Blog

  • پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری  کی سردار امیر بخش بھٹو  سے  ملاقات،آصف زرداری کا اہم پیغام پہنچایا

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سردار امیر بخش بھٹو سے ملاقات،آصف زرداری کا اہم پیغام پہنچایا

    رتو ڈیرو (آغاخالد)پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھٹو قبیلے کے سربراہ اور سردار امیر بخش بھٹو کے آبائی گاؤں میر پور بھٹو پہنچ کر ان کے والد اور سابق وزیراعلٰی سندھ مرحوم ممتاز علی بھٹو کے انتقال پر تعزیت کی ذرائع کا کہنا ہے کہ تعزیت کے بعد بلاول بھٹو زرداری اور امیر بخش بھٹو کی ون ٹو ون ملاقات بھی ہوئی جس میں بلاول بھٹو زرداری نے سردار امیر بخش تلک صدر آصف علی زرداری کا خاص پیغام پہنچایا

    اندرونی ذرائع کے مطابق بلاول نے کہا کہ پیپلز پارٹی عوام کے بعد بھٹو خاندان کا اثاثہ اور وہی اس کے حقیقی وارث ہیں انہوں نے سردار امیر بخش سے کہاکہ بھٹو خاندان کے سربراہ اور سردار ہونے کے ناطے پیپلز پارٹی کو مضبوط اور منظم کرنے کے لیے آپ ہمارا ساتھ دیں،

    ملاقات کے حوالہ سے ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری نے ملاقات کے دوران امیر بخش بھٹو کو پیش کش کی کہ انہیں رتوڈیرو والی سیٹ سے کامیاب کروا کر سندھ میں اہم عہدہ دیا جا سکتاہے جبکہ انہیں پیپلز پارٹی سندھ کا صدر بنانے کی بھی پیشکش کی گئی انہوں نے کہاکہ اس سلسلہ میں صدر آصف علی زرداری بھی جلد آپ سے ملاقات کر یں گے خاندانی ذرائع نے بتایا ہے کہ سردار امیر بخش بھٹو نے بلاول سے کہاکہ میں اپنے پرانے دوستوں، ساتھیوں اور ممتاز بھٹو کے چاہنے والوں سے صلاح و مشورہ کرکے جواب دونگا انہوں نے کہا کہ سندھ دھرتی اور سندھیوں کے مفاد میں جو بہتر ہوگا وہی فیصلہ کروں گا اس موقع پر بلاول کے ساتھ پیپلز پارٹی کے سہیل انور سیال، جمیل سومرو، آغا سراج درانی، اعجاز جکھرانی، سید حسن محمود امروٹی اور دیگر بھی موجود تھے۔

  • بھارت نے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا، پنجاب میں اونچے درجے کا سیلاب الرٹ

    بھارت نے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا، پنجاب میں اونچے درجے کا سیلاب الرٹ

    لاہور (کنزیومر واچ نیوز)بھارت نے دریائے ستلج میں ایک بار پھر پانی چھوڑ دیا ہے۔ پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن کی اطلاع پر وزارتِ آبی وسائل نے سیلابی الرٹ جاری کردیا۔ ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کے باعث دریائے ستلج میں پانی کے بہاؤ میں مزید اضافہ ہوگا۔ اس وقت ہریکے ڈاؤن اسٹریم اور فیروزپور ڈاؤن اسٹریم میں اونچے درجے کا سیلاب موجود ہے۔ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کو ہدایت جاری کر دی گئی ہیں۔
    پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 30 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ سلیمانکی کے مقام پر بھی اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 37 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا ہے۔ دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 62 ہزار کیوسک، خانکی ہیڈ ورکس اور قادر آباد کے مقام پر 98 ہزار کیوسک جبکہ ہیڈ تریموں پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 50 ہزار کیوسک ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق پنجند کے مقام پر صورتحال انتہائی تشویشناک ہے جہاں پانی کا بہاؤ 4 لاکھ 75 ہزار کیوسک تک جا پہنچا ہے۔

  • ملتان، مظفرگڑھ اور رحیم یار خان میں سیلابی خطرات، اگلے تین دن بڑے چیلنج قرار

    ملتان، مظفرگڑھ اور رحیم یار خان میں سیلابی خطرات، اگلے تین دن بڑے چیلنج قرار

    لاہور (کنزیومر واچ نیوز)ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب عرفان علی کاٹھیا نے جنوبی پنجاب میں سیلابی صورتحال کو سنگین قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جلالپور پیروالا تین دریاؤں راوی، چناب اور ستلج کے پانی سے شدید متاثر ہے۔ حالیہ شگاف کے باعث مزید پانچ چھ آبادیاں زیرِ آب آنے کے خدشات ہیں، جبکہ شہر کو بدستور سیلابی پانی کا خطرہ لاحق ہے اور ریلوے ٹریک بند کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز آج جلالپور پیروالا کا دورہ کریں گی۔ ریسکیو 1122 کی 175 سے زائد کشتیاں امدادی کاموں میں مصروف ہیں، تاہم مقامی افراد کے انخلا سے گریز نے ریسکیو ٹیموں کے لیے مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔ پاک فوج بھی ایک ہفتے سے ریلیف سرگرمیوں میں شریک ہے اور شگاف پر کرنے کے لیے بھاری مشینری استعمال کی جا رہی ہے۔ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق اگلے تین دن جنوبی پنجاب کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہوں گے۔ ملتان، مظفرگڑھ، لیاقت پور اور رحیم یار خان کی صورتحال تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ بھارت سے راوی اور ستلج میں پانی چھوڑنے کا سلسلہ رک چکا ہے اور اب وہ صرف اپنی نہروں کے لیے پانی استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نارووال، شیخوپورہ، لاہور، ننکانہ، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، وزیرآباد، حافظ آباد اور چنیوٹ میں پانی کے بہاؤ میں کمی آ رہی ہے، متاثرہ علاقوں میں پانی اترنے کے بعد لوگ ریلیف کیمپوں سے واپسی کر رہے ہیں۔

  • کراچی میں شدید موسلا دھار بارش کی پیشگوئی، اربن فلڈنگ کا خطرہ

    کراچی میں شدید موسلا دھار بارش کی پیشگوئی، اربن فلڈنگ کا خطرہ

    کراچی (کنزیومر واچ نیوز): محکمہ موسمیات نے شہر میں آج شدید بارش کی پیشگوئی کرتے ہوئے اربن فلڈنگ کے خدشے سے خبردار کیا ہے جبکہ مختلف علاقوں میں بارش کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ ماہرین کے مطابق 4 سے 6 اسپیل متوقع ہیں جن میں بعض مقامات پر 100 ملی میٹر سے زائد بارش ہو سکتی ہے۔ موسمی نظام بھارت کی جانب سے ڈیپریشن کی صورت میں سندھ میں داخل ہورہا ہے جس کی شدت مختلف علاقوں میں متغیر رہ سکتی ہے۔ صورتحال کے پیش نظر جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی نے امتحانات ملتوی کر دیے اور ورک فرام ہوم پالیسی نافذ کردی ہے۔ گزشتہ روز سے وقفے وقفے سے بارش کے باعث نشیبی علاقے زیرِ آب آگئے ہیں جبکہ آج دوپہر ایک بجے کے بعد صدر، ایم اے جناح روڈ اور لائٹ ہاؤس سمیت کئی علاقوں میں دوبارہ بارش شروع ہوگئی۔ محکمہ موسمیات اور ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور بجلی کے کھمبوں، ننگی تاروں اور گہرے پانی سے دور رہیں۔

  • ایشیا کپ: پاک بھارت میچ کے ٹکٹس بدستور دستیاب، بنڈل پیکج وجہ قرار

    ایشیا کپ: پاک بھارت میچ کے ٹکٹس بدستور دستیاب، بنڈل پیکج وجہ قرار

    شارجہ (کنزیومر واچ نیوز): ایشیا کپ کے ٹکٹس کی فروخت شروع ہونے کے باوجود 14 ستمبر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان شیڈول میچ کے ٹکٹ بدستور دستیاب ہیں۔ عام طور پر روایتی حریفوں کے میچز کے ٹکٹس فوری فروخت ہو جاتے ہیں تاہم اس بار منتظمین کے متعارف کردہ ’بنڈل پیکج‘ کو وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس پیکج کے تحت شائقین کو پاک بھارت میچ کے ساتھ دیگر میچز کے ٹکٹ بھی خریدنے لازمی ہیں تاکہ باقی میچز کی فروخت بڑھائی جا سکے۔ البتہ سپر فور اور فائنل اس پیکج میں شامل نہیں ہیں۔

  • عمران خان سیاست نہیں، فتنہ و انتشار چاہتے ہیں، رانا ثنااللہ

    عمران خان سیاست نہیں، فتنہ و انتشار چاہتے ہیں، رانا ثنااللہ

    لاہور (کنزیومر واچ نیوز): وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ عمران خان اور ان کے چند ساتھی ملک میں سیاست نہیں بلکہ فتنہ، فساد اور انتشار چاہتے ہیں۔ میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا رویہ غیر جمہوری اور غیر سیاسی ہے، یہ جماعت بطور پالیسی گالم گلوچ اور انتشار کا کلچر اپنائے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے بارہا اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دی لیکن پی ٹی آئی نے ہمیشہ راہ فرار اختیار کی۔ رانا ثنااللہ نے مزید کہا کہ قوم کو طاقت کے ساتھ ایسے رویوں کو روکنا ہوگا، جبکہ علیمہ خان پر حملے کی بھی مذمت کی جاتی ہے۔

  • سیلاب متاثرین کے لیے بجلی کے بلوں میں ریلیف دینے کا فیصلہ

    سیلاب متاثرین کے لیے بجلی کے بلوں میں ریلیف دینے کا فیصلہ

    اسلام آباد (کنزیومر واچ نیوز): وفاقی حکومت نے سیلاب متاثرین کے لیے بجلی کے بلوں میں ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بلوں پر جنرل سیلز ٹیکس، ایف سی سرچارج اور فکس چارجز ختم کرنے پر غور کیا جارہا ہے جبکہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ پر جی ایس ٹی اور ایکسائز ڈیوٹی کے خاتمے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ پنجاب میں بڑے پیمانے پر سیلاب سے زرعی اراضی متاثر اور لاکھوں افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔ گزشتہ روز بلاول بھٹو زرداری نے زرعی ایمرجنسی کے نفاذ اور کسانوں کے بجلی کے بل معاف کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

  • بھارت نے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا،سینکڑوں دیہات ڈوب گئے

    بھارت نے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا،سینکڑوں دیہات ڈوب گئے

    لاہور (کنزیومر واچ نیوز): بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑنے کے باعث بہاؤ میں تیزی آگئی ہے۔ پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق ہریکے اور فیروزپور ڈاؤن اسٹریم سمیت ہیڈ سلیمانکی پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ ضلع پاکپتن میں 23 دیہات مکمل جبکہ 53 جزوی طور پر ڈوب گئے، 64 ہزار سے زائد افراد متاثر اور 66 ہزار ایکڑ رقبہ زیرِ آب آچکا ہے۔ اب تک 24 ہزار 974 افراد کا انخلا اور 4 ہزار سے زائد مویشی محفوظ مقامات پر منتقل کیے گئے ہیں۔ فصلوں کی تباہی اور پانی کھڑا رہنے سے بیماریوں کے پھوٹنے کا بھی خدشہ ہے۔

  • تیانجن میں ایس سی او کانفرنس پر یورپی یونین کے تحفظات   تحریر سرور غزالی

    تیانجن میں ایس سی او کانفرنس پر یورپی یونین کے تحفظات تحریر سرور غزالی

    پیرس, لندن، نیویارک، اقوام متحدہ، سلامتی کونسل، انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ، ناٹو، ڈالرز، اور یورو وغیرہ وغیرہ یہی وہ کچھ ایسی اصلاحات ہیں جن سے دنیا اب سے کچھ عرصے پہلے تک واقف رہی ہے۔ گو کہ دینا چین اور روسی آہنی پردے، کمیونسٹ بلاک وغیرہ سے بھی آشنا رہ چکی ہے مگر برائے نام ہی۔ اور ہماری بات اس وقت تک کی ہے۔ جب دنیا کا پرانا نظام ٹوٹ چکا تھا اور جب سے دنیا پہ مغربی ممالک بلا شرکت غیر جیو پالیٹکس کے سیاہ و سفید کے مالک سمجھے جارہے تھے۔ بلکہ اس سے پہلے دنیا کی پہچان انہیں اوپر متذکرہ اصلاحات کو سمجھا جاتا رہا ہے۔ دنیا ایک پھر سے چول بدل رہی ہے۔ ورلڈ آڈر کے بدلتےاس دور میں۔ ان اصطلاحات کی جگہ پیکنگ، شنگھائی، تیانجن، ماسکو دہلی، برکس اتحاد اور ایس سی او، شنگھائی سبمٹ کانفرنس وغیرہ لے رہی ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ اپنے اضافی تجارتی ٹیکس کی وجہ سے ساری دنیا کی ناراضگی مول لے رہا ہے اور اس کے اپنے صدر کی غیر سنجیدہ پالیسی سے مغربی دنیا مختلف بلاکس میں بٹ رہی ہے۔ یوکرائن کی جنگ اور اسرائیلی جارہیت دنیا میں بے چینی ہلچل اور مغربی معاشی نظام سے خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگی ہے، اس دور میں چین تیزی کے ساتھ دنیا کے دیگر ممالک جن میں روس اور ہندوستان سب سے اہم معاشی اور فوجی قوت کے حامل ہیں، ان کے ساتھ مل کر دنیا کے دیگر ممالک جن میں پاکستان ایران اور سینٹرل ایشیا اور فار ایسٹ کے ممالک کے ساتھ ساتھ یورپ سے بیلاروس جیسے ممالک کے مابین اپنے تعاون کو بڑھاتے ہوئے انہیں ایک کے بعد دوسرے پلیٹ فارم پہ جمع کر رہا ہے۔
    اس شنگائی کانفرنس میں، جو 30 اگست 2025 سے چین میں منعقد ہوئی۔ جسے ایس سی او کا نام دیا گیا ہے جس میں بیشتر یورپی ممالک اور امریکہ کی شرکت کے بغیر دنیا کے اہم مسائل پر بات چیت ہو رہی ہے، تجارت اور دفاعی مسائل زیر بحث آئے ہیں۔ وہاں یورپی ممالک اور امریکہ صرف محو تماشہ ہیں۔ اور اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی اہمیت کو دن بدن کم تر ہوتا محسوس کر رہے ہیں۔ معاشی طور پر امریکہ اور یورپی ممالک اس وقت ایشیا میں بڑھتی قوتوں اور وہاں کے قدرتی ذخائر کے استعمال کے نئے زاویوں پر نہ صرف پریشان نظر اتے ہیں بلکہ انہیں کوئی راستہ بھی نہیں سجھائی دے رہا ہے۔
    امریکہ اور یورپی ممالک بذات خود اپنے اندرونی مسائل سے گھرے ہوئے ہیں اور اسرائیلی جارہیت اور یوکرینی جنگ کی وجہ سے ایک دوسرے کے مد مقابل کھڑے نظر آرہے ہیں۔ چونکہ امریکہ فوری طور پر یوکرین کی جنگ بند کروانا چاہتا ہے جس پر یورپین یونین کے ممالک بالخصوص جرمنی اور فرانس تیار نظر نہیں آتے دوسری جانب اسرائیلی جارہیت کو روکنے کے سلسلے میں کی جانے والی یورپین یونین کی کوششوں سے امریکہ متفق نہیں ہے اور وہ انکھ بند کر کے اسرائیلی حمایت میں الگ کھڑا ہے۔
    چین اور روس اور بھارت دنیا میں بدلتے نظام کو نہ صرف بہت قریب سے دیکھ رہے ہیں بلکہ ایسے اقدامات بھی کر رہے ہیں جس سے وہ مستقبل میں دنیا کی نئے ترتیب میں اپنے کردار کو بھر پور ادا کر سکیں۔
    کانفرنس کے آغاز پر روس کے صدر بلادیمیئر پوٹین نے کہا کہ اس کانفرنس کا مقصد اور باتوں کے علاوہ یہ بھی ہے کہ موجودہ دور میں دنیا کو پیش نظر مختلف خطرات اور چیلنجز کاجواب دیا جائے تاکہ ایک منصفانہ اور ملٹی پول ولڈ آڈر کا اجراء کیا جاسکے۔
    کانفرنس میزبان چینی رہنما زی نے کانفرنس آغاز پر اپنے رویےسے ، ایک ورلڈ نیو ارڈر کا تصور بغیر امریکی اور یورپی ممالک کے، پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ کانفرنس دراصل ناٹو کے بالمقابل، ان ممالک کے گٹھ جوڑ سے ایک نئے طاقت کے توازن کی بنیاد رکھنا ہے۔
    کیونکہ تیا نجن چین کا وہ پورٹ سٹی ہے جو کبھی چینی تسلط سے باہر تھا اور اب وہیں ایک ایسی کانفرنس جس میں صرف معاشی نہیں بلکہ دفاعی اہداف طے کیے جا رہے ہیں ایک ایسی کانفرنس کر کے دنیا کو ایک نیا پیغام دیا جارہا ہے۔
    اس کانفرنس کا مقصد ایسے راستے تلاش کرنے ہیں جو امریکہ اور یورپی ممالک کے طے کردہ ورلڈ ارڈر کا متبادل ہو۔ یہاں
    بیل اینڈ روڈ، نامی اصطلاحات کا کثرت سے استعمال ہورہا ہے۔ یہ ایک شاہراہ ریشم کے ذریعے نئے تجارتی اہداف طے کیے جا رہے ہیں۔
    یورپین یونین اور امریکہ اس نئے 26 ممالک اور دنیا کی نصف آبادی کے نئے گٹھ جوڑ پر متفکر ہیں۔ شاید تہذیبی عروج و زوال کی کہانی کا نیا باب رقم ہورہا ہے۔

  • ایک ملاقات: کراچی آرٹس کونسل میں احمد شاہ، کے ساتھ …حمیرا گل تشؔنہ

    ایک ملاقات: کراچی آرٹس کونسل میں احمد شاہ، کے ساتھ …حمیرا گل تشؔنہ

    کراچی کی شام، جس پر سمندر کی نم ہوا اور شہر کی بے چین توانائی کا امتزاج طاری تھا، اور ایسے وقت میں، میری گاڑی کا رخ ایک ایسی عمارت کی طرف تھا جو کسی معبدِ فن سے کم نہیں۔ جی صحیح پہچانا، یہ کراچی آرٹس کونسل تھا۔ اس کی دیواریں نہ صرف پتھر اور چونے سے بنی ہیں بلکہ یہ شہر کی ثقافتی روح، اس کے فنکاروں کے خوابوں اور ایک شخص کے عزم کی داستان بھی سناتی ہیں۔ وہ شخص جس نے اس خواب کو حقیقت کا روپ دیا، جناب احمد شاہ۔
    وہ اپنے معمول کے مطابق ایک میٹنگ میں مصروف تھے لیکن اپنی میٹنگ چھوڑ کر آفس میں ملنے آئے۔ ان کے چہرے پر ایک سکون تھا، آنکھوں میں چمک تھی، اور مسکراہٹ میں ایک ایسی گرمجوشی تھی جو فوری طور پر ہر اجنبی کو اپنا بنا لیتی ہے۔ مجھے اپنے آفس میں دیکھتے ہی ان کا کہنا تھا، “آؤ آؤ تشؔنہ، بیٹھو۔ یہ گھر تمہارا اپنا گھر ہے۔” اور یہی جملہ دراصل آرٹس کونسل کے پوری فلسفے کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک ایسی جگہ جو ہر فن کے دلدادہ کے لیے اپنے دروازے کھلی رکھتی ہے۔
    بات شروع ہوئی تو انہوں نے اس سفر کے اولین دنوں کا ذکر کیا۔ احمد شاہ صاحب نے بتایا کہ یہ خیال کس طرح وجود میں آیا۔
    آرٹس کونسل آف پاکستان، کراچی میں واقع ایک خود مختار ثقافتی ادارہ ہے جس کا مقصد فن و ثقافت کو فروغ دینا اور فنکاروں کی فلاح و بہبود ہے۔ کراچی، جو پہلے ہی سے ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز تھا، میں ایک ایسے ادارے کو مستحکم کرنے کی شدید ضرورت محسوس ہو رہی تھی جہاں نسل و زبان کے فرق کو مٹا کر تمام فنون — مصوری، موسیقی، تھیٹر، ادب — کو یکجا کیا جا سکے۔
    “لوگ کہتے تھے، ‘احمد، یہ شہر تجارت کا شہر ہے، فنون کے لیے یہاں جگہ نہیں۔’ لیکن ہمارا ایمان تھا کہ انسان کی روح کو صرف روٹی ہی نہیں، رنگ و آہنگ بھی چاہیے۔” ابتدائی دنوں کی بات کرتے ہوئے ان کی آنکھیں چمک اٹھیں، گویا وہ اس سفر میں حائل ہونے والی تمام مشکلات کو اپنی سب سے بڑی کامیابی سمجھتے ہوں۔
    احمد شاہ صاحب کے نزدیک، آرٹس کونسل محض ایک عمارت نہیں، بلکہ ایک ایسا وجود ہے جو شہر کی ثقافتی زندگی میں سانس لے رہا ہے۔
    “ہماری کوشش ہمیشہ سے یہ رہی ہے کہ یہ جگہ ہر کسی کے لیے ہو۔ نامور مصور بھی آئے، اور وہ نوجوان طالب علم بھی جو پہلی بار برش ہاتھ میں لے رہا ہو۔ یہاں موسیقار اپنے راگ سناۓ، اور شاعر اپنے الفاظ کی نزاکت سے ہمیں آشنا کرے۔ ہم نے کبھی کسی کے عقائد یا نظریات کی بنیاد پر امتیاز نہیں برتا۔ فن ہمارے لیے وسیلہ ہے — انسانیت کو جوڑنے کا، احساسات کو ابھارنے کا، معاشرے کو خوبصورت بنانے کا۔”
    انہوں نے خصوصاً نوجوان نسل پر زور دیا۔ “ہمارے یہاں یوتھ فیسٹیول، انٹرن شپ پروگرامز، اور ورکشاپس کا اہتمام اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ نئی صلاحیتیں سامنے آ سکیں۔ میں جب کسی نوجوان لڑکے یا لڑکی کو اپنا پہلا کینوس سنبھالے دیکھتا ہوں، پہلی دفعہ اسٹیج پہ پرفارمنس دیتے ہوئے دیکھتا ہوں تو مجھے اپنی تمام محنت ایک پل میں پوری ہوتی محسوس ہوتی ہے۔”
    آج کے دور میں، جب ثقافتی ادارے مالی اور انتظامی چیلنجز کا شکار ہیں، احمد شاہ صاحب کا نقطہ نظر واضح ہے۔
    “جی ہاں، مشکلات بدلتی رہتی ہیں۔ پہلے وسائل کم تھے، اب وسائل کے ساتھ ساتھ توجہ کی کمی ہے۔ لوگ مصروف ہو گئے ہیں۔ لیکن ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس شعلے کو روشن رکھیں۔ حکومت اور نجی شعبے سے بھی ہمیں تعاون درکار ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم بیٹھ جائیں۔ ہم نے ہمیشہ عزم اور مستقل مزاجی سے کام لیا ہے۔”
    ان کا مستقبل کا خواب آرٹس کونسل کو ایک بین الاقوامی معیار کا ادارہ بنانے کا ہے۔ “میں چاہتا ہوں کہ یہاں سے نکلنے والا ہر فنکار دنیا میں اپنا اور اپنے ملک کا نام روشن کرے۔ ہم ڈیجیٹل آرٹ، فلم سازی، اور نئی میڈیا کی نمائشوں کو بھی فروغ دے رہے ہیں تاکہ وقت کے ساتھ قدم ملا کر چلا جا سکے۔” یہی وجہ ہے کہ ہم ہر سال کلچر فیسٹیول و ایگزیبیشن کرتے ہیں اور پوری دنیا سے لوگ آکر ہمارے پروگرامز کا حصہ بنتے ہیں۔
    باتیں چلتی رہیں تو میں نے ان کے شخصی سفر کے بارے میں پوچھا۔ اتنے بڑے ادارے کی بنیاد رکھنے والے شخص کی ذاتی زندگی کیسی ہے؟
    تو وہ مسکرا دیے۔ “میرا گھر بھی تو یہی ہے۔ میری فیملی نے ہمیشہ میرا بہت ساتھ دیا۔ اور میں نے کبھی اسے اپنی ذاتی کامیابی نہیں سمجھا۔ یہ تو ایک اجتماعی کاوش ہے، ایک سماجی و ثقافتی وقف ہے۔”
    ان کی نظر میں عاجزی اور لگن صاف جھلک رہی تھی۔ وہ اپنے بارے میں بات کرنے سے زیادہ اپنے ساتھیوں، رضاکاروں اور ان تمام فنکاروں کے بارے میں بات کرنا پسند کر رہے تھے جنہوں نے اس ادارے کو سنوارنے میں حصہ ڈالا۔
    چائے پینے کے دوران جب میں نے ان سے پوچھا کہ آپ اپنے پیچھے کیا ورثہ چھوڑنا چاہیں گے، تو وہ لمحہ بھر کو خاموش ہو گئے۔
    “مجھے فرق نہیں پڑتا کہ لوگ مجھے یاد رکھیں۔ میں چاہتا ہوں کہ لوگ اس جگہ کو یاد رکھیں۔ میں چاہتا ہوں کہ جب کوئی مصور اپنی پہلی پینٹنگ بیچے، کوئی گلوکار پہلی بار اسٹیج سجائے، کوئی نوجوان اپنی تخلیق سے کسی کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیرے تو اسے یاد رہے کہ کراچی آرٹس کونسل سے اس کی شروعات ہوئی تھی اور یہی بات میرا اصل اثاثہ ہوگا۔ میں نے تو بس ایک بیج بویا تھا، آج یہ درخت ہزاروں شاخیں پھیلائے ہوئے ہے۔ اس درخت کی آبیاری کرتے رہنا، یہی میری سب سے بڑی تمنا ہے۔”
    پھر ہنس کر مخاطب ہوئے اور نہایت سادہ لہجے میں پوچھنے لگے، ” تشؔنہ، کیا میں تمہیں بہت مغرور لگتا ہوں؟” اس سوال پر میں حیران ہوکر ان کو دیکھتی رہی۔ میری حیرانی بھانپ کر ہنسنے لگے پھر خود ہی کہنے لگے بھئی، “مجھے لوگ بہت مغرور کہتے ہیں اس لیے پوچھ رہا ہوں۔” مجھے ہنسی آگئی، “بھئی سچ پوچھیں تو سنا تو ہم نے بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ لیکن اپ سے مل کر ایسا کوئی تاثر نہیں ملا۔ بلکہ جو سنا تھا وہ غلط ہی لگا”۔ یہ کہہ کر میں نے ہنسے ہوئے احمد شاہ صاحب سے رخصت لی۔
    جب میں آرٹس کونسل سے باہر نکلی تو شام ڈھل چکی تھی۔ عمارت کی روشنیاں جگمگا رہی تھیں، اندر سے موسیقی کی کوئی دھن سنائی دے رہی تھی۔ میں نے مڑ کر ایک نظر اس عمارت کو دیکھا۔ یہ محض اینٹوں کا ڈھیر نہیں تھی۔ یہ ایک شخص کے عزم، ایک خواب کی تعبیر، اور ایک شہر کی ثقافتی شناخت کا استعارہ تھی۔ احمد شاہ صاحب جیسے لوگ کسی قوم کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں ، وہ جو دیکھنے والوں کو خواب دکھاتے ہیں، اور پھر ان خوابوں کو حقیقت میں بدل دیتے ہیں۔
    ان کی زندگی کا یہ پیغام ہر نوجوان کے لیے مشعلِ راہ ہے کہ عزم و ہمت سے کوئی بھی خواب شرمندۂ تعبیر کیا جا سکتا ہے، خواہ راستے میں کتنی ہی رکاوٹیں کیوں نہ ہوں۔ احمد شاہ اور کراچی آرٹس کونسل کا سفر اس بات کا ثبوت ہے کہ فن و ثقافت کی محبت ہی انسانیت کو متحد کرتی ہے اور معاشرے میں خوبصورتی اور رواداری کا درس دیتی ہے۔