Blog

  • چینی خواتین اور سوشل میڈیا کے اثرات …..ارم  زہرا

    چینی خواتین اور سوشل میڈیا کے اثرات …..ارم زہرا

    اس بار شنگھائی کے بازار نہیں، کیمپس کی رونقیں نہیں، بلکہ ایک عجیب سی خاموش چہچہاہٹ میرے سفر کی منزل بنی ۔ایک ایسی دنیا جہاں آوازیں ٹیکسٹ بن جاتی ہیں اور جذبات فالوورز میں بدل جاتے ہیں۔میں جس کیفے میں بیٹھی تھی، وہاں ہر میز پر ایک اسمارٹ فون جگمگا رہا تھا۔ کوئی لائیو تھا، کوئی فیس فِلٹر آزما رہا تھا، کوئی TikTok پر ٹرانزیشن کے لیے چائے کو اٹھا کر نیچے رکھ رہا تھااور ہر دوسرا چہرہ عورت کا تھا۔نوجوان لڑکیاں، مائیں، یہاں تک کہ بزرگ خواتین تک، ایک نئی زبان بولنے لگی تھیں سوشل میڈیا کی زبان۔ ایک دوپہر، میں ژیا ہونگ شو چینی انسٹاگرام کی ایک اسٹار بلاگر سے ملی اس کا نام تھا آن لی۔ نرم چہرہ، میک اپ کی ہلکی تہہ، اور اسکرین کے پیچھے چھپی ایک ماں۔اس کے دس لاکھ فالوورز تھے، مگر وہ خود بھی حیران تھی ۔تم جانتی ہو؟ میں نے صرف اپنے بیٹے کے ساتھ لنچ کی تصویر شیئر کی تھی اور سب نے کہنا شروع کیا تم ماں ہو کر بھی خوبصورت ہو! جیسے ماں ہونا ایک کمزوری ہومیں اس کی بات سن کر کچھ لمحوں کو ساکت رہ گئی۔ کیا ہم سب عورتیں، اسکرین پر خود کو ثابت کرنے کی دوڑ میں شامل ہو چکی ہیں؟چینی خواتین اب صرف گھروں کی زینت نہیں رہیں۔ سوشل میڈیا نے ان کے ہاتھوں میں طاقت، پلیٹ فارم، اور پہچان تھما دی ہے مگر اس کے ساتھ ہی ان پر خوبصورتی، مکمل ماں ہونے، مہذب بولنے اور ہر لمحہ پرفیکٹ دکھنے کا دباو بھی ڈال دیا ہے۔ایک نوجوان طالبہ، جیا وجیاو، نے بتایا کہ وہ روزانہ وی لاگ بناتی ہے:اگر میں دو دن ویڈیو نہ اپلوڈ کروں، تو فالوورز ناراض ہو جاتے ہیں۔ میں نے پوچھا۔ اور تم تھکتی نہیں ہو کبھی۔ وہ خاموش ہو گئی۔ پھر آہستہ سے بولی یہاں، پر میں دکھا نہیں سکتی۔ یہاں دکھ کم اور تصویر زیادہ اہم ہے۔شنگھائی کی شامیں جیسے بڑی اسکرینوں پر فلم بن چکی تھیں۔ ہر خاتون چاہے وہ اسٹور کی سیلز گرل ہو یا مووی بلاگر کسی نہ کسی لینز میں قید ہو چکی تھی۔ایک اور لمحہ، جب میں میٹرو میں سفر کر رہی تھی، ایک ماں اپنی بچی کو روٹی کھلاتے ہوئے ویڈیو بنا رہی تھی مگر بچی کے چہرے پر خوشی نہیں، بیزاری تھی۔میں نے سوچایہ دکھ ہم نے خود چنا ہے؟ یا ہمیں دکھایا گیا ہے کہ بس ایسے جیو تاکہ پسند کیے جاوچین کی یہ خواتین سوشل میڈیا پر طاقتور، مگر نجی زندگی میں اکثر تنہا۔کسی کے 1 ملین فالوورز ہیں، مگر رات کو صرف نیند کی گولی ساتھ ہے۔کسی کی ویڈیوز وائرل ہیں، مگر دل ویران۔میں نے آن لی سے پوچھاتم اگر یہ سب بند کر دو، کیا خوش رہو گی؟اس نے قدرے توقف سے کہامیں شاید خاموش ہو جاوں، پر آزاد ہو جاوں گی۔چین کی جولائی کی وہ سہ پہر تھی، جب ہوا ہلکی سی گرم تھی، لیکن بارش کی نمی نے اسے خوبصورت بنا دیا تھا۔ میں شنگھائی کے ایک بڑے مال میں تھی رنگ برنگی دکانیں، سجی سجائی بیوٹی شیلوز، اور ہر طرف جگمگاتی روشنیاں۔میری نظریں ایک میک اپ کاونٹر پر ٹھہر گئیں۔ وہیں چند نوجوان چینی لڑکیاں کھڑی تھیں، ایک بیوٹی کنسلٹنٹ ان کے چہرے پر وائٹننگ فاونڈیشن لگا رہی تھی اور لڑکیاں آئینے میں خود کو دیکھ کر مطمئن تھیں، جیسے کسی خواب کو چھو لیا ہو۔ میں چونکی۔کیا خوبصورتی واقعی سفید ہونے سے جڑی ہے؟میرا دل آہستہ سے جیسے سوال کرنے لگا۔چین میں خوبصورتی کا معیار اب بھی ایک پرانی روایت سے جڑا ہوا ہے سفید چمکتا رنگ۔نوجوان لڑکیاں اسکول سے لے کر یونیورسٹی، پھر سوشل میڈیا تک، ہر جگہ fair, clear, porcelain skin کے خواب لے کر پھرتی ہیں۔وانگ لی جو ایک بیوٹی یوٹیوبر ہے، اس نے مجھے بتایامیں باہر نکلنے سے پہلے SPF 50+ لگاتی ہوں، چھتری لیتی ہوں، اور ہاتھوں پر دستانے پہنتی ہوں تاکہ جلد سانولی نہ ہو۔میں نے حیرانی سے پوچھاکیوں؟اس نے کہا کیونکہ چینی لڑکیاں گوری دکھیں، تبھی حسین مانی جاتی ہیں۔شنگھائی کی ایک بڑی بیوٹی شاپ میں میں نے درجنوں کریمیں دیکھیںSkin Lightening Cream, Snow Aura BB, Whitening Day Serumمیں نے ایک سیلز گرل سے پوچھایہ سب واقعی جلد کو سفید کرتی ہیں؟وہ مسکرائی اور آہستہ سے بولی یہ خواب بیچتی ہیں، اصل نہیں۔ مگر خواب ہی تو سب کچھ ہے۔یونیورسٹی کی ایک طالبہ ژاو مِن نے بتایا کہ بچپن میں اس کی ماں اسے کہتی تھی سورج میں مت نکلو، تم کالی ہو جاو گی، پھر کوئی پسند نہیں کرے گا۔میں نے محسوس کیا صرف رنگت ہی نہیں، قبولیت کا خوف بھی اس سفیدی میں چھپا ہوا ہے۔یہ صرف ایک بیوٹی ٹرینڈ نہیں، یہ ایک خاموش جنگ ہے خود سے، معاشرے سے، اور آئینے سے۔سوشل میڈیا پر ہر فلٹر، ہر فیس ایپ، لڑکی کو تھوڑا اور گورا کر دیتا ہے۔TikTok، Xiaohongshu، Douyin ہر جگہ لڑکیاں سفید اور نازک دکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔میئی لی، جو ایک ماڈل ہے، اس نے کہااگر میں تھوڑی گہری رنگت میں ویڈیو لگاوں، لوگ کہتے ہیں بیمار لگ رہی ہو۔ سفید رنگ صحت کی علامت ہے، کامیابی کی علامت ہے۔میں نے سوچا کیا سفید چہرہ اب خوشی، دولت اور عزت کا نشان بن چکا ہے؟ یا یہ سب ایک مارکیٹنگ کا جادو ہے؟شہر سے باہر، جب میں ایک گاوں گئی، تو وہاں لڑکیاں سورج میں کام کرتی تھیں۔ ان کے چہرے سانولے تھے، مگر آنکھوں میں سکون تھا۔ایک لڑکی، آئی لین، جو چاول کے کھیت میں کام کر رہی تھی، اس نے ہنستے ہوئے کہا ہمیں سانولا ہونے پر شرمندگی نہیں، ہم تو سورج کی بیٹیاں ہیں! اس کی بات نے میرے دل کو جیسے چھو لیا ہو۔سچ کی روشنی ہمیشہ سفید نہیں ہوتی کبھی کبھی وہ مٹیالی ہوتی ہے، مگر سچی ہوتی ہے۔اس سفر نے مجھے میرے ہی آئینے کے سامنے لا کھڑا کیا۔میں نے سوچا کیا کبھی میں نے بھی اپنی جلد کو کمتر سمجھا؟ کیا کبھی میں نے بھی whiteness کو برتری کا معیار جانا؟میں نے اس لڑکی کے چہرے پر میک اپ کی کئی تہیں دیکھی،پر جو چمک اس کی آنکھوں سے نکل رہی تھی، وہ کسی فاونڈیشن سے نہیں،اندر کے یقین سے تھی۔چین کی بیوٹی انڈسٹری، سوشل میڈیا، اور ماں کی نصیحتیں سب لڑکی کو بتاتی ہیں خوبصورتی سفید چمک میں ہے۔مگر حقیقت یہ ہے کہ خوبصورتی احساس میں ہے اور رنگت، اس کا صرف ایک رنگ ہے، مکمل تصویر نہیں۔میں اس جولائی کے سفر کے بعد جان گئی ہوں۔ ہر چہرہ خوبصورت ہوتا ہے جب وہ خود کو قبول کر لے، خواہ وہ چینی ہو یا پاکستانی، سانولا ہو یا گورا۔جب میں شنگھائی سے ہانگژو کی طرف روانہ ہوئی تو راستے میں بارش شروع ہو گئی۔ کھڑکی کے پار نمی میں لپٹی کھیتیاں، ندیوں کے کنارے پر اٹھتی دھند، اور بجلی کے کھمبوں کے بیچ چمکتی روشنی۔ جیسے سب کچھ کسی فلم کا سین ہو۔ مگر میرے دل میں جو فلم چل رہی تھی، وہ حقیقت کی تھی۔اب تک میں سوشل میڈیا پر چینی خواتین کے چمکتے چہرے دیکھ چکی تھی ہر تصویر میں ایک جیسا سفید پن، ایک جیسی پرفیکٹ اسکن، جیسے سب نے ایک ہی فانڈیشن سے خود کو ڈھک رکھا ہو۔ مگر میں جانتی تھی کہ یہ صرف رنگت نہیں، یہ قبولیت کی جنگ ہے۔ میں اب ان کے ادھورے لمحے، دبے ہوئے جذبے، اورا سکرین سے باہر کی کہانیاں جاننا چاہتی تھی جہاں چمک نہیں، سچائی سانس لیتی ہے ہا نگژو میں میری ملاقات ہوئی لیو فینگ سے وہ ایک معروف بیوٹی انفلوئنسر تھی، جس کے ویڈیوز میں وہ روزانہ نیا میک اپ کرتی، تاْزہ کپڑے پہنتی، اور ہر بار کیمرے کے سامنے خوش دکھتی۔لیکن جس دن ہم ملے، وہ تھکی ہوئی تھی، اس کی آنکھوں کے نیچے حلقے تھے۔آج تم ویڈیو نہیں بنا رہیں؟میں نے پوچھا۔ وہ مسکرائی ایک بیرنگ مسکراہٹ، اور بولی آج میں بس جینا چاہتی ہوں۔ خود کو
    دکھانا نہیں چاہتی۔میں چپ چاپ اس کے سامنے سے اٹھ گئی اور سوچتی رہی سوشل میڈیا نے ہمیں آواز دی، مگر کیا ہم نے خود کو کھو بھی تو نہیں دیا؟میں نے کئی خواتین کو دو الگ دنیا میں جیتے دیکھا۔ 1. سوشل میڈیا پر: پرکشش، ہنستی ہوئی، مکمل 2. حقیقی زندگی میں: تھکی ہوئی، سوال کرتی، خاموش میں نے ایک ماں کو دیکھا جو دن میں گھر میں جھاڑو دیتی، اور شام کو TikTok پر موٹیویشنل ویڈیوز بناتی ہے اس نے بتایالوگ کہتے ہیں میں انہیں حوصلہ دیتی ہوں اور مجھے لگتا ہے میں خود اندر سے ٹوٹ رہی ہوں۔یہ تضاد صرف چین کا نہیں، ہماری دنیا کی خواتین کا ہے جہاں ہم سچ سے زیادہ نظر آنے والے سچ کو اہمیت دیتے ہیں۔ایک نوجوان لڑکی، میئی لن جو ابھی یونیورسٹی میں پڑھتی ہے۔ اس نے مجھے بتایا کہ وہ روز صبح اٹھتے ہی ژیا وہونگ شو کھولتی ہے۔میں دیکھتی ہوں کہ باقی لڑکیاں کیا پہن رہی ہیں، کیا کھا رہی ہیں، کہاں جا رہی ہیں اور مجھے لگتا ہے میں پیچھے ہوں۔میں نے اس کی طرف دیکھا۔ وہ ذہین تھی، سادہ تھی، مگر اپنے ہونے پر غیر مطمئن۔ یہی سب سے بڑا اثر ہے سوشل میڈیا کا:ہم وہ بننا چاہتے ہیں، جو ہم نہیں ہیں کیونکہ ہم وہ دیکھ رہے ہیں، جو حقیقت نہیں۔چین میں کئی خواتین نے سوشل میڈیا سے خود کو آزاد بھی کیا کاروبار کھولے، خیالات بیان کیے، عورتوں کے حقوق پر بات کی۔چن یان ایک فیمنسٹ پوڈکاسٹر ہے۔ اس نے مجھے بتایا:یہ پلیٹ فارم اب صرف بیوٹی یا پکوان کے لیے نہیں، ہم یہاں اپنے مسائل، اپنی زبان میں بیان کرتے ہیں۔لیکن جیسے ہی وہ معاشرتی یا خاندانی دباو پر بات کرتی ہے، کئی بار اس کے ویڈیوز سنسر ہو جاتے ہیں۔ہمیں سوشل میڈیا نے زبان دی ہے، مگر یہ زبان اگر زیادہ سچ بولے تو بند بھی کی جا سکتی ہے۔ یہ جملہ میرے دل میں چبھ گیا۔شہر کی چمک کے بعد، دیہی علاقے کی طرف اگر نظریں دوڑائی جائیں تو یہاں انٹرنیٹ تو ہے، مگر رفتار کم ہے۔مگر حیرت انگیز طور پر، یہاں بھی خواتین موبائل ہاتھ میں لے کر لائیو جا رہی تھیں ۔کبھی چاول بناتے ہوئے، کبھی سلائی کرتے ہوئے۔ہمیں لگا تھا ہم پیچھے رہ گئے، پر اب ساری دنیا ہمیں دیکھ سکتی ہے!ایک خاتون، جن کا نام آئی چن تھا، نے خوشی سے کہا۔یہاں سوشل میڈیا اظہار کا ذریعہ بنا، نہ کہ موازنہ یا مقابلہ۔یہ فرق میرے دل میں امید کی شمع روشن کر گیا۔سوشل میڈیا نے خواتین کو اظہار کی طاقت تو دی، مگر رشتوں سے دوری بھی دی۔ایک ماں نے کہامیری بیٹی میرے ساتھ کھانا نہیں کھاتی، وہ اپنے فالوورز کے ساتھ ورچوئل ڈنر کرتی ہے۔کیا ہم دکھانے کے چکر میں جینے سے غافل ہو چکے ہیں؟میں جب آئینے کے سامنے کھڑی تھی چہرہ تھکا ہوا، آنکھوں میں سوال تھا تو دل نے کہا۔سوشل میڈیا نے ہمیں دوسروں سے جوڑ دیا مگر کیا ہم خود سے بھی جڑے رہ گئے ہیں۔ یہ سفر اب محض ملکوں، شہروں یا چہروں کا نہیں رہا۔یہ ایک اندرونی تلاش ہے کہ عورت چاہے چین میں ہو یا کہیں اور، وہ سچ بولنے، خود کو پانے، اور سکون کی تلاش میں ہے۔سوشل میڈیا ایک آئینہ ہے کبھی حقیقت دکھاتا ہے، کبھی فریب۔چینی خواتین اب اپنی کہانیاں لکھ رہی ہیں کبھی وی لاگ میں، کبھی نظموں میں، کبھی خاموشیوں میں۔ ہمیں بس ان کی بات سننی ہے بغیر فِلٹر کے۔ مگر سوشل میڈیا سے ہٹ کر اگر مضافات کی خواتین کے بارے میں بات کی جائے تو ان کی آنکھوں میں، ان کے لبوں کی دراڑوں میں، ان کے سروں پر بندھے سادہ اسکارفوں میں، ان کی ہتھیلیوں کی خاموش لکیروں میں ایسی سچائیاں چھپی ہیں، جو کسی ویڈیو میں کیپچر نہیں ہو سکتیں، بس محسوس کی جا سکتی ہیں ۔ دل کی گہرائی سے، انسان کی آنکھ سے، عورت کی نظر سے۔ نِنگبو کے مضافات میں، میں ایک چھوٹے کپڑوں کے کارخانے گئی۔جہاں صبح چھ بجے کی سناٹے میں، عورتیں کام پر آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ ایک درمیانی عمر کی خاتون، لِن ژیا، مجھے دیکھ کر
    مسکرائیں۔ ان کی مسکراہٹ تھکی ہوئی تھی، جیسے ہر مسکراہٹ کے پیچھے کئی سال کی خاموشیاں چھپی ہوں۔تم بھی صبح اتنی جلدی جاگ جاتی ہو؟ انہوں نے ہنستے ہوئے پوچھا۔میں نے ہاں میں سر ہلایا، تو وہ ہنس پڑیں:چینی عورت کے پاس نیند کا وقت نہیں ہوتا، صرف ذمے داری ہوتی ہے۔یہ ایک سادہ سا جملہ تھا، مگر اس میں نہ جانے کتنے صدیوں کی محنت، قربانی، اور خاموش بغاوتیں چھپی تھیں۔ میں نے دیکھا، وہاں عورتیں مشینوں پر کام کر رہی تھیں، کچھ نے بچوں کو کندھوں پر باندھ رکھا تھا، کچھ کی آنکھوں میں نیند تھی، مگر ہاتھ تیز تھے۔میں سوچتی رہی کیا پاکستانی، بھارتی، ایرانی، افریقی عورتیں بھی ایسے ہی وقت کے ساتھ سمجھوتہ کرتی ہیں؟ یا یہ ایک عالمی کہانی ہے؟دو دن بعد، میں ایک مقامی یونیورسٹی کی کلاس میں گئی۔ وہاں نوجوان طالبات سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ رنگ برنگے کپڑوں میں ملبوس، ہاتھوں میں موبائل، اور آنکھوں میں خواب وہ کچھ مختلف تھیں۔لیکن جب میں نے پوچھا۔ تم سب کیا بننا چاہتی ہو ؟ تو ایک لڑکی، یانگ لی نے آہستہ سے کہا۔آزاد۔یہ جواب کسی فلسفی کا قول نہیں تھا، بلکہ ایک دل کی فریاد تھی۔ اس نے بتایا کہ یہاں کی لڑکیوں پر اب بھی دادی، ماں، سسرال، اور معاشرہ اپنے اپنے قاعدے مسلط کرتا ہے ایک ہی وقت میں Traditional بھی بننا ہے اور modern بھی رہنا ہے اس کے لہجے میں وہی تھکن تھی، جو ہم گاوں کی لڑکیوں میں سنتے ہیںتم نے وہی پہننا ہے جو دادی کو پسند ہو، مگر لگنا فیشن ایبل ہے، تاکہ شہر والے قبول کریں یانگ نے ہنستے ہوئے کہا ۔ یہ دو چہروں کی زندگی بہت مشکل ہے ۔ میں نے اسے دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں روشنی تھی، مگر وہ روشن صرف علم کی نہیں تھی وہ جنگ کی روشنی تھی۔ ایک عورت کی جنگ، جو بولتی نہیں، مگر روز جیتی ہے۔میں نے ایک اور خاتون کو دیکھا شنگھائی کی سب وے میں، ایک ماں، جو تین بچوں کے ساتھ تھی، اور ہر بچے کے چہرے پر اطمینان تھا۔ وہ خاتون تھکی ہوئی تھی، مگر کسی کو محسوس نہیں ہونے دے رہی تھی۔ میرے دل میں خیال آیاشاید ماں ہونا ایک عالمی زبان ہے چین ہو یا پاکستان، ماں کا تھکن میں بھی مسکرانا سب جگہ ایک جیسا ہوتا ہے۔مجھے ایک قصبے کی مٹیار لڑکی یاد آئی، جو اپنی دادی کے ساتھ ٹی وی پر چینی ڈرامہ دیکھتی تھی، جس میں مضبوط عورتیں، چٹانوں جیسی مائیں، اور ہنر مند بیٹیاں دکھائی جاتی تھیں۔ وہ لڑکی سوچتی تھی:کیا حقیقت میں چینی عورت اتنی طاقتور ہوتی ہے؟اب میں جانتی ہوں ہاں، وہ ہوتی ہے۔لیکن اس طاقت کے نیچے قربانی، درد، اور اپنی خواہشوں کو مار دینے کا ہنر ہوتا ہے۔اس شہر میں ایک لمحہ بھی ایسا نہیں تھا جس میں عورت کا عکس نہ ہو وہ ٹرین چلا رہی ہے، بینک میں کام کر رہی ہے، سڑک پار کرا رہی ہے، پرانے کھانوں کی خوشبو میں چھپی ہوئی ہے، اور مستقبل کی فیکٹریوں کی دیواروں میں چنی ہوئی ہے۔میں ایک شام زِن جھیل کے کنارے بیٹھی تھی اردگرد سکون، اور ہوا میں ہلکی نمی۔ ایک بوڑھی عورت میرے پاس آ کر بیٹھی۔ اس نے مجھے دیکھا اور کہابیٹی، ہم نے خاموشی میں جینا سیکھا ہے۔میں نے اس کے ہاتھ تھامے اور سوچایہ خاموشی، صرف چینی عورت کی نہیں یہ دنیا کی ہر عورت کی وراثت ہے یہ سفر صرف چین کی سڑکوں، بازاروں یا عمارتوں کا نہ تھا یہ ایک خاتون کی آنکھ سے ایک اور خاتون کو دیکھنے کا سفر تھا۔ مجھے لگا، زبان، نسل، یا لباس جتنا بھی مختلف ہو دِل ایک جیسے دھڑکتے ہیں۔چینی عورت اپنی روایات کی ڈور تھامے، جدیدیت کے کنارے پر چلتی ہے کبھی کبھی تھک جاتی ہے، رکتی ہے، لیکن گرتی نہیں۔ اور یہی اس کی اصل طاقت ہے۔میں نے اس لڑکی کی آنکھ میں نہ صرف خواہش دیکھی، بلکہ ایک ایسی ہنسی دیکھی جو صدیوں کے رنج پر بھی بھاری تھی۔چینی خواتین کے لیے سوشل میڈیا آزادی کا دروازہ بھی ہے، اور قید کا آہنی جنگلہ بھی۔جہاں وہ آواز پا رہی ہیں، وہیں اپنے آپ کو مسلسل دکھانے کے دباو میں تھک بھی رہی
    ہیں۔ ایک چھوٹا وی لاگ شاید ان کی خوشی کا ذریعہ ہے، مگر کبھی کبھار وہی اسکرین اصل زندگی سے پردہ ڈال دیتی ہے۔جولائی کی وہ رات، جب میں ہوٹل کی کھڑکی سے شنگھائی کی نیون لائٹس کو دیکھ رہی تھی، دل نے ایک بات کہی ہم سب عورتیں، چاہے چین میں ہوں یا پاکستان میں، اب صرف خود کو آئینے میں نہیں، اسکرین پر دیکھنے کی عادی ہو گئی ہیں۔مگر شاید سب سے خوبصورت لمحہ وہی ہوتا ہے جو کیمرے کے پیچھے ہوتا ہے۔

  • پاکستان کے کس ایئرپورٹ کے نئے رن وے کو عالمی ایوارڈ سے نواز اگیا؟

    پاکستان کے کس ایئرپورٹ کے نئے رن وے کو عالمی ایوارڈ سے نواز اگیا؟

    اسلام آباد:(کنزیو مر واچ نیوز)پاکستانی ایئرپورٹ کے نئے رن وے کو عالمی ایوارڈ سے نواز دیا گیا۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران کوئٹہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے نئے تعمیر شدہ رن وے کو ایشیا پیسفک انجینئرنگ ایکسیلنس ایوارڈ سے نوازا گیا۔یہ ایوارڈ بین الاقوامی ادارہ فیڈک (FIDIC) کی جانب سے دیا گیا، جو انجینئرنگ کے شعبے میں اعلیٰ کارکردگی اور تکنیکی مہارت کو تسلیم کرتا ہے۔تقریب میں حکام نے بتایا کہ یہ رن وے تقریباً 5 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا اور حیرت انگیز طور پر ایئرپورٹ کو بند کیے بغیر مکمل کیا گیا۔ اب یہ رن وے نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے طویل اور مضبوط ترین سخت رن ویز میں شمار ہوتا ہے۔یہ عالمی ایوارڈ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی اور اس پروجیکٹ پر کام کرنے والی کنسلٹنسی ٹیموں کی شاندار منصوبہ بندی، فنی مہارت اور حفاظت کے اعلیٰ معیار کو مدِنظر رکھتے ہوئے دیا گیا۔واضح رہے کہ کوئٹہ کے اس جدید رن وے پر پہلا طیارہ پی آئی اے کی پرواز PK-3250، 31 مئی 2023 کو اسلام آباد سے لینڈ کر چکی ہے۔

  • طوفانی بارشیں،221 افراد ہلاک،804 سے زائد مکانات تباہ

    طوفانی بارشیں،221 افراد ہلاک،804 سے زائد مکانات تباہ

    لاہور(کنزیومر واچ نیوز)قومی آفات کے انتظامی ادارے (این ڈی ایم اے) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں حالیہ موسلا دھار بارشوں کے نتیجے میں جانی و مالی نقصانات کی ایک ہولناک تصویر سامنے آئی ہے۔رپورٹ کے مطابق طوفانی بارشوں کے باعث مختلف حادثات میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 221 ہو گئی ہے جبکہ ملک بھر میں 804 سے زائد مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔این ڈی ایم اے کے مطابق طوفانی بارشوں سے پنجاب سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ ہے جہاں بارشوں کے نتیجے میں سب سے زیادہ 135 افراد جان بحق ہوئے، جبکہ 470 افراد زخمی ہو گئے، بارشوں سے 168 مکانات جزوی طور پر جبکہ 24 مکانات مکمل طور پر تباہ ہوئے۔خیبرپختونخوا میں بارشوں کی وجہ سے 40 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ 69 افراد زخمی ہوئے، صوبے میں 142 مکانات جزوی طور پر اور 78 مکانات مکمل طور پر منہدم ہوئے۔سندھ میں بارشوں کے نتیجے میں 22 افراد جان بحق ہوئے اور 40 افراد زخمی ہوئے، صوبے میں 54 مکانات جزوی طور پر اور 33 مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔بلوچستان میں بھی بارشوں کی شدت نے 16 افراد کی جان لے لی، جبکہ 4 افراد زخمی ہوئے، یہاں 56 مکانات جزوی طور پر اور 8 مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔گلگت بلتستان میں حالیہ بارشوں سے 3 افراد زخمی ہوئے، جب کہ یہاں 71 مکانات جزوی طور پر اور 66 مکانات مکمل طور پر منہدم ہو گئے۔آزاد کشمیر میں بارشوں کے سبب 1 شخص کی جان گئی اور 6 افراد زخمی ہوئے۔ یہاں 75 مکانات جزوی طور پر اور 17 مکانات مکمل طور پر تباہ ہوئے۔اسلام آباد میں بھی بارشوں کے نتیجے میں 1 شخص جاں بحق ہوا، جب کہ 35 مکانات جزوی طور پر اور ایک مکان مکمل طور پر منہدم ہوا۔این ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 5 افراد کی جان گئی جس میں 3 بچے بھی شامل ہیں جبکہ 25 مکانات منہدم ہوئے اور 5 مویشی ہلاک ہوئے۔ اب تک 804 مکانات مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں اور 200 مویشیوں کی اموات ہوئی ہیں۔

  • فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سےاہم کاروباری شخصیات کی ملاقات

    فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سےاہم کاروباری شخصیات کی ملاقات

    راولپنڈی(کنزیومر واچ نیوز) فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سے ملک کی کاروباری شخصیات نے ملاقات کی جس میں ملکی معیشت سے متعلق فیلڈ مارشل کو بریفنگ دی گئی۔ذرائع کے مطابق سابق نگراں وفاقی وزیر گوہر اعجاز کی سربراہی میں کاروباری شخصیات نے فیلڈ مارشل سے ملاقات کی، ملاقات میں اپٹما کے چیئرمین کامران ارشد اور ایس ایم تنویر اور دیگر موجود تھے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں ایف پی سی سی آئی اور لاہور چیمبر کے صدور بھی شریک تھے۔گوہر اعجاز نے بتایا کہ ملاقات میں فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیرکو ملکی معیشت سے متعلق بریف کیا گیا۔سابق نگراں وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے کہا کہ ملکی معیشت میں استحکام دکھائی دے رہا ہے، کاروباری برادری حکومت کی معاشی پالیسیوں کو سپورٹ کر رہی ہے، معاشی اصلاحات کے لیے کاروباری آسانیاں پیدا کی جائیں ۔ان کا کہنا تھا کہ شرح سود کو مہنگائی کے تناسب سے کم کیا جائے ، وفاقی بجٹ سے متعلق کاروباری برادری کے تحفظات کو دور کیا جائے۔سابق نگراں وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے کہا کہ برآمدات پر مبنی معیشت کو آگے چلایا جائے گا، بجٹ تقریر میں کیے گئے وعدے پورے کیے جائیں جبکہ ملکی کپاس اور کسانوں کو تحفظ دیا جائے۔

  • کار میں سوار باپ بیٹی برساتی نالے میں بہہ گئے

    کار میں سوار باپ بیٹی برساتی نالے میں بہہ گئے

    راولپنڈی (کنزیومر واچ نیوز)راولپنڈی کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں 2 افراد برساتے نالے میں بہہ گئے۔پنجاب میں مون سون کی شدید بارشیں جاری ہیں جہاں ندی نالوں میں شدید طغیانی ہے جس کی ویڈیوز بھی سامنے آرہی ہیں۔منگل کو راولپنڈی میں شدید بارش ہوئی جہاں نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے فیز 5 میں کار میں سوار باپ بیٹی برساتی نالے میں بہہ گئے، گاڑی سمیت نالے میں بہہ جانے والے باپ بیٹی مدد کے لیے پکارتے رہے۔کار سوار افراد نے برساتی نالے کے قریب سے گاڑی گزارنے کی کوشش کی لیکن پانی کابہاؤ تیز ہونے کی وجہ سے دونوں افراد کار سمیت پانی میں بہہ گئے۔ریسکیو حکام کے مطابق پانی میں بہہ جانے والے افراد کی تلاش کے لیے آپریشن شروع کردیا گیا ہے اور تاحال دونوں کو تلاش نہیں کیا جاسکا ہے۔

  • بابو سر ٹاپ پر متعدد سیاح سیلابی ریلے میں بہہ کر لاپتا ہوگئے

    بابو سر ٹاپ پر متعدد سیاح سیلابی ریلے میں بہہ کر لاپتا ہوگئے

    اسکردو(کنزیومر واچ نیوز) چلاس میں سیاحتی مقام بابو سر ٹاپ پر متعدد سیاح سیلابی ریلے میں بہہ کر لاپتا ہوگئے جن کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
    نجی ٹی وی کے مطابق بابو سر ٹاپ پر فلیش فلڈ کے باعث سیلابی ریلہ آیا جس میں بہہ کر متعدد سیاح لاپتا ہوگئے جن کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے جب کہ مقامی لوگوں نے بھی سیاحوں کو ریسکیو کیا ہے۔
    اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر دیامر عطاء الرحمان نے بتایا کہ بابوسر سے نیچے تھک کے مقام پر کلاوڈ برسٹ ہوا ہے، لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بابو سر روڈ بند ہوگئی ہے جب کہ 7 سے 8 کلو میٹر روڈ مکمل طور پر تباہ ہوئی ہے۔
    ڈی سی کے مطابق 3 افراد کی لاشیں بھی ملی ہیں اور ایک معمر شخص شدید زخمی حالت میں ملا ہے جسے اسپتال منتقل کیا گیا جب کہ 10 سے 15 گاڑیاں سیلابی ریلے میں بہہ گئی ہیں جن میں کوسٹرز بھی شامل ہیں۔
    ملک بھر میں مون سون بارشوں کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 221 ہوگئی
    ڈپٹی کمشنر نے مزید بتایا کہ قدرتی آفت سے بجلی اور فائبر آپٹک لائن متاثر ہوئی جس کے باعث رابطوں میں دشواری کا سامناہے، سیلاب متاثرہ علاقے میں مشینری پہنچا رہے ہیں،کچھ علاقوں میں مشینری پہنچ چکی ہے، ناران سے بھی بابو سر روڈ کو کھولنے کی کوشش کرینگے۔
    ڈی سی کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرہ علاقے میں مشینری پہنچا رہے ہیں،کچھ علاقوں میں مشینری پہنچ چکی ہے، زخمیوں کو ایمبولینسز کے ذریعے آر ایچ کیو منتقل کرچکے ہیں۔
    انہوں نے مزید کہا کہ قدرتی آفات کے ردعمل میں جو کچھ کرسکتے ہیں وہ کررہے ہیں، ابھی تک 3 لاشیں ملی ہیں ، ابھی یہ کنفرم کرنا باقی ہے کہ یہ ڈیڈ باڈیز سیاحوں کی ہیں یا کہ مقامی افراد کی، ابھی ہم متاثرہ افراد کو امدادی سامان کھانا اور پانی وغیرہ فراہم کریں گے۔
    اس حوالے سے ترجمان گلگت بلتستان حکومت فیض اللہ فراق نے بتایا کہ شاہراہ بابوسر میں صبح سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے اور لاپتا افراد کی تلاش جاری ہے۔
    ترجمان نے کہا کہ سیلاب سے گرلز اسکول، 2 ہوٹل، پولیس چوکی، پولیس شیلٹر اور شاہراہ بابوسر سے متصل 50 سے زائد مکانات مکمل تباہ ہوئے، 8 کلومیٹر سڑک شدید متاثرہ اور 15مقامات پر روڈ بلاک ہے جب کہ شاہراہ بابوسر پر 4 رابطہ پل بھی تباہ ہوئے ہیں۔
    ترجمان گلگت بلتستان حکومت کے مطابق سیکڑوں پھنسے سیاحوں کو چلاس شہر منتقل کرنے کا عمل جاری ہے اور اب تک 200 سے زائد سیاحوں کو ریسکیو کر کے چلاس پہنچا دیا گیا ہے، بابوسر میں مواصلاتی نظام نہ ہونے سے سیاحوں کا رابطہ گھروں سے منقطع ہے تاہم چلاس کے ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز مسافروں اور سیاحوں کیلئے مفت کھول دیے ہیں۔
    پاک فوج کی امدادی کارروائیاں جاری
    شاہراہ بابوسر، شاہراہ قراقرم پر پھنسےسیاحوں اور مسافروں کےلیے پاک فوج کی جانب سے بھی ریسکیو آپریشن جاری ہے جس دوران سیاحوں اور مسافروں کو ہیلی کاپٹرز کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے۔پاک فوج، جی بی اسکاوٹس ٹیمیں متاثرہ افراد کو اشیاءخوردونوش فراہم کررہی ہیں، زخمیوں کو طبی امداد بھی دی جا رہی ہے ، مشینری اور افرادی قوت سڑکوں کی بحالی پر کام کررہےہیں اور بابوسر اور قراقرم ہائی وے پر رکاوٹیں دور کی جارہی ہیں جب کہ گم شدہ افراد کی تلاش کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں روانہ کردی گئی ہیں۔

  • بلوچستان واقعہ، فائرنگ کرنے والے شخص سمیت مزید 2 ملزمان گرفتار، مقدمہ درج

    بلوچستان واقعہ، فائرنگ کرنے والے شخص سمیت مزید 2 ملزمان گرفتار، مقدمہ درج

    کوئٹہ (کنزیومر واچ نیوز)بلوچستان میں غیرت کے نام پر مرد و عورت کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے کی وائرل ہونے والی ویڈیو میں نظر آنے والے مزید دو ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ مرد اور خاتون کے قتل کی وائرل ویڈیو میں نظر آنے والے مزید 2 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے جس کے بعد گرفتار ملزمان کی تعداد 13 ہو گئی ہے، فائرنگ کرنے والے شخص اور ویڈیو میں نظر آنے والے ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث قبائلی رہنما شیر باز سمیت 13 مشتہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، واقعے کی تحقیقات کر رہےہیں، جلد دیگر ملزمان کو بھی گرفتار کر لیا جائے گا۔ادھر بلوچستان کے علاقے سنجیدی ڈیگاری میں ایک مرد اور خاتون کو فائرنگ کر کے قتل کرنےکا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق مقدمہ ہنہ اوڑک تھانے میں انسداد دہشتگردی ایکٹ، قتل اور قتل میں معاونت کی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ آپریشن جاری ہے، تمام ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا، ریاست مظلوم کے ساتھ ہے۔ترجمان حکومت بلوچستان شاہد رند نے بتایا کہ غیرمصدقہ اطلاعات کے مطابق فائرنگ کا واقعہ عیدالاضحیٰ کے قریب کا ہے، اب تک لاشیں برآمد نہیں ہوئیں، دونوں فیملیز کی جانب سے واقعے کو رپورٹ نہیں کیا گیا، ویڈیو میں نظر آنے والے افراد کی شناخت کے لیے ڈیٹا نادرا بھیجا گیا ہے۔خیال رہے کہ بلوچستان کے علاقے سنجدی ڈیگاری میں غیرت کے نام پر مرد و عورت کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کا واقعہ پیش آیا تھا جس کی ویڈیو کچھ روز قبل منظر عام پر آئی تھی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے قاقعے کا نوٹس لیا تاگھ۔

  • کراچی: پلاٹ کے تنازع پر بہن نے بھائی کو ڈنڈے مار کر قتل کردیا

    کراچی: پلاٹ کے تنازع پر بہن نے بھائی کو ڈنڈے مار کر قتل کردیا

    کراچی(کنزیومر واچ نیوز) ملیر میں پلاٹ کے تنازع پر بہن نے بھائی کو قتل کردیا۔پولیس کے مطابق یہ واقعہ ملیر کے علاقے ریڑھی گوٹھ میں پیش آیا جہاں خاندان میں پلاٹ کا تنازع چل رہا تھا۔پولیس کا بتانا ہےکہ ملزمہ نے جائیداد کے تنازع پربھائی کو ڈنڈے مار کر قتل کیا جس کا اس نےا عتراف بھی کیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ کے خلاف مقدمہ درج کرکے مزید تحقیقات شروع کردی ہے۔

  • حمیرا کی موت کےبعد انکے نمبر سے لاسٹ سین ہٹایا گیا: ہیئر اسٹائلسٹ

    حمیرا کی موت کےبعد انکے نمبر سے لاسٹ سین ہٹایا گیا: ہیئر اسٹائلسٹ

    کراچی( کنزیومر واچ نیوز) 8 جولائی کو ڈیفنس فیز 6 کے ایک فلیٹ سے مردہ پائی جانے والی حمیرا اصغر کے کیس میں مزید انکشافات ہوئے ہیں۔9 ماہ سے اداکارہ حمیرا اصغر کی گمشدگی کادعویٰ کرنیوالے اسٹائلسٹ دانش مقصود نے تہلکہ خیز دعویٰ کیا ہے کہ ’ اداکارہ کے فون پر 5 فروری کے بعد سرگرمیاں ہوئیں، اس دوران ان کے واٹس ایپ سے نہ صرف ڈی پی ہٹائی گئی بلکہ ان کا لاسٹ سین بھی غائب کردیا گیا‘ ۔دانش مقصود نےنجی ٹی وی کو بتایا کہ ’ حمیرا سے میری آخری بات چیت 2 اکتوبر کو ہوئی تھی لیکن ان کے واٹس ایپ پر لاسٹ سین کی تاریخ 7 اکتوبر 2024 کی تھی، اس کے بعد میں نے متعدد مرتبہ حمیرا سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، اس دوران کالز اور میسیجز بھیجے جو کبھی پڑھے نہیں گئے‘ ۔دانش مقصود کے مطابق ’جب کئی ماہ تک حمیرا اصغر کے حوالے سے کوئی خبر سامنے نہ آئی تو ان کے لاپتا ہونے سے متعلق سوشل میڈیا پر پوسٹ لگانے کا فیصلہ کیا، سوشل میڈیا پر پوسٹ شیئر کرنے سے پہلے بھی حمیرا کے موبائل نمبر پر ایک مرتبہ پھر رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ناکامی ہونے پر 5 فروری کو سوشل میڈیا پر پوسٹ شیئر کردی‘۔انہوں نے کہا کہ ’5 فروری کو پوسٹ لگانے کے بعد اگلے دن پھر رابطہ کیا تو حمیرا اصغر کے واٹس ایپ سے نہ صرف ان کی ڈی پی غائب تھی بلکہ ان کا لاسٹ سین بھی بند کردیا گیا تھا‘۔دوسری جانب ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کا کہنا تھا کہ’ اسٹائلسٹ دانش سے رابطہ کیا ہے، ان سے تمام اسکرین شاٹس لے کر اس سے متعلق مزید تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے‘۔
    حمیرا اصغر کی پراسرار موت ، معاملہ کیا ہے؟
    حمیرا اصغر کی لاش 8 جولائی کو اتحاد کمرشل کے ایک فلیٹ سے اس وقت ملی جب کرائے کی عدم ادائیگی پر مالک مکان کے عدالت پہنچنے پر عدالتی بیلف ان کے گھر پہنچا اور فلیٹ کا دروازہ نہ کھولنے پر دروازہ توڑا گیا تو اداکارہ کی لاش برآمد ہوئی۔
    لاش کے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاش ڈی کمپوز کے آخری اسٹیج پر ہے جسے دیکھ کر اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اداکارہ کی موت تقریباً 8 ماہ پرانی ہے، کیمیائی تجزیے کے دوران اداکارہ کو زہر دیے جانےکے شواہد نہیں پائے ۔

  • ساحر لودھی کی نقالی ویڈیوز پر مہوش حیات ناراض

    ساحر لودھی کی نقالی ویڈیوز پر مہوش حیات ناراض

    کراچی(کنزیومر واچ نیوز)’ساحر کے بھی جذبات ہیں، ساحر لودھی کی نقالی ویڈیوز پر مہوش حیات ناراض ،پاکستانی اداکارہ مہوش حیات نے سوشل میڈیا پر ساتھی اداکاروں کی جانب سے ساحر لودھی کی نقل اتارنے والی وائرل ویڈیوز پر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔میزبان و اداکار ساحر لودھی کی کچھ ویڈیوز ان دنوں سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں جو ان کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر موجود ہیں۔ویڈیوز بھارتی پاپارازی کے اسٹائل میں بنائی گئی ہیں جیسے کہ ساحر کو معلوم نہیں کہ کوئی ان کی ویڈیو بنانے آ رہا ہے جب کہ کیمرہ مین بھی ان کا اپنا ہے اور یہ ویڈیوز بھی ان ہی کے پیج پر شیئر کی جارہی ہیں۔سوشل میڈیا صارفین کو میزبان کی ان ویڈیوز پر دلچسپ تبصرے کرتے ہی ہیں لیکن اب ساتھی اداکاروں نے بھی اسی طرز کی ویڈیوز بنائی ہیں جن میں ہدایتکار و اداکار یاسر نواز، فیصل قریشی اور اعجاز اسلم شامل ہیں۔
    نقالی ویڈیوز:
    ویڈیوز کی نقالی کا سلسلہ یاسر نواز نے شروع کیا تھا جس کے بعد دیگر فنکاروں نے بھی ساحر لودھی کے انداز کی نقل کرتے ہوئے ویڈیوز بنانا شروع کردیں۔اسی پر اداکارہ مہوش حیات نے تبصرہ کیا اور ان ویڈیوز پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔
    اداکارہ مہوش حیات کا ردعمل:
    انہوں نے انسٹاگرام پر لکھا کہ ساحر لودھی نے اس انڈسٹری میں اپنی ایک منفرد جگہ بنائی ہے اور وہ اب تک اس مقام پر قائم ہیں، جو کہ قابلِ احترام ہے اور یہ بالکل آسان نہیں ہے۔
    مہوش حیات کے مطابق آپ کسی کے انداز کو ناپسند کر سکتے ہیں لیکن اس انسان کی بنیادی عزت ہمیشہ برقرار رہنی چاہیے، ساتھ ہی انہوں نے سب کو نرمی برتنے اور شائستگی اختیار کرنے کا مشورہ بھی دیا۔
    اداکارہ نے لکھا یہ انتہائی نامناسب اور ناجائز ہے کہ آپ کسی کا مذاق اڑائیں، لوگ بھول گئے ہیں کہ ساحر بھی ایک انسان ہیں اور ان کے بھی جذبات اور احساسات ہیں جیسے کہ ہم سب کے ہیں۔