کبھی کبھی لگتا ہے کہ چین کی فضا میں کوئی ان دیکھے ساز کی دھیمی دھن بکھری ہے۔ سحر کے وقت جب میں کھڑکی کے پردے سرکاتی ہوں تو دور تک پھیلی عمارتیں دھند کے نرم دوپٹے میں لپٹی دکھائی دیتی ہیں۔ نیچے سڑک پر دوڑتی بائیکس کی قطار، رنگین چھتریاں تھامے لوگ، اور ان کے قدموں کی چاپ میں ایک عجیب سا یقین… جیسے سب کے پیچھے قسمت کا کوئی پوشیدہ ہاتھ ہے۔ اس ملک کے لوگوں کا عقیدہ ہے کہ خوش بختی اور نحوست محض الفاظ نہیں، یہ تو رنگوں، اعداد اور علامتوں کی صورت میں روزمرہ کی زندگی میں سانس لیتے ہیں۔
مجھے پہلا تعجب اُس دن ہوا جب ہوٹل کی لفٹ کا بٹن دبایا۔ تین کے بعد چار کا بٹن ہی غائب تھا۔ ایک لمحے کو لگا جیسے انجینئر بھول گئے ہوں، مگر جب مختلف عمارتوں میں یہی دیکھا تو راز کھلا کہ یہ انجینئرنگ نہیں، عقیدے کی انجینئرنگ ہے۔
چینی دوست نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا “چار ہمارے ہاں موت کی بازگشت ہے۔”
اُس لمحے مجھے یوں لگا جیسے کسی نے عام سے ہندسے کو کفن اوڑھا دیا ہو۔ یہاں لوگ اس خوف کو اتنی شدت سے مانتے ہیں کہ بڑے سے بڑا ہسپتال اور بلند ترین ہوٹل بھی “چوتھی منزل” کو اپنے نقشے سے مٹا دیتے ہیں۔ شاید یہ انسان کا ازلی خوف ہے موت کی یاد کو اپنے دروازے پر نہ آنے دینا۔
اگر “چار” ان کے دل میں موت کا سایہ ہے تو “آٹھ” خوش بختی کا سورج ہے۔ ایک ہی ہندسہ، لیکن ایسا ہندسہ جس پر لوگوں کا ایمان قائم ہے۔
بیجنگ کی مارکیٹ میں ایک صاحب فخر سے اپنی گاڑی کی نمبر پلیٹ دکھا رہے تھے جس پر “888” درج تھا۔ کسی نے ہنستے ہوئے کہا “یہ تو بس نمبرز ہیں۔”
وہ فوراً بولے: “نہیں، یہ خوشحالی کا راز ہے۔ اس کے لیے میں نے دگنی قیمت دی ہے۔”
میں حیران تھی کہ ایک ہندسہ کیسے دل کو اتنی طاقت دے دیتا ہے۔ فون نمبرز، دکانوں کے پتے، حتیٰ کہ شادی کی تاریخیں بھی لوگ آٹھ پر رکھتے ہیں۔ اور یہی نہیں، بیجنگ اولمپکس کا افتتاح بھی آٹھ اگست 2008 کو رات آٹھ بج کر آٹھ منٹ پر کیا گیا۔ جیسے پورا ملک ایک ہندسے کے سہارے خواب دیکھ رہا ہو۔
چین میں جہاں نمبر ۴ کو منحوس سمجھا جاتا ہے، وہیں سرخ رنگ خوش بختی اور جشن کی علامت مانا جاتا ہے۔
چین کے تہواروں میں سرخ رنگ ایک طوفان کی طرح امڈ آتا ہے۔ گلیوں کے دروازوں پر سرخ کاغذی جھنڈیاں، فضا میں لٹکتی سرخ لالٹینیں، اور ننھے بچے اپنے ہاتھوں میں سرخ لفافے لیے بھاگتے ہیں۔
یہ رنگ صرف خوشی نہیں، بلکہ بدقسمتی کے اندھیروں کو دور کرنے کا یقین ہے۔ چینی دلہن سفید نہیں بلکہ سرخ لباس پہنتی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے وہ اپنی ہنسی اور خوابوں کے ساتھ قسمت کے چراغ بھی پہن لیتی ہے۔
مجھے اپنی سرزمین یاد آتی ہے جہاں دلہن کا سرخ دوپٹہ اور چوڑیاں ہی خوشی کی علامت ہیں، مگر یہاں تو پورا سماج سرخ رنگ کو ایک اجتماعی دعا کی طرح اوڑھ لیتا ہے۔
اگر سرخ خوشی کی زبان ہے تو ڈریگن طاقت اور قسمت کی علامت ہے۔ میں نے پہلی بار ڈریگن ڈانس دیکھا تو یوں لگا جیسے آسمان کی بجلی زمین پر اتر آئی ہو۔ لمبے کپڑے کے نیچے چھپے نوجوان، تالیوں کی گونج، ڈھول کی تھاپ اور ڈریگن کا رقص یہ منظر کسی طلسمی کتاب کے ورق کی مانند تھا۔ یہاں ڈریگن کا ناچ خوشی اور قوت کی لہر پھیلا دیتا ہے۔ یہ نہ خوف ہے نہ مذہب، بلکہ محض ایک علامت ہے کہ زندگی کا جشن کبھی رُکنا نہیں چاہیے۔
میں نے کراچی کی سڑکوں پر دیکھا تھا لوگ آوارہ گردی کرتے ہوئے رات گئے سیٹیاں بجاتے تھے، لیکن یہاں چین میں خاص طور پر اس بات کو منع کیا جاتا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ رات کے سناٹے میں اگر کوئی سیٹی بجاتا ہے تو وہ آواز بدروحوں کو دعوت دیتی ہے۔ مجھے لگا یہ کوئی بچوں کو ڈرانے کے لیے کہانی ہو گی، مگر جب ایک مقامی دوست نے نہایت سنجیدگی سے کہا کہ “رات کی سیٹی سے دروازے کھل جاتے ہیں”، تو میرے بدن میں ہلکی سی کپکپی دوڑ گئی۔
جس طرح رات کی خاموشی میں سیٹی بجانا بدروحوں کو پکارنے کے مترادف مانا جاتا ہے، ویسے ہی چین میں آئینہ ٹوٹنا قسمت کی لکیر میں دراڑ پڑنے جیسا شگون سمجھا جاتا ہے۔
آئینہ جو حسن دکھاتا ہے، روشنی بکھیرتا ہے، حقیقت کو منعکس کرتا ہے ۔ یہاں اس کے ٹوٹنے کو برا شگون سمجھا جاتا ہے۔ میں نے جب اپنی میز پر رکھا چھوٹا سا آئینہ گرنے سے ٹوٹتے دیکھا تو ایک چینی دوست نے فوراً کہا: “اب سات دن اچھے نہیں گزریں گے۔” مجھے یاد آیا کہ مغرب میں بھی یہی عقیدہ ہے۔ شاید آئینہ ٹوٹنا ہر تہذیب میں ایک ہی تاثر چھوڑتا ہے کہ جیسے قسمت کی لکیر میں دراڑ پڑ گئی ہو۔
یہاں تحائف دینا اور لینا بھی ایک باریک ریشمی دھاگے پر چلنے جیسا ہے۔ گھڑی تحفے میں دینا بالکل منع ہے، کیونکہ “گھڑی دینا” کا مطلب چینی زبان میں “آخری رسومات” کے مترادف ہے۔ اسی طرح جوتے تحفے میں دینا تعلق ٹوٹنے کی علامت مانا جاتا ہے۔ سفید پھول یا سفید کپڑے خوشی کے موقع پر دینا تو جیسے کسی کو موت کی یاد دلانے کے برابر ہے۔ میں نے اکثر دیکھا ہے کہ شادی بیاہ یا جشن میں سب سرخ رنگ کے تحفے دیتے ہیں کیونکہ یہاں سرخ خوشی اور خوش بختی کا رنگ ہے، اور سفید سوگ کا۔ یہ تضاد میرے لیے عجیب اور باعث تعجب تھا۔
ایک دن کھانے کی میز پر میں نے بے دھیانی میں (چاپ اسٹکس) سیدھی چاولوں کے کٹورے میں گاڑ دیں۔ میز پر خاموشی چھا گئی، سب نے چونک کر میری طرف دیکھا۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہ عمل مردوں کی روح کے لیے بخور جلانے جیسا ہے، اس لیے یہ بدشگونی اور بے ادبی مانی جاتی ہے۔ چھوٹی سی حرکت اور اس کے پیچھے اتنا بڑا معنوی بوجھ، مجھے حیران کرگیا۔
یہاں الو کو بھی موت کی علامت مانا جاتا ہے اور بلی، خاص طور پر کالی بلی، راستہ کاٹ جائے تو لوگ رک جاتے ہیں۔ بالکل ہمارے دیس کی طرح ۔ یوں لگا جیسے دو تہذیبیں سمندر کے فاصلے کے باوجود ایک ہی طرح کے خوف اپنے دل میں سنبھالے ہوئے ہیں۔
چین کی یہ سب روایات اور عقائد دیکھ کر میرا دل کہتا ہے کہ انسان کتنا ہی آگے بڑھ جائے، کتنا ہی دماغ اور مشین کو ملا دے، لیکن دل کے کسی کونے میں وہی پرانے خوف زندہ رہتے ہیں۔ نمبر ۴ سے ڈرنے والے اسی زمین پر دماغ سے روبوٹ کنٹرول کرتے ہیں۔ رات کی سیٹی سے بچنے والے اسی آسمان کے نیچے خلا کے خواب دیکھتے ہیں۔
مگر فرق یہ ہے کہ پرانی نسل کے دل میں خوف ہے اور نئی نسل کے دل میں سوال۔ بزرگ ان کہانیوں کو جیتے ہیں، اور نوجوان انہیں محض مسکراہٹ کے ساتھ سنتے ہیں۔ شاید یہی تضاد انسان کو مکمل بناتا ہے۔ کچھ حصے اندھیرے سے جُڑے ہیں اور کچھ روشنی سے۔ کچھ ماضی کے تعویذ ہیں اور کچھ مستقبل کے چراغ۔ اور میں، ایک مسافر کی طرح، ان دونوں جہانوں کے بیچ کھڑی ہوں حیران بھی، مسرور بھی۔
چین کی گلیوں میں چلتے ہوئے میں نے جانا کہ یہاں ہر ہندسہ، ہر رنگ اور ہر علامت ایک کہانی سناتی ہے۔ کہیں خوف کی سرگوشی ہے، کہیں اُمید کا ترانہ اور میں سوچتی ہوں، خوش قسمتی آخر کہاں چھپی ہے؟ کیا واقعی یہ سب اعداد اور رنگوں کی کرشمہ سازی ہے یا پھر انسان کے دل کی وہ دعا جو کسی نہ کسی بہانے سے زندگی کو سہارا دیتی ہے؟
شاید خوش قسمتی کوئی بیرونی طاقت نہیں، بلکہ دل کا یقین ہے۔ اور یہی یقین ہے جو چین کی گلیوں کو بھی روشن رکھتا ہے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ انہی گلیوں اور انہی عمارتوں میں جہاں بزرگ نمبر چار اور آئینے کے ٹوٹنے کو نحوست مانتے ہیں، وہیں انہی کے بچے اور نواسے لیبارٹریوں میں بیٹھ کر دماغ اور مشین کی سرگرمیوں پر کام کر رہے ہیں۔ کوئی برقی لہروں کے ذریعے سوچوں کو پڑھنے کی کوشش کر رہا ہے، کوئی محض ایک ہی خیال سے روبوٹ کو حرکت دے رہا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے ایک ہی ملک دو زمانوں کو ساتھ لیے چل رہا ہے—ایک ماضی کی کہانیوں میں، دوسرا مستقبل کے خوابوں میں۔”
چین کی سرزمین صرف قدیم عقائد اور رنگوں کے فسوں تک محدود نہیں۔ یہاں کے آسمان کے نیچے ایک اور جہاں بھی آباد ہے۔وہ جہاں انسان اپنے دماغ کے خوابوں کو مشین کی زبان میں ڈھالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ وہی چین ہے جہاں صدیوں پہلے کنفیوشس نے حکمت کی باتیں کیں، اور آج انہی گلیوں کے بیٹے لیبارٹریوں میں بیٹھے دماغ کی لہروں کو کمپیوٹر کے کوڈز میں بدل رہے ہیں۔
ایک دن میں بیجنگ کی ایک یونیورسٹی کے تحقیقی مرکز گئی۔ لمبی راہداریوں میں سفید کوٹ پہنے نوجوان ایسے چل رہے تھے جیسے مستقبل کی کلید ان کے ہاتھ میں ہو۔ اندر داخل ہوئی تو ایک کمرے میں طلبہ ایک شخص کے سر پر برقی تاروں سے جڑا ہوا ہیلمٹ باندھ رہے تھے۔ سامنے اسکرین پر لہریں ابھر رہی تھیں، جیسے کسی دریا کی موجیں کاغذ پر اتر آئی ہوں۔
یہ دماغ کی بجلی تھی وہ خاموش آوازیں جو انسان کے اندر ہمیشہ سے موجود تھیں لیکن پہلی بار کسی مشین نے سننا شروع کی تھیں۔
مجھے بتایا گیا کہ ہر خیال دراصل برقی اشارہ ہے۔ جب ہم سوچتے ہیں، تو دماغ میں ننھی ننھی کرنٹ کی لہریں دوڑتی ہے۔ سائنسدانوں نے انہی کرنٹ کو پڑھنے کے لیے BCI بنایا ہے۔ اسکرین پر جب کسی نے محض سوچا کہ “ہاتھ اُٹھے”، تو سامنے پڑا مصنوعی بازو حرکت میں آگیا۔
یہ منظر دیکھ کر مجھے لگا جیسے میں کسی سائنس فکشن فلم میں ہوں۔ مگر یہ سب حقیقت تھی۔ دماغ اور مشین کے درمیان وہ رشتہ بنتا جا رہا تھا جو کبھی جادوگر اور چراغ کے بیچ مانا جاتا تھا۔
ایک طالب علم نے کہا “کل کو کوئی شخص محض سوچ کر کمپیوٹر کھول سکے گا، کار چلا سکے گا، یا حتیٰ کہ اپنے خواب بھی لکھ سکے گا۔”
میں نے حیرت سے اُس کے چہرے کو دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں روشنی تھی، لیکن میرے دل میں سوالات تھے۔ اگر خواب مشین پر اترنے لگیں تو کیا ہمارے راز بھی محفوظ رہیں گے؟ کیا کوئی کمپیوٹر ہماری تنہائی، ہماری دعا، اور ہماری خاموشی کو بھی سمجھ پائے گا؟
BCI کو دیکھتے ہوئے مجھے لگتا ہے یہ دو دھاری تلوار ہے۔ ایک طرف یہ اپاہج انسان کے لیے نئی زندگی ہے، ایک ایسا تحفہ جو اسے ہاتھ یا ٹانگ کے بغیر بھی آزاد کر سکتا ہے۔ مگر دوسری طرف یہ خوف بھی ہے کہ اگر ہماری سوچیں مشین پر عیاں ہونے لگیں تو پرائیویسی کہاں باقی رہے گی؟
یہ وہی سوال ہے جو شاید ہر دور میں نئی ایجادوں کے ساتھ اٹھتا ہے۔ بجلی آئی تو لوگوں نے کہا، یہ گھروں کو جلا دے گی۔ مگر پھر اسی بجلی نے راتوں کو دن میں بدلا۔ شاید BCI بھی کبھی وہی کرے ہمیں خوف بھی دے، مگر نئی روشنی بھی۔
چین کے نوجوان سائنسدان کہتے ہیں کہ ایک دن انسان زبان کے بغیر بات کرے گا۔ صرف سوچ سے دوسرے کے دل تک پیغام پہنچ جائے گا۔ یہ خواب مجھے کرشمہ معلوم ہوا، لیکن یہ بھی یاد دلایا کہ کبھی ٹیلی فون کو بھی کرشمہ سمجھا گیا تھا۔
میں نے آنکھیں بند کیں اور سوچا کاش میرے خیالات بھی یوں مشین پر اتر سکیں۔ شاید لفظوں کی محنت نہ کرنی پڑے، شاید میرا دل براہِ راست صفحے پر اتر آئے۔ لیکن پھر دل نے سرگوشی کی “شاعری اور نثر کا حسن تو اسی میں ہے کہ دل کی دھڑکن کو لفظوں میں ڈھالنے کا کمال سیکھا جائے۔ اگر سب کچھ سوچ سے براہِ راست لکھا جانے لگے تو شاید حسن کی وہ چمک باقی نہ رہے۔”
چین کی لیبارٹریوں میں بیٹھے یہ نوجوان سائنسدان جب دماغ اور مشین کو جوڑتے ہیں تو مجھے یوں لگتا ہے جیسے زمانے نے ایک اور قوسِ قزح تخلیق کی ہے۔ ایک طرف قدیم عقائد ہیں جہاں “چار” موت کی علامت ہے اور “آٹھ” خوش بختی کا نشان، دوسری طرف نئی دنیا ہے جہاں دماغ کی لہریں کمپیوٹر کو چلاتی ہیں۔ لہٰذا، چین میں دماغ اور مشین کے یہ نئے خواب 2027 سے 2030 کے درمیان حقیقت کے رنگ میں ڈھلنے کی امید رکھتے ہیں ۔پہلے طبی اور معاون آلات کی شکل میں، اور پھر زندگی کے ہر گوشے میں اپنے چراغ بکھیرتے ہوئے۔
میں سوچتی ہوں، یہ کیسا تضاد ہے ایک قوم جو ایک ہندسے سے ڈرتی ہے، اور دوسری طرف وہی قوم سب سے آگے جا کر انسانی دماغ کے رازوں کو کھول رہی ہے۔ شاید یہی زندگی کا حسن ہے کہ خوف اور امید، روایت اور ایجاد، سب ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔
اور میں،ان دونوں جہانوں کے بیچ کھڑی حیران ہوں۔ کبھی ڈریگن کے رقص پر مسکرا دیتی ہوں، کبھی لیبارٹری کے منظر پر ششدر رہ جاتی ہوں۔ اور میرا دل کہتا ہے چین محض ایک ملک نہیں، یہ ماضی اور مستقبل کا سنگم ہے جہاں تقدیر کے خواب بھی بستے ہیں اور سائنس کے چراغ بھی جلتے ہیں۔
چین کی سرزمین پر گزرتے یہ دن مجھے یوں لگتے ہیں جیسے میں دو متضاد دریاؤں کے سنگم پر کھڑی ہوں ایک دریا جس کے پانی میں سرخ رنگ کی لالٹینیں، ڈریگن کے ناچ اور آٹھ کے جادو کی جھلک ہے، اور دوسرا دریا جس کی موجوں میں دماغ اور مشین کی سرگوشیاں بہتی ہیں۔ ایک طرف خوف اور عقیدے کی کہانیاں، دوسری طرف سائنس اور مستقبل کے خواب… اور میں ان دونوں کو دیکھ کر سوچتی ہوں کہ شاید یہی چین کی اصل پہچان ہے۔ روایت اور ایجاد کا وہ سنگم جہاں قسمت کے تعویذ بھی زندہ ہیں اور نئی دنیا کے چراغ بھی روشن۔
Blog
-

چین میں توہم پرستی اور ٹیکنالوجی کا امتزاج….ارم زہرا ۔ چین
-

ایشیا کپ سے قبل پاک بھارت کرکٹرز میں کشیدگی، کھلاڑیوں نے مصافحہ تک نہ کیا
شارجہ (کنزیومر واچ نیوز) ایشیا کپ کرکٹ سے قبل پاکستان اور بھارتی کرکٹرز کے درمیان کشیدگی دیکھنے میں آ رہی ہے، بھارتی کرکٹ بورڈ نے واضح کیا ہے کہ ایشیا کپ میں ضرور کھیلیں گے لیکن حکومتی پالیسی کے تحت دشمن ملک کے خلاف دوطرفہ مقابلے میں حصہ نہیں لے سکتے۔ ماضی میں پاک بھارت میچوں کے دوران گراؤنڈ میں کشیدگی ضرور ہوتی تھی لیکن فیلڈ سے باہر کھلاڑیوں کے تعلقات دوستانہ رہتے تھے تاہم مئی میں جنگ کے بعد صورتحال یکسر بدل گئی ہے۔ دبئی میں 14 ستمبر کو پاک بھارت میچ ہوگا اور اس سے قبل 6 ستمبر کو دونوں ٹیموں نے آئی سی سی اکیڈمی میں ایک ہی گراؤنڈ میں تین گھنٹے پریکٹس کی مگر کھلاڑیوں میں واضح دوریاں دیکھی گئیں اور ایک دوسرے سے مصافحہ تک نہ کیا۔
-

پاکستان کے خلاف بھارتی پروپیگنڈا مہم پھر سے شروع
ممبئی (کنزیومر واچ نیوز)پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا مہم کے تحت بھارتی میڈیا ایک بار پھر فالس فلیگ آپریشنز کی فضا ہموار کرنے میں مصروف ہوگیا۔ذرائع کے مطابق ممبئی کے نائر اسپتال کو موصول ہونے والی بم دھمکی ایک اور فالس فلیگ کے اسکرپٹ کا حصہ ہے۔ دہشتگردی کی پے درپے اطلاعات کا بھارتی میڈیا پر آنامنظم پراپیگنڈے کی نشاندہی کرتا ہے۔بھارتی میڈیا کی جانب سے اس طرح کی خبروں کا تسلسل بھارتی حکومت کی اندرونی ناکامیوں سے توجہ ہٹانا ہے۔ اس حوالے سے ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ای میل اور فون کال کے ذریعے بم کی اطلاع دینا اور فوری سکیورٹی ردعمل دکھانا طے شدہ اسکرپٹ کا حصہ ہے۔ یہ پروپیگنڈا اس وقت کیا جا رہا ہے جب بھارت کو عالمی سطح پر انسانی حقوق، اقلیتوں کے تحفظ اور کشمیریوں پر مظالم کے حوالے سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ مودی سرکار ایک بار پھر خوف کی فضا بنا کر عوامی جذبات کو بھڑکانا چاہتی ہے تاکہ اصل مسائل کو پسِ پشت دھکیلا جا سکے۔ ایسے اقدامات عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہیں۔ پلواما، اڑی اور پٹھان کوٹ جیسے واقعات میں بھارت نے خود اپنے ہی فوجیوں کو نشانہ بنایا۔
-

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، 100 انڈیکس 155 ہزار کی حد عبور
کراچی (کنزیومر واچ نیوز) پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے 100 انڈیکس میں آج بھی کاروبار کے دوران مثبت تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے اور کاروباری ہفتے کے پہلے روز ہی انڈیکس ایک لاکھ 55 ہزار کی حد عبور کر گیا ہے۔ اس وقت پی ایس ایکس 100 انڈیکس 780 پوائنٹس اضافے سے 155057 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ کاروباری ہفتے کے آخری روز بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی دیکھی گئی تھی اور انڈیکس نے ایک لاکھ 54 ہزار کا ہندسہ عبور کیا تھا۔
-

کراچی میں کل شدید موسلا دھار بارش کی پیشگوئی، اربن فلڈنگ کا خدشہ
کراچی (کنزیومر واچ نیوز) محکمہ موسمیات نے شہر میں کل شدید موسلا دھار بارش کی پیشگوئی کرتے ہوئے اربن فلڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ ترجمان محکمہ موسمیات انجم نذیر کے مطابق کراچی میں مون سون سسٹم ڈیپ ڈپریشن کی شدت کے ساتھ برقرار ہے جو سمندری طوفان بننے سے پہلے کی ایک اسٹیج ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بارش کا سسٹم زمین پر موجود ہے اور اس کا مرکز تھرپارکر میں ہے، جس کے باعث 60 سے 70 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل سکتی ہیں۔ میئر کراچی کے مطابق سمندر میں پانی کی سطح بلند ہے اور اگر شہر میں تیز بارش ہوئی تو اس سے نمٹنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ ترجمان نے کہا کہ سہ پہر میں موسلادھار بارش ہوسکتی ہے جبکہ کل یہ سسٹم کراچی کے قریب سے گزرے گا جس کے باعث صورتحال خراب رہنے کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ شہر میں انفرااسٹرکچر کی کمزوری کے باعث اربن فلڈنگ ہوسکتی ہے اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کا خدشہ ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ تیز بارش کے دوران گھروں میں رہیں اور کچے انفرا اسٹرکچر سے دور رہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق پورے اسپیل کے دوران کراچی میں 100 ملی میٹر سے زائد بارش ہوسکتی ہے۔
-

پنجاب میں دریاؤں کی طغیانی، سیلابی صورتحال تشویشناک
لاہور (کنزیومر واچ نیوز) دریائے چناب میں اونچے درجے کے سیلاب کے باعث مظفر گڑھ کے سیکڑوں دیہات پانی میں ڈوب گئے جبکہ ہزاروں افراد محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئے۔ پولیس کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں ایک ہزار سے زائد افراد کو کشتیوں کے ذریعے نکالا گیا۔امدادی کارروائیاں رنگپور، دوآبہ، سنکی، خان گڑھ، وہیلاں والی، بنڈہ اسحاق اور عظمت پور میں جاری ہیں۔ ریسکیو کی 32 اور پولیس کی 8 کشتیاں آپریشن میں مصروف ہیں جبکہ فوج، وائلڈ لائف اور پرائیویٹ کشتیاں بھی امدادی سرگرمیوں میں شامل ہیں۔اوکاڑہ میں دریائے راوی اور ستلج کی طغیانی کے باعث انتظامیہ نے 32 دیہات کے اسکولوں کی تعطیلات 14 ستمبر تک بڑھا دی ہیں۔ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا پر انتہائی اونچے درجے اور سلیمانکی پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ دریائے راوی میں شاہدرہ اور ہیڈ سدھنائی پر اونچے درجے جبکہ دریائے چناب کے خانکی ہیڈ ورکس پر نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ 9 ستمبر تک پنجاب کے دریاؤں میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے کیونکہ بالائی علاقوں میں بارشوں کے باعث پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
-

ٹرائی نیشن کرکٹ سیریز،پاکستان کی شاندار فتح،افغانستان کی عبرتناک شکست
شارجہ(کنزیومر واچ نیوز)پاکستان ٹرائی نیشن سیریز کا فاتح بن گیا، فائنل مقابلے میں افغانستان کو 75 رنز سے شکست دے دی ہےشارجہ کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فائنل مقابلے میں پاکستانی اسپنر محمد نواز افغان بیٹرز کے لیے بھیانک خواب ثابت ہوئے، پاکستان کے 142 رنز کے ہدف کے تعاقب میں افغستان کی پوری ٹیم 66 رنز بنا کر آل آؤٹ ہوگئی۔لیف آرم اسپنر محمد نواز نے ہیٹ ٹریک سمیت 5 وکٹیں حاصل کر کے افغان ٹیم کی کمر توڑ دی، صفیان مقیم اور ابرار احمد نے 2،2 وکٹیں اپنے نام کیں، شاہین شاہ آفریدی نے ایک شکار کیا۔افغان ٹیم کے 9 کھلاڑی ڈبل فگر میں بھی داخل نہ ہو سکے، کپتان راشد خان 17 اور صدیق اللہ اتل 13 رنز بنا کر نمایاں رہے۔
اس سے قبل، پاکستان نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا، پاکستان ٹیم نے مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 141 رنز بنائےاوپنر بلے باز فخر زمان 27، محمد نواز 25 اور کپتان سلمان علی آغا 24 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، صائم ایوب 17، حسن نواز اور فہیم اشرف 15،15 رنز بنا کر پویلین واپس لوٹے۔آؤٹ آف فارم محمد حارث ایک بار پھر ناکام رہے اور صرف 2 رنز بناکر نور احمد کا شکار بنے جب کہ صاحب زادہ فرحان کھاتہ بھی کھول نہ سکےافغانستان کے اسپنر نے مجموعی طور پر 6 وکٹیں حاصل کیں، کپتان راشد خان نے 3، نور احمد نے 2 جب کہ اے ایم غضنفر نے ایک وکٹ اپنے نام کی، جب کہ فاسٹ باؤلر فضل حق فاروقی نے 19 رنز دے کر 2 وکٹیں حاصل کیں۔ -

جشن میلادالنبی مذہبی جوش و خروش سے منایا گیا
کراچی(کنزیومر واچ نیوز)
ملک بھر میں نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا یوم ولادت مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیارپورٹ کے مطابق جشن میلاد النبیﷺ کے سلسلے میں ملک کے مختلف شہروں کی گلیوں، محلوں اور بازاروں کو خوبصورت روشنیوں، برقی قمقموں اور سبز جھنڈیوں سے سجایا گیا جبکہ سرکاری و نجی عمارتوں پر بھی چراغاں کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ کئی بازاروں اور شاہراہوں پر محرابیں اور آرائشی دروازے بھی لگائے گئے ہیں۔علاوہ ازیں مساجد کو بھی برقی قمقموں سے سجایا گیا ہے جبکہ درود و سلام اور نعت خوانی کی محافل کا انعقاد کیا جارہا ہے، فضائیں درود و سلام سے معطر ہیں۔
جشن میلاد النبیﷺ کی مناسبت سے شہر کے مختلف علاقوں میں نیاز تقسیم کرنے کا بھی اہتمام کیا گیا۔ پولیس سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے 12 ربیع الاول کو فول پروف سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
ملک بھر میں جلوس، میلاد کی محافل منعقد کی گئیں جبکہ فضا درود و سلام سے معطر رہی
-

اڈیالہ جیل کے باہر علیمہ خان پر انڈہ پھینک دیا گیا
اسلام آباد(کنزیومر واچ نیوز)راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران عمران خان کی بہن علیمہ خان پر دو انڈے پھینکے گئے جن میں سے ایک انڈہ انہیں لگ گیا۔ واقعے پر پی ٹی آئی کارکنان مشتعل ہوگئے اور پولیس نے موقع سے 2 لڑکیوں کو حراست میں لے لیا۔ علیمہ خان نے گفتگو میں کہا کہ عوام ظلم قبول نہیں کریں گے اور بانی پی ٹی آئی کی آواز دبائی نہیں جا سکتی۔
-

ایبٹ آباد میں ڈمپر کی ٹکر، 3 بچے جاں بحق، 5 زخمی
ایبٹ آباد(کنزیومر واچ نیوز) لیڈی گارڈن کے قریب ڈمپر نے سڑک پار کرتے کنٹونمنٹ بورڈ اسکول کے 8 بچوں کو کچل دیا، حادثے میں 3 بچے موقع پر ہی جاں بحق جبکہ 5 شدید زخمی ہوگئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں 2 بچے اور ایک بچی شامل ہے۔ ریسکیو 1122 نے زخمیوں اور جاں بحق بچوں کو ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کر دیا۔