کراچی(کنزیومر واچ نیوز)ڈیفنس فیز 6 میں فلیٹ میں مردہ پائی گئی اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش کا پوسٹ مارٹم مکمل کرلیا گیا۔پولیس کے مطابق حمیرا کا تعلق لاہور سے تھا، اداکارہ کی لاش سرد خانے منتقل کردی گئی ہے اور مرحومہ کے لواحقین سے رابطہ ہوگیا ہے۔اداکارہ حمیرا اصغر کا کچھ سال قبل دیا گیا انٹرویو وائرل، گھر والوں کے بارے میں کیا بتایا؟پولیس نے بتایا کہ خاتون نے 2018 میں فلیٹ کرائے پر لیا تھا ، 2024 سے کرایہ نہ دینے پر مالک نے کیس کررکھا تھا، پولیس عدالتی حکم پر فلیٹ خالی کرانے پہنچی تو دروازہ لاک تھا، پولیس دروازہ توڑ کر داخل ہوئی تو خاتون کی لاش ملی۔واقعے کے بعد عدالتی بیلف نے فلیٹ سیل کردیا جب کہ واقعہ کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔پولیس کے مطابق مرحومہ کے موبائل فون کا ڈیٹا بھی حاصل کرلیا گیا ہے، موت کی اصل وجہ کیمیکل ایگزامینیشن رپورٹ آنے پر سامنے آئے گی۔پڑوسی کا کہناہےکہ حمیرا اصغر کا بلڈنگ کے دیگر افراد سے زیادہ ملنا جلنا نہیں تھا۔واضح رہے کہ حمیرا اصغر نے پاکستانی رئیلیٹی شو ‘تماشا گھر’ کے پہلے سیزن میں شرکت کی تھی۔
Blog
-

والد کو پہاڑی علاقوں میں گھومنے پھرنے کا شوق تھا،اسی شوق کو پروان چڑھاتے ہوئے انھوں نے بزنس کی بنیادرکھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہمند ایجنسی جیسے پسماندہ علاقے سے اپنا بزنس شروع کرنے والی کمپنی مہمند دادا منرلز کو آج دنیا جانتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملکوں ملکوں گھوما اور منرلز کے حوالے سے پاکستان کوروشناس کرایا،ایف پی سی سی آئی اور دیگر فورمز پر سرگرم عمل ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برانڈآئیکون ایوارڈ ملنا بہت بڑے اعزاز کی بات ہے،میں یہ ایوارڈمنرلز اینڈ مائننگ کیلئے کام کرنے والوں کے نام کرتاہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حکومت اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کرے اور،ان کی تجاویز کی روشنی میں ہمارے مسائل حل کرے،محمد بلال خان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہمند دادا منرلز کے چئیرمین اورسی ای او محمدبلال خان کی کہانی خود ان کی زبانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رپورٹ :نشید آفاقی،رمشا یاور بیگ
فوٹوگرافی: فہد شجاع،شعبان سوریامیرے والد کو پہاڑی علاقوں میں گھومنے پھرنے کا بہت شوق تھا. اسی شوق کو پروان چڑھاتے ہوئے انہوں نے اپنے بزنس کی بنیاد رکھی اور الحمدللہ مہمند دادا منرلز کےبزنس کے معیار کو عالمی سطح پر پذیرائی مل رہی ہے. ان خیالات کا اظہار مہمند دادا منرلز کے چئیرمین اورسی ای او محمد بلال خان نے کیا. وہ کنزیومر واچ کی ٹیم سے گفتگو کر رہے تھے. انہوں نے کہا کہ بزرگ آپ کو بنیاد بنا کر دیتے ہیں اسی پر آپ بلڈنگ تعمیر کرتے ہیں بنیادبہت اہمیت رکھتی ہے بڑوں نے ہمارے لیے جو کیا انہوں نے ہمیں بنایا سنوارا اور ایک بنیاد فراہم کی تو اسی پر ہم نے اپنی جدوجہد کی بنیاد رکھی یہ ایک طویل جدوجہد ہے جس کے بعد ہم نے اپنا مقام بنایا ہمیں اعلی مقام دلانے میں بزرگوں کا بڑا ہاتھ ہے پھر ہم نے اپنے وژن کے مطابق بزنس کو مزید ترقی دی. میں مہمند ایجنسی سے تعلق رکھتا ہوں میری پرورش مردان اور پشاور میں ہوئی. یہیں سے میں نے اعلی تعلیم حاصل کی میں نے پشاور یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹر ڈگری حاصل کی. مہمند دادا منرلز بنیادی طور پر دوآئیڈیاز اور ویژنز پر مبنی ہے کمپنی مائننگ پروسیسنگ اور ایکسپورٹ کے بزنس سے وابستہ ہےہم منرلز،ڈائمنشن اسٹون،مائننگ پروسیسنگ،ایکسپورٹس وغیرہ کر رہے. ہمارا وائٹ ماربل بہت زیادہ مشہور ہے اوٹس میں آئرن اور ہے جو چاغی کے علاقے سے نکلتا ہے ہماری مختلف پروڈکٹس کی کمبینیشنز ہیں جس کو بہت زیادہ پسند کیا جا رہا ہے میرے والد نے کاروبار کی بنیاد رکھی مگر میں نے اس کو جدید خطوط پر استوار کیا اور پوری دنیا میں پاکستان کا نام اس حوالے سے روشن کیا یہ بات بڑی اہمیت کی حامل ہے کہ مہمند ایجنسی جیسے پسماندہ علاقے سے ایک کمپنی سامنےآئ اور اس کو بطور مٹیریل سپلائر ناصرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر پذیرائی ملی محمد بلال خان نے کہا کہ ہماری کمپنی نے بہت زیادہ نام پیدا کیا یہ بات ہمارے لیے باعث فخر ہے کہ مہمندایجنسی اور اطراف کے علاقے کی اپنی خصوصیات ہیں. ان کو گنوایا نہیں جا سکتا مہمند ایجنسی ایک پہاڑی علاقہ ہے آپ جس فیلڈ سے بھی منسلک ہوں آپ کو بہترین ماحول مل جائے تو آپ بہت بہتر انداز میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر سکتے ہیں ان لوگوں کے مقابلے میں جن کا تعلق ان علاقوں سے نہیں ہوتا میں نے مردان میں اچھا وقت گزارا وہاں ہمارا آنا جانا لگا رہتا تھا لیکن سب سے اہم بات ہے کہ میں نے کیوں کر اس فیلڈ کا انتخاب کیا ہم سمجھتے ہیں کہ مائننگ کے حوالے سے ان علاقوں میں بڑے وسیع امکانات موجود ہیں. اس فیلڈ میں لوگ نہیں تھے لوگ اس بات کو ترجیح دیتے ہیں کہ ترقی یافتہ علاقوں میں کام کریں مشکل کام کو لوگ ترجیح نہیں دیتے مہمند ایجنسی اور اطراف کے علاقوں میں بزنس مین سرمایہ کاری نہیں کرتے ہیں کیوں کہ وہاں سہولتوں کا فقدان ہے اس صورتحال میں ہمارے لیے بڑی گنجائش موجود تھی ہم نے ساری صورتحال کو مانیٹر کیا اور اپنے کام کو آگے بڑھایا یہ تمام جدوجہد مائل اسٹون کو حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہوئی ہمیں بیک گراؤنڈ بھی اچھا ملا پھر سمجھانے والوں نے بتایا کہ اس فیلڈ میں کتنا وسیع خلا ہے جس کو پر کیا جا سکتا ہے. میں مائن اینڈ منرلز پاکستان کی نمائندگی کرتا ہوں میں اپنے شعبے میں ایف پی سی سی آئی میں قیادت کر رہا ہوں. ال پاکستان مہمند انڈسٹریز ایسوسی ایشن کی قیادت بھی کر رہا ہوں میں نوجوان بزنس مینوں کو بتاتا ہوں کہ اس شعبے میں بہت اسپیس ہے اس فیلڈ میں کام کرنے کی بہت گنجائش موجود ہےعلاقے بڑے ہیں جگہ موجود ہے بےروزگاری بہت زیادہ ہے ان وسائل کو بروئے کار لا کر ہم بے روزگاری کا خاتمہ کر سکتے ہیں اور کثیر زر مبادلہ بھی کما سکتے ہیں. محمد بلا ل خان نے بتایا کہ دنیا منرلز کے پیچھے لگی ہوئی ہے انٹرنیشنلی سارا فوکس منرلز پر ہے میں سمجھتا ہوں کہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے. کہ میں اس شعبے سے وابستہ ہوں ،ہمارے بڑوں نے اس شعبے کے لیے بہت کام کیا ،کچھ لوگوں کا خیال ہےکہ پاکستانی پروڈکٹس کی کوئی اوقات نہیں ہے. اٹالین اسپینش اور ترکی کی پروڈکٹس زیادہ معیاری ہیں مگر یہ بات بالکل غلط ہے ہمارے پاس ڈائمنشن اسٹون کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے مگر بدقسمتی سے ہمارے انویسٹرز رئیل اسٹیٹ کی طرف جاتے ہیں یا پھر بیرون ملک انویسٹ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں. میں سمجھتا ہوں کہ اگر آپ اپنے ملک میں انویسٹ کریں گے تو اس ملک کی مٹی کبھی آپ سے نا انصافی نہیں کرے گی ہماری پروڈکٹ آئرن اور کی انٹرنیشنلی بہت ڈیمانڈ ہے اور ہم اس ڈیمانڈ کو پورا نہیں کر پا رہے ہیں. ڈائمنشن اسٹون اور پیور وائٹ مٹیریل بھی بیرون ملک بہت زیادہ مقبول ہے اس کی دنیا بھر سے بہت زیادہ ڈیمانڈ آ رہی ہے. یہ ہماری میجر پروڈکٹس ہیں. جن پر ہمارا سکہ جمع ہوا ہے. برانڈ آئیکو ن ایوارڈ کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے محمد بلال خان نے کہا کہ برانڈ آئیکون ایوارڈ ملنا بلا شبہ بہت بڑی اہمیت کا حامل ہے برانڈ آئیکون ایوارڈ بہت بڑا اعزاز ہے اور میں اس اعزاز کو ان لوگوں کے نام کرتا ہوں جو ہمارے ساتھ اس فیلڈ سے جڑے رہے دن رات محنت کی میں برانڈ آئیکون ایوارڈ ان کےنام کرتا ہوں. الحمدللہ اس سے بڑی خوشی اور کیا ہو سکتی ہے کہ آپ اپنا کام کر رہے ہیں اور لوگ اس کو سراہ رہے ہیں اہمیت اور اعزاز بھی دے رہے ہیں. بڑے بننے کے لیے محنت درکار ہوتی ہے اس کے لیے بہت ساری چیزوں اور خواہشوں کو سائیڈ پر رکھنا پڑتا ہے جب آپ اپنے حرص و لالچ کوہوا نہیں دیں گے تو آپ آگے جائیں گے کمٹمنٹ کو پورا کرنا بہت اہم ہے کمٹمنٹ کو پورا کرنے والے ہی اگے بڑھتے ہیں. ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے محمد بلال خان نے کہا کہ اپنے آپ کو کم نہیں سمجھنا چاہیے اپنے آپ پر یقین رکھنا چاہیے کہ میں ہر کام کر سکتا ہوں تجارت توکل،جرات اور دیانت کا مرکب ہے اگر آپ اپنے ساتھ اور اپنے کلائنٹ کے ساتھ مخلص نہیں ہیں تو آپ کامیاب بزنس مین نہیں بن سکتے بزنس مین میں یہ چیزیں بہت اہمیت رکھتی ہیں میں سمجھتا ہوں کہ اسٹوڈنٹس کو بتانا چاہیے کہ اخلاقیات کیا ہیں کمٹمنٹ کیا ہے زبان کیا ہے. کس طریقے سے آپ اپنے بزنس کو گرو کریں گے ضروری ہے کہ طالب علموں کو بتایا جائے کہ بزنس کے ایتھکس کیا ہیں آج ہم دیگرمذاہب کے لوگوں کے ساتھ بزنس کرتے ہیں تووہ کمٹمنٹ پر پورا اترتے ہیں بدقسمتی سے ہم وہ باتیں بھول چکے ہیں جو ہمارے بزرگوں نے ہمیں سکھائی ہیں کاروبار میں ایمانداری نہیں ہوگی بے ایمانی ہوگی تو کاروبار نہیں چلے گا. پروڈکٹ بنانا اور اس کو سیل کرنا یہ کوئی معنی نہیں رکھتا ایمانداری سے اپنے سکے کو جمانا اہم چیز ہے. محمد بلال خان نے بتایا کہ میں نے اپنے والد کی نگرانی میں کاروبار میں قدم رکھا. میں نے دیکھا کہ ہماری کمپنی کس میدان میں پیچھے ہے تو اندازہ ہوا کہ ہماری کمپنی کو انٹرنیشنلی اس وقت وہ مقام حاصل نہیں ہوا تھا جس کی وہ حقدار تھی میں نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اس حوالے سے مختلف ممالک کے دورے کیے اور وہاں کی بڑی بڑی کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں کی. اپنی کمپنی کے اعتبار کو مستحکم کیا اور اس کو متعارف کروایا میرا زیادہ تر ٹائم اسی کام میں گزرا. میں نے دنیا کو بتایا کہ پاکستان وہ ملک ہے جس کے پاس بہترین منرلز ہیں مختلف نوعیت کے اعلی کوالٹی کے حامل اسٹونز ہیں یہ سب بیرونی دنیا کے لیے حیران کن تھا میں سعودی عرب گیا میں نے کمرشل قونصلر سےبات کی کہ آپ پاکستان کی پروڈکٹس کے لیے کیا کام کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ کون سی پروڈکٹس تو میں نے کہا کہ ماربل تو انہوں نے کہا کہ ماربل تو اٹلی،اسپین سے آتا ہے کمرشل قونصلر کو نہیں پتہ تھا کہ پاکستان کی کون سی پروڈکٹس ہیں مجھے فخر ہے کہ میں نے ملکی پروڈکٹس کے حوالے سے کام کیا ہماری پروڈکٹس یورپ،گلف ممالک بھی جا رہی ہیں. مگر سب سے زیادہ ایکسپورٹ چائنا کو کی جا رہی ہے پاکستانی ماربل کے 32 مختلف رنگ ہیں دنیا کے کسی ملک میں اتنے کلرز نہیں ہیں. پاکستان واحد ملک ہے جہاں اتنے رنگوں کا ماربل دستیاب ہے پاکستان کے پاس کنسٹرکشن انڈسٹری کے لیے بہت بڑی رینج ہے ہمارے انویسٹرز کی توجہ نہیں ہے اس لیے ہم پیچھے رہ گئے ہیں. ایک سوال کے جواب میں محمد بلال خان نے کہا کہ حکومت اس حوالے سے دلچسپی لے رہی ہے اور ٹی ڈیپ TDAP کا ادارہ بہت کام کر رہا ہے وہ مختلف ممالک میں ایگزیبیشن کرا رہا ہے ، پروڈکٹس کی شو کیسنگ ہو رہی ہے . وفودلے کر جا رہے ہیں خاص طور پر ان لوگوں کو جو عالمی سطح پر متعارف نہیں ہیں. محمد بلال خان نے کہا کہ کہتے ہیں کہ پاکستان کے ماربل ریزرو دنیا میں تیسرے نمبر پر ہیں میں سمجھتا ہوں کہ وہ تیسرے نہیں پہلے نمبر پر ہیں ہمارے ادارے اس سطح کا کام نہیں کر رہے جس طرح کا کام دنیا بھر میں ہو رہا ہے محمد بلال خان نے بتایا کہ ہم بین الاقوامی تجارتی نمائشوں میں باقاعدگی سے شرکت کرتے ہیں ابھی حال ہی میں ہم چائناگئے تھے اس کے علاوہ یو اےای سعودیہ اور دیگر ممالک میں منعقد ہونے والی نمائشوں میں شرکت کرتے ہیں اس کے علاوہ افریقہ میں ہماری پروڈکٹس کی بہت ڈیمانڈ ہے ہم کوشش کر رہے ہیں کہ وہاں جائیں اور وہاں کی مارکیٹ میں اپنی پروڈکٹس کو متعارف کروائیں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے محمد بلال خان نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی ایک بہت بڑا پلیٹ فارم ہے جو تاجروں کے مسائل حل کر رہا ہے ایف پی سی سی آئی کی موجودہ قیادت بہت کام کر رہی ہے انہوں نے بتایا کہ ہماری کمپنی کی18 سے زائدمصنوعات کو بہت زیاده پسند کیا جاتا ہے ہمارا پلانٹ جدید ترین ہے. ملک میں ایسا پلانٹ صرف ہمارے پاس ہے. ہم ہینڈی کرافٹس پروڈکٹس پربھی کام. کرتے ہیں،ان میں کچھ سینیٹری ویئرز ہیں ٹیبل ٹاپ پر جو پروڈکٹس رکھتے ہیں وہ بھی ہم بنا رہے ہیں ہینڈی کرافٹ کی روس کوریا اور دیگر ممالک میں بہت مانگ ہے ا سٹون سے پروڈکٹ کی تیاری ایک آرٹ ہے اور لوگ اس میں دلچسپی لیتے ہیں وائٹ ماربل،ایمپیریل وائٹ اور دیگر کئی پروڈکٹس کی ایسی ہیں جن پر ہم فخر کر سکتے ہیں. محمد بلال خان نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مائننگ سیکٹر میں سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی کا ہے اس پر قابو پانے کی ضرورت ہے منرلز اینڈ مائننگ سیکٹر کو کس طرح انٹرنیشنل مارکیٹ میں متعارف کرانا ہے اس حوالے سے حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا مائننگ کے ایریاز کو کس طرح بہترین بنایا جا سکتا ہے انویسٹ کرنے والوں کو مختلف مسائل کا سامنا ہے. ایکسپلوسو بھی ایک مسئلہ بنا ہوا ہے اگر وہ آپ کو نہیں ملیں گے تو مسئلہ ہوگا مائننگ ایکسپلوسو کے ذریعے ہوتی ہے اگر وہ دستیاب نہیں ہوں گےتو مسائل تو بنیں گے.
فیلڈ کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیےاسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر ان سے بات کی جائے ان سے رائے لی جائے. ان کی تجاویز پر عمل کر کے صورتحال کو بہتر بنایا جا سکتا ہے. یہ ہماری بہت بڑی کامیابی ہوگی وہیں سے ہمارا پہیہ چلے گا آپ نے ٹیکسٹائل کو دیکھ لیا ،لیدر کو دیکھ لیا فارما سوٹیکل کو دیکھ لیا مگر مائننگ میں کوئی ان سینٹو نہیں ہے ایکسپورٹ پر دو فیصد کاٹا جا رہا ہےری بیٹ نہیں ہے کوئی انعام نہیں ہے کوئی ریوارڈ نہیں ہے پوری دنیا میں ریوارڈ دیا جاتا ہے لیکن یہاں نہ ہونے کے برابر ہے مائننگ اتنی بڑی صنعت ہے کہ یہ صنعت آپ کو 100 بلین تک کما کر دے سکتی ہے۔ -

چین کی ڈیجیٹل مارکیٹ 618 کی کہانی ۔۔۔ارم زہرا
جون کی شام جیسے کسی پرانی نظم کی آخری سطر ہو تھوڑی تھکی ہوئی، ذرا نم آلود، اور کچھ کچھ خوابیدہ۔ میں شینزن کے ایک گلی نما بازار میں کھڑی تھی، جہاں نیون روشنیوں کا جال بُنا گیا تھا اور ہوا میں فرائیڈ ٹوفو، مینگو آئسکریم اور عطرِ لیچی کی مہک معلق تھی۔ شہر نے جیسے کپڑے بدل لیے ہوں ۔ دن کی تیز روشنیوں والے کاروباری لباس کی جگہ ایک ڈھیلا، رنگین کرتا پہن لیا ہو جس پر چھوٹے چھوٹے جگنو کڑھائی کی صورت چمک رہے ہوں۔
یہ “618 شاپنگ فیسٹیول” کا وقت تھا۔چین کی سال کی سب سے بڑی آن لائن سیل۔ مگر میرے لیے بازاروں کی اصل دلکشی نہ JD.com کی موبائل ایپ میں تھی، نہ Alibaba کی ڈیجیٹل ویب پر ۔ میرے دل کی دنیا تو انہی چھوٹے نائٹ مارکیٹس میں آباد تھی، جو ہر شام ایک نئی کہانی کی طرح کھلتے، اور رات گئے تک آنکھوں میں رنگ بھر کے بند ہو جاتے۔
جون کی گرمی میں جب ہوا سست ہو جاتی ہے، چین کے ڈیجیٹل آسمان پر ایک تہوار اترتا ہے 618 یہ عام میلے جیسا نہیں، جہاں پتنگیں اڑتی ہوں یا ڈھول بجتے ہوں ۔ یہ تو کلاؤڈ کی دنیا میں ہونے والا وہ کاروباری جشن ہے، جہاں ہر کلک میں خواہش، ہر آئٹم میں رعایت، اور ہر کارٹ میں ایک چھوٹا سا خواب ہوتا ہے۔
یہ فیسٹیول دراصل آن لائن بازاروں کی عید ہے JD.com، Taobao، Tmall جیسے دیو قامت پلیٹ فارم صارفین کو وہ سب کچھ دیتے ہیں جو وہ برس بھر صرف “Wishlist” میں رکھتے ہیں۔
یہ سیل نہیں، ایک تجربہ ہے ۔ جہاں قیمتیں جھکتی ہیں اور دل خریداری کے رنگین کینوس پر اپنی پسند کا انتخاب کرتا ہے۔
618 نہ دکان ہے، نہ بازار ، یہ ایک ڈیجیٹل دریا ہے، جس میں چین کے کروڑوں کارخانے، دکاندار، اور خریدار سب بہتے ہیں اور ہر سال جون میں، یہ دریا جوش میں آتا ہے ۔سودوں کا، سچائی کا، اور خوابوں کا۔
اس بازار میں میرا پہلا قدم ایک کتابوں کی دکان کی جانب تھا۔ میں نے پوچھا “یہ 618 کا مطلب کیا ہے؟ کوئی میلہ ہے؟ کوئی تہوار؟”
سامنے بیٹھے ایک نوجوان نے ہنستے ہوئے چائے کا کپ رکھا اور کہا “نہیں، یہ تو JD.com کی سالگرہ ہے۔ جون کی اٹھارہ تاریخ۔”
اور تب مجھے احساس ہوا کہ چین کی ڈیجیٹل دنیا میں تاریخیں بھی تہوار بن جاتی ہیں۔618 صرف ایک نمبر نہیں، ایک یاد ہے، ایک ابتدا ہے۔18 جون 1998 کو جب JD.com نے اپنی بنیاد رکھی تھی، شاید کسی نے نہ سوچا ہو کہ ایک دن یہی تاریخ چین کے کروڑوں خریداروں کے لیے سال کی سب سے بڑی امید بن جائے گی۔
آج 618، صرف JD کا جشن نہیں،بلکہ پورے چین کا وہ ڈیجیٹل میلہ ہے، جہاں ہر کلک میں تجارت، ہر رعایت میں خواب اور ہر خرید میں ایک چھوٹی سی خوشی بندھی ہوتی ہے
کتابوں کے شو روم سے نکلتے ہی دائیں طرف ایک خاتون بانس کی پنکھیاں بیچ رہی تھیں۔ ہر پنکھے پر ہاتھ سے پینٹ کی گئی تصویر تھی کہیں غروب ہوتا سورج، کہیں پہاڑوں کے بیچ بہتی ندی۔ وہ خاتون خود بھی کسی پرانی تصویر کی طرح لگتی تھی ۔ دھیمے لباس میں، چہرے پر خاموش مسکراہٹ، جیسے ہر پنکھا بیچتے وقت ایک پرانی یاد کسی کے ہاتھ رکھ دیتی ہو۔
تھوڑی دور ایک نوجوان لڑکا، جس کے بال نیلے رنگ میں رنگے تھے، موبائل فون کے کورز بیچ رہا تھا۔ اس کی دکان کے پیچھے ایک بڑا سا بورڈ لگا تھا: “Buy 2, Get 1 Smile Free!” اور سچ مانیے، وہ واقعی ہر خریداری پر ایک ہنسی ضرور دیتا تھا۔ شاید یہی چھوٹے بازاروں کی اصل دولت تھی مسکراہٹیں۔
بائیں طرف جب مڑی تو جیسے کسی خوشبو کی گلی میں آ نکلی۔ یہاں ایک کُھلے کاؤنٹر پر ایک بوڑھا آدمی جڑی بوٹیوں سے بنے صابن بیچ رہا تھا۔ وہ ہر صابن کے ساتھ اس کی “کہانی” بھی سناتا
“یہ والا لیونڈر کا ہے ۔دل کی اداسی کے لیے اور یہ چائے کے پتے والا تھکے قدموں کے لیے۔”
میں نے ایک ہلکے سبز رنگ کا صابن لیا، جس کی خوشبو میں جیسے نانی کے صحن کی صبحیں لپٹی ہوئی تھیں۔ بوڑھے آدمی نے جذباتی انداز میں کہا۔
“یہ تمہارے خوابوں کو نرم کر دے گا، بیٹی۔”
بازار میں کئی اسٹال ایسے بھی تھے جو 618 فیسٹیول کی چمک لیے ہوئے تھے۔ ایک نوجوان جوڑا “فلیش سیل” چلا رہا تھا۔ ایک لمحہ، ایک ڈیل۔ گاہک فون نکال کر QR کوڈ اسکین کرتا اور اگلے ہی لمحے ای-والٹ سے ادائیگی، ایک چھوٹا سا پرنٹر رسید اگلتا، اور پھر ہاتھوں میں ایک نیا الیکٹرانک پنکھا، یا ایل ای ڈی لائٹ، یا کمر سیدھی کرنے والا آلہ۔
ان تمام خریداروں میں ایک چیز مشترک تھی ۔آنکھوں کی وہ چمک جو صرف “ڈسکاؤنٹ میں خوشی” سے جنم لیتی ہے۔
آخر میں، میں بازار کی آخری گلی میں جا نکلی۔ وہاں زمین پر کپڑے بچھا کر کھلونے بیچے جا رہے تھے۔ ایک چھوٹی لڑکی اپنی ماں کے ساتھ رنگ بدلنے والے بالز دیکھ رہی تھی۔ ایک لڑکا، جس نے خود بنایا ہوا روبوٹ بیچنے کی کوشش کی، میرے پاس آیا اور بولا “یہ ناچتا بھی ہے، دیکھیں؟”اور روبوٹ واقعی ناچا، ایک بارگین قیمت پر صرف دس یوان۔
میں نے ایک مینگو قلفی لی، اور کرسی پر بیٹھ کر اس ذائقے میں اپنے بچپن کی گرمیوں کی خوشبو ڈھونڈی۔ قلفی کا رس، انگلیوں سے ہوتا ہوا کلائی تک بہا جیسے کوئی پرانا خواب بہہ جائے۔اوپر آسمان پر ہلکی دھند تھی، اور کہیں دور سے جگنوؤں کی مدھم روشنی آ رہی تھی۔
جب میں بازار سے نکلی، تو ہاتھ میں ایک صابن، ایک فینسی پنکھا، اور ایک جگنو سا لمحہ تھا مگر دل میں ایک مکمل تصویر ان چہروں کی، ان رنگوں کی، ان چھوٹے جملوں کی جنہوں نے ایک بازار کو میری روح کی گلی بنا دیا تھا۔
“بازار تو ہر شہر میں ہوتے ہیں، مگر کچھ بازار دل کے اندر بس جاتے ہیں جیسے کسی پرانی کتاب کے صفحے میں رکھے پھول کی خوشبو، جو برسوں بعد بھی مہک دیتی ہے۔
اگلی صبح، میں نے قلفی کے رس سے بنے یادوں کے دائرے کو پیچھے چھوڑا، اور بس میں سوار ہو کر چین کے اُس بازار کی طرف روانہ ہوئی، جس کا نام دنیا بھر کے چھوٹے تاجروں کے لیے خواب جیسا ہے علی بابا۔
مگر یہ کوئی غار نہیں، جہاں “کھل جا سم سم” کہا جائے اور خزانے ظاہر ہو جائیں یہ تو ایک ڈیجیٹل سلطنت ہے، جہاں تجارتی ذہانت، آنکھوں کا مشاہدہ، اور دل کی سچائی چاہیے۔
شینزن کی نرم دھوپ میری کھڑکی سے آ کر گالوں کو چوم رہی تھی اور میں سوچ رہی تھی “کیا پاکستان میں بیٹھا کوئی نوجوان، ایک لیپ ٹاپ، تھوڑی سی نیت اور ذرا سی سمجھ بوجھ سے چین سے تجارت کر سکتا ہے؟”
علی بابا صرف ایک ویب سائٹ نہیں، یہ چین کے کروڑوں کارخانوں کی دکان ہے، جہاں ایک ایک پیچ، پرزہ، بوتل،کنگھی، چائے کی پتی، اور کپڑے کی ہر قسم آپ کے کلک کی منتظر ہے۔
ایک بوڑھے چینی تاجر نے کہا تھا
“Alibaba is not a store, it is a gateway to a thousand villages.”
اور وہ سچ کہتا تھا۔ ہر پروڈکٹ کے پیچھے ایک خاندان، ایک شہر، ایک قصبہ ہوتا ہے اور ہر خریدار کے پیچھے ایک خواب۔
جب میں Yiwu International Trade City پہنچی ۔ جسے اکثر “دنیا کا سب سے بڑا ہول سیل بازار” کہا جاتا ہے تو ایک لمحے کو دل ڈر گیا۔ پانچ منزلیں، ہزاروں دکانیں، لاکھوں اشیاء اور ہر ایک اپنی آواز میں پکارتی تھی “آئیے، چھونے سے قیمت نہیں بڑھتی!”
“پاکستان؟ جی جی، ہم شپنگ کرتے ہیں!”
یہاں آپ کو ہر وہ چیز ملے گی جو ایک دکان دار، درآمد کنندہ یا ایمازون/درزن پر کام کرنے والا چاہتا ہے زیورات ، کھلونے ، کچن کا سامان ، سٹیچنری ، ہینڈ بیگز ، رمضان/عید ڈیکوریشن
مجھے ایک پُرانی طرز کے اسٹال نے بہت متاثر کیا، جہاں ایک بزرگ خاتون خود کڑھائی کی گئی ربن بیچ رہی تھی۔ میں نے اس سے پوچھا
“آپ روز اتنا سفر کرتی ہیں؟” وہ ہنس دی
“ہاں، اور ہر ربن ایک کہانی ہے، جو شاید تم پاکستان لے جاؤ گی۔”
اگر فیشن کی دنیا میں کاروبار ہے، تو Guangzhou کا سفر فرض ہے۔
یہاں کے ہول سیل بازار Baima Clothing Market، Shahe Wholesale City اور Zhanxi Garment Market میں داخل ہونا ایسا ہے جیسے ایک متحرک قوس و قزح میں قدم رکھنا۔ ہر دکان پر کپڑے جیسے خوابوں کی طرح جھولتے ہیں۔ ریشم، لینن، کاٹن، جینز ، ہر سیزن، ہر اسٹائل۔
میں ایک دکان میں داخل ہوئی تو دکان دار نے پوچھا۔
“ری سیل کریں گی یا بوتیک چلانا چاہتی ہیں؟”
اور مجھے اندازہ ہوا کہ چین میں صرف خریدار نہیں پوچھے جاتے، خوابوں کی نیت پوچھی جاتی ہے۔
اگر کوئی پاکستانی چین سے درآمد کرنا چاہتا ہے تو درج ذیل راستے سب سے موثر ہیں
1. علی بابا (Alibaba.com) سے آرڈر دینا
Minimum Order Quantity (MOQ) سمجھیں Supplier کی Trade Assurance چیک کریں۔
Sample منگوائیں، پھر Bulk Order دیں۔
2. Yiwu / Guangzhou سے براہِ راست خریداری
آپ یہاں آ کر براہِ راست خرید سکتے ہیں یا چینی ایجنٹ کے ذریعے۔
Shipping کے لیے FCL (Full Container Load) یا LCL (Less than Container Load) استعمال کریں۔کراچی، لاہور، سیالکوٹ میں Customs Clear کرنے کے لیے مقامی ایجنٹس موجود ہیں۔
3. پاکستان میں بیچنے کے پلیٹ فارمز
Daraz.pk , Wholesale Facebook Pages Instagram Boutique ,
Local Bazaars (Anarkali, Tariq Road)
شام ڈھلے، میں Guangzhou کے Beijing Road Night Market میں پہنچی یہ بازار کچھ کچھ لاہور کی انارکلی جیسا تھا۔ لوگ، روشنی، کھانے کی خوشبو، اور کپڑوں کی سجی سجائی دکانیں۔
میں نے وہاں ایک لڑکی کو دیکھا جو ایک چھوٹا سا بوتیک چلا رہی تھی۔ اس نے بتایا کہ وہ Alibaba سے مال منگوا کر بیچتی ہے ۔اس کے فون میں پاکستانی کلائنٹس کے واٹس ایپ تھے، وہ اردو کے پیغامات بھی سمجھتی تھی۔ میں نے اس سے کہا
“تم تو پاکستان کے بازاروں میں بیٹھی ہو، چین میں رہ کر!”
وہ مسکرائی
“بازار کی کوئی سرحد نہیں ہوتی، صرف بھروسے کی ضرورت ہے۔”
جب میں واپس آئی، تو کمرے میں خاموشی تھی، مگر دماغ میں ہزاروں آوازیں گونج رہی تھیں
“MOQ صرف 100 پیس!”
“پاکستانی مارکیٹ میں یہ بہت چلتا ہے۔”
“ہم CIF کراچی تک شپ کرتے ہیں۔”
“ڈیل پکی؟”
میں نے کھڑکی سے باہر جھانکا دور ایک چینی لڑکی، چائے کی پیالی لیے، لیپ ٹاپ پر کچھ سرچ کر رہی تھی۔ شاید وہ بھی کسی پاکستانی دکاندار کو پروڈکٹ دکھا رہی ہو۔مجھے لگا، بازار صرف چیزوں کے نہیں ہوتے، خوابوں کے بھی ہوتے ہیں۔
اگر آپ کو خواب دیکھنے آتے ہوں، تو علی بابا کے دروازے کھلنے میں دیر نہیں لگتی۔اور اگر آپ میں ہمت ہو، تو Yiwu،Guangzhou، اور Hangzhou کے بازار صرف منزل نہیں، خود ایک درسگاہ بن جاتے ہیں۔
میں اُس دن علی بابا کے ہیڈکوارٹر کے قریب واقع ایک کیفے میں بیٹھی تھی، جہاں چینی طالبات، کاروباری خواتین اور نوجوان لڑکیاں اپنے لیپ ٹاپ کھولے، خاموشی سے کام کر رہی تھیں۔ ہر ایک کے سامنے گرین ٹی کا کپ، اور اسکرین پر یا تو Alibaba.com کھلا تھا، یا پھر Douyin (چینی TikTok)، یا WeChat Mini Store۔ ایسا لگتا تھا کہ ہر میز ایک چھوٹا سا دفتر ہے ایک ڈیجیٹل دکان۔
میرے برابر بیٹھی ہوئی لڑکی نے اپنا تعارف ہلکی مسکراہٹ سے کروایا۔
“میرا نام ژیاؤلین ہے، میں ہانگژو کی لوکل پروڈیوس کو پاکستان، دبئی اور انڈونیشیا بھیجتی ہوں۔”
میں چونک گئی، کیونکہ وہ محض بائیس برس کی لگتی تھی، اور اس کے ہاتھوں میں نہ کوئی روایتی رسید تھی، نہ کوئی رجسٹر صرف اس کا فون، ایک چھوٹا بارکوڈ اسکینر، اور Alibaba Seller App۔
ژیاؤلین نے مجھے بتایا کہ وہ چھوٹے کسانوں سے شہد، چائے، خشک پھول، اور قدرتی صابن خریدتی ہے، اور انھیں خوبصورت پیکیجنگ کے ساتھ مختلف ممالک کو برآمد کرتی ہے — سب کچھ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے Alibaba & 1688.com پر پروڈکٹ لسٹ کرنا
Canva اور Photoshop پر پیکیجنگ ڈیزائن
TikTok/Douyin پر پروڈکٹ کی ویڈیوز
WeChat Pay اور AliPay سے ادائیگیاں
Lazada, Shopee, Daraz جیسے پلیٹ فارمز پر سیل
اس نے کہا۔ “مجھے بازار جانے کی ضرورت نہیں، میرا بازار میری انگلیوں کے نیچے ہے۔”
میں نے اسے بتایا کہ پاکستان میں بہت سی خواتین ہنر رکھتی ہیں مگر وہ مارکیٹ تک رسائی نہیں رکھتیں۔ وہ حیران ہوئی
“ہمیں صرف ایک فون، تھوڑی انگریزی، اور سیکھنے کی لگن چاہیے باقی سب ہم نے خود سیکھا ہے۔”
ہانگژو میں میں نے درجنوں ایسی لڑکیاں دیکھیں جو Alibaba یا Taobao پر “seller” تھیں۔ ان کی دکانیں نہ فٹ پاتھ پر تھیں، نہ پلازوں میں بلکہ کلاؤڈ پر۔ انھوں نے یہ جان لیا تھا کہ علم، نیٹ ورکنگ، اور برانڈنگ سے کہیں بھی کچھ بھی بیچا جا سکتا ہے۔
چین کی ڈیجیٹل مارکیٹ نے “تھوک فروش” (wholesale) کو موبائل میں قید کر دیا ہے اور “خریدار” کو دنیا کے کسی بھی کونے سے جوڑ دیا ہے۔ یہاں بازار کا شور نہیں ہوتا،مگر ہر نوٹیفیکیشن، ہر آفر، ہر کلک ، ایک نئی داستان کا آغاز ہوتا ہے۔
واپسی پر جب میں مغربی جھیل کے کنارے چہل قدمی کر رہی تھی، تو ہوا میں بارش کی نمی اور چائے کی مہک مل رہی تھی۔ ذہن میں ژیاؤلین کا جملہ گونج رہا تھا “بازار اب صرف دکانوں میں نہیں، دلوں میں ہوتے ہیں جو جوڑ سکے، وہ بیچ سکتا ہے۔”
اور مجھے لگا، پاکستان کی بیٹیوں، بیٹوں، ہنر مندوں اور خواب دیکھنے والوں کے لیے بھی یہ دروازے کھلے ہیں۔
کسی کو چین آنے کی ضرورت نہیں اگر آپ کے ہاتھ میں علم، فون، اور سچائی ہو، تو آپ کا بازار آپ کے ساتھ چلتا ہے
چین کی ڈیجیٹل دنیا کوئی ایک ایپ، ویب سائٹ یا ٹیکنالوجی کا نام نہیں یہ ایک نئی تہذیب ہے، جہاں بازار شور سے نہیں، کلک سے آباد ہوتے ہیں۔جہاں خریدار کے پاس وقت کم ہے، مگر چوائس بے شمار۔
جہاں دکاندار چھت تلے نہیں بیٹھتا، بلکہ کلاؤڈ میں تجارت کرتا ہے۔
یہاں ہر آرڈر، ایک الگ کہانی ہے۔ہر پیکیج، ایک شہر سے دوسرے ملک تک امیدوں کا سفر کرتا ہے۔اور ہر نوجوان، خواہ وہ ہانگژو کی گلی میں بیٹھا ہو یا کراچی کی چھت پر،اپنے موبائل سے دنیا کی مارکیٹ میں داخل ہو سکتا ہے۔
چین نے ہمیں یہ سکھایا کہ
بازار بدل سکتے ہیں، طریقے بدل سکتے ہیں، مگر خواب وہی رہتے ہیں خود کو بہتر بنانے کے، کچھ بیچنے کے، اور کچھ پا لینے کے۔اب بازار صرف سڑکوں پر نہیں، بلکہ ہمارے دلوں، انگلیوں اور سوچوں میں بسا کرتے ہیں۔
ارم زہراء ۔ چین -

سدرہ کریم کی کتاب کی تقریبِ رونمائی
کراچی: اردو نثر و نظم پر مشتمل کتاب “ایک نام حقیقت” کی مصنفہ سدرہ کریم کی کتاب کی تقریبِ رونمائی کراچی پریس کلب میں منعقد ہوئی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معروف شاعر خالد معین نے کہا کہ ایک نام حقیقت نوجوان مصنفہ کے روشن مستقبل کی نوید ہے۔ انہوں نے کتاب سے کچھ نثر پارے اور غزلیں سنائیں، جن میں ایک شعر خاص طور پر قابلِ ذکر تھا:
اب میں پھولوں میں کھلنا چاہتی ہوں
خوشبوؤں میں بکھر کے دیکھ لیااس موقع پر کراچی پریس کلب کے صدر اور شاعر فاضل جمیلی نے کہا کہ وہ کچھ عرصہ قبل سدرہ کریم سے ملے تھے، جب انہوں نے اپنی پہلی کتاب کچھ بھیگے الفاظ انہیں پیش کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ توقع کر رہے تھے کہ نئی کتاب میں زیادہ نظمیں ہوں گی، لیکن اس کے باوجود شاعری میں پختگی نظر آتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جیسے ماضی میں سینئر شعراء نوآموز لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کرتے تھے، ویسا ماحول آج بھی قائم رہنا چاہیے۔
شاعر جاوید صبا نے کہا کہ وہ سدرہ کریم سے واقف نہیں تھے، جب تک انہوں نے انہیں کتاب کی پی ڈی ایف بھیج کر تعارف نہ کروایا۔ کتاب پڑھ کر وہ حیران ہوئے کہ اس میں اہم سماجی مسائل پر نثر بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مصنفہ کی شاعری بھی فکر انگیز اور عمدہ ہے۔ انہوں نے کہا: “ادب میں ایک خوبصورت اضافہ ہو رہا ہے۔”
مصنفہ سدرہ کریم نے تقریب کے انعقاد میں معاونت کرنے والے تمام احباب کا شکریہ ادا کیا اور اپنی تخلیقی کاوشوں کو سراہنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اپنی کتاب سے ایک نثری تحریر “سکون” خاص طور پر سنائی۔
تقریب کی صدارت عمرانہ انور مقصود نے کی۔ انہوں نے ابتدا میں اپنے خاندان کا ذکر کیا اور کہا کہ اگرچہ ان کے بچوں کو اردو ادب سے خاص لگاؤ نہیں، لیکن وہ گھر میں اردو میں گفتگو کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا، “ہم پرانے وقتوں سے ہیں اور اردو سے محبت کرتے ہیں — اور ہمیں اس پر فخر ہے۔ اردو ہماری زبان ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ سدرہ کریم کی کتاب اس بات کی دلیل ہے کہ اردو زندہ ہے۔
رکنِ سندھ اسمبلی ہالر واسن نے کہا کہ آج کل لوگ ادب کے بجائے تفریح کی طرف زیادہ راغب ہیں، لیکن ایسی تقریبات عوام کو ادب کی طرف متوجہ کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
-

اردو انٹرنیشنل کا عالمی مشاعرہ رپورٹ تہمینہ راؤ:
سڈنی ۲۵ جون / اردو انٹرنیشنل کے زیرِ اہتمام ۲۰۲۵ کا سالانہ مشاعرہ سابقہ رویات کو برقرار رکھتے ہوئے ایک اور خوبصورت تجربہ تھا- جسے شعروادب کا ذوق رکھنے والے سڈنی کے سامعین نے شاندار لفظوں میں خراج تحسین پیش کیا -آسٹریلیا کے سابق قونصل جنرل محمد اعظم کا کہنا تھا کہ اردو انٹرنیشل نے جس طرح مشاعرے کی روایات کو زندہ رکھا ہے اس کے نتیجے میں سڈنی کے شعرا کی صلاحیتیں ابھر کر سامنے آئی ہیں ۔ ڈاکٹر اسرار خان کے مطابق اردو زبان کی ابدی خوبصورتی نے شاعری کا لباس پہن کر ایک جادوئی فضا قائم کر دی تھی۔سوک تھیٹر کے سامعین سے بھرے ہوئے ہال میں مشاعرہ نصف شب تک جاری رہا اور سامعین آخر تک بیٹھے مہمان اور مقامی شعرا کو سراہتے رہے۔
مشاعرے کی صدارت ہیوسٹن امریکہ سے آنے والے ممتاز شاعر اور اسکالر ڈاکٹر غضنفر ہاشمی نے کی جبکہ دنیا بھر میں اپنی شاعری کے لیے مشہور ہندستان سے آئے ہوئے شاعر خوشبیر سنگھ شاد مہمان خصوصی تھے ، ہندستان ہی سے آئے ہوئے شاعر نفس انبالوی اور میلبرن سے آئے ہوئے سینیر شاعر مصدق لاکھانی خاص مہمان تھے ۔
مشاعرے کی ابتدا میں اشرف شاد نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں بتایا کہ اردو انٹر نیشنل آسٹریلیا مشاعرے کی تہذیبی روایت کو برقرار رکھے ہوئے ہے ،اور اس کی بڑی وجہ وہ سامعین ہیں جو تیس سال سے ان مشاعروں میں باقاعدگی سے شرکت کر کے اسے کامیاب بناتے ہیں۔
فروغ زیدی نے مختصراً اردو انٹر نیشنل آسٹریلیا کے پچھلے گیارہ سالوں کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اردو انٹرنیشنل پندرہ سے زیادہ عالمی مشاعرے منعقد کر چکی ہے ،اور اس نے کووڈ کے زمانے میں بھی زوم پر آن لائن عالمی مشاعروں اور افسانے کی محفلوں کا سلسلہ جاری رکھا تھا ۔ان کا کہنا تھا کہ اردو انٹر نیشنل اب تک ستر سے زیادہ ماہانہ ادبی نشستیں بھی منعقد کر چکی ہے۔
انھوں نے شعر و ادب کا ذوق رکھنے والے سامعین کو تنظیم میں شامل ہونے کی دعوت دی۔ مشاعرے میں جناب انور گھانچی صاحب کو اوم کرشن راحت ایوراڑد سے نوازا گیا ۔مہمان شعرا کے علاوہ آسٹریلیا کے جن شعرا نے اپنا کلام سنایا ان میں
ڈاکٹر باقر رضا ، اشرف شاد ، ڈاکٹر شبیر حیدر،فروغ زیدی،ڈاکٹر یاسمین زیدی،ہما مرزا ،ڈاکٹر ئیاسمین شاد ،تہمینہ راؤ ،فرحت اقبال ،نوید علی خان ،ریحان علوی،جاویدنظر،شجاع عاطف،نسیم حیدر،نائلہ ہما،ڈاکٹر عدنان سید خواجہ حمید سالک اور ڈاکٹر کاشف بٹ شامل تھے جبکہ نظامت کے فرائض ہما مرزا اور یاسمین شاد نے انجام مشاعر کے اسپانسرز اور مہمانوں کو اردو انٹر نیشنل آسٹریلیا کی جانب سے یادگاری شیلڈ پیش گئیں اور تمام مہمانوں کی تواضع پُر تکلف طعام سے کی گئی ۔ -

4 جولائی، امریکا کا یومِ آزادی…حمیرا گل تشنہ
امریکہ کا یومِ آزادی، جو ہر سال 4 جولائی کو منایا جاتا ہے، نہ صرف ایک تاریخی واقعے کی یادگار ہے بلکہ یہ امریکی ثقافت، روایات اور قومی یکجہتی کا بھی عکاس ہے۔ یہ دن 1776 میں اعلانِ آزادی کی منظوری کی یاد دلاتا ہے، جب 13 نوآبادیوں نے برطانیہ سے اپنی آزادی کا اعلان کیا تھا۔ آج، یہ تہوار صرف ایک تاریخی تقریب نہیں رہا بلکہ امریکی معاشرے کے رنگارنگ پہلوؤں کو اجاگر کرنے کا ایک ذریعہ بن چکا ہے۔
4 جولائی 1776 کو فلاڈیلفیا میں دوسری کانٹی نینٹل کانگریس کے اجلاس میں اعلانِ آزادی کی منظوری دی گئی۔ یہ دستاویز، جسے تھامس جیفرسن نے لکھا، امریکہ کی 13 نوآبادیوں کے برطانیہ سے علیحدگی کا اعلان تھا۔ اس فیصلے نے امریکی انقلاب (1775- 1783) کو ایک نئی سمت دی، جس کے نتیجے میں امریکہ ایک آزاد قوم بن گیا۔ اعلانِ آزادی میں “زندگی، آزادی اور خوشی کی تلاش” جیسے بنیادی حقوق کو مرکزی حیثیت دی گئی، جو آج بھی امریکی جمہوریت کی بنیاد ہیں۔
ثقافتی اہمیت: یومِ آزادی کا جشن کیسے منایا جاتا ہے؟
4 جولائی کا تہوار امریکی ثقافت کا ایک اہم حصہ ہے، جس میں مختلف علاقائی روایات اور عوامی تقریبات شامل ہوتی ہیں۔ یہ دن نہ صرف قومی یکجہتی کا اظہار ہے بلکہ خاندانوں اور دوستوں کے اجتماع کا بھی موقع فراہم کرتا ہے۔آتشبازی 4 جولائی کی سب سے نمایاں روایت ہے۔ امریکا میں پورے جولائی کے مہینے میں شام کے وقت ملک بھر کے شہروں میں رنگ برنگے آتشبازی کے مظاہرے کیے جاتے ہیں۔ ہر شہر و قصبے میان حکومتی سطح پر آتشبازی کی جاتی ہے اور ذاتی طور پر تقریبا پر رات پٹاخوں کی گونج سنائی دیتی ہے۔ مثال کے طور پر، ٹیکساس کے شہر ایڈیسن میں ہونے والی آتشبازی کو امریکہ کی بہترین آتشبازیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس موقع پر شہر کی آبادی معمول کے 17 ہزار سے بڑھ کر 5 لاکھ تک پہنچ جاتی ہے ۔ لوگ اپنے گھر والوں کے ساتھ آتشبازی کا نظارہ کرتے اور اس وقت سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
مختلف علاقوں میں پریڈز اور عوامی تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ مثلا، پالتو جانوروں کی پریڈ: اوریگن کے شہر بنڈ میں 1924 سے ہر سال کتوں اور بکریوں کی پریڈ کا اہتمام کیا جاتا ہے، جسے 8 سے 10 ہزار افراد دیکھنے آتے ہیں ۔
بچوں کی پریڈ: وایومنگ کے شہر کوڈی میں بچوں کی پریڈ ہوتی ہے، جس میں مقامی روایات جیسے “کوڈی سٹیمپیڈ” (گھڑ سواری کا مقابلہ) بھی شامل ہوتا ہے ۔
پرانی گاڑیوں کی نمائش: پنسلوانیا کے واشنگٹن کراسنگ ہسٹورک پارک میں امریکی انقلاب میں حصہ لینے والے ممالک (امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی) کی گاڑیوں کی نمائش ہوتی ہے ۔
ٹام سوئر کی یاد میں مقابلہ: مسوری کے شہر ہینی بل میں مارک ٹوین کے ناول “دی ایڈونچرز آف ٹام سوئر” کے کردار کی یاد میں باڑ رنگنے کا مقابلہ منعقد کیا جاتا ہے ۔
پین کیک کا ناشتہ: کیلیفورنیا کے قصبے انڈی پینڈنس اور مین کے بار ہاربر میں یومِ آزادی کا آغاز پین کیک کے ناشتے سے ہوتا ہے ۔
موسیقی کے شو: بار ہاربر میں براہ راست موسیقی کے پروگرامز اور دستکاروں کے میلے بھی لگائے جاتے ہیں ۔ہر ریاست اپنے انداز و دستور کے مطابق اس وقت کو مناتی ہے۔ 4 جولائی کے جشن میں امریکہ کے مختلف علاقوں کا اپنا ایک منفرد انداز ہوتا ہے۔
دیہی علاقے اپنی روایات کے مطابق اس دن کو مناتے ہیں۔ مثلا، وایومنگ جیسے ریاستیں گھڑ سواری اور کاؤبوائز کلچر کو فروغ دیتی ہیں۔
شہری تقریبات کا رنگ مختلف ہوتا ہے۔ جیسے، نیویارک یا شکاگو جیسے بڑے شہروں میں بڑے پیمانے پر کنسرٹس اور آتشبازی کے مظاہرے ہوتے ہیں۔ اور فلاڈیلفیا جیسے شہروں میں اعلانِ آزادی کی تقلید کی جاتی ہے ۔
4 جولائی کا تہوار امریکی تاریخ، ثقافت اور قومی شناخت کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ دن نہ صرف آزادی کی جدوجہد کی یاد دلاتا ہے بلکہ امریکی معاشرے کے تنوع اور یکجہتی کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ آتشبازی، پریڈز، تاریخی نمائشوں اور خاندانی اجتماعات کے ذریعے یہ تہوار ہر امریکی کے دل میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ جیسا کہ امریکی شاعر رالف والڈو ایمرسن نے کہا تھا: “آزادی کی روح ہی وہ چیز ہے جو امریکہ کو زندہ رکھتی ہے۔” اور 4 جولائی اسی روح کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔
حمیرا گل تشؔنہ -

2نوجوانوں کو ٹکر مارنے والا جے ڈی سی کے سربراہ ظفر عباس کا ڈرائیور گرفتار
کراچی (کنزیومر واچ نیوز)کراچی کے علاقے انچولی میں حادثے کے ذمہ دار جے ڈی سی سربراہ ظفر عباس کے ڈرائیور عرب رضا کو پولیس نے گرفتار کرکے گاڑی برآمد کرلی۔پولیس کے مطابق گرفتار ڈرائیور سے ابتدائی بیان لےلیا گیا، ظفر عباس کا نوجوانوں کے موٹر سائیکل کی ہیڈ لائٹ بند ہونے کا بیان بھی غلط نکلا۔سی سی ٹی وی فوٹیج میں ڈبل کیبن گاڑی کو رانگ وے جاتے دیکھا جاسکتا ہے، ڈرائیور نے رانگ وے سے دوسری سڑک پر جانے کی کوشش کی۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ زخمی نوجوانوں کے اہلخانہ سمن آباد پولیس سے رابطے میں ہیں۔۔ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ صحیح راستے پر آنے والے موٹر سائیکل سوار گاڑی سے ٹکرائے جبکہ نوجوانوں کو موٹر سائیکل سے اچھل کر دور فٹ پاتھ پر گرتے دیکھا جاسکتا ہے۔حادثے کے بعد ڈرائیور گاڑی سمیت فرار ہوا، شہری جائے وقوعہ پر جمع ہوگئے، حادثے کے وقت ڈبل کیبن گاڑی میں دو گارڈز بھی بیٹھے تھے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز ظفر عباس کے نام پر رجسٹرڈ گاڑی نے گزشتہ روز موٹر سائیکل سوار دو نوجوانوں کو ٹکر ماری تھی جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوگئے تھے۔
-

سانحہ لیاری کے متاثرین کو 80 گز کے پلاٹ دونگا،گورنر سندھ
کراچی (کنزیومر واچ نیوز)گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ لیاری سانحے کے متاثرین کو 80 گز کے پلاٹ دینے کا اعلان کرتا ہوں۔کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کراچی پہنچا ہوں، وقت ضائع کیے بغیر یہاں لیاری آیا ہوں، اس سانحے کے حوالے سے اپنی تمام تجاویز خط کے ذریعے سندھ حکومت کو بھیجوں گا۔ان کا کہنا تھا کہ لیاری میں عمارت کرنے کا واقعہ چھوٹا سانحہ نہیں ہے،معاملے پر خاموشی نہیں ہوگی، کیفرِ کردار تک پہنچائیں گے، نبیل گبول اور سعید غنی نے اچھی بات کی۔گورنر سندھ نے کہا کہ گورنر ہاؤس ہر کام میں فعال رہتا ہے، متاثرین کو راشن اور روزگار بھی گورنر ہاؤس دے گا۔کامران ٹیسوری نے کہا کہ ہندو کمیونٹی اور متاثرین کے ساتھ ہوں، جو بلڈنگ خالی کرائی جارہی ہیں، حکومت سندھ ان کو چھ مہینے کا کرایہ دے کر اسی علاقے میں گھر دے۔انہوں نے کہا کہ گورنر ہاؤس میں پیلپ لائن 1133 بنائی ہے، متاثرین کو 80 گز کے پلاٹ دینے کا اعلان کرتا ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ کئی سو لوگ کھڑے ہیں جنہوں نے میرے حق میں نعرے لگائے۔
-

سندھ حکومت نے مخدوش عمارتیں گرانے کے لیے کوئی پلاننگ نہیں کی،آباد
کراچی(کنزیومر واچ نیوز) چیئرمین آباد حسن بخشی نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے مخدوش عمارتیں گرانے کے لیے کوئی پلاننگ نہیں کی۔ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے چیئرمین حسن بخشی نے سینئر وائس چیئرمین سید افضل ندیم کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ لیاری میں عمارت گرنے والے واقعے پر انتہائی دکھ ہے۔ 2017 سے 2025 تک عمارتیں گرنے کے 12واقعات ہوئے جس میں 150 افراد جاں بحق ہوئے ۔انہوں نے کہا کہ شہر میں 2 قسم کی عمارتیں گریں جو مخدوش تھیں یا غیرقانونی تھیں۔ سندھ حکومت نے مخدوش عمارتوں کو گرانے کے لیے کوئی حکمت عملی مرتب نہیں کی۔ جو پلاٹ کا مالک ہوتا ہے بلڈنگ مخدوش ہونے پر اس کا فائدہ ہوتا ہے۔حسن بخشی نے کہا کہ پہلے مرحلے میں نجی اداروں کے ذریعے سروے کرایا جائے ، جو عمارتیں رپیئرنگ ورک کے ذریعے ٹھیک ہوسکتی ہیں ان کی مرمت کرائی جائے اور جن عمارتوں کو مرمت سے ٹھیک نہیں کیا جاسکتا تو انہیں دوبارہ تعمیر کرانے کے لیے مالک کو پابند کیا جائے۔انہوں نے بتایا کہ کراچی میں لاکھوں عمارتوں پر اضافی منزلیں بنا کر کرپشن کا بازار گرم ہے ۔ کراچی میں 5 سالوں کے دوران 85 ہزار عمارتوں پر غیر قانونی منزلیں بناکر رہائشیوں کی زندگی داؤ پر لگادی ہے۔ ایس بی سی اے اور بلدیاتی ادارے غیر قانونی بلڈنگ کی تعمیر میں معاونت فراہم کرتے ہیں۔چیئرمین آباد کے مطابق عمارتوں میں مزید غیر قانونی تعمیرات سے مزید فلور ڈالے جاتے ہیں۔ ان تعمیرات سے عوام کی جان و مال کو داؤ پر لگایا دیا جاتا ہے۔ یہ بلڈنگ اور چھتوں کی لائف 15 سے 20 سال ہیں۔ ان تعمیرات میں مقامی انتظامیہ، پولیس اور متعلقہ حکام ملوث ہیں جب کہ مالی طور پر کمزور افراد ان عمارتوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے افراد کیخلاف سندھ حکومت سخت کارروائی کرے ۔ یہ بلڈنگیں کراچی میں لاکھوں کی تعداد میں ہیں، جو ناقص میٹریل سے تیار کی جاتی ہیں۔ خدا نخواستہ اگر شہر میں زلزلہ آئے گا تو یہ عمارتیں ڈھیر ہو جائیں گی۔ نیسپاک یا این ڈی ایم اے جیسے ادارے ان معاملات پر اپنا کردار ادا کریں۔ اگر آج اس معاملے کو سنجیدہ نہ لیا گیا تو اس شہر کو مزید نقصان ہوگا۔حسن بخشی کا کہنا تھا کہ سندھ بلڈنگ کنڑول اتھارٹی کی کارکردگی کرپشن کا مظہر ہے۔ اسے ہم کو 2 حصوں میں تقسیم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس میں انجنیئرنگ اور نقشہ منظور کرانے کے محکموں کو الگ کیا جائے۔غیر قانونی عمارتوں کی تعمیر میں ملوٹ بلڈرز اور سرکاری افسران پر انسداد دہشتگردی عدالت کا مقدمہ دائر کیا جائے ۔
انہوں نے کہا کہ لیاری واقعے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو کم از کم 25 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کرنا چاہیے۔ واقعے میں رہائش سے محروم افراد کو کم از کم صوبائی حکومت 10لاکھ روپے معاوضہ فراہم کرے۔ اسی طرح لیاری واقعے میں ملوث افسران کی انکوائری ایس بی سی اے اور بلدیاتی افسران سے نہ کرائی جائے۔
حسن بخشی کا کہنا تھا کہ آباد سندھ حکومت کو مخدوش عمارتوں کی دیکھ بھال اور غیر قانونی بلڈنگ کیخلاف خدمات دینے کو تیار ہے ۔ ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی نےعوام سے 25ارب روپے وصول کیے مگر 30سال گزرنے کے باوجود قبضہ نہیں دیا۔ سندھ حکومت مخدوش عمارتوں کے متبادل کے لیے آباد یا انجینئرنگ کونسل کی مدد حاصل کرے۔
چیئرمین آباد کے مطابق ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز محکموں کی غفلت کی نشاندہی کرسکتا ہے اور یہ کام کررہا ہے۔ آباد ان مخدوش عمارتوں کو 700 دن میں تعمیر کرنے کے لیے تیار ہے۔ دہلی کالونی، لیاقت آباد لیاری جیسے کئی علاقوں میں مخدوش عمارتوں کا جال ہے۔انہوں نے کہا کہ جس طرح پنجاب میں مریم نواز گھروں کے لیے اسکیم دے رہی ہیں، سندھ حکومت بھی اسکیموں کا اعلان کرے ۔ سندھ میں گھروں کی قلت برقرار ہے، جس کا فائدہ مافیا اٹھارہا ہے۔ سندھ حکومت اگر آباد کو کہے کہ ایک لاکھ مکان چاہییں تو ہم تعاون کے لیے تیار ہیں۔ ہمیں لوگوں کی آسانی کے لیے آگے بڑھنا ہے اور ہم اس کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کمشنر کراچی نے غیر قانونی تعمیرات سے متعلق آباد سے رہنمائی لینے کے لیے ملاقات طے کرلی ہے ۔ کچی آبادیوں کی ازسرے نو تعمیر کے لیے سندھ حکومت کو پیش کردہ منصوبے پر کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے ۔ کراچی میں لاکھوں غیر قانونی عمارتوں کا جال بچھا ہوا ہے۔ بلاول بھٹو سے بھی مطالبہ کیا تھا کراچی کے ماسٹر پلان کا کیا بنا؟ کراچی کا ماسٹر پلان تاحال نہیں بنایا جاسکا ہے۔حسن بخشی نے کہا کہ زمینی دستاویزات کو ڈیجیٹل نہ کرنے کے لیے سسٹم حرکت میں آجاتا ہے ہر جانب کرپشن عروج پر ہے۔ عدالت میں بروقت انصاف نہیں ملتا مقدمہ دائر کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت کراچی کاماسٹر پلان بنانےمیں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کررہی ہے۔ کراچی میں غیر قانونی عمارتوں کی تعمیرات میں صحافی بھی ملوث شامل ہیں۔ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز سے کراچی کے بلڈرز کی اہم ملاقات طے ہوگئی ہے۔ ان کی مشاورت سےلاہور میں نئے تعمیراتی منصوبوں کا آغاز ہونے جارہا ہے۔
اس موقع پر سینئر نائب چیئرمین آباد سید افضل حمید نے کہا کہ لیاری بغدادی کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔ ہم نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا ، ہمیں تشویش ہے کہ جائے حادثہ پر انتظامیہ کی جانب سے کوئی نمائندگی نہیں تھی۔ وہاں پر مشینری کی کمی اور لائٹوں سمیت دیگر انتظامی غفلت دیکھنے میں آئی۔انہوں نے کہا کہ بتایا گیا کہ عمارتوں میں مقیم لوگوں کو نوٹسز جاری کیے گئے تھے ، مگر نوٹسز جاری کرکے ادارے اپنی ذمہ داری سے بری الزمہ نہیں ہوسکتے۔ سندھ میں سیلاب آیا 8لاکھ مکانات بنائے جانے کا دعویٰ کیا گیا۔ جہاں سندھ حکومت 8 لاکھ مکانات بناسکتی ہے وہاں 60ہزار مکانات کی تعمیر ناممکن نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ کنٹونمنٹ کے علاقوں میں بھی غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے ۔ غیر قانونی عمارتوں میں مقیم افراد کو پورشن مافیا دھوکا دے رہی ہے۔ غیر قانونی عمارتوں کو بجلی اور گیس کے کنکشن بھی فوری فراہم کردیے جاتے ہیں۔ -

دلیر خاتون افسر نے کنگ کوبرا کو پکڑ کر سب کو حیران کردیا
کیرالا(کنزیومر واچ نیوز) بھارتی ریاست کیرالا میں محکمہ جنگلات کی ایک دلیر خاتون افسر ڈاکٹر جی ایس روشنی نے 18 فٹ لمبے خطرناک کنگ کوبرا کو مکمل مہارت کے ساتھ پکڑ کر سب کو حیران کر دیا۔ یہ واقعہ آنچومرتھوموٹ نامی علاقے میں پیش آیا جہاں یہ دیو قامت سانپ ایک چشمے میں تیرتا ہوا پایا گیا۔مقامی لوگوں کی اطلاع پر موقع پر پہنچنے والی فاریسٹ افسر روشنی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ انتہائی پرسکون انداز میں ایک چھڑی اور مخصوص بیگ کی مدد سے سانپ کو قابو میں لا رہی ہیں۔کئی منٹ کی محنت اور خطرناک صورتحال کے باوجود، انہوں نے بغیر کسی نقصان کے کنگ کوبرا کو بیگ میں ڈال دیا۔ اس بہادری پر انہیں محکمہ جنگلات، سوشل میڈیا صارفین اور مقامی افراد کی جانب سے زبردست خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ڈاکٹر جی ایس روشنی گزشتہ 8 سال سے محکمہ جنگلات سے وابستہ ہیں اور اب تک 800 سے زائد سانپوں کو کامیابی سے پکڑ چکی ہیں۔
