Blog

  • سندھ میں سیلابی خطرات برقرار، ایمرجنسی الرٹ جاری

    سندھ میں سیلابی خطرات برقرار، ایمرجنسی الرٹ جاری

    کراچی(کنزیومرواچ نیوز)سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ میں سیلابی خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور صورتحال کے پیش نظر ایمرجنسی الرٹ جاری ہے۔ ان کے مطابق دریاؤں اور بیراجوں میں پانی کے بہاؤ میں کمی بیشی کا سلسلہ جاری ہے، گڈو، سکھر اور کوٹری بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب موجود ہے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 14,430 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا جبکہ اب تک 109,320 افراد کو محفوظ بنایا جا چکا ہے، مزید 346,000 سے زائد مویشی بھی منتقل کیے گئے ہیں۔ متاثرین کے لیے 169 میڈیکل کیمپ قائم ہیں جہاں اب تک 27,800 سے زائد افراد کو طبی امداد فراہم کی جا چکی ہے۔شرجیل میمن نے کہا کہ تمام ادارے الرٹ ہیں اور حکومت سندھ، پنجاب حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کا بروقت مقابلہ کیا جا سکے۔

  • وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کے لیے عطیات بڑھانے کی اپیل

    وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کے لیے عطیات بڑھانے کی اپیل

    اسلام آباد(کنزیومر واچ نیوز) وزیراعظم شہباز شریف نے عطیات کے عالمی دن پر قوم سے سیلاب متاثرین کے لیے امداد و تعاون بڑھانے کی اپیل کی ہے۔ اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم ہمیشہ بلاامتیاز خدمت کے جذبے سے دوسروں کی مدد کرتی آئی ہے، اسی جذبے کے باعث پاکستان دنیا کے عطیات دینے والے نمایاں ممالک میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ خاندان اشیائے خور و نوش، رہائش اور صحت کی سہولیات کے منتظر ہیں، اس لیے عوام، مخیر حضرات اور بیرون ملک پاکستانی اپنے ہم وطنوں کی ہر ممکن مدد کریں۔

  • کراچی کے کئی مقامات پر گرج چمک کےساتھ بارش کا امکان

    کراچی کے کئی مقامات پر گرج چمک کےساتھ بارش کا امکان

    کراچی:(کنزیومر واچ نیوز) سندھ میں 7 سے 10ستمبر کے دوران وقفے وقفے سے شدید بارشوں کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق ہواکا کم دباؤ 6 ستمبر کو راجستھان اور سندھ کے ملحقہ علاقوں تک پہنچنے کا امکان ہے، 6 ستمبرکی شام یا رات سے 9 ستمبر تک تھرپارکر، عمرکوٹ اور میرپورخاص میں بارش کا امکان ہے۔اس کے علاوہ سانگھڑ، خیرپور، شہید بینظیر آباد، مٹیاری، ٹنڈو الہیار، ٹنڈو محمد خان میں بھی بارش متوقع ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی کے مضافات میں 7 ستمبر کو کہیں کہیں بارش ہوسکتی ہے، 8 سے 10 ستمبر کے دوران کراچی کے کئی مقامات پر گرج چمک کےساتھ بارش کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات کا بتانا ہےکہ کراچی میں کہیں کہیں شدید موسلا دھار بارش بھی ہوسکتی ہے جب کہ نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے اور اربن فلڈنگ کا بھی خدشہ ہے۔

  • پنجاب کے بیشتر اضلاع میں شدید بارشوں کا امکان، الرٹ جاری

    پنجاب کے بیشتر اضلاع میں شدید بارشوں کا امکان، الرٹ جاری

    لاہور(کنزیومر واچ نیوز) پی ڈی ایم اے پنجاب نے مون سون بارشوں کے 10ویں اسپیل کے پیشِ نظر الرٹ جاری کردیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق 6 سے 9 ستمبر کے دوران صوبے کے بیشتر اضلاع میں شدید بارشوں کا امکان ہے۔ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، گوجرانوالہ، لاہور اور سیالکوٹ میں تیز بارشیں متوقع ہیں، جبکہ نارووال، حافظ آباد، اوکاڑہ، ساہیوال، قصور، سرگودھا، میانوالی، ڈیرہ غازی خان، ملتان اور راجن پور میں بھی بارشوں کا امکان ہے۔ترجمان نے خبردار کیا کہ 7 سے 9 ستمبر کے دوران ڈیرہ غازی خان کے رودکوہیوں میں فلیش فلڈنگ کا خدشہ موجود ہے۔ دوسری جانب ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے کہا ہے کہ دریائے چناب، راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال کا سامنا ہے جبکہ بڑے شہروں میں شدید بارشوں کے باعث ندی نالے بپھر سکتے ہیں۔پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو حفاظتی اقدامات یقینی بنانے اور عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

  • سیلاب سے چاول کی فصل کو بڑا نقصان ہوا حکومت کسانوں کو سپورٹ فراہم کرے،رفیق سلیمان

    سیلاب سے چاول کی فصل کو بڑا نقصان ہوا حکومت کسانوں کو سپورٹ فراہم کرے،رفیق سلیمان

    نیروبی(کنزیومرواچ نیوز)رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے رہنما رفیق سلیمان نے کہا ہے کہ حالیہ سیلاب سے چاول کی فصل کو شدید نقصان ہوا،حکومت کسانوں کی بحالی کے لئے اقدامات کرے اور ان کو،بھرپور سپورٹ فراہم کرے ان خیالات کا اظہار انھوں نے ایک انٹرویو میں کیا انھوں نے کہا کہ پاکستان کا باسمتی چاول دنیا بھر میں مقبول ہے سمجھانے کے لئے اس کی پیداوار کو،چار حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ پہلا سیکٹر قصور،بھاولنگر،بھاولپور اور دیپال پور سیکٹر کے حوالے سے ہمارے ذرائع کی رپورٹ ہے کہ اس سیکٹر میں2 سے 3 فیصد کا نقصان نظر آتا ہے۔ اس سے آگے نارووال کی پٹی آجاتی ہے۔ چس میں نارووال،حافظ آباد ودیگر علاقے شامل ہیں اس سیکٹر میں سب سے زیادہ 12 سے 15 فیصد ہے کسانوں کو دیگر فصلوں میں بھی ریٹ نہیں ملے اور اب اس صورتحال کا سامنا ہے۔اس سیکڑمیں بڑے زمیندار نہیں ہیں اس لئے ان کی بحالی ضروری ہے اور دیگر سیکٹرز میں بھی نقصان ہوا ہے

  • پارٹی  کو نقصان  ہورہا ہے،خان سے ملاقات نہیں کرائی جارہی،امین گنڈا پور

    پارٹی کو نقصان ہورہا ہے،خان سے ملاقات نہیں کرائی جارہی،امین گنڈا پور

    پشاور(کنزیومر واچ نیوز)وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے تنقید پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔پشاور میں اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ٹکٹوں کی تقسیم میں میرا کیا کام، سینٹ الیکشن میں ڈرامہ کیا گیا مجھ پر تنقید کی گئی جبکہ ہم خان کے حکم پر عملدرآمد کرتے ہیں کیونکہ یہ پارٹی اُن کی ہی ہے۔انہوں نے کہا کہ میری خان سے ملاقات کرانے نہیں دی جارہی تاکہ میرا خان سے رابطہ نہ ہو، ملاقات نہ ہونے کی وجہ سےپارٹی کو نقصان ہورہا ہے پا اور پارٹی تقسیم ہورہی ہے جبکہ بانی چیئرمین چاہتے ہیں کہ پارٹی تقیسم نہ ہوں۔علی امین گنڈا پور نے کہا کہ عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ دینے والے ہمارے دوست نہیں بلکہ دشمن ہیں اور وہ کامیاب ہورہے ہیں کیونکہ پارٹی انتشار کا شکار ہوگئی ہے

  • بھارتی اداکار آشیش کپور زیادتی کے الزام میں گرفتار

    بھارتی اداکار آشیش کپور زیادتی کے الزام میں گرفتار

    نئی دہلی(کنزیومر واچ نیوز) بھارتی ٹی وی اداکار آشیش کپور کو خاتون سے زیادتی کے الزام میں پولیس نے گرفتار کر لیا۔ متاثرہ خاتون نے دعویٰ کیا ہے کہ انسٹاگرام پر دوستی کے بعد انہیں ایک پارٹی میں بلایا گیا جہاں زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔خاتون نے ایف آئی آر میں آشیش کپور کے ساتھ ان کے دوست، دوست کی بیوی اور دو نامعلوم افراد کو بھی نامزد کیا ہے۔ پولیس کے مطابق واقعے کی تفتیش جاری ہے جبکہ اداکار نے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

  • پاکستان میں رواں سال کا دوسرا مکمل چاند گرہن 7 اور 8 ستمبر کو ہوگا

    پاکستان میں رواں سال کا دوسرا مکمل چاند گرہن 7 اور 8 ستمبر کو ہوگا

    کراچی (کنزیو واچ نیوز)محکمہ موسمیات کے مطابق رواں سال کا دوسرا مکمل چاند گرہن 7 اور 8 ستمبر کی درمیانی شب پاکستان میں دیکھا جا سکے گا۔ یہ فلکیاتی منظر یورپ، ایشیا، افریقا، امریکا اور آسٹریلیا سمیت دنیا کے کئی حصوں میں نظر آئے گا۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ پاکستانی وقت کے مطابق 7 ستمبر کی رات 8 بجکر 28 منٹ پر چاند کی روشنی مدہم ہونا شروع ہوگی۔ جزوی گرہن رات 9 بجکر 27 منٹ پر اور مکمل گرہن 10 بجکر 31 منٹ پر شروع ہوگا۔چاند گرہن 11 بجکر 12 منٹ پر اپنے عروج پر ہوگا جبکہ مکمل گرہن 11 بجکر 53 منٹ پر ختم ہوگا۔ جزوی گرہن کا اختتام 12 بجکر 57 منٹ پر اور مکمل طور پر گرہن رات ایک بجکر 55 منٹ پر ختم ہو جائے گا۔

  • ملتان میں سیلابی صورتحال سنگین، بڑے علاقے زیر آب

    ملتان میں سیلابی صورتحال سنگین، بڑے علاقے زیر آب

    ملتان (کنزیومر واچ نیوز)دریائے چناب اور راوی میں بڑھتے پانی کے دباؤ نے ملتان اور گرد و نواح کو خطرے میں ڈال دیا ہے، نہروں میں شگاف پڑنے سے متعدد بستیاں ڈوب گئیں جبکہ انتظامیہ نے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ملتان میں دریائے چناب شیر شاہ کے مقام پر خطرناک حد پار کر گیا جبکہ ہیڈ سدھنائی سے آنے والے دباؤ کے باعث سدھنائی کینال اور رانگو نہر میں شگاف پڑنے سے بڑی آبادی زیر آب آگئی۔ اکبر فلڈ بند پر پانی کی سطح 414 فٹ تک پہنچ گئی ہے اور مزید اضافے کا خدشہ ہے۔محکمہ انہار کے مطابق پانی 417 فٹ تک جانے پر ہیڈ محمد والا پر شگاف ڈالا جائے گا۔ کمشنر ملتان نے کہا کہ آبادی کو محفوظ بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات جاری ہیں۔بورے والا اور میلسی کے نشیبی علاقوں سے 95 فیصد انخلاء مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ دریائے ستلج میں ہیڈ اسلام اور جملیرا پر درمیانے اور اونچے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب کے تینوں دریاؤں میں سیلابی صورتحال کے باعث 13 لاکھ ایکڑ رقبہ زیر آب ہے اور اگلے 24 گھنٹے ملتان کے لیے نہایت اہم ہیں۔

  • پنجاب میں سیلاب: ہلاکتوں کی تعداد 46 تک جا پہنچی

    پنجاب میں سیلاب: ہلاکتوں کی تعداد 46 تک جا پہنچی

    لاہور(کنزیومر واچ نیوز)پنجاب میں حالیہ سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 46 تک جا پہنچی جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد 35 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے پنجاب عرفان علی کاٹھیا کے مطابق اب تک صوبے کے 3 ہزار 944 دیہات زیرِ آب آ چکے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ریلیف کیمپس میں 25 سے 30 ہزار افراد موجود ہیں جبکہ 14 لاکھ 96 ہزار سے زائد افراد کو ریسکیو کیا گیا۔ سیلابی صورتِ حال کے باعث 10 لاکھ سے زائد مویشیوں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق دریائے راوی میں مختلف مقامات پر اونچے اور انتہائی اونچے درجے کا سیلاب جاری ہے۔ بلوکی کے مقام پر پانی کی آمد اور اخراج ایک لاکھ 14 ہزار 130 کیوسک ریکارڈ کیا گیا، سدھنائی کے مقام پر پانی کی آمد ایک لاکھ 60 ہزار 580 اور اخراج ایک لاکھ 57 ہزار 580 کیوسک ہے۔ جسڑ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے جہاں پانی کی آمد اور اخراج 85 ہزار 980 کیوسک ریکارڈ ہوا۔