بار اگر ‘Ghost Labubu’ نکل آیا تو میں رو دوں گی۔”اور میں؟
میں خاموشی سے ان سب کو دیکھتی رہی ایک اجنبی پن کے ساتھ، جیسے کوئی اپنی زمین پر کسی اور زبان کی پکار سن رہا ہو۔
میں نے یوئن سے پوچھا،
“یہ اتنا خاص کیوں ہے؟”
اس نے بڑی سنجیدگی سے کہا ۔ لبوبو ugly ہے، لیکن سچ ہے۔ ہم سب لبوبو ہیں، تھوڑے بگڑے، تھوڑے تنہا۔
میں نے لبوبو کو ہاتھ میں لیا وہ واقعی عجیب تھا۔ معصوم بھی، مگر کسی خواب سے بچھڑا ہوا۔مگر میرا دل اس سے نہ جڑ سکا۔ نہ اس کی خاموشی سے، نہ اس کے بکھرے پن سے۔مجھے لبوبو میں وہ گڑیا نظر نہ آئی، جو میرے بچپن کی ساتھی تھی ۔
یوئن نے لبوبو مجھے تحفہ کے طور پر دیا اور کہا یہ تمھیں ہمیشہ میری یاد دلاتا رہے گا ۔ میں نے بے ساختہ کہا یوئن تم اس گڑیا سے زیادہ پیاری ہو ۔
اب جب بھی میں شاپنگ مال جاتی ہوں، تو لبوبو ہر طرف ہوتا ہے موبائل کور پر، کپ پر، جوتے کے نشان پر ۔ تکئیے پر ، چادر پر ۔ کی چین اور بالوں کی کلپ سے لے کر جیولری تک میں نظر آتا ہے
کیا یہ کھلونا ہے؟ یا کوئی علامت؟ یا شاید آج کے انسان کا آئینہ؟
چین میں اب لبوبو صرف کھلونا نہیں، بلکہ identity کا اظہار ہے خاص طور پر نوجوان لڑکیوں کے لیے، جو “soft but sad” culture کو اپناتی ہیں۔
لبوبو شاید آج کی نسل کا سچ ہے، مگر وہ میرے خواب کا ساتھی نہیں۔
اور شاید ہر سفر میں ایک راستہ ایسا بھی ہوتا ہے جو سب کے لیے ہو، مگر آپ کے لیے نہیں۔ان دنون چین سے اُڑ کر یہ گڑیا جب پاکستان کی زمین پر اُتری، تو اس کے کانوں کی لمبائی، دانتوں کی بے ترتیبی اور آنکھوں کی بھٹکی ہوئی معصومیت نے ہر نظر میں سوال بُو دیے۔
کچھ نے کہا “واہ! کیوٹ ہے، یونیک ہے!”
اور کچھ نے ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے فرمایا
“یہ ہے کیا؟ خوفناک سی لگتی ہے۔”
یہ گڑیا نہیں، جیسے دل کے ذائقے کا امتحان تھی۔
کراچی کی کسی فینسی شاپ میں، یا لاہور کے کسی جدید بوتیک کے گوشے میں لبوبو اب دکھائی دینے لگی ہے۔وہ نوجوان لڑکیاں، جنہوں نے کبھی باربی کی چمک دیکھی تھی، اب لبوبو کے خاکی چہرے سے اپنے آپ کو جوڑنے لگی ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کیا واقعی یہ “پسند” ہے؟
یا ایک رجحان؟ یا وہ خلاء جو کسی سچی بات کے بجائے کسی عجیب شئے سے پُر ہو رہا ہے؟ اسلام آباد سے ایک ویلاگر لڑکی کہتی ہے
لبوبو مجھے میرے anxiety attacks سے نکالتا ہے۔ میں اسے دیکھتی ہوں اور ہنستی ہوں کیونکہ وہ میرے جیسا ہے تھوڑا بکھرا، تھوڑا تنہا اور اسی شہر کی ایک اور لڑکی نے کہا
مجھے ڈر لگتا ہے اس کھلونے سے۔ جیسے کوئی آپ کو دیکھ رہا ہو، پر ہنس بھی رہا ہو۔”
لبوبو کی مقبولیت صرف جمالیات پر مبنی نہیں، ذہن کے حال پر مبنی ہے۔ وہ لوگ جو دنیا کی مکمل شکلوں سے تھک چکے ہیں، وہ اس ادھورے کھلونے کو اپنا عکس سمجھتے ہیں۔
پاکستان میں لبوبو کی قیمت عام طور پر 3500 سے 7000 روپے کے درمیان ہے، لیکن اگر کوئی rare edition ہو، تو قیمت 15000 روپے سے بھی اوپر چلی جاتی ہے۔
مگر خریدنے والے اب بھی ایک مخصوص طبقے سے تعلق رکھتے ہیں زیادہ تر شہری، اپر مڈل کلاس لڑکیاں، یا سوشل میڈیا انفلوئنسرز ہیں ۔۔
باقی لوگ، جن کی دنیا میں آج بھی “پیارے کھلونوں” کی جگہ ہے، وہ لبوبو کو دیکھ کر سر جھٹک دیتے ہیں۔
کیا ہم واقعی اس کھلونے سے جڑتے ہیں؟ یا سوشل میڈیا نے ہمیں قائل کر لیا ہے کہ ہمیں اس سے جُڑنا چاہیے؟
کیا لبوبو واقعی ہماری اندرونی حقیقت ہے یا بس ایک چینی برانڈ کی کامیاب پیشکش؟ یہ سوال کھلا ہے۔
مگر یہ طے ہے کہ لبوبو ایک عہد کی علامت بن چکا ہے ۔ ایک ایسا کھلونا جو ہمیں اپنے آپ سے سوال کرواتا ہے
“ہم کتنے مکمل ہیں؟ اور اگر نہیں، تو کیا ہم خود کو قبول کرتے ہیں؟”
پاکستان کی سرزمین پر جب چین کی گڑیا “لبوبو” نے قدم رکھا، تو کچھ آنکھیں چمکیں، کچھ لب مسکرائے، اور کچھ دل دھڑک اٹھے تیزی سے پاکستانی سوشل میڈیا پر اس کی خبریں گردش کرنے لگیں مگر کچھ نگاہیں جھک گئیں، اور کچھ دلوں نے کراہ کر سوال اٹھایا
“کیا یہ ہمارے بچوں کے لیے ہے؟”
اسلام ایک ایسا دین ہے جس نے تزکیۂ نفس، طہارتِ نظر اور حسنِ اخلاق کو زندگی کی بنیاد بنایا ہے۔ ہر شے جو دل کو غیر فطری خوف، الجھن یا فتنہ میں ڈالے، اس پر قرآن اور سنت خاموش نہیں۔
لبوبو کی شکل و صورت بڑی بڑی کانیں، باہر نکلتے دانت، اور کسی حد تک “جناتی” یا “ماورائی” تاثر جب معصوم بچوں کے کمزور دل و دماغ سے ٹکراتی ہے، تو روحانی ماؤں اور علما کے لیے سوال بنتی ہے
“کیا یہ کھیل ہے یا شعور کی تشکیل کا ایک نیا سانچہ؟”
اسلامی فقہ میں تصویری شکلوں، خاص طور پر ایسی شکلوں کا بنانا یا رکھنا جو جانداروں کی ہو اور غیر ضروری ہو، ہمیشہ ناپسندیدہ رہا ہے۔
لبوبو کی موجودہ شکل جسے کچھ علماء “creepy” اور “jin-like” قرار دیتے ہیں اسلامی معاشرت میں ایک نرم فتنہ کی مانند ابھری ہے۔ نہ بالکل حرام کہ دیا جائے، نہ مکمل حلال۔
حالیہ مہینوں میں کئی پاکستانی والدین نے مساجد میں علما سے استفسار کیا “کیا یہ کھلونا گھر میں رکھنا جائز ہے؟ “کیا بچے کے کمرے میں اس جیسی شکل والا کھلونا رکھنا روحانی اثر ڈال سکتا ہے؟”
علماء کا عمومی رجحان یہ ہے کہ اگر کوئی کھلونا خوف، بدصورتی، یا غیر شرعی تصور کو فروغ دے رہا ہو،اگر وہ بچے کو جناتی، شیطانی، یا ماورائی اشکال سے مانوس کر رہا ہو اور اگر وہ معصوم ذہن کو حقیقی جمالیات سے ہٹا رہا ہو، تو وہ کھلونا ناپسندیدہ (مکروہ) اور بعض اوقات روحانی ضرر کا باعث ہو سکتا ہے۔
اسلامی ذہن رکھنے والے والدین لبوبو کو صرف ایک کھلونا نہیں، ثقافتی اثر سمجھتے ہیں جو باہر سے آ رہا ہے، مگر اندر کے نظریات کو چپ چاپ بدل رہا ہے۔
جہاں اسلام ہمیں روشنی، توازن، جمال اور فطرت کی طرف بلاتا ہے، وہاں لبوبو جیسی مخلوق ابہام، بےچینی اور غیر فطری جمالیات کی نمائندہ بن رہی ہے۔ لبوبو کی کہانی ابھی نئی ہے، مگر اسلامی نقطۂ نظر سے یہ سوال پرانا ہے “کیا ہر وہ شے جو مقبول ہو، مفید بھی ہوتی ہے؟” شاید نہیں اور شاید ہر ماں کے دل میں ایک چھوٹا سا مفتی چھپا ہوتا ہے ۔ جو کہتا ہے “یہ نہیں، بیٹا، یہ نہیں…”
اس موضوع پر مزید تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ پاکستان میں کئی دینی علماء اور مفتیان کرام نے جدید، “خیالی مگر خوفناک” کھلونوں کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔
1. چہرہ بگاڑنے والے کھلونے:
شریعت میں ایسی اشیاء کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے جو تخلیقِ الٰہی کا مذاق اڑائیں یا ایسی مخلوق کی شبیہ بنائیں جو شیطانی یا جنّاتی ہو۔
لبولبو کے دانت، اس کی عجیب سی آنکھیں، اور اُس کی wild سی جسمانی ساخت اکثر والدین کو غیرمناسب لگتی ہے۔
2. روحانی اثرات:
علماء کی رائے میں ایسے کردار جو خوف اور غیر معمولی صفات رکھتے ہوں، بچوں کی روحانی نشوونما پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔
ایک دینی اسکالر نے یوٹیوب پر تبصرہ کیا:
“بچوں کو جنوں، آسیب، اور دیو کی مخلوقات سے مانوس کرنا اُن کے فطری امن کو متاثر کرتا ہے۔”
3. مغرب زدگی اور ثقافتی یلغار:
کئی اسلامی اسکالرز کا ماننا ہے کہ یہ کھلونے صرف ظاہری شکل میں ہی عجیب نہیں، بلکہ تہذیبی حملے کا خاموش ہتھیار ہیں۔
یہ ہمارے بچوں کو اُن کہانیوں سے دور کر رہے ہیں جن میں حضرت لقمان کی دانائی، اصحاب کہف کی وفاداری، یا حضرت یوسف کی پاکیزگی کا سبق
پاکستان میں زیادہ تر دکان داروں نے بتایا کہ لبولبو جیسے غیر ملکی کھلونے ابھی نایاب ہیں، اور اگر آتے بھی ہیں تو زیادہ تر نوجوان کالج یا یونیورسٹی کے طلبہ انہیں بطور ‘collectibles’ خریدتے ہیں۔
شاید لبولبو صرف کھلونا نہیں ایک نظریہ ہے۔ ایسا نظریہ جو آزادی کا، انفرادیت کا، اور فنکارانہ سوچ کا دعویٰ کرتا ہے مگر ہمارے معاشرے کے اسلامی مزاج میں اسے “خودسری”، “بےخوفی”، اور “نرم شر” کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
پاکستانی والدین کا خدشہ یہ نہیں کہ بچہ کھلونا دیکھ کر روئے گا بلکہ یہ ہے کہ کہیں وہ اُس کردار کو “آئیڈیل” نہ سمجھ لے۔
کہیں وہ دانت نکالتے ہوئے شرارتی لبولبو میں “مظلومیت” یا “ہمدردی” تلاش نہ کرے اور کہیں یہ سب اُس کے دل سے اللہ کے ڈر، حیاء اور ادب کو کم نہ کر دے۔
چین کی شامیں بھی عجیب ہوتی ہیں آسمان پر سورج دیر تک رُکنے کی ضد کرتا ہے، جیسے کسی بچے کی ضد ہو کہ کھیل ابھی ختم نہ ہو۔
میرے ہاتھ میں یوئین کا دیا تحفہ لبوبو تھا جو اپنے دانت نکالے، اپنی مخصوص شرارتی مسکراہٹ لیے جیسے مجھے ہی دیکھ رہا تھا ۔ میں نے اُسے میز پر رکھا، اور خود اپنے خیالات کے جنگل میں نکل گئی۔میرے وطن میں ایسا کیوں نہیں؟
دل میں ایک سوال اُبھرا
“کیا کبھی میرے پاکستان میں بھی ایسے کھلونے ہوں گے؟ ایسے کردار، جو صرف دلچسپ نہ ہوں بلکہ سبق آموز بھی ہوں؟”
میرے ذہن میں ایک تصور بننے لگا۔ ایک چھوٹا سا کھلونا، جس نے سفید دوپٹہ اوڑھا ہو، ہاتھ میں تسبیح ہو، چہرے پر سکون ہو یا ایک ننھا مجاہد، جو بچوں کو جھوٹ سے دور رکھے، سچائی کا راستہ دکھائے۔
میں نے لبولبو کی طرف دیکھا وہ مجھے بالکل غیر مانوس لگا۔ نہ اُس میں وہ پاکیزگی تھی، نہ وہ سادگی، نہ وہ نور جو میری تہذیب میں بچپن سے پروان چڑھا۔ کھلونوں سے تربیت؟ کیا یہ ممکن ہے؟
چینی بچوں کو دیکھتی ہوں لبولبو، مولی، ڈیمو، ہر ایک کے ساتھ وہ جڑ جاتے ہیں جیسے دوست ہو۔ کیا یہ محض کھلونے ہیں؟ نہیں… یہ دراصل کردار سازی کے خاموش ہتھیار ہیں۔
تو پھر ہم کیوں خاموش ہیں؟ ہمارے بچے کیوں صرف Barbie، Batman یا اب لبولبو سے مانوس ہیں؟ کہاں ہیں وہ کھلونے جو حضرت علیؓ کی دانائی، حضرت فاطمہؓ کی شفقت، یا امام حسینؓ کی قربانی کا تصور دیں؟
میری آنکھوں کے سامنے ایک مکمل منظر کھلنے لگا
ایک چھوٹا سا کھلونا بازار ہے ۔ کراچی ، لاہور یا سوات کی کسی گلی میں۔ دکان کی الماری میں گڑیا ہے مشرقی لباس میں جو سر پر دوپٹہ لیے بیٹھی ہے۔ ایک گڈا ہے جو پگڑی باندھے بچوں کو سلام سکھاتا ہے۔ ایک اور کھلونا ہے جو درخت لگا رہا ہے، ساتھ ہی ایک تختی: “زمین اللہ کی امانت ہے۔”
کاش! میں نے دل میں کہا کاش یہ خواب حقیقت بنے۔
یہ سوال بھی ذہن میں آیا کہ کیا فن اسلامی ہو سکتا ہے؟
کیا ایک کھلونا، جو دل کو لبھائے، نظر کو بھائے، مگر ساتھ ہی دل کو سیدھی راہ دکھائے، ممکن ہے؟
چین میں بیٹھ کر بھی مجھے پاکستان کی گلیاں، مدارس کی رونق، اور امی کی سنائی ہوئی وہ کہانیاں یاد آ رہی تھیں “حضرت یونسؑ مچھلی کے پیٹ میں”،“اصحاب کہف کی نیند” واقعہ کربلا “، “حضرت خدیجہؓ کا سچّا کاروبار” یہ سب وہ کردار تھے جو ہمارے دل کے کھلونے تھے۔
مگر آج کے بچوں کے ہاتھ میں کیا ہے؟
ایک دانت نکالتا لبولبو؟ یا ایک Barbie جو حیا سے خالی ہے؟
یا ایک Superhero جو طاقتور تو ہے، مگر اطاعت گزار نہیں؟
میں نے فیصلہ کیا شاید میرے ہاتھ میں لکڑی، پلاسٹک یا کاروبار کا ہنر نہیں۔مگر میرے پاس قلم ہے، خواب ہے، اور دعا ہے۔
میری خواہش ہے کہ پاکستان میں کوئی ایسا شخص اٹھے ۔ جو کھلونوں کو صرف “کھیل” نہ سمجھے، بلکہ تربیت کا چراغ بنائے۔ جو بچوں کے لیے وہ کردار بنائے جنہیں دیکھ کر وہ محبت، سچ، حیا، قربانی اور دعا سیکھیں۔ میں نے لبولبو کو آہستہ سے الماری کے خانے میں رکھ دیا۔
نہ نفرت سے، نہ غصے سے بس ایک نرمی سے، جیسے کسی خواب کو “خیر باد” کہنا ہو۔ اور ایک نئی ڈائری کھولی اور پہلے صفحے پر لکھا
“ایک دن ایسا کھلونا ہوگا
جو بچوں کو صرف ہنسائے گا نہیں
بلکہ اُنہیں اللہ کے قریب لے جائے گا…”