چلاس(کنزیومر واچ نیوز) بابوسر ٹاپ پر سیلاب میں جاں بحق ہونے والی خاتون ڈاکٹر مشعال فاطمہ کے سیلاب میں لاپتا ہونے والے 3 سالہ بیٹے کی لاش 3 روز بعد مل گئی۔ ےنجی ٹی وی مطابق ڈاکٹر مشعال فاطمہ کے بیٹے عبد الہادی کی لاش کو کل شام 7 بجے مقامی افراد نے بابوسر کے قریب ڈاسر کے مقام پر دیکھا اور حکام کو اس حوالے سے آگاہ کیا۔ گلگت بلتستان اسکاؤٹس نے اطلاع ملنے پر 3 سال کے عبد الہادی کی لاش کو نالے سے نکال کر چلاس کے اسپتال منتقل کیا۔واضح رہے کہ چند روز قبل لودھراں سے پکنک منانے کیلئے جانے والی فیملی اسکردو سے واپس آتے ہوئے بابوسرٹاپ کے مقام پر سیلابی ریلے میں بہہ گئی تھی۔سیلابی ریلے میں بہہ کر ڈاکٹر مشعال فاطمہ اور ان کا دیور فہد اسلام جاں بحق ہوئے تھے جب کہ ریلے میں ڈاکٹر مشعال فاطمہ کا 3 سالہ بیٹا عبدالہادی بھی بہہ گیا تھا۔دوسری جانب ڈائریکٹر ایڈمن شاہدہ اسلام میڈیکل کالج کا بتانا ہے کہ چلاس میں جاں بحق ڈاکٹر مشعال اور فہد اسلام کی میتیں 2 بجے تک لودھراں پہنچادی جائیں گی۔ڈائریکٹر ایڈمن کے مطابق مرحومین کی نماز جنازہ شام ساڑھے 5 بجے ادا کی جائے گی جب کہ مرحومین کو آدم واہن قبرستان میں سپرد خاک کیا جائے گا۔اس حوالے سے ترجمان گلگت بلتستان حکومت فیض اللہ فراق نے بتایا کہ شاہراہ بابوسر پر سرچ آپریشن جاری ہے جہاں سے ڈاکٹرسعد کے3سال کے بیٹے کی لاش مل گئی ہے جو تھوڑی دیر تک آبائی شہر بھجوادی جائے گی۔ترجمان نے بتایا کہ اب تک 6 لاشیں نکالی گئی ہیں، لاپتا دیگر افراد کی تلاش جاری، وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے گزشتہ روز گلگت بلتستان کا دورہ کیا اور متاثرین سے بات چیت کرکے سرچ آپریشن کی مانیٹرنگ بھی کی۔ترجمان جی بی حکومت نے بتایا کہ بابو سر روڈپر پھنسےسیاحوں کو گزشتہ روز چلاس منتقل کردیا ہے، اس وقت گلگت بلتستان میں کوئی بھی سیاح پھنسا ہوا نہیں، شاہراہ ناران اور بابو سر بند ہیں، شاہراہ ریشم خنجراب سے لیکر راولپنڈی تک کھلی ہے۔
Blog
-

4 شہروں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ
لاہور(کنزیومر واچ نیوز)پنجاب میں مون سون بارشوں کا چوتھا سلسلہ 25 جولائی تک جاری رہنے کا امکان ہے جس دوران اربن فلڈنگ اور ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔پی ڈی ایم اے پنجاب نے مون سون بارشوں سےمتعلق اپنی رپورٹ میں بتایا کہ رواں سال مون سون بارشوں کے باعث 143 شہری جاں بحق اور 488 افراد زخمی ہوئے جب کہ 121 مویشی ہلاک ہوئے اور 200 گھر متاثرہوئے۔پی ڈی ایم اے کے مطابق سوگوار خاندانوں کی مالی معاونت کی جا رہی ہے جب کہ کسانوں کی فصلوں اور مویشیوں کے نقصانات کا بھی ازالہ کیا جائے گا۔ ترجمان پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ مون سون بارشوں کا چوتھا سلسلہ 25 جولائی تک جاری رہنے کا امکان ہے جس دوران لاہور اور راولپنڈی سمیت پنجاب کے بیشتر اضلاع میں بارش متوقع ہے۔ترجمان کے مطابق لاہور، سیالکوٹ،فیصل آباد اورگوجرانولہ میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے جب کہ پنجاب کے دریاؤں اور ندی نالوں میں بھی طغیانی کا خدشہ ہے۔ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا ہےکہ منگلا ڈیم میں 53 ، تربیلا میں 79 فیصد پانی موجود ہے، دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے، تربیلا اورتونسہ کے مقام پرنچلے درجے کا سیلاب ہے تاہم چناب ، راوی ، جہلم اور ستلج میں پانی کا بہاؤ نارمل ہے۔
-

سیلابی ریلے میں بہنے والی گاڑی کا بونٹ مل گیا
اسلام آباد(کنزیو مر واچ نیوز)اسلام آباد کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں سیلابی ریلے میں بہنے والی گاڑی کا بونٹ اور دروازہ مل گیا جبکہ لاپتہ باپ اور بیٹی کی تلاش تیسرے روز بھی جاری ہے۔وفاقی دارالحکومت میں شدید بارش کے باعث پاک فوج کے ریٹائرڈ کرنل قاضی اپنی بیٹی کے ہمراہ گھر سے نکلے کہ ان کی گاڑی خراب ہو گئی اور اسی دوران پانی کا ریلا آ گیا جس میں دونوں باپ بیٹی گاڑی سمیت پانی میں بہہ گئے۔گاڑی سمیت برساتی نالے میں بہہ جانیوالے باپ بیٹی کےحوالے سے مزید تفصیلات سامنے آگئی گزشتہ دو روز سے گاڑی سمیت لاپتہ ہونے والے باپ اور بیٹی کی تلاش کا کام جاری ہے اور گزشتہ روز نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے برساتی نالے میں سرچ آپریشن مکمل کر لیا گیا تھا جس کے بعد اب دریائے سواں کے داخلی و خارجی راستوں پر سرچ آپریشن کیا جا رہا ہے۔ریسکیو ٹیموں کو گزشتہ روز گاڑی کا بمپر اور سائیڈ مرر ملے تھے تاہم گاڑی کا کچھ پتہ نہیں چل سکا تھا۔ریسکیو حکام کی جانب سے امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ بارش رکنے کے بعد پانی کی سطح کم ہونے کے باعث آج دریائے سواں میں سرچ آپریشن مکمل کر لیا جائے گا۔اب ریسکیو ٹیموں کو متاثرہ گاڑی کا بونٹ اور دروازہ دریائے سواں پل کے نیچے سے مل گیا ہے جبکہ باپ اور بیٹی کی تلاش کا کام جاری ہے۔
-

مدرسے میں تشدد سے معصوم بچہ جاں بحق، استاد گرفتار
پشاور(کنزیومر واچ نیوز)سوات کے مدرسے میں استاد کے تشدد سے معصوم بچہ جاں بحق ہوگیا۔پولیس کے مطابق سوات کے علاقے خوازہ خیلہ چالیار کے مدرسے میں استاد کے تشدد سے بچہ جاں بحق ہوگیا جس کے بعد ایک استاد کو گرفتارکرلیا گیا جبکہ دیگر 2 اساتذہ کی تلاش جاری ہے۔ ڈی پی او سوات کے مطابق مدرسے میں مزید بچوں پر تشدد کے انکشافات سامنے آنے پر مزید 9 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ڈی پی او سوات کا کہناہے کہ چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کے تحت بھی مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جبکہ مدرسے سے بچوں پر تشدد میں استعمال ہونے والا سامان بھی برآمد کیا گیا ہے۔ڈی پی او سوات کے مطابق خوازہ خیلہ چالیار مدرسے میں بچوں پر کئی مہینوں سے تشدد کیا جا رہا تھا، پولیس نے مدرسے میں زیر تعلیم بچوں کو والدین کے حوالے کر کے ادارے کو سیل کر دیا ہے۔
-

اسرائیلی فوج نے امداد لینے والے 1000 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کیا، اقوامِ متحدہ
جنیوا(کنزیومر واچ نیوز)اقوامِ متحدہ نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ میں خوراک حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے 1,000 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کر دیا ہے۔ یہ شہادتیں اُس وقت شروع ہوئیں جب سے غزہ ہیومینیٹرین فاؤنڈیشن (GHF) نے اپنی امدادی سرگرمیاں 26 مئی سے شروع کیں۔یو این ہیومن رائٹس آفس کے ترجمان ثمین الخیطٰان نے بتایا کہ 21 جولائی تک ہمارے پاس ایسے 1,054 افراد کی اموات کا ریکارڈ موجود ہے جو غزہ میں خوراک لینے کی کوشش کے دوران اسرائیلی فائرنگ کا نشانہ بنے۔ ان میں سے 766 افراد GHF کے مراکز کے قریب اور 288 افراد اقوامِ متحدہ اور دیگر انسانی فلاحی اداروں کے قافلوں کے قریب شہید ہوئے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ اعداد و شمار گراؤنڈ پر موجود قابلِ اعتماد ذرائع جیسے میڈیکل ٹیمز، انسانی حقوق کے اداروں اور فلاحی تنظیموں سے حاصل کیے گئے ہیں۔واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ نے غزہ میں شدید انسانی بحران پیدا کر دیا ہے، جہاں 20 لاکھ سے زائد افراد خوراک، پانی اور دیگر بنیادی ضروریات کی قلت کا شکار ہیں۔
-

رجب بٹ کے پیچھے کونسی مشہور شخصیت پڑی ہے؟ ٹک ٹاکر کاشف ضمیر
لاہور (کنزیو مر واچ نیوز)ٹک ٹاکر کاشف ضمیر نے ساتھی ٹک ٹاکر رجب بٹ کے مسائل کی وجہ کا انکشاف کردیا۔ماضی میں مختلف اسکینڈلز اور ترک اداکار انگین التان سے جڑے متنازع معاملات کی وجہ سے خبروں میں رہنے والے ٹک ٹاکر کاشف ضمیر نے حال ہی میں ایک نجی ٹی وی پروگرام میں دعویٰ کیا ہے کہ رجب بٹ کے مسائل کے پیچھے ایک مشہور شخصیت کا ہاتھ ہے،کاشف ضمیر نے کہا کہ رجب بٹ اب ایک بڑا نام بن چکا ہے اور اسے کافی شہرت حاصل ہوئی ہے، جسے بعض لوگ برداشت نہیں کر پا رہے۔ ان کے مطابق حسد کی وجہ سے رجب بٹ کی پرانی ویڈیوز کو وائرل کر کے اسے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے رجب بٹ کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی ویڈیوز میں محتاط انداز اختیار کریں کیونکہ ان کی باتوں کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جاتا ہے جس سے وہ مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔کاشف ضمیر نے بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ کسی شخص نے، جو فہد مصطفیٰ کو جانتا ہے، انہیں بتایا کہ رجب بٹ پر دائر قانونی مقدمات کے پیچھے فہد مصطفیٰ کا ہاتھ ہے، اور اس حوالے سے اسے شواہد بھی دکھائے گئے۔تاہم کاشف ضمیر نے یہ شواہد پروگرام میں ظاہر کرنے سے انکار کردیا۔ ٹک ٹاکر کے اس دعوے نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی ہے۔ صارفین ان کے دعوے پر بےحد حیران ہیں اور اس کے شواہد کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
-

ایشیا کپ کی منسوخی کا خدشہ، پی سی بی کو کتنے ارب کا نقصان ہوسکتا ہے؟
کراچی (کنزیومر واچ نیوز)کرکٹ کے سیاسی کھیل نے ایشیا کپ ٹورنامنٹ کو غیر یقینی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو 8.8 ارب روپے سے زائد کے مالی نقصان کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے ایشین کرکٹ کونسل کا اہم اجلاس جمعرات کو چیئرمین محسن نقوی کی زیر صدارت ڈھاکا میں طلب کیا گیا ہے۔ اس اجلاس میں ایشیا کپ کے انعقاد یا اس کی منسوخی سے متعلق اہم فیصلے کیے جائیں گے۔ذرائع کے مطابق اگر ایشیا کپ منسوخ ہوتا ہے تو پاکستان کرکٹ بورڈ کو تقریباً 8.8 ارب روپے کا مالی نقصان برداشت کرنا پڑسکتا ہے۔ صرف ایشیا کپ کی آمدنی میں کمی کی صورت میں 1.16 ارب روپے کا نقصان متوقع ہے، جبکہ پی سی بی نے اپنی سالانہ سرگرمیوں کے لیے آئی سی سی شیئر سے 25.9 ملین ڈالر (تقریباً 7.5 ارب روپے) مختص کیے تھے، جو اب خطرے میں پڑ چکے ہیں۔اس تنازعے کے پس پردہ بھارت کا مبینہ کردار زیر بحث ہے، جس پر ایشیا کپ کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا جارہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بھارت نے سری لنکا، افغانستان اور عمان کے ساتھ مل کر ایشیا کپ کے انعقاد کی مخالفت کا محاذ بنا لیا ہے، جس کا مقصد پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی کی اے سی سی میں قیادت کو کمزور کرنا ہے۔بھارت نے نہ صرف ایشیا کپ بلکہ ڈھاکا میں ہونے والے اے سی سی اجلاس کے مقام پر بھی اعتراض اٹھایا ہے۔ بھارتی بورڈ، سری لنکا، افغانستان، عمان اور چند دیگر ایسوسی ایٹ ممبر ممالک ڈھاکا کا سفر کرنے سے انکار کرچکے ہیں، جبکہ بھارت نہ اپنا نمائندہ بھیجنے پر راضی ہے اور نہ ہی ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کرنا چاہتا ہے۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت اجلاس کے مکمل بائیکاٹ پر بھی غور کر رہا ہے، جس سے ایشیا کپ کی منسوخی کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔
-

کراچی میں نوبیاہتا جوڑے کے ہاں ایک ساتھ 5 بچوں کی پیدائش
کراچی(کنزیو مر واچ نیوز) شہر قائد میں ایک نوبیاہتا جوڑے کے ہاں ایک ساتھ 5 بچوں کی پیدائش ہوئی ہے۔رپورٹ کے مطابق کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں ایک نوبیاہتا جوڑے کے ہاں شادی کے پہلے ہی سال ایک ساتھ 5 بچوں کی قبل از وقت پیدائش ہوئی، جس نے نہ صرف والدین بلکہ ڈاکٹروں کو بھی بیک وقت حیران اور خوش کر دیا۔شہر کے ایک نجی اسپتال میں خاتون کو ایمرجنسی کی حالت میں منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے فوری طور پر سی سیکشن کے ذریعے آپریشن کیا، جس کے نتیجے میں 5 نوزائیدہ بچوں کی ولادت ہوئی۔اسپتال انتظامیہ کے مطابق پیدائش کے وقت بچوں کا وزن نہایت کم تھا اور وہ سانس لینے میں دشواری کا سامنا کر رہے تھے۔ ان کی طبیعت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا ہے، جہاں وہ مسلسل ڈاکٹروں کی نگرانی میں ہیں۔اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ نوزائیدہ بچوں کی حالت میں بتدریج بہتری آ رہی ہے، تاہم ان کی مسلسل نگرانی جاری رہے گی۔
-

بابوسر سیلابی ریلے میں بہنے والے 15 افراد تاحال لاپتا
پشاور(کنزیومر واچ نیوز)گلگت بلتستان میں شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں نے تباہی مچادی ہے اور بابوسر کے مقام پر پانی میں بہہ جانے والے 10 سے 15 افراد تاحال لاپتا ہیں جب کہ حکومت نے سیاحوں کو فوری طور پر علاقے کا سفر نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ترجمان گلگت بلتستان حکومت فیض اللہ فراق نے ٹی وی پروگرام میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ شدید بارشوں اور سیلاب نے علاقے میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاہراہ بابوسر میں پھنسے تمام سیاحوں کو کامیابی سے ریسکیو کرلیا گیا ہے اور انہیں مقامی ہوٹل مالکان و حکومت کی جانب سے مفت رہائش فراہم کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ناران اور کاغان کے تمام راستے فی الحال بند ہیں جب کہ شاہراہ قراقرم 2 مقامات سے بند ہوچکی ہے، جس کے باعث ہزاروں مسافر مختلف علاقوں میں محصور ہو گئے ہیں۔ شاہراہ ریشم چھوٹی گاڑیوں کے لیے کھلی ہے اور بشام تک مکمل بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے۔فیض اللہ فراق نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ حالات معمول پر آنے تک گلگت بلتستان کا سفر ہرگز نہ کریں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وزیراعلیٰ جی بی آج متاثرہ علاقوں خصوصاً بابوسر کا دورہ کریں گے تاکہ صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔دوسری جانب ڈی جی محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ پنجاب، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں آئندہ دنوں میں مزید شدید بارشوں کا امکان ہے۔ بابوسر ٹاپ کے علاقے میں قیمتی جانوں کا ضیاع افسوسناک ہے اور موجودہ موسم کے پیش نظر مزید نقصانات کا خدشہ موجود ہے۔اُدھر دیامر میں بھی ہنگامی صورتحال نافذ کر دی گئی ہے جہاں سیلابی ریلے کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔قبل ازیں بابوسر ٹاپ پر کئی سیاح پانی میں بہہ چکے ہیں، جن کی تلاش کے لیے ریسکیو کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔ سیلاب سے علاقے میں ایک گرلز اسکول، 2ہوٹل، پولیس چوکی، پولیس شیلٹر اور شاہراہ بابوسر کے ساتھ واقع 50 سے زائد مکانات مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں جب کہ 8 کلومیٹر طویل سڑک بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ سڑک 15 مقامات سے بلاک ہے اور 4 اہم رابطہ پل بھی سیلاب کی نذر ہو چکے ہیں۔
-

اعتماد، بہترین معیار اور لگن سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ کی کامیابی کی پہچان ہے، سرفراز احمد خان
1950 میں محمود الحسن بٹ مرحوم نے ایک پودا لگایاجس کو سلمان محمود بٹ مرحوم،کامران محمود بٹ مرحوم نے سنوارا اورحسن کامران بٹ، احمد سلمان بٹ اور سمیر سلمان بٹ نے تناور درخت بنادیا
ہمیشہ معیار کو ترجیح دی،اسی لئے 2024 میں برانڈ آف دی ائیر ایوارڈملا اور اب 2025 میں برانڈ آئیکون ایوارڈ کے لئے نامزدگی ہوئی ہے سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈکی کامیابی کی کہانی کنٹری ہیڈ سرفراز احمد خان کی زبانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رپورٹ:نشید آفاقی،رمشایاور بیگ
فوٹو گرافی ۔فہد شجاع،شعبان سوریا
سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ1950 میں قائم ہوئی محمود الحسن بٹ مرحوم اس کے بانی ہیں اس کے بعد ان کے دونوں صاحبزادے سلمان محمود بٹ مرحوم اورکامران محمود بٹ مرحوم کاروبار کے ساتھ منسلک ہو گئے سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ نے ابتدا میں شہد کی تیاری شروع کی اور اس حوالے سے بہت نام پیدا کیا ہم اس سلسلے میں جتنا کام کر سکتے تھے کیا، اس کے بعد جیمز(Jams)کے سفر کا آغاز ہوا پھر ہم ٹاپنگس( Toppings (کی طرف چلے گئے بعد ازاںسو سز( sauces (بھی ہماری پروڈکٹس میں شامل ہو گئے اب تقریبا پانچ سال ہونے والے ہیں سلمان محمود بٹ صاحب اور کامران محمود بٹ صاحب کا انتقال ہو گیا اب تیسری جنریشن کمپنی کو چلا رہی ہے جن میں حسن کامران بٹ اور سلمان محمود بٹ صاحب کے دونوں صاحبزادے احمد سلمان بٹ اور سمیر سلمان بٹ شامل ہیں سمیر سلمان بٹ صاحب فوڈ ٹیکنالوجسٹ ہیں فیکٹری اور پروڈکشن کو دیکھتے ہیں احمد سلمان بٹ صاحب مارکیٹنگ اور متعلقہ شعبوں کو دیکھتے ہیں اکاؤنٹس اور سیلز حسن کامران بٹ صاحب دیکھتے ہیں تو اللہ تعالی کا بہت شکر ہے کمپنی اپنے بہتر سفر کی جانب گامزن ہے ہمارا پلانٹ اور ہیڈ آفس دونوں اسلام آباد میں ہیں، جو چیز اپنے لیے اور اپنی فیملی کے لیے پسند کرو وہی دوسروں کے لیے بھی پسند کرو یہ درس ہمیں دین بھی دیتا ہے اور سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ کے بانی کا بھی یہی وژن تھا تو اس وژن نے کمپنی کی کامیابی میں کس حد تک کردار ادا کیا اس سوال پر سرفراز احمد خان نے کہا کہ الحمدللہ ،اللہ تعالی کا بڑا شکر ہے کہ ہمارے بڑوں نے جو چیزیں ہمارے ذہنوں پر نقش کی ہیں ہم اسی پر عمل پیرا ہیں کمپنی کے اونرز ان کے بچوں اور اسٹاف ممبران نے کبھی کوالٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا1950 میں ہماری جوکوالٹی تھی اس میں اضافہ تو ہوا کمی کوئی نہیں ہوئی ہم کوشاں ہیں کہ سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈکی پروڈکٹس کی کوالٹی کو مزید بہتر کریں تھرڈ جنریشن پوری کمپنی سنبھال رہی ہے اور ہماری کوشش ہے پروڈکٹس کی کوالٹی کو بہتر سے بہتر کیا جائے اس
سوال پر کہ سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈکی فوڈ پروڈکٹس کی وسیع رینج ہے آپ کس طرح جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ فوڈ سیفٹی اسٹینڈرڈز کو اختیار کرتے ہیں جو عالمی معیارات کے عین مطابق ہوںنیز آپ آئی ایس او اور ایچ اے سی سی پی کے سرٹیفکیٹ رکھتے ہیں سرفراز احمد خان نے بتایا کہ کسی بھی کمپنی کی گروتھ کے لیے ضروری ہے کہ اس کی پروڈکٹس کی کوالٹی بہترین ہو۔ کوالٹی کنٹرول کے لیے جدید ایکوپمنٹ اور تربیت اپناا سٹاف بہت ضروری ہے سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈان تمام چیزوں کا بہت خیال رکھتی ہے ہم اعلی پیمانے پر اپنے اسٹاف کی تربیت کا اہتمام کرتے ہیں ہماری لیب جدید ترین آلات سے مزین ہے سمیر سلمان بٹ صاحب نے کینیڈا سے تعلیم حاصل کی ہے انہوں نے کوالٹی کنٹرول کے بہت سے ٓالات بیرون ممالک سے درآمد کیے ہیں اور سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ کے ہائی کوالٹی اسٹینڈرڈ زکو مینٹین کیا ہے کوالٹی کنٹرول کے لئے جو آلات اور سرٹیفکیٹ درکار ہوتے ہیں وہ سب ہمارے پاس موجود ہیںاس سوال پر کہ پاکستان کی فوڈ انڈسٹریز میں تمام معیارات کا خیال رکھا جاتا ہے سرفراز احمد خان نے کہا کہ میںسمجھتا ہوں کہ صرف سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ نہیں ہر کمپنی چاہتی ہے کہ صارفین کو اعلی کوالٹی کی پروڈکٹس فراہم کرے کوئی نہیں چاہتاکہ اپنے کسٹمرز خراب کرے اس لیے اپنے طور پر سبھی کوالٹی پروڈکٹس مارکیٹ میں دینے کی کوشش کرتے ہیں
اس سوال پر کہ سرکاری ادارے آپ سے تعاون کرتے ہیں یا آپ کو پریشان کرتے ہیں سرفراز احمد خان نے کہا کہ معاشرے میں ہر شخص کا کردار زیادہ بہتر ہونا چاہیے چاہے وہ حکومت کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو میں تنقید برائے تنقید کا قائل نہیں ہوں کیا آپ ان تمام باتوں پر عمل کر رہے ہیں جو حکومت آپ سے کہتی ہے کچرا ڈسٹ بین میں ڈالنا چاہیے اگر ٓاپ تھیلی میں بندکر کے سڑک پر پھینک رہے ہیں تو یہ مناسب بات نہیں ہے۔ ایک حد تک حکومت سپورٹ کرتی ہے اس سے اوپر حکومت کی سپورٹ نہیں ہوتی مگر حکومت کے خلاف جانے کے رویے کو سلمان کارپوریشن پرا ئیویٹ لمیٹڈ کبھی سپورٹ نہیں کرے گی،ٹیکسوں کے حوالے سے سرفراز احمد خان نے کہا کہ ہماری حکومت سے یہی گزارش ہے کہ ہم سے جس طرح ٹیکسز لیے جاتے ہیں اسی طرح ہمیں سہولتیں بھی دی جائیں صرف ٹیکس لینے سے ملک نہیں چلتا سہولت دیں گے تو انڈسٹری ترقی کرے گی ایک سوال کے جواب میں سرفراز احمد خان نے کہا کہ میں خود ایف پی سی سی آئی کی تین کمیٹیوں کا ممبر ہوں میں سمجھتا ہوں کہ ایف پی سی سی آئی اور چیمبر بہت اچھی طرح اپنا کام انجام دے رہے ہیں چیمبر اور فیڈریشن تاجروں کے حقوق کے لیے کھڑے ہوتے ہیں ہمیشہ بزنس کمیونٹی کے لئے توانا،آوازاٹھائی جاتی ہے فیڈریشن اور چیمبرنے حکومت کو بتایا ہے کہ اگر بزنس کمیونٹی کی تجاویز پر عمل کیا جائے تو بزنس بہتر طور پر گروکرے گا۔اس سوال پر کہ سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈآئی ایس او اور ایچ اے سی سی پی کے سرٹیفکیٹ رکھتی ہے سرفراز احمد خان نے کہا کہ ہمارے پاس تمام ضروری سرٹیفکیشنز موجود ہیں ہم نہ صرف ملک بلکہ بیرون ملک بھی کام کرتے ہیں تو ہمیں تمام متعلقہ سرٹیفکیٹس کی ضرورت ہوتی ہے اس سوال پر کہ رامٹیریل اور فوڈ کلرز کے معیار کو کس طرح مینٹین رکھا جاتا ہے سرفراز احمد خان نے کہا کہ سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ کی کوشش ہے کہ بہترین کوالٹی کی پروڈکٹس صارفین کو فراہم کرے اس لیے را مٹیریل اور فوڈ کلرز کے معیار کا خاص طور پر خیال رکھا جاتا ہے اس کو چیک کیا جاتا ہے ہم فوڈ کلرزاور دیگر را مٹیریل امپورٹ کرتے ہیں میرا لوگوں سے سوال ہے کہ اگر آپ پیسے دے کر چیزیں خرید رہے ہیں تو اس کے معیار کو بھی چیک کرنا چاہیے صارفین کا حق ہے ان کو اعلی کوالٹی کی چیز ملے تو میرا مشورہ ہے کہ صارفین جب پیسے خرچ کر رہے ہیں تو اپنے لیے اپنے بچوں کے لیے معیاری چیزیں خریدیں بازار جائیں اور پروڈکٹ خریدیں تو معیار کا خیال ضرور رکھنا چاہیے خاص طور پر کھانے پینے کی چیزوں کو بہت زیادہ چیک کرنا چاہیے کیوں روڈ پر کھڑے ہو کر کوئی چیز کھا لیتے ہیں یہ سب آپ کی صحت کے لیے مضر ہے ہمیشہ اچھی چیزیں استعمال کریں اچھا کھائیں اور اچھی چیز کو پسند کریںپیکنگ مٹیریل کے حوالے سے سوال پر سرفراز احمد خان نے کہا کہ پیکنگ مٹیریل بھی معیاری ہونا ضروری ہے اس کا بھی انٹرنیشنل اسٹینڈرڈ ہے ہمارے پاس شیشے اور پلاسٹک کے بوٹلز ہوتی ہیں پیکنگ مٹیریل کا فوڈ پروڈکٹ پر گہرا اثر ہوتا ہے اس کے علاوہ پیکنگ مٹیریل ایسا ہونا چاہیے جو بآسانی ہینڈل ہو سکے ہم اعلی معیار کا پلاسٹک مٹیریل استعمال کرتے ہیں البتہ جیمز((Jams ہم شیشے کی بوتل میں ہی دیتے ہیں ہماری بہت سی پروڈکٹس شیشے کی بوتل میں آتی ہیں اور ان کو زیادہ محفوظ سمجھا جاتا ہے اس سوال پر کہ سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ کی ان پروڈکٹس کے بارے میں بتائیں جوصارفین میں بے انتہا مقبول ہیںسلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ نے ہنی (شہد)کی وجہ سے مارکیٹ میں اپنی جگہ بنائی اس کے علاوہ جیمز (Jams) ایپل مارملیڈ، بلیک کرنٹ ،چیری،ا سٹرابری اور Toppings کے سات آٹھ فلیورز ہیں، چاکلیٹ، بلوبیری، کریمل، بٹراسکاچ ، چنکی سالسا، پنیرسوس، بار بی کیوسوس اس کے علاوہ چار
نئے سوسز بھی مارکیٹ میں آرہے ہیں کوشش ہے کہ بہتر سے بہتر چیز اپنے کسٹمر ز کو مہیا کی جائے۔ اس سوال پر کہ کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ Toppingsمیں سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا سرفراز احمد خان نے کہا کہ سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ کی کوشش ہے کہ ہم اپنے کسٹمر کو جو بھی پروڈکٹ دیں وہ ان کے معیار کے عین مطابق ہو میں اس بات پر یقین نہیں رکھتا کہ یہ بات کروں کہ ہمارا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا اپنا معیار بہت بلند رکھنا چاہتے ہیں ایسا معیار کہ جب کسٹمر استعمال کرے تو اس کی تعریف کیے بنا نہ رہ سکے اس سوال پر کہ کیانیچرل انگریڈینٹس سب سے پہلے سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈنے متعارف کروائے سرفراز احمد خان نے کہا کہ میں اس بارے میں 100 فیصد وثوق کے ساتھ نہیں کہہ سکتا البتہ ہم شروع سے نیچرل انگریڈینٹس کا استعمال کر رہے ہیں اس سوال پر کہ صارفین کی آرا حاصل کرنے کا کیا طریقہ ہے اور انکی آرا کی بنیاد پر کس طرح پروڈکٹس کے معیار کو بہتر بنایا جاتا ہے سرفراز احمد خان نے کہا کہ ہماراای میل ایڈریس ہے اور دیگر ذرائع سے بھی شکایات آتی ہیں تو ہم ان کو دور کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں یہ نظام محمود الحسن بٹ صاحب کے دور سے ہے ان کی اولادوں نے اس کو اختیار کیا ہے اس حوالے سے کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جاتی شکایات کو براہ راست میں خود دیکھتا ہوں یاا سٹاف دیکھتا ہے مگر اس میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جاتی ہے اس سوال پر کہ سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ کمیونٹی ،تعلیم اور دیگر سماجی حوالوں سے بھی کوئی پروگرام رکھتی ہے سرفراز احمد خان نے کہا کہ سی ایس آرایکٹیوٹی پر بہت زیادہ توجہ دیتے ہیں، شجرکاری مہم کے حوالے سے بھی ہم نے بہت کام کیا ہے سابق صدر پاکستان عارف علوی ے شجرکاری کے حوالے سے ایوارڈ بھی دیا تھا، بینائی فاؤنڈیشن کے ساتھ بھی ہم معذور بچوں کے حوالے سے کام کر رہے ہیں لا تعداد اداروں کے ساتھ کام چل رہا ہے کھیلوں کے شعبے میں بھی ہم کام کر رہے ہیں فٹبال ہاکی ٹینس میں بچوں کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے اسکولوں میں پروگرام کرتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں فوڈ ریسپی سکھائی جاتی ہے بڑے بڑے شیفس کو ہم نے بلوایا ہے خواتین کے لیے بھی ہم کام کر رہے ہیں اس سوال پر کہ 2024 میں سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈکو برانڈ آف دی ایئر ایوارڈ ملا اور اب ماشاء اللہ 2025 میں برانڈ آئیکون کے لیے نامزدگی ہوئی ہے اس حوالے سے آپ کے کیا احساسات ہیں اس سوال کے جواب میں سرفراز احمد خان نے کہا کہ میں اللہ تعالی کا شکرگزار ہوں کہ ہمیں سوسز اور ٹوپنگس کے حوالے سے 2024 میں برانڈ آف دی ایئر ایوارڈ ملا ہم نے سوسز اور ٹوپنکس جو لانچ کئے وہ مارکیٹ میں بے انتہا پسند کیے گئے میں بے انتہا خوش ہوں کہ ہمیں پاکستان کا سب سے بڑا ایوارڈ دیا گیا ہمارے ڈائریکٹرز کی خصوصی دلچسپی تھی کہ ہمیں برانڈ آف دی ایوارڈ ملنا چاہیے اس لیے وہ بھی بہت خوش ہیں آپ معیاری پروڈکٹس بناتے ہیں تو آپ کی خواہش ہوتی ہے کہ اس پر آپ کو اعزاز ملے تو برانڈ آف دی ائیر ایوارڈ بہت بڑا اعزاز ہے اور اب ہم برانڈآئیکون کے لیے نامزد ہوئے ہیں تو یہ یقینا بہت بڑی خوشی اور اعزاز کی بات ہے آفس میں جو لا تعداد ایوارڈز نظر آرہے ہیں وہ مجھے ملے ہیں مگر سرفراز احمد خان اور سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ جدا جدا نہیں ہیں ایک ہی ہیں سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ وہ کمپنی ہے کہ جس نے سرفراز احمدخان کو اس مقام پر لا کھڑا کیا اور کمپنی کا کنٹری ہیڈ بنایا میرے سی ای او، ڈائریکٹرز کی مہربانی ہے کہ وہ مجھے معاملات میں آگے رکھتے ہیں اور میری خواہش ہے کہ برانڈ آئیکون ایوارڈ احمدسلمان بٹ صا. حب خود وصول کریں۔
اس سوال پر کہ سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈکی پروڈکٹس کن کن ممالک میں ایکسپورٹ کی جا رہی ہیں سرفراز احمد خان نے بتایا کہ امریکہ ،کینیڈا ساؤتھ افریقہ، آسٹریلیا اور یو اے ای میں بھی ہمارا کچھ اسٹاک ایکسپورٹ کیا جاتا ہے اللہ کا شکر ہے کہ بیرون ممالک میں بھی ہماری پروڈکٹس کو زبردست پذیرائی مل رہی ہے اس سوال پر کہ بین الاقوامی نمائشوں میں بھی سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ اسٹالز لگاتی ہے سرفراز احمد خان نے کہا کہ گلف فوڈ میں بھرپور شرکت کر نے کے علاوہ کینیڈا اور دیگر ممالک میں ہونے والی نمائشوں میں بھی ہم شرکت کرتے ہیں
اس سوال پر کہ اے آئی کا دور ہے اور ایڈوانس ٹیکنالوجیز استعمال ہو رہی ہیں تو کیا سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ بھی اس سے استفادہ کر رہی ہے سرفراز احمد خان نے کہا کہ ہم بھی اسی دنیا کا حصہ ہیں تو دنیا بھر میں جو ٹیکنالوجیز ٓارہی ہیں وہ ہم بھی استعمال کر رہے ہیں تاکہ اپنی پروڈکشن کے معیار کو مزید بلند کیا جا سکے اس سوال پر کہ سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ میں آن لائن سپلائی کا بھی کوئی سیٹ اپ موجود ہے سرفراز احمد خان نے کہا کہ
سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈکا آن لائن کا اپنا سیٹ اپ بھی ہے اور دیگر کمپنیاں بھی ہماری پروڈکٹس آن لائن فراہم کر رہی ہیں اسرائیلی پروڈکٹ کے بائیکاٹ سے آپ کی سیل پر کوئی نمایاں فرق پڑا کا جواب دیتے ہوئے سرفراز احمد خان نے کہا کہ ہاں اسرائیلی پروڈکٹس کے بائیکاٹ کے دوران ہمیں کافی فوائد حاصل ہوئے اور سیل میں خاطر خواہ اضافہ ہوا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس سے بھی زیادہ ہمیں کووڈ کے دنوں میں فائدہ ہوا اس دوران میں ہماری سیل بہت بہتر ہوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں چاہتاہوں میرے پاس جو نالج ہے وہ نوجوانوں میں منتقل کروں،سرفراز احمد خان
میری چھپی ہوئی صلاحیتوں کو میں نے خود اجاگر کیا کہتے ہیں نا گاتے گاتے انسان گویہ بن جاتا ہے میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا مارکیٹ کو خود دیکھا جب مارکیٹ میں نکلا تو بڑے دھکے کھائے ہم سیلز کے لوگ ہیں ہمارا مارکیٹنگ سے تعلق نہیں تھا پتہ چلا بہت ساری چیزیں ہیں بندے کو سوشل ہونا پڑتا ہے لوگوں سے ملنا پڑتا ہے آہستہ آہستہ کرتے کرتے احساس ہوا کہ میں بہت سارے کام کر سکتا ہوں میں چاہتا تھا کہ سرفراز احمد خان جہاں بھی جائے لوگوں کو احساس ہو کہ سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈہمارے درمیان موجود ہے مجھے بہت ساری یونیورسٹیز نے لیکچر کے لیے بلایا اس طرح میں ایک نیا کام سیکھ گیا بعد میں ٹی وی پروگراموں میں لوگوں نے بلانا شروع کر دیا اسکولوں میں گیا بچوں کو شعور دینا شروع کیا موٹیویشنل اسپیکر کے طور پر بچوں کو بتایا کہ بزنس کیسے ہوتا ہے بزنس میں آنے والی رکاوٹیں کیسے دور کی جاتی ہیں سوشلائزیشن سے کمپنی کو بہت فائدہ ہوتا ہے میں جہاںبھی جاتا ہوں سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ کا گفٹ ہیمپر ضرور دیتا ہوں اس سے کمپنی کی پبلسٹی ہوتی ہے مختلف تنظیموں کے ساتھ بھی منسلک ہوں مختلف منسٹرز میرے اچھے دوست ہیں ہالار وسان، آصف موسی، شارق جمال یہ سب ہمارے دوستوں میں سے ہیں یہ لوگ ہماری پروڈکٹس کو بہت پسند کرتے ہیں مختلف کلبز کے ساتھ بھی منسلک ہوں پاکستان ایکسیلنس کلب حمید بھٹو صاحب اس کے روح رواں ہیں کنزیومر ایسوسی ایشن کے چیئرمین کوکب اقبال سے میری بہت اچھی دوستی ہے اور میں ایسوسی ایشن میں سندھ کا سینیئر وائس چیئرمین ہوں مسالہ میگزین کا فوڈایڈوائیزر ہوں میڈیا الائنس کا اعزازی ممبر ہوں لوگ مجھ سے محبت رکھتے ہیں اللہ کا شکر ہے فیڈریشن کی کمیٹیوں کا ممبر بھی ہوں اردو اکیڈمی سندھ کے سی ای او ڈاکٹر سعد بن عزیز نے مجھے لکھنے کی دعوت دی ساتویں جماعت کی اردو کی کتاب میں میرا ایک مضمون شامل ہے غذا اور ہماری صحت دو سال ہو گئے ہیں یہ مضمون نصاب کا حصہ ہے میں اردو اکیڈمی سندھ کے سی ای او ڈاکٹر سعد بن عزیز اور ان کے والد مشکور ہوں کہ انہوں نے مجھے یہ موقع فراہم کیا جونوجوان سیلز اور مارکیٹنگ میں آنا چاہتے ہیں میں ان کو مشورہ دوں گا کہ کسی بھی فیلڈ میں محنت کے بغیر کامیابی ممکن نہیں ہے ہر فیلڈ آپ کی محنت لگن اور ٹائم مانگتی ہے یہ تینوں چیزیں بہت ضروری ہیں نوجوانوں کو سوال پوچھنا چاہیے سوال پوچھیں گے تو سیکھیں گے میری کوشش یہ ہے کہ میرے پاس جو کچھ نالج ہے وہ نوجوانوں میں منتقل کروں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سرفراز احمد خان بڑی باغ وبہار شخصیت کے مالک ہیںسرفراز احمد خان بڑی باغ وبہار شخصیت کے مالک ہیں، الفاظ کی ایسی چاشنی رکھتے ہیں کہ وہ بولتے رہیں اور لوگ سنتے رہیں اسی لئے کامیاب مو ٹیویشنل اسپیکر ہیں، ایسی جانی مانی شخصیت ہیں کہ شہر میں ہونے والی اکژبڑی تقریبات میں ان کو ضرور مدعو کیا جاتا ہے بلکہ یہ تقریبات ان کے بغیر نا مکمل تصور ہوتی ہیں،اپنے کام سے عشق ہے اس لئے آرڈر بکر سے سفر شروع کیا اور آج سلمان کارپوریشن پرائیویٹ کے کنڑی ہیڈ کے عہدے پر فائز ہیں اپنی زندگی کی کہانی سناتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ میں نے سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ کو 1998 میں جوائن کیا مختلف فیلڈز میں کورسز کیے پاک سوئس سے ڈپلومہ کیا آرڈربکرکے طور پر اپنے کیریئر کا آغاز کیا متعدد کمپنیوں میں خدمات انجام دیں پھررفحان بعد ازاںحلیب فوڈ جوائن کیا اس کے بعد سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈمیں آگیا اس وقت میں آرڈر بکر کے طور پر جاب کرتاتھا دیواروں پر پوسٹر بھی لگاتا تھا بائک پر گھومتا تھا کراچی کا کوئی ایریا ایسا نہیں جو میں نے موٹر سائیکل پر گھومتے ہوئے نہیں دیکھا اور دکاندار سے میری جان پہچان نہ ہو شاہ فیصل کالونی ہو کلفٹن ہو ڈیفنس ہو گلستان جوہر اور گلشن اقبال، سرجانی ٹاؤن ہو مختلف علاقوں میں کام کیا جوڑ یا بازار میں سارا دن گھومتا رہتا تھا میرے ایک بہت اچھے دوست جوڑیا بازار میں بہت ایکٹو تھے وہ مجھے اکیلا چھوڑ کر چلے جاتے تھے میں اکیلا گھومتا رہتا تھا اللہ کا شکر ہے کمپنی نے مجھے ترقی دی پہلے میں ریجنل سیلز مینیجر کی پوسٹ پر آیا پھر نیشنل سیلز مینیجرپھرکنٹری ہیڈ کی پوسٹ پر فائزہوا کوشش ہے کہ کمپنی کے کام کو بہتر کیا جائے اکیلا کوئی بھی کچھ نہیں کر سکتا ٹیم بنانی پڑتی ہے اس ٹیم کو لے کر چلنا پڑتا ہے اچھی ٹیم ہی بہتر پرفارم کر سکتی ہے مستحکم ٹیم کی تشکیل میں کمپنی اونرز کا بہت بڑا کردار ہے ہم پر ان کا ٹرسٹ ہے اسی لیے کمپنی مسلسل ترقی کر رہی ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ کے مالکان اسٹاف کو فیملی کی طرح پیار کرتے ہیں
سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ کی ترقی میں سب سے بڑا کردارکمپنی کے مالکان کی نیتوں کا ہے نیت صاف ہو تو منزل آسان ہو جاتی ہے سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ کے حوالے سے یہ بات 100 فیصد صادق آتی ہے سلمان کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ سے 27 سالہ رفاقت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کمپنی کے مالکان سلمان محمود بٹ صاحب اور کامران محمود بٹ صاحب مجھے اپنے بچوں کی طرح پیار کرتے تھے ایسا لگتا ہے کہ میری کمپنی میری فیملی ہے حسن کامران بٹ صاحب، احمد سلمان بٹ صاحب اور سمیر سلمان بٹ صاحب سارے اسٹاف کو فیملی کی طرح پیار کرتے ہیں کمپنی کی جیت اسی وقت ہوتی ہے جب وہ اپنے ملازمین حوالے سے سوچتی ہیں اور ان کا خیال رکھتی ہے
