Blog

  • شارجہ میں بزم اعظم گڑھ کا بین الاقوامی مشاعرہ …..حمیرا گل تشؔنہ

    شارجہ میں بزم اعظم گڑھ کا بین الاقوامی مشاعرہ …..حمیرا گل تشؔنہ

    ادب اور ثقافت کی دنیا میں کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جو اپنے اندر ایک پوری تہذیب، تاریخ اور روایت کا نور سموئے ہوتے ہیں۔ اُردو شاعری کی دنیا میں “اعظم گڑھ” کا نام ایسے ہی ایک روشن مینار کی مانند ہے جس کی روشنی کی اک کرن “دانش ضیا” نے ہندوستان سے نکل کر پوری دنیا کو اپنی ضیا سے منور کیا ہے۔ اور جب بات ہو شارجہ کے شاہی اور پر شکوہ مشاعرے کی، تو 23 اگست 2025 میں ہونے والے اس مشاعرے میں دنیا بھر کے عظیم شعرا، جن میں شامل فہیم اختر (یوکے) ، شکیل عظمی، جوہر کانپوری، شبینہ ادیب، حامد بھوسا والی، عزم شاکر، حمیرا گل تشؔنہ (امریکا)، پرویز اختر، افضل منگوری، فیض خلیل آبادی، میکش اعظمی، اختر اعظمی، طارق جمال، بھون موہنی، جہانوی سیگل، اشیکا چندیلیہ اور حنا عباس جیسے شعراء شامل ہوئے۔ جبکہ نظامت کے فرائض معروف رائے بریلوی نے ادا کیے۔ تو وہاں “بزم اعظم گڑھ” ایک ایسی پہچان بن گئی ہے جو نہ صرف اپنے کل کے ورثے پر فخر کرتی ہے بلکہ اپنے آج کے جوہر سے دنیا کو متاثر بھی کرتی ہے۔

    اعظم گڑھ، جو اتر پردیش کا ایک ضلع ہے، کو اتفاق سے نہیں بلکہ اپنی ادبی اور شعری روایت کی وجہ سے “شہرِ شعر و ادب” کہا جاتا ہے۔ یہ وہ دھرتی ہے جس نے ایسے عظیم الشان شعرا پیدا کیے جنہوں نے اُردو غزل اور نظم کو نئے آہنگ، نئے اسلوب اور نئے معنی عطا کیے۔ حسرت موہانی جیسے عاشقِ رسول اور انقلابی شاعر کا تعلق اسی خطے سے تھا، جن کی شاعری آزادی کی جدوجہد کا نقیب بھی تھی اور عشق و محبت کا استعارہ بھی۔ ان کے علاوہ بھی کئی نام ہیں جنہوں نے اعظم گڑھ کو ادبی نقشے پر روشن کیا۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر آج کی نسل کھڑی ہے۔ یہاں کی فضا میں شعرو سخن کی معطر کیفیات بسی ہوئی ہیں۔ یہاں گھر گھر میں شعر و ادب کی محفلیں جمتی ہیں، شعری رجحانات پر بحث ہوتی ہے اور نوجوان نسل کو بزرگ شعرا کی سرپرستی حاصل ہے۔

    متحدہ عرب امارات کا شہر شارجہ اپنی ثقافتی سرگرمیوں اور ادب و فن کے فروغ کے حوالے سے ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ یہاں ہر سال ہونے والا بین الاقوامی مشاعرہ دنیا بھر میں اُردو کے دلدادہ افراد کے لیے ایک تہوار کی مانند ہوتا ہے۔ اس مشاعرے کی شان و شوکت، انتظام و انصرام اور مدعو کریدہ شعرا کے معیار کا کوئی ثانی نہیں۔ یہ محض ایک مشاعرہ نہیں ہوتا بلکہ اُردو زبان و ادب کی عظمت رفتہ کی ایک جیتی جاگتی تصویر ہوتا ہے۔ شارجہ کی حکومت اسے ایک ثقافتی سفیر کی طرح پیش کرتی ہے، جہاں دنیا کے کونے کونے سے تعلق رکھنے والے شعرا اپنے کلام کے موتی بکھیرنے آتے ہیں۔ سٹیج کی رونق، سامعین کے ذوق و شوق اور میڈیا کے وسیع کوریج نے اس مشاعرے کو ایک “برانڈ” کی شکل دے دی ہے۔

    جب شارجہ کے وسیع اور روشن سٹیج پر کوئی شاعر کھڑا ہوتا ہے تو وہ صرف اپنا کلام پیش نہیں کر رہا ہوتا، بلکہ وہ حسرت موہانی کی زمین سے جڑی روایت اور ان کے اسلوب کی ایک جیتی جاگتی کڑی بن کر ابھرتا ہے۔ سامعین کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ کسی فرد کو نہیں بلکہ ایک عظیم تاریخی سلسلے کو سن رہے ہیں۔

    23 اگست 2025 کو شارجہ میں ہونے والے اس مشاعرے کی خاص بات صرف یہ نہیں تھی کہ یہاں پر موجود شاعر گوہر نایاب تھا۔ اور اس مالا کو پرونے میں معراج حیدر اور حسن کاظمی کی ادب سے پرخلوص محبت کا بہت اہم کردار ہے۔ اور اگر سچ کہا جائے تو یہاں کے سامعین بھی کسی طور کم نہ تھے۔ شعراء کو دل کھول کر داد دینے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے میں پیش پیش تھے۔ مشاعرہ تھوڑی تاخیر سے ختم ہوا لیکن پنڈال خالی نہیں ہوا۔ سامعین آخری لمحے تک مشاعرے میں بھرپور طریقے سے اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہے اور شعراء پر داد کی صورت اپنی محبتوں کو نچھاور کرتے رہے۔

    آخر میں، یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بزم اعظم گڑھ شارجہ کے مشاعرے میں صرف شعرا کا گروپ نہیں تھا یہ دراصل گنگا – جمنا کے خطے کی سچی لگن، شاعری کے سچے درد اور اپنی روایات سے والہانہ پیار کی ایک ایسی آماجگاہ تھی جس کی روشنی پورے عالم میں پھیلی ہے۔ یہ سفر جاری رہے، یہ دھنک اور بھی رنگین ہو، اور شارجہ و اعظم گڑھ کی دھرتی سے اٹھنے والی یہ آوازیں دنیا کے ہر گوشے میں اُردو شاعری کی شان بڑھاتی رہیں۔

  • پرواز کا خواب ۔  چین کی اُڑنے والی ٹیکسیاں…..ارم زہراء ۔ چین

    پرواز کا خواب ۔ چین کی اُڑنے والی ٹیکسیاں…..ارم زہراء ۔ چین

    کراچی کی ساحلی ہوا میں اکثر ایسا محسوس ہوتا کہ صدیوں سے دیکھی جانے والی خوابیدہ پروازیں، کہیں میرے انتظار میں ہیں۔ شام کی نرم روشنی میں جب میں سمندر کے کنارے پرندوں کی آزاد پرواز دیکھتی، دل میں ایک خاموش سوال گونجتا۔ کیا ہم بھی کبھی فضا کو اپنا راستہ بنا سکیں گے؟ میں جانتی تھی کہ ہوائی جہاز اور ڈرون پہلے ہی آسمان میں اپنی راہیں تلاش کر رہے ہیں، مگر کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ میرے قدم چین کی زمین پر رکھے جائیں گے، اور میرے سامنے وہی خواب اڑتی ہوئی گاڑیاں، اڑن ٹیکسی نئی حقیقت کا روپ دھاریں گے اور میں ان کے آغاز کی چشم دید گواہ بنوں گی۔
    یہ قصہ محض مشینوں کا نہیں، بلکہ وقت کی تیز رفتاری کا ہے۔ چین میں آج ترقی کی گھنٹیاں ہر کونے میں بجتی ہیں۔ کبھی ریل کے شور سے، کبھی برقی اسکرینوں کے ہجوم سے اور اب یہ نئی صدا فضاؤں میں اُڑتی گاڑیوں کی، جو کہانیوں کے دیو مالائی پرندوں کی مانند آسمان کو چیرتی ہیں۔
    نومبر 2024 کی وہ دوپہر تھی جب میں نے بیجنگ کے ایک بڑے ایئر شو کی خبر پڑھی۔ ایک چینی کمپنی XPENG AeroHT نے اپنی “Land Aircraft Carrier” کا مظاہرہ کیا۔ میں اخبار کے صفحے پر تصویر دیکھ کر دیر تک حیران بیٹھی رہی۔ یوں لگا جیسے کسی مصور نے آدھا جہاز اور آدھی کار کو ملا کر خوابوں کے پر دے دیے ہوں۔ اس مشین نے وہاں کے لوگوں کے سامنے پرواز کی اور پھر زمین پر اتر آئی ۔ گویا انسان کے خوابوں کو پہلی بار فضا نے اپنے گلے لگا لیا۔
    میرے دل نے کہا “یہ صرف ایک مظاہرہ نہیں، یہ کل کے دن کا دروازہ ہے۔”
    یہ کوئی اچانک جنم لینے والا خواب نہ تھا۔ 2016 میں چین کی کمپنی EHang نے پہلی بار ایک مسافر ڈرون EHang-184 دنیا کے سامنے پیش کیا۔ اُس وقت یہ محض ایک تماشہ معلوم ہوا، جیسے کوئی بچہ آسمان پر کاغذی پتنگ چھوڑ دے۔ مگر رفتہ رفتہ، محنت اور قوانین کی سرپرستی نے اس پتنگ کو آہنی پروں والی حقیقت بنا دیا۔
    اکتوبر 2023 میں، چین کے ہوا بازی کے ادارے نے EHang کے EH216-S ماڈل کو عوامی پرواز کی منظوری دی۔ اور پھر مارچ 2025 میں، پہلی مرتبہ بے پائلٹ اڑان کی سرکاری اجازت مل گئی۔ یہ کوئی چھوٹا قدم نہ تھا۔ یہ تو گویا وقت کا عہد نامہ تھا کہ انسان اب پرندوں کی صف میں شامل ہو چکا ہے۔
    اسی دوران AutoFlight نامی ادارے نے “Prosperity” نامی گاڑی متعارف کروائی، جس نے 2024 میں شینژین سے ژوہائی تک کا فاصلہ بیس منٹ میں طے کیا۔ وہی راستہ جو زمین پر تین گھنٹے میں مکمل ہوتا ہے۔ میں نے یہ خبر پڑھی تو کراچی کی سڑکوں کا ہجوم یاد آیا، جہاں کبھی کبھی صدر سے کلفٹن تک جانے میں ہی ڈیڑھ گھنٹہ لگ جاتا ہے۔ دل نے کہا “کاش ہمارے ملک میں بھی ایسا ہو، کہ ایک شہر سے دوسرے شہر تک اُڑتے چلے جائیں۔”
    چین کی یہ پروازیں ابھی عوام کی روزمرہ زندگی کا حصہ نہیں بنیں۔ XPENG کی گاڑی 2026 میں ترسیل کے لیے تیار کی جا رہی ہے۔ باقی کمپنیاں بھی اسی وقت کے آس پاس اپنے منصوبے عوام کے سامنے لانا چاہتی ہیں۔ گویا یہ خواب حقیقت کے دہانے پر کھڑا ہے، لیکن ابھی مکمل طور پر ہمارے دروازے پر دستک نہیں دیتا۔
    مگر خواب کی سب سے حسین بات یہی ہے کہ وہ حقیقت بننے سے پہلے ہمارے دلوں کو مسرور کرتا ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ہمارے بچے جن کہانیوں میں جن اور پریوں کے قالین پر اُڑتے ہیں، کل کو وہ حقیقت میں اپنی اسکول کی راہ آسمان میں تلاش کریں گے۔
    جب میں چین کے ان منصوبوں پر نظر ڈالتی ہوں تو دل بے اختیار کراچی کے افق کی طرف کھنچ جاتا ہے۔ ہمارے شہر کی سڑکیں، شور، اور ہجوم۔ اگر کبھی یہاں بھی آسمان پر اُڑتی ٹیکسیاں اتر آئیں تو کیا منظر ہوگا؟
    ذرا سوچئے، ایک صبح میں اپنے گھر سے نکلو، اور سڑک کے ہجوم میں گم ہونے کے بجائے ایک چھوٹی سی ٹیکسی میں بیٹھ کر آسمان کی راہ پکڑ لو۔ نیچے سمندر کی لہریں، اوپر بادلوں کے کمرے، اور آپ محض چند منٹ میں دفتر یا یونیورسٹی پہنچ جاؤ۔ یہ تصور ہی دل میں عجب سکون بھر دیتا ہے۔ میں سوچتی ہوں کہ اڑنے والی ٹیکسی محض سفری سہولت نہیں بلکہ تہذیبی انقلاب ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب انسان اپنی زمین کی حدیں چھوڑ کر آسمان کی سلطنت کو اپنا نیا وطن بنانے جا رہا ہے۔
    2026 وہ سال ہوگا جب چین کے کچھ شہروں میں عوام کے لیے یہ ٹیکسیاں میسر ہوں گی۔ آغاز محدود پیمانے پر ہوگا، مگر یہ ابتدا ہی دنیا کی سمت بدلنے کے لیے کافی ہے۔ کچھ مبصرین کہتے ہیں کہ اگلے دس برسوں میں بڑے شہروں کی ٹریفک آسمان کی راہوں پر منتقل ہو جائے گی۔میرے دل میں ایک سوال اٹھتا ہے کیا پاکستان بھی اس کارواں میں شامل ہوگا؟ کیا کراچی کے باسی بھی کبھی ان ٹیکسیوں کے ذریعے گلشن سے ڈیفنس یا حیدرآباد تک منٹوں میں سفر کریں گے؟ وقت کا جواب شاید آنے والے برسوں میں ملے، مگر خواب دیکھنے پر تو پابندی نہیں۔
    مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ کراچی کی صبح ہمیشہ شور کے ساتھ جاگتی ہے۔ کبھی ریڑھی والوں کی صدا، کبھی رکشے کے ہارن، کبھی بسوں کی دھول، اور کبھی ساحل سے اٹھتی نمکین ہوا کی خوشبو۔ میں جب اپنے گھر کی بالکونی سے نیچے دیکھتی تو لگتا تھا کہ پورا شہر ایک ہی وقت میں بھاگنے کی کوشش میں ہے۔ وہاں کا ٹریفک ایسا ہے کہ اگر کوئی شاعر اسے نظم میں بیان کرے تو شاید بحر بھی تنگ پڑ جائے۔
    بسوں کے چھتوں پر بیٹھے مسافر، رکشے کی تنگ نشستوں میں سِمٹے خاندان، موٹر سائیکل پر ایک ہی وقت میں تین نسلوں کا سفر یہ سب کراچی کی پہچان ہیں۔ ایسے میں اگر میں چین کی سڑکوں پر دوڑتی ان خاموش، برقی گاڑیوں کو دیکھوں تو ترقی کی اصل کوششیں سمجھ میں آتی ہے ۔
    چین نے نہ صرف اڑن ٹیکسیاں بنائی ہیں بلکہ اپنی سڑکوں پر بھی ایک نئی دنیا بسائی ہے۔ BYD، جو کہ دنیا کی سب سے بڑی الیکٹرک کار ساز کمپنی ہے، ہر سال لاکھوں گاڑیاں بناتی ہے۔ ان کی گاڑیاں بیجنگ اور شینژین کی سڑکوں پر ایسے رواں دواں ہیں جیسے پانی کے دھارے پر کشتیاں۔ NIO اپنی پُرکشش SUV گاڑیوں کے ساتھ مشہور ہے، جو ایک کمرہ نما آرام فراہم کرتی ہیں۔ XPeng، جو اڑن ٹیکسیوں کے ساتھ ساتھ زمین پر دوڑتی برقی گاڑیوں میں بھی شہرت رکھتی ہے، اپنے جدید ڈیزائن اور خودکار ڈرائیونگ کے نظام کے لیے مشہور ہے۔
    پھر ہے SAIC Motor، جو MG کے برانڈ کے تحت پاکستان میں بھی اپنی گاڑیاں بیچتا ہے۔ یہ وہی کمپنی ہے جس کی MG HS اور MG ZS کراس اوور گاڑیاں آج کراچی کی سڑکوں پر دوڑتی دکھائی دیتی ہیں۔ کبھی کلفٹن کے کشادہ راستے پر، تو کبھی یونیورسٹی روڈ کے ہجوم میں۔
    پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی راہیں محض کاغذی نہیں رہیں۔ آج چین سے گاڑیوں کی درآمد نے پاکستان کے بازاروں میں ایک نئی چمک پیدا کر دی ہے۔ MG، DFSK (Glory 580)، Changan (Alsvin، Oshan X7) اور BYD جیسے نام اب عام لوگوں کے کانوں میں گونجنے لگے ہیں۔
    کراچی کی بندرگاہ پر جب چینی کنٹینر آتے ہیں تو ان میں کبھی کھلونے ہوتے ہیں، کبھی موبائل فون، اور اب اکثر برقی یا پٹرول پر چلنے والی گاڑیاں بھی۔ یہ گاڑیاں جب شو رومز میں سجی نظر آتی ہیں تو نوجوان نسل ان کے گرد یوں جمع ہوتی ہے جیسے پرانے وقتوں میں گھوڑوں کے میلوں میں لوگ جاکر اپنے خواب چُنا کرتے تھے۔
    بندرگاہ کی بھیڑ بھاڑ سے نکل کر جب یہی کنٹینر شمال کی برفانی راہوں پر دکھائی دیتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے سمندر اور پہاڑ ایک ہی خواب کو اپنے اپنے انداز میں جیتے ہیں
    شاہراہِ قراقرم کے سنہری پیچ و خم سے گزرتے ہوئے، برف پوش چوٹیوں کے دامن میں ایک نیا منظر ابھرتا ہے۔ اونٹوں اور گھوڑوں کے پرانے قافلے تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔ اب انہی راستوں پر ایک نیا قافلہ ہے ۔ چمچماتی چینی گاڑیوں کے کنٹینر، جو خاموشی سے پاکستان کی سمت بڑھتے چلے آتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے صدیوں پرانی تجارت نے اپنی شکل بدل لی ہے، ریشم کے گٹھڑوں کی جگہ اب لوہے اور شیشے کے خواب سفر کرتے ہیں۔
    یہ گاڑیاں چین کی فیکٹریوں میں تیار ہو کر دو بڑے راستوں سے پاکستان آتی ہیں۔ ایک راستہ خنجراب پاس کا ہے، جہاں برفانی ہوا کے دوش پر نئے دور کی مشینیں سانس لیتی ہیں۔ دوسرا راستہ سمندر کا ہے، جو کراچی کی بندرگاہ پر جا کر ختم ہوتا ہے۔ وہاں سے یہ گاڑیاں ملک کے ہر شہر میں بکھر جاتی ہیں۔ اسلام آباد کے کشادہ ایونیو ہوں یا لاہور و کراچی کی بھاگتی سڑکیں، سب ان کی منزل ہیں۔
    چین کی کار ساز کمپنیاں اب پاکستانی خریداروں کے لیے اجنبی نام نہیں رہیں۔ MG، Changan، Haval اور BAIC جیسے برانڈ آج بازاروں میں عام ہیں۔ ان میں SUVs کی جلالی قامت بھی ہے، سیڈان کی نرمی بھی، اور برقی گاڑیوں (Electric Vehicles) کی نئی امید بھی۔ یہ سب اس بات کی علامت ہے کہ دو ملکوں کی دوستی محض الفاظ میں نہیں، سڑکوں اور منڈیوں میں بھی دھڑکتی ہے۔
    تجارت کا رشتہ صرف گاڑیوں تک محدود نہیں۔ چین پاکستان کو پرزے اور آلات بھیجتا ہے اور جواب میں پاکستان اپنی ٹیکسٹائل اور خام مال بیجنگ اور شنگھائی کے بازاروں تک پہنچاتا ہے۔ یوں یہ لین دین صرف سرمایہ کا نہیں بلکہ بھروسے اور رشتوں کا بھی ہے۔
    اگر کوئی شخص اسی سفر میں شامل ہونا چاہے تو اس کے لیے بھی راستہ کھلا ہے، مگر یہ راستہ ہمت اور سمجھ بوجھ مانگتا ہے۔ سب سے پہلے چین کی کسی کمپنی یا ڈیلر سے معاہدہ کرنا ہوگا۔ پھر پاکستان کی درآمدی پالیسی اور کسٹم ڈیوٹی کو سمجھنا ہوگا، جو ہر گاڑی پر الگ الگ لاگو ہوتی ہیں۔ اس کے بعد کراچی کی بندرگاہ یا خنجراب پاس سے گاڑی کی کلیئرنس کر کے مقامی منڈی تک لانی ہوتی ہے۔ یہ مرحلے آسان نہیں، مگر مستقل مزاجی اور سرمایہ انہیں ممکن بنا دیتے ہیں۔
    یوں شاہراہِ قراقرم اور سمندر کی لہریں آج بھی وہی پرانا کام کر رہی ہیں۔ قافلے لانے اور قافلے لے جانے کا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب قافلے کے شتر اور گھوڑے بدل گئے ہیں۔ اب ان کی جگہ نئی گاڑیاں ہیں جو پہیوں پر دوستی، تجارت اور ترقی کا پیغام لیے پاکستان کی زمین پر اترتی ہیں۔
    یہ منظر صرف تجارت کا نہیں، وقت کی رفتار کا استعارہ بھی ہے۔ پہاڑوں کے سائے اور سمندر کی ہوا کے بیچ دو ملکوں کے خواب ایک دوسرے سے جڑتے ہیں، اور آنے والا کل ان خوابوں کی تعبیر کا وعدہ کرتا ہے۔
    وقت کے چلتے قدم، چاہے وہ پہاڑوں کی خاموشی میں ہوں یا شہر کی صبح کی دھند میں، ایک ہی داستان سناتے ہیں۔خواب اور حقیقت کا ملاپ، زمین اور آسمان دونوں میں جاری ہے۔
    جب میں صبح کی دھند میں شینژین کی کسی بلند عمارت کی چھت پر کھڑی ہوتی ہوں، تو نیچے سڑکوں کی ہجوم بھری دنیا نظر آتی ہے۔ ٹریفک لائٹس کے انتظار میں رکشے، الیکٹرک بسیں، اور موٹر سائیکلیں، ساتھ ہی پیدل چلتے لوگ، سب ایک عجیب سی سمفنی بناتے ہیں۔ بلند و بالا فلک بوس عمارتیں، روشن بلب، اور بیجنگ کی روشنیوں کے درمیان یہ شور اور ہلچل ایک منفرد زندگی کا احساس دلاتی ہے۔ میں سوچتی ہوں، اگر کل یہ سفر آسمان کی طرف منتقل ہو جائے، اور اڑن ٹیکسیوں کی قطاریں فضا میں چلیں، تو کیا یہ منظر پرسکون ہوگا یا پھر ہوا میں بھی شور اور بھاگ دوڑ بڑھ جائے گی؟
    ‎دنیا کے کئی ممالک اب مل کر آسمان پر انسان کی راہیں ہموار کرنے کی
    ‎کوشش کر رہے ہیں۔ امریکہ میں Joby اور Archer کے ماڈل شہری ایئر ٹیکسی کے لیے تجرباتی پروازیں کر رہے ہیں۔ یورپ کی Volocopter اور Lilium کمپنیوں نے چھتوں اور عمارتوں کے درمیان vertiport بنانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ جاپان اور جنوبی کوریا اپنی حکومت کے منصوبوں کے تحت شہری فلائٹس کی تیاری میں مصروف ہیں۔ دبئی اور ابو ظہبی نے اپنے آسمان کے افق کو ایک نیا نقشہ دینے کی ٹھانی ہے۔ میں جب ان خبروں کو پڑھتی ہوں تو دل میں
    ‎خوشی بھی ہوتی ہے اور ایک ہلکی سی فکرمندی بھی۔
    ‎یہ خوشی اس لیے کہ انسان کی چاہت اور محنت ایک ساتھ چل رہی ہے۔ ہر ملک ایک دوسرے کے تجربے سے سیکھ رہا ہے، قوانین بنا رہا ہے، اور ٹیکنالوجی کے میدان میں تعاون کر رہا ہے۔ مگر فکرمندی اس لیے کہ کیا یہ آسمان بھی زمین کی طرح رش اور آلودگی کا شکار نہ ہو جائے؟ کیا ٹیکسیوں کے پہیے، propellers، اور برقی توانائی کے شور سے وہ پرسکون نیلا آسمان جو بچپن میں مجھے پرندوں کے ساتھ جھولوں پر دیکھا تھا، تبدیل ہو جائے گا؟
    ‎میں تصور کرتی ہوں، اگر کل کے آسمان میں ایک شہر کے اوپر سو ٹیکسیز بادلوں کی طرح اڑتی ہوں، تو وہ منظر کیسا ہوگا۔ کیا ہوا میں بھی ٹریفک جام ہوگا؟ کیا برقی شور اور روشنیوں کی گھن گرج، زمین کے شور کے ساتھ مل کر ایک نئی افراتفری پیدا کرے گی؟
    ‎چین اس میدان میں سب سے آگے ہے، مگر وہ بھی عالمی تعاون میں شریک ہے۔ مختلف ممالک کے ماہرین تجربے بانٹ رہے ہیں، قوانین پر مشورے دے رہے ہیں، اور شہری فضاؤں کے لیے safety protocols مرتب کر رہے ہیں۔ یہ سب انسان کی مشترکہ کوشش ہے کہ آسمان کی آزادی زمین کی ناہمواری اور قید سے الگ ہو۔
    ‎دل میں خیال آتا ہے کہ شاید یہی انسانی تاریخ کا نیا سفر ہے۔ جیسے صدیوں پہلے ریل اور کار نے زمین پر نئی راہیں بنائیں، ویسے ہی آج یہ اڑتی ہوئی ٹیکسیز آسمان میں ایک نئی تہذیب کے نقوش چھوڑ رہی ہیں۔ مگر یہ تہذیب ذمہ داری کے بغیر ادھوری ہے۔ آسمان کی آزادی کے ساتھ ہمیں اس کی حفاظت بھی سیکھنی ہوگی۔
    ‎میں چھت پر کھڑی، افق کی طرف دیکھ کر سوچتی ہوں کہ کل کے بچے، جو آج کہانیوں میں پرندوں کے ساتھ اڑتے ہیں، وہ یہ نیا سفر حقیقت میں دیکھیں گے۔ اور وہ بھی شاید اسی طرح حیران رہ جائیں، جس طرح میں آج ان خبروں کو پڑھ کر دل کی دھڑکن تیز ہوتی محسوس کر رہی ہوں۔

  • کراچی: سلطان آباد سے پُر اسرار طور پر لاپتا بچے کی لاش گٹر سے مل گئی

    کراچی: سلطان آباد سے پُر اسرار طور پر لاپتا بچے کی لاش گٹر سے مل گئی

    کراچی(کنزیومر واچ نیوز) سلطان آباد سے پُر اسرار طور پر لاپتا ہونے والے بچے کی لاش اتوار کی شب گٹر سے مل گئی۔ پولیس حکام کے مطابق ڈاکس کے علاقے سلطان آباد نیو حاجی کیمپ حبیب اسکول کے قریب گٹر لائن سے لاش کی اطلاع ملنے پر پولیس اور ریسکیو عملہ موقع پر پہنچ گئے ۔ پولیس نے ریسکیو رضا کاروں کی مدد سے لاش کو نکال کر سول اسپتال منتقل کیا جب کہ بچے کی شناخت ابوبکر کے نام سے کی گئی۔پولیس نے بتایا کہ لاش دو روز پرانی ہے، بچے کی وجہ موت فوری طور پر سامنے نہیں آسکی ہے، بچہ دو روز قبل لاپتا ہوگیا تھا جس کا مقدمہ درج کرلیا تھا تاہم اس کی لاش گٹر سے ملی ۔ پولیس کے مطابق ممکنہ طور پر بچہ کھیلتے ہوئے گٹر میں گر کر جاں بحق ہوگیا ہو تاہم پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد وجہ موت کا تعین ہوگا البتہ واقعے کی مزید تفتیش کا عمل جاری ہے، اطراف میں لگی سی سی ٹی وی فوٹیج چیک کی جارہی ہیں۔

  • غزہ: اسرائیلی حملے میں ایک اور بہادر خاتون صحافی شہید

    غزہ: اسرائیلی حملے میں ایک اور بہادر خاتون صحافی شہید

    غزہ (کنزیومرواچ نیوز) اسرائیلی فوج کے فضائی حملے میں ایک اور فلسطینی صحافی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔فلسطینی حکومتی میڈیا آفس کے مطابق اتوار کو القدس الیوم سیٹلائٹ چینل سے وابستہ خاتون صحافی اسلام موحارب عابد اسرائیلی بمباری میں شہید ہوئیں۔میڈیا آفس نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل منظم انداز میں صحافیوں کو نشانہ بنا رہا ہے تاکہ سچ کو دبایا جا سکے۔ بیان میں عالمی صحافتی تنظیموں اور فیڈریشنز سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ غزہ میں صحافیوں پر ہونے والے جرائم کے خلاف آواز بلند کریں۔اعداد و شمار کے مطابق، اکتوبر 2023 میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک غزہ میں شہید ہونے والے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی تعداد 278 تک جا پہنچی ہے۔گزشتہ ہفتے بھی اسرائیل نے النصر اسپتال پر حملہ کیا تھا جس میں 5 صحافی شہید ہوئے تھے، جب کہ اس سے قبل الجزیرہ کے صحافی انس الشریف بھی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اسرائیلی نشانے پر آ گئے تھے۔

  • پاک فوج کا ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار، میجر سمیت 5 جوان شہید، آئی ایس پی آر

    پاک فوج کا ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار، میجر سمیت 5 جوان شہید، آئی ایس پی آر

    راولپنڈی (کنزیومرواچ نیوز)تربیتی پرواز کے دوران پاک فوج کا ہیلی کاپٹر حادثے کا شکارہوگیا جس کے نتیجے میں ایک افسر سمیت 5 جوان شہید ہوگئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاک فوج کا ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر تربیتی پرواز کے دوران ہُڈور گاؤں کے قریب گر کر تباہ ہوگیا، حادثہ صبح تقریباً 10 بجے پیش آیا، ہیلی کاپٹر تھکداس کینٹونمنٹ سے تقریباً 12 کلومیٹر کے فاصلے پر کریش لینڈنگ کے بعد تباہ ہوا۔ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ ہیلی کاپٹر میں موجود تمام عملہ جامِ شہادت نوش کر گیا، شہدا میں پائلٹ ان کمانڈ میجر عاطف، کو پائلٹ میجر فیصل، فلائٹ انجینئرنائب صوبیدار مقبول، کریو چیف حوالدار جہانگیر اور کریو چیف نائیک عامر شامل ہیں۔آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ہیلی کاپٹر تربیتی پرواز پر تھا جب اسے تکنیکی خرابی پیش آئی، آرمی ایوی ایشن کی تربیتی پروازیں معمول کا حصہ ہیں تاکہ آپریشنل تیاری کو ہر وقت یقینی بنایا جا سکے۔بیان میں کہا گیا کہ یہ تربیت دفاعی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ انسانی ہمدردی پر مبنی امدادی و بحالی کے مشنز کے لیے بھی ناگزیر ہے، ملک کے دفاع اور عوامی خدمت کے ہر پہلو میں بھرپور تیاری یقینی بنائی جائے گی۔

  • دریائے سندھ میں 5 ستمبر کو انتہائی اونچے درجے کا سیلاب آنے کا امکان

    دریائے سندھ میں 5 ستمبر کو انتہائی اونچے درجے کا سیلاب آنے کا امکان

    کراچی:(کنزیومر واچ نیوز)دریائے سندھ میں گڈو اور سکھر بیراج کے مقام پر 5 ستمبر کو انتہائی اونچے درجے کا سیلاب آنے کا امکان ہے۔موجودہ صورتحال کے دوران گڈو، سکھر اور کوٹری بیراج میں نچلے درجے کا سیلاب ہے۔فلڈ ایمرجنسی مانیٹرنگ سیل کی طرف سے سندھ کے بیراجوں میں پانی کی آمد و اخراج کے تازہ اعداد و شمار جاری کر دیے گئے۔محکمہ آبپاشی سندھ کے مطابق گڈو بیراج پر اَپ اسٹریم 3لاکھ 18ہزار229 جبکہ ڈاؤن اسٹریم میں 3لاکھ 3ہزار877 کیوسک پانی ریکارڈ کیا گیا۔فوکل پرسن زبیر چنہ نے بتایا کہ سکھر بیراج پر اَپ اسٹریم 2 لاکھ 85ہزار487 اور ڈاؤن اسٹریم میں اخراج 2لاکھ 34ہزار717 کیوسک رہا۔ کوٹری بیراج پر اَپ اسٹریم 2لاکھ 73ہزار844 جبکہ ڈاؤن اسٹریم میں اخراج 2لاکھ 44ہزار739 کیوسک نوٹ کیا گیا۔تریموں پر پانی میں اضافہ ہو کر اَپ اسٹریم 5لاکھ 50ہزار965 ریکارڈ کیا گیا ہے۔فوکل پرسن کا کہنا تھا کہ بیراجوں پر پانی کی آمد اور اخراج کو مسلسل مانیٹر کیا جا رہا ہے، سندھ میں بیراجوں اور دریائی بندوں پر کوئی کمزور مقام موجود نہیں، تمام مقامات کو جدید تقاضوں کے مطابق مضبوط بنا دیا گیا ہے۔زبیر چنہ نے کہا کہ صوبے میں 102 ایسے پوائنٹس تھے جہاں ماضی کی دہائیوں میں سیلابی صورتحال کے دوران کچھ واقعات پیش آئے تھے، تاہم محکمہ آبپاشی سندھ نے ان 102 پوائنٹس پر بہتری اور مضبوطی کے خصوصی اقدامات مکمل کر لیے ہیں تاکہ مستقبل میں کسی بھی خطرے سے محفوظ رہا جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ حکومت سندھ نے محض احتیاطی اور پیشگی حکمتِ عملی کے تحت ان تمام مقامات پر عملہ تعینات کر دیا ہے، تمام مقامات پر ضروری مشینری و ساز و سامان بھی فراہم کر دیا گیا ہے، تمام مقامات پر ہر وقت نگرانی جاری ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کا بروقت مقابلہ کیا جا سکے۔فوکل پرسن زبیر چنہ کا کہنا تھا کہ عوام کو ہر طرح کے خدشات سے محفوظ رکھا جائے گا، حکومت سندھ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

  • اسلام آباد، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں زلزلے کے جھٹکے

    اسلام آباد، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں زلزلے کے جھٹکے

    اسلام آباد:(کنزیومرواچ نیوز)وفاقی دارالحکومت، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں 5.4 شدت کے زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔ اسلام آباد اور اطراف میں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے اور ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 5.4 ریکارڈ کی گئی اورزلزلے کا مرکز افغانستان تھا۔پنجاب میں راولپنڈی، ملکہ کوہسارمری اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جہاں لوگوں میں سخت خوف وہراس پھیل گیا اور شہری کلمہ طیبہ کا وردکرتے ہوئے گھروں سے باہر آگئے۔خیبرپختونخوا کے بیشتر علاقوں میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، پشاور میں لوگ گھروں سے باہر آگئے۔ریسکیو1122 خیبرپختونخوا کے ترجمان بلال احمد فیضی نے بتایا کہ خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تاہم ریسکیو1122 کنٹرول رومز کو کسی بھی قسم کے نقصانات کی کال تاحال موصول نہیں ہوئی ہے۔

  • افغانستان میں قیامت خیز زلزلہ:  800 جاں بحق، ہزاروں زخمی

    افغانستان میں قیامت خیز زلزلہ: 800 جاں بحق، ہزاروں زخمی

    کابل (کنزیومر واچ نیوز)افغانستان کے صوبہ کنڑ میں رات گئے آنے والے شدید زلزلے نے تباہی مچا دی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اب تک 800 افراد جاں بحق اور تین ہزار سے زائد افراد زخمی ہوچکے ہیں۔افغان میڈیا طلوع نیوز کے مطابق زلزلے کا مرکز جلال آباد شہر میں 8 کلو میٹر زیرِ زمین تھا، جس کی شدت 6 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کے بعد مزید پانچ آفٹر شاکس بھی محسوس کیے گئے جن کی شدت 4.3 سے 5.2 کے درمیان رہی۔قدرتی آفات سے نمٹنے کے افغان ادارے نے بتایا کہ سب سے زیادہ جانی نقصان نورگل، سواکئی، واٹاپور، منوگی اور چپہ درہ اضلاع میں ہوا، جہاں کئی گاؤں مکمل طور پر مٹی تلے دب گئے ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اب بھی سیکڑوں لوگ ملبے تلے پھنسے ہوئے ہیں۔امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور وزارتِ دفاع، داخلہ اور صحت کی ٹیمیں موقع پر پہنچ چکی ہیں۔ ہیلی کاپٹر کے ذریعے زخمیوں کو ننگرہار ریجنل اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔اسلامی امارتِ افغانستان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے تمام حکام کو ہدایت دی ہے کہ متاثرین کی جانیں بچانے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں۔زلزلے کے جھٹکے ننگرہار، لغمان، کابل اور خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں بھی محسوس کیے گئے۔
    وزیراعظم کا افغانستان اور پاکستان میں زلزلے پر اظہار افسوس
    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے افغانستان اور پاکستان کے مختلف حصوں میں آنے والے حالیہ زلزلے کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔وزیراعظم نے پیر کے روز اپنی ایکس (ٹوئٹر) ٹائم لائن پر لکھا کہ مشرقی افغانستان میں آنے والا یہ تباہ کن زلزلہ نہ صرف کابل بلکہ اسلام آباد سمیت پاکستان کے کئی حصوں میں بھی محسوس کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ زلزلے کے نتیجے میں افغانستان میں سیکڑوں افراد جاں بحق جبکہ کئی دیہات مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے متاثرین اور ان کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان کے عوام اور حکومت اس مشکل گھڑی میں افغان عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔

  • وائپر ٹیکنالوجی نے پاکستانی پی سی مارکیٹ میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا

    وائپر ٹیکنالوجی نے پاکستانی پی سی مارکیٹ میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا

    کراچی (کنزیومرواچ نیوز) پاکستان میں مقامی طور پر تیار ہونے والی کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے فروغ میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ بین الاقوامی ریسرچ ادارے آئی ڈی سی (IDC) کی جاری کردہ دوسری سہ ماہی 2025 کی رپورٹ کے مطابق یونٹ شپمنٹس کے اعتبار سے وائپر ٹیکنالوجی ملک کی نمبر ون پی سی کمپنی بن کر ابھری ہے۔ یہ کامیابی نہ صرف کمپنی کے لیے بلکہ پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری کے لیے بھی ایک سنگ میل تصور کی جا رہی ہے۔ماہرین کے مطابق وائپر کی یہ کامیابی پاکستان کے اندرونی صنعتی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ مقامی مینوفیکچرنگ کے ذریعے ایک طرف زرمبادلہ کی بچت ممکن ہوئی ہے تو دوسری طرف عالمی معیار کے کمپیوٹر تیز تر سپلائی چین کے ساتھ ملک میں ہی دستیاب ہو رہے ہیں۔ اس سے صارفین کو بہتر بعد از فروخت سہولیات اور سستی لاگت پر جدید کمپیوٹر حاصل کرنے کا موقع ملا ہے۔رپورٹ کے مطابق وائپر کے تیار کردہ کمپیوٹرز تعلیم، کاروباری اداروں اور حکومتی محکموں کے لیے کم مجموعی لاگت (TCO) کے ساتھ دستیاب ہیں۔ یہ فیچر خاص طور پر تعلیمی اداروں کے لیے اہم ہے، جہاں بڑی تعداد میں کمپیوٹرز درکار ہوتے ہیں لیکن بجٹ محدود ہوتا ہے۔ وائپر ٹیکنالوجی نے اس ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے کم قیمت مگر جدید اور پائیدار مشینیں تیار کی ہیں کمپنی نے مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی مشینوں کو ایسے فیچرز کے ساتھ تیار کیا ہے جو مستقبل کی ایپلی کیشنز اور جدید ٹیکنالوجیز کے لیے موزوں ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم نہ صرف مقامی مارکیٹ بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کی ٹیکنالوجی کو مسابقتی پوزیشن دلانے میں مدد دے گا۔وائپر ٹیکنالوجی کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر درست حکمت عملی، ڈسپلن، اور محنت کو اپنایا جائے تو پاکستان اپنی صنعت کو نہ صرف کھڑا کر سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی نمایاں کر سکتا ہے۔ کمپنی کے ترجمان کے مطابق یہ کامیابی ہماری ٹیم کی سخت محنت، ہمت اور یقین کا نتیجہ ہے۔ ہمارا خواب ہمیشہ سے ’میڈ اِن پاکستان‘ وژن کو حقیقت میں بدلنا تھا اور آج ہم اس کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ وائپر کی اس کامیابی سے مقامی سطح پر نئی سرمایہ کاری کے دروازے کھلیں گے، کیونکہ اس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ پاکستان کی مارکیٹ میں نہ صرف طلب موجود ہے بلکہ معیار اور جدت کو بھی سراہا جاتا ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مستقبل میں مزید کمپنیاں بھی مقامی پیداوار کی طرف راغب ہوں گی، جس سے ملک میں روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور آئی ٹی انڈسٹری مزید مستحکم ہو گی۔یہ کامیابی پاکستان کی آئی ٹی اور الیکٹرانکس انڈسٹری کے لیے ایک سنگ میل ہے، جو ملک کو ڈیجیٹل معیشت کی جانب بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

  • بیوی، بچوں اور سسر کو قتل کرنیوالا ملزم ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک

    بیوی، بچوں اور سسر کو قتل کرنیوالا ملزم ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک

    لاہور:(کنزیومرواچ نیوز)ہیئر بیدیاں روڈ پر مبینہ پولیس مقابلے کے دوران اپنی بیوی، دو بچوں اور سسر کو قتل کرنے والا ملزم اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا۔پولیس کے مطابق ملزم عمران کے خلاف ہیئر تھانے میں مقدمہ نمبر 2730/25 زیر دفعہ 302 درج تھا۔ ملزم نے 15 پر کال کرکے اعتراف کیا تھا کہ اس نے اپنی بیوی، بچوں اور سسر کو قتل کردیا ہے اور اب وہ چوکی انچارج نادرآباد کو قتل کرنے جا رہا ہے۔اطلاع ملنے پر پولیس نے ملزم کی لوکیشن ٹریس کی اور علاقے میں سرچ آپریشن شروع کیا۔ اسی دوران عمران نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ پولیس پارٹی پر فائرنگ کردی۔ جوابی کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں ملزم عمران اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں سے ہلاک ہوگیا۔پولیس کے مطابق ملزم کے دیگر ساتھی موقع سے فرار ہوگئے جن کی گرفتاری کے لیے تلاش جاری ہے۔